اشاعتیں

2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

آج کی بات- 29 دسمبر 2013

تصویر
خوش رہا کرو -
پریشان رہنے والوں کو کبھی کچھ نہیں ملا -
اگر ملا بھی تو وہ اس سے لطف اندوز کبھی نہیں ہو سکے !

قائد سا رہبر--- ذاتی کاوش

تصویر
ہمیں اب پھر ضرورت ہے کسی قائد سے رہبر کی جو اس ٹوٹی بکھرتی قوم کو پھر ایک جاں کردے کہ اس کی رہبری میں پھر چلے یہ کارواں اپنا اور اپنے دیس کو اک بار پھر سے ہم کریں تعمیر بھلا کے دل سے ہر نفرت نہ قوموں میں بٹیں ہم یوں بس اک قوم بن کر پھر سے اس دنیا پہ چھا جائیں ہمیں اب پھر ضرورت ہے کسی قائد سے رہبر کی ہماری ڈوبتی کشتی کو لہروں سے نکالے جو ہمیں یکجا کرے اور کشتی کو سنبھالے جو
سیما آفتاب

سمت کی اہمیت

تصویر
ایک گاڑی خراب ہو گئی۔۔۔ ڈرائیور نے سوار لوگوں سے کہا کہ دھکا لگاؤ ۔۔۔ سوار اترے اور گاڑی کو اپنی اپنی سوچ کے مطابق دھکا لگانے لگے۔۔۔کچھ نے سائیڈ پر دھکا لگانا شروع کر دیا ۔۔۔ پھر ہوا یوں کہ گاڑی الٹ گئی ۔۔۔

ایک اور گاڑی خراب ہوئی ۔۔ ڈرائیور نے سواریوں کو دھکا لگانے کا کہا ۔۔۔ اس بار ڈرائیور نے انہیں کہا کہ دھکا اگلی سمت میں لگانا ہے تاکہ گاڑی سائیڈ پر لگا کر انجن چیک کر سکوں۔۔ اس بار بھی دھکا لگا یا گیا لیکن گاڑی الٹی نہیں بلکہ آگے بڑھی ۔۔۔
جب تک دھکا لگانے والوں کو سمت کا بتایا نہیں گیا تھا ، ان کی محنت نتیجہ تو لائی لیکن انتہائی تکلیف دہ ۔۔۔ لیکن جب وہی محنت درست سمت میں ، ایک ساتھ ہوئی تو نتیجہ بھی آیا ۔۔۔ گاڑی بھی چلی اور سڑک کی سائیڈ پر گاڑی لاتے ہوئے ، خطرات سے محفوظ کرتے ہوئے۔۔ ڈرائیور کو موقع ملا کہ گاڑی کو درپیش مسئلہ سلجھا سکے۔۔۔

کہتے ہیں سو میل بھی جانا ہو ۔۔۔یا دس قدم چلنے ہوں ، پہلا قدم ہی کامیابی کی ضمانت بنتا ہے بشرطیہ کہ ٹھیک سمت میں اٹھا یا جائے۔۔۔ اب اگر اس مثال سے، ڈائیرکشن کا پہلو نکال دیں تو دس قدم بھی بے معنی اور تکلیف دہ اور سو میل بھی بےمعنی اور تکلیف دہ بن جات…

پھر ماہ دسمبر آیا ہے-

تصویر
پھر ماہ دسمبر آیا ہے سنگ اپنے بہت کچھ لایا ہے کچھ اوڑھ کے رنگ اداسی کے کچھ درد بھرے پچھتاوے ہیں کچھ ٹوٹے بکھرے وعدے ہیں کچھ دل میں خوشی کی پیاس لیے کچھ امیدیں، کچھ آس لیے اس ماہ دسمبر میں یارو چلو آو سبھی پیمان کریں کہ دل سے بھلا کر ہر رنجش آپس میں دل ہم جوڑیں گے ناکامی سے منہ موڑ کے ہم پھر ہمت اپنی جوڑیں گے دامن کو چھڑا کر ہر غم سے خوشیوں سے رشتہ جوڑیں گے سب بھول کے اپنے سود و زیاں نئے سال کا کھاتہ کھولیں گے
سیما آفتاب 27-12-2011 پھر ماہ دسمبر آیا ہے
سنگ اپنے بہت کچھ لایا ہے
کچھ اوڑھ کے رنگ اداسی کے
کچھ درد بھرے پچھتاوے ہیں
کچھ ٹوٹے بکھرے وعدے ہیں
کچھ دل میں خوشی کی پیاس لیے
کچھ امیدیں، کچھ آس لیے
اس ماہ دسمبر میں یارو چلو آو سبھی پیمان کریں
کہ دل سے بھلا کر ہر رنجش
آپس میں دل ہم جوڑیں گے
ناکامی سے منہ موڑ کے ہم
پھر ہمت اپنی جوڑیں گے
دامن کو چھڑا کر ہر غم سے
خوشیوں سے رشتہ جوڑیں گے
سب بھول کے اپنے سود و زیاں
نئے سال کا کھاتہ کھولیں گے

سیما آفتاب
27-12-2011

احساس - ایک شعری کوشش

تصویر
نادان دل کو کون یہ سمجھائے گا بھلا احساس نہ ہو جس کو، تو پھر انتظار کیوں
(سیما آفتاب) 14 July 2012

بنجارہ نامہ

تصویر
بنجارہ نامہ - نظیر اکبر آبادی

ٹک حرص و ہوس کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا
قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارہ
کیا بدھیا، بھینسا بیل شتر، کیا گونیں پلّا، سر بھارا
کیا گیہوں چاول موٹھ مٹر، کیا آگ دھواں اور انگارہ
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

گر تو ہے لکھی بنجارہ اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے
اے غافل تجھ سے بھی چڑھتا اک اور بڑا بیوپاری ہے
کیا شکر مصری قند گری، کیا سانبھر میٹھا کھاری ہے
کیا ڈھاک منقہ سونٹھ مرچ، کیا کیسر لونگ سپاری ہے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

یہ بدھیا لادے بیل بھرے جب پورب پچھم جاوے گا
یہ سود بڑھا کے لاوے گا یا ٹوٹا گھاٹا پاوے گا
قزاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گا
دھن دولت ناتی پوتا کیا کچھ کنبہ کام نہ آوے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

ہر منزل میں اب ساتھ ترے، یہ جانا ڈیرہ، ڈانڈا ہے
زر، دام، درم کا بھانڈا ہے، بندوق، سپر اور کھانڈا ہے
جب نائیک تن کا نکل گیا، جو ملکوں ملکوں بانڈا ہے
پھر ہانڈا ہے نا بھانڈا ہے، نہ حلوا ہے نہ مانڈا ہے
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

جب چلتے چلتے رستےمیں یہ جون تیری ڈھل …

تفہیم القرآن

تصویر
"قرآن کے متعلق یہ بات بھی ایک عام ناظر کے کان میں پڑی ہوئی ہوتی ہے کہ یہ ایک مفصل ہدایت نامہ اور ایک کتاب آئین ہے۔ مگر جب وہ اسے پڑھتا ہے تو اس میں معاشرت اور تمدن اور سیاست اور معیشت وغیرہ کے تفصیلی احکام و ضوابط اس کو نہیں ملتے۔ بلکہ وہ دیکھتا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ جیسے فرائض کے متعلق بھی، جن پر قرآن بار بار اس قدر زور دیتا ہے، اس نے کوئی ایسا ضابطہ تجویز نہیں کیا ہے جس میں تمام ضروری احکام کی تفصیل درج ہو۔ یہ چیز بھی آدمی کے ذہن میں خلجان پیدا کرتی ہے کہ آخر یہ کس معنی میں ہدایت نامہ ہے۔
اس معاملے میں ساری اُلجھن صرف اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ آدمی کی نگاہ سے حقیقت کا ایک پہلو بالکل اوجھل رہ جاتا ہے، یعنی یہ کہ خدا نے صرف کتا ب ہی نازل نہیں کی تھی بلکہ ایک پیغمبر بھی مبعوث فرمایا تھا۔ اگر اصل ا سکیم یہ ہو کہ بس ایک نقشہ تعمیر لوگوں کو دے دیا جائے اور لوگ اس کے مطابق خود عمارت بنا لیں، تو اس صورت میں بلا شبہ تعمیر کے ایک ایک جز کی تفصیل ہم کو ملنی چاہیے۔ لیکن جب تعمیری ہدایت کے ساتھ ایک انجینیر بھی سرکاری طور پر مقرر کر دیا جائے اور وہ ان ہدایت کے مطابق ایک عمارت بنا کر کھڑی کر دے، ت…

آج کی بات- 14 دسمبر 2013

تصویر
سچ تو یہ ہے کہ آج ہر اس راستے کی طرف بلایا جا رہا ہے، سوائے اس کے جس کی طرف رب نے بلایا

پنسل اور ہم

تصویر
پنسل اور ہم :  لكهارى نامعلوم

ایک ماہر پنسل ساز نے ایک بہت خوبصورت پنسل بنائی،
پنسل کو پیک کرنے سے پہلے اس نے اپنی خوبصورت تخلیق کو ستائش بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا!!!
میں نے اپنے کمالِ فن کی انتہا کرتے ہوئے تجھے ایک بے مثال شکل و صورت دی ہے لیکن تم اس سے بھی خوبصورت بن سکتی ہو اگر تم میری پانچ باتیں غور سے سُن لو۔
ان باتوں پر عمل کرکے تم دنیا کی بہترین پنسل بن سکتی ہو۔
پہلی بات!
تم بہت عمدہ اور عظیم کارنامے سر انجام دے سکتی ہو، بشرطیکہ تم خود کو کسی ماہر اور کامل ہاتھ کے حوالے کر دو۔
دوسری بات!
تمہیں بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گذرنا پڑے گا۔
لیکن ایک بہترین اور کارآمد پنسل بننے کے لئے اس اذیت کو حوصلے سے برداشت کرنا تمہارے لئے ضروری ہو گا۔

تیسری بات!
تم اُن غلطیوں کو درست کرنے کی اہل ہو جو تم سے سرزد ہو سکتی ہیں۔
درستی کرنے سے کبھی بھی ہچکچانا مت۔
چوتھی بات!
تمہارا سب سے اہم حصہ میں نے تمہارے اندر رکھا ہے۔  اس کی نگہداشت کرنا۔
پانچویں بات!
تمہاری لکھنے کی صلاحیت تمہارے آخری سرے تک ہے۔
حالات خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہوں، تمہیں آخر دم تک لکھنا جاری رکھنا ہے، اور جس سطح پر بھی ت…

ایسے ہی ہوتے ہیں

تصویر
جب عورت اپنے مرد کی کوئى خراب عادت یا کوئى اخلاقی رخنہ دور کرنے میں ناکام رهتی هے تو کہتی هے
"مرد ایسے هی هوتے هیں"-
ماں کا جب بچے کی شرارت یا بدتمیزی پہ بس نہیں چلتا تو ماں کہتی هے
"بچے اسی طرح کرتے هیں"-
مرد جب عورت کی بدزبانی ،بداخلاقی یا بری عادات کے آگے هار جاتا هے تو کہتا هے
"عورتیں ایسی هی هوتی هیں"-

يہ اعلان کر کے پتا نہیں وه خود کو بری الذمہ باور کروا رهے هوتے هیں یا اپنی شرمندگی اور ناکامی چھپا رهے هوتے هیں یا پھر اپنے بجائے معاشرے کو اس بگاڑ کا ذمہ دار ثابت کرنے کی کوشش کر رهے هوتے هیں-
کچھ بھی هو، یہ بات تو طے هے کہ اس بودے بہانے سے آپ کو اپنے اندر کا اطمینان حاصل نہیں هو سکتا-
کیونکہ اگر مان بھی لیا جائے کہ يہ سب ایسے هی هوتے هیں، تو اگلا سوال یہ اٹھتا هے کہ
کیا ایسے هی هونے چاهئیں؟
کیا ایسے هونا ٹھیک هے؟
اگر نہیں، تو پھر ایسے کیوں هیں؟
یہ سارے سوال همیں دھکیل کر پھر واپس پہلے سرے پر لا کھڑا کرتے هیں-

چنانچہ اطمینان غلطی مان لینے میں اور اس کو سدھارنے کی هر ممکن کوشش کرتے رهنے میں هى هے-

اور جب آپ نے غلطی تسلیم کرلی اور اس كو درست کرنے کا بیڑ…

ہمیں وہ آزماتا ہے

تصویر
ہمیں وہ آزماتا ہے
تو اُس کے آزمانے کے
عجب اوزان ہیں، جن کو
نہ ہم سمجھے
نہ تم سمجھے
نہ کوئی اور سمجھا ہے
زمین و آسماں میں کس قدر مخلوق ہے اُس کی
کسی کو بھی نہیں، وہ صرف ہم کو آزماتا ہے
ہماری زندگی کے ارتقاء کے بِیج بننے سے ہمارے پیڑ بننے تک
ہمیں وہ آزماتا ہے
کسی کو سات دیتا ہے
کسی کو سات سے زیادہ
کسی کو ایک دیتا ہے
کسی کو ایک سے بھی کم
وہ بس یہ دیکھتا ہے کہ
کوئی جب ٹُوٹتا ہے تو
وہ اپنے ظرف کی کِن وسعتوں پہ جا کے کتنا صبر کرتا ہے
ہمیں وہ آزماتا ہے
ہمیں وہ آزماتا ہے
شاعر: نامعلوم

آج کی بات 12 دسمبر 2013

تصویر
ہم میں سے اکثر کے نزدیک زندگی وە ہے جو ہم خود بسر نہیں کرتے۔

لالچ کا نشہ

تصویر
ایک بادشاہ نے کسی بات پر خوش ہو کر اس آدمی کو یہ اختیار دیا کہ وہ سورج غروب ھونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لے گا، وہ زمین اس کو الاٹ کر دی جائے گی۔ اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کر سکا اور سورج غروب ھو گیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔

یہ سن کر وہ شخص چل پڑا ۔ چلتے چلتے ظہر ھو گئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کر دینا چاھئے ،مگر پھر لالچ نے غلبہ پا لیا اور سوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں،، پھر واپسی کا خیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نے سوچا اس کو بھی اپنی جاگیر میں شامل کر لینا چاھئے۔

الغرض واپسی کا سفر کافی دیر سے شروع کیا ۔ اب واپسی میں یوں لگتا تھا جیسے سورج نے اس کے ساتھ مسابقت شروع کر دی ھے۔ وہ جتنا تیز چلتا پتہ چلتا سورج بھی اُتنا جلدی ڈھل رھا ھے۔ عصر کے بعد تو سورج ڈھلنے کی بجائے لگتا تھا پِگلنا شروع ھو گیا ھے۔

وہ شخص دوڑنا شروع ھو گیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا نطر آ رھا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کو کوس رہا تھا، مگر بہت دیر ھو چکی تھی۔ دوڑتے دوڑتے اس کا سینہ درد سے پھٹا جا رھا تھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رھا تھا -

آخر سورج غروب ہوا تو و…

آج کی تاریخ (11-12-13 )

تصویر
اس صدی کی آخری تاریخ جس میں 3 مسلسل عدد ہیں 
آخری تاریخ جو اگلے نوۤے برس تک نہیں آئے گی جس میں 3 مسلسل عدد ہوں
قیمتی تاریغ جو آپکی ذنگی میں کبھی دوبارہ نہیں آئے گی 
11-12-13 مبارک ہو

کھلونے

تصویر
بچہ اپنے کھیل میں جیسی سنجیدگی اور ہمہ تن محویت اور خود فراموشی دکھاتا ہے، بڑوں کے کسی مشن اور مہم میں اس کا عشر عشیر بھی نظر نہیں آتا۔ اس میں شک نہیں کہ دنیا کا بڑے سے بڑا فلسفی بھی کسی کھیل میں منہمک بچے سے زیادہ سنجیدہ نہیں ہوسکتا۔
کھلونا ٹوٹنے پر بچے نے روتے روتے اچانک روشنی کی طرف دیکھا تھا تو آنسو میں دھنک جھلمل جھلمل کرنے لگی تھی۔ پھر وہ سسکیاں لیتے لیتے سو گیا تھا۔ وہی کھلونا بڑھاپے میں کسی جادو کے زور سے اس کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے تو وہ بھونچکا رہ جاۓ گا کہ اس کے ٹوٹنے پر بھی بھلا کوئی اس طرح جی جان سے روتا ہے۔ یہی حال ان کھلونوں کا ہوتا ہے، جن سے آدمی زندگی بھر کھیلتا رہتا ہے۔ ہاں، عمر کے ساتھ ساتھ یہ بھی بدلتے اور بڑے ہوتے رہتے ہیں.....

~ مشتاق احمد یوسفی ~

درسِ فنا

تصویر
بجھتا ہوا دیا یہ سزا دے گیا مجھے
میں شعلہ جنون تھا ، ہوا دے گیا مجھے

میں لہلہاتی شاخ کو سمجھا تھا زندگی
پَتّا گرا تو درس فنا دے گیا مجھے

سورج کی چند جاگتی کرنوں کا قافلہ
خوابیدہ منزلوں کا پتہ دے گیا مجھے

خوشبو کا ایک نرم سا جھونکا بہار میں
گزرے ہوئے دنوں کی صدا دے گیا مجھے

میرے لیے تو سانس بھی لینا محال ہے
یہ کون زندگی کی دعا دے گیا مجھے

میں خاموشی کا پیکر بے رنگ تھا " سحر "
اک شخص بولنے کی ادا دے گیا مجھے

اللہ کے دوست

تصویر
جب عشق حقیقی کا ادراک ھو جاتا یے توخود بخود سب کچھ بدل جاتا ہے ۔ روز و شب کے معمولات پر واضح فرق نظر آتا ہے بلکہ سب سے خوبصورت تبدیلی انسان کے اندر آتی ہے۔ اور چونکہ اندر کی تبدیلی ہی باہر کی تبدیلی پر حاوی ہو جاتی ہے اسی لئے قلب و نظر ، ذہن و عقل ، روح کی طلب یکسر بدل جاتی ہے۔ من بے پرواہ ہوجاتا ہے بالکل اسی آیت کی طرح ، جس کا ترجمہ ہے۔۔

" نہیں کوئی خوف و پرواہ اﷲکے دوستوں کو"

مالے افریقہ کی ۸ سو سالہ قدیم مٹی کی مسجد

تصویر
بسم اللہ الرحمن الرحیم افریقی ملک مالے کا قدیم قصبہ ڈجنی یہ منفرد اعزاز رکھتا ہے کہ یہاں دنیا کی سب سے بڑی مٹی کی عمارت موجود ہے جو ایک ۸ سو سالہ قدیم مسجد ہے۔ یہ قصبہ دریائے نیجر کے ڈیلٹا میں واقع ہے ۔




اس قدیم مسجد کو برسات کی وجہ سے ہر سال مٹی کے تازہ لیپ کی ضرورت ہوتی ہے ، اور اس نیک کام میں ڈجنی کے تمام افراد رضاکارانہ حصہ لیتے ہیں ۔ ایک مقامی رہنما کے مطابق یہاں کے باشندے اسلام سے بہت محبت رکھتے ہیں ۔ جونہی اعلان ہوتا ہے کہ قریبی دریا میں موجود چکنی مٹی اب اس قابل ہے کہ اس سے مسجد کی لیپائی کی جا سکے ، بڑوں سے لے کر بچوں تک علاقے کے تمام لوگ مل کر رضاکارانہ طور پر مختلف ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں اور مسجد کی خدمت کا یہ موقع کسی عوامی میلے کا منظر بن جاتا ہے۔



اس قدیم مسجد اور اس کی خدمت کی منفرد روایت نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ سمیت ماہرین تعمیر اور تہذیب و ثقافت کی توجہ حاصل کی ہے ۔ اس قدیم مسجد کی اہمیت کے پیش نظر اس کا ریپلکا فرانس میں مصری مسجد کے طور پر اور کوریا میں واقع افریقی آرٹ میوزیم میں بھی بنایا گیا ہے ۔

 (فرانس میں مصری مسج…

جس دور میں جینا مشکل ہو۔۔

تصویر
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کی خونیں منظر سے
جس دور میں جینا مشکل ہو اس دورمیں جینا لازم ہے

فہم القرآن

تصویر
قرآن کا فہم ــــ آسان یا مشکل


اللہ تعالیٰ نے سورہ قمر کی آیت ٣٢ میں قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ 'وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ' (ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیاہے اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا)۔ جب یہ قرآن آسان ہے تو پھر وہ کیا مشکلات ہیں جن کو حل کرتے ہوئے مفسرین اور قرآن کے ماہرین نے ایک ایک سورہ پر ہزاروں صفحات لکھ دیے ہیں؟

قرآن مجید کے فہم کے دو پہلو ہیں۔

ایک پہلو نصیحت کا ہے۔ اس اعتبار سے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ دنیا کی آسان ترین کتاب ہے۔ اس کا اگر اچھا ترجمہ ہی پڑھا جائے تو جس بنیادی چیز کی یہ یاددہانی کرانا چاہتی ہے، اسے یہ ہر پہلو سے واضح کر دیتی ہے۔ وہ بنیادی چیز یہ ہے کہ خدا ایک ہے، وہی عبادت کے لائق ہے اور انسانوں کو ایک دن اس کے حضور میں پیش ہونا ہے۔ آپ قرآن کو جہاں سے کھولیے، وہ یہ بات بیان کر رہا ہے۔

چنانچہ یہ بالکل بجا ہے کہ نصیحت اور یاددہانی حاصل کرنے کے لیے قرآن دنیا کی آسان ترین کتاب ہے۔ تاہم، اس ضمن میں واضح رہنا چاہیے کہ 'يسرنا' کا صحیح مفہوم ''آسان بنا دینا '' نہیں…

ذرا سوچئیے

تصویر
گلی میں کوڑا کرکٹ پڑا ہے تو حکومت صاف کرے سٹریٹ لائٹ خراب ہوگئی ہے تو حکومت ٹھیک کرے گٹر بند ہوگیا ہے تو حکومت کھلوائے ہم نے اپنی دکان کا سامان سڑک پر دور تک پھیلا کر یہ گلہ کرنا ہے کہ حکومت ناجائز تجاوزات ختم نہیں کرواتی رستے تنگ ہوگئے ہیں ہم نے سارا دن دفتر میں بیٹھ کر گپیں مارنی ہیں اور گلہ کرنا ہے کہ سرکاری دفاتر میں کام نہیں ہوتا اور حکومت سوئی ہوئی ہے ہم نے اپنی مرضی سے چیزوں کی قیمت بڑھا کر اور دو نمبر چیزیں بیج کر کہنا ہے کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے حکومت کچھ نہیں کر رہی ہم نے کوشش کرنی ہے کہ ہمیں اپنے کام کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے کچھ دے دلا کر ہمارا کام جلدی ہوجائے اور پھر گلہ کرنا ہے کہ یہاں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا ہم غلط جگہ پر رکشہ ، گاڑی یا وین کھڑی کرکے سڑک بند کردیتے ہیں اور چالان ہونے پر کہتے ہیں کہ یہ حکومت تو غریبوں کی دشمن بنی ہوئی ہے ۔ کیا ہمارا کوئی فرض نہیں ، کیا ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ، کیا یہ سب کچھ حکومت کے ذمہ ہے ۔ ہم چاہے کریں ، جیسے مرضی رہیں
افسوس کے ہم خود کچھ کرنے کو تیارنہیں اور برا حکومت کو کہتے ہیں

امید

تصویر
"اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمار اندر باہر خشک ہوتا ہے۔ اور ہمہیں ذندگی میں کوئ کشش کوئی رنگینی محسوس نہیں ہوتی۔۔۔باہر کا موسم اچھا بھی ہو تو ھمارے من کی ویرانی اور پیاس ہمیں بیرونی فضا سے محظوظ ہونے نہیں دیتی۔۔۔مگر۔۔۔۔پھر ایک وقت آتا جب ایک چھوٹی سی بات،ایک چھوٹی سی ُامید،ایک اچھوتا سا خوشی کا َننھا سا احساس ہمارے اندر جل تھل کر دیتا ہے۔۔۔اور ہمارا تن من سیراب ہو جاتا ہے، اور ھمارے اندر اُمید کی ایک بے ساختہ خوشی کی پھوار برسنے لگتی ہے۔۔۔۔اور اس ُپھوار میں بھیگ کر ہماری روح تک سرشار ھو جاتی ہے۔۔۔۔من کی یہ حسین اور دل فریب جل تھل دراصل اس بیرونی خوشی کی امید کا نتیجہ ھوتا ہے، جو نامحسوس طریقے سے ہمارے اندر ُسرایت کر جاتی ہے۔۔۔اور ہمارے اندر کی ساری کثافت دھو کر ہر طرف خوشی اور اُمید کا سبزہ کھلا دیتی ہے،اور ہم خود کو اتنا ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں جتنا باہر کی فضا بارش کے بعد اپنے آپ کو محسوس کرتی ہے۔"
-Wajeeha Sehar -

آج کی بات 28 نومبر 2013

تصویر
اگر صبر وہاں کیا جہاں عمل کرنا تھا تو یقین مانو یہ صبر نہیں کاہلی ہے ... خاموشی وہاں اختیار کی جہاں الفاظ کی ضرورت تھی تو یہ عقلمندی نہیں بزدلی ہے

از: ملک جہانگیر اقبال

گفتگو سے ڈرتے ہیں

تصویر
خواہشوں کی نمو سے ڈرتے ہیں
اور دلِ فتنہ خو سے ڈرتے ہیں
وہ ہمارے سکوت سے خائف
اور ہم گفتگو سے ڈرتے ہیں

آپ کا نہیں ہمارا سلطان

تصویر

اخلاص

تصویر
کبھی کبھی سوچتی ہوں یہ اخلاص بھی کیسی عجب دولت ہے. قرآن میں سوره اخلاص میں کیسے الله پاک نے اپنے محبوب
صلى الله عليه و آله و صحبه و سلم کو اپنے متعلق بیان کرنے کو فرمایا!

کہہ دیجیے وہ الله ایک ہے!

الله بےنیاز ہے!

الله خود خالص ہے اور الله کو اخلاص والے پسند ہیں! اخلاص والوں کی عبادت خالص، دنیا خالص، محبت خالص، اب لگتا ہے کے اخلاص میں عبادت، محبت، دنیا سب الگ کہاں سب ضم ہو جاتا ہے!

خیر .. یہ خالص لفظ جیسے ذھن میں ٹھہر سا جاتا. بہت عرصے پہلے یہ سوچتی تھی کے کاش ایسی دولت ہوتی، کسی دکان سے جا کر اخلاص خرید لاتی!.... پھر اپنی سوچ پر ہنسی آئ کے بھلا ایسی دکان کہا ہو گی؟ ایسا دکان دار کہاں؟ ایسی دولت کہاں سے لوں؟ اور جب اخلاص خرید لوں گی تو رکھوں گی کہاں؟

پھر کچھ وقت گزرا…… سنا کے ایک ایسا دکان دار ہے، سنا کے وہ دکان دار تو ہر دولت سے, مال سے بےنیاز ہے، وہ خود بہت غنی ہے. پھرایک اور احساس دلایا گیا کے اخلاص تو بدلے کا نام ہی نہیں! یہ کچھ دے کر کچھ لیا نہیں جاتا یہ تو سب نچھاور کر کے کسی بھی چیز کی توقع نہ رکھنے کا نام ہے.

اور پھر ایک اور سوال نے بڑی معصومیت سے سراٹھایا. سب دے کر؟

میری آدھی عمر گزر گئی

تصویر
یونہی بے یقیں یونہی بے نشاں میری آدھی عمر گزر گئی
کہیں ہو نہ جائوں میں رائیگاں، میری آدھی عمر گزر گئی


کبھی سائبان نہ تھا بہم، کبھی کہکشاں تھی قدم قدم
کبھی بے مکاں، کبھی لا مکاں، میری آدھی عمر گزر گئ


تیرے وصل کی جو نوید ہے، وہ قریب ہے یا بعید ہے؟
مجھے کچھ خبر تو ہو جان جاں، میری آدھی عمر گزر گئ


کبھی مجھ کو فکر معاش ہے، کبھی آپ اپنی تلاش ہے
کوئی گُر بتا میرے نکتہ داں، میری آدھی عمر گزر گئ


کوئی طعنہ زن میری ذات پر، کوئی خندہ زن کسی بات پر
پہءِ دل نوازی دوستاں، میری آدھی عمر گزر گئ


ابھی وقت کچھ میرے پاس ہے، یہ خبر نہیں ہے قیاس ہے
کوئی کر گلہ میرے بد گماں، میری آدھی عمر گزر گئ


اُسے پا لیا، اُسے کھو دیا، کبھی ہنس دیا، کبھی رودیا
بڑی مختصر ہے یہ داستاں، میری آدھی عمر گزر گئ


تیری ہر دلیل بہت بجا، مگر انتظار بھی تھا کُجا
میری بات سن میرے رازداں، میری آدھی عمر گزر گئ


کہاں کائنات میں گھر کروں، میں یہ جان لوں تو سفر کروں
اسی سوچ میں تھا نا گہاں، میری آدھی عمر گزر گئ

خدا کے کمالات

تصویر
کسی جادوگر کی چھڑی سے ایک پتھر کوئی آواز نکالے تو اس کو دیکھ کر سارے لوگ حیران رہ جائیں گے اور خدا بے شمار انسانوں کو مادہ سے بنا بنا کر کھڑا کر رھا ھے اور وہ نہایت بامعنی الفاظ میں کلام کر رھے ھیں مگر اس کو دیکھ کر کسی پہ حیرانی طاری نہیں ھوتی..

کیسے اندھے ھیں وہ لوگ جن کو جادوگر کے کرشمے دکھائی دیتے ھیں لیکن خدا کے کرشمے دکھائی نہیں دیتے..

کیسے بے عقل ھیں وہ لوگ جو جھوٹے کرشمے دکھانے والوں کے سامنے سراپا عقیدت مند بن جاتے ھیں مگر جو ھستی سچے کرشمے دکھا رھی ھے اس کے لئے ان کے اندر عقیدت و محبت کا جذبہ نہیں امنڈتا..

حقیقت یہ ھے کہ انسان اگر خدا کو پا لے تو وہ اس کے کمالات میں گم ھو جائے ' خدا کے سوا کسی دوسری چیز کا اسکو ھوش نہ رھے..!!

جو رَد ہوئے تھے

تصویر
گزشتہ عہد گزرنے میں ہی نہیں آتا یہ حادثہ بھی لکھو معجزوں کے خانے میں جو رَد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں
جون ایلیا

دل چسپ حقیقت

تصویر
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺩﮬﭽﮑﺎ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﯾﺎ ﺑﯿﺲ ﻣﻨﭧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻭﻭﺭ
ﺗﮭﻨﮑﻨﮓ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔

مسبب الاسباب

تصویر
اس کا نام ڈاکٹر احمد تھا اور وہ سعودی عرب کا معروف طبیب تھا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرتے۔ اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔دارالحکومت میں ایک انٹر نیشنل میڈیکل کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ اس کی خدمات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ وہ اس کانفرنس میں نہ صرف کلیدی مقالہ پڑھے گا بلکہ اس موقع پر اسے اعزازی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے۔ڈاکٹر احمداپنے گھر سے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔

وہ بڑا خوش اور پُرسکون تھا۔ آج شام اس کی تکریم اور عزت کی جانے والی تھی۔ اس کا سوچ کر وہ اور بھی زیادہ آسودہ ہوگیا۔ ائیر پورٹ پر وہ معمول کی چیکنگ کے بعد فوراً ہی ہوائی جہاز میں سوار ہوگیا۔ اس کی فلائٹ وقت کے مطابق پرواز کر گئی۔ کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا ہم معذرت خواہ ہیں کہ طیارے میں فنی خرابی کے باعث ہم قریبی ائیر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

فلائٹ بغیر کسی رکاوٹ اور حادثے کے قریبی ائیر پورٹ پر اتر گئی۔ مسافر جہاز سے اتر کر لاؤنج میں چلے گئے۔ ڈاکٹر احمد بھی دیگر مسافروں کے ساتھ طیارے کی فنی خرابی کے در…

آج کی بات 24 نومبر 2013

تصویر
کہتے ہیں تنہائی آس پاس لوگوں کی غیر موجودگی کا نام نہیں، ہمارے آس پاس موجود انسانوں میں ہماری غیر دلچسپی ہمیں تنہا کرتی ہے۔

ذندگی اور فیس بک

تصویر
آج کل کی زندگی بھی فیس بک کی طرح ھے، لوگ آپ کے مسائل اور پریشانیاں لائیک کریں گے، انھیں حل کرنے کی فرصت شاید کسی کے پاس بھی نہیں، کیونکہ سب اپنے اپنے مسائل ""آپ ڈیٹ "" کرنے میں مصروف ھیں۔

وقت

تصویر
وقت کے سمجھانے کا طریقہ سخت اور کرب ناک ہوتا ہے،  مگر یہ بھی سچ ہے کہ وقت کی سمجھائی بات حتمی ہوتی ہے  اور ساری زندگی کے لیے سمجھ آ جاتی ہے۔

آپ اور تم

تصویر

آج کی بات 20 نومبر 2013

تصویر
بات کے اندر کی بات کو سمجھنے کے لۓ ذات کے اندر چھپی ذات سے رابطه هونا ضروری هے۔

نادان چوہا

تصویر
کسی جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا۔ ایک دن وہ بھیڑیا ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا۔ بہت زور لگایا مگر جال سے نکل نہ پایا، بلکہ مذید اُلجھ گیا۔ اِسی تگ و دو میں جال کی ڈوریاں اُس کے جسم میں گڑ گئیں اور جسم سےخون رسنے لگا۔ اتنے میں قریب سے ایک چوہے کا گزر ہوا۔ بھیڑیا اُسے دیکھتے ہی انتہائی لجاجت سےبولا: بھائی چوہے!میری مدد کرو میں اس جال میں بری طرح پھنس گیا ہوں، تم مہربانی کرو اور اپنے تیز دانتوں سے اس جال کو کاٹ دو تا کہ میں آزاد ہو جاؤں۔ چوہا بولا : نہ بابا نہ! اگرمیں نے تمہیں آزاد ی دلا دی تو تم سب سے پہلے مجھے ہی ہڑپ کر جاؤ گے۔ بھیڑیا بولا: تم ٹھیک کہتے ہو ۔ میری فطرت کچھ ایسی ہی ہے مگر تمہارے اس احسان کے بدلے میں وعدہ کرتا ہوں کہ نہ صرف میں اپنے آپ پر قابو رکھوں بلکہ جب تمہیں کسی اور درندے نے تنگ کیا تو میں تمہاری مدد کر وں گا۔ قصہ مختصر کافی دیر تک منت سماجت کرنے کے بعد بھیڑیے نے چوہے کو راضی کر ہی لیا اور یوں چوہے نے اس جال کو اپنے تیز دانتوں سے کتر ڈالا۔

بھیڑیے نے آزاد ہوتے ہی چوہے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج سے تم میرے ساتھ رہو گے اور مجال ہے…

حقیقت

تصویر
ﺍُﺱ ﻧﮯ "ﮐُﻦ" ﮐﮩﺎ
ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﮐُﭽﮫ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ۔ ۔
ﻭﮦ "ﮐُﻦ" ﮐﮩﮯ ﮔﺎ
ﺍﻭﺭ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ ۔ ۔
ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﮯ
ﮔﺎ۔ ۔ ۔
ﮨﻢ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ
ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔ ۔ ۔
ﯾﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ۔ ۔ ۔
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ۔

آج کی بات 05 نومبر 2013

تصویر
اہمیت الفاظ کی ہوتی ہے لیکن اثر ہمیشہ لہجے کا ہوتا ہے- اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے لہجے کو نرم رکھیں جس سے دوسروں پر ہماری شخصیت کا اچھا تاثر پڑے-

عبادت

تصویر
زمانہ نے عجب پلٹا کھایا ہے ، پچھلے لوگ عبادت چھپ کر اس لیے کرتے تھے کہ کہیں شہرت نہ ہو جائے - اور اب اس لیے چھپا کر کرتے ہیں کہیں لوگ مذاق نہ اڑائیں

تو سوچو کتنے فساد ھوتے

تصویر
کسی کے دل میں کیا چھپا ھے
یہ بس خدا ھی تو جانتا ھے
اگر جو دل بے نقاب ھوتے
تو سوچو کتنے فساد ھوتے

جنت کے پتے

تصویر
"آپ جنت کے پتے کسے کہتے ہیں؟"

احمد نے گہری سانس لی اور کہنے لگا۔

"آپ جانتی ہیں، جب آدم علیہ السلام اور حوا جنت میں رہا کرتے تھے، اس جنت میں، جہاں نہ بھوک تھی، نہ پیاس، نہ دھوپ اور نہ ہی برہنگی۔ تب اللہ نے انہیں ایک ترغیب دلاتے درخت کے قریب جانے سے روکا تھا، تاکہ وہ دونوں مصیبت میں نہ پڑ جائیں۔"

وہ سانس لینے کو رُکا۔

"اس وقت شیطان نے ان دونوں کو ترغیب دلائی کہ اگر وہ اس ہمیشگی کے درخت کو چھو لیں تو فرشتے بن جائیں گے۔ انہیں کبھی نہ پرانی ہونے والی بادشاہت ملے گی۔ سو انہوں نے درخت کو چکھ لیا۔ حد پار کر لی . . . تو ان کو فوراً بے لباس کر دیا گیا۔ اس پہلی رسوائی میں وہ سب سے پہلی شے جس سے انسان نے خود کو ڈھکا تھا، وہ جنت کے پتے تھے، ورق الجنتہ۔"

"آپ جانتی ہیں، ابلیس نے انسان کو کس شے کی ترغیب دلا کر اللہ کی حد پار کروائی تھی؟ فرشتہ بننے کی اور ہمیشہ رہنے کی۔ جانتی ہیں حیا! فرشتے کیسے ہوتے ہیں؟"

اس نے نفی میں گردن ہلائی ، گو کہ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتا۔

"فرشتے خوب صورت ہوتے ہیں۔" وہ لمحے بھر کو رُکا۔ "اور ہمیشہ ک…