Hisaar-e-Ishq

حصارِ عشق سے پنچھی نکلنا چاہتا ہے
حدودِ ارض و سما سے گزرنا چاہتا ہے

شمار ہوتا ہے گردوں میں شیشہء دل کا
جو ٹوٹتا ہے تو تاروں میں ڈھلنا چاہتا ہے

بھٹک کے راستہ جنگل سے جا ملا اکثر
یہ کون مجھ میں مجھی سے الجھنا چاہتا ہے

اتر رہا ہے سرِ شام سے ہی آنکھوں میں
ہے عکس میرا مگر تجھ میں ڈھلنا چاہتا ہے

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Hisaar-e-ishq se panchi nikalna chahta hai
Hudood-e-arz-o-samaa se guzarna chahta hai

Shumar hota hai gardoon main sheesha-e-dil ka
Jo tootta hai to taaron main dhalna chahta hai

Bhatak ke rasta jangal se ja mila aksar
Yeh kon mujh main mujhi se ulajhna chahta hai

Utar raha hai sar-e-shaam se hi aankhon main
Hai ask mera magar tujh main dhalna chahta hai

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

کہانی ہم سب کی

طاغوت کا انکار

آئینہ سوچ گر دکھانے لگے

آج کی بات ۔۔۔۔ 16 اکتوبر 2017

اللہ کا صفاتی نام "السلام" اور اس کے تقاضے

زمرہ جات

سوئے حرم رمضان امید غزلیں سورہ البقرہ دعا سفرِ حج ایمان، استقبال رمضان، خطبہ مسجد نبوی میرے الفاظ پاکستان شاعری میری شاعری محبت یاد حرم صراط مستقیم لبیک اللھم لبیک خلاصہ قرآن سفرنامہ شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی کچھ دل سے #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل دوستی سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، حکمت کی باتیں سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر آزادی باغبانی سورہ المؤمنون عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی ماں معلومات نمرہ احمد یوم دفاع آبِ حیات جنت جنت کے پتے خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 والد پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، سوشل میڈیا سوشل میڈیا، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا مسدس حالی مصحف موسیقی یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل