بدھ, اگست 23, 2017

نبیوں کا حج، آسانیاں اور حجر اسود کا اژدہام! (خطبہ حرم مکی)

بمطابق: 21 ذی القعدہ 1438
خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی 

منتخب اقتباس

الحمد للہ! تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں دین اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم پر بیت اللہ کا حج فرض کیا۔ اسی نے حج کو جنت میں داخلے اور گناہوں کے مٹنے کا سبب بنایا۔ میں اللہ پاک کی حمد بجا لاتا ہوں، اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی سے معافی مانگتا ہوں۔ میں ساری بھلائی اسی کی طرف منسوب کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی آل پر، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے پیروکاروں پر۔

بعدازاں! اے مسلمانو!

میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ خوفِ خدا ہی بہترین ہتھیار، عمدہ ترین اثاثہ اور قیامت کے لیے بہترین سرمایہ ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’سفرِ حج کے لیے زاد راہ ساتھ لے جاؤ، اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے چنانچہ اے ہوش مندو! میر ی نا فرمانی سے پرہیز کرو‘‘ (بقرۃ: 197)

اے بیت اللہ کے حاجیو!

مبارک ہو! کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر بلانے کے لیے تمہیں چنا ہے۔ تم دینِ اسلام کا عظیم ترین فریضہ ادا کرنے کے لیے تلبیہ پڑھتے ہوئے دنیا کے ہر کونے سے بیت اللہ میں آ پہنچے ہو۔ حج یا عمرہ کے لیے اس بابرکت مقام کی طرف آنے سے درجے بلند ہوتے ہیں اور گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

اللہ کے بندو! دیکھو! یہ ہے مکہ اور اس کی ہیبت۔ یہ ہے کعبہ اور اس کا جمال۔ یہ ہیں زمزم، حطیم، حجر اسود اور مقام ابراہیم۔ یہ ہیں صفا، مروہ، مزدلفہ، منیٰ اور عرفات۔

کتنے نبیوں اور رسولوں نے اس گھر کا حج کیا اور مقاماتِ مقدسہ میں نفل عبادتیں کیں، وہ تلبیہ پڑھتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے رہے۔

یہ ہیں اللہ کے رسول! جو حجۃ الوداع کے موقع پر ان کشادہ مقامات سے گزر رہے ہیں۔ گویا کہ یہاں کے پہاڑ، کھائیاں، بلندیاں اور وادیاں انہیں اپنی خبریں سنا رہی ہیں اور بتا رہی ہیں کہ ان کے پاس سے کو ن کون گزر چکا ہے۔

سیدنا ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم وادی الارزق سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دریافت فرمایا: ’’یہ کون سی وادی ہے؟‘‘ صحابہ کرام نے کہا: یہ وادی الازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ موسیٰ میرے سامنے پہاڑ سے اتر رہے ہیں اور بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔ ‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ایک پہاڑی راستے سے گزرے تو فرمایا: ’’یہ کون سا راستہ ہے؟‘‘ صحابہ کرام نے کہا: یہ ہرشا نامی راستہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے یوں لگ رہا ہے کہ یونس اون کا جبہ پہنے ہوئے اپنے سرخ گھنگریالے اونٹ پر یہاں سے گزر رہے ہیں، جس کی مہار کھجور کے درخت کا تنا ہے اور وہ تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔‘‘ (مسلم)

جب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم وادی عسفان سے گزرے تو بتایا کہ حضرت ہود اور حضرت صالح حج کے لیے جاتے ہوئے یہاں سے تلبیہ پڑھتے ہوئے گزرے تھے۔ (مسند احمد)

حجت الوداع کے موقع پر جب لوگ اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:

’’مناسک حج کو اچھی طرح سمجھ لو۔ تمہیں آج حضرت ابراہیم کی میراث کا حصہ ملا ہے۔‘‘ (ابو داؤد)

اس طرح نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انبیاء کے قافلے کا ذکر فرمایا تاکہ لوگ ان کے راستے پر چلیں اور ان کا طریقہ اپنائیں۔ قرآن کریم نے بھی اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

’’لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اس مقام کو مستقل جائے نماز بنا لو‘‘ (بقرۃ: 125)

اللہ کے بندو! یہ ایک عظیم فریضہ ہے جو پاکیزہ گھر میں ادا کیا جاتا ہے، جس کے قافلے میں اللہ کے نبی اور رسول شریک ہوئے۔ اس میں حضرت ابراہیم، حضرت صالح، حضرت ہود، حضرت موسیٰ، حضرت یونس، حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور دیگر انبیا شریک ہوئے۔

ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم فرمایا: ’’مسجد خیف میں ستر نبیوں نے نماز ادا کی ‘‘ (طبرانی)
حضرت عیسیٰ ابن مریم بھی زمانے کے آخر میں اسی مسجد میں نماز ادا کریں گے۔

سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ’’اس رب کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! عیسیٰ ابن مریم فج روحاء سے حج یا عمرے کے لیے احرام باندھیں گے یا دونوں کا احرام یہیں سے باندھیں گے۔‘‘ (مسلم)

تو انبیا کا دین ایک ہے اور سب ایک ہی رب کی عبادت کے داعی ہیں۔

اےمؤمنو!

حج کا عظیم ترین مقصد توحیدِ باری تعالیٰ ہے، کیونکہ اس گھر کی بنیاد بھی توحید ہی ہے اور یہ بھی توحید ہی کے لیے بنایا گیا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ "میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو‘‘ (حج: 26)

توحید ہی سے گناہ مٹتے ہیں۔ فرمان نبوی ہے:

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اگر تو مجھے اس حال میں ملے کہ تو نے زمین کے برابر گناہ کیے ہوں مگر تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں تجھے تیرے گناہوں کے برابر مغفرت دے کر تجھے معاف کر دوں۔ ‘‘ (ترمذی)

اے امت اسلامیہ!

جس طرح اللہ تعالیٰ نے عبادت میں اخلاص کا حکم دیا ہے اسی طرح بندوں کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان کی عزت کا خیال کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنے اور ان پر رحم کرنے کا حکم دیا ہے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب سے فرمایا: ’’اے عمر! تم طاقتور انسان ہو۔ حجر اسود کے پاس دھکم پیل نہ کرنا تاکہ ضعیفوں کو اذیت نہ پہنچے۔ اگر جگہ ملے تو بوسہ دے لو وگرنہ اس کے سامنے ہو کر لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر کہہ لو‘‘ (مسند احمد)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا یہ ارشاد عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے کہ وہ رش کے مواقع پر اپنے بھائیوں کو تکلیف نہ دیں بلکہ نرمی، رحمدلی، آسانی اور تواضع اپنائیں۔

اے مؤمنو! ہمیں یہ بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ نرمی اور سکینت کے بغیر ہماری عبادت مکمل ہو ہی نہیں سکتی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نرمی کی وجہ سے وہ اجر عطا فرماتا ہے جو سختی پر نہیں عطا فرماتا۔

سیدہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’اے عائشہ! اللہ تعالیٰ بہت نرم دل ہے۔ وہ نرمی پسند کرتا ہے۔ وہ نرمی پر وہ اجر دیتا ہے جو اس کے سوا کسی دوسری چیز پر نہیں دیتا۔‘‘ (مسلم)
امام نووی رح فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نرمی کا ثواب دوسری چیزوں کے ثواب سے زیادہ ہے،

دینی اخوت، ایمانی تعلق اور بھائی چارہ تو حج میں بڑے بہترین انداز میں نظر آتا ہے۔ دیکھیے کہ کس طرح سارے حاجی بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں، عرفات کے میدان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور پھر مزدلفہ میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ سب کا ایک ہی معبود ہے، ایک ہی وقت وہ ایک ہی عبادت کر رہے ہیں، ایک ہی طرح کا لباس پہنے ہوئے ہیں اور سب کا قبلہ بھی ایک ہی ہے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر دن کی تمام گھڑیاں تو نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مکمل عاجزی اور انکساری کے ساتھ ذکر اور دعا میں گزاریں۔ پھر جب غروب آفتاب کا وقت ہوا اور عرفات کے میدان سے نکلنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسامہ بن زید کو بلوایا تاکہ انہیں اپنے ساتھ اپنی سواری پر بٹھا لیں۔ لوگوں نے حضرت اسامہ کو آوازیں دیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم انہیں بلا رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے سمجھا کہ اسامہ بن زید عرب کے سرداروں میں سے ہیں، تاہم ان کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے سیاہ رنگ، چپٹی ناک اور گھنگریالے بالوں والا نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اونٹنی پر سوار ہوتے ہوئے دیکھا۔ یہ نوجوان سارے صحابہ میں سے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ہم سوار ہونے کا شرف لے گیا تھا۔

یوں لگتا ہے کہ ایسا کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انسانوں میں تمام قسم کے فرق توڑ رہے تھے، یا اپنے قدموں تلے جاہلیت کے نعرے روند رہے تھے اور عملی طریقے سے اعلان کر رہے تھے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر تقویٰ کے علاوہ کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔

حج کے عظیم ترین مقاصد میں سے ایک مقصد اللہ کا ذکر بھی ہے۔ بلک ہر نیکی کا مقصد اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی ہے اور جو شخص جتنا زیادہ ذکر کرے گا اتنا ہی اسے زیادہ اجر ملے گا۔

ابن قیّم رح فرماتے ہیں:

’’ہر نیکی میں افضل ترین لوگ وہ ہیں جو نیکی میں سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ روزہ داروں میں بہترین روزے دار وہ ہیں جو زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں، صدقہ کرنے والوں میں بہترین صدقہ کرنے والے وہ ہیں سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں اور افضل ترین حاجی وہ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں۔‘‘

اللہ کے بندو! یہ ہے حج! چند دن اور چند راتیں جن کی ابتدا اللہ کے ذکر سے ہوتی ہے اور جو اللہ کے ذکر ہی پر ختم ہو جاتے ہیں۔ اس دوران گروہی نعروں اور سیاسی اختلافات کی کوئی جگہ نہیں۔ حج تو اخلاص، توحید اور اللہ کے ذکر کا نام ہے۔

اے مؤمنو!

شریعت اسلامیہ کے مقاصد میں ایک عظیم ترین مقصد انسانوں کے لیے آسانی کرنا ہے۔ خاص طور پر عبادتوں میں آسانی پیدا کرنا اور یہی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی رسالت کا مقصد بھی ہے۔

چنانچہ حج کی ادائیگی کو آسان بنانا اور اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرنا بھی شریعت کا عظیم مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلاد حرمین، سعودی عرب کو اللہ کے مہمانوں کی خدمت کا شرف بخشا ہے۔ یہ حکومت حجاج کرام اور مسجد نبوی میں آنے والوں کی آسانی کے لیے ہر چھوٹی اور بڑی کوشش کر رہی ہے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائیوں کو دیکھا کہ وہ زمزم کے کنوے سے حاجیوں کو پانی پلا رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنا کام جاری رکھو! تم بڑا نیک کام کر رہے ہو۔ اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ خدمت کے اس کام کو آپ سے چھین لیں گے تو میں خود آ کر اپنے کندھے پر رسی رکھ کر کنوے سے پانی نکالتا۔‘‘ (بخاری)

کوئی شک نہیں کہ حجاج کرام کی خدمت، ان کے امن وامان کی دیکھ بھال، ان کے مفاد کی حفاظت اور ان بابرکت دنوں اور مبارک شہروں میں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا عظیم ترین عبادت ہے۔

نیکی کے کام میں تو صرف نیکی کی راہ دکھانے والے کو بھی نیکی کرنے والے جتنا اجر مل جاتا ہے تو بھلا اس میں مدد کرانے اور اس کے اسباب فراہم کرنے والے کو کتنا اجر ملے گا؟

مہمانان خدا کی آسانی کے لیے پہرہ داری کرنے والی ہر آنکھ مبارک باد کے لائق ہے۔ امن وامان کی حفاظت کے لیے اور دشمنوں کے حملے روکنے لیے کے لیے جاگی رہنے والی ہر آنکھ مبارک باد کی مستحق ہے۔ بھلائیاں اور کامیابیاں آپ کو مبارک ہوں اور فضیلتیں اور نیکیاں تمہیں مبارک ہوں۔


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں