ﮐﻼﻡ ﮐﺮ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻆ ﮐﻮ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﮨﻮ
ﺗﯿﺮﺍ ﺳﮑﻮﺕ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻣﺤﺎﻝ ﮐﺮﮮ!!!

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Kalaam kar ke mere lafz ko sahoolat ho
Tera sukoot meri guftagoo mahaal karey


لفظ بار بار دہرائے جانے سے طلسم بن جاتے ہیں
لفظ بار بار دہرائے جانے سے سننے والا ہپناٹائز ہو جاتا ھے
لفظ بار بار دہرائے جانے سے ان کی مخفی قوتیں انگڑائ لےکر بیدار ہو جاتی ہیں، اور وہی کچھ ہونے لگتا ھے جو کہا جا رہا ہوتا ھے۔ لفظ صرف روشنائی کے چند نشان یا ہوا کی چند متحرک لہروں کا نام نہیں ، لفظ تو زندہ اور متحرک قوت کا نام ھے۔ اس کی بڑی تاثیر ھے، اس کا بڑا اختیار ھے، شاید اسی لئے ہمارے بڑے کہا کرتے تھے کہ جو کہو سوچ سمجھ کر کہو جب کرو خیر کی بات کرو ۔ پتہ نہیں کب زبان سے نکلنے والے لفظ سچ ثابت ہوجائیں۔

اشفاق احمد
اپنی روز مرہ کی زندگی میں سے جھوٹ کو ایسے نکا لو جیسے تم کائنات میں سے شیطان کو نکا ل رہے ہو ،اپ جھوٹ کو مکمل طور پر چھوڑ دو ..چھوٹے چھوٹے جھوٹ بھی چھوڑ دو تاکہ تمہاری زندگی میں سچ داخل ہو جائے،،اور جب سچ داخل ہو جائے گا تو زندگی خود بخود سچ میں ڈھلتی چلی جائے گی ..اگر حق بیان کرنا پڑے تو اپ کو صداقت کے بیان میں تذبذب نہ آئے.صد ا قت کا مطلب ہے جھوٹ کو برملا جھوٹ کہو اور سچ کو بر ملا سچ کہو اور نہ سمجھ انے والی بات کو برملا نہ سمجھنے والی بات کہو …..تذبذب میں نہ پڑنا ورنہ یہ تلوار کی دھار ثابت ہو گا اور آپ کو گرا دے گا ” اس طرح آپ کا سفر نہیں ہو گا

واصف علی واصف

مرد کا کام عورت کو سمجھنا نہیں ، اس کو محسوس کرنا ، اس کی حفاظت کرنا ، اس سے محبّت کرنا ہے -
عورت کو اگر اس بات کا علم ہو جائے کہ مرد اس کو سمجھنے لگا ہے ، یا اس کے جذبات کو جانچنے کا راز پا گیا ہے تو وہ فوراً تڑپ کر جان دے دی گی -

آپ عورت کیساتھ کتنی بھی عقل و دانش کی بات کریں ، کیسے بھی دلائل کیوں نہ دیں ،

اگر اس کی مرضی نہیں ہے تو وہ اس منطق کو کبھی نہیں سمجھے گی -

اس کے ذھن کے اندر اپنی منطق کا ایک ڈرائنگ روم ہوتا ہے ، جسے اس نے اپنی مرضی سے سجایا ہوتا ہے - اور وہ اسے روشن کرنے کے لیے باہر کی روشنی کی محتاج نہیں ہوتی -
اس لیے وہ کسی عقل ودانش اور دلائل کے معاملے میں مانگے کی روشنی پر ایمان نہیں رکھتی -
اس نے جو فیصلہ کر لیا ہوتا ہے وہی اس مسئلے کا واحد اور آخری حل ہوتا ہے
 -
از اشفاق احمد سفر در سفر صفحہ

’’ایک بات یاد رکھنا گناہ ہر صورت گناہ ہی رہتا ہے۔ اسے کسی بھی طرح نیکی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن تب گناہ کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، جب تاویلیں پیش کر کے اسے درست قدم قرار دینے کی کوشش کی جائے۔ انسان گناہ کرے اور اس پر شرمسار ہو تو ممکن ہے اللہ اسے معاف فرما دے لیکن گناہ گار خود کو حق پر سمجھے، یہ اللہ کو سخت ناپسند ہے۔۔‘‘

(بشریٰ سعید کے مکمل ناول ’’اماوس کا چاند‘‘ سے اقتباس)
خلوص اور جذبوں کو دل میں اترنے کے لئے لفظوں کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی. لیکن لفظوں کو دل میں اترنے کے لئے خلوص اور جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ لفظ سراسر کھوکھلے، اثر سے محروم ہوتے ہیں، دل کی مقناطیسی لہریں بہت گہری حساسیت رکھتی ہیں، انھیں جس شدّت سے بےرخی تکلیف دیتی ہے اسی شدّت سے خلوص زندہ کر دیتا ہے!!
گر ہو سکے تو کرو خود میں کشش پیدا
ہر کسی کو حسرت سے دیکھا نہیں کرتے

ہر شخص نہیں ہوتا ہر شخص کے قابل
ہر شخص کو اپنے لیے پرکھا نہیں کرتے

حصارِ عشق سے پنچھی نکلنا چاہتا ہے
حدودِ ارض و سما سے گزرنا چاہتا ہے

شمار ہوتا ہے گردوں میں شیشہء دل کا
جو ٹوٹتا ہے تو تاروں میں ڈھلنا چاہتا ہے

بھٹک کے راستہ جنگل سے جا ملا اکثر
یہ کون مجھ میں مجھی سے الجھنا چاہتا ہے

اتر رہا ہے سرِ شام سے ہی آنکھوں میں
ہے عکس میرا مگر تجھ میں ڈھلنا چاہتا ہے

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Hisaar-e-ishq se panchi nikalna chahta hai
Hudood-e-arz-o-samaa se guzarna chahta hai

Shumar hota hai gardoon main sheesha-e-dil ka
Jo tootta hai to taaron main dhalna chahta hai

Bhatak ke rasta jangal se ja mila aksar
Yeh kon mujh main mujhi se ulajhna chahta hai

Utar raha hai sar-e-shaam se hi aankhon main
Hai ask mera magar tujh main dhalna chahta hai
نظر کی بات ہے .. جو پریشانیوں میں آسانی اور آسانی میں پریشانی ڈھونڈتی ہے. ذرے میں کائنات دیکھتی ہے اور کائنات میں ذرہ کو بھی نہیں دیکھتی .. آدھے گلاس پانی میں کسی کو آدھا گلاس مکمل، کسی کو آدھا گلاس خالی نظر آتا ہے، بات یہاں کہاں ختم ہوتی ہے کسی کو اس میں سیرابی نظر آتی ہے تو کسی کو اس میں پیاس . . کوئی اس پر شکر کرتا ہے تو کوئی شکوہ .. سب نظر کی بات ہے نگاہ کی بات ہے ۔
" مولانا رومی نے اپنی شہرہٴ آفاق کتاب مثنوی میں نقل کیا ہے کہ:

" دنیا میں ایک انسان کے لئے مال ودولت اتنا ہی ضروری ہے جتنا کشتی کے لئے پانی، جس طرح کشتی پانی کے بغیر نہیں چل سکتی اسی طرح انسانی زندگی مال ودولت کے بغیر نہیں گزرسکتی ۔ "

آگے لکھتے ہیں:

" کشتی پانی پر اس وقت تک ہی چل سکتی ہے جب پانی کشتی کے نیچے اور کشتی پانی کے اوپر ہو، لیکن اگر پانی کشتی کے اندر آجائے تو ڈبو دیتا ہے، بالکل اسی طرح جب دنیا کی محبت قلبِ انسانی کے اندر آجاتی ہے تو اسے لے ڈوبتی ہے ۔"
"بعض دفعہ جو ہم دیکھتے ہیں‘ وہ ہو نہیں رہا ہوتا اور جو ہو رہا ہوتا ہے‘ وہ ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے۔"
"ایک چیز ہوتی ہے‘ نظر کا دھوکا‘ لوگ وہ نہیں ہوتے‘ جو وہ نظر آتے ہیں اور جو وہ ہوتے ہیں‘ اسے وہ چھپا کر رکھتے ہیں۔"
جب تک انسان دوسرے کی جگہ پہ کھڑا ہو کر نہیں دیکھتا‘ اس پوری بات سمجھ میں نہیں آتی۔

(اقتباس: نمرہ احمد کے ناول "جنّت کے پتے" سے)


"Saray Din Sab K Liye Achay Aur Sab K LIye Buray Nahi Houtay. Na He Allah Har Insaan Ko Har Kism Ki Tangi Deta Hai. Kuch Cheezon Main Tangi Hoti Hai Kuch Main Asaani. Insaan Pareshaniyon Ki Ginti Karnay Ka Maahir Hai. Naymton Ka Hisaab Kitaab Rekhna Usay Hamesha Bhool Jata Hai"
-Mirat ul Uroos
کہانی آزماتی ہے
کہانی نت نئے انداز رکھتی ہے
کھبی تو مسکراتی ہے کبھی یہ گنگناتی ہے
کبھی خود سہم جاتی ہے ، کبھی ہم کو ڈراتی ہے
ہنساتی ہے، رلاتی ہے ، مٹاتی ہے،بناتی ہے
کہانی بے کلی میں کام آتی ہے
کہانی سے مرا سنجوگ خاصا ہی پرانا ہے
کہانی خود زمانہ ہے

فاخرہ بتول

~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Kahani aazmati hai
Kahani nit naye andaz akhti hain
Kabhi to muskurati hain, kabhi yeh gungunati hai
Kabhi khud sehem jati hai, kabhi ham ko darati hain
Hansati hain, rulati hain, mitati hain, banati hain
Kahani be-kali main kaam aati hain
Kahani se mera sanjog khasa hi purana hai
Kahani khud zamana hai

Fakhira Batool

زندگی بھی گاڑی کی طرح ہوتی ہے،کبھی کبھی پریشانیوں کے کسی جھٹکے سے رُک سی جاتی ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ یہ کبھی چلے گی ہی نہیں،لیکن ایسا نہیں ہوتا۔کوئی بھی موسم چاہے وہ مایوسی یا قنوطیت کا ہی کیوں نہ ہو،اُسے بدلنا ہی ہوتا ہے۔یہ ہی فطرت کا قانون ہے۔۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔’’اور پتا ہے کہ غیر موافق حالات بھی اسپیڈ بریکر کی طرح ہوتے ہیں کبھی کبھی تو اچانک ہی سامنے آجاتے ہیں ،وقتی طور پر جھٹکا ضرور لگتا ہے لیکن کچھ ہی دیربعد زندگی کے سڑک بھی ہموار ہو کر رواں دواں ہو جاتی ہے۔۔

‘‘
(صائمہ اکرم کے ناول’’موسم گل حیراں ہے‘‘ سے ایک خوبصورت اقتباس)