سوموار, فروری 17, 2014

معزز اور کم ظرف



معزز ترین آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اس کے دل میں ہر ایک کے لئے محبت ہوتی ہے اور وہ آسانی سے کسی دوسرے کے ساتھ دشمنی پر آمادہ نہیں ہوتا۔
وہ چاندی کی پیالی کی طرح ہوتا ہے۔
اگر اُسے موڑنا چاہیں تو آسانی سے مڑ جائے گا۔
اور اگر آپ اسے توڑنا چاہیں تو وہ آسانی سے نہیں ٹوٹے گا۔

اور کم ظرف آدمی کی پہچان یہ ہے کہ وہ آسانی سے محبت پر آمادہ نہیں ہوتا۔
دُشمنی کے لئے اُدھار کھائے بیٹھا رہتا ہے۔
مٹی کے پیالے کی طرح ہوتا ہے کہ آپ اُسے موڑنا چاہیں تو ہرگز نہیں مڑے گا۔
اور اگر توڑیں تو فوراً ٹوٹ جائے گا۔

آج کی بات ۔۔۔ 17 فروری 2014




زمین پر آسمان سے بارش اور چاندنی نچھاور ہوتی ہے

لیکن زمین سے آسمان پر غبار جاتا ہے ،ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے

جو اس کے اندر ہوتا ہے !

محبتوں کی ہزار شکلیں


محبتوں کی ہزار شکلیں
محبتیں ان کے نام سے بھی
محبتیں ان کے کام سے بھی
محبتیں شفقتوں کی صورت
محبتوں میں پیام دل کا
محبتوں میں نظام دل کا
محبتوں کی فضا محبت
عمل محبت, جزا محبت
ہر ایک دل کی صدا محبت
خودی محبت، خدا محبت
محبتیں پُر بہار لمحے
محبتیں یادگار لمحے
محبتیں, جن میں دل ہو شامل
محبتیں، زندگی کا حاصل
محبتوں کی ہزار شکلیں
محبتیں یہ ہمارا تحفہ

جمعہ, فروری 14, 2014

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

بڑا ہی سہانا سفردوستی کا
رہے ساتھ یہ عمر بھر دوستی کا

جسے مل گیا ہے وہ خوش بخت ٹھہرا
ہے قسمت سے ملتا گُہر دوستی کا

ہے یاروں کے دم سے یہ دنیا کی رونق
بَسے ان کے دم سے، نگر دوستی کا

جہاں میں سبھی دوست ہوتے نہیں ہیں
نہیں سب میں ہوتا، ہنر دوستی کا

محبت، بھروسے اور اخلاص سے ہی
بنے یہ تناور شجر دوستی کا

کبھی دوست کو اپنے کھونے نہ دینا
ہے رشتہ بڑا معتبر دوستی کا

یہی اب تو ہر دم خدا سے دعا ہے
دمکتا رہے یہ قمر دوستی کا

سیمز آفتاب


تیرا ملنا ترا نہیں ملنا



کسی شاعر نے اپنے محبوب کے وصل و فراق کے بارے میں کیا خوب کہا ہے:

  تیرا ملنا ترا نہیں ملنا  
اور جنت کیا اور جہنم کیا

شاعری میں یہ مبالغہ عام ہے ، مگر حقیقی دنیا میں ایک بندہ مومن بار بار اس تجربے سے گزرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں یہ مرحلہ بار بار آتا ہے کہ کسی وقت انسان پر شوق کا غلبہ ہوتا ہے ۔ عبادات میں دل لگتا ہے ۔ آنکھوں سے آنسوں جاری رہتے ہیں ۔ دل ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ گناہ سے فطری کراہیت محسوس ہوتی ہے ۔
مگر پھر ایک روز اچانک یہ کیفیت رخصت ہوجاتی ہے۔ شوق تو دور کی بات ہے، اعمال صالحہ کی طرف طبیعت کا رجوع باقی نہیں رہتا۔ گناہ کی شدید خواہش بیدا ر ہوجاتی ہے۔ دنوں تک انسان کو یاد بھی نہیں آتا کہ اس کا کوئی رب ہے۔ انسان بہت جبر کرتا ہے تو رسمی طور پر نماز کے نام پر کچھ اٹھک بیٹھک ہوجاتی ہے ۔ مگر کسی عبادت میں دل نہیں لگتا۔
پہلی کیفیت صاحب ایمان کے لیے اگر جنت ہوتی ہے تو یہ دوسری کیفیت جہنم سے کم نہیں ہوتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کو اس مرحلے سے گزرنا پڑ تا ہے۔ یہ دونوں کیفیات راہ خدا کے راستے کا لازمی موڑ ہیں ۔ پہلا موڑ اس لیے آتا ہے کہ انسان خدا سے تعلق کی لذت کا تجربہ کر کے اس روحانیت میں جینا سیکھ  لے جو اسے حیوانیت سے بلند کرتی ہے۔
مگر یہ کیفیت اگر مستقل رہے گی تو انسان کا امتحان ختم ہوجائے گا۔ کیونکہ نیکی میں مزہ اور گناہ سے نفرت اگر مستقل کیفیات ہوجائیں تو پھر اجر کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔ اسی لیے یہ کیفیت رخصت ہوجاتی ہے۔
ایسے میں مخلص اور حساس لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے دھتکار دیے جانے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ وہ اسے اپنے کسی گناہ کا نتیجہ سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اکثر اوقات یہ کیفیت اللہ کے اسی طریقے کے مطابق ہوتی جس کے مطابق وہ کائنات کا پورا نظام چلاتے ہیں ۔ یعنی دن کے بعد رات بھی ہوتی ہے ۔ بہار کے بعد خزاں بھی آتی ہے ۔ نہ رات بری ہے نہ خزاں ہی بے فائدہ ہے۔ ہر ایک کی اپنی مصلحت ہے اور اس کیفیت کی مصلحت یہی ہے کہ انسان کا امتحان ہوجائے کہ وہ مزے کے لیے عبادت کرتا ہے یا خود پر جبر کر کے بھی عبادت کرسکتا ہے۔
اسی طرح اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ کیفیت انسان کے اندر پیدا ہونے والے تکبر کو دور کرتی ہے ۔ ہر وقت یاد الہی اور نیکی کی کیفیت بہرحال انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی ہستی بن چکا ہے۔ مگر ایسے میں دوری کے یہ لمحات اسے واپس ایک عام اور عاجز انسان ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ اس احساس کی اللہ کے ہاں بڑی قدر و قیمت ہے اور اسی کیفیت کی وجہ سے انسان اللہ کے ہاں بہت مقبول ہوجاتا ہے۔
اس کیفیت کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس سے گزر کر ہی کوئی انسان معرفت اور قرب الہی کی منزل کے قریب پہنچتا ہے ۔ یہ گویا سفر کی تعبیر ہے جس میں خوش نما باغات بھی آتے ہیں اور لق و دق صحرا بھی آتے ہیں ۔ چنانچہ اس کیفیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا اپنے رب کی طرف سفر مسلسل جاری ہے اور بندہ اگر مایوس ہوئے بغیر عمل صالح کو خلاف طبیعت ہونے کے باجود جاری رکھے تو نہ صرف قرب الہی کی کیفیات دوبارہ لوٹ آتی ہیں بلکہ انسان اس قابل ہوجاتا ہے کہ دوسروں کی تربیت اور رہنمائی بھی کرسکے۔ چنانچہ یہ کیفیت دراصل ایمان میں ترقی کی علامت ہے نہ کہ ایمان کے سلب ہوجانے کی کوئی نشانی۔

تحریر: ابو یحییٰ

ہفتہ, فروری 08, 2014

آج کی بات ۔۔۔۔ 08 فروری 2014



بڑا ہونے کے لیے چھوٹا بننا بہت ضروری ہے
لیکن
ہم بڑا بننے کے لیے چھوٹے سے چھوٹے ہوتے چلے جاتے ہیں

جمعہ, فروری 07, 2014

میرے دیس کا قاعدہ



راﺋﺞ ﮨﮯ ﻣﯿﺮے دﯾﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮت ﮐﺎ ﻗﺎﻋﺪہ
ﮨﻮ ﺟﺲ ﺳﮯ اﺧﺘﻼف ، اﺳﮯ ﻣﺎر ڈاﻟﯿﮯ

شاعر: نوید رزاق بٹ

حقیقت پسندی



حقیقت پسندی
َََََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناکامی کی صورت میں دوسروں کی شکایت کرنا صرف اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے-
درست طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کا ذمے دار خود اپنے آپ کو سمجهے،نہ کہ کسی فرد یا گروه کو-
وه اپنی ناکامی کا سبب اپنی غلط منصوبہ بندی میں تلاش کرے،نہ کہ دوسروں کے سازش میں-
کامیابی کا یہی اصول فرد کے لیے بهی ہے،اور یہی وه اصول ہے جس پر چل کر اس دنیا میں کوئی گروه کامیاب هو سکتا ہے-
اس دنیا میں کامیابی کا راز فطرت سے موافقت میں ہے ،نہ کہ فطرت سے عدم موافقت میں۔

جمعرات, فروری 06, 2014

سچ



 سچ
بڑا دشوار ہے کہنا
سماعت اور بھی مشکل

شاعر:ﮐﺎﺷﻒ ﺟﺎﻧﺒﺎﺯ

بدھ, فروری 05, 2014

سنو جو بھوک ہوتی ہے..



سنو جو بھوک ہوتی ہے..
بہت سفاک ہوتی ہے..!!
کسی فرقے کسی مذہب سے اس کاواسطہ کیسا

تڑپتی آنت میں جب بھوک کا شعلہ بھڑکتا ہے
تو وہ تہذیب کے بے رنگ کاغذ کو
تمدن کی سبھی جھوٹی دلیلوں کو
جلا کر راکھ کرتا ہے..
نظر بھوکی ہو تو پھر چودھویں کا چاند بھی روٹی سا لگتا ہے
خودی کا فلسفہ ۔۔۔
جھوٹی دلیلیں سب شرافت کی
محض بکواس لگتی ہیں۔۔۔۔

حقیقت میں یہی سب سے بڑا سچ ہے
کہ یہ جو بھوک ہوتی ہے
بڑی بدذات ہوتی ہے...

تعلیم اور اخلاق


تعلیم اور اخلاق میں وہی رشتہ ھے جو غِذا اور قُوّتِ حیات میں ھے . اگر کوئی غذا قوّتِ حیات پیدا نہیں کرتی تو وہ صحیح غذا نہیں ھے ۔۔
اسی طرح اگر کوئی تعلیم صالح اخلاق نہیں پیدا کرتی تو وہ صحیح تعلیم نہیں ھے ۔

منگل, فروری 04, 2014

لباسِ محبت


ڈھانپے جو نفرتوں کے برہنہ وجود کو
ایسی کوئی لباسِ محبت تلاش کر

نارمل انسان




 ’’سر میں آج کل بہت سکون سے ہوں ۔‘‘، میں ان کا یہ جملہ سن کر حیران رہ گیا۔ کیونکہ آج سے پہلے کئی دفعہ وہ میرے پاس اپنے ٹینش اور پریشانی کا مسئلہ لے کر آئے تھے۔ میں کچھ نہیں بولا لیکن میری خاموشی میں پوشیدہ سوال کو پڑھتے ہوئے وہ خود ہی گویا ہوئے ۔

’’میں نے اپنے گھر سے اخبار کو تو پہلے بند کرا دیا تھا، مگر انٹرنیٹ پر روزانہ تین چار اخبارات کا مطالعہ کرتا تھا۔ اب انہیں بھی چھوڑ دیا۔ فیس بک سے چن چن کر ان لوگوں کو اپنی فرینڈ لسٹ سے نکال باہر کیا جو سیاسی اور مذہبی اختلافات، فرقہ واریت اور ملکی حالات کے بارے میں منفی خبریں دینا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ٹی وی پر آنے والے تمام نیوز چینل دیکھنا بند کر دیے۔ موبائل پر خبروں کی اپ ڈیٹ آتی تھی وہ بھی بند کرادی۔

اب فارغ وقت میں اچھی کتابیں پڑھتا ہوں ۔ گھر والوں سے باتیں کرتا ہوں ۔ دوسروں کے دکھ درد میں دلچسپی لیتا ہوں ۔ کسی کی مدد کرنا ممکن ہو تو وہ کر دیتا ہوں۔ قرآن مجید سمجھ کر پڑھ لیتا ہوں۔ بس اب زندگی میں سکون ہی سکون ہے ۔‘‘
’’اور ملکی حالات و معاملات؟‘‘، میں نے ان کے اس سابقہ پس منظر کی روشنی میں انھیں چھیڑ تے ہوئے سوال کیا۔ کیونکہ وہ ملکی و بین اقوامی حالات، اندورنی اور بیرونی سازشوں اور اسی نوعیت کی دیگر چیزوں کو لے کر ہمیشہ انتہائی پریشان رہتے تھے۔

’’ اب میں نے سمجھ لیا کہ مجھے انھی چیزوں کے بارے میں پریشان ہونا چاہیے جہاں میں کچھ کرسکتا ہوں۔ اور وہ جگہ صرف میرا قریبی حلقہ ہے۔  باقی معاشرے کے لیے فیس بک پر آپ کے پیج سے ایمان و اخلاق اورمثبت سوچ کی باتیں آ گئے شیئر کر دیتا ہوں ۔‘‘

میں نے انھیں مبارکباد دیتے ہوئے مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑ ھادیا۔ آخر کار انھوں نے ایک نارمل انسان کی زندگی جینا شروع کر دیا تھا۔

ابو یحییٰ ۔۔۔ www.inzaar.org

سوموار, فروری 03, 2014

آج کی بات۔۔ 03 فروری 2014


انسان خود ہی اپنا سب سے بڑا دوست اور سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے۔ باقی اس کی اپنی ذات سے باہر ہونے والی سبھی دوستیاں اور سبھی دشمنیاں عارضی اور ناپائیدار ہوتی ہیں۔