ہفتہ, جون 09, 2012




اے میرے کبریا
اے انوکھے سخی
اے میرے کبریا
میرے ادراک کی سرحدوں سے پرے
میرے وجدان کی سلطنت سے ادھر
تیری پہچان کا اولیں مرحلہ
میری مٹی کے سب ذائقوں سے جدا
تیری چاہت کی خوشبو کا پہلا سفر
میری منزل??
تیری رہگزر کی خبر
میرا حاصل?
تیری آگہی کی عطا
میری لفظوں کی سانسیں
تیرا معجزہ
میرے حرفوں کی نبضیں
تیرے لُطف کا بیکراں سلسلہ
میرے اشکوں کی چاندی
تیرا آئینہ
میری سوچوں کی سطریں
تیری جستجو کی مسافت میں گُم راستوں کا پتا
میں مسافر تیرا (خود سے نا آشنا)
ظُلمت ذات کے جنگلوں میں گھرا
میں مسافر تیرا

محسن نقوي

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں