اشاعتیں

December, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

عمر کرتی ہے سفر۔۔

تصویر
عمر کرتی ہے سفر۔۔   خواب وہیں رہتا ہے۔

آج کی بات ۔۔۔ 23 دسمبر 2014

تصویر
ﻟﮩﺠﮧ ﻟﻔﻆ ﮐﺎ ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﻓﺘﻮﺭ، ﻧﯿﺖ ﮐﺎ ﮐﮭﻮﭦ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﺎ ﭼﻮﺭ ﭘﮑﮍﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

اشک حاضر کریں

تصویر
اشک ھرگز مداوا نہیں ھیں مگر
اک دلاسہ تو ھیں
آئیے
اشک حاضر کریں
اُن بلکتے ھوئے خاندانوں کے کٹتے کلیجوں پہ گریہ کریں
جن کے نوخیز پھولوں کو ظلمت کی آندھی اڑا لے گئی
مائیں تکتی رہیں
اور اسکول سے ان کے بچّے تو کیا
ان کے بچّوں کے بستے بھی سالم نہیں آ سکے !!
آئیے
اپنے اپنے گھروں میں چراغوں کو روشن کریں
ان نگاھوں کی بیچارگی
جو قیامت تلک اپنے پیاروں کی تصویر سینے لگائے
"مِری جان" کہ کر بہت روئیں گی
ان کو پرسہ کہیں
آئیے
اُن سخی مرتبت ماوں بہنوں کی ھمت پہ اپنے سروں کو جھکا کر سلامی کہیں
وہ جنھوں نے بنامِ وطن اپنے عثمان و حیدر کو صدقہ کِیا
آئیے
اشک حاضر کریں
سیدہ فاطمہ کی ردائے مقدس کی اجلی قسم کھا کے وعدہ کریں
ان تڑپتی سسکتی بلکتی ھوئی
ماوں بہنوں سے اور اپنے ننھے شہیدوں کی معصوم روحوں سے وعدہ کریں
عصرِ حاضر کی تازہ تریں کربلا ھم نہیں بھولیں گے
بس بہت ھو گیا
ھم مسالک میں بٹ کر تہی ھو گئے
لازمی تھے کبھِی،واجبی ھو گئے
آئیے مل کے وعدہ کریں
سب ارادہ کریں
اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر
مسلکی مذھبی نفرتوں کو دلوں سے روانہ کریں
اِن شہیدوں کی روحوں کو ناظر کریں
اشک حاضر کریں !!!
اشک حاضر…

مقتل کے باسیوں کا اب حال کیا سنائیں۔۔۔ ابو یحییٰ

تصویر
مقتل کے باسیوں کا اب حال کیا سنائیں
(یہ مضمون سر ابو یحییٰ کی نئی کتاب "ملاقات" میں شامل ہے۔ سر نے یہ مضمون آج پشاور میں دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے بچوں کے نام کیا ہے ۔ فیس بک پر یہ مضمون قارئین کے لیے خاص طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ایڈمن)
میری طبیعت اشعار کہنے کے لیے کبھی آمادہ نہیں ہوئی۔ زندگی میں شاید ایک آدھ شعر ہی کبھی کہا ہوگا۔ پچھلے دنوں بیرون ملک مقیم ایک عزیز دوست نے میری خیریت معلوم کی تو میں نے جواب دیا: ’ہماری کیا پوچھتے ہو، ہم تو ایک مقتل میں زندہ ہیں‘۔ اپنے اردگرد پھیلے حالات کی مناسبت سے، جن کے لیے’ مقتل‘ سے زیادہ موضوع تعبیر ملنا مشکل ہے، چند اشعار موزوں ہوگئے ہیں۔ آج کی ملاقات میں بات انھی اشعار سے شروع کررہا ہوں۔
مقتل کے باسیوں کا اب حال کیا سنائیں
خونی سمندروں کا ہم رنگ کیا بتائیں
قاتل بھی اپنے پیارے، مقتول بھی ہمارے
کس سے گلہ کریں ہم، کس کو لہودکھائیں
ہر صبح ایک دہشت، ہر شام ایک وحشت
جب گھر ہی جل گیا ہو ،تو آگ کیا بجھائیں
لیکن ہے حکمِ مالک مایوسیاں مٹانے
اس آگ سے ہی پر ہم اپنا دیاجلائیں
تاریکیوں کا کیاغم جب رب کا ہو سہارا
مایوسیوں میں آ…

آج کی بات۔۔۔ 01 دسمبر 2014

تصویر
سب سے آسان کام دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے اور سب سے مشکل کام خود ذمہ داری قبول کرنا ہے۔

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل