بدھ, اگست 23, 2017

اللہ کے نام پر۔۔۔

اللہ کے نام پر۔۔۔
افتخار اجمل بھوپال صاحب کا شکریہ سوچ کو بیدار کرنے کے لیے :)

رسول اکرم سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہِ و سلّم کا ارشاد ہے ” تُم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں قربان نہ کرے“۔

ہم تو اللہ کے نام پر دینے کے لیے بچے ہوئے سکے اور پرانے نوٹ رکھتے ہیں کہ کو ئی مانگنے والا ملا تو دے دیں گے ۔۔۔
 پرانے کپڑے جن کے یا تو رنگ خراب ہو چکے ہوتے ہیں، یا آؤٹ آف فیشن ہو جاتے ہیں یا جن سے دل بھر جاتا ہے وہ نکال کر الگ رکھ دیتے ہیں (اللہ کے نام پر) کسی ضروررت مند کو دینے کے لیے ۔۔۔
 دنیاوی مشاغل میں جو تھوڑا “فارغ وقت” مل جائے تو سوچتے ہیں کہ کچھ اللہ کا ذکر کرلیا جائے یا آج نماز پڑھ لیتے ہیں۔۔۔
 ہم تو “بے کار” “پرانی” “فالتو” اور “فارغ” چیزیں نکالتے ہیں اللہ کے لیے اور توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بہترین دے (وہ کریم دیتا بھی ہے)۔۔۔ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں