اتوار, دسمبر 29, 2013

بدھ, دسمبر 25, 2013

قائد سا رہبر--- ذاتی کاوش


ہمیں اب پھر ضرورت ہے
کسی قائد سے رہبر کی
جو اس ٹوٹی بکھرتی قوم کو پھر ایک جاں کردے
کہ اس کی رہبری میں پھر چلے یہ کارواں اپنا
اور اپنے دیس کو اک بار پھر سے ہم کریں تعمیر
بھلا کے دل سے ہر نفرت
نہ قوموں میں بٹیں ہم یوں
بس اک قوم بن کر پھر سے اس دنیا پہ چھا جائیں
ہمیں اب پھر ضرورت ہے
کسی قائد سے رہبر کی
ہماری ڈوبتی کشتی کو لہروں سے نکالے جو
ہمیں یکجا کرے اور کشتی کو سنبھالے جو

سیما آفتاب

اتوار, دسمبر 22, 2013

سمت کی اہمیت



ایک گاڑی خراب ہو گئی۔۔۔ ڈرائیور نے سوار لوگوں سے کہا کہ دھکا لگاؤ ۔۔۔ سوار اترے اور گاڑی کو اپنی اپنی سوچ کے مطابق دھکا لگانے لگے۔۔۔کچھ نے سائیڈ پر دھکا لگانا شروع کر دیا ۔۔۔ پھر ہوا یوں کہ گاڑی الٹ گئی ۔۔۔

ایک اور گاڑی خراب ہوئی ۔۔ ڈرائیور نے سواریوں کو دھکا لگانے کا کہا ۔۔۔ اس بار ڈرائیور نے انہیں کہا کہ دھکا اگلی سمت میں لگانا ہے تاکہ گاڑی سائیڈ پر لگا کر انجن چیک کر سکوں۔۔ اس بار بھی دھکا لگا یا گیا لیکن گاڑی الٹی نہیں بلکہ آگے بڑھی ۔۔۔

جب تک دھکا لگانے والوں کو سمت کا بتایا نہیں گیا تھا ، ان کی محنت نتیجہ تو لائی لیکن انتہائی تکلیف دہ ۔۔۔ لیکن جب وہی محنت درست سمت میں ، ایک ساتھ ہوئی تو نتیجہ بھی آیا ۔۔۔ گاڑی بھی چلی اور سڑک کی سائیڈ پر گاڑی لاتے ہوئے ، خطرات سے محفوظ کرتے ہوئے۔۔ ڈرائیور کو موقع ملا کہ گاڑی کو درپیش مسئلہ سلجھا سکے۔۔۔

کہتے ہیں سو میل بھی جانا ہو ۔۔۔یا دس قدم چلنے ہوں ، پہلا قدم ہی کامیابی کی ضمانت بنتا ہے بشرطیہ کہ ٹھیک سمت میں اٹھا یا جائے۔۔۔ اب اگر اس مثال سے، ڈائیرکشن کا پہلو نکال دیں تو دس قدم بھی بے معنی اور تکلیف دہ اور سو میل بھی بےمعنی اور تکلیف دہ بن جاتے ہیں۔۔۔

پس ثابت ہوا کہ سمت سب سے اہم جز ہے ۔۔۔ چاہے کوئی بھی عمل کی ہو ۔۔۔ سمت مقصد کا راستہ بناتی اور بتلاتی ہے۔۔ جو افراد کے لئے مقصد کی طرف چلنے کو سہل اور تمام دشواریوں کے با وجود ، پر لطف بنا ڈالتی ہے ۔۔۔ لیکن وہ مقصد جس کے حصول کے لئے متضاد سمتیں ہوں ۔۔۔ تکلیف دہ ،مشکل اور افراد کو بے حس کر دیتا ہے۔۔۔

پھر ماہ دسمبر آیا ہے-

پھر ماہ دسمبر آیا ہے
سنگ اپنے بہت کچھ لایا ہے
کچھ اوڑھ کے رنگ اداسی کے
کچھ درد بھرے پچھتاوے ہیں
کچھ ٹوٹے بکھرے وعدے ہیں
کچھ دل میں خوشی کی پیاس لیے
کچھ امیدیں، کچھ آس لیے
اس ماہ دسمبر میں یارو
چلو آو سبھی پیمان کریں
کہ دل سے بھلا کر ہر رنجش
آپس میں دل ہم جوڑیں گے
ناکامی سے منہ موڑ کے ہم
پھر ہمت اپنی جوڑیں گے
دامن کو چھڑا کر ہر غم سے
خوشیوں سے رشتہ جوڑیں گے
سب بھول کے اپنے سود و زیاں
نئے سال کا کھاتہ کھولیں گے

سیما آفتاب
27-12-2011
پھر ماہ دسمبر آیا ہے
سنگ اپنے بہت کچھ لایا ہے
کچھ اوڑھ کے رنگ اداسی کے
کچھ درد بھرے پچھتاوے ہیں
کچھ ٹوٹے بکھرے وعدے ہیں
کچھ دل میں خوشی کی پیاس لیے
کچھ امیدیں، کچھ آس لیے
اس ماہ دسمبر میں یارو
چلو آو سبھی پیمان کریں
کہ دل سے بھلا کر ہر رنجش
آپس میں دل ہم جوڑیں گے
ناکامی سے منہ موڑ کے ہم
پھر ہمت اپنی جوڑیں گے
دامن کو چھڑا کر ہر غم سے
خوشیوں سے رشتہ جوڑیں گے
سب بھول کے اپنے سود و زیاں
نئے سال کا کھاتہ کھولیں گے

سیما آفتاب
27-12-2011

پیر, دسمبر 16, 2013

بنجارہ نامہ


بنجارہ نامہ - نظیر اکبر آبادی

ٹک حرص و ہوس کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا
قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارہ
کیا بدھیا، بھینسا بیل شتر، کیا گونیں پلّا، سر بھارا
کیا گیہوں چاول موٹھ مٹر، کیا آگ دھواں اور انگارہ
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

گر تو ہے لکھی بنجارہ اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے
اے غافل تجھ سے بھی چڑھتا اک اور بڑا بیوپاری ہے
کیا شکر مصری قند گری، کیا سانبھر میٹھا کھاری ہے
کیا ڈھاک منقہ سونٹھ مرچ، کیا کیسر لونگ سپاری ہے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

یہ بدھیا لادے بیل بھرے جب پورب پچھم جاوے گا
یہ سود بڑھا کے لاوے گا یا ٹوٹا گھاٹا پاوے گا
قزاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گا
دھن دولت ناتی پوتا کیا کچھ کنبہ کام نہ آوے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

ہر منزل میں اب ساتھ ترے، یہ جانا ڈیرہ، ڈانڈا ہے
زر، دام، درم کا بھانڈا ہے، بندوق، سپر اور کھانڈا ہے
جب نائیک تن کا نکل گیا، جو ملکوں ملکوں بانڈا ہے
پھر ہانڈا ہے نا بھانڈا ہے، نہ حلوا ہے نہ مانڈا ہے
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

جب چلتے چلتے رستےمیں یہ جون تیری ڈھل جاوے گی
اک بدھیا تیری مٹی پر پھر گھاس نہ چرنے آوے گی
یہ کھیپ جو تو نے لادی ہے، سب حصوں میں بٹ جاوے گی
دھن پوت، جمائی بیٹا کیا، بنجارن پاس نہ آوے گی
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

یہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے، یہ کھیپ میاں مت گن اپنی
اب کوئی گھڑی، پل ساعت میں، یہ کھیپ بدن کی کھپنی ہے
کیا تھال کٹورے چاندی کے، کیا پیتل کی ڈبیا دھپنی
کیا برتن سونے روپے کے، کیا مٹی کی ہنڈیا دھپنی
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

کچھ کام نہ آوے گا تیرے، یہ لال زمرّد سیم و زر
جب پونجی باٹ میں بکھرے گی، پھر آن بنے گی جان اوپر
نقارے نوبت، بان، نشان، دولت حشمت فوجیں لشکر
کیا مسند تکیہ مِلک مکان، کیا چوکی کرسی تخت چکر
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

کیوں جی پر بوجھ اٹھاتا ہے، ان گونوں بھاری بھاری کے
جب موت کا ڈیرہ آن پڑا پھر دونے ہیں بیوپاری کے
کیا ساز جڑاؤ زر زیور، کیا گوٹے تھان کناری کے
کیا گھوڑے زین سنہری کے کیا ہاتھی لال عماری کے
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

مغرور نہ ہو تلواروں پر، مت پھول بھروسے ڈھالوں کے
سب پٹّا توڑ کے بھاگیں گے، منہ دیکھ اجل کے بھالوں کے
کیا ڈِبّی موتی ہیروں کی، کیا ڈھیر خزانے مالوں کے
کیابکچے تاش مُشجّر کے، کیا تخت شال دو شالوں کے
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

کیا سخت مکان بنواتا ہے، خم تیرے بدن کا ہے پولا
تو اونچے کوت اٹھاتا ہے، واں دیکھ گور گڑھے نے منہ کھولا
کیا ریتی، خندق، رن بھرے، کیا برج، کنگورہ انمولا
گڑھ، کوٹ، رہاکا توپ قلعہ، کیا شیشہ دارو اور گولا
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

ہر آن نفع اور ٹوٹے مین کیوں مرتا پھرتا ہے بن بن
ٹُک غافل دل میں سوچ زرا ہے ساتھ لگا تیرے دشمن
کیا لونڈی باندی، دائی دوا، کیا بندہ چیلا نیک چلن
کیا مندر مسجد ٹال کنواں، کیا گھاٹ سرا کیا باغ چمن
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

جب مرگ پھرا کر چاہک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گا
کوئی ناز سمیٹے گا تیرے کوئی گون سیئے اور ٹانکے گا
ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں، تو خاک لحد کی پھانکے گا
اس جنگل میں پھر آہ نظیر اک بھنگا آن نہ جھانکے گا
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

تفہیم القرآن



"قرآن کے متعلق یہ بات بھی ایک عام ناظر کے کان میں پڑی ہوئی ہوتی ہے کہ یہ ایک مفصل ہدایت نامہ اور ایک کتاب آئین ہے۔ مگر جب وہ اسے پڑھتا ہے تو اس میں معاشرت اور تمدن اور سیاست اور معیشت وغیرہ کے تفصیلی احکام و ضوابط اس کو نہیں ملتے۔ بلکہ وہ دیکھتا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ جیسے فرائض کے متعلق بھی، جن پر قرآن بار بار اس قدر زور دیتا ہے، اس نے کوئی ایسا ضابطہ تجویز نہیں کیا ہے جس میں تمام ضروری احکام کی تفصیل درج ہو۔ یہ چیز بھی آدمی کے ذہن میں خلجان پیدا کرتی ہے کہ آخر یہ کس معنی میں ہدایت نامہ ہے۔
اس معاملے میں ساری اُلجھن صرف اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ آدمی کی نگاہ سے حقیقت کا ایک پہلو بالکل اوجھل رہ جاتا ہے، یعنی یہ کہ خدا نے صرف کتا ب ہی نازل نہیں کی تھی بلکہ ایک پیغمبر بھی مبعوث فرمایا تھا۔ اگر اصل ا سکیم یہ ہو کہ بس ایک نقشہ تعمیر لوگوں کو دے دیا جائے اور لوگ اس کے مطابق خود عمارت بنا لیں، تو اس صورت میں بلا شبہ تعمیر کے ایک ایک جز کی تفصیل ہم کو ملنی چاہیے۔ لیکن جب تعمیری ہدایت کے ساتھ ایک انجینیر بھی سرکاری طور پر مقرر کر دیا جائے اور وہ ان ہدایت کے مطابق ایک عمارت بنا کر کھڑی کر دے، تو پھر انجینیر اور اس کی بنائی ہوئی عمارت کو نظر انداز کر کے صرف نقشے ہی میں تمام جزئیات کی تفصیل تلاش کرنا، اور پھر اسے نہ پا کر نقشے کی نا تمامی کا شکوہ کرنا غلط ہے۔ قرآن جزئیات کی کتاب نہیں ہے بلکہ اصول اور کلیات کی کتاب ہے۔"

اقتباس از- مقدمہ تفہیم القرآن : http://www.tafheemulquran.net/1_Tafheem/Suraes/Muqadma.html

ہفتہ, دسمبر 14, 2013

پنسل اور ہم


پنسل اور ہم :
 لكهارى نامعلوم

ایک ماہر پنسل ساز نے ایک بہت خوبصورت پنسل بنائی،
پنسل کو پیک کرنے سے پہلے اس نے اپنی خوبصورت تخلیق کو ستائش بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا!!!

میں نے اپنے کمالِ فن کی انتہا کرتے ہوئے تجھے ایک بے مثال شکل و صورت دی ہے لیکن تم اس سے بھی خوبصورت بن سکتی ہو اگر تم میری پانچ باتیں غور سے سُن لو۔
ان باتوں پر عمل کرکے تم دنیا کی بہترین پنسل بن سکتی ہو۔

پہلی بات!

تم بہت عمدہ اور عظیم کارنامے سر انجام دے سکتی ہو، بشرطیکہ تم خود کو کسی ماہر اور کامل ہاتھ کے حوالے کر دو۔

دوسری بات!

تمہیں بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گذرنا پڑے گا۔
لیکن ایک بہترین اور کارآمد پنسل بننے کے لئے اس اذیت کو حوصلے سے برداشت کرنا تمہارے لئے ضروری ہو گا۔


تیسری بات!

تم اُن غلطیوں کو درست کرنے کی اہل ہو جو تم سے سرزد ہو سکتی ہیں۔
درستی کرنے سے کبھی بھی ہچکچانا مت۔

چوتھی بات!

تمہارا سب سے اہم حصہ میں نے تمہارے اندر رکھا ہے۔ 
اس کی نگہداشت کرنا۔
پانچویں بات!

تمہاری لکھنے کی صلاحیت تمہارے آخری سرے تک ہے۔
حالات خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہوں، تمہیں آخر دم تک لکھنا جاری رکھنا ہے، اور جس سطح پر بھی تمہیں استعمال کیا جائے تم نے اپنا نشان وہاں چھوڑنا ہے۔

پنسل نے ان تمام باتوں کو دھیان سے سنا۔ انہیں گرہ سے باندھ کر رکھنے کا عزم کیا۔ اور انجانی منزلوں کی جانب عازمِ سفر ہوئی۔

اب اگر ہم خود کو اس پنسل کی جگہ رکھ لیں اور ان ہی پانچ باتوں کو ہمیشہ یاد رکھیں تو ہم بلاشبہ اشرف المخلوقات، مسجودِ ملائک یعنی بہترین انسان بن سکتے ہیں کیونکہ ہمارے خالق نے بڑے فخر سے ہمیں اپنی بہتریں تخلیق قرار دیا ہے۔

پہلی بات!


ہم فوز و فلاح کی رفعتوں کو چُھو سکتے ہیں بشرطیکہ ہم اپنی ذات کو کُلی طور پر خالق و مالکِ کائنات اور اُس کے مبعوث کردہ ہادیءِ برحق کے ہاتھ میں دے دیں۔

دوسری بات!

ہمیں بار بار تراشے جانے کے اذیت ناک مراحل سے گذرنا ہو گا، جو مختلف آزمائشوں اور مسائل کی صورت میں ہمارے سامنے آئیں گے۔
ہمیں ان سب کو ہمت، حوصلے اور صبر کے ساتھ برداشت کرنا ہو گا۔

تیسری بات!

ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اور اس میں کسی قسم کی جھجھک یا ہچکچاہٹ نہیں ہونا چاہئے۔

چوتھی بات!

ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہمارے اندر ہے، ہمارا قلب ِ سلیم۔
ہمیں اسے تمام کثافتوں اور آلائشوں سے بچانا ہے۔

پانچویں بات!

ہم زندگی کی جس بھی سٹیج پر ہوں، ہمیں اپنے نقوشِ پا چھوڑنا ہیں، حالات خواہ کچھ بھی ہوں ہمیں آخر دم تک سر گرمِ عمل رہنا ہے۔

یاد رکھئے کہ ہم میں سے ہر فرد ایک خصوصی اور منفرد شخصیت کا حامل ہے۔

آپ کو جس خصوصی مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے وہ صرف اور صرف آپ ہی پورا کر سکتے ہیں۔

اس یقین کے ساتھ زندگی بسر کریں کہ اس وسیع کائنات کو آپ کی ضرورت ہے، اسی لئے خالقِ کائنات نے آپ کو تخلیق فرمایا ہے۔

کیونکہ وہ تو کوئی شے بھی فضول اور بے مقصد تخلیق نہیں فرماتا۔



 

ایسے ہی ہوتے ہیں


جب عورت اپنے مرد کی کوئى خراب عادت یا کوئى اخلاقی رخنہ دور کرنے میں ناکام رهتی هے تو کہتی هے
"مرد ایسے هی هوتے هیں"-
ماں کا جب بچے کی شرارت یا بدتمیزی پہ بس نہیں چلتا تو ماں کہتی هے
"بچے اسی طرح کرتے هیں"-
مرد جب عورت کی بدزبانی ،بداخلاقی یا بری عادات کے آگے هار جاتا هے تو کہتا هے
"عورتیں ایسی هی هوتی هیں"-

يہ اعلان کر کے پتا نہیں وه خود کو بری الذمہ باور کروا رهے هوتے هیں یا اپنی شرمندگی اور ناکامی چھپا رهے هوتے هیں یا پھر اپنے بجائے معاشرے کو اس بگاڑ کا ذمہ دار ثابت کرنے کی کوشش کر رهے هوتے هیں-
کچھ بھی هو، یہ بات تو طے هے کہ اس بودے بہانے سے آپ کو اپنے اندر کا اطمینان حاصل نہیں هو سکتا-
کیونکہ اگر مان بھی لیا جائے کہ يہ سب ایسے هی هوتے هیں، تو اگلا سوال یہ اٹھتا هے کہ
کیا ایسے هی هونے چاهئیں؟
کیا ایسے هونا ٹھیک هے؟
اگر نہیں، تو پھر ایسے کیوں هیں؟
یہ سارے سوال همیں دھکیل کر پھر واپس پہلے سرے پر لا کھڑا کرتے هیں-

چنانچہ اطمینان غلطی مان لینے میں اور اس کو سدھارنے کی هر ممکن کوشش کرتے رهنے میں هى هے-

اور جب آپ نے غلطی تسلیم کرلی اور اس كو درست کرنے کا بیڑه اٹھا لیا تو پھر سب سے پہلے آپ خود اپنے آپ کو درست کریں گے-
جب آپ نے خود کو درست کر لیا تو سمجھیں سب کچھ اپنے آپ درست هوتا چلا جائے گا-

تحریر: نیلم ملک

جمعہ, دسمبر 13, 2013

ہمیں وہ آزماتا ہے


ہمیں وہ آزماتا ہے
تو اُس کے آزمانے کے
عجب اوزان ہیں، جن کو
نہ ہم سمجھے
نہ تم سمجھے
نہ کوئی اور سمجھا ہے
زمین و آسماں میں کس قدر مخلوق ہے اُس کی
کسی کو بھی نہیں، وہ صرف ہم کو آزماتا ہے
ہماری زندگی کے ارتقاء کے بِیج بننے سے ہمارے پیڑ بننے تک
ہمیں وہ آزماتا ہے
کسی کو سات دیتا ہے
کسی کو سات سے زیادہ
کسی کو ایک دیتا ہے
کسی کو ایک سے بھی کم
وہ بس یہ دیکھتا ہے کہ
کوئی جب ٹُوٹتا ہے تو
وہ اپنے ظرف کی کِن وسعتوں پہ جا کے کتنا صبر کرتا ہے
ہمیں وہ آزماتا ہے
ہمیں وہ آزماتا ہے

شاعر: نامعلوم

جمعرات, دسمبر 12, 2013

لالچ کا نشہ



ایک بادشاہ نے کسی بات پر خوش ہو کر اس آدمی کو یہ اختیار دیا کہ وہ سورج غروب ھونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لے گا، وہ زمین اس کو الاٹ کر دی جائے گی۔ اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کر سکا اور سورج غروب ھو گیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔

یہ سن کر وہ شخص چل پڑا ۔ چلتے چلتے ظہر ھو گئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کر دینا چاھئے ،مگر پھر لالچ نے غلبہ پا لیا اور سوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں،، پھر واپسی کا خیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نے سوچا اس کو بھی اپنی جاگیر میں شامل کر لینا چاھئے۔

الغرض واپسی کا سفر کافی دیر سے شروع کیا ۔ اب واپسی میں یوں لگتا تھا جیسے سورج نے اس کے ساتھ مسابقت شروع کر دی ھے۔ وہ جتنا تیز چلتا پتہ چلتا سورج بھی اُتنا جلدی ڈھل رھا ھے۔ عصر کے بعد تو سورج ڈھلنے کی بجائے لگتا تھا پِگلنا شروع ھو گیا ھے۔

وہ شخص دوڑنا شروع ھو گیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا نطر آ رھا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کو کوس رہا تھا، مگر بہت دیر ھو چکی تھی۔ دوڑتے دوڑتے اس کا سینہ درد سے پھٹا جا رھا تھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رھا تھا -

آخر سورج غروب ہوا تو وہ شخص اس طرح گرا کہ اس کا سر اس کے اسٹارٹنگ پوائنٹ کو چھو رہا تھا اور پاؤں واپسی کے دائرے کو مکمل کر رھے تھے، یوں اس کی لاش نے دائرہ مکمل کر دیا-
جس جگہ وہ گرا تھا اسی جگہ اس کی قبر بنائی گئی اور # قبرپر کتبہ لگایا گیا، جس پر لکھا تھا:

"اس شخص کی ضرورت بس اتنی جگہ کی تھی جتنی جگہ اس کی قبر ھے"

بدھ, دسمبر 11, 2013

آج کی تاریخ (11-12-13 )






اس صدی کی آخری تاریخ جس میں 3 مسلسل عدد ہیں     
آخری تاریخ جو اگلے نوۤے برس تک نہیں آئے گی جس میں 3 مسلسل عدد ہوں
قیمتی تاریغ جو آپکی ذنگی میں کبھی دوبارہ نہیں آئے گی   

11-12-13 مبارک ہو   

کھلونے



بچہ اپنے کھیل میں جیسی سنجیدگی اور ہمہ تن محویت اور خود فراموشی دکھاتا ہے، بڑوں کے کسی مشن اور مہم میں اس کا عشر عشیر بھی نظر نہیں آتا۔ اس میں شک نہیں کہ دنیا کا بڑے سے بڑا فلسفی بھی کسی کھیل میں منہمک بچے سے زیادہ سنجیدہ نہیں ہوسکتا۔
کھلونا ٹوٹنے پر بچے نے روتے روتے اچانک روشنی کی طرف دیکھا تھا تو آنسو میں دھنک جھلمل جھلمل کرنے لگی تھی۔ پھر وہ سسکیاں لیتے لیتے سو گیا تھا۔ وہی کھلونا بڑھاپے میں کسی جادو کے زور سے اس کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے تو وہ بھونچکا رہ جاۓ گا کہ اس کے ٹوٹنے پر بھی بھلا کوئی اس طرح جی جان سے روتا ہے۔ یہی حال ان کھلونوں کا ہوتا ہے، جن سے آدمی زندگی بھر کھیلتا رہتا ہے۔ ہاں، عمر کے ساتھ ساتھ یہ بھی بدلتے اور بڑے ہوتے رہتے ہیں.....

~ مشتاق احمد یوسفی ~

منگل, دسمبر 10, 2013

درسِ فنا


بجھتا ہوا دیا یہ سزا دے گیا مجھے
میں شعلہ جنون تھا ، ہوا دے گیا مجھے

میں لہلہاتی شاخ کو سمجھا تھا زندگی
پَتّا گرا تو درس فنا دے گیا مجھے


سورج کی چند جاگتی کرنوں کا قافلہ
خوابیدہ منزلوں کا پتہ دے گیا مجھے

خوشبو کا ایک نرم سا جھونکا بہار میں
گزرے ہوئے دنوں کی صدا دے گیا مجھے

میرے لیے تو سانس بھی لینا محال ہے
یہ کون زندگی کی دعا دے گیا مجھے

میں خاموشی کا پیکر بے رنگ تھا " سحر "
اک شخص بولنے کی ادا دے گیا مجھے

اللہ کے دوست







جب عشق حقیقی کا ادراک ھو جاتا یے توخود بخود سب کچھ بدل جاتا ہے ۔ روز و شب کے معمولات پر واضح فرق نظر آتا ہے بلکہ سب سے خوبصورت تبدیلی انسان کے اندر آتی ہے۔ اور چونکہ اندر کی تبدیلی ہی باہر کی تبدیلی پر حاوی ہو جاتی ہے اسی لئے قلب و نظر ، ذہن و عقل ، روح کی طلب یکسر بدل جاتی ہے۔ من بے پرواہ ہوجاتا ہے بالکل اسی آیت کی طرح ، جس کا ترجمہ ہے۔۔

" نہیں کوئی خوف و پرواہ اﷲکے دوستوں کو"

جمعہ, دسمبر 06, 2013

مالے افریقہ کی ۸ سو سالہ قدیم مٹی کی مسجد


بسم اللہ الرحمن الرحیم
افریقی ملک مالے کا قدیم قصبہ ڈجنی یہ منفرد اعزاز رکھتا ہے کہ یہاں دنیا کی سب سے بڑی مٹی کی عمارت موجود ہے جو ایک ۸ سو سالہ قدیم مسجد ہے۔ یہ قصبہ دریائے نیجر کے ڈیلٹا میں واقع ہے ۔




اس قدیم مسجد کو برسات کی وجہ سے ہر سال مٹی کے تازہ لیپ کی ضرورت ہوتی ہے ، اور اس نیک کام میں ڈجنی کے تمام افراد رضاکارانہ حصہ لیتے ہیں ۔ ایک مقامی رہنما کے مطابق یہاں کے باشندے اسلام سے بہت محبت رکھتے ہیں ۔ جونہی اعلان ہوتا ہے کہ قریبی دریا میں موجود چکنی مٹی اب اس قابل ہے کہ اس سے مسجد کی لیپائی کی جا سکے ، بڑوں سے لے کر بچوں تک علاقے کے تمام لوگ مل کر رضاکارانہ طور پر مختلف ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں اور مسجد کی خدمت کا یہ موقع کسی عوامی میلے کا منظر بن جاتا ہے۔



اس قدیم مسجد اور اس کی خدمت کی منفرد روایت نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ سمیت ماہرین تعمیر اور تہذیب و ثقافت کی توجہ حاصل کی ہے ۔ اس قدیم مسجد کی اہمیت کے پیش نظر اس کا ریپلکا فرانس میں مصری مسجد کے طور پر اور کوریا میں واقع افریقی آرٹ میوزیم میں بھی بنایا گیا ہے ۔

 (فرانس میں مصری مسجد جو مالی کی مسجد کا ریپلکا ہے ۔ )
https://www.facebook.com/photo.php?v=638124619572723&set=vb.508235532525166&type=2&theater 
برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی اس مسجد اور اس کی سالانہ خدمت کے موقع کی مختصر ڈاکیومنٹری بھی بنا چکا ہے جسے اس ربط پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس تاریخی مسجد اور لوگوں کی اس سے محبت کا احوال پڑھ کر جہاں بے حد خوشی ہوئی وہاں یہ تمنا بھی جاگی کہ کاش اذان کی ہر پکار پر مسلمان یونہی اپنے گھروں سے نکلیں اور اطاعت الہی کا یہ جذبہ دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کا تعارف بن جائے ۔ آمین۔


تحریر و ترجمہ: ام نورالعین

تصاویر بشکریہ : بی بی سی ارتھ، ٹموتھی ایلن
مزید حوالہ جات:
http://timothyallen.blogs.bbcearth.com/2009/06/17/extreme-makeover-mosque-edition/
http://www.geoworldonline.com/great-mosque-in-djenne-the-largest-mud-brick-building-in-the-world/
http://armchairtravelogue.blogspot.com/2009/01/worlds-largest-mud-brick-building.html
http://edwardgrocott.blogspot.com/2012/04/when-communities-care.html

جمعرات, دسمبر 05, 2013

فہم القرآن



قرآن کا فہم ــــ آسان یا مشکل


اللہ تعالیٰ نے سورہ قمر کی آیت ٣٢ میں قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ 'وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ' (ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیاہے اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا)۔ جب یہ قرآن آسان ہے تو پھر وہ کیا مشکلات ہیں جن کو حل کرتے ہوئے مفسرین اور قرآن کے ماہرین نے ایک ایک سورہ پر ہزاروں صفحات لکھ دیے ہیں؟

قرآن مجید کے فہم کے دو پہلو ہیں۔

ایک پہلو نصیحت کا ہے۔ اس اعتبار سے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ دنیا کی آسان ترین کتاب ہے۔ اس کا اگر اچھا ترجمہ ہی پڑھا جائے تو جس بنیادی چیز کی یہ یاددہانی کرانا چاہتی ہے، اسے یہ ہر پہلو سے واضح کر دیتی ہے۔ وہ بنیادی چیز یہ ہے کہ خدا ایک ہے، وہی عبادت کے لائق ہے اور انسانوں کو ایک دن اس کے حضور میں پیش ہونا ہے۔ آپ قرآن کو جہاں سے کھولیے، وہ یہ بات بیان کر رہا ہے۔

چنانچہ یہ بالکل بجا ہے کہ نصیحت اور یاددہانی حاصل کرنے کے لیے قرآن دنیا کی آسان ترین کتاب ہے۔ تاہم، اس ضمن میں واضح رہنا چاہیے کہ 'يسرنا' کا صحیح مفہوم ''آسان بنا دینا '' نہیں، بلکہ ''موزوں بنا دینا''ہے۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے نہایت موزوں بنا دیا ہے اور ظاہر ہے کہ موزونیت اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ اسے سمجھنے میں آدمی کو کوئی دشواری پیش نہ آئے، بلکہ وہ آسانی کے ساتھ اس کے مدعا تک پہنچ جائے۔

قرآن مجید کے فہم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ علماے اولین اور متاخرین کے لیے علمی اعتبار سے ہمیشہ محل تدبر رہا ہے۔ یہ ام القریٰ کی عربی معلی میں نازل ہوا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو زبان وادب اور فصاحت وبلاغت کا معجزہ قرار دیا اور قریش کو یہ چیلنج کیا کہ وہ اس کے مانند کوئی ایک سورہ ہی پیش کردیں۔

یہ ایک منفرد اسلوب کا حامل ہے جسے نہ نثر کہا جاسکتا ہے اور نہ نظم۔ اس کا ایک پس منظر اور ایک پیش منظر ہے۔ اس میں خطاب لحظہ بہ لحظہ بدلتا رہتا ہے۔ چنانچہ علما کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ کسی مقام پر مخاطب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، عام انسان ہیں، قریش مکہ ہیں یا یہودو نصاریٰ ہیں۔

چنانچہ اگر اس نوعیت کا فہم پیش نظر ہو تو یہ دنیا کی مشکل ترین کتاب ہے۔ مجھے خود زندگی میں بارہا اس کا تجربہ ہوا ہے کہ قرآن مجید کے ایک حصے کی برسوں تلاوت کی ہے، اس کو بار بار پڑھا ہے، وہ یاد بھی ہے، لیکن جب کوئی خاص مسئلہ پیش آیا اور اس پر غور کرنا شروع کیا تو اس کے ایسے پہلو نمایاں ہونے شروع ہو گئے جن کی طرف پہلے کبھی توجہ نہیں تھی۔ یہ قرآن مجید کا خاص کمال ہے۔
اس لحاظ سے اہل علم کبھی اس سے سیر نہیں ہوتے۔

چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام آدمی اسے نصیحت اور یاددہانی کے لیے سمجھنا چاہے تو کوئی مشکل نہیں ہے اور اگر امت کی اعلیٰ ذہانتیں اس کو اپنا موضوع بنائیں اور اس میں ہزاروں لاکھوں لوگ بھی کھپ جائیں تو کبھی و ہ اس کو یہ خیال کر کے ایک طرف نہیں رکھ سکتےکہ اب اسے ہر لحاظ سے سمجھ لیا گیا ہے

ہفتہ, نومبر 30, 2013

ذرا سوچئیے



  • گلی میں کوڑا کرکٹ پڑا ہے تو حکومت صاف کرے
  • سٹریٹ لائٹ خراب ہوگئی ہے تو حکومت ٹھیک کرے
  • گٹر بند ہوگیا ہے تو حکومت کھلوائے
  • ہم نے اپنی دکان کا سامان سڑک پر دور تک پھیلا کر یہ گلہ کرنا ہے کہ حکومت ناجائز تجاوزات ختم نہیں کرواتی رستے تنگ ہوگئے ہیں
  • ہم نے سارا دن دفتر میں بیٹھ کر گپیں مارنی ہیں اور گلہ کرنا ہے کہ سرکاری دفاتر میں کام نہیں ہوتا اور حکومت سوئی ہوئی ہے
  • ہم نے اپنی مرضی سے چیزوں کی قیمت بڑھا کر اور دو نمبر چیزیں بیج کر کہنا ہے کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے حکومت کچھ نہیں کر رہی
  • ہم نے کوشش کرنی ہے کہ ہمیں اپنے کام کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے کچھ دے دلا کر ہمارا کام جلدی ہوجائے اور پھر گلہ کرنا ہے کہ یہاں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا
  • ہم غلط جگہ پر رکشہ ، گاڑی یا وین کھڑی کرکے سڑک بند کردیتے ہیں اور چالان ہونے پر کہتے ہیں کہ یہ حکومت تو غریبوں کی دشمن بنی ہوئی ہے ۔
کیا ہمارا کوئی فرض نہیں ، کیا ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ، کیا یہ سب کچھ حکومت کے ذمہ ہے ۔ ہم چاہے کریں ، جیسے مرضی رہیں
افسوس کے ہم خود کچھ کرنے کو تیارنہیں اور برا حکومت کو کہتے ہیں

امید


"اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمار اندر باہر خشک ہوتا ہے۔ اور ہمہیں ذندگی میں کوئ کشش کوئی رنگینی محسوس نہیں ہوتی۔۔۔باہر کا موسم اچھا بھی ہو تو ھمارے من کی ویرانی اور پیاس ہمیں بیرونی فضا سے محظوظ ہونے نہیں دیتی۔۔۔مگر۔۔۔۔پھر ایک وقت آتا جب ایک چھوٹی سی بات،ایک چھوٹی سی ُامید،ایک اچھوتا سا خوشی کا َننھا سا احساس ہمارے اندر جل تھل کر دیتا ہے۔۔۔اور ہمارا تن من سیراب ہو جاتا ہے، اور ھمارے اندر اُمید کی ایک بے ساختہ خوشی کی پھوار برسنے لگتی ہے۔۔۔۔اور اس ُپھوار میں بھیگ کر ہماری روح تک سرشار ھو جاتی ہے۔۔۔۔من کی یہ حسین اور دل فریب جل تھل دراصل اس بیرونی خوشی کی امید کا نتیجہ ھوتا ہے، جو نامحسوس طریقے سے ہمارے اندر ُسرایت کر جاتی ہے۔۔۔اور ہمارے اندر کی ساری کثافت دھو کر ہر طرف خوشی اور اُمید کا سبزہ کھلا دیتی ہے،اور ہم خود کو اتنا ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں جتنا باہر کی فضا بارش کے بعد اپنے آپ کو محسوس کرتی ہے۔"
-Wajeeha Sehar -

جمعرات, نومبر 28, 2013

آج کی بات 28 نومبر 2013


اگر صبر وہاں کیا جہاں عمل کرنا تھا تو یقین مانو یہ صبر نہیں کاہلی ہے ... خاموشی وہاں اختیار کی جہاں الفاظ کی ضرورت تھی تو یہ عقلمندی نہیں بزدلی ہے

از: ملک جہانگیر اقبال

بدھ, نومبر 27, 2013

اخلاص


کبھی کبھی سوچتی ہوں یہ اخلاص بھی کیسی عجب دولت ہے. قرآن میں سوره اخلاص میں کیسے الله پاک نے اپنے محبوب
صلى الله عليه و آله و صحبه و سلم کو اپنے متعلق بیان کرنے کو فرمایا!

کہہ دیجیے وہ الله ایک ہے!

الله بےنیاز ہے!

الله خود خالص ہے اور الله کو اخلاص والے پسند ہیں! اخلاص والوں کی عبادت خالص، دنیا خالص، محبت خالص، اب لگتا ہے کے اخلاص میں عبادت، محبت، دنیا سب الگ کہاں سب ضم ہو جاتا ہے!

خیر .. یہ خالص لفظ جیسے ذھن میں ٹھہر سا جاتا. بہت عرصے پہلے یہ سوچتی تھی کے کاش ایسی دولت ہوتی، کسی دکان سے جا کر اخلاص خرید لاتی!.... پھر اپنی سوچ پر ہنسی آئ کے بھلا ایسی دکان کہا ہو گی؟ ایسا دکان دار کہاں؟ ایسی دولت کہاں سے لوں؟ اور جب اخلاص خرید لوں گی تو رکھوں گی کہاں؟

پھر کچھ وقت گزرا…… سنا کے ایک ایسا دکان دار ہے، سنا کے وہ دکان دار تو ہر دولت سے, مال سے بےنیاز ہے، وہ خود بہت غنی ہے. پھرایک اور احساس دلایا گیا کے اخلاص تو بدلے کا نام ہی نہیں! یہ کچھ دے کر کچھ لیا نہیں جاتا یہ تو سب نچھاور کر کے کسی بھی چیز کی توقع نہ رکھنے کا نام ہے.

اور پھر ایک اور سوال نے بڑی معصومیت سے سراٹھایا. سب دے کر؟

اندر سے آواز آئ. محترمہ .. آپکا تھا کیا؟

آپ کیا لائیں تھیں اپنے ساتھ؟

جو دے سکیں؟

سب اسی کا تو تھا!

تو اسکو دیا نہیں! اسکی امانت اس کے مانگنے پر لوٹا دی!

انا لللہ وانا الیہ راجعون اور الحمدللہ کہیے:)

پھر ایک اور احساس نے اپنے ہونے کا احساس اٹھایا. لگتا کوئی خواہش پوری نہ ہو سکنے کا غم، ہاں وہ غم تو میراہی ہوا ناں!

پھر کچھ وقت گزرا .. غم کو ہم نے خود کو ستانے دیا.. پھر ایک اور احساس عطا ہوا .. کے لو جی اگر کوئی خواہش پوری نہ ہو تو اس میں تو اس جان سے پیارے کی میرے ہی حق میں مصلحت ہے!

اس کا دینا بھی اسکی عطا .. اس کا نہ دینا بھی اسکی عطا الحمدللہ !!!

پھر احساس ہوا کے اخلاص تو الله کے ہو جانے، الله کے لئے ہو جانے کا نام ہے!

جہاں سے منسلک ہو ہر حال میں اسی دھاگے سے بندھ جانے، اسی ڈور سے بندھے رہنے، وفا نبھانے کا نام اخلاص ہے!

ویسے سچ بتاؤں؟ وہ دکان دارعجب ہے، دنیا کے دکانداروں سے بالکل الگ، بالکل مختلف! اس مہربان بےنیاز کے پاس تو کوئی خالی ہاتھ روتا سسکتا بلکتا جائے تو وہ اسے وہ نواز دیتا ہے جو اس بےبس فقیر کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا ماشا الله ! مزے کی بات یہ ہے کے دنیا کے دکاندار فقیروں سے جان چھڑاتے ہیں اور وہ سوہنا ایسا دکان دار ہے کے بہانے دے دے کر بلواتا ہے، عطا کے بہانے جو ڈھونڈتا ہے وہ اپنوں پر، اور وہ بہانے پھر کبھی کیسے ہی اذیت ناک سہی، اس رب ذُوالجلال والاکرم کی نگاہ لطف کے بعد تو ان بہانوں کا ان سرابوں کا بھی شکر کیا جاتا ہے الحمدللہ.

ارے پیاس سے حلق میں کانٹے نہ اگ آئیں تو بھلا میٹھے پانی کی لذّت کا احساس کیسے ممکن ہو؟

اب لگتا ہے سب عطا ہے، یہ کمائی نہہیں جاتی! ایسی تو خواہش بھی دل میں آ جانا ہی الحمدللہ سراسرعطیہ خداوندی ہے. الله عز و جل ہم سب کو توفیق دیں کے ہم الله کے لئے اخلاص کی خواہش رکھ سکیں، الله پاک اپنی پرخلوص محبت میں جینے مرنے اور مر کر جی اٹھنے کی توفیق دیں، الله پاک اپنی محبت کی چادر میں بہت محبت سے ڈھانپیں رکھیں، ہم سب سے راضی ہو جایں، ایک پل نہ چھوڑیں، دو جہاں میں محبت سے تھامیں رکھیں، بس اپنا بنا لیں بس اپنا بنا لیں الله ھمّ آمین!

مآخذ: https://www.facebook.com/urdu.duniya1/posts/503171286448254

میری آدھی عمر گزر گئی


یونہی بے یقیں یونہی بے نشاں میری آدھی عمر گزر گئی
کہیں ہو نہ جائوں میں رائیگاں، میری آدھی عمر گزر گئی


کبھی سائبان نہ تھا بہم، کبھی کہکشاں تھی قدم قدم
کبھی بے مکاں، کبھی لا مکاں، میری آدھی عمر گزر گئ


تیرے وصل کی جو نوید ہے، وہ قریب ہے یا بعید ہے؟
مجھے کچھ خبر تو ہو جان جاں، میری آدھی عمر گزر گئ


کبھی مجھ کو فکر معاش ہے، کبھی آپ اپنی تلاش ہے
کوئی گُر بتا میرے نکتہ داں، میری آدھی عمر گزر گئ


کوئی طعنہ زن میری ذات پر، کوئی خندہ زن کسی بات پر
پہءِ دل نوازی دوستاں، میری آدھی عمر گزر گئ


ابھی وقت کچھ میرے پاس ہے، یہ خبر نہیں ہے قیاس ہے
کوئی کر گلہ میرے بد گماں، میری آدھی عمر گزر گئ


اُسے پا لیا، اُسے کھو دیا، کبھی ہنس دیا، کبھی رودیا
بڑی مختصر ہے یہ داستاں، میری آدھی عمر گزر گئ


تیری ہر دلیل بہت بجا، مگر انتظار بھی تھا کُجا
میری بات سن میرے رازداں، میری آدھی عمر گزر گئ


کہاں کائنات میں گھر کروں، میں یہ جان لوں تو سفر کروں
اسی سوچ میں تھا نا گہاں، میری آدھی عمر گزر گئ

خدا کے کمالات


کسی جادوگر کی چھڑی سے ایک پتھر کوئی آواز نکالے تو اس کو دیکھ کر سارے لوگ حیران رہ جائیں گے اور خدا بے شمار انسانوں کو مادہ سے بنا بنا کر کھڑا کر رھا ھے اور وہ نہایت بامعنی الفاظ میں کلام کر رھے ھیں مگر اس کو دیکھ کر کسی پہ حیرانی طاری نہیں ھوتی..

کیسے اندھے ھیں وہ لوگ جن کو جادوگر کے کرشمے دکھائی دیتے ھیں لیکن خدا کے کرشمے دکھائی نہیں دیتے..

کیسے بے عقل ھیں وہ لوگ جو جھوٹے کرشمے دکھانے والوں کے سامنے سراپا عقیدت مند بن جاتے ھیں مگر جو ھستی سچے کرشمے دکھا رھی ھے اس کے لئے ان کے اندر عقیدت و محبت کا جذبہ نہیں امنڈتا..

حقیقت یہ ھے کہ انسان اگر خدا کو پا لے تو وہ اس کے کمالات میں گم ھو جائے ' خدا کے سوا کسی دوسری چیز کا اسکو ھوش نہ رھے..!!

منگل, نومبر 26, 2013

جو رَد ہوئے تھے


گزشتہ عہد گزرنے میں ہی نہیں آتا
یہ حادثہ بھی لکھو معجزوں کے خانے میں
جو رَد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں

جون ایلیا

دل چسپ حقیقت


ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺩﮬﭽﮑﺎ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﯾﺎ ﺑﯿﺲ ﻣﻨﭧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻭﻭﺭ
ﺗﮭﻨﮑﻨﮓ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔

مسبب الاسباب


اس کا نام ڈاکٹر احمد تھا اور وہ سعودی عرب کا معروف طبیب تھا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرتے۔ اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔دارالحکومت میں ایک انٹر نیشنل میڈیکل کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ اس کی خدمات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ وہ اس کانفرنس میں نہ صرف کلیدی مقالہ پڑھے گا بلکہ اس موقع پر اسے اعزازی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے۔ڈاکٹر احمداپنے گھر سے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔

وہ بڑا خوش اور پُرسکون تھا۔ آج شام اس کی تکریم اور عزت کی جانے والی تھی۔ اس کا سوچ کر وہ اور بھی زیادہ آسودہ ہوگیا۔ ائیر پورٹ پر وہ معمول کی چیکنگ کے بعد فوراً ہی ہوائی جہاز میں سوار ہوگیا۔ اس کی فلائٹ وقت کے مطابق پرواز کر گئی۔ کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا ہم معذرت خواہ ہیں کہ طیارے میں فنی خرابی کے باعث ہم قریبی ائیر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

فلائٹ بغیر کسی رکاوٹ اور حادثے کے قریبی ائیر پورٹ پر اتر گئی۔ مسافر جہاز سے اتر کر لاؤنج میں چلے گئے۔ ڈاکٹر احمد بھی دیگر مسافروں کے ساتھ طیارے کی فنی خرابی کے درست ہونے کا انتظار کرنے لگے۔تھوڑی دیر کے بعد ائیر پورٹ اتھارٹی نے اعلان کیا:خواتین وحضرات! انجینئر نے بتایا ہے کہ فنی خرابی کے درست ہونے کا فوری طور پر کوئی امکان نہیں ہے۔ لہٰذا مسافروں کے لیے متبادل طیارہ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ یہ طیارہ کب آئے گا ؟کسی کو علم نہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد نیا اعلان ہوا کہ متبادل طیارہ کل ہی آسکتا ہے۔ ہم اس زحمت کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ اب آپ کو ہوٹل پہنچا دیا جائے گا۔

ڈاکٹر احمدکے لیے یہ اعلان نہایت تکلیف دہ اور پریشان کر دینے والا تھا۔ آج رات تو اس کی زندگی کی نہایت اہم رات تھی۔ وہ کتنے ہفتوں سے اس رات کا منتظر تھا کہ جب اس کی تکریم ہونی تھی۔ وہ کرسی سے اٹھا اور ائیر پورٹ کے اعلی افسر کے پاس جا پہنچا، اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ میں انٹر نیشنل لیول کا ڈاکٹر ہوں۔ میرا ایک ایک منٹ قیمتی ہے ۔ مجھے آج رات دارالحکومت میں مقالہ پڑھنا ہے۔ پوری دنیا سے مندوبین اس سیمینار میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں اور آپ لوگ ہمیں یہ خبر سنا رہے ہیں کہ متبادل طیارہ ۱۶ گھنٹے بعد آئے گا۔متعلقہ افسر نے اسے جواب دیا: محترم ڈاکٹر صاحب ہم آپ کی عزت اور قدر کرتے ہیں ۔

ہمیں آپ کی اور دیگر مسافروں کی مشکلات کا اندازہ ہے۔ لیکن یہ ہمارے بس کی بات نہیں اور نیا طیارہ فوری طور پر فراہم کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔البتہ وہ شہر جہاں آپ کو کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا ہے، یہاں سے بذریعہ کار سے صرف تین چار گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ اگر آپ کو بہت جلدی ہے تو ائیر پورٹ سے کرایہ پر گاڑی حاصل کریں اور خود ڈرائیو کرتے ہوئے متعلقہ شہر پہنچ جائیں۔ ‘‘

ڈاکٹر احمدلمبی ڈرائیونگ کرنا پسند نہ کرتا تھا۔ مگر اب یہ مجبوری تھی اس کے پاس کوئی متبادل راستہ تھا ہی نہیں۔اس نے متعلقہ آفیسرکے مشورے کوپسند کیا اور ایئر پورٹ سے کار کرایہ پر لے کر متعلقہ شہر کی جانب روانہ ہو گیا۔ ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیاتھا کہ اچانک موسم خراب ہو نا شروع ہو گیا۔آسمان پر گہرے بادل نمو دار ہوئے۔تیز آندھی اس پر مستزادتھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے زور دار بارش شروع ہوگئی اور ہر طرف اندھیر ا چھا گیا۔ موسم کی خرابی کی و جہ سے اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔ دو گھنٹے تک وہ مسلسل چلتا گیا،بالآخر اسے یقین ہو گیاکہ وہ راستے سے بھٹک چکا ہے۔

اب اسے بھوک اور تھکاوٹ کااحساس بھی بڑی شدت سے ہونے لگا۔اس نے سوچا تھا : تین چار گھنٹے ہی کا سفر تو ہے ، ا س لیے اس نے اپنے ساتھ کھانے پینے کی کوئی چیز بھی نہ لی تھی۔اب اسے کسی ایسے ٹھکانے کی تلاش تھی جہاں سے اسے کھانے پینے کی کوئی چیز مل سکے۔وقت تیزی سے گزرتا رہا تھا۔ چاروں طرف رات کا اندھیرا بھی چھا چکا تھا۔ ایک چھوٹے سے گاؤں کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے غیر شعوری طور پراپنی گاڑی ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے روک دی۔

اس کا ہاتھ گھر کے دروازے پر دستک دے رہا تھا جب اندر سے ایک بوڑھی عورت کی نحیف و ناتواں آوازاس کے کانوں میں پڑی جو کہہ رہی تھی:جو بھی ہو اندر آجاؤ دروازہ کھلا ہے۔ ڈاکٹراحمدگھر میں داخل ہو اتو دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت متحرک کرسی پر بیٹھی ہے۔ اس نے خاتون سے کہا: اماں! میرے موبائل کی بیٹری ختم ہو چکی ہے، کیا میں اپنا موبائل چارج کر سکتا ہوں؟

بوڑھی عورت مسکرا کر کہنے لگی: میرے بیٹے کون سے فون کی بات کررہے ہو؟ تمھیں معلوم نہیں اس وقت تم کہاں ہو؟ ہما رے ہاں نہ تو بجلی ہے نہ ٹیلی فون،یہ تو ایک چھوٹا سا گائوں ہے، جہاں شہری سہولتوں کاکوئی تصور نہیں ہے پھر اس نے مزید کہا! میرے بیٹے وہ سامنے میز پر چائے اور کھانا رکھاہے۔لگتا ہے کہ تم بھوکے اور پیاسے ہو۔راستہ بھٹک گئے ہو۔تم پہلے کھانا لو پھر بات کریںگے۔ لگتا ہے تم خاصا طویل فاصلہ طے کر کے آئے ہو۔ ڈاکٹر احمدنے اس بوڑھی خاتون کا شکریہ ادا کیا اور کھانے پر ٹوٹ پڑا ۔سفر کی تھکاوٹ سے اسے شدید بھوک لگ رہی تھی ۔اچانک خاتون کی کرسی کے ساتھ والی چارپائی پر حرکت ہوئی اور ایک معصوم نے رونا شروع کر دیا۔خا تون نے اس بچے کوتھپک کر سلایا اور اسے دعائیں دینا شروع کیں۔وہ اس بچے کی صحت اور سلامتی کے لیے لمبی لمبی دعائیں کر رہی تھی۔

ڈاکٹراحمدنے کھانا کھایا اور بوڑھی اماں سے کہنے لگا: اماں جان! آپ نے اپنے اخلاق ‘کرم اور میز بانی سے میرا دل جیت لیا ہے۔آ پ لمبی لمبی دعائیں مانگ رہی ہیں ۔ امید ہے کہ اللہ تعالی آپ کی دعائیں ضرور قبول کرے گا۔ ’’میرے بیٹے! وہ بوڑھی گویا ہوئی۔‘‘ میرے اللہ نے میری تمام دعائیں سنی اور قبول کی ہیں۔ہا ں بس ایک دعا باقی ہے جو میرے ضعفِ ایمان کی وجہ سے پور ی نہیں ہوئی ۔تم تو مسافرہو، دعا کرو کہ وہ بھی قبول ہو جائے۔

ڈاکٹر احمدکہنے لگا: اماں جان وہ کونسی دعا ہے جو قبول نہیں ہوئی۔آپ مجھے اپنا کام بتائیں میں آ پ کے بیٹے کی طرح ہوں ۔اللہ نے چاہا تو میں اسے ضرورکروں گا۔آپ کی جو مدد میرے بس میں ہو گی ضرور کروں گا۔ خاتون کہنے لگی: میرے عزیز بیٹے !وہ دعا اور خواہش میرے اپنے لیے نہیںبلکہ اس یتیم بچے کے لیے ہے جو میرا پوتا ہے۔اس کے ما ں باپ کچھ عرصہ پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ اسے ہڈیوں کی ایک بیما ری ہے جس کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذو ر ہے۔میں نے قریبی حکیموں، مہمانوں سے اس کے بڑے علاج کرائے ہیں مگر تمام اطباء اس کے علاج سے عاجز آ گئے ہیں ۔

لوگو ں نے مشورہ دیا ہے کہ اس ملک میں ایک ہی ڈا کٹر ہے جو اس ہڈیوں کے علاج کا ما ہر ہے، اس کی شہرت دور دور تک ہے ۔ وہ بڑا مانا ہوا سرجن ہے۔ وہی اس کا علاج کر سکتاہے، مگر وہ تو یہاں سے بہت دو ر رہتا ہے پھر سنا ہے بہت مہنگا بھی ہے۔ اس تک پہنچنا کوئی آسان کام تو نہیں ہے۔ تم میری حالت تو دیکھ ہی رہے ہو،میں بوڑھی جان ہوں۔کسی وقت بھی بلاوا آ سکتا ہے۔مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد اس بچے کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔میں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ کوئی سبب پیدا کر دے کہ اس بچے کا اس ڈاکٹر سے علاج ہو سکے۔ عین ممکن ہے کہ اس یتیم بچے کو شفاء اسی ڈاکٹر کے ہاتھوں مل جائے۔

ڈاکٹر احمداپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا: اماں جان! میرا طیارہ خراب ہوا، راستے میں اُترنا پڑا کار کرائے پر لی، خوب طوفان آیا‘ آندھی او ر بارش آئی، راستہ بھول گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے گھر زبر دستی بھجوا دیا۔اما ں آپ کی آخری دعا بھی قبول ہو چکی ہے۔اللہ رب العزت نے ایسے اسباب مہیا کر دیے ہیں کہ وہ ہڈیوں کا بڑا ڈاکٹر خود چل کر آپ کے گھر آگیا ہے۔ اب میں آپ کے پوتے کا علاج کروں گا۔‘‘

جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کی سنتا ہے تو پھر اس کوپورا کرنے کے لیے اسباب بھی خود ہی مہیا فرما دیتا ہے۔کائنات کی ساری مخلوق چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان، اللہ کے حکم اور اس کی مشیّت کی پابند ہے۔ اس واقعے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالی نے زمین وآسمان کی مختلف قوتوں کو کام میں لا کر بوڑھی اماں کی دعا کو پورا کرنے میں لگا دیا۔

ارشاد باری تعالی ہے:

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ

بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو.
سورة النمل - الآية 62

 

اتوار, نومبر 24, 2013

ذندگی اور فیس بک



آج کل کی زندگی بھی فیس بک کی طرح ھے، لوگ آپ کے مسائل اور پریشانیاں لائیک کریں گے، انھیں حل کرنے کی فرصت شاید کسی کے پاس بھی نہیں، کیونکہ سب اپنے اپنے مسائل ""آپ ڈیٹ "" کرنے میں مصروف ھیں۔

وقت

 
 
وقت کے سمجھانے کا طریقہ سخت اور کرب ناک ہوتا ہے،
 مگر یہ بھی سچ ہے کہ وقت کی سمجھائی بات حتمی ہوتی ہے
 اور ساری زندگی کے لیے سمجھ آ جاتی ہے۔

بدھ, نومبر 20, 2013

نادان چوہا


کسی جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا۔ ایک دن وہ بھیڑیا ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا۔ بہت زور لگایا مگر جال سے نکل نہ پایا، بلکہ مذید اُلجھ گیا۔ اِسی تگ و دو میں جال کی ڈوریاں اُس کے جسم میں گڑ گئیں اور جسم سےخون رسنے لگا۔ اتنے میں قریب سے ایک چوہے کا گزر ہوا۔ بھیڑیا اُسے دیکھتے ہی انتہائی لجاجت سےبولا: بھائی چوہے!میری مدد کرو میں اس جال میں بری طرح پھنس گیا ہوں، تم مہربانی کرو اور اپنے تیز دانتوں سے اس جال کو کاٹ دو تا کہ میں آزاد ہو جاؤں۔ چوہا بولا : نہ بابا نہ! اگرمیں نے تمہیں آزاد ی دلا دی تو تم سب سے پہلے مجھے ہی ہڑپ کر جاؤ گے۔ بھیڑیا بولا: تم ٹھیک کہتے ہو ۔ میری فطرت کچھ ایسی ہی ہے مگر تمہارے اس احسان کے بدلے میں وعدہ کرتا ہوں کہ نہ صرف میں اپنے آپ پر قابو رکھوں بلکہ جب تمہیں کسی اور درندے نے تنگ کیا تو میں تمہاری مدد کر وں گا۔ قصہ مختصر کافی دیر تک منت سماجت کرنے کے بعد بھیڑیے نے چوہے کو راضی کر ہی لیا اور یوں چوہے نے اس جال کو اپنے تیز دانتوں سے کتر ڈالا۔

بھیڑیے نے آزاد ہوتے ہی چوہے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج سے تم میرے ساتھ رہو گے اور مجال ہے کہ جنگل کا کوئی دوسرا جانور تمھاری طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔ چوہا بہت ہی خوش ہو گیا اور ننھا سا سینہ پھلا کر جنگل میں گھومنے لگا۔ جب بھی کوئی لگڑبھگا، جنگلی بلی، گیدڑ، لومڑی، وغیرہ اس کی طرف حملہ کرنے کے لیے بڑھتے وہ فوراً بھیڑیے کو بلا لیتا اور بھیڑیا بھی فوراً ہی لبیک کہتا ہوا چوہے کی مدد کو آن پہنچتا اور حملہ آور کو مار بھگاتا۔ یہ دیکھ کر چوہے کی ہمت اتنی بڑھ گئی کے راہ چلتے ہر چھوٹے بڑے جانور کی بے عزتی کرنے لگا اور یوں جنگل کے تمام جانور چوہے سے نفرت کرنے لگے۔ ایک دن کچھ شکاری دوبارہ جنگل میں آئے اور انہوں نے بھیڑیے پر گولی چلائی۔ گولی بھیڑیے کی ٹانگ پر لگی پر جان بچ گئی۔ لنگڑا بھیڑیا اب شکار کرنے کے قابل نہ رہا۔ معذوری کی حالت میں بھوک کی شدت بڑھتی گئی مگر کوئی بھی جانور شکار نہ کر سکا۔ دوسری طرف بھیڑیے کی پشت پناہی کے زعم میں چوہے نے سرے راہ ایک لومڑی کی بے عزتی کر دی۔ لومڑی غصہ میں آ کر چوہے کو پکڑنے کے لیے لپکی تو چوہا فوراً بھاگ کر بھیڑیے کے پاس آ گیا۔ لومڑی یہ دیکھ کر دور ہی رُک گئی مگر موٹے تازے چوہے کو دیکھ کربھیڑیے کی نیت میں فتور آگیا اور بھوک چمک اُٹھی۔ اُس نے ایک ہی پنجہ مار کر چوہے کو دبوچ لیا ۔ چوہے نے جو بھڑیے کے خطرناک تیور دیکھے تو خوفزدہ ہو کر بولا: بھائی بھیڑیے یہ کیا کر رہے ہو؟ میرے احسان کا یہ بدلہ دے رہے ہو؟ بھیڑیا بولا: کمبخت تو نے بھی تو اُس دن کے بعد سے جنگل کے تمام جانوروں کو بے عزت کر کے اپنی اوقات سے زیادہ مزے کیے ہیں اور کسی خوف کے نہ ہونے کے سبب کھا کھا کر خوب موٹا ہو گیا ہے۔ چل اب میرا خالی شکم سیر کر۔ بھیڑیے نے یہ کہا اور ایک ہی بار میں سالم چوہے کو ہڑپ کر گیا۔

سبق:
- عادت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے مگر فطرت پر قابو پانا ممکن نہیں۔ سانپ کو لاکھ دودھ پلاؤ مگر وہ کاٹےگا ضرور!
- بے جوڑ دوستی اکثر اوقات دیرپا نہیں ہوتی اور کبھی نہ کبھی نقصان پہنچاتی ہے۔
- کسی پر کیے گئے احسان کی قیمت کبھی نہیں وصول کرنی چاہیے۔ اس سے نیکی بھی ضائع ہوتی ہے اور انسان کا وقار بھی مٹی میں مل جاتا ہے۔
- طاقتور کے مزاج اور وعدے کا کوئی بھروسا نہیں۔ وہ جب چاہے اسے بدل دیتا ہے۔
- انسان کو ہمیشہ اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور اللہ کے بعد صرف اپنے ہی قوت بازو پر بھروسا کرنا چاہیے۔
- زرا سی طاقت ملتے ہی کم ظرف کی طرح بے جا اچھل کود اور اکڑفوں نفرت کو پھیلانے کا سبب بنتی ہے جس سے آخر کارنقصان ہی ہوتا ہے۔

حقیقت


ﺍُﺱ ﻧﮯ "ﮐُﻦ" ﮐﮩﺎ
ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﮐُﭽﮫ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ۔ ۔
ﻭﮦ "ﮐُﻦ" ﮐﮩﮯ ﮔﺎ
ﺍﻭﺭ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ ۔ ۔
ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﮯ
ﮔﺎ۔ ۔ ۔
ﮨﻢ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ
ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔ ۔ ۔
ﯾﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ۔ ۔ ۔
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ۔

منگل, نومبر 05, 2013

آج کی بات 05 نومبر 2013





اہمیت الفاظ کی ہوتی ہے لیکن اثر ہمیشہ لہجے کا ہوتا ہے- اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے لہجے کو نرم رکھیں جس سے دوسروں پر ہماری شخصیت کا اچھا تاثر پڑے-

عبادت


زمانہ نے عجب پلٹا کھایا ہے ، پچھلے لوگ عبادت چھپ کر اس لیے کرتے تھے کہ کہیں شہرت نہ ہو جائے - اور اب اس لیے چھپا کر کرتے ہیں کہیں لوگ مذاق نہ اڑائیں

پیر, نومبر 04, 2013

جمعہ, اکتوبر 25, 2013

جنت کے پتے


"آپ جنت کے پتے کسے کہتے ہیں؟"

احمد نے گہری سانس لی اور کہنے لگا۔

"آپ جانتی ہیں، جب آدم علیہ السلام اور حوا جنت میں رہا کرتے تھے، اس جنت میں، جہاں نہ بھوک تھی، نہ پیاس، نہ دھوپ اور نہ ہی برہنگی۔ تب اللہ نے انہیں ایک ترغیب دلاتے درخت کے قریب جانے سے روکا تھا، تاکہ وہ دونوں مصیبت میں نہ پڑ جائیں۔"

وہ سانس لینے کو رُکا۔

"اس وقت شیطان نے ان دونوں کو ترغیب دلائی کہ اگر وہ اس ہمیشگی کے درخت کو چھو لیں تو فرشتے بن جائیں گے۔ انہیں کبھی نہ پرانی ہونے والی بادشاہت ملے گی۔ سو انہوں نے درخت کو چکھ لیا۔ حد پار کر لی . . . تو ان کو فوراً بے لباس کر دیا گیا۔ اس پہلی رسوائی میں وہ سب سے پہلی شے جس سے انسان نے خود کو ڈھکا تھا، وہ جنت کے پتے تھے، ورق الجنتہ۔"

"آپ جانتی ہیں، ابلیس نے انسان کو کس شے کی ترغیب دلا کر اللہ کی حد پار کروائی تھی؟ فرشتہ بننے کی اور ہمیشہ رہنے کی۔ جانتی ہیں حیا! فرشتے کیسے ہوتے ہیں؟"

اس نے نفی میں گردن ہلائی ، گو کہ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتا۔

"فرشتے خوب صورت ہوتے ہیں۔" وہ لمحے بھر کو رُکا۔ "اور ہمیشہ کی بادشاہت کسے ملتی ہے؟ کون ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے؟ وہ جسے لوگ بھول نہ سکیں، جو انہیں مسحور کر دے، ان کے دلوں پہ قبضہ کر لے۔ خوب صورتی اور امر ہونے کی چاہ، یہ دونوں چیزیں انسان کو دھوکے میں ڈال کر ممنوعہ حد پار کراتی ہیں اور پھل کھانے کا وقت نہیں ملتا۔ انسان چکھتے ہی بھری دنیا میں رسوا ہو جاتا ہے۔ اس وقت اگر وہ خود کو ڈھکے تو اسے ڈھکنے والے جنت کے پتے ہوتے ہیں۔ لوگ اسے کپڑے کا ٹکڑا کہیں یا کچھ اور، میرے نزدیک یہ ورق الجنتہ ہیں۔"

(نمره احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)