اخلاص


کبھی کبھی سوچتی ہوں یہ اخلاص بھی کیسی عجب دولت ہے. قرآن میں سوره اخلاص میں کیسے الله پاک نے اپنے محبوب
صلى الله عليه و آله و صحبه و سلم کو اپنے متعلق بیان کرنے کو فرمایا!

کہہ دیجیے وہ الله ایک ہے!

الله بےنیاز ہے!

الله خود خالص ہے اور الله کو اخلاص والے پسند ہیں! اخلاص والوں کی عبادت خالص، دنیا خالص، محبت خالص، اب لگتا ہے کے اخلاص میں عبادت، محبت، دنیا سب الگ کہاں سب ضم ہو جاتا ہے!

خیر .. یہ خالص لفظ جیسے ذھن میں ٹھہر سا جاتا. بہت عرصے پہلے یہ سوچتی تھی کے کاش ایسی دولت ہوتی، کسی دکان سے جا کر اخلاص خرید لاتی!.... پھر اپنی سوچ پر ہنسی آئ کے بھلا ایسی دکان کہا ہو گی؟ ایسا دکان دار کہاں؟ ایسی دولت کہاں سے لوں؟ اور جب اخلاص خرید لوں گی تو رکھوں گی کہاں؟

پھر کچھ وقت گزرا…… سنا کے ایک ایسا دکان دار ہے، سنا کے وہ دکان دار تو ہر دولت سے, مال سے بےنیاز ہے، وہ خود بہت غنی ہے. پھرایک اور احساس دلایا گیا کے اخلاص تو بدلے کا نام ہی نہیں! یہ کچھ دے کر کچھ لیا نہیں جاتا یہ تو سب نچھاور کر کے کسی بھی چیز کی توقع نہ رکھنے کا نام ہے.

اور پھر ایک اور سوال نے بڑی معصومیت سے سراٹھایا. سب دے کر؟

اندر سے آواز آئ. محترمہ .. آپکا تھا کیا؟

آپ کیا لائیں تھیں اپنے ساتھ؟

جو دے سکیں؟

سب اسی کا تو تھا!

تو اسکو دیا نہیں! اسکی امانت اس کے مانگنے پر لوٹا دی!

انا لللہ وانا الیہ راجعون اور الحمدللہ کہیے:)

پھر ایک اور احساس نے اپنے ہونے کا احساس اٹھایا. لگتا کوئی خواہش پوری نہ ہو سکنے کا غم، ہاں وہ غم تو میراہی ہوا ناں!

پھر کچھ وقت گزرا .. غم کو ہم نے خود کو ستانے دیا.. پھر ایک اور احساس عطا ہوا .. کے لو جی اگر کوئی خواہش پوری نہ ہو تو اس میں تو اس جان سے پیارے کی میرے ہی حق میں مصلحت ہے!

اس کا دینا بھی اسکی عطا .. اس کا نہ دینا بھی اسکی عطا الحمدللہ !!!

پھر احساس ہوا کے اخلاص تو الله کے ہو جانے، الله کے لئے ہو جانے کا نام ہے!

جہاں سے منسلک ہو ہر حال میں اسی دھاگے سے بندھ جانے، اسی ڈور سے بندھے رہنے، وفا نبھانے کا نام اخلاص ہے!

ویسے سچ بتاؤں؟ وہ دکان دارعجب ہے، دنیا کے دکانداروں سے بالکل الگ، بالکل مختلف! اس مہربان بےنیاز کے پاس تو کوئی خالی ہاتھ روتا سسکتا بلکتا جائے تو وہ اسے وہ نواز دیتا ہے جو اس بےبس فقیر کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا ماشا الله ! مزے کی بات یہ ہے کے دنیا کے دکاندار فقیروں سے جان چھڑاتے ہیں اور وہ سوہنا ایسا دکان دار ہے کے بہانے دے دے کر بلواتا ہے، عطا کے بہانے جو ڈھونڈتا ہے وہ اپنوں پر، اور وہ بہانے پھر کبھی کیسے ہی اذیت ناک سہی، اس رب ذُوالجلال والاکرم کی نگاہ لطف کے بعد تو ان بہانوں کا ان سرابوں کا بھی شکر کیا جاتا ہے الحمدللہ.

ارے پیاس سے حلق میں کانٹے نہ اگ آئیں تو بھلا میٹھے پانی کی لذّت کا احساس کیسے ممکن ہو؟

اب لگتا ہے سب عطا ہے، یہ کمائی نہہیں جاتی! ایسی تو خواہش بھی دل میں آ جانا ہی الحمدللہ سراسرعطیہ خداوندی ہے. الله عز و جل ہم سب کو توفیق دیں کے ہم الله کے لئے اخلاص کی خواہش رکھ سکیں، الله پاک اپنی پرخلوص محبت میں جینے مرنے اور مر کر جی اٹھنے کی توفیق دیں، الله پاک اپنی محبت کی چادر میں بہت محبت سے ڈھانپیں رکھیں، ہم سب سے راضی ہو جایں، ایک پل نہ چھوڑیں، دو جہاں میں محبت سے تھامیں رکھیں، بس اپنا بنا لیں بس اپنا بنا لیں الله ھمّ آمین!

مآخذ: https://www.facebook.com/urdu.duniya1/posts/503171286448254

2 تبصرے:

  1. ارے بی بی ۔ اللہ آپ کو خوش ۔ صحتمند اور خوشحال رکھے ۔ پڑی گہری باتین لکھ دی ہیں ۔ مگر آپ کس چکر میں پڑ گئی ہیں ۔ میں بارہ سال کی عمر میں اس جستجو میں داخل ہوا اور ایمان کی دکان ڈھونڈنا شروع کی ۔ پھر نا جانے کیا کیا ڈھونڈتے ڈھونڈتے احساس ہوا کہ عقل کی کمی کے باعث کچھ مل نہیں رہا تو پہلے عقل کی دکان تلاش کی جائے ۔ اس جستجو میں چھ دہائیاں گذر گئی ہیں لیکن ابھی تک دکان نہیں ملی البتہ ایمان ۔ اخلاص ، محبتیں حتٰی کہ بدن بغیر دکان بِکتے دیکھے اور بہت ارزاں بکتے دیکھے
    اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے ۔
    بی بی ۔ میری التجاء ہے کہ ہو سکے تو میرے لئے بھی دعا کر دیجئے گا ۔ کرنے والا تو اللہ ہے لیکن سیانے کہتے ہیں کہ دوسرے کیلئے دعا کی جائے تو اللہ جلدی سُنتا ہے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. السلام و علیکم ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح کوئی نہ کوئی کام کی بات ہوتی ہے اپ کے کمنٹ میں ۔۔ جزاک اللہ
      آپ نے بالکل ٹھیک کہا ایسا ہی ہے ۔۔ یہ اللہ کا رحم ہی تو ہے جس کی وجہ سےآپ اور آپ جیسے کچھ درد دل رکھنے والے انسان دوسروں کی رہنمائی کا فریضہ سنبھالے ہوئے ہیں پورے اخلاص کے ساتھ بغیر کسی صلے کی تمنا کے۔

      آن شا اللہ ضرور اور آپ سے بھی دعا کی التماس ہے ۔۔ جزاک اللہ

      حذف کریں