بدھ, اگست 30, 2017

آج کی بات ۔۔۔۔ 30 اگست 2017

~!~ آج کی بات ~!~

مجھے اپنے ملک کے لوگ مایوس اچھے نہیں لگتے ۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ مثبت بنیں۔ پر امید۔ اونچے خواب رکھنے والے ۔ وسیع سوچ رکھنے والے ۔ میں چاہتا ہوں لوگ شکر گزار بنیں۔ جو ہے اس کی قدر کریں۔ جو نہیں ہے ‘ اس کو زیادہ نہ سوچا کریں۔

نمرہ احمد کے نئے ناول "حالم" سے اقتباس

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر ۔۔۔ حصہ- 12

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر
حج کی داستان حج کی اصل روح کے تعارف کے ساتھ

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
حصہ-12

منیٰ کا خیمہ
خیمے میں اب بھی اکثر لوگ سورہے تھے۔ کچھ دیر بعد مجھے باتھ روم کی حاجت ہوئی لیکن باتھ رومز کا تو منظر ہی کچھ اور تھا۔ وہاں طویل لائینیں لگی ہوئی تھیں۔ بہرحال فراغت کے بعد واپس ہی آیا تھا کہ بارش شروع ہوگئی۔ یہ بارش قریب بارہ بجے تیز ہوئی اور عصر تک جاری رہی۔ خیموں میں پانی تو نہیں بھرا البتہ عورتوں کی سائیڈ پر پانی آگیا۔لوگ بارش کے نافع ہونے اور اس کے ضرر سے بچنے کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ بارش کافی طوفانی تھی اور جدہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ خدا خدا کرکے بارش رکی۔ اور سب نے اطمینان کا سانس لیا۔ بعد میں علم ہوا کہ اس بارش سے خاص طور جدہ میں بڑی تباہی ہوئی ہے اور ہزاروں لوگ اس سیلاب کی نظر ہوگئے۔

حج کا فرض اسلام سے قبل بھی ادا کیا جاتا تھا اور مشرکین مکہ منی میں قیام کے دوران شعرو شاعری کی محفلیں منعقد کرتے، اپنے آباو اجداد کے قصے بیان کرتے، جگت بازی کرتے، کہانیاں و قصے بیان کرتے اور دیگر باتوں میں اپنا وقت ضائع کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کے رویے پر تنقید کی اور مسلمانوں کو ان خرافات سے بچنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ ہدایت بھی کہ اللہ کا ذکر اپنے آبا و اجداد کے ذکر سے بڑھ کر کرو اور اللہ کی حمدو ثنا کرو۔

میں نے مشاہدہ کیا کہ مسلمانوں کی اکثریت اس حکم پر عمل کرنے سے قاصر تھی۔ کوئی فون پر باتوں میں مشغول تھا تو کوئی سیاست پر اپنے خیالات کا اظہار کررہا تھا۔ کسی کو اپنے بچے یاد آرہے تھے تو کوئی وقت پاس کرنے کے لئے اونگھ رہا تھا۔ کبھی کبھی لبیک کی صدائیں بلند ہوجاتی تھیں اور اس کے بعد پھر وہی دنیا۔ حالانکہ یہ وہ موقع تھا کہ لوگ اپنا احتساب کرتے، اپنے گناہوں کی لسٹ بنا کر ان پر توبہ کرتے، انہیں دور کرنے کی پلاننگ کرتے۔ اچھائیوں کو اپنانے کا عہد کرتے، نیکیوں میں سبقت لے جانی کی منصوبہ بندی کرتے ۔ سب سے بڑھ کر اللہ کو یاد کرتے، اس کی حمدو ثنا کرتے، اس کی بڑائی بیان کرتے، اس سے محبت کا اظہار کرتے ، اس کی رحمتوں کو گن کر شکر کرتے اور آئندہ ہر مشکل میں اس پر توکل کے ساتھ صبر کرنے کا عزم کرتے۔انہی اقدام کی بدولت وہ طاغوت کے خلاف جنگ میں اس حج کے موقع پرکامیاب ہوسکتے اور جنت کے حصول کی تمنا کرسکتے تھے۔ اس قسم کا ذوق لوگوں میں اسی وقت پیدا کیا جاسکتا تھا جب انہیں اس بارے میں تربیت فراہم کی گئی ہو ۔ لیکن ہمارے مذہبی حلقے میں عام طور پر ظاہری فقہ کی تو تعلیم دی جاتی ہے لیکن باطن کی صفائی کا اہتمام نہیں کیا جاتا اور لوگوں کو بغیر کسی تعلیم وتربیت کے یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔

عرفات میں پڑاؤ
۸ ذی الحج کا پورا دن بارش کی نظر ہوا اور مغر ب تک مطلع صاف ہوچکا تھا۔ اکثر لوگ منیٰ میں نمازیں اپنے اپنے وقت پر قصر کرکے پڑھتے ہیں۔ البتہ احناف نماز قصر نہیں کرتے بلکہ وہ پوری ہی نماز پڑھتے ہیں۔ منیٰ میں ایک عجیب خبر سنی۔ اسمٰعیل صاحب جنہیں اسپتال میں داخل کرادیا تھا ان کے بارے میں رافع نے بتایا کہ وہ اسپتال سے فرار ہوچکے ہیں تاکہ حج کے مناسک انجام دے سکیں۔ رافع نے مزید کہا کہ ان کا ہم سے ملنا خاصا مشکل ہے کیونکہ ان کے پاؤں چلنے کا قابل نہیں تھے۔

عشاء کی نماز کے بعد اگلی منزل عرفات کا میدان تھا۔ بس تقریباً بارہ بجے رات میں آئی اور ہم لوگ بس میں سوار ہوگئے۔ کچھ لوگ بس میں بیٹھنے سے رہ گئے اور دوسری بس کا انتظار کرنے لگے جبکہ کچھ نوجوان چھت پر بھی بیٹھ گئے۔ عرفات پہنچتے پہنچتے رات کے دو بج چکے تھے۔ وہاں کے خیموں پر قالین بچھی ہوئی تھی جو بارش کے باعث گیلی ہوگئی تھی۔ چار سو اندھیرے کا راج تھا۔ میں نمی سے بچنے کے ٖلئے چٹائی بچھا کر لیٹ گیا۔

نیند دوبار کچی پکی آرہی تھی۔میرے تخیل میں دوبارہ اسی تمثیلی جنگ کا نقشہ سامنے آنے لگا۔ابلیس کی افواج بھی اپنا پڑاؤ بدل کر عرفات پہنچ چکی تھیں۔ ان شریروں کا مقصد حاجیوں کو تزکیہ و تربیت حاصل نہ کرنے دینا اور مناسک حج کی ادائیگی میں خلل پیدا کرنا تھا۔ لیکن اس مرتبہ شیطانی کیمپ میں ایک اضطراب اور بےچینی تھی۔ رحمانی لشکراپنی پوزیشن لے چکا تھا۔ اور اب وہ ایسے میدان میں تھا جو خدا کی رحمتوں کامنبع تھا۔ آج کے دن خد انے بے شمار لوگوں کو جہنم سے آزادی کا پروانہ دینا تھا۔ آج فرشتوں کے نزول کا دن تھا۔ چنانچہ شیطان کو اپنی شکست سامنے نظر آرہی تھی لیکن وہ اپنی اسی ہٹ دھرمی پر اڑا ہوا تھا۔ اس کے چیلے گشت کررہے تھے اور اپنے شکار منتخب کررہے تھے۔ ان کا نشانہ زیادہ تر کمزور مسلمان تھے جو علم و عمل میں کمزور تھے۔یہ وہ مسلمان تھے جنہوں نے دین کا درست علم حاصل نہیں کیا تھا اور زیادہ تر نفس کے تقاضوں کے تحت ہی زندگی گذاری تھی۔ اس سے بڑھ یہ کہ یہ لوگ اس عظیم جہاد کی حقیقت سے بھی نابلد تھے۔

عرفات کی صبح
صبح میری آنکھ کھلی تو فجر پڑھی اور پھر سوگیا۔ پھر صبح کو گیارہ بجے آنکھ کھلی۔ دیکھا تو اسمٰعیل صاحب سامنے بیٹھے تھے۔ وہ اسپتال سے فرار ہوکر ہمارا کیمپ جوائین کرچکے تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے معجزوں پر ایک بار پھر یقین آگیا۔ اللہ نے انکے جذبے کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے پیروں کو چلنے کی طاقت بھی عطا کی اور عافیت کے ساتھ کیمپ بھی پہنچادیا۔

صبح اٹھ کر ہلکا پھلکا ناشہ کیا۔ اسی اثناء میں آفتاب کا فون آیا۔ وہ بھی حج کرنے اپنےساتھیوں کے ساتھ موجود تھا اور مجھے مسجد نمرہ بلا رہا تھا۔ میں نے انکار کردیا کیونکہ مسجد نمرہ میرے کیمپ سے خاصی دور تھی اور وہاں بھٹک جانے کا اندیشہ تھا۔

عرفات کا میدان کافی بڑا ہے اور اس میں لاکھوں حجاج کو سمولینے کی گنجائش ہے۔ اس میں ایک پہاڑی جبل رحمت ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری خطبہ دیا تھا۔ یہاں ایک مشہور مسجد۔۔ مسجد نمرہ موجود ہے جہاں اما م حج کا خطبہ دیتا ہے۔ یہ امام امت مسلمہ کا لیڈر یا اس لیڈر کا نمائندہ ہوتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو خدا سے کیا ہوا عہد یاد دلاتا، انہیں شیطان اور نفس کے فریب سے بچنے کی ترغیب دیتا اور شیطان کو اس علامتی جنگ میں شکست دینے کی ہدایات جاری کرتا ہے۔

میں نے ارد گرد کا جائزہ لیا تو وہاں شامیانے لگے ہوئے تھے۔ قریب میں بنگالی بھائیوں کے کیمپ بھی تھے۔ باتھ روم اس مرتبہ خالی تھے اور کوئی لائین نہیں لگی ہوئی تھی۔ دھوپ خاصی تیز تھی جس کی بنا پر گیلے قالین سوکھ چکے تھے۔ مولانا یحییٰ نےبتایا کہ وقوف عرفہ کا وقت زوال کے فوراً بعد شروع ہوجاتا اور غروب آفتاب تک جاری رہتا ہے۔ یہاں حاجی کا قیام حج کا رکن اعظم ہے اور اگر کوئی حاجی یہاں وقوف کرنے سے رہ جائے تو تو اس کا حج نہیں ہوتا۔ یہاں مناسب تو یہی ہے کہ کھلے آسمان کے نیچے برہنہ پا کھڑے ہوکر دعائیں مانگی جائیں لیکن تھکاوٹ کی صورت میں بیٹھنا یا لیٹنا ممنوع نہیں۔ یہاں ظہر اور عصر کی نمازیں قصر کرکے اور ملا کر یعنی ایک ہی وقت میں پڑھتے ہیں البتہ احناف اس کے قائل نہیں ہیں۔

جتنی دعائیں یاد تھیں۔۔۔
ظہر کے بعد وقوف شروع ہوگیا۔ لوگ باہر نکل کر بلند آوازمیں دعائیں کررہے تھے جس سے ارد گرد کے لوگ ڈسٹرب ہورہے تھے۔ میں نے سوچا کہ کوئی گوشہ تنہائی تلاش کی جائے چنانچہ میں بس اسٹینڈ کے پیچھے جگہ تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ موسم خوشگوار ہوچلا تھا اور بادلوں کی آمدو رفت تھے۔ کافی دور چلنے کے باوجود مجھے کوئی مناسب جگہ نہ مل پائی چنانچہ میں واپس کیمپ میں ہی آگیا۔ یہاں کھانا کھایا اور پھر برہنہ پا ہوکر باہر نکلا اور قبلہ کی طرف رخ کرکے کھڑا ہوگیا۔یہاں رب کی حمد وثنا بیان کی اور اور دعاؤں میں مشغول ہوگیا۔یہاں میں لبیک کہتا رہا ، اپنے رب کے بلاوے پر۔
میں کہتا رہا کہ’’ میں حاضر ہوں تیرے احسان کے بوجھ کے ساتھ کہ یہ ساری نعمتیں تیری ہی عطا کردہ اور عنایت ہیں۔ میری آنکھوں کی بینائی تیری دین، میرے کانوں کی سماعت تیری عطا، میرے سانسوں کے زیر و بم تیرا کرم، میرے دل کی دھڑکن تیری بخشش، میرے خون کی گردش تیری سخاوت، میرے دہن کا کلام تیرا لطف، میرے قدموں کی جنبش تیراا حسان ہے۔کوئی ان کو بنانے میں تیرا ساجھی، تیرا معاون اور شریک نہیں۔
میں حا ضر ہوں اس عجزکے ساتھ کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ تیری ملکیت ہے، یہ زمین تیری ، آسمان تیرا، سورج ، چاندستارے تیرے، پہاڑ تیرے ، میدان تیرے ، دریا و سمندر تیرے ہیں۔یہ میرا گھر، میرا مال، میری دولت، میرا جسم، میرے اہل و عیال میرے نہیں تیرے ہیں۔ کوئی ان کو بنانے اور عطا کرنےمیں تیر ا شریک نہیں ۔ پس تیرا اختیارہے توجس طرح چاہے اپنی ملکیت پرتصرف کرے ۔
میں حاضر ہوں اپنے تمام گناہوں کے بار کےساتھ کہ تو انہیں بخش دے، اپنی تمام خطاؤں کے ساتھ کہ تو انہیں معاف کردے، اپنے تمام بدنما داغوں کے ساتھ کہ تو انہیں دھودے، اپنی تمام ظاہری و باطنی بیماریوں کے ساتھ کہ تو ان کا علاج کردے ،اپنے من کے کھوٹ کے ساتھ کہ تو اسے دور کردے ، اپنی نگاہوں کی گستاخیوں کے ساتھ کہ تو ان سے چشم پوشی کرلے، اپنی کانوں کی گناہ گار سماعت کے ساتھ کہ تو اس کا اثر ختم کردے، اپنے ہاتھوں کی ناجائز جنبشوں کے ساتھ کہ تو ان سے درگذر کرلے، اپنے قدموں کی گناہ گار چال کے ساتھ کہ تو انہیں اپنی راہ پر ڈال دےاوربدکلامی کرنے والی زبان کے ساتھ کہ تو اس کو اپنی باتوں کے لئے خاص کرلے۔
میں حاضر ہوں اور پناہ مانگتا ہوں تیری رضامندی کی ،تیرے غصے سے اور تیری مغفرت کی ،تیرے عذاب سے اور میں تجھ سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں ۔میں تیری تعریف کر ہی نہیں سکتا پس تو ایسا ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
میں حاضر ہوں شیطان سے لڑنے کے لئے، نفس کےناجائز تقاضوں سے نبٹنے کے لئے، خود کوتیرے سپرد کرنے کے لئے اور اپنا وجود قربان کرنے کے لئے۔پس اے پاک پروردگار! میرا جینا، میرا مرنا، میری نماز، میری قربانی، میرا دماغ ، میرا دل، میرا گوشت، میرا لہو، میرے عضلات اورمیری ہڈیاں غرض میرا پورا وجود اپنے لئے خاص کرلے۔
حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔

اہل ایمان ادھر خدا سے مناجات میں مصروف تھے اور دوسری جانب طاغوتی لشکر اپنے کام میں مصروف تھا۔ چنانچہ بہت سے لوگوں کو شیطانی چیلے یہ درس دے رہے تھے کہ اب بہت دعا مانگ لی اب بس کرو، کچھ کو انہوں نے دنیاوی باتوں میں مصروف کررکھا تھا، کچھ کو کھانے پینے میں لگادیا تھا تو کچھ کو تھکاوٹ کاحساس دلا کر نڈھال کرنے کی سعی کی تھی۔

مغرب کا وقت
سورج اپنی منزل جانب رواں دواں تھا اور اہل ایمان اپنی منزل کی جانب۔ ارد گرد لوگ تھک کر بیٹھ گئے تھے اور کچھ باتوں میں مصروف تھے۔ اصل میں وہی مسئلہ سامنے آیا کہ ہمارے مسلمان بھائی دعا کے فلسفے سے ناآشنا ہونے کی بنا پر کچھ ہی دیر میں دعا سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں ۔ کچھ دیر بعد مولانا یحییٰ نے اجتماعی دعا کرائی جو خاصی رقت آمیز تھی ۔ اس نے کئی آنکھوں کو اشکبار کردیا ۔ دعا کے دوران مغرب ہوگئی لیکن اب رب کا حکم یہ تھا کہ یہ مغرب مؤخر کرنی ہے اور اسے اگلے پڑاؤ مزدلفہ میں جاکر ادا کرنا ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔ 

منگل, اگست 29, 2017

کیا قربانی قبول ہوئی؟؟ از ڈاکٹر محمد عقیل


*کیا قربانی قبول ہوئی؟*

*• "حضرت قربانی سے متعلق کچھ ارشاد فرمائیں۔”*
پوچھو کیا پوچھنا ہے۔

*• قربانی کی بنیادی شرط کیا ہے ؟* میاں ! قرآن میں آتا ہے کہ اللہ کو تمہارا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقوی پہنچتا ہے۔ ۔ یاد رکھو! قربانی میں اصل اہمیت تقوی کی ہے گوشت اور خون کی نہیں۔ تقوی کے بنا سارے جانورگوشت اور خون ہیں جو کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی قیمتی ہوں لیکن خدا کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ تقوی ہو تو محض ناخن کاٹنے پر ہی خدا قربانی کا اجر دے دیتا ہے اور تقوی نہ ہو تو کروڑوں کی نام نہاد قربانی منہ پر مار دی جاتی ہے
۔
*• حضور تقوی کیا ہے؟* تقوی God Consciousness کا نام ہے۔ یہ خدا کو اپنے تمام معاملات میں شامل کرلینے اور پھر اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے۔ تقوی اپنی رضا کو خدا کی رضا میں فنا کردینے کا نام ہے۔

*• حضرت مجھے بتائیے کہ میری قربانی میں تقوی شامل ہے یا نہیں؟* ” اچھا یہ بتاؤ کیا قربانی کی تیاری کرلی؟”

*• جی ہاں! ایک گائے خرید کر اپنے گھر باندھ لی ہے۔* میاں یہ تو تم نے جانور خرید کر باندھا ہے ۔ اگر تم نے اپنے اندر کی حرص و ہوس، شہوت، مادہ پرستی، سستی و کاہلی ، انا اور تکبر جیسے جانوروں کو قربانی کے لیے نہیں باندھا تو خاک تیاری کی۔ اچھا جانور خریدتے وقت کیا ارادے تھے ؟

*• حضرت ! بس وہ بیگم بچے بہت تنگ کررہے تھے، کہہ رہے تھے کہ سب کے ہاں جانور آگئے ہیں ، ہم بھی تگڑا جانور لائیں گے تاکہ سب سے اچھا ہمارا ہی جانور لگے۔* ارے صاحبزادے ! یہ تو تم نے بچوں کی رضا کے لیے جانور خریدا ہے جس کا مقصد دکھاوا ہے اور بس۔ اس میں خدا کی رضا کہاں ہے؟

*• تو حضرت ! آپ ہی بتائیے کہ پھر کیا ارادہ کرتا؟* بھائی، جانور خریدنے سے پہلے خدا کے حضور کھڑے ہوتے ، اس سے عرض کرتے کہ میرا مال ، میری جان، میری اسٹیٹس ، میرا خاندان ، میر ا گھر میرا روزگار سب آپ ہی کا دیا ہوا ہے۔ میں نے عہد کیا ہے کہ آپ کی رضا کے لیے ہر کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کروں گا یہاں تک کہ جان بھی قربان کرنی پڑی تو کروں گا۔ اور یہ جانور آپ ہی کے عطا کردہ مال میں سے آپ کی رضا کے لیے علامتی طور پر حاضر ہے۔ اس حقیر سے نذرانے کو عظیم بنا کر قبو ل کرلیجے۔
اچھا یہ بتاؤ، گوشت کی تقسیم کا کیا ارادہ ہے؟

*• حضرت ! اب آپ سے کیا چھپاؤں، ابھی ایک نیا ڈیپ فریزر لیا ہے جس میں بکرا محفوظ ہوجائے گا ۔ باقی گائے کا گوشت انہی لوگوں میں تقسیم کرنے ارادہ ہے جو ہمارے گھر گوشت بھجوائیں گے ۔ البتہ کچھ گوشت غریبوں میں بھی دینے کا ارادہ ہے۔*

میاں! اس معاملے میں کوئی فتوی تو نہیں دے سکتا۔ البتہ ترمذی کی روایت کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک بکری ذبح کی اور اس کا گوشت لوگوں میں تقسیم کیا۔ کچھ دیر بعد آپ نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کچھ گوشت باقی ہے؟ تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ صرف ایک دستی بچی ہے باقی سب تقسیم ہوگیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو صدقہ ہوگیا وہی باقی ہے (یعنی آخرت میں )۔
یہ جذبہ ہو تو قربانی قربانی ہے وگرنہ یہ سب قربانی کے نام پر گوشت کی خرید و فروخت معلوم ہوتی ہے۔ اچھا قربانی کرنے کے تمام انتظامات مکمل کرلیے؟

*• جی ہاں! کھال تو پہلے ہی مدرسے والوں نے بک کرلی ہے ۔ باقی ایک پروفیشنل قصائی سے بات کرلی ہے وہ نماز کے فور ا بعد آجائے گا۔ وہ ساتھ ساتھ بوٹیاں بنائے گا تو میں اپنے بیٹوں کے ساتھ گوشت شام تک تقسیم کردوں گا اور شام کو تکہ پارٹی بھی ہے۔ سب انتظام مکمل ہے۔* اچھا صاحبزادے! تم یہ تو جانتے ہو کہ اللہ کو جانور کا نہ خون پہنچتا ہے نہ گوشت۔ بلکہ صرف تقوی پہنچتا ہے۔تم نے خون اور گوشت کا انتظام تو کرلیا۔ یہ بتاؤ، تقوی کے خدا کے حضور پہنچانے کا کیا انتظام کیا؟

*• جی تقوی پہنچانے کا انتظام ؟ اس پر تو کبھی سوچا ہی نہیں بلکہ مجھے تو علم ہی نہیں کہ یہ بھی کوئی کا م ہے۔لیکن یہ تو اصل قربانی کا مقصد ہے اور قربانی بنا تقوی محض ایک دھوکہ ، فریب اور تکہ پارٹی ہی ہے ۔ حضرت ! آپ نے میر ی آنکھیں کھول دی ہیں۔ مجھے بتائیے یہ کس طرح ہوگا، اور مجھے کیا انتظام کرنے ہونگے۔ اس نے نمناک آنکھوں کے ساتھ پوچھا۔*

میاں ! میں تمہیں یہیں لانا چاہتا تھا اور الحمدللہ تم آگئے۔ دیکھو جب پیغمبر کی قوم پر کچھ وقت بیت جاتا ہے تو رسومات کے پیچھے موجود مقاصد نگاہوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ بعض اوقات ظاہر پرست علما ء فقہی بحثوں میں اتنا الجھادیتے ہیں کہ حقیقت نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ پھر یوں سمجھو کہ دین کے حکم کا ڈھانچہ تو رہ جاتا ہے، روح نکل جاتی ہے۔ یہی سب قربانی کے ساتھ ہوا ہے۔

*• لیکن ہمارے ہاں تو تقوی پر زور دینے کی بجائے کچھ اور بحثیں جاری رہتی ہیں۔* ہاں ،آج جانور کے دانت، سینگ، وزن، گوشت کی تقسیم ، کھال کے عطیے ، نصاب ، اور واجب و سنت کی باتیں تو بہت ہیں لیکن قربانی کی اصل روح شاید ان فقہی موشگافیوں پر قربان ہوچکی ہے۔کیا ابراہیم علیہ السلام کو جب خواب نظر آیا تھا تو انہوں نے خدا سے پوچھا کہ یہ قربانی واجب ہے یا آپشنل؟ کیا انہوں دریافت کیا کہ انسان کی اور وہ بھی پہلوٹھے بیٹے کی قربانی جائز ہے یا ناجائز؟ نہیں ایسا نہیں کیا کیونکہ جو محبوب ہوتا ہے اس سے بحث نہیں کی جاتی، سر تسلیم خم کیا جاتاہے۔ یہی سنت ابراہیمی ہے کہ فقہی موشگافیوں سے بالاتر ہوکر اپنی محبوب شے کو خدا کی راہ میں قربا ن کردیا جائے ۔ قربانی میں اصل اہمیت اس جذبے اور تقوی کی ہے اور اس کی رکاوٹ میں آنے والے ہر فقہی موشگافی ثانوی ہے۔

*• حضرت یہ تو بات ٹھیک ہے لیکن وہ تو پیغمبر تھے، ہم ان کے برابر کہاں ہوسکتے ہیں؟* یہی تو غلط فہمی ہے۔ تمام پیغمبر انسان تھے ۔ انہیں بھی اولاد سے محبت ہوتی تھی، ان کا بھی گھر بار تھا، انہیں بھی اولاد کی تکلیف پر اتنی ہی تکلیف ہوتی تھی جتنی ایک انسان کو ہوتی ہے۔ پھر خدا تم سے کب تمہاری اولاد کی قربانی مانگ رہا ہے؟البتہ وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ جب آخرت کے مقابلے میں مال و اولاد آڑے آجائے تو اپنی کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے کی بجائے انہیں قربان کردو۔

*• حضرت ، پھر بھی مجھے کسی ایسے واقعے سے سمجھائیے جو پیغمبر کا نہ ہو ۔* اچھا تو قرآن میں وہ واقعہ یاد کرو جب ہابیل و قابیل نے خدا کے حضور قربانی پیش کی۔ ہابیل جو چرواہا تھا وہ اپنے گلے سے بہترین پہلوٹھی کا بھیڑ لے کر آیا۔ قابیل جو ایک کسان تھا اس نے سوچا کہ یوں بھی اس قربانی کے اناج نے جل کر راکھ ہو جانا ہے تو وہ کچھ فالتو قسم کا اناج لے آیا۔ معاملہ نہ پہلوٹھی کے بچے کا تھا اور نہ ناقص اناج کا ۔ معاملہ اس نیت اور جذبے کا تھا جو ہابیل اور قابیل نے خدا کے حضور پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہابیل کی قربانی کو خدا کی بھیجی ہوئی آگے نے جلاڈا لا جو اس بات کی علامت تھی کہ خدا نے قربانی قبول کرلی۔ یہ کس چیز کی قربانی تھی ؟ یہ قربانی اپنی بہترین شے خدا کو راہ میں دینے کا علامتی اظہار تھا۔ یہی وہ تقوی تھا، خدا خوفی تھی، محبت تھی جو ہابیل نے صرف علامتی طور پر پیش ہی نہیں کی بلکہ وقت پڑنے پر اس کا ثبوت بھی دیا۔

*• ہابیل نے کس طرح ثبوت دیا؟* جب قابیل نے اس کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تو اس نے اس وقت بھی خدا خوفی اور تقوی کے مظاہر کرتے ہوئے یہی کہا کہ تم اگر مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ بڑھاؤگے تو میں خدا کی محبت اور تقوی کا پابند رہتے ہوئے تمہیں قتل کرنے میں پہل نہیں کروں گا۔ اور اس نے کا ثبوت بھی دیا کہ قابیل نے اسے ناحق قتل کردیا لیکن ہابیل نے ایک قدم بھی خدا کی مرضی کے خلاف نہیں اٹھایا۔ گویا جو ابتدا اس نے پہلوٹھی کا محبوب بھیڑ قربان کرکے کی تھی اس کا عملی مظاہرہ اس نے خدا کے حضور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے کردیا۔

*• حضور مجھے آپ آسان الفاظ میں بتادیجے کہ مجھے کیا کرنا ہے؟* کرنا کچھ نہیں، قربانی کا جانور خریدتے وقت یوں سمجھو کہ خدا کے ہاتھو ں تم اپنی جا ن بیچ رہے رہو۔سورہ توبہ کی وہ آیت کا ترجمہ پڑھو کہ اللہ نے ایمان رکھنے والوں سے ان کی جان اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ جانور خریدتے وقت بیوی بچوں کی خوشی کو ثانوی رکھو، دکھاوے کا عنصر ختم کرو۔جانور کی قربانی سے قبل اپنے نفس کے اندر موجود جانوروں کو تلاش کرو جو تمہیں خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ ان جانوروں کے نام ایک ایک کرکے پرچے پر لکھو اور یہ بتاو کہ انہیں کب اور کیسے ذبح کرنا ہے۔ جب قربانی کے جانور پر چھری چلاو تو یہ ذہن میں رکھو کہ تم اپنے نفس کی رضا پر چھری چلارہے ہو اور اسے خدا کی رضا کے تابع کررہے ہو۔ اس کے بعد زندگی میں قربانی کے لیے تیار رہو۔

*• اچھا مجھے کیسے علم ہوگا کہ قربانی قبول ہوگئی ؟* اس کا حقیقی علم تو خدا ہی کو ہے البتہ جب تقوی دل میں آجاتا ہے تو اس کی قربانی قبول ہوجاتی ہے اور جس کی قربانی قبول ہوجاتی ہے اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔وہ عملی دنیا میں ہر لمحہ خدا کی یاد میں رہتا ہے۔ پھر اس کی آنکھیں اس کی نہیں خدا کی ہوجاتی ہیں، پھر اس سوچیں خدا کی نذر ہوجاتی ہیں، پھر اس کی یادیں خدا کے حضور رہتی ہیں، پھر اس کی سانسیں اس کی نہیں رہتیں، پھر اس کے قدم خدا ہی کے لیے اٹھتے اور اسی کے لیے رکتے ہیں۔ پھر اس کی جان مال عزت آبرو سب خدا کی مرضی کے تابع ہوجاتی ہے۔ پھر وہ کہہ اٹَھتا ہے کہ *ان صلاتی ونسکی محیای ومماتی للہ رب العالمین*۔ کہ میری نماز، میری قربانی، میراجینا، میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔

*• حضرت بول رہے تھے اور وہ گردن جھکائے آنسو بہار ہا تھا۔ شاید یہ اسی تقوی کا بیج تھا جو دل کے باغیچے میں پھوار پڑنے کے بعد پھٹ چکا تھا۔ وہ گرد ن جھکائے اٹھا اور جانور کی جانب توجہ دینے کی بجائے اندر کے جانوروں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہونے لگا۔ تاکہ کل اس کا وجود گواہی دے دے کہ اس کی قربانی اپنے مقام کو پہنچ گئی۔*

سوموار, اگست 28, 2017

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر ۔۔۔ حصہ- 11

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر
حج کی داستان حج کی اصل روح کے تعارف کے ساتھ

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
حصہ-11

شیطانی کیمپ کے مناظر
میں کروٹیں بدل رہا تھا ۔ غنودگی اور بیداری کی ملی جلی کیفیت تھی۔ اچانک میں تصور کی آنکھ سے اس جنگ کے مناظر دیکھنے لگا۔ اب منظر بالکل واضح تھا۔ اس طرف اہل ایمان تھے اور دوسری جانب شیطان کا لشکر بھی ڈیرے ڈال چکا تھا۔ شیطانی خیموں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور ان میں ایک ہلچل بپا تھی۔ رنگ برنگی روشنیوں سے ماحول میں ایک ہیجان کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ باہر پنڈال لگا تھا جہاں بے ہنگم موسیقی کی تھاپ پر شیطانی رقص جاری تھا۔ کچھ نیم برہنہ عورتیں اپنے مکروہ حسن کے جلوے دکھا رہی تھیں۔ ایک طرف شرابوں کی بوتلیں مزین تھیں جنہیں پیش کرنے کے لیے بدشکل خدام پیش پیش تھے۔ اس پنڈال کے ارد گرد شیاطین کے خیمے نصب تھے جو مختلف رنگ اور ڈیزائین کے تھے۔

سب سے پہلا خیمہ شرک و الحاد کا تھا۔ اس خیمے پر ان گنت بتوں کی تصاویر بنی ہوئی تھیں ۔ خیمے میں موجود شیاطین اپنے سردار کے سامنے ماضی کی کارکردگی پیش کررہے تھے کہ کس طرح انہوں نے انسانیت کو شرک و الحاد کی گمراہیوں میں مبتلا کیا۔نیز وہ اس عظیم موقع پر مستقبل کی منصوبہ بندی کررہے تھے کہ آئندہ کس طرح انسانیت کو شرک میں مبتلا کرنا اور خدا کی توحید سے دور کرنا ہے۔ان کا طریقہ واردات بہت سادہ تھا جس میں خدا کی محبت دل سے نکال کر مخلوق کی محبت دل میں ڈالنا، خدا کے قرب کے لئے ناجائز وسیلے کا تصور پیدا کرنا ، کامیابی کے لئے شارٹ کٹ کا جھانسا دکھانا وغیرہ جیسے اقدام شامل تھے۔

ایک اور خیمے پر عریاں تصایر اور فحش مناظر کی مصوری تھی ۔ یہ عریانیت کے علمبرداروں کی آماجگاہ تھی۔ ان شیاطین کے مقاصد فحاشی عام کرنا، انسانیت کو عریانیت کی تعلیم دینا، نکاح کے مقابلے میں زنا کو پرکشش کرکے دکھانا، ہم جنس پرستی کو فطرت بنا کر پیش کرنا وغیرہ تھے۔ یہاں کے عیار ہر قسم کے ضروری اسلحے سے لیس تھے۔ ان کے پاس جنسی کتابیں، فحش سائیٹس، عریاں فلمیں، فحش شاعری و ادب، دل لبھاتی طوائفیں، جنسیاتی فلسفہ کے دلائل، دجالی تہذیب کے افکار سب موجود تھے۔ ان کا نشانہ خاص طور پر نوجوان تھے جنہوں نے ابھی بلوغت کی دنیا میں قدم ہی رکھا تھا اور وہ ان ایمان فروش شیاطین کے ہتھے چڑھ چکے تھے۔

ایک اور خیمے پر ہتھیاروں کی تصویر آویزاں تھی۔ یہ انسانوں کو لڑوانے والوں کا کیمپ تھا۔ یہاں کا لیڈر اپنے چیلوں سے ان کی کامیابیوں کی رپورٹ لے رہا تھا۔ چیلے فخریہ بتارہے تھے کس طرح انہوں نے انسانیت میں اختلافات پیدا کئے، ان میں تعصب و نفرت کے بیج بوئے، ان کو ایک دوسرے کے قتل پر آمادہ کیا، انہیں اسلحہ بنانے پر مجبور کیا جنگ کے ذریعے لاکھوں لوگوں کا قلع قمع کیا۔ اس کیمپ کی ذیلی شاخ کا مقصد خاندانی اختلافات پیدا کرنا، میاں بیوی میں تفریق کرانا، ساس بہو کے جھگڑے پیدا کرنا، بدگمانیاں ڈالنا، حسد پیدا کرنا،خود غرضی اور نفسا نفسی کی تعلیم دینا تھا۔
اگلے خیمے پر بڑی سی زبان بنی ہوئی تھی جو اس بات کی علامت تھی کہ یہاں زبان سے متعلق گناہوں ترغیب دی جاتی ہے۔ یہاں کے شریر شیاطین اس بات پر مامور تھے کہ لوگوں کو غیبت ، جھوٹ، چغلی، گالم گلوج، فحش کلامی، بدتمیزی، لڑائی جھگڑا اور تضحیک آمیز گفتگو میں ملوث کرکے انہیں خدا کی نافرمانی پر مجبور کریں۔

ایک اور خیمے پر بلند وبالا عمارات اور کرنسی کی تصاویر چسپاں تھیں۔ یہ دنیا پرستی کو فروغ دینے اور آخرت سے دور کرنے والوں کا کیمپ تھا۔ اس کیمپ میں اسراف، بخل، جوا، سٹہ، مال سے محبت، استکبار، شان و شوکت، لالچ، دھوکے بازی، ملاوٹ، چوری و ڈاکہ زنی، سود اور دیگر معاشی برائیوں کو فروغ دئے جانے کی منصوبہ بندی ہورہی تھی۔ یہاں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا جارہا تھا کہ انسانیت بالعموم اور مسلمان بالخصوص آخرت کو بھول چکے ہیں۔ ا ب ان کی اکثر سرگرمیوں کا مقصود دنیا کی شان و شوکت ہی ہے۔ نیز جو مذہبی جماعتیں دین کے لیے کام کرہی ہیں ان کی اکثریت کا مقصد بھی اقتدار کا حصول ہے نہ کہ آخرت کی فلاح بہبود۔

ایک آخری کیمپ بڑے اہتمام سے بنایا گیا تھا۔ یہ خاص طور پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے لئے بنایا گیا تھا تاکہ وہ اپنی اصلاح کرکے دنیا کی راہنمائی کا سبب نہ بن جائیں۔ یہاں مسلمانوں کو مختلف بہانوں سے قرآن سے دوررکھنے کی باتیں ہو رہی تھیں، یہا ں ان کو نماز روزہ حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے روکنے کا منصوبہ تھا ، یہاں انکی اخلاقی حالت کو پست کرنے کی پلاننگ تھی، انہیں آخرت فراموشی کی تعلیم دی جانی تھی، مغرب پرستی کا درس تھا، دنیا کی محبت کا پیغام تھا۔ اسی کے ساتھ ہی یہاں مسلمانوں کو فرقہ پرستی میں مبتلا کرنے کا بھی اہتما م تھا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے رہیں اور غیر مسلم اقوام تک خدا کا آخری پیغام پہنچانے سے قاصر رہیں۔

رحمانی خیموں کی کیفیت
دوسری جانب اہل ایمان بھی اپنے خیمے گاڑ چکے تھے۔ شیطان کے خلاف جنگ کا میدان سج چکا تھا۔شیطانی کیمپ کے برعکس یہاں خامشی تھی ، سکوت تھا، پاکیزگی تھی، خدا کی رحمتوں کا نزول تھا۔اعلیٰ درجے کے اہل ایمان تعداد میں کم تھے جبکہ اکثر مسلمان شیطان کی کارستانیوں سے نابلد، روحانی طور پر کمزور، اورنفس کی آلودگیوں کا شکار تھے ۔ لیکن یہ سب مسلمان شیطان سے جنگ لڑنے آئے تھے چنانچہ یہ اپنی کمزوریوں کے باوجود خدائے بزرگ و برتر کے مجاہد تھے۔ان فرزندان توحید کو امید تھی کہ خدا ان کی مدد کے لئے فرشتے نازل کرکے انہیں کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔

شیطان کے ہتھکنڈوں سے نمٹنے کے لئے اللہ مسلمانوں کو پہلے ہی کئی ہتھیاروں سے لیس کرچکے تھے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی۔ شرک و الحاد کا توڑ اللہ کی وحدانیت ، اسے تنہا رب ماننے اور اسے اپنے قریب محسوس کرنے میں تھا۔ فحاشی و عریانی کی ڈھال نکاح ، روزے ، نیچی نگاہیں اور صبر کی صورت میں موجود تھی۔ فرقہ واریت کا توڑ اخوت و بھائی چارے اور یگانگت میں تھا۔ معاشی بے راہ روی کا علاج توکل و قناعت میں پوشیدہ تھا۔ دنیا پرستی کا توڑ آخرت کی یاد تھی۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کے علم میں تو تھا لیکن شیطان کے بہکاووں نے ان تعلیمات کو دھندلا کردیا تھا۔ ایک قلیل تعدا د کے علاوہ اکثر مسلمان ان احکامات کو فراموش کرچکے تھے یا پھر ان کے بارے میں لاپرواہی اور بے اعتنائی کا شکار تھے۔

منٰی کے میدان میں یہ سب فرزندان توحید اسی لئے جمع ہوئے تھے کہ وہ اللہ سے کئے ہوئے عہد کو یاد کریں، وہ اس کے احکامات پر غور کریں، وہ اس کی پسند و ناپسند سے واقفیت حاصل کریں اور اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگ کر آئندہ شیطان کے چنگل سے بچنے کی تربیت حاصل کریں۔ یہاں اہل ایمان کے ہتھیار توکل ،تفویض ، رضا، تقویٰ، قنوت، توبہ اور صبر کی صورت میں ان کے ساتھ تھے۔ان کی مدد سے وہ طاغوتی لشکروں کے حملوں کا جواب دینے کےلئے تیار تھے۔چنانچہ اہل ایمان کے خیموں سے لبیک کی صدائیں بلند ہورہی تھیں ۔ وہ سب اپنے رب کی مدد سے اس جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لیے بے چین تھے۔

منیٰ کی صبح
صبح فجر کی نماز پڑھی اور دوبارہ سونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ چنانچہ میں قریب نو بجے اٹھا تو سب لوگ خیمے میں سو رہے تھے۔ مجھے نیند آنا مشکل تھی لہٰذا میں باہر نکلا۔ میں نے بیگم کو کہا کہ باہر چلتےہیں لیکن انہوں نے انکار کردیا ۔چنانچہ میں اکیلا ہی اپنے بیگ میں دعاؤں کی کتاب حصن حصین لے کر نکلا ۔ باہر کا موسم بہت سہانا تھا اور آسمان ابر آلود تھا۔ باہر بے شمار لوگ زمین اور ٹیلوں پر لیٹے اور بیٹھے ہوئے تھے۔چنانچہ میں نے بھی سوچا کہ کسی پہاڑی پر چڑھ کر اللہ کی حمد وثنا کروں۔ میں خیمے کی بائیں جانب چلنے لگا۔ کافی دور جاکر ایک پہاڑی نظر آئی جو موزوں لگی۔ میں نے اس پر چڑھنے کا ارادہ کرلیا۔

پہاڑ پرچڑھنے کا میرا کافی وسیع تجربہ تھا اور میں اس قبل مری، حسن ابدال، کاغان، ناران، سوات اور نورانی کے پہاڑوں پر چڑھ چکا تھا ۔ لیکن مکہ کے یہ پہاڑ کالے پتھروں کی چٹانوں کے بنے ہوئے تھے جن پر چڑھنا خاصا دشوار تھا۔نیز احرام کی بنا پر تو چلنا دشوار معلوم ہوتا تھا چہ جائیکہ اوپر چڑھنا۔ بہرحال ایک جگہ منتخب کی اور اوپر چڑھنا شروع کیا۔ ایک دفع تو سلپ ہوتے ہوتے بچا لیکن دوسری کوشش میں اللہ نے مشکل آسان کردی اور میں اوپر آہی گیا۔ میں نے وہاں پڑا ہوا ایک گتا اٹھایا اس پر پر بیٹھنے کا قصد کیا۔

یہاں کافی بڑی تعداد میں لوگ براجمان تھے۔ کچھ لوگوں نے چھوٹے چھوٹے سفری خیمے نصب کئے ہوئے تھے۔یہ زیادہ تر وہ لوگ تھے جو معلم کے بغیر حج کررہے تھے اور یہ غیر قانونی طور پر آئے تھے۔ سعودی حکومت کی جانب سے پابندی ہے کہ حج کرنے کے بعد پانچ سال تک کوئی اور حج نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کی وجہ ان حاجیوں کو موقع فراہم کرنا ہے جو اپنا فرضی حج کررہے ہوں۔ یہ غیر قانونی لوگ متلفی راستوں سے کچھ رقم دے کر عقیدت میں حج کرنے آجاتے ہیں ۔ لیکن ان پر ایک گروہ یہ تنقید کرتا ہے کہ ان کا رویہ درست نہیں کیونکہ اس طرح وہ حکومت وقت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ دوسری جانب وہ فرضی حج کرنے والے حاجیوں کے وسائل پر بھی تصرف کرتے ہیں جو مناسب نہیں۔

میرے سامنے لوگوں کا ایک جم غفیر تھا چنانچہ میں نے یکسوئی حاصل کرنے کے لئےرخ تبدیل کرلیا ۔ اب میرے سامنے ایک انتہائی بلند پہاڑ تھا۔ آسمان ابھی تک کچھ حصے چھوڑ کر بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ میں نے حصن حصین کی کتا ب نکالی ۔ یہ کتاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں پر مشتمل ہے۔ میں نے اس میں سے دعائیں منتخب کیں اور حمدو ثنا میں مصروف ہوگیا۔ ہمارے ہاں دعا کو انتہائی محدود معنو ں میں لیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب مال، اولاد، صحت اور دنیاوی مقاصد کی تکمیل کے لئے اللہ کو پکارا جانا سمجھا جاتا ہے۔ نیز کچھ لوگ آخرت اور جنت کی کامیابی بھی مانگ لیتے ہیں لیکن دعا کا ایک انداز کچھ اور بھی ہے۔ یہ دعا اللہ سے باتیں کرنے کا نام ہے۔ یہ اپنے د ل کی بات کہنے کا نام ہے۔ یہ خدا کی حمد و ثنا، تسبیح و تہلیل، اس کی بڑائی بیان کرنے کا موقع ہے۔ اس کی جھلک اگر دیکھنی ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

ارد گرد کا ماحول انتہائی روح پرور تھا چنانچہ جلد ہی روحانیت کے دریچے کھلنے لگے۔ خدا کی عظمت پہاڑ کی شکل میں میرے سامنے موجود تھی۔ اس کی رحمت بادلوں کی صورت میں سایہ فگن تھی، اس کی محبت احساسات کی شکل میرے ذہن میں تھی، اس کی عنایت یاد کی صورت میں مرے دل میں تھی۔

میں رب سے باتیں کرتا رہا اور وہ مجھے اشاروں کنایوں میں جواب دیتا رہا۔ میں بولتا رہا وہ سنتا رہا۔ پھر وہ بولا اور میں نے سنا۔ وہ مجھے میری خطائیں، میرے جرائم، میری سرکشیاں، میری ہٹ دھرمی، میری چالاکیاں گنواتا رہا اور میں کہتا رہا کہ میں خطا کرتا ہوں اور تو معاف کردیتا ہے۔ میں چالاکی دکھاتا ہوں اور تو نظر انداز کرتا ہے، میں بھول جاتا ہوں پر تو یاد رکھتا ہے،میں گناہ کرتا ہوں پر تو پکڑتا نہیں، میں جرم کرتا ہوں اور اور تو لاتصریب کہہ کر چھوڑ دیتا ہے۔ کیونکہ تو عظیم ہے اور میں رذیل، تو آقا ہے اور میں غلام ابن غلام، تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور میں فقیروں سے بھی حقیر، تو بے حساب عطا کرنے والا ہے، تیرا عرش سب سے بلند ہے، تیرے قبضے میں سب کچھ ہے، تو آسمان و زمین کی ہر شے کا مالک ہے جبکہ میری ملک میں ایک ذرہ بھی نہیں۔ تیرا اذن و اختیار ہر شے پر ہے جبکہ میری قدرت انگلی کو ہلانے تک کی نہیں۔زمین و آسمان اور ساری کائینات کی بادشاہی آج بھی تیری ہے اور کل بھی تیری ہی ہوگی۔ تیری باتیں لکھنے کے لئے اگر تمام درخت قلم اور تمام سمندر سیاہی بن جائیں تو بھی تیری تعریف بیان نہیں جاسکتی۔ پس تو تو ہے اور میں میں۔ میں خطا کرتا ہوں اور تو معاف کرتا ہے۔

ارد گرد کا ماحول مزید خوشگوار ہوگیاتھا اور بادل اب پورے آسمان پر چھاچکے تھے۔وہاں پہاڑ پر میں دو تین گھنٹے بیٹھا روتا رہا گڑگڑاتا رہا ۔اپنی گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہی مجھے بادلوں کی گڑگڑاہٹ بھی سنائی دی۔ پہلے تو میں یہ سمجھا کہ میرا وہم ہے کیونکہ اس صحرا میں کہاں بارش ہوگی۔ لیکن کچھ دیر بعد یہ گڑگڑاہٹ بڑھی اور میری تشویش میں اضافہ ہونے لگا۔ بارش اگر شروع ہوجاتی تو پہاڑ سے نیچے اترنا خاصا دشوار ہوتا نیز میں اپنے خیمے سے کافی دور تھا جبکہ وہاں جگہ جگہ بورڈ لگے تھے کہ بارش کی صور ت میں اپنے خیمے سے نہ نکلیں کیونکہ منیٰ نشبی میں تھا اور سیلاب کا قوی امکان تھا۔ چنانچہ میں نے واپسی کا سفر باندھا اور بارش سے قبل ہی خیمے میں پہنچ گیا۔

جاری ہے ۔۔۔۔ 

اتوار, اگست 27, 2017

"اسلام میں ظاہر اور ضمیر کی اہمیت و تربیت" ... خطبہ جمعہ مسجد نبوی

"اسلام میں ظاہر اور ضمیر کی اہمیت و تربیت" 
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
ترجمہ: شفقت الرحمان مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 03-ذو الحجہ- 1438 کا خطبہ جمعہ " اسلام میں ظاہر اور ضمیر کی اہمیت و تربیت" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو ظاہری طور پر خوبرو بنایا ہے تو اسے دل بھی دیا ہے ، اگر اس کا دل اور ضمیر کمال درجے کا بن جائے تو ظاہری خوبصورتی کو کئی چاند لگ جاتے ہیں، لوگ اگرچہ ظاہری خوبصورتی کو اہمیت دیتے ہیں لیکن اللہ تعالی کے ہاں اصل ضمیر اور دل ہے، جس قدر دل کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو گا آسمان و زمین میں انسان کی شہرت اور محبت کا نقارہ بجے گا۔ انہوں نے بتلایا کہ قیامت کے دن ظاہر اور ضمیر دونوں کا احتساب ہو گا چنانچہ اسی چیز کو سمجھ کر انسان اپنے ضمیر کی اصلاح ضرور کرتا ہے کیونکہ آخرت میں کامیابی کا دار و مدار قلبی اور باطنی امور پر ہے اگرچہ ظاہری امور کی بھی وہاں بہت اہمیت ہے۔ 

خطبے سے منتخب اقتباس پیش خدمت ہے

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، وہ بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے، میں معمولی اور ڈھیروں سب نعمتوں پر اسی کی حمد اور شکر بجا لاتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ بہت عظمت اور کرم والی ذات ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ خیرِ عام کے داعی ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے ۔

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں؛ کیونکہ تقوی آخرت کیلیے زادِ راہ، تنگ حالات میں قوت، اور آزمائش کے وقت تحفظ کا باعث ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} 
اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

اللہ تعالی نے انسان کو بہترین انداز سے پیدا فرمایا، اسے خوبرو بنانے کے ساتھ کامل دل بھی عطا فرمایا، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{يَاأَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ (6) الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ (7) فِي أَيِّ صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ} 
اے انسان ! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے بہکا دیا [6] جس نے تجھے پیدا کیا، تجھے ٹھیک ٹھاک کیا اور تجھے متوازن بنایا [7] پھر جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا ۔ [الانفطار: 6 - 8]

انسان کی خوبصورتی دل کے صاف ہونے سے تکمیل کے زینے عبور کرتی ہے اور صاف دل ظاہری خوبصورتی کا حسن دوبالا کر دیتا ہے، نیز یہی دل کی صفائی رنگ روپ کو بار آور بنانے والا جوہر ہے۔

اگرچہ لوگ رنگ روپ کو ہی اہمیت دیتے ہیں اور اسی تک ان کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے؛ لیکن اللہ تعالی کی نظر انسان کے دل پر ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی یقینی طور پر تمہاری صورت اور دولت کو نہیں دیکھتا وہ تو تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے)

دل کا تعلق اللہ تعالی کے ساتھ جس قدر مضبوط ہو گا اتنی ہی لوگوں میں محبت اور شہرت پائے گا، لہذا جس بندے کا دل اللہ کی محبت سے معمور ہو تو زمین و آسمان میں کہیں بھی دلوں میں جگہ بنا لے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (یقیناً جس وقت اللہ تعالی کسی بندے سے محبت فرمائے تو جبریل کو بلا کر فرماتا ہے: "میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو" اس پر جبریل بھی اس سے محبت کرتا ہے، پھر آسمان میں صدا لگاتا ہے: "اللہ تعالی فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو" اس پر اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر پوری زمین پر اس کی مقبولیت پھیلا دی جاتی ہے)

لوگوں کے ظاہر اور باطن سب کو قیامت کے دن حساب کتاب میں شامل کیا جائے گا، فرمان باری تعالی ہے:
 {وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا}
 جس بات کی تمہیں خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ؛ کیونکہ کان ،آنکھ اور دل سب سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔[الإسراء: 36]

اتنی گہرائی والا یہ فہم مسلمان کو اپنے دل کی اصلاح کرنے پر مجبور کر دیتا ہے، اور دل کی اصلاح کے لیے بنیاد یہ ہے کہ معبود کی عبادت خالص نیت کے ساتھ کی جائے؛ کیونکہ نیت ہی بندگی کا راز ہے۔

عبادت مسلمانوں کی ظاہری اور باطنی ہر دو طرح سے تربیت کرتی ہے؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر غور و فکر کرنے والے کو ظاہری اور باطنی ہر دو پہلوؤں کا اہتمام واضح ملے گا، مثلاً: مسلمان نماز میں اپنے پروردگار کے سامنے سیدھی صفیں باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں، بلکہ شریعت نے صف بندی کو نماز کے قیام میں شامل کیا ہے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ لوگوں کو صفیں سیدھی کرنے کا حکم دیتے اور فرماتے : (اللہ کے بندو! تم اپنی صفیں سیدھی کر لو، وگرنہ اللہ تمہارے چہروں کو ایک دوسرے سے موڑ دے گا)

اسی طرح ہم ظاہری طہارت اور باطنی پاکیزگی کا اہتمام مناسک حج میں بھی واضح دیکھتے ہیں؛ چنانچہ مسلمان کا حج بیت اللہ کے لیے گھر سے چلنا اللہ تعالی کے حکم کی ظاہری اور باطنی تعمیل کی اعلی ترین منظر کشی ہے؛ پھر حج کیلیے خاص لباس، نیت، تلبیہ اور ذکرِ الہی اس مفہوم کو مزید تقویت دیتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ}
 حج کے مہینے مقرر ہیں اس لئے جو شخص ان میں حج لازم کر لے وہ حج میں بیہودگی، گناہ اور لڑائی جھگڑا نہ کرے، تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالی باخبر ہے اور اپنے ساتھ زادِ راہ لے لو سب سے بہتر زادِ راہ تقوی الہی ہے اور اے عقلمندو ! مجھ سے ڈرتے رہو۔ [البقرة: 197]

ایسے ہی حبیب اور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر اسلام میں باطن کی قدر و قیمت ہمارے سامنے رکھی کہ اللہ تعالی کی نظریں تمہارے باطن پر ہیں، آپ نے فرمایا: (لوگو! یقیناً تمہارا پروردگار ایک ہے، تم سب کا والد بھی ایک ہے۔ سن لو! کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر ، نہ کسی گورے کو سیاہ پر نہ ہی کسی سیاہ کو گورے پر تقوی کے بغیر فوقیت حاصل نہیں ہے۔)

ہر مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی سے ظاہری اور باطنی دونوں طرح کا تعلق ہوتا ہے، چنانچہ مسلمان جب بھی اپنے بھائی سے ملتا ہے تو ظاہری طور پر خندہ پیشانی سے ملتا ہے اور ساتھ ہی باطنی طور پر سچے دل سے اس کے لیے دعائیں کرتا ہے، خیر سگالی جذبات کے ساتھ محبت کا اظہار بھی کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (کوئی بھی مسلمان آدمی اپنے بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے دعا کرے تو فرشتہ لازمی کہتا ہے کہ: "تمہیں بھی یہ سب کچھ ملے")

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے ظاہری طور پر دیگر مسلمان محفوظ رہیں نیز حسد اور ۔
کینے جیسی بیماری سے باطنی طور پر محفوظ ہوں،

اسلامی اخوت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنے بھائی کی ظاہری طور قلم اور کلام کے ذریعے مدد کریں ، نیز باطنی طور پر قلب و ذہن کے ذریعے بھی مدد کریں۔ ہر مسلمان پر مسلمانوں کے مسائل کی اپنے مال، اثر و رسوخ، اظہار رائے اور اللہ سے دعا کے ذریعے تائید کرنا واجب ہے

اگر مسلمان کوئی حکم صادر کرنا چاہیے تو اسے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ لوگوں کی جاسوسی کرے اور ان کے خلاف تاک میں رہے، اللہ تعالی کو دلوں کے بھیدوں کا علم ہے چنانچہ ان کا حساب بھی وہی ذات لے گی جس کے سامنے کوئی خفیہ ترین چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے۔

اس لیے مسلمانوں کے ضمیر پر شک کرنا ان کی نیتوں پر حکم لگانا حقیقت میں مسلمان کی عزت اور احترام سے متصادم ہے، یہ مسلمانوں کے مقام اور مرتبے کو ٹھیس پہنچانے اور ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی طرف لے جائے گا۔

ایمان کے اثرات آزمائش میں ظاہر ہوتے ہیں: ظاہری طور پر صبر کی صورت میں اور باطنی طور پر امیدِ اجر کی صورت میں؛ لہذا مسلمان اپنے آپ کو بے قابو نہیں ہونے دیتا ، نہ ہی اللہ تعالی کے ساتھ ادب و احترام کا پیمانہ لبریز ہونے دیتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا [اپنے لخت جگر ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے موقع پر]فرمان ہے: (آنکھیں اشکبار ہیں اور دل افسردہ ہے، پھر بھی ہم وہی بات کریں گے جو ہمارے پروردگار کو پسند ہو گی: "ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر یقیناً غم زدہ ہیں!")

اللہ تعالی کی یہ وسیع رحمت ہے کہ انسان کے لیے ایمانی اڈے قائم فرمائے جہاں پر انسان رک کر ایسی چیزیں حاصل کر سکتا ہے جن سے قلبی تزکیہ ہو اور ظاہر کی نشو و نما ہو، ایسے ہی عظیم اور بابرکت ایام جن میں اجر و ثواب بڑھ جاتا ہے عشرہ ذو الحجہ کے دن ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَالْفَجْرِ (1) وَلَيَالٍ عَشْرٍ} 
قسم ہے فجر کے وقت کی [1] اور قسم ہے [عشرہ ذو الحجہ کی]دس راتوں کی۔[الفجر: 1، 2]

اور انہی ایام کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ان ایام میں کئے ہوئے عمل سے بڑھ کر کوئی بھی عمل نہیں ہے) تو صحابہ کرام نے عرض کیا: " جہاد بھی افضل نہیں ہے؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جہاد بھی افضل نہیں ہے، ما سوائے اس صورت کے کہ: کوئی شخص اپنا مال اور جان جوکھوں میں ڈالے اور ان میں سے کچھ بھی واپس نہ آئے) بخاری

انہی ایام کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ان ایام میں کثرت سے اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، اور الحمد للہ کا ورد کرو)

چنانچہ عشرہ ذوالحجہ سمیت تمام ایام تشریق میں ہر وقت تکبیرات کہنا مسنون ہے کہ عشرہ ذوالحجہ شروع ہوتے ہی آخری یوم تشریق تک تکبیرات کہیں[انہیں تکبیرات مطلق کہتے ہیں]، جبکہ نمازوں کے بعد کی تکبیریں یوم عرفہ کو فجر کی نماز سے لے کر آخری یوم تشریق کے دن سورج غروب ہونے تک جاری رہتی ہیں[انہیں تکبیرات مقید کہتے ہیں

الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر الله أكبر ولله الحمد

اس عشرے کے اعمال میں قربانی ذبح کر کے قرب الہی کی جستجو بھی شامل ہے، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (یوم النحر [دس ذو الحجہ عید الاضحی] کے دن کیے ہوئے اعمال میں سے اللہ کے ہاں قربانی سے زیادہ کوئی محبوب عمل نہیں)

اسی عشرے کے اعمال میں غیر حجاج کے لیے یوم عرفہ کا روزہ بھی شامل ہے، اس دن کا روزہ افضل ترین روزہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (یوم عرفہ کے متعلق مجھے اللہ سے امید ہے کہ یہ گزشتہ اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے)

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے اعمال کی توفیق مانگتے ہیں، نیز جہنم اور اس کے قریب کرنے والے تمام اعمال سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں چاہے وہ فوری ملنے والی یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم ہے یا نہیں۔ اور اسی طرح یا اللہ! ہم ہر قسم کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں چاہے وہ فوری آنے والا ہے یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم یا نہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لے کر انتہا تک ہر قسم کی جامع خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لے کر اختتام تک ، اول سے آخر تک ، ظاہری ہو یا باطنی سب کا سوال کرتے ہیں، اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! حجاج کرام کی حفاظت فرما، یا اللہ! حجاج کرام کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں ہر قسم کے شر اور گناہوں سے محفوظ فرما، یا اللہ! تمام حجاج کرام کو صحیح سلامت اور اجر و ثواب کے ساتھ اپنے اپنے گھروں تک واپس لوٹا، یا ارحم الراحمین!

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

ہفتہ, اگست 26, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 26 اگست 2017

~!~ آج کی بات ~!~

دلچسپی کو طلب مت بننے دو . کیونکہ طلب کی شدت بڑھ کر ضرورت بن جاتی ہے ، 
اور ضرورت بڑھ کر کمزوری . پھر وه کمزوری انسان کو بے بسی کی حدود پر لا کھڑا کرتی پے !

خود کو مضبوط رکھو اور الله سے اپنے نفس کی مضبوطی مانگتے رہو. نہ جانے کونسا لمحہ کمزور کر دے . . . ! 


پانچ گیندیں


کوکا کولا کمپنی کے مالک برائن ڈائی سن نے کام اور نوکری کی اہمیت بتائی۔ اس نے بولا کہ یہ سمجھو کہ تم ایک گیم کھیل رہے ہو۔ تمہارے پاس ایک وقت میں پانچ گیندیں ہیں۔ ان میں ایک تمہاری نوکری ہے، دوسری فیملی، تیسری تمہارے دوست یار، چوتھی تمہاری روح اور پانچویں تمہاری صحت ہے۔  

تم ایک وقت میں کسی جوکر کی مانند ان سب کو اچھال رہے ہو۔ یاد رکھو کہ ان میں سے صرف تمہاری نوکری ایک ایسی گیند ہےجو ربر کی بنی ہے اور کسی بھی وقت گر بھی پڑے تو نیچے باؤنس کر کے واپس اوپر آجائے گی۔لیکن اس کے علاوہ باقی چاروں گیندیں ایسی ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی نیچے گر جائے تو یا تو اس پر نشان رہ جائیں گے یا مکمل طور پر کرچی کرچی ہو جائیں گی۔ باقی چاروں گیندیں کانچ کی ہیں۔ اب تمہیں خیال رکھ کر ان سب کو ہوا میں اچھالتے رہنا ہے۔

اس کی اس بات کا مطلب یہ تھا کہ اپنی روح، صحت، فیملی اور دوستوں کو کسی صورت کھونا نہیں چاہیے۔ جب ہم ان میں سے کسی کو بھی نظر انداز کرتے ہیں تو وہ زندگی بھر کا نقصان ہوتا ہے۔ 

  • اگر صحت کو نظر انداز کرنے لگیں تو وہ اتنی خراب ہو جاتی ہے کہ بندہ پکا پکا بیمار رہنے لگتا ہے اور صحت کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ 

  • اسی طرح اگر انسان اپنی روح کی پیاس بجھانا بند کردے تو وہ خالی ہو جاتی ہے اور اس کی ویرانی بھی کبھی دوبارہ دور نہیں کی جا سکتی۔ انسان کی روح کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ 

  • انسان اگر اپنے دوستوں یاروں کو کم وقت دے تو وہ اس بات کو یاد رکھتے ہیں اور ان کے دل پر نقش ہو جاتا ہے کہ کسی وقت یہ ہماری امیدوں پر پورا نہیں اترا تھا۔ اس طرح اوپر اوپر سے تو تعلقات ٹھیک رہتے ہیں لیکن دلوں میں فاصلے آجاتے ہیں۔ 

  • اگر انسان اپنی فیملی کو نظر انداز کرے تو ان کو آپ کے بغیر زندگی گزارنے کی عادت پڑ جاتی ہےاور وہ آپ سے کوئی امید نہیں رکھتے۔ ایسے میں انسان کی ایسی تلخ یادیں بن جاتی ہیں جو ساری زندگی اس کے دل کے زخم بن کر اس کو ستاتی رہتی ہیں۔

  • نوکری یا کام کاج انسان کا پیٹ بھرنے کا ذریعہ ہوتا ہے اس کی اہمیت کو کبھی بھی کم نہیں کیا جا سکتا لیکن انسان کی نوکری چلی بھی جائے تو وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ 


جاوید چوہدری کے کالم سے اقتباس

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر ۔۔۔ حصہ- 10

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر
حج کی داستان حج کی اصل روح کے تعارف کے ساتھ

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
حصہ-10

خیمے کی سیر
حج کے دن قریب آتے جارہے تھے۔ میں کعبے سے دور تھا لیکن دل وہیں لگا رہتا تھا۔ درمیان میں ایک جمعہ بھی آیا۔ جسے ادا کرنے کے لئے میں شارق اور ریحان کے ساتھ مسجد الحرام روانہ ہوا۔ یہ راستہ ہم نے طریق المشا ہ یعنی پیدل چلنے والوں کے راستے کے ذریعے طے کیا۔ یہ ایک طویل سرنگ تھی جو تقریباً پون گھنٹے پیدل چلنے کے بعد مسجدالحرام پر جاکر ختم ہوتی تھی۔ وہاں پہنچے تو مسجد بھر چکی تھی اور باہر ہی جگہ ملی۔ امام صاحب نے خطبہ دیا اور نماز پڑھائی۔
وہاں میں نے طواف کیا جس میں غیر معمولی رش تھا۔ میں نے حسرت سے ملتزم کو دیکھا جس پر لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح چمٹے ہوئے تھے۔ وہاں مجھے مقام ابراہیم بھی نظر آیا ۔ اس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تھی ۔ اس پتھر پر آج بھی ان کے قدموں کے نشان موجود ہیں۔ کچھ لوگ اس کو چومنے کی کوشش کررہے تھےاور شرطے انہیں ہٹا رہے اور سمجھارہے تھے کہ یہ چومنے کی جگہ نہیں صرف دیکھنے کا مقام ہے۔

۶ ذی الحج کو ہمارے گروپ لیڈر رافع نے بتایا کہ وہ منی ٰ میں ہمارے گروپ کا خیمہ دیکھنے جائیں گے ۔ انہوں نے جوانوں کو چلنے کی دعوت بھی دی تاکہ وہ روٹ کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ لیکن اچانک رات میں ہمارے گروپ کے ایک بزرگ اسمٰعیل صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی۔ ان کے دونوں پاؤں سوج کر موٹے ہوگئے تھے اور ان سے بالکل بھی چلا نہیں جارہا تھا۔ ہمارے گروپ میں ایک ڈاکٹر صاحب بھی تھے۔ ان کے مشورے پر انہیں ہسپتال لے جانے کی تیاری شروع کی گئی۔ یہ ذمہ داری بھی گروپ لیڈر رافع نے انجام دی اور اسمٰعیل صاحب کو اسپتال میں داخل کرلیا گیا۔
رافع کو آنے میں دیر ہوگئی اور ہم سمجھے کہ اب منیٰ جانے کا پروگرام کینسل ہوگیا ہے۔ بارہ بج رہے تھے اور میں سونے کے لئے لیٹ گیا۔ کچھ ہی دیر میں رافع آگئے اور انہوں نے ہمیں چلنے کے لئے کہا۔ لہٰذا میں شعیب برنی، ریحان، اسمٰعیل صاحب، دانش ، یاسر۔ شارق، عابد اور ایک اور صاحب منی کی جانب پیدل روانہ ہوئے۔ کچھ دور آگئے تو مسجد خیف دیکھی ۔ یہ منیٰ میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی جس کے مینار بہت دلکش تھے۔اس کے بارے میں یہ روایت مشہور ہے کہ یہاں کئی انبیاء نے نمازیں پڑھی ہیں۔

کچھ اور دور آگے بڑھے تو منی ٰ کے خیمے شروع ہوگئے۔ ہم تیز قدموں سے چلتے رہے یہاں تک کہ سوا گھنٹے میں منزل مقصود تک پہنچ گئے۔ ہمارا مکتب نمبر ۷۶ تھا جس کا خیمہ پول نمبر ۲/۵۰۸ پر واقع تھا۔ جب ہم خیمے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ ایک بڑا سا ہال نما خیمہ تھا جس میں ایک پسلی کی چوڑائی کے برابر گدے بچھے ہوئے تھے۔ اس میں ائیر کنڈیشنر بھی لگا ہوا تھا ۔ اس میں قریب پچاس افراد سما سکتے تھے۔ خیمہ کے باہر باتھ رومز بنے ہوئے تھے۔

یہاں لوکیشن کو اچھی طرح دیکھ لینے کے بعد واپسی کا سفر شروع کیا اور جمرات سے گذرے تاکہ شیطان کو کنکریاں مارنے کی جگہ بھی دیکھ لیں۔ سب سے پہلے جمرہ صغریٰ یعنی چھوٹا شیطان آیا۔ کچھ آگے بڑھے تو جمرہ وسطیٰ اورآخر میں جمر ہ کبریٰ یا عقبہ (یعنی گھاٹی کا شیطان) نظر آیا۔ ہر شیطان ایک بڑی سی دیوار سے ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ دیواریں مستطیل شکل کی تھیں اور خاص پتھر سے بنائی گئی تھیں۔ہر دیوار کے نیچے چاروں طرف ایک پیالے نما گھیرا بنا ہوا تھا تاکہ کنکریاں اس میں گر سکیں۔

ماضی میں کنکریاں مارتے وقت بہت حادثے ہوئے اور کئی لوگ ہلاک ہوئے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پہلے شیطان کی علامت کے لئے ستون تعمیر تھے۔ نیز کنکریاں مارنے والوں کے لئے آنے اور جانے کا ایک ہی راستہ تھا۔ چنانچہ جب لوگ کنکریاں مار کر واپس جاتے تو آنے والوں سے ٹکراؤ ہوتا اور اس مڈبھیڑ میں بھگدڑ مچ جاتی اور کئی لوگ کچلے جاتے۔ اب حکومت نے ان ستونوں کو خاصی بڑی دیوار کی شکل دے دی ہے۔ نیز آنے اور جانے کے راستے الگ کردئے گئے ہیں اور سامان لانے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح کنکریاں مارنے کے لئے تین پل بنادئے گئے ہیں اور کسی بھی پل سے رمی کی جاسکتی ہے۔

میں نے ان شیطانوں کو غور سے دیکھا تو مجھے ان دیواروں میں کوئی ابلیسیت نظر نہ آئی۔ حج کے تمام مناسک دراصل علامتی نوعیت کے ہیں چنانچہ یہ شیطان بھی کوئی اصلی نہیں بلکہ علامتی تھے۔ ان شیاطین کی معروف تاریخ یہی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے فرزند عزیز کو قربان کرنے کے لئے نکلے تو شیطان نمودار ہوا اور اس نے آپ کو ورغلایا اور قربانی سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آپ نے اس پر کنکریاں ماریں اور دھتکاردیا۔ آپ کچھ اور آگے بڑھے تو دوبارہ شیطان نے یہی عمل دہرایا اور آپ نے پھر اسے کنکریوں سے پرے کیا۔ تیسری مقام پر پھر شیطان نمودار ہوا اور آپ کو جھانسا دینے کی کوشش کی ۔ لیکن آپ نے ایک مرتبہ پھر ابلیس کو دھتکاردیا۔ یہ کنکریاں اسی یاد میں ماری جاتی ہیں۔

جمرات سے واپسی پر تقریباً رات کے تین بج گئے۔ اگر یہ کراچی ہوتا تو اتنے پیدل چلنے کے بعد طبیعت خراب ہوجاتی لیکن یہاں طواف اور سعی کرکر کے پیدل چلنے کی عادت ہوچکی تھی۔بہرحال میں گہری نیند سوگیا اور فجر کے وقت اٹھا ۔فجر پڑھنے کے بعد دوبارہ سوگیا۔کیونکہ اگلے روز رات میں حج کی ابتدا ہونی تھی اور منیٰ کے لئے روانہ ہونا تھا۔

حج کی ابتدا
بالآخر وہ گھڑی آپہنچی جس کا انتظار تھا۔ یہ سات ذی الحج کی شب تھی ۔ رات کا کھانا کھایا اور عشاء کی نماز پڑھی۔ آج کی رات منیٰ کی جانب روانگی تھی۔ میرے سب ساتھی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ میں نے بھی غسل کیا اور حج کا احرام زیب تن کرلیا۔ میرے چاروں طرف کے کمروں سے لبیک کی صدائیں آرہی تھیں۔میں بھی تلبیہ پڑھ کر ان لوگوں کی صف میں شامل ہوگیا۔

لبیک اللہم لبیک، لبیک لاشریک لک لبیک ، ان الحمد النعمۃ لک والملک، لاشریک لک
حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔

یہ لبیک خدا کی پکار کا جواب تھی۔ اللہ نے پکارا تھا کہ آؤ میرے بندو، میری جانب آؤ، شیطان کے خلاف جنگ میں حصہ لو ، اس کو آج شکست فاش سے دوچار کردو، اس کی ناک رگڑ دو، آج تم نے اپنا گھر بار ، بیوی بچے ، زیب و زینت سب ترک کردی تو طاغوتی رغبات سے بھی دست بردار ہوجاؤ اور تمام ابلیسی قوتوں کو شکست دے دو۔میں زبان سے لبیک کہہ رہا تھا اوردل کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے۔

"میں حاضر ہوں اس اعتراف کے ساتھ کہ تعریف کے قابل توہی ہے۔ تو تنہا اور یکتا ہے، تجھ سا کوئی نہیں ۔ تیرا کرم، تیری شفقت، تیری عطا ،اور تیری عنایتوں کی کوئی انتہا نہیں۔ تیری عظمت ناقابل بیان ہے، تیری شان لامتناہی طور پر بلند ہے، تیری قدرت ہر عظمت پر حاوی ہے، تیرا علم ہر حاضر و غائب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔تجھ سا کوئی نہیں اور کوئی تیری طرح تعریف کے لائق نہیں ۔

اب تمام زینتیں حرام ہوگئی تھیں، اب نہ کوئی خوشبو لگانی تھی، نہ بال کٹوانے نہ ناخن ترشوانے اور نہ ہی پیر اور چہرے کو ڈھانکنا تھا۔ بس ایک ہی دھن سوار تھی اور وہ یہ کہ کس طرح ازلی دشمن کو شکست سے دوچار کیا جائے۔

احرام پہننے کے بعد ہم سب بس میں بیٹھے اور منیٰ کی جانب روانہ ہوئے۔ بس لبیک کی صداؤں سے گونج رہی تھی۔ تقریباً رات ڈیڑھ بجے منیٰ کے خیموں تک پہنچے۔ ہمارا کیمپ ایکسٹنڈ ڈ منیٰ یعنی مزدلفہ میں تھا۔ ہم سب نے سامان اتارا ۔ میں نوجوان ساتھیوں کے ہمراہ باہر کا جائزہ لینے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ اردگرد بدو عورتوں نے اسٹالز لگارکھے تھے۔ باہر ایک چہل پہل تھی اور لگ نہیں رہا تھا کہ رات کے دو بج رہے ہیں۔ کچھ دیر مٹر گشت کرنے کے بعد ہم سب واپس آگئے ۔ بستر نہایت ہی کم چوڑائی کے تھے اور بمشکل آدمی سیدھا لیٹ سکتا تھا۔ بہر حال سونے کے لئے لیٹ گئے تاکہ صبح تازہ دم ہوکر اٹھ سکیں۔

جاری ہے ۔۔۔۔ 

جمعہ, اگست 25, 2017

ما گنه کاریم و تو آمرزگار



پادشاها جرم ما را در گذار
ما گنه کاریم و تو آمرزگار

  اے بادشاہ ہمارے جرم سے در گزر فرما
ہم گنہگار ہیں اور تو بخشنے والا

تو نکوکاری و ما بد کرده‌ایم
جرم بی‌ پایان و بیحد کرده‌ایم

   تو بھلاٸی کرنے والا اور ہم براٸی کرنے والے ہیں
ہم نے بے انتہا اور بے شمار جرم کیے ہیں 

سالها در فسق و عصیان گشته‌ایم
آخر از کرده پشیمان گشته‌ایم

  برسوں گناہوں اور نافرمانیوں کی قید میں رہے
آخر اپنے کیے پر شرمندہ ہیں

دایما در بند عصیان بوده‌ایم
هم قرین نفس و شیطان بوده‌ایم

  ہمیشہ گناہ و نافرمانی میں مبتلا رہے
نفس اور شیطان کے ساتھی رہے ہیں

روز و شب اندر معاصی بوده‌ایم
غافل از یؤخذ نواصی بوده‌ایم

  شب و روز گناہوں میں غرق رہے
کرنے کاموں اور رکنے کی باتوں سے لاپرواہ رہے

بی گنه نگذشته بر ما ساعتی
با حضور دل نکرده طاعتی

   ہماری کوٸی گھڑی گناہ کے ارتکاب کے بغیر نہیں گزری
ہم نے صدقِ دل سے فرمانبرداری نہیں کی

بر درآمد بندهٔ بگریخته
آب روی خود بعصیان ریخته

   تیرے در پر بھاگا ہوا غلام حاضر ہے
گناہوں کے باعث اپنی عزت و آبرو گنوائے ہوئے

مغفرت دارد امید از لطف تو
زانکه خود فرمودهٔ لاتقنطوا

   تیری مہر بانی سے مغفرت و بخشش کا امید وار ہے
اس لیے کہ تو نے خود فر مایا  مایوس مت ہو !

بحر الطاف تو بی پایان بود
ناامید از رحمتت شیطان بود

   تیری مہر بانیوں کے سمندر کی کوئی انتہا نہیں 
تیری رحمت سے  نا امید شیطان ہوتا ہے

نفس و شیطان زد کریما راه من
رحمتت باشد شفاعت خواه من

   نفس اور شیطان میری راہ حائل ہیں 
تیری رحمت میری سفارش کرنے والی ہے

چشم دارم کز گنه پاکم کنی
پیش از آن کاندر جهان خاکم کنی

   توقع ہے کہ تو مجھے گناہوں سے پاک کر دے گا
اس سے پہلے کہ میں  قبر میں مٹی بن جاؤں

اندر آن دم کز بدن جانم بری
از جهان با نور ایمانم بری

   جس وقت جسم سے میری روح قبض ہو
دنیا سے با ایمان میرا خا تمہ ہو

ماخوذ  ۔از ۔  پند نامہ
                 ر

تدبر القرآن ۔۔۔ سورہ الکوثر از نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ سوم

تدبر القرآن
سورۃ الکوثر
از استاد نعمان علی خان
حصہ سوم

فَصَلِّ لِرَبِّكَ "اپنے رب کے سامنے نماز پڑھیں"
نارملی نماز "لِ" کے ساتھ نہیں آتی ۔ یہاں "لِ" تعلیل ہے جس کامطلب ہے اپنے رب کے لیے پڑھیں ۔ رب جس نے آپکا خیال رکھا ۔ وہ ابھی بھی آپکی پرواہ کرتا ہے ۔اور اس تکلیف کے موقعے پر جب زیادہ تر لوگ یہ کہنے لگ جاتے ہیں  کہ اللہ نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟
تو اللہ تعالی نے ان کی اس بات کے جواب میں یہ "فصل للہ" نہیں کہا۔
"فصل اللہ: اللہ سے مانگیں
اللہ نے کہا
"لربک"
تمہارا رب
وہ جس نے تمہیں چھوڑا نہیں۔
ہر دفعہ جب اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہیں قرآن میں "ربک"  کا استعمال کرتے ہیں ۔جیسے
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ یہاں ہم کیا سیکھ رہے ہیں ؟اللہ نے آپکو جو عطا کیا ہے اسکے لیے شکرادا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟آپ اللہ کا شکر نماز کے ذریعے ادا کرتے ہیں ۔ آپ نماز کو ایک فرض کے طور پر دیکھتے ہیں ،پانچ وقتہ تکلیف دہ شیڈول۔
اور رسول اللہ کے لیے یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں نہ صرف وہ اپنے غم سے پناہ لیں گے بلکہ ایسا ذریعہ ہے جس سے اپنے غم کو خوشی میں تبدیل کریں گے۔ صلوت یہ ہونی چاہیے۔اللہ کے شکر کا نماز سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔
پھر فرمایا
"وانحر"
اس کا ترجمہ قربانی کا کیا جاتا ہے ۔مگر عربی میں وضح بھی قربانی ہو تا ہے۔ ذبح سے مراد بھی قربانی ہوتا ہے۔سو نحر کیا ہے؟
ا میں ذبح گردن کے آگے سے ہوتا ہے ۔
نحر گردن کے پیچھے اور بڑے جانور کے لیے ہوتا ہے ۔سو کہا جارہا ہے کہ صرف کسی چھوٹی چیز کی قربانی نہ کریں ۔یہ بڑا موقع ہے ۔آپ کو کوئی بڑی قربانی کرنے کی ضرورت ہے۔

ابراہیم علیہ اسلم نے بھی کہا تھا کہ
"میں نے خواب دیکھا میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں ۔"
یہاں انھوں نے ذبح کا لفظ استعمال کیا مگر اللہ تعالی فرماتے ہیں،
نہیں! اس سے بڑی قربانی کرو یعنی نحر کرو۔ 
آپ کو نحر کرنے کی ضرورت ہے۔

اس آیت میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اللہ تعالی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم کی میراث میں موازنہ کر رہے ہیں ۔ نماز اور قربانی کا مکمل ادارہ حضرت ابراہیم کی میراث ہے۔مثال کے طور پر حضرت ابراہیم علیہ اسلام فرماتے ہیں
مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دےاور میری اولاد کو بھی۔

یہ حضرت ابراہیم کے الفاظ ہیں اور جب وہ اولاد کے بارے میں بھی سوچتے ہیں تو وہ اس اولاد کو بھی شامل کرتے ہیں جسے قربان کرنےکے لیے وہ راضی تھے۔
اور یہ ہی وجہ ہے کہ حج کے دنوں میں لوگ زیادہ نماز پڑھتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں ۔یہ موقع نماز سے شروع ہوتا ہے۔اور پھر نحر کرتے ہیں ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میراث کو پورا کرتے ہیں۔
اس ایک آیت میں اللہ تعالی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دلا رہے ہیں کہ آپکی میراث وہی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تھی۔ حضرت ابراہیم کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ آپ سے تو بہت کم مانگا گیا ہے اسکے نسبتاً ۔اور آپ حضرت ابراہیم کی میراث پر ہے جن کے لیے چیزیں آسان کر دی گئی تھیں۔مشکل ترین چیزیں آسان کر دی گئی تھیں سو اس میں اطمینان اور سکون تلاش کریں اور حضرت ابراہیم کی میراث کو مکمل کریں۔

شَانِئَكَ :
بغض ،عداوت کے ساتھ جب آپ کسی کے دشمن ہیں اور ان سے شدید نفرت کرتے ہیں۔
هُوَ الْأَبْتَرُ :
بے شک وہی جاری نہ رہنے والا ہے (جڑ کٹا ہے)

آپ اس کے بارے میں فکرمند نہ ہوں ۔آپ کو اس کے خلاف بددعا کرنے کی بھی ضرورت نہیں ۔آپکو اسکے بارے میں سوچنے کی تکلیف کرنے کی بھی ضرورت نہیں اپنے دماغ اور دل کو انکو سوچنے میں استعمال نہ کریں جنھوں نے آپکو تکلیف دی ہے۔ جانے دیں ان باتوں کو۔
وہ اس قابل نہیں۔ آپکو اسکے ساتھ ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں ۔آپکو صرف اللہ کے لیے صیح کرنا ہے۔
فَصَلِّ لِرَبِّك
آپ اپنا کام کرتے رہیں۔

جاری ہے۔۔
-استاد نعمان علی خان

جمعرات, اگست 24, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 24 اگست 2017

~!~ آج کی بات ~!~


ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﺎ ﭘﺘﺎ ﺍﮔﺮ ﺯﺍﺋﭽﻮﮞ۔۔ﭘﺎﻧﺴﻮﮞ۔۔ ﺍﻋﺪﺍﺩ۔۔ ﻟﮑﯿﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ،
 ﺗﻮ ﭘﮭﺮ اللہ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﻋﻘﻞ ﻧﮧ ﺩﯾﺘﺎ- ﺻﺮﻑ ﯾﮩﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺘﺎ-

ﺟﺐ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺑﺪﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ، ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻥ کرﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ؟
ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ، ﻏﯿﺐ ﻏﯿﺐ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ۔
اللہ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺣﻢ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻡ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ!!

ﻋﻤﯿﺮﮦ ﺍﺣﻤﺪ کے ناول ﺁﺏِِ ﺣﯿﺎﺕ سے اقتباس

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر ۔۔۔ حصہ-9

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر
حج کی داستان حج کی اصل روح کے تعارف کے ساتھ

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
حصہ-9

عزیزیہ میں شفٹنگ
زیارت کے بعد یکم ذی الحج کو ہم حرم کے قریب واقع ہوٹل سے عزیزیہ کے مقام پر شفٹ ہوگئے۔ عزیزیہ کعبے سے پانچ کلومیٹر دور ہے اور اس کے قریب منیٰ اور جمرات واقع ہیں۔ یہ ہوٹل السرایا ایمان کی طرح شاندار تو نہ تھا البتہ صاف ستھرا تھا۔ اسی بلڈنگ میں الخیر گروپ کے لوگ بھی ٹہرے ہوئےتھے۔ اس بلڈنگ میں تبلیغی جماعت کے لوگ آکر بیان دیتے تھے اور ایک مرتبہ سعید انور صاحب نے بھی بیان کیا۔ اس ہوٹل سے کچھ ہی دور مولانا طارق جمیل ، جنید جمشید اور دیگر اہم شخصیات قیام پذیر تھیں۔

اس سے پہلے جس ہوٹل میں قیام تھا وہاں ایک کمرے میں تین افراد ہی مقیم تھے جس کی بنا پر لوگوں سے ملاقات کا کم وقت ملتا تھا۔ لیکن یہاں ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں کوئی آٹھ افراد قیام پذیر تھے اور لوگوں سے رابطہ بڑھ گیا۔ یہاں پر شارق، ریحان عابد اور دیگر لوگوں سے بھی دوستی ہوگئی۔ جبکہ میرا دوست آصف بھی برابر والے کمرہ میں مولانا اسلم شیخوپوری کے ہمراہ موجود تھا۔یہاں لدھیانوی ٹریولرز نے تین وقت کا کھانا بھی دینا شروع کردیا حالانکہ یہ پیکیج کا حصہ نہ تھا۔یہاں معمول یہ تھا کہ مولانا اسلم شیخوپوری فجر کے بعد اپنا بیان دیتے جس میں حج کے بارے میں ہدایات دی جاتی تھیں۔ اس بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر ایک حصہ مسجد کے لئے مختص کردیا گیا تھا جہاں ہر نماز کے بعد تبلیغی جماعت والوں کا بیان ہوتا تھا جس میں حج کے فضائل بیان کئے جاتے تھے۔

عزیزیہ کا علاقہ سیاہ پہاڑوں کی آماجگاہ تھا۔ ارد گرد بے شمار حاجی رکے ہوئے تھے۔ بلڈنگ سے ایک گلی چھوڑ کر ایک چھوٹی سی مسجد تھی جہاں کے امام عرب تھے اور انکی قرات بہت خوبصورت تھی۔ قریب آدھے میل دور ایک بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹور بن داؤد بھی تھا جہاں اکثر چیزیں خریدنے کے لئے جانا ہوا۔ عزیزیہ چونکہ مسجد الحرام سے دور تھا اس لئے اکثر نمازیں یہیں ادا کرنی پڑتیں۔

چپلیں
یہاں سے ایک شٹل سروس بھی چلتی تھی جو لوگوں کو حرم لے کر جاتی اور آتی تھی۔ عزیزیہ منتقل ہونے کے دوسرے دن میں آصف اور ان کے دو دوستوں کے ہمراہ شٹل میں بیٹھ کر حرم کی جانب روانہ ہوا۔ راستے میں بس خراب ہوگئی چنانچہ راستہ پیدل طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ عصر کی نماز قریب تھی چنانچہ تیز تیز قدموں سے مسجد پہنچے جہاں چھت پر جگہ ملی۔میرے پاس چپل رکھنے کے لئے کوئی تھیلی نہ تھی البتہ راستے سے ایک تھیلی اٹھائی اور اس میں اپنی اور آصف کی چپلیں رکھ لیں۔ عصر کی نماز کے قریب آدھے گھنٹے بعد تک وہیں بیٹھے رہے پھر طواف کرنے کے لئے نیچے اترے۔ مجھے علم نہیں تھا کہ واپسی کا راستہ کس طرح طے کرنا ہے اس لئے میں نے دانش کو بتادیا تھا کہ میں اس کے ساتھ جاؤں گا۔ عصر کے بعد ایک طواف کیا۔مغرب اور عشاء پڑھی اور پھر ایک اور طواف کیا۔

آصف مجھ سے جدا ہوچکا تھا لیکن اس کی چپلیں میرے پاس تھیں۔ ہم نے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ جدائی کی صورت میں باب عزیز کے پاس جو گھنٹہ گھر ہے وہاں ملاقات کرنی ہے۔ چنانچہ میں وہاں پہنچ گیا لیکن وہاں بے پناہ رش تھا۔ میں نے آصف کو کال کی لیکن کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ میں نے کالز کا سلسلہ جاری رکھا لیکن کوئی رابطہ نہ ہوپایا۔ اسی اثنا میں دانش کو فون کیا تو پتا چلا کہ وہ نکل چکا ہے اور بس کے اسٹاپ پر موجود ہے۔ میں گھبراگیا ۔ ایک جانب آصف سے رابطہ نہیں ہورہا تھا اور وہ ننگے پاؤں تھا تو دوسری جانب بس نکل رہی تھی جو غالبا آخری بس تھی۔اب میرے پاس دو راستے تھے۔ یا تو میں وہیں کھڑا رہ کر آصف کا انتظار کروں جس کے آنے کا کوئی علم نہ تھا۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ دانش کے پاس چلا جاؤں اور آصف کو راستہ بھی گائیڈ کروں کیونکہ امکان تھا کہ وہ چپلیں قریب بازار سے لے لےگا۔ چنانچہ میں نے دانش کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔
جب میں بس میں بیٹھ کر روانہ ہوا تو آصف کا فون آگیا لیکن میں نکل چکا تھا۔ آصف بے چارہ ننگے پاؤ ں ہی راستہ طے کرکے عزیزیہ پہنچا۔ آصف کے ساتھیوں نے مجھ سے شکایت کی لیکن آصف نے میرا فیور لیا۔ بعد میں میں نے آصف سے اپنے غلط اجتہاد کی معافی مانگ لی۔

مولانا اسلم شیخوپوری سے نشست
میرے کمرے سے متصل کمرے میں مولانا اسلم شیخوپوری مقیم تھے ۔ ایک دن جب وہ اکیلے بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے ملاقات کی غرض سے ان کے پاس گیا۔ میں نےان سے دریافت کیا کہ اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے کیا اقدام کرنے چاہئیں۔ انہوں نے ایک آہ بھری اور کہا کہ میاں یہ تو ساری زندگی کا سودا ہے، یہ اپنی زندگی کا ہر پہلو رب کے نام کرنے کا مشن ہے۔ کئی لوگ اس میدان میں آئے اور ناکام ہوگئے۔ بس اس کا حل یہی ہے کہ اپنی رضا خدا کی رضا کے تابع کردی جائے۔ میں نے ان سے کچھ تفاسیر کے بارے میں دریافت کیاتو انہوں نے اس کےبارے میں بتایا لیکن اختلاف رائے کے باوجود کسی کی برائی نہیں کی۔ آخر میں ان کو میں نے اپنے خود احتسابی سوالنامے کا تعارف کرایا۔ وہ اس کے بارے میں سن کر بڑے خوش ہوئے اور خاصی حوصلہ افزائی کی اور پاکستان پہنچنے پر اسے دیکھنے کی خواہش بھی کی۔اس پوری گفتگو میں میں نے انہیں ایک عجزو انکساری کا پیکر پایا۔

مسجد عقبہ 
عزیزیہ میں فراغت کا کافی وقت ہوتا تھا اس لئے نماز وغیرہ سے فارغ ہوکر ہم مٹرگشت کے لیے نکل جاتے تھے۔ وہاں سے جمرات یعنی کنکریاں مارنے کی جگہ صرف دس منٹ کی واک پر تھی۔ جمرات کے قریب ایک قدیم تاریخی مسجد دیکھی۔ اس پر پیلے رنگ کا روغن تھا اور وہ کچے گارے کی بنی ہوئی تھی۔ اس کے دروازے پر تالا تھا اور چند صفیں باہر سے منتشر حالت میں دکھائی دے رہی تھیں۔ ایک تختی پر عربی رسم الخط میں کچھ لکھا ہوا تھا جو پرانا ہونے کے سبب ناقابل مطالعہ تھا۔ البتہ تختی پر خلیفہ مستنصر باللہ کا نام کندہ تھا اس سے پتا چلتا تھا کہ یہ عباسی دور کی مسجد ہے۔ جب تحقیق کی تو علم ہوا کہ اس کا نام مسجد عقبہ ہے۔ یہاں پر یثرب سے آنے والوں نےبیعت کی تھی۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ حج عرب میں ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے جاری ہے۔ چنانچہ یہ حج اس وقت بھی جاری تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت نہیں ملی تھی۔ نبوت کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کی ابتدا کی تو حج کے موقع کا بھی بھرپور استعما ل کیا کیونکہ سارے عرب کے قبائل یہاں حج کے لیے حاضر ہوتے تھے۔کئی سالوں تک آپ حج میں تبلیغ کرتے رہے۔ ابتدا میں تو کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی لیکن بعد میں مدینے سے آنے والے وفد نے نبوت کے گیارہویں سال اس دعوت پر غور کیا اور گیارہ آدمیوں نے اسلام قبول کرلیا اور یہ وعدہ کیا کہ وہ مدینے جاکر اسلام کی تبلیغ کریں گے۔

اگلے سال حج میں دوبارہ مدینے سے وفد آیا اور اس نے پہلی بیعت کی ۔ یہ بیعت ایک گھاٹی پر خفیہ طریقے سے ہوئی تاکہ قریش کو کانوں کان خبرنہ ہو۔ گھاٹی کو عربی میں عقبہ کہتے ہیں اسی لئے اس بیعت کوبیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ کے لئے حضرت معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو بھی ساتھ بھیج دیا۔نبوت کے کے تیرہویں سال ایک مرتبہ پھر حج کے دنوں میں مدینے کا وفد آیا اور ایک اور بیعت ہوئی جسے بیعت عقبہ ثانی کہتے ہیں ۔ یہ بیعت بھی اسی مقام پر رات کی تاریکی میں ہوئی۔ چونکہ یہ گھاٹی منیٰ کے آخری کونے پر بڑے جمرے کے سامنے واقع تھی اس لئے اس کا انتخاب کیا گیا۔اس میں نبی کریم کی ہجرت کے منصوبے کو فائنل کیا گیا۔ اسی مقام پر یہ مسجد بعد میں تعمیر کی گئی جسے مسجد عقبہ کہتے ہیں۔

جاری ہے ۔۔۔ 

بدھ, اگست 23, 2017

اللہ کے نام پر۔۔۔

اللہ کے نام پر۔۔۔
افتخار اجمل بھوپال صاحب کا شکریہ سوچ کو بیدار کرنے کے لیے :)

رسول اکرم سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہِ و سلّم کا ارشاد ہے ” تُم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں قربان نہ کرے“۔

ہم تو اللہ کے نام پر دینے کے لیے بچے ہوئے سکے اور پرانے نوٹ رکھتے ہیں کہ کو ئی مانگنے والا ملا تو دے دیں گے ۔۔۔
 پرانے کپڑے جن کے یا تو رنگ خراب ہو چکے ہوتے ہیں، یا آؤٹ آف فیشن ہو جاتے ہیں یا جن سے دل بھر جاتا ہے وہ نکال کر الگ رکھ دیتے ہیں (اللہ کے نام پر) کسی ضروررت مند کو دینے کے لیے ۔۔۔
 دنیاوی مشاغل میں جو تھوڑا “فارغ وقت” مل جائے تو سوچتے ہیں کہ کچھ اللہ کا ذکر کرلیا جائے یا آج نماز پڑھ لیتے ہیں۔۔۔
 ہم تو “بے کار” “پرانی” “فالتو” اور “فارغ” چیزیں نکالتے ہیں اللہ کے لیے اور توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بہترین دے (وہ کریم دیتا بھی ہے)۔۔۔ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟

نبیوں کا حج، آسانیاں اور حجر اسود کا اژدہام! (خطبہ حرم مکی)

بمطابق: 21 ذی القعدہ 1438
خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی 

منتخب اقتباس

الحمد للہ! تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں دین اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم پر بیت اللہ کا حج فرض کیا۔ اسی نے حج کو جنت میں داخلے اور گناہوں کے مٹنے کا سبب بنایا۔ میں اللہ پاک کی حمد بجا لاتا ہوں، اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی سے معافی مانگتا ہوں۔ میں ساری بھلائی اسی کی طرف منسوب کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی آل پر، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے پیروکاروں پر۔

بعدازاں! اے مسلمانو!

میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ خوفِ خدا ہی بہترین ہتھیار، عمدہ ترین اثاثہ اور قیامت کے لیے بہترین سرمایہ ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’سفرِ حج کے لیے زاد راہ ساتھ لے جاؤ، اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے چنانچہ اے ہوش مندو! میر ی نا فرمانی سے پرہیز کرو‘‘ (بقرۃ: 197)

اے بیت اللہ کے حاجیو!

مبارک ہو! کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر بلانے کے لیے تمہیں چنا ہے۔ تم دینِ اسلام کا عظیم ترین فریضہ ادا کرنے کے لیے تلبیہ پڑھتے ہوئے دنیا کے ہر کونے سے بیت اللہ میں آ پہنچے ہو۔ حج یا عمرہ کے لیے اس بابرکت مقام کی طرف آنے سے درجے بلند ہوتے ہیں اور گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

اللہ کے بندو! دیکھو! یہ ہے مکہ اور اس کی ہیبت۔ یہ ہے کعبہ اور اس کا جمال۔ یہ ہیں زمزم، حطیم، حجر اسود اور مقام ابراہیم۔ یہ ہیں صفا، مروہ، مزدلفہ، منیٰ اور عرفات۔

کتنے نبیوں اور رسولوں نے اس گھر کا حج کیا اور مقاماتِ مقدسہ میں نفل عبادتیں کیں، وہ تلبیہ پڑھتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے رہے۔

یہ ہیں اللہ کے رسول! جو حجۃ الوداع کے موقع پر ان کشادہ مقامات سے گزر رہے ہیں۔ گویا کہ یہاں کے پہاڑ، کھائیاں، بلندیاں اور وادیاں انہیں اپنی خبریں سنا رہی ہیں اور بتا رہی ہیں کہ ان کے پاس سے کو ن کون گزر چکا ہے۔

سیدنا ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم وادی الارزق سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دریافت فرمایا: ’’یہ کون سی وادی ہے؟‘‘ صحابہ کرام نے کہا: یہ وادی الازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ موسیٰ میرے سامنے پہاڑ سے اتر رہے ہیں اور بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔ ‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ایک پہاڑی راستے سے گزرے تو فرمایا: ’’یہ کون سا راستہ ہے؟‘‘ صحابہ کرام نے کہا: یہ ہرشا نامی راستہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے یوں لگ رہا ہے کہ یونس اون کا جبہ پہنے ہوئے اپنے سرخ گھنگریالے اونٹ پر یہاں سے گزر رہے ہیں، جس کی مہار کھجور کے درخت کا تنا ہے اور وہ تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔‘‘ (مسلم)

جب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم وادی عسفان سے گزرے تو بتایا کہ حضرت ہود اور حضرت صالح حج کے لیے جاتے ہوئے یہاں سے تلبیہ پڑھتے ہوئے گزرے تھے۔ (مسند احمد)

حجت الوداع کے موقع پر جب لوگ اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:

’’مناسک حج کو اچھی طرح سمجھ لو۔ تمہیں آج حضرت ابراہیم کی میراث کا حصہ ملا ہے۔‘‘ (ابو داؤد)

اس طرح نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انبیاء کے قافلے کا ذکر فرمایا تاکہ لوگ ان کے راستے پر چلیں اور ان کا طریقہ اپنائیں۔ قرآن کریم نے بھی اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

’’لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اس مقام کو مستقل جائے نماز بنا لو‘‘ (بقرۃ: 125)

اللہ کے بندو! یہ ایک عظیم فریضہ ہے جو پاکیزہ گھر میں ادا کیا جاتا ہے، جس کے قافلے میں اللہ کے نبی اور رسول شریک ہوئے۔ اس میں حضرت ابراہیم، حضرت صالح، حضرت ہود، حضرت موسیٰ، حضرت یونس، حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور دیگر انبیا شریک ہوئے۔

ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم فرمایا: ’’مسجد خیف میں ستر نبیوں نے نماز ادا کی ‘‘ (طبرانی)
حضرت عیسیٰ ابن مریم بھی زمانے کے آخر میں اسی مسجد میں نماز ادا کریں گے۔

سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ’’اس رب کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! عیسیٰ ابن مریم فج روحاء سے حج یا عمرے کے لیے احرام باندھیں گے یا دونوں کا احرام یہیں سے باندھیں گے۔‘‘ (مسلم)

تو انبیا کا دین ایک ہے اور سب ایک ہی رب کی عبادت کے داعی ہیں۔

اےمؤمنو!

حج کا عظیم ترین مقصد توحیدِ باری تعالیٰ ہے، کیونکہ اس گھر کی بنیاد بھی توحید ہی ہے اور یہ بھی توحید ہی کے لیے بنایا گیا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ "میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو‘‘ (حج: 26)

توحید ہی سے گناہ مٹتے ہیں۔ فرمان نبوی ہے:

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اگر تو مجھے اس حال میں ملے کہ تو نے زمین کے برابر گناہ کیے ہوں مگر تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں تجھے تیرے گناہوں کے برابر مغفرت دے کر تجھے معاف کر دوں۔ ‘‘ (ترمذی)

اے امت اسلامیہ!

جس طرح اللہ تعالیٰ نے عبادت میں اخلاص کا حکم دیا ہے اسی طرح بندوں کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان کی عزت کا خیال کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنے اور ان پر رحم کرنے کا حکم دیا ہے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب سے فرمایا: ’’اے عمر! تم طاقتور انسان ہو۔ حجر اسود کے پاس دھکم پیل نہ کرنا تاکہ ضعیفوں کو اذیت نہ پہنچے۔ اگر جگہ ملے تو بوسہ دے لو وگرنہ اس کے سامنے ہو کر لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر کہہ لو‘‘ (مسند احمد)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا یہ ارشاد عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے کہ وہ رش کے مواقع پر اپنے بھائیوں کو تکلیف نہ دیں بلکہ نرمی، رحمدلی، آسانی اور تواضع اپنائیں۔

اے مؤمنو! ہمیں یہ بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ نرمی اور سکینت کے بغیر ہماری عبادت مکمل ہو ہی نہیں سکتی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نرمی کی وجہ سے وہ اجر عطا فرماتا ہے جو سختی پر نہیں عطا فرماتا۔

سیدہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’اے عائشہ! اللہ تعالیٰ بہت نرم دل ہے۔ وہ نرمی پسند کرتا ہے۔ وہ نرمی پر وہ اجر دیتا ہے جو اس کے سوا کسی دوسری چیز پر نہیں دیتا۔‘‘ (مسلم)
امام نووی رح فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نرمی کا ثواب دوسری چیزوں کے ثواب سے زیادہ ہے،

دینی اخوت، ایمانی تعلق اور بھائی چارہ تو حج میں بڑے بہترین انداز میں نظر آتا ہے۔ دیکھیے کہ کس طرح سارے حاجی بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں، عرفات کے میدان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور پھر مزدلفہ میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ سب کا ایک ہی معبود ہے، ایک ہی وقت وہ ایک ہی عبادت کر رہے ہیں، ایک ہی طرح کا لباس پہنے ہوئے ہیں اور سب کا قبلہ بھی ایک ہی ہے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر دن کی تمام گھڑیاں تو نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مکمل عاجزی اور انکساری کے ساتھ ذکر اور دعا میں گزاریں۔ پھر جب غروب آفتاب کا وقت ہوا اور عرفات کے میدان سے نکلنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسامہ بن زید کو بلوایا تاکہ انہیں اپنے ساتھ اپنی سواری پر بٹھا لیں۔ لوگوں نے حضرت اسامہ کو آوازیں دیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم انہیں بلا رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے سمجھا کہ اسامہ بن زید عرب کے سرداروں میں سے ہیں، تاہم ان کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے سیاہ رنگ، چپٹی ناک اور گھنگریالے بالوں والا نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اونٹنی پر سوار ہوتے ہوئے دیکھا۔ یہ نوجوان سارے صحابہ میں سے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ہم سوار ہونے کا شرف لے گیا تھا۔

یوں لگتا ہے کہ ایسا کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انسانوں میں تمام قسم کے فرق توڑ رہے تھے، یا اپنے قدموں تلے جاہلیت کے نعرے روند رہے تھے اور عملی طریقے سے اعلان کر رہے تھے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر تقویٰ کے علاوہ کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔

حج کے عظیم ترین مقاصد میں سے ایک مقصد اللہ کا ذکر بھی ہے۔ بلک ہر نیکی کا مقصد اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی ہے اور جو شخص جتنا زیادہ ذکر کرے گا اتنا ہی اسے زیادہ اجر ملے گا۔

ابن قیّم رح فرماتے ہیں:

’’ہر نیکی میں افضل ترین لوگ وہ ہیں جو نیکی میں سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ روزہ داروں میں بہترین روزے دار وہ ہیں جو زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں، صدقہ کرنے والوں میں بہترین صدقہ کرنے والے وہ ہیں سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں اور افضل ترین حاجی وہ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں۔‘‘

اللہ کے بندو! یہ ہے حج! چند دن اور چند راتیں جن کی ابتدا اللہ کے ذکر سے ہوتی ہے اور جو اللہ کے ذکر ہی پر ختم ہو جاتے ہیں۔ اس دوران گروہی نعروں اور سیاسی اختلافات کی کوئی جگہ نہیں۔ حج تو اخلاص، توحید اور اللہ کے ذکر کا نام ہے۔

اے مؤمنو!

شریعت اسلامیہ کے مقاصد میں ایک عظیم ترین مقصد انسانوں کے لیے آسانی کرنا ہے۔ خاص طور پر عبادتوں میں آسانی پیدا کرنا اور یہی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی رسالت کا مقصد بھی ہے۔

چنانچہ حج کی ادائیگی کو آسان بنانا اور اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرنا بھی شریعت کا عظیم مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلاد حرمین، سعودی عرب کو اللہ کے مہمانوں کی خدمت کا شرف بخشا ہے۔ یہ حکومت حجاج کرام اور مسجد نبوی میں آنے والوں کی آسانی کے لیے ہر چھوٹی اور بڑی کوشش کر رہی ہے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائیوں کو دیکھا کہ وہ زمزم کے کنوے سے حاجیوں کو پانی پلا رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنا کام جاری رکھو! تم بڑا نیک کام کر رہے ہو۔ اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ خدمت کے اس کام کو آپ سے چھین لیں گے تو میں خود آ کر اپنے کندھے پر رسی رکھ کر کنوے سے پانی نکالتا۔‘‘ (بخاری)

کوئی شک نہیں کہ حجاج کرام کی خدمت، ان کے امن وامان کی دیکھ بھال، ان کے مفاد کی حفاظت اور ان بابرکت دنوں اور مبارک شہروں میں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا عظیم ترین عبادت ہے۔

نیکی کے کام میں تو صرف نیکی کی راہ دکھانے والے کو بھی نیکی کرنے والے جتنا اجر مل جاتا ہے تو بھلا اس میں مدد کرانے اور اس کے اسباب فراہم کرنے والے کو کتنا اجر ملے گا؟

مہمانان خدا کی آسانی کے لیے پہرہ داری کرنے والی ہر آنکھ مبارک باد کے لائق ہے۔ امن وامان کی حفاظت کے لیے اور دشمنوں کے حملے روکنے لیے کے لیے جاگی رہنے والی ہر آنکھ مبارک باد کی مستحق ہے۔ بھلائیاں اور کامیابیاں آپ کو مبارک ہوں اور فضیلتیں اور نیکیاں تمہیں مبارک ہوں۔