اشاعتیں

June, 2012 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
تصویر
دو بھید بھری آنکھیں
اک خواب کی چلمن سے، ہر رات مجھے دیکھیں
دو بھید بھری آنکھیں
ہر صبح کو چڑیوں کی چہکار میں ڈھل جائیں
پھولوں کی قبا پہنیں
شبنم میں بدل جائیں
ہر شام ہوائوں سے احوال میرا پوچھیں
دو بھید بھری آنکھیں
کرتی ہیں عجب باتیں، کاجل کی زباں سے یہ
دل لیتی چلی جائیں، انداز بیاں سے یہ
دو بھید بھری آنکھیں
اک خواب کی چلمن سے ہر رات مجھے دیکھیں
دو بھید بھری آنکھیں

امجد اسلام امجد
تصویر
تمہیں جاناں اجازت ہے، کوئی بھی راستہ چُن لو
ہمارے مُنتظر ٹھہرو یا ہم کو الوداع کہہ دو
تمہیں جاناں اجازت ہے
ہمارے پائوں میں تو وقت کی زنجیر لپٹی ہے
قبل اس کے کہ تھک جائو، ہمارے ساتھ چل کے تم
محبت کی تھکاوٹ تم کو ہم سے بد گماں کردے
قبل اس کے کہ ہر اک واپسی کی راہ کھو جائے
جو سوچا بھی نہیں ہم نے، وہی کل کو جو ہوجائے
تمہیں جاناں اجازت ہے، کوئی بھی راستہ چُن لو
ہمارے مُنتظر ٹھہرو یا ہم کو الوداع کہہ دو
ہمارا تم سے وعدہ ہے ، تمہاری یاد کو ہم تو
سدا دل کے دریچے میں یونہی آباد رکھیں گے
تمہیں ہم یاد رکھیں گے
تمہیں جاناں اجازت ہے
تم اپنے حوصلے میں جب تھکاوٹ سی کبھی پائو
کسی پیارے سے مُکھڑے کی حسیں آنکھوں میں کھو جائو
اجازت ہے تمہیں جاناں، اگر اُس پل جو تم چاہو
کوئی بھی فیصلہ کرلو
ہمارے مُنتظر ٹھہرو یا ہم کو الوداع کہہ دو

( نازیہ کنول نازی )
تصویر
اے میرے کبریا
اے انوکھے سخی
اے میرے کبریا
میرے ادراک کی سرحدوں سے پرے
میرے وجدان کی سلطنت سے ادھر
تیری پہچان کا اولیں مرحلہ
میری مٹی کے سب ذائقوں سے جدا
تیری چاہت کی خوشبو کا پہلا سفر
میری منزل??
تیری رہگزر کی خبر
میرا حاصل?
تیری آگہی کی عطا
میری لفظوں کی سانسیں
تیرا معجزہ
میرے حرفوں کی نبضیں
تیرے لُطف کا بیکراں سلسلہ
میرے اشکوں کی چاندی
تیرا آئینہ
میری سوچوں کی سطریں
تیری جستجو کی مسافت میں گُم راستوں کا پتا
میں مسافر تیرا (خود سے نا آشنا)
ظُلمت ذات کے جنگلوں میں گھرا
میں مسافر تیرا

محسن نقوي
تصویر
Sunno!.....
Eik Baat Kehni Thi.....
Zara Tum Dehaan Se Dekho.....
Meri Bekhuwab Ankhon Mein.....
Tumhara Khuwab Sota Hai.....
Mujhay Bedaar Mat Karna....
Ussay Tabeer Honay Tak......
Bohat ajeeb hen yeh bandishen Muhabbat ki
Na us ne qaid me rakha na hum farar huway
****************************
Aa jaye Mera Naam Tere Naam Ke Hamraah Ho Jaye Kisi Roz To Pehchan Mukammal
************************
Hazaron Chaand Utarne Lagey Tasawwur Main Tera Khayal To Tujh Se Bhi Khoobsurat Hai
****************************
Anaa parast to ham bhi ghazab kay hain lekin...!!
Tere ghur0or ka bas ehtraam karte hain...!!
************************
Kitni Masoom Si Tamanna Hai...
Nam Apna Teri Awaaz Se Suno'on...
***************************
Jahan Tum Ho Wahan Saya Hai Mera
Jahan Main Hoon Wahan Saaya Nahi Hai

***************************
تصویر
Ab Ke Tamam Shehar Main Elaan Ho Gaya,
Ek Shaks Meri Zaat Ki Pehchan Ho Gaya,

Pehle To Mere Naam Se Mansoob Wo Hua,
Aur Phir Kitab -e- Zeest Ka Unwaan Ho Gaya,

Jab Se Gaya Wo Chor Kar Us Din Se Dil Mera,
Khaali Makan Ki Tarah Veeran Ho Gaya,

Iqrar Kar Saka Na Wo Cahat Ke Ba'wajood,
Apni Ana Ki Aarr Main Anjaan Ho Gaya,

Gar Wo Udas Kar Gaya, Ham Ko To Kia Hua,
Ham Se Bichar Ke Wo Bhi To Be Jaan Ho Gaya..
تصویر
رات کے خواب سنائیں کس کو، رات کے خواب سہانےتھے
دھندلے دھندلے چہرے تھے، پر سب جانے پہچانے تھے

ضدّی، وحشی، الہڑ، چنچل، میٹھے لوگ رسیلے لوگ
ہونٹ ان کے غزلوں کے مصرعے، آنکھوں میں افسانے تھے

وحشت کا عنوان ہماری، ان میں سے جو نام بنی
دیکھیں گے تو لوگ کہیں گے، انشاء جی دیوانے تھے

یہ لڑکی تو ان گلیوں میں روز ہی گھوما کرتی تھی
اس سے ان کو ملنا تھا تو اس کے لاکھ بہانے تھے

ہم کو ساری رات جگایا، جلتے بُجھتے تاروں نے
ہم کیوں ان کے در پر اُترے، کتنے اور ٹھکانے تھے
تصویر
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بُھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا

کیا بُھولا، کیسے بُھولا، کیوں پوچھتے ہو؟ بس یوں سمجھو
کارن دوش نہیں ہے کوئی، بھولا بھالا بھول گیا

کیسے دن تھے، کیسی راتیں، کیسی باتیں گھاتیں تھیں
من بالک ہے، پہلے پیار کا سُندر سپنا بھول گیا

اندھیارے سے ایک کرن نے جھانک کے دیکھا، شرمائی
دھندلی چھب تو یاد رہی کیسا تھا چہرہ، بھول گیا

یاد کے پھیر میں آ کر دل پر ایسی کاری چوٹ لگی
دکھ میں سکھ ہے، سکھ میں دکھ ہے، بھید یہ نیارا بھول گیا

ایک نظر کی، ایک ہی پل کی بات ہے ڈوری سانسوں کی
ایک نظر کا نور مِٹا جب اک پل بیتا بھول گیا

سوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے، من موجی ہے مستانہ
لہر لہر سے جا سر ٹپکا، ساگر گہرا بھول گیا

ہنسی ہنسی میں، کھیل کھیل میں، بات کی بات میں رنگ مٹا
دل بھی ہوتے ہوتے آخر گھاؤ کا رِسنا بھول گیا

اپنی بیتی جگ بیتی ہے جب سے دل نے جان لیا
ہنستے ہنستے جیون بیتا رونا دھونا بھول گیا

جس کو دیکھو اُس کے دل میں شکوہ ہے تو اتنا ہے
ہمیں تو سب کچھ یاد رہا، پر ہم کو زمانہ بھول گیا

کوئی کہے یہ کس نے کہا تھا، کہہ دو جو کچھ جی میں ہے
میرا جی کہہ کر پچھتایا اور پھ…
تصویر
محبت میں
اگرچہ دل کی آنکھیں مدتوں پلکیں جھپکنا بھول جاتی ہیں
مگر ان رتجگوں کے سرخ ڈورے نیل گوں سنولاہٹیں
اور ابراؤں کی رازداری بھی
عجب اِک حسن پیدا کرتی ہیں
محبت میں
اگرچہ دھڑکنیں اپنا چلن تک چھوڑ جاتی ہیں
مگر سنگیت ایسی دھڑکنوں کی تھاپ اور سرگم کو ترستا ہیں
محبت میں
اگرچہ بے کلی
دل کو بہت تڑپائے رکھتی ہیں
مگر دل کی تڑپ ہی زندگی کو پتھروں کی زندگی سے
مختلیف بناتی ہیں دنیا میں
محبت میں
اگر چہ آنکھ سے اوجھل ہوئی لگتی ہے
دنیا اِک محبت سوا
لیکین بصیرت کی کئی بینائیاں اور کھڑکیاں کھلی چلی جاتی ہیں
باطن میں
محبت میں
اگرچہ آنسوؤں کع سرخ ہوتے پل نہیں لگتا
مگر یہ سرخیاں کتنے گلستاں چاند تارے
اور زمیں آسمان
رنگیں کرتی ہیں
محبت میں
جدائی دھوپ کے آنگن میں پلتی ہیں
اگرچہ پھر بھی ساری عمر خوابوں اور دعاؤں سے کبھی ٹھنڈک نہیں جاتی
مجھے معلوم ہیں کے تم محبت کے مخالف ہو

مگر جاناں ---

دلیلیں دلیلیں تو دلیلیں ہیں
محبت ان دلیلوں کی کہاں محتاج ہیں
محبت خوبصورت ہے!
(فرحت عباس شاہ)

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل