آج کی بات ۔۔۔ 524

 


🌹 آج کی بات 🌹


اگر آپ کی دو آنکھیں ہیں،

تو آپ لوگوں کو اپنے کانوں سے کیوں دیکھ رہے ہو؟

لوگوں سے ویسے پیش آؤ جیسا اُنہیں دیکھتے ہو،

ویسا ہرگز نہیں، جیسا تم اُن کے بارے میں سنتے ہو!

  🌹 آج کی بات 🌹 اگر آپ کی دو آنکھیں ہیں، تو آپ لوگوں کو اپنے کانوں سے کیوں دیکھ رہے ہو؟ لوگوں سے ویسے پیش آؤ جیسا اُنہیں دیکھتے ہو، ویسا...

اجازت ملی ہوئی ہے

 


شاعر: نا معلوم


زمیں کوعجلت، ہوا کوفرصت، خلا کو لُکنت ملی ہوئی ہے  

ہم احتجاجاً ہی جی رہے ہیں، یا پھر اجازت ملی ہوئی ہے


میں اپنی مرضی کے تارے چُن کر فلک پہ چہرے بنا رہا ہوں

بغیر چھت کے جو سو گیا ہوں تو یہ سہولت مِلی ہوئی ہے


ہماری اوقات کے مطابق  ہمارے درجے بنے ہوئے ہیں  

کسی کو قدرت، کسی کو حسرت، کسی کو قسمت ملی ہوئی ہے

  شاعر: نا معلوم زمیں کوعجلت، ہوا کوفرصت، خلا کو لُکنت ملی ہوئی ہے   ہم احتجاجاً ہی جی رہے ہیں، یا پھر اجازت ملی ہوئی ہے میں اپنی مرضی کے تا...

شمشیرِ بے نیام ۔۔۔ خالد بن ولید ۔۔۔ قسط نمبر 21

 




شمشیرِ بے نیام

 حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

( قسط 21 )

رسولِ کریمﷺ نے ایسی ایک مہم خالدؓ بن ولید کی زیرِکمان یمن کے شمال میں نجران بھیجی۔ وہاں قبیلہ بنو حارثہ بن کعب آباد تھا۔ان لوگوں نے رسولِ کریمﷺ کے پیغام کا مذاق اڑایا تھا ۔ خالدؓ مجاہدین کے ایک سوار دستے کو جس کی تعداد چار سو تھی ساتھ لے کر جولائی ۶۳۱ء میں یمن کو روانہ ہوئے۔ مشہور مؤرخ ابنِ ہشام نے لکھا ہے کہ رسول ﷲﷺ نے خالدؓ سے کہاکہ’’ انہیں حملے کیلئے نہیں بھیجا جا رہا بلکہ وہ پیغام لے کر جا رہے ہیں ۔ چونکہ بنو حارثہ سرکش ذہنیت کی وجہ سے کسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں اس لیے خالدؓ انہیں تین باتیں کہیں کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔ اگر وہ سرکشی سے باز نہ آئیں اور خونریزی کو پسند کریں تو انہیں خونریزی کیلئے للکارا جائے۔‘‘خالدؓ جس جارحانہ انداز سے وہاں پہنچے اور جس اندازسے انہوں نے بنو حارثہ بن کعب کو قبولِ اسلام کی دعوت دی اس نے مطلوبہ اثر دکھایا ۔اس قبیلے نے بلاحیل و حجت اسلام قبول کرلیا۔ خالدؓ واپس آنے کے بجائے وہیں رُکے رہے اور انہیں اسلام کے اصول اور ارکان سمجھاتے رہے۔ خالدؓ بن ولید جنہیں تاریخ نے فنِ حرب و ضرب کا ماہر اور صفِ اول کا سالار تسلیم کیا ہے ۔ نجران میں چھ مہینے مبلغ اور معلم بنے رہے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ اسلام ان لوگوں کے دلوں میں اُتر گیا ہے تو خالدؓ جنوری ۶۳۲ء میں واپس آ گئے۔ ان کے ساتھ بنو حارثہ کے چند ایک سرکردہ افراد تھے جنہوں نے رسولِ کریم ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی ۔ رسولِ ﷲ ﷺ نے ان میں سے ایک کو امیر مقرر کیا۔ اسلام کے دشمنوں نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں شکست دینا ممکن نہیں رہا اور یہ بھی دیکھا کہ ا سلام لوگوں کے دلوں میں اتر گیا ہے تو انہوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے کا ایک اور طریقہ اختیار کیا۔ یہ تھا رسالت اور نبوت کا دعویٰ۔ متعدد افراد نے نبوت کا دعویٰ کیا جن میں بنی اسد کا طلیحہ ،بنی حنیفہ کا مسیلمہ،اور یمن کا اسود عنسی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اُس کا نام عقیلہ بن کعب تھا۔ کیونکہ اس کا رنگ کالا تھا اس لئے وہ اسود کے نام سے مشہورہوا۔ اسود عربی میں کالے کو کہتے ہیں ۔ وہ یمن کے مغربی علاقے کے ایک قبیلے عنس کا سردار تھا اس لئے اسے اسود العنسی کہتے تھے۔ تاریخ میں اس کا یہی نام آیا ہے۔ وہ عبادت گاہ کا کاہن بھی رہ چکا تھا ۔ بالکل سیاہ رنگت کے باوجود اس میں ایسی کشش تھی کہ لوگ اس کے ہلکے سے اشارے کا بھی اثر قبول کر لیتے تھے ۔ اس میں مقناطیس جیسی قوت تھی کہ عورتیں اس کے کالے چہرے کو نا پسند کرنے کے بجائے اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتی تھیں۔ اس نے یہ پراسراریت عبادت گاہ میں حاصل کی تھی۔ کاہن کو لوگ دیوتاؤں کا منظورِ نظر اور ایلچی سمجھتے تھے۔


اس علاقے کے زیادہ تر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔ اسود کے اپنے قبیلے میں اسلام داخل ہو چکا تھا لیکن اسود نے ان کے خلاف کبھی کوئی بات نہیں کی تھی۔ جیسے ان لوگوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ وہ خود بھی مسلمان ہو گیا تھا۔ اس وقت یمن کا حکمران بازان نام کا ایک ایرانی تھا۔ ایران کا شہنشاہ خسرو پرویز(کسریٰ) تھا۔ رسولِ کریمﷺ نے دور کے ملکوں کے جن بادشاہوں کو قبولِ اسلام کے خطوط لکھے تھے ان میں شہنشاہِ ایران بھی تھا،اسے خط دینے کیلئے رسول ﷲﷺنے عبدﷲ بن حذافہ کو بھیجا تھا۔ عبدﷲ ؓنے خسرو پرویز کے دربارمیں اسے خط دیا۔ اس نے خط کسی اور کو دے کر کہاکہ اسے اس کا ترجمہ سنایا جائے۔ اسے جب خط اس کی زبان میں سنایا گیا تو وہ آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے غصے سے باؤلا ہو کر خط کو بری طرح پھاڑ کر اس کے پرزے پھینک دیئے اور عبدﷲ ؓبن حذافہ کو دربار سے نکال دیا۔ عبدﷲ ؓاتنی دور کی مسافت سے آئے اور رسول ﷲﷺ کے حضور بتایا کہ شہنشاہِ ایران نے خط پھاڑ ڈالا ہے۔ خسرو پرویز کا غصہ خط پھاڑنے سے ٹھنڈ انہیں ہوا تھا۔ یمن پر ایران کی حکمرانی تھی اور بازان وہاں کا گورنر تھا۔ شہنشاہ ایران نے اپنے گورنر بازان کو خط بھیجا کہ حجاز میں محمدﷺ نام کا ایک آدمی ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ اس نے لکھا کہ رسولِ کریمﷺ کو زندہ پکڑ کر یا آپﷺ کا سرکاٹ کر اس کے دربار (ایران) میں پیش کیا جائے۔ بازان نے یہ خط اپنے دو آدمیوں کو دے کر مدینہ بھیج دیا ،مؤرخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے بعض لکھتے ہیں کہ بازان نے ان آدمیوں کو رسول ﷲﷺ کو پکڑ لانے یا قتل کرکے آپﷺ کا سر لانے کیلئے بھیجا تھا اور کچھ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ بازان نے اسلام تو قبول نہیں کیا تھا لیکن وہ حضورﷺسے اتنا متاثر تھا کہ آپ ﷺ کو اپنے شہنشاہ کے ارادے سے خبردار کرنا چاہتا تھا،بہرحال مؤرخ اس واقعے پر متفق ہیں کہ بازان کے بھیجے ہوئے دو آدمی رسول ﷲﷺ کے یہاں گئے تھے اور خسرو پرویز نے جو خط بازان کو لکھا تھا وہ آپﷺ کے حضور پیش کیا تھا۔رسولﷲ ﷺ نے خط دیکھا اور آپﷺ نے مسکرا کر کہا کہ شہنشاہِ ایران گذشتہ رات اپنے بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں قتل ہو گیا ہے اور آج صبح سے ایران کا شہنشاہ شیرویہ ہے۔’’گذشتہ رات کے قتل کی خبر مدینہ میں اتنی جلدی کیسے پہنچ گئی؟‘‘بازان کے ایک آدمی نے پوچھا اور کہنے لگا ’’کیا یہ ہمارے شہنشاہ کی توہین نہیں کہ یہ غلط خبر پھیلا دی جائے ،کہ اسے اس کے بیٹے نے قتل کر دیا ہے۔‘‘’’مجھے میرے ﷲ نے بتایا ہے ۔‘‘رسولِ کریمﷺ نے کہا۔’’ جاؤ !بازان کو بتا دو کہ اس کا شہنشاہ اب خسرو نہیں شیرویہ ہے۔‘‘رسولِ ﷲﷺ کو یہ خبر بذریعہ الہام ملی تھی۔

بازان کے آدمی واپس گئے اور اسے بتایا کہ رسول ﷲﷺ نے کیا کہا ہے ۔ تین چار دنوں بعد بازان کو اپنے نئے شہنشاہ شیرویہ کا خط ملا ۔ اس میں تحریر تھا کہ خسرو پرویز کو فلاں رات ختم کر دیا گیا ہے ۔ یہ وہی رات تھی جو حضورﷺ نے بتائی تھی۔ کچھ دنوں بعد بازان کو رسولِ کریمﷺ کا خط ملا کہ وہ اسلام قبول کرلے۔ بازان پہلے ہی آپﷺ سے متاثر تھا ۔ الہام نے اسے اور زیادہ متاثر کیا۔ رسول ﷲﷺ نے اسے یہ بھی لکھا تھا کہ اسلام قبول کرلینے کی صورت میں وہ بدستور یمن کا حاکم رہے گا اور اس کی حکمرانی کا تحفظ مسلمانوں کی ذمہ داری ہو گی۔ بازان نے اسلام قبول کرلیا اور وہ حاکم ِ یمن رہا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد فوت ہو گیا۔ 


رسولِ اکرمﷺ نے یمن کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا اور ہر حصے کا الگ حاکم مقررکیا۔ بازان کا بیٹاجس کانام’’ شہر ‘‘تھا۔رسولِ کریمﷺ نے اسے صنعاء اور اس کے گردونواح کے علاقے کا حاکم بنایا۔ یہ خبر اُڑی تھی کہ اسود عنسی یمن کے علاقہ مذحج میں چلا گیا ہے اور ایک غار میں رہتا ہے جس کا نام خبان ہے ۔ اچانک یہ خبر ہوا کی طرح سارے یمن میں پھیل گئی کہ اسود غار سے نکل آیا ہے اور اسے خدا نے نبوت عطا کی ہے اور اب وہ اسود عنسی نہیں ،’’رحمٰن الیمن ‘‘ہے۔ خبر سنانے والے کسی شک کا اظہار نہیں کرتے تھے بلکہ وہ مصدقہ خبر سناتے تھے کہ اسود کو نبوت مل گئی ہے۔ انہوں نے اسے نبی تسلیم کرلیا تھا۔’’جاکر دیکھو!‘‘ خبر سنانے والے کہتے پھرتے تھے۔’’ مذحج جا کر دیکھو ،رحمٰن الیمن مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ آگ کے شعلوں کو پھول بنا دیتا ہے ۔ چلو لوگوں چلو، اپنی روح کی نجات کیلئے چلو۔‘‘جن لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا وہ بھی مذحج کو اٹھ دوڑے۔ اسود چونکہ کاہن رہ چکا تھا اس لئے لوگ پہلے ہی تسلیم کرتے تھے کہ دیوتاؤں نے اسے کوئی پراسرار طاقت دے رکھی ہے۔ اب اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تو لوگوں نے فوراً اس دعویٰ کو تسلیم کرلیا۔ غارِ خبان کے سامنے ہر لمحہ لوگوں کا ہجوم رہنے لگا۔ وہ اسود کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے بے تاب رہتے تھے۔ وہ دن کو تھوڑے سے وقت کیلئے باہر نکلتا تھا اور غار کے قریب ایک اونچی جگہ کھڑے ہوکر لوگوں کو قرآن کی آیات کی طرز کے جملے سناتا اورکہتا تھا کہ’’ اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے جو اسے ہر روز خدا کی طرف سے ایک آیت اور راز کی ایک دو باتیں بتا جاتا ہے ۔‘‘

وہ لوگوں کو اپنے معجزے بھی دِکھایا کرتا تھا مثلاً جلتی ہوئی مشعل اپنے منہ میں ڈال لیا کرتا اور جب مشعل اس کے منہ سے نکلتی تو وہ جل رہی ہوتی تھی۔ اس نے ایک لڑکی کو ہوا میں معلق کرکے بھی دکھایا ۔ ایسے ہی چند اور شعبدے تھے جو وہ لوگوں کو دکھاتا تھا اور لوگ انہیں معجزے کہتے تھے۔ ایک تو وہ چرب زبان تھا ،دوسرے وہ خوش الحان تھا ۔ اس کے بولنے کا انداز پرکشش تھا۔ اس نے یمن والوں کو یہ نعرہ دے کر ’’یمن! یمن والوں کا ہے‘‘ ۔ ان کے دل موہ لیے تھے۔یمنی بڑی لمبی مدت سے ایرانیوں کے زیرِ نگیں چلے آ رہے تھے۔ ایرانی تسلط بازان کے قبولِ اسلام کے ساتھ ہی ختم ہوگیا تو حجاز کے مسلمان آ گئے۔ اس کے علاوہ وہاں یہودی ،نصرانی اور مجوسی بھی موجود تھے۔ یہ سب اسلام کی بیخ کنی چاہتے تھے۔ انہوں نے اسود عنسی کی نبوت کے قدم جمانے میں در پردہ بہت کام کیا۔ اسود اپنی نبوت کی صداقت ایک گدھے کے ذریعے ثابت کیا کرتا تھا ۔ اس کے سامنے ایک گدھا لایا جاتا وہ گدھے کو کہتا بیٹھ جا۔ گدھا بیٹھ جاتا ۔ پھر کہتا میرے آگے سر جھکا ، گدھا سجدے کے اندازسے سر جھکا دیتا، گدھے کیلئے اس کا تیسراحکم ہوتا، میرے آگے گھٹنے ٹیک دے۔ گدھا اس کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسود عنسی کو یمن کے لوگوں نے نبی مان لیا،اسود نے ان لوگوں کو ایک فوج کی صورت میں منظم کرلیا،اس نے سب سے پہلے نجران کا رخ کیا۔ وہاں رسول ِکریمﷺ کے مقررکیے ہوئے دو مسلمان حاکم تھے ۔ خالد ؓبن سعید اور عمروؓ بن حزم۔ اسود کے ساتھ بہت بڑا لشکر تھا جو نجران میں داخل ہوا تو وہاں کے باشندے بھی اس کے ساتھ مل گئے ۔ دونوں مسلمان حاکموں کیلئے پسپائی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔ اسود عنسی اس پہلی فتح سے سرشار ہو گیا اوراس کے لشکر کی تعدا د بھی زیادہ ہو گئی۔ اس نے نجران میں اپنی حکومت قائم کرکے صنعاء کی طرف پیش قدمی کی۔ وہاں بازان کا بیٹا شہر حکمران تھا۔ اس کے پاس فوج تھوڑی تھی پھر بھی وہ مقابلے میں ڈٹ گیا ۔ اس کی للکار نے اپنی فوج کے قدم اکھڑنے نہ دیے ۔لیکن شہر بن بازان چونکہ اپنی فوج کا حوصلہ قائم رکھنے کیلئے سپاہیوں کی طرح لڑ رہا تھا، اس لئے شہید ہو گیا۔ اِس سے اُس کی فوج کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔ اسود کے خلاف لڑنے والے وہ یمنی بھی تھے جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن شکست کی صورت میں جان کا خطرہ مسلمانوں کو تھا۔ انہیں اسود کے لشکر کے ہاتھوں قتل ہونا تھا ۔ اسود کسی مسلمان کو نہیں بخشتا تھا چنانچہ مسلمان جانیں بچا کر نکل گئے اور مدینہ جا پہنچے۔


اسود عنسی جو اب’’ رحمٰن الیمن ‘‘کہلاتا تھا ،حضرموت ،بحرین ، احسا ء اور عدن تک کے تمام علاقوں پر بھی قبضہ کرکے تمام یمن کا بادشاہ بن گیا۔ اسلام کیلئے یہ بہت بڑا چیلنج تھا۔ شمال کی طرف سے رومیوں کے حملے کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا تھا۔ اس خطرے کو ختم کرنے کیلئے رسولِ ﷲﷺ نے ایک لشکر رومیوں پر حملے کیلئے تیار کیا تھا، جس کے سالارِ اعلیٰ بائیس سالہ نوجوان اسامہؓ تھے ۔ جو رسولِ کریمﷺ کے آزادکیے ہوئے غلام زیدؓ بن حارثہ کے بیٹے تھے۔ زیدؓ بھی سالار تھے اور وہ موتہ کے معرکے میں شہید ہو گئے تھے۔ یمن کو ایک خودساختہ نبی سے نجات دلانے کیلئے بہت بڑے لشکر کی ضرورت تھی ۔لیکن لشکر رومیوں کے خلاف لڑنے کیلئے جا رہا تھا، اگر رومیوں پر حملے ملتوی کرکے اس لشکر کو یمن بھیج دیا جاتا تو رومی یہ فائدہ اٹھاسکتے تھے کہ مدینہ پر حملہ کر دیتے۔ یہ خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا تھا۔ رسول ﷲﷺ نے دوسری صورت یہ سوچی کہ یمن میں جو مسلمان مجبوری کے تحت رہ گئے ہیں اور جنہوں نے اسود عنسی کی اطاعت قبول کرلی ہے انہیں اسود کا تختہ الٹنے کیلئے استعمال کیا جائے۔ اس طریقۂ کار کو حضورﷺ کے تمام سالاروں نے پسند کیا۔ اس مقصد کیلئے چند ذہین قسم کے افراد کو یمن بھیجنا تھا۔ رسول ﷲﷺ کی نظرِ انتخاب ’’قیس بن ہبیرہ‘‘ پر پڑی۔ آپﷺ نے انہیں بلا کر یمن جانے کا مقصد سمجھایا اور پوری طرح ذہن نشین کرایا کہ’’ اُنہیں اپنے آپ کو چھپا کر وہاں کے مسلمانوں سے ملنا ملانا ہے اور ایک زمین دوز جماعت تیار کرنی ہے جو اس جھوٹے نبی اور عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے خود ساختہ بادشاہ کا تختہ الٹے ۔‘‘آپﷺ نے قیس بن ہبیرہ سے یہ بھی کہا کہ وہ مدینہ سے اپنی روانگی کو بھی خفیہ رکھیں اور یمن تک اس طرح پہنچیں کہ انہیں کوئی دیکھ نہ سکے۔ اس پُرخطر مہم کو اور زیادہ مستحکم کرنے کیلئے رسولِ کریمﷺ نے دبر بن یحنس کو یک خط دے کر یہ کہا کہ یمن میں کچھ مسلمان سردار موجود ہیں جنہوں نے مجبوری کے تحت اسود کی اطاعت قبول کرلی ہے ۔ یہ خط انہیں پڑھواکر ضائع کر دینا ہے اور باقی کام قیس بن ہبیرہ کریں گے۔ اسودعنسی نے جب صنعاء پر حملہ کیا تھا تو وہاں کے حاکم ’’شہر بن بازان ‘‘نے مقابلہ کیا۔ لیکن وہ شہید ہو گیا تھا۔ اسکی جواں سال بیوی جس کا نام آزاد تھا، اسود کے ہاتھ چڑھ گئی۔ آزاد غیر معمولی طور پر حسین ایرانی عورت تھی،اس نے اسود کو قبول کرنے سے انکار کر دیا لیکن اسود نے اسے جبراً اپنی بیوی بنا لیا تھا ۔آزاد اب اس شخص کی اسیر تھی جس سے وہ انتہا درجے کی نفرت کرتی تھی ۔ اکیلی عورت کر بھی کیا سکتی تھی، اس کی خوش نصیبی صرف اتنی تھی کہ اسود عورتوں کا دلدادہ تھا ،اس نے اپنے حرم میں بیسیوں عورتیں رکھی ہوئی تھیں ۔ اسے تحفے میں بھی نوجوان لڑکیاں ملا کرتی تھیں ۔ وہ ہر وقت عورت اور شراب کے نشے میں بد مست رہتا تھا۔ رسولِ اکرمﷺ کے بھیجے ہوئے قیس بن ہبیرہ چوری چھپے سفر کرکے اور بھیس بدل کر صنعاء پہنچے۔ اسود نے صنعاء کو اپنا دارالحکومت بنالیا تھا۔ادھر دبر بن یحنس ایک مسلمان سردارکے ہاں خط لے کر پہنچ گئے ۔ اس مسلمان سردار نے یہ یقین تو دلا دیا کہ وہ ایسے چند ایک مسلمان سرداروں کو اکھٹا کر لے گا جنہوں نے دل سے اسود کی اطاعت قبول نہیں کی ۔ لیکن اسود کا تختہ الٹنا ممکن نظر نہیں آتا تھا کیونکہ وہ صرف بادشاہ ہی نہیں ،یمن کے باشندے اسے اپنا نبی مانتے تھے۔

قیس بن ہبیرہ ایک ایسے ٹھکانے پر پہنچ گئے جہاں رسولِ کریمﷺ کے شیدائی مسلمان موجود تھے۔ ان مسلمانوں نے بھی وہی بات کہی جو مسلمان سردار نے کہی تھی لیکن ان مسلمانوں نے ایسی کوئی بات نہ کہی کہ وہ اس زمین دوز تحریک میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے پر عزم لہجے میں کہا کہ وہ خفیہ طریقہ سے وفادار مسلمانوں کو اکھٹا کرلیں گے۔’’ہم اس جھوٹے نبی کو ختم کرنے کیلئے زیادہ انتظار نہیں کرسکتے۔‘‘ایک مسلمان نے کہا۔’’جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

کیا تم لوگ یہ نہیں سوچ سکتے کہ اس شخص کو قتل کر دیا جائے۔‘‘’’قتل کون کرے گا؟‘‘ایک اور مسلمان نے پوچھا۔’’اور اسے کہاں قتل کیا جائے گا۔ وہ محل کے باہر نکلتا ہی نہیں ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محل کے اردگرد محافظوں کا بڑا سخت پہرہ ہوتا ہے ۔ کیا ہم میں کوئی ایسا آدمی نہیں جو اسلام کے نام پر اپنی جان قربان کردے؟‘‘قتل کا مشورہ دینے والے مسلمان نے پوچھا۔’’اس طرح جان دینے سے کیا حاصل کہ جسے قتل کرنا ہے اس تک پہنچ ہی نہ سکیں ؟‘‘اس مسلمان نے کہا۔’’بہرحال ہمیں خفیہ طریقے سے یہ تحریک چلا نی ہے کہ کم از کم مسلمان بغاوت کیلئے تیار ہو جائیں ۔‘‘اسود عنسی نے یمن پر قبضہ کر کے پہلا کام یہ کیا تھا کہ ایران کے شاہی اور دیگر اعلیٰ خاندانوں کے جو ایرانی. اس کے ہاتھ چڑھ گئے تھے انہیں اس نے مختلف طریقوں سے ذلیل وخوار کر کے رکھ دیا تھا ۔ ان کی حالت زرخرید غلاموں سے بدتر کر دی گئی تھی۔ لیکن اسود کی حکومت میں سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ اس کے پاس نہ کوئی تجربہ کار سالار تھا نہ کوئی کاروبارِ حکومت چلانے والا قابل آدمی تھا۔ یہ خطرہ تو وہ ہر لمحہ محسوس کرتا تھا کہ مسلمان اس پر حملہ کریں گے ۔ وہ خود عسکری ذہن نہیں رکھتا تھا اس کمی کو پورا کرنے کیلئے اسے ایرانیوں کا ہی تعاون حاصل کرنا پڑا۔ اس کے سامنے تین نام آئے۔ ان میں ایک ایرانی کا نام’’ قیس بن عبدیغوث تھا۔ جو بازان کے وقتوں کا مانا ہوا سالار تھا۔دوسرے دو حکومت چلانے میں مہارت رکھتے تھے۔ ایک تھا فیروز اور دوسرا داذویہ۔ فیروز نے اسلام قبول کرلیا تھا اور وہ صحیح معنوں میں اور سچے دل سے مسلمان تھا۔ اسود نے قیس بن عبدیغوث کو سالارِاعلیٰ بنا دیا اورفیروز اور داذویہ کو وزیر مقررکیا۔ تینوں نے اسود کی وفاداری کا حلف اٹھایا اور اسے یقین دلایا کہ وہ ہر حالت میں اس کے وفا دار ہوں گے۔

ایک روز فیروز باہر کہیں گھوم پھر رہا تھا کہ ایک گداگر نے اس کا راستہ روک لیا اور ہاتھ  پھیلایا۔’’تو مجھے معذور نظر نہیں آتا۔‘‘فیروز نےاسے کہا ۔’’اگر تو معذور ہے تو تیری معذوری یہی ہے کہ تجھ میں غیرت اور خودداری نہیں۔‘‘’’تو نے ٹھیک پہچانا ہے ۔‘‘گداگر نے اپنا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا۔’’میری معذوری یہی ہے کہ میری غیرت مجھ سے چھن گئی ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تیری بھی یہی معذوری ہے ۔میں نے بھیک کیلئے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ میں اپنی غیرت واپس مانگ رہا ہوں ۔‘‘’’اگر تو پاگل نہیں ہو گیا تو مجھے بتا کہ تیرے دل میں کیا ہے؟‘‘ فیروز نے گداگر سے پوچھا۔’’میرے دل میں ﷲ کے اس رسول کا نام ہے جس کا تو شیدائی ہے۔‘‘گداگر نے فیروز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہا۔’’اگر اسود عنسی کی شراب تیری رگوں میں چلی نہیں گئی تومیں جھوٹ نہیں کہہ رہا کہ تو نے دل پر پتھر رکھ کر اسود کی وزارت قبول کی ہے ۔‘‘فیروز نے اِدھر اُدھردیکھا ۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ مدینہ کا مسلمان ہے لیکن اسے یہ بھی خطرہ محسوس ہوا کہ یہ اسود کا کوئی مخبر بھی ہو سکتا ہے ۔’’مت گھبرا فیروز۔‘‘گداگر نے کہا ۔’’میں تجھ پر اعتبار کرتا ہوں تو مجھ پر اعتبار کر۔ میں تجھ کو اپنا نام بتا دیتا ہوں قیس بن ہبیرہ۔ مجھے رسول ﷲﷺ نے بھیجا ہے۔‘‘’’کیا تو سچ کہتا ہے کہ رسول ﷲﷺ نے تجھے میرے پاس بھیجا ہے؟‘‘ فیروز نے اشتیاق سے پوچھا۔’’نہیں !‘‘ قیس نے کہا۔’’رسول ﷲﷺ نے یہ کہا تھا کہ وہاں چلے جاؤ ۔ﷲ کے سچے بندے مل جائیں گے۔‘‘’’تجھے کس نے بتایا ہے کہ میں سچا مسلمان ہوں ۔‘‘فیروز نے پوچھا۔’’اپنے رسول ﷺ کا نام سن کر رسالت کے شیدائیوں کی آنکھوں میں جو چمک پیدا ہو جاتی ہے وہ میں نے تیری آنکھوں میں دیکھی ہے ۔‘‘قیس نے کہا ۔’’تیری آنکھوں میں چمک کچھ زیادہ ہی آگئی ہے۔ ‘‘فیروز نے قیس سے کہا کہ وہ چلا جائے ۔ اس نے قیس کو ایک اور جگہ بتا کر کہا کہ کل سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے وہ وہاں بیٹھا گداگری کی صدا لگاتا رہے۔ اگلی شام فیروز اس جگہ سے گزرا جو اس نے قیس بن ہبیرہ کو بتائی تھی۔فیروزکے اشارے پر قیس گداگروں کے انداز سے اٹھ کر فیروز کے پیچھے پیچھے ہاتھ پھیلا کر چل پڑا۔’’رسولِ ﷲﷺ تک پیغام پہنچا دینا کہ آپﷺ کے نام پر جان قربان کرنے والا ایک آدمی اسود عنسی کے سائے میں بیٹھا ہے ۔‘‘فیروز نے چلتے چلتے ادھر ادھر دیکھے بغیر دھیمی سی آواز میں کہا۔’’اور میں حیران ہوں کہ اتنی جنگی طاقت کے باوجود رسول ﷲﷺ نے یمن پرحملہ کیوں نہیں کیا۔‘‘’’ہرقل کا لشکر اردن میں ہمارے سر پر کھڑا ہے ۔‘‘قیس نے کہا ۔’’ہمارا لشکر رومیوں پر حملہ کرنے جا رہا ہے۔ کیا ہم دو آدمی پورے لشکر کا کام نہیں کر سکیں گے؟‘‘’’کیا تو نے یہ سوچا ہے کہ دو آدمی کیا کر سکتے ہیں ؟‘‘فیروز نے پوچھا۔’’قتل!‘‘قیس نے جواب دیا اور کہنے لگا۔’’ مجھ سے یہ نہ پوچھنا کہ اسود کو کس طرح قتل کیا جا سکتا ہے ؟ کیا تو نے اپنے چچا کی بیٹی آزاد کو دل سے اتار دیا ہے ؟‘‘فیروز چلتے چلتے رک گیا۔ اس کے چہرے پر کچھ اور ہی طرح کی رونق آ گئی جیسے خون اچانک ابل پڑا ہو۔

’’تو نے مجھے روشنی دِکھا دی ہے۔‘‘اس نے کہا ۔’’قتل کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ، میری چچا زاد بہن کا نام لے کر تو نے میرا کام آسان کردیا ہے۔ یہ کام میں کروں گا۔ تو اپنا کام کرتا رہ۔ جا قیس !زندہ رہے تو ملیں گے۔ ‘‘مؤرخوں نے لکھا ہے کہ فیروز کے دل میں اسود کی جو نفرت دبی ہوئی تھی وہ ابھر کر سامنے آگئی۔ اس نے اسود عنسی کے ایرانی سالار قیس بن عبدیغوث اور داذویہ کو اپنا ہم راز بنا لیا، اسود کا قتل ایک وزیر کیلئے بھی آسان نہیں تھا جو اس کے ساتھ رہتا تھا۔ اسود کے محافظ اسے ہر وقت اپنے نرغے میں رکھتے تھے ۔ سوچ سوچ کران تینوں ایرانیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آزاد کو اس کام میں شریک کیا جائے۔ لیکن قتل آزاد کے ہاتھوں نہ کرایا جائے۔ آزاد تک رسائی آسان نہیں تھی۔ اسود کو شک ہو گیا تھا کہ تینوں ایرانی اسے دل سے پسند نہیں کرتے ۔ اُس نے اِن پر بھروسہ کم کر دیا تھا۔ آزاد اور فیروز کی ویسے بھی کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔ آزاد تک پیغام پہنچانے کیلئے عورت کی ہی ضرورت تھی۔ ایک وزیر کیلئے ایسی عورت کا حصول مشکل نہ تھا۔فیروز نے محل کی ایک ادھیڑ عمر عورت کو اپنے پاس بلایا۔ وہ بھی مسلمان تھی۔ فیروز نے اسے کہا کہ وہ اسے اپنے گھر میں رکھنا چاہتا ہے۔ اگر وہ پسند کرے تو وہ اسے اپنے ہاں لا سکتا ہے ۔ فیروز نے اسے کچھ لالچ دیا۔ ایک یہ تھا کہ اس سے اتنا زیادہ کام نہیں لیا جائے گا ،جتنا اب لیا جاتا ہے ۔ وہ عورت مان گئی۔ فیروز نے اسی روز اسے اپنے ہاں بلالیا۔ ایک روز آزاد اکیلی بیٹھی تھی۔ وہ ہر وقت جلتی اور کڑھتی رہتی تھی ۔اسے کوئی راہِ فرار نظر نہیں آتی تھی،اس کیفیت میں فیروز کی وہی خادمہ اس کے پاس آئی ۔’’میں کسی کام کے بہانے آئی ہوں۔‘‘ خادمہ نے کہا۔’’لیکن میں آئی دراصل تیرے پاس ہوں ،کیا تو اپنے چچا زاد بھائی سے کبھی ملی ہے۔ جو رحمٰن الیمن کا وزیر ہے؟‘‘’’کیا تو جاسوسی کرنے آئی ہے؟‘‘آزاد نے غصیلی آواز میں کہا۔’’نہیں۔‘‘خا­دمہ نے کہا۔’’مجھ پر یہ شک نہ کر کہ میں اس جھوٹے نبی کی مخبر ہوں۔ میرے دل میں بھی اسود کی اتنی ہی نفرت ہے جتنی تیرے دل میں ہے ۔‘‘’’میں نہیں سمجھ سکتی کہ تو میرے پاس کیوں آئی ہے۔‘‘آزاد نے کہا۔’’فیروز وزیر نے بھیجا ہے ۔‘‘خادمہ نے کہا۔’’میں فیروز کا نام بھی نہیں سننا چاہتی ۔‘‘آزاد نے کہا۔’’ اگر ا س میں غیرت ہوتی تو وہ اس شخص کا وزیر نہ بنتا جس نے اس کی چچا زاد بہن کو بیوہ کیا اور اسے جبراً اپنی بیوی بنا لیا۔‘‘آزاد شاہی خاندان کی عورت تھی۔ وہ اِن لونڈیوں اورباندیوں کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔ اس نے اندازہ کرلیا کہ یہ عورت مخبری کرنے نہیں آئی۔ اس نے خادمہ سے پوچھا کہ فیروز نے اس کیلئے کیا پیغام بھیجا ہے۔ خادمہ نے بتایا کہ وہ اس سے ملنا چاہتا ہے۔ آزاد نے اسے ایک جگہ بتا کر کہا کہ فیروز وہیں رات کو آجائے۔ لیکن ہمارے درمیان ایک دیوار حائل ہو گی۔


آزاد نے کہا۔’’ اس میں ایک جگہ ایک دریچہ ہے جس میں سلاخیں لگی ہوئی ہیں۔ فیروز سلاخوں کے دوسری طرف کھڑا ہوکر بات کر سکتا ہے ۔‘‘خادمہ نے آزاد کا پیغام فیروز کو دے دیا۔ اسی رات فیروز محل کے اردگرد کھڑی دیوار کے اس مقام پر پہنچ گیا جہاں سلاخوں والا چھوٹا سا دریچہ تھا۔ آزاد اس کے انتظار میں کھڑی تھی۔’’تیری خادمہ پہ مجھے اعتبار آگیا ہے۔‘‘آزاد نے کہا۔’’تجھ پر میں کیسے اعتبار کروں ؟ میں نہیں مانوں گی کہ تو مجھے اس وحشی سے آزاد کرانے کی سوچ رہا ہے ۔‘‘’’کیا تو اس وحشی کے ساتھ خوش ہے ؟ ‘‘فیروز نے پوچھا۔’’اس سے زیادہ قابلِ نفرت آدمی میں نے کوئی اور نہیں دیکھا۔ ‘‘آزاد نے کہا۔ ’’تیرا یہاں زیادہ دیر کھڑے رہنا ٹھیک نہیں ۔ فوراً بتا تجھے اتنے عرصے بعد میرا کیوں خیال آگیا ہے؟‘‘’’کیااس وقت اسود کے ادھر نکل آنے کا خطرہ ہے؟‘‘فیروز نے پوچھا۔’’یا ابھی وہ تمہیں……‘‘’’نہیں!‘‘آزاد نے کہا ۔’’پہرہ داروں کا خطرہ ہے۔اسود اس وقت شراب کے نشے میں بے سدھ پڑا ہے۔ اس کے پاس عورتو ں کی کمی نہیں ہے ۔‘‘’’میں صرف تجھے نہیں پورے یمن کو آزاد کراؤں گا۔‘‘ فیروز نے کہا ۔’’لیکن تیری مدد کے بغیر میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔‘‘’’مجھے بتا فیروز !‘‘آزاد نے پوچھا۔’’میں کیا کر سکتی ہوں؟‘‘’’کسی رات مجھے اسود تک پہنچا دے۔‘‘ فیروزنے کہا۔’’اگلے روز وہاں سے اس کی لاش اٹھائی جائے گی۔ کیا تو یہ کام کر سکتی ہے؟‘‘’’کل رات اس وقت کے کچھ بعد اس دیوار کے باہر اس جگہ آ جانا جو میں تمہیں بتاؤں گی۔‘‘آزاد نے کہا۔’’میرا کمرہ اس دیوارکے بالکل ساتھ ہے ۔ تم دیوار کسی اور طریقے سے پھلانگ نہیں سکو گے۔ کمند پھینکنی پڑے گی۔ رسّا لیتے آنا۔ اسے دیوار کے اوپر سے اندر کو پھینکنا۔ میں اسے کہیں باندھ دوں گی۔ تم رسّے سے اوپر آجانا۔‘‘ اگلی رات فیروز اس طرح چھپتا چھپاتا اس دیوار کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا کہ اسے پہرہ دار کے گزر جانے تک چھپنا پڑتا تھا۔ وہ اس جگہ پہنچ گیا جو اسے آزاد نے بتائی تھی ۔اس نے دیوار پر رسّا پھینکا جس کا اگلا سرا دوسری طرف نیچے تک چلا گیا۔ آزاد موجود تھی، اس نے رسّا پکڑ لیااور کہیں باندھ دیا۔ فیروز رسّے کوپکڑ کر اور پاؤں دیوار کے ساتھ جماتا دیوار پر چڑھ گیا ۔ اس نے رسّا دیوار پر باندھ دیا اور اس کی مددسے نیچے اتر گیا۔ آزاد اسے اپنے کمرے میں لے گئی اور آدھی رات کے بعد تک اسے کمرے میں ہی رکھا کیونکہ اسود کے بیدار ہونے کا خطرہ تھا۔’’آدھی رات کے بعد وہ بے ہوش اور بے سدھ ہو جاتا تھا۔‘‘ آزاد نے کہا۔’’یہ شخص انسانوں کے روپ میں دیو ہے،ایسا دیو جو شراب پیتا او رعورتوں کو کھاتا ہے۔ تم نے اس کی جسامت دیکھی ہے ؟ اتنا لمبا اور چوڑا جسم تلوار کے ایک دو وار کو شراب کی طرح پی جائے گا۔ اسے ہلاک کرنا آسان نہیں ہو گا۔‘‘

’’اسے ہلاک کرنا ہے خواہ میں خود ہلاک ہو جاؤں۔‘‘فیروز نے کہا۔


جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  ⚔ شمشیرِ بے نیام ⚔  حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( قسط 21 ) رسولِ کریمﷺ نے ایسی ایک مہم خالدؓ بن ولید کی زیرِکمان یمن کے شمال میں نجران ...

پنسل میں پنہاں اسباق


✎ پنسل میں پنہاں اسباق ✎




ایک عالم دین پنسل سے بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے ان کا بیٹا قریب آیا اور تتلاتے ہوئے دریافت کیا : بابا آپ کیا لکھ رہے ہیں؟۔

اس عالم دین نے مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے سے فرمایا :"بیٹا میرے لکھنے سے بھی زیادہ اہم یہ پنسل ہے جس سے میں بیٹھا لکھ رہا ہوں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ جب تم بڑے ہو جاؤ تو تم اس پنسل کی طرح بنو"۔

اس بچے نے تعجب آمیز نگاہوں سے باپ کو دیکھا اور پھر بڑے غور سے پنسل کو گھورنے لگا اور وہ اس کی کسی ایسی خصوصیت کو تلاش کرنے لگا جس کی بنیاد پر بابا جان اس سے پنسل جیسا بننے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

 بڑی دیر تک پنسل کو دیکھنے کے بعد اسے کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی جو اس کے ذہن کو کھٹکتی اور اب بچے سے رہا نہ گیا آخر کار باپ سے پوچھ بیٹھا۔

 "بابا جان اس پنسل میں ایسی کون سی خصوصیت ہے جس کے سبب آپ کی خواہش یہ ہے کہ میں بڑا ہو کر اس جیسا بنوں۔"

اس عالم نے کہا : "اس پنسل میں ۵ اہم خصوصیات ہیں اور تم یہ کوشش کرو کہ بڑے ہو کر تمہارے اندر بھی یہیں خصوصیات پیدا ہوں۔"

1>> تم بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہو لیکن کبھی یہ مت بھولو کہ کوئی ہاتھ ہے جو تمہیں چلا رہا ہے اور تم سے یہ کارنامے کروا رہا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا دست قدرت ہے۔

2>> کبھی کبھی جب اس کی نوک گھس جاتی ہے تو کٹر یا چاقو وغیرہ سے اسے تراشا جاتا ہے اگرچہ یہ ایک اذیت ناک چیز ہوتی ہے لیکن بہرحال اس کی نوک تیز ہو جاتی ہے اور پھر یہ اچھے سے کام کرنے لگتی ہے پس تمہیں بھی یہ جان لینا چاہیئے کہ انسان کو اگر کوئی دکھ اور صدمہ پہنچتا ہے وہ اس لئے ہوتا ہے تا کہ تم بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کر سکو۔

3>> پنسل یہ اجازت دیتی ہے کہ اگر کچھ غلط تحریر ہو جائے تو تم ربر سے اسے مٹا کر اپنی غلطی کی اصلاح کر سکو پس تم یہ سمجھ لو کہ ایک غلطی کو صحیح کرنا غلطی نہیں ہے۔

4>> یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ پنسل کی لکڑی اور اس کا خول لکھنے اور تحریر کرنے کے کام نہیں آتا بلکہ لکھنے کے کام ہمیشہ وہ مغز آتا ہے جو اس لکڑی کے اندر چھپا ہوا ہوتا ہے پس ہمیشہ تم اس چیز کا خیال رکھو کہ تمہارے جسم کی کوئی حیثیت و اہمیت نہیں ہے بلکہ اس کے اندر چھپی تمہاری روح اور ضمیر قدر و قیمت والا ہے جسم نہیں۔

5>> پنسل جب کچھ لکھتی ہے تو اپنے کچھ نقوش کاغذ پر چھوڑ دیتی ہے جو مدتوں کاغذ پر دیکھے جا سکتے ہیں پس تم بھی یہ بات سمجھ لو کہ تم جو بھی کام کرو گے اس کے نقوش تمہارے بعد باقی رہیں گے اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم کیسے نقوش چھوڑ کر جاتے ہو پس کسی عمل کو انجام دینے سے پہلے کئی بار غور و فکر کر لو کہ کہیں تم کچھ غلط تو نہیں کر رہے ہو۔


✎  پنسل میں پنہاں اسباق ✎ ( التوحید ٹیم ) ایک عالم دین پنسل سے بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے ان کا بیٹا قریب آیا اور تتلاتے ہوئے دریافت کیا : بابا ...

شمشیرِ بے نیام ۔۔۔ خالد بن ولید ۔۔۔ قسط نمبر 20





شمشیرِ بے نیام

 حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

( قسط 20 )

مالک بن عوف کی بیوی نے مالک کے ہاتھ سے تلوار لے لی اور پلنگ پر پھینک دی۔’’ہوش میں آ عوف کے بیٹے! ‘‘بیوی نے اسے کہا۔’’اپنی قسمت اس شخص کے ہاتھ میں نہ دے جو ایک لڑکی کے خنجر سے قتل ہو گیا ہے۔‘‘اس نے غلام کو بلایا اور اسے کہا ۔’’یہ لڑکی ہماری مہمان ہے۔ اس کے غسل اور آرام کا انتظام کرو۔‘‘ مالک بن عوف کے چہرے سے خوف کا تاثر دھلنے لگا، بیوی نے اس کے خیالوں میں انقلاب برپا کر دیا۔ صبح طلوع ہو رہی تھی۔ جب شکست اور غم کے مارے ہوئے مالک بن عوف کو دو اطلاعیں ملیں ۔ ایک یہ کہ رات کو کاہن قتل ہو گیا ہے اور مجاوریہ کہہ رہے ہیں کہ رات مالک بن عوف کے سوا کاہن کے کمرے میں اور کوئی نہیں گیا تھا اور نہ رات کے وقت کسی کو وہاں تک جانے کی جرات ہو سکتی ہے۔ مجاوروں نے یہ مشہورکر دیا تھا کہ کاہن کو مالک بن عوف نے خود قتل کیا ہے یا قتل کروایا ہے۔ مالک بن عوف کو دوسری خبر یہ ملی کہ مسلمان جو طائف کی طرف بڑھے چلے آرہے تھے ،معلوم نہیں کدھرچلے گئے ہیں ۔ یہ خبر ایسی تھی جس نے مالک بن عوف کے حوصلے میں کچھ جان پیدا کردی۔ اس نے تیز رفتار گھوڑوں پر دو تین قاصد اس راستے کی طر ف دوڑا دیئے جو حنین سے طائف کی طرف آتا تھا۔ اس کے بعد وہ عبادت گاہ کی طرف چلا گیا ۔ اس نے لوگوں کو بڑی مشکل سے یقین دلایا کہ وہ مقدس کاہن کو قتل کرنے کی جرات نہیں کرسکتا ۔ لوگ پوچھتے تھے کہ پھرقاتل کون ہے؟ مالک بن عوف نے کہا کہ وہ قاتل کا سراغ جلد ہی لگا لے گا۔ وہ یہودی لڑکی کو سامنے نہیں لانا چاہتا تھا ۔ اس نے لوگوں کی توجہ ادھر سے ہٹا کر مسلمانوں کی طرف کر دی ۔ جو طائف کو محاصرے میں لینے کیلئے بڑھے آ رہے تھے ۔ وہ عبادت گاہ کے اندر چلا گیا ۔ اس نے مجاوروں کے ساتھ کسی طرح معاملہ طے کر لیا۔’’لات کے پجاریوں!‘‘ ایک بوڑھے مجاور نے باہرآکر لوگوں کے ہراساں ہجوم سے کہا۔’’ہمارے مقدس کاہن کو کسی نے قتل نہیں کیا۔ وہ دیوتا لات کے وجود میں گھل مل گیا ہے۔ دیوتا لات کے حکم سے اب میں کاہن ہوں ۔ جاؤ اپنی بستی کو اس دشمن سے بچاؤ جو بڑھا چلا آ رہا ہے۔ ‘‘مالک بن عوف جب اپنے گھر پہنچا تو کچھ دیر بعد اس کے بھیجے ہوئے قاصد واپس آ گئے۔ انہوں نے اسے بتایا کہ اس راستے پر جو طائف کی طرف آتا ہے اس پہ مسلمانوں کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ مالک بن عوف نے اپنے آپ کو دھوکے میں نہ رکھا اس نے اپنے قبیلے کے سرداروں سے کہا کہ’’ محمدﷺ اپنے دشمن کو بخشنے والا نہیں ۔وہ کسی نہ کسی طرف سے جوابی وار ضرور کرے گا۔ ‘‘اس نے اعلان کیا کہ شہر کے دفاعی انتظامات میں کوئی کمی نہ رہنے دی جائے۔

قاصدوں نے مالک بن عوف کو بالکل صحیح اطلاع دی تھی کہ طائف کے راستے پر مسلمانوں کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔ لیکن مسلمان سیلاب کی طرح طائف کی طرف بڑھے چلے آ رہے تھے۔ انہوں نے رسولِ اکرمﷺکے حکم سے راستہ بدل لیا تھا ۔ بدلا ہوا راستہ بہت لمبا تھا لیکن رسولِ کریمﷺ نے اتنا لمبا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ چھوٹا راستہ پہاڑیوں اور چٹانوں میں سے گزرتا تھا۔ کھڈ نالے بھی تھے ۔ رسولِ کریمﷺ نے اپنے سالاروں سے کہا تھا کہ حنین کے پہلے تجربے کو نہ بھولو، مالک بن عوف بڑا جنگجو ہے ۔ آپﷺ نے فرمایا کہ طائف تک کا تمام علاقہ گھات کیلئے موزوں ہے ۔ مالک بن عوف ایسی ہی گھات لگا سکتا ہے جیسی گھات میں اس نے خالدؓ بن ولید کو تیروں سے چھلنی کر دیا تھا۔ سولِ اکرمﷺ نے جو راستہ طائف تک پہنچنے کیلئے اختیار کیا تھا وہ وادی الملیح سے گزرتا تھااور وادی القرن میں داخل ہو جاتا تھا۔ آپﷺ اپنے لشکر کو وادی القرن میں سے گزارنے کی بجائے طائف کے شمال مغرب میں سات میل دور نکل گئے اور نخِب اور صاویرا کے علاقے میں داخل ہو گئے۔ یہ علاقہ نشیب و فراز کا تھا۔ اس میں پہاڑیاں اور چٹانیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ مجاہدین کا یہ لشکر ۵ فروری ۶۳۰ء (۱۵ شوال ۸ ہجری) کے روز طائف کے گردونواح میں اس سمت سے پہنچا جو طائف والوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ مجاہدینِ اسلام کا کوچ بڑا ہی تیز تھا  ۔ہراول میں بنو سلیم تھے جن کے کماندار خالدؓ بن ولید تھے۔ توقعات کے عین مطابق طائف تک دشمن کہیں بھی نظر نہ آیا۔ ا س کی وجہ یہ تھی کہ (جیساکہ مؤرخین نے لکھا ہے) کہ مالک بن عوف اب کھلے میدان میں لڑنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ حنین کے معرکے میں زیادہ تر نقصان بنو ہوازن کا ہوا تھا۔ ققبیلہ ثقیف لڑا تھا لیکن جو ٹکر بنو ہوازن نے لی تھی وہ بنو ثقیف کو لینے کا موقع نہیں ملاتھا۔ پھر بھی ثقیف پسپا ہو آئے تھے۔ رسولِ کریمﷺ اس خطرے سے بے خبر نہیں تھے کہ اہلِ ثقیف تازہ دم ہیں اور وہ اپنے شہر کے دفاع میں لمبے عرصے تک لڑیں گے۔ معلوم نہیں یہ کس کی غلطی تھی کہ مسلمان شہر کی دیوار کے خطرناک حد تک قریب جا رکے۔ وہاں وہ پڑاؤ کرنا چاہتے تھے۔ اچانک اہلِ ثقیف دیواروں پر نمودار ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں پر تیروں کا مینہ برسا دیا۔ بہت سے مسلمان زخمی اور بہت سے شہید ہو گئے۔ مسلمان پیچھے ہٹ آئے۔ رسولِ کریمﷺ نے ابو بکر صدیقؓ کو محاصرے کا کمانڈر مقررکیا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بڑی تیزی سے شہر کا محاصرہ مکمل کر لیا۔ انہوں نے ان راستوں پر زیادہ نفری کے دستے رکھے جن راستوں سے دشمن کا فرار ممکن تھا۔

شہر کا دفاع بڑا مضبوط تھا۔ قبیلۂ ثقیف پوری طرح تیارتھا۔ مسلمان تیر اندازی کے سوا اور کوئی کارروائی نہیں کر سکتے تھے۔مجاہدین نے یہاں تک بے خوفی کے مظاہرے کیے کہ شہر کی دیوار کے قریب جا کر اہلِ ثقیف کے ان تیر اندازوں پر تیر پھینکے جو دیواروں پر تھے۔ چونکہ وہ دیواروں پر تھے اور انہیں اوٹ بھی میسر تھی۔ اس لیے ان کے تیر مسلمانوں کا زیادہ نقصان کرتے تھے۔ مسلمان تیر اندازوں کے جَیش آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹ آتے تھے۔ مسلمانوں کے زخمیوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہاتھا۔ محاصرے کے کمانڈرابو بکر صدیقؓ کے اپنے بیٹے عبداﷲ ؓ بنو ثقیف کے تیروں سے شہید ہو گئے۔ پانچ دن اسی طرح گزر گئے ۔ تاریخ ِ اسلام کی مشہور و معروف شخصیت سلمان فارسیؓ لشکر کے ساتھ تھے۔ جنگِ خندق میں مدینہ کے دفاع کیلئے جو خندق کھودی گئی تھی وہ سلمان فارسیؓ کی جنگی دانش کا کمال تھا۔ اس سے پہلے عرب خندق کے طریقۂ دفاع سے ناواقف تھے۔ اب سلمان فارسیؓ نے دیکھا کہ محاصرہ کامیاب نہیں ہو رہا تو انہوں نے شہر پر پتھر پھینکنے کیلئے ایک منجنیق تیار کروائی لیکن یہ کامیاب نہ ہو سکی۔ سلمان فارسیؓ نے ایک دبابہ تیار کروائی  ۔یہ لکڑی یا چمڑے کی بہت بڑی ڈھال ہوتی تھی جسے چند آدمی پکڑ کر آگے آگے چلتے تھے۔ خود اس کی اوٹ میں رہتے تھے اور اس کی اوٹ میں بہت سے آدمی قلعے کے اندر چلے جاتے تھے۔ سلمان فارسیؓ نے جو دبابہ تیار کروائی وہ گائے کی کھال کی بنی ہوئی تھی۔ ایک جَیش اس دبابہ کی اوٹ میں شہر کے بڑے دروازے تک پہنچا،اوپر سے آنے والے تیروں کی تمام بوچھاڑیں دبابہ میں لگتی رہیں لیکن دبابہ جب اپنی اوٹ میں جَیش کو لے کر دروازے کے قریب پہنچی تو دشمن نے اوپر سے دہکتے ہوئے انگارے اور لوہے کے لال سرخ ٹکڑے دبابہ پر اتنے پھینکے کہ کھال کی دبابہ تیر روکنے کے قابل نہ رہی، کیونکہ یہ کئی جگہوں سے جل گئی تھی۔ دبابہ چونکہ عربوں کیلئے ایک نئی چیز تھی جو پہلے ہی استعمال میں بے کار ہو گئی تھی۔ اس لیے وہ اسے وہیں پھینک کر پیچھے دوڑے۔ اہلِ ثقیف نے ان کے اوپر تیر برسائے جس سے کئی ایک مجاہدین زخمی ہو گئے۔ دس دن اور گزر گئے ۔ محاصرے اور دفاع کی صورت یہی رہی کہ مسلمان تیر برساتے ہوئے آگے بڑھتے تھے اور تیر کھا کر پیچھے ہٹ آتے تھے۔ بنو ثقیف پر ا س کا اثر یہ ہو اکہ ان پر مسلمانوں کی بے جگری اور بے خوفی کی دہشت طاری ہو گئی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کسی طرف سے باہر آکر مسلمانوں پر حملہ کرنے کی کوشش نہ کی۔ آخر ایک روز رسول اﷲﷺ نے اپنے سالاروں کو اکھٹا کیا اور بتایا کہ محاصرے کی کامیابی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ آپﷺ نے سالاروں سے مشورہ طلب کیا کہ کیا کیا جائے؟

حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمرؓنے کہا کہ محاصرہ اٹھالیا جائے اور مکہ کو کوچ کاحکم دیا جائے۔ خود رسولِ کریمﷺ محاصرہ اٹھانے کے حق میں تھے ، جس کی وجہ یہ تھی کہ مکہ کے انتظامات آپﷺ کی توجہ کے محتاج تھے۔ مکہ چند ہی دن پہلے فتح کیا گیا تھا۔ خطرہ تھا کہ طائف کا محاصرہ طول پکڑ گیا تو مکہ میں دشمن کو سر اٹھا نے کا موقع مل جائے گا۔۲۳ فروری ۶۳۰ء (۴ذیعقد ۸ ہجری)کے روز محاصرہ اٹھا لیا گیا۔ محاصرہ اٹھانے کا اثر اہلِ ثقیف پر کچھ اور ہونا چاہیے تھا لیکن ان پر اس قسم کا خوف طاری ہو گیا کہ مسلمان جو‘اب جا رہے ہیں ،معلوم نہیں کہ کس وقت لوٹ آئیں اور شہر پر یلغار کرکے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں ۔ خود مالک بن عوف کی سوچ میں انقلاب آ چکا تھا۔ کاہن کی جھوٹی پیش گوئی اور معرکۂ حنین میں مسلمانوں کی ضرب کاری نے اسے اپنے عقیدوں پر نظرِ ثانی کیلئے مجبور کر دیا تھا۔ مسلمان ۲۶ فروری کے روز جعرانہ کے مقام پر پہنچے جہاں رسول ِکریمﷺ نے مالِ غنیمت اکھٹا کرنے کا حکم دیاتھا۔ اس مالِ غنیمت میں چھ ہزار عورتیں اور بچے تھے،اورہزار ہا اونٹ اور بھیڑ بکریاں بھی تھیں۔ فوجی سازوسامان کاانبار تھا۔ رسولِ کریمﷺ نے دشمن کی عورتوں ،بچوں اور جانوروں کو اپنے لشکر میں تقسیم کر دیا۔ مجاہدین کا لشکر جُعرانہ سے ابھی چلا نہ تھا کہ قبیلہ ہوازن کے چند ایک سردار رسولِ کریمﷺ کے حضور پہنچے اور یہ اعلان کیا کہ ہوازن کے تمام تر قبیلے نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان سرداروں نے رسولِ کریمﷺ سے درخواست کی کہ ان کا مالِ غنیمت انہیں واپس کر دیا جائے۔ رسولِ کریمﷺ نے ان سے پوچھا کہ انہیں مالِ غنیمت میں سے کون سی چیز سب سے زیادہ عزیز ہے؟ اہل وعیال یا اموال؟ سرداروں نے کہا کہ ان کی عورتیں اور بچے انہیں واپس کردیئے جائیں اور باقی مالِ غنیمت مسلمان اپنے پاس رکھ لیں۔ رسولِ کریمﷺ نے مجاہدین کے لشکر سے کہاکہ بنو ہوازن کو ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دیئے جائیں۔ تمام لشکر نے عورتیں اور بچے واپس کر دیئے۔ بنو ہوازن کو توقع نہیں تھی کہ رسولِ کریمﷺ اس قدر فیاضی کا مظاہرہ کریں گے یا مجاہدین کا لشکر اپنے حصے میں آیا ہوا مالِ غنیمت واپس کر دیں گے۔ مسلمانوں کی اس فیاضی کا اثر یہ ہوا کہ قبیلۂ ہوازن نے اسلام کو دل و جان سے قبول کر لیا۔ ہوازن کے سردار اپنے اہل و عیال کواپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔ مسلمانوں کی فیاضی کے اثرات طائف تک پہنچ گئے ۔ مسلمان ابھی جُعرانہ میں ہی تھے کہ ایک روز مالک بن عوف مسلمانوں کی خیمہ گاہ میں آیا اور رسولِ کریمﷺ کے حضور پہنچ کر اسلام قبو ل کرلیا۔دیوتا لات کی خدائی ہمیشہ کیلئے ختم ہو گئی-

مسلمان ایک عظیم جنگی طاقت بن گئے تھے لیکن اسلام کا فروغ اس جنگی طاقت کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اسلام میں ایسی کشش تھی کہ جو کوئی بھی اﷲ کا یہ پیغام سنتا تھا وہ اسلام قبول کرلیتا تھا۔ مسلمانوں نے اپنے جاسوس دوردور تک پھیلا رکھے تھے ۔۶۳۰ء میں جاسوسوں نے مدینہ آ کر رسولِ اکرمﷺ کو اطلاع دی کہ رومی شام میں فوج کا بہت بڑا اجتماع کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں سے ٹکر لینا چاہ رہے ہیں ۔ اس کے بعد یہ اطلاع ملی کہ رومیوں نے اپنی فوج کے کچھ دستے اردن بھیج دیئے ہیں۔ اکتوبر۶۳۰ء بڑا ہی گرم مہینہ تھا۔ جھلسا دینے والی لُو ہر وقت چلتی رہتی تھی اور دن کے وقت دھوپ میں ذرا سی دیر ٹھہرنا بھی محال تھا۔ اس موسم میں رسولِ کریمﷺ نے حکم دیا کہ پیش تر اس کے کہ رومی ہم پر یلغار کریں ہم ان کے کوچ سے پہلے ہی ان کاراستہ روک لیں ۔ رسولِ کریمﷺ کے اس حکم پر مدینہ کے اسلام دشمن عناصر حرکت میں آگئے۔ ان میں وہ مسلمان بھی شامل تھے جنہوں نے اسلام تو قبول کر لیا تھا لیکن اندر سے وہ کافر تھے۔ ان منافقین نے درپردہ ان مسلمانوں کو جو جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے تھے ورغلانہ اور ڈرانا شروع کر دیا کہ اس موسم میں انہوں نے کوچ کیا تو گرمی کی شدت اور پانی کی قلت سے وہ راستے میں ہی مر جائیں گے ،ان مخالفانہ سرگرمیوں میں یہودی پیش پیش تھے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت نے رسولِ اکرمﷺ کے حکم پر لبیک کہی۔ رسولِ خدا ﷺ نے تیاریوں میں زیادہ وقت ضائع نہ کیا۔ اکتوبر کے آخر میں جو فوج رسولِ خداﷺ کی قیادت میں کوچ کیلئے تیار ہوئی اس کی تعداد تیس ہزار تھی۔ جس میں دس ہزار سوار شامل تھے۔ مجاہدین کے اس لشکر میں مدینہ کے علاوہ مکہ کے اور ان قبائل کے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے سچے دل سے اسلام قبول کیا تھا۔ مجاہدین کا مقابلہ اس زمانے کے مشہور جنگجو بازنطینی شہنشاہ ہرقل کے ساتھ تھا۔ مجاہدین اسلام کا یہ عظیم لشکر اکتوبر۶۳۰ ء کے آخری ہفتے میں رسولِ کریمﷺ کی قیادت میں شام کی طرف کوچ کر گیا۔ تمازتِ آفتاب کا یہ عالم جیسے زمین شعلے اگل رہی ہو۔ ریت اتنی گرم کہ گھوڑے اور اونٹوں کے پاؤں جلتے تھے۔ اس سال قحط کی کیفیت بھی پیدا ہو گئی تھی۔ اس لیے مجاہدین کے پاس خوراک کی کمی تھی ۔ مجاہدین اس جھلسا دینے والی گرمی میں پانی نہیں پیتے تھے کہ معلوم نہیں آگے کتنی دور جا کر پانی ملے، تھوڑی ہی دور جا کر مجاہدین کے ہونٹ خشک ہو گئے اور ان کے حلق میں کانٹے سے چبھنے لگے۔ لیکن ان کی زبان پر اﷲ کا نام تھا اور وہ ایسے عزم سے سرشار تھے جس کا اجر خدا کے سوا اور کوئی نہیں دے سکتا تھا۔

ایک لگن تھی ایک جذبہ تھا کہ مجاہدین زمین و آسمان کے اگلے ہوئے شعلوں کا منہ چڑاتے چلے جارہے تھے۔ تقریباً چودہ روز بعد یہ لشکر شام کی سرحدکے ساتھ تبوک کے مقام پر پہنچ گیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ اچھے اور خوش گوار موسم میں مدینہ سے تبوک کا سفر چودہ دنوں کا تھا جسے اس وقت کے مسافروں کی زبان میں چودہ منزل کہا جاتا تھا۔ بعض مؤرخین نے چودہ منزل کو چودہ دن کہا ہے۔ تبوک میں ایک جاسوس نے اطلاع دی کہ رومیوں کے جو دستے اردن میں آئے تھے وہ اس وقت دمشق میں ہیں۔ رسولِ کریمﷺ نے لشکر کو تبوک میں خیمہ زن ہونے کا حکم دیا اور تمام سالاروں کو صلاح و مشورے کیلئے طلب کیا  ۔سب کو یہی توقع تھی کہ تبوک سے کوچ کا حکم ملے گا اور دمشق میں یا دمشق سے کچھ ادھررومیوں کے ساتھ فیصلہ کن معرکہ ہو گا۔ رسولِ کریمﷺ نے اپنے اصول کے مطابق سب سے مشورے طلب کیے ۔ ہر سالار نے یہ ذہن میں رکھ کے کہ رومیوں سے جنگ ہو گی مشورے دیئے لیکن رسول ِکریمﷺ نے یہ کہہ کر سب کو حیرت میں ڈال دیا کہ تبوک سے آگے کوچ نہیں ہو گا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ رسولِ خداﷺ کے اس فیصلے میں کہ آگے نہیں بڑھا جائے گا بہت بڑی جنگی دانش تھی۔آپﷺ نے مدینہ میں ہی کہہ دیا تھا کہ رومیوں کا راستہ روکا جائے گا۔ آپﷺ مستقر سے اتنی دور اور اتنی شدید گرمی میں لڑنا نہیں چاہتے تھے ،اس کی بجائے آپﷺ ہرقل کو اشتعال دلا رہے تھے کہ وہ اپنی مستقر سے دور تبوک میں آ کر لڑے۔ مجاہدین لڑنے کیلئے گئے تھے ان کے دلوں میں کوئی وہم اور کوئی خوف نہیں تھا لیکن جنگ میں ایک خاص قسم کی عقل و دانش کی ضرورت ہوتی ہے ۔ رسولِ کریمﷺ نے عقل و دانش کو استعمال کیا اور مدینہ کی طرف رومیوں کا راستہ روکنے کا یہ اہتمام کیا کہ اس علاقے میں جو قبائل رومیوں کے زیرِ اثر تھے انہیں اپنے اثر میں لانے کی مہمات تیار کیں۔ ان میں چار مقامات خصوصی اہمیت کے حامل ہیں جہاں ان مہمات کو بھیجا جانا تھا ان میں ایک تو عقبہ تھا ۔جو اس دور میں ایلہ کہلاتا تھا۔ دوسرا مقام مقننہ تیسرا ازرُح اور چوتھا جربہ تھا۔ رسولِ کریمﷺ نے ان تمام قبائل کے ساتھ جنگ کرنے کے بجائے دوستی کے معاہدے کی شرائط بھیجیں جن میں ایک یہ تھیں کہ ان قبائل کے جو لوگ اسلام قبول نہیں کریں گے انہیں ان کی مرضی کے خلاف جنگ میں نہیں لے جایا جائے گا۔ دوسری شرط یہ تھی کہ ان پر کوئی بھی حملہ کرے گا تو مسلمان ان کے دفاع کو اپنی ذمہ داری سمجھیں گے۔ اس کے بدلے میں اسلا می حکومت ان سے جذیہ وصول کرے گی۔

سب سے پہلے ایلہ کے فرمانرواں یوحنّا نے خود آ کر رسولِ کریمﷺ کی دوستی کی پیش کش قبول کی اور جزیہ کی باقاعدہ ادائیگی کی شرط بھی قبول کرلی ۔ اس کے فوراً بعد دو اور طاقتور قبیلوں نے بھی مسلمانوں کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کر لیا۔ اور جزیہ کی شرط بھی مان لی۔ الجوف ایک مقام ہے جو اس دور میں دومۃ الجندل کہلاتا تھا ۔ یہ بڑے ہی خوفناک صحرا میں واقع تھا، اس زمانے کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ اس مقام کے اردگرد ایسے ریتیلے ٹیلے اور نشیب تھے کہ انہیں ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ دومۃ الجندل کا حکمران اُکیدر بن مالک تھا۔ چونکہ اس کی بادشاہی انتہائی دشوار گزار علاقے میں تھی اس لیے وہ اپنے علاقے کو ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا ۔ رسولِ کریمﷺ نے جو وفد اُکیدر بن مالک کے پاس بھیجا تھا وہ یہ جواب لے کر آیاکہ اُکیدر نے نہ دوستی قبو ل کی ہے نہ وہ جزیہ دینے پا آمادہ ہوا ہے۔ بلکہ اس نے اعلانیہ کہا ہے کہ مسلمانوں کو وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے اور وہ اسلام کی بیخ کنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا۔ رسولِ کریمﷺ نے خالد ؓ بن ولید کو بلایا اور انہیں کہا کہ وہ چار سو سوار اپنے ساتھ لیں اور اُکیدر بن مالک کو زندہ پکڑ لائیں۔ اُکیدر بن مالک اپنے دربار میں اونچی مسند پر بیٹھا تھا ۔ اس کے پیچھے دو نیم برہنہ لڑکیاں کھڑی مور چھل ہلا رہی تھیں ۔ اُکیدر بن مالک کے چہرے پر وہی رعونت تھی جو روائتی بادشاہوں کے چہروں پر ہوا کرتی ہیں۔’’اے ابنِ مالک!‘‘ اس کے بوڑھے وزیر نے جو اس کی فوج کاسالار بھی تھا اٹھ کر کہا۔’’تیری بادشاہی کو کبھی زوال نہ آئے۔ کیا تجھے پتا نہیں چلا کہ ایلہ ،جربہ ازرُح اور مقننہ کے قبیلوں نے مدینہ کے مسلمانوں کی دوستی قبول کرلی ہے ،آج دوستی قبول کی ہے تو کل قبیلۂ قریش کے محمدﷺ کے مذہب کو بھی قبول کر لیں گے۔‘‘’’کیا ہمارا بزرگ وزیر ہمیں یہ مشورہ دینا چاہتا ہے کہ ہم بھی مسلمانوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیں ؟‘‘اُکیدر بن مالک نے کہا۔’’ہم ایسا کوئی مشورہ قبول نہیں کریں گے۔‘‘’’نہیں ابن ِمالک! ‘‘بوڑھے وزیر نے کہا۔’’میری عمر نے جو مجھے دکھایا ہے وہ تو نے ابھی نہیں دیکھا ہے ۔ میں مانتاہوں کہ تو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تو اپنے دشمن کو اتنا حقیر سمجھ رہا ہے کہ تو یہ بھی نہیں سوچ رہا کہ مسلمانوں نے حملہ کر دیا تو ہم تمہاری بادشاہی کو کس طرح بچائیں گے؟‘‘’’ صلیبِ مقدس کی قسم!‘‘ اکیدر بن مالک نے کہا ۔’’ہمارے اردگرد کا جو علاقہ ہے وہ ہماری بادشاہی کو بچائے گا ۔میرے اس خوفناک صحرا کی ریت مسلمانوں کا خون چوس لے گی۔ ریت اور مٹی کے جو ٹیلے دومۃ الجندل کے اردگرد کھڑے ہیں یہ خدا نے میرے سنتری کھڑے کررکھے ہیں۔ہم پر کوئی فتح نہیں پا سکتا ۔‘‘

اس وقت خالدؓ بن ولید اپنے چارسو سواروں کے ساتھ آدھا راستہ طے کر چکے تھے ۔ اگلے روز وہ اس صحرا میں داخل ہو گئے جسے مؤرخوں نے بھی ناقابلِ تسخیر لکھا ہے۔ مجاہدین کے چہرے ریت کی مانند خشک ہو گئے تھے ۔ گھوڑوں کی چال بتا رہی تھی کہ یہ مسافت اور پیاس ان کی برداشت سے باہر ہوئی جا رہی ہے۔ لیکن خالدؓ بن ولید کی قیادت مجاہدین کے دلوں میں نئی روح پھونک رہی تھی۔ دومۃ الجندل اچھا خاصہ شہر تھا۔ اس کے ارد گرد دیوار تھی ۔خالد ؓ بن ولید اس کے قریب پہنچ گئے اور اپنے سواروں کو ایک وسیع نشیب میں چھپا دیا ، مجاہدین کی جسمانی کیفیت ایسی تھی کہ انہیں کم از کم ایک دن اور ایک رات آرام کرنے کی ضرورت تھی۔ لیکن خالدؓ نے اپنے سواروں کو تیاری کی حالت میں رکھا۔ سورج غروب ہو گیا پھر رات گہری ہونے لگی ۔ چاند پوری آب و تاب سے چمکنے لگا۔ صحرا کی چاندنی بڑی شفاف ہو گئی۔ خالدؓ بن ولید اپنے ایک آدمی کو ساتھ لے کر شہر کی دیوار کی طرف چل پڑے  ۔وہ جائزہ لینا چاہتے تھے کہ شہر کا محاصرہ کیا جائے جس کیلئے چار سو سوار کافی نہیں تھے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا تھا کہ شہر کی ناکہ بندی کر دی جائے۔ دوسری صورت یلغار کی تھی ۔ خالدؓ دیوار کے دروازے سے خاصہ پیچھے ایک اوٹ میں بیٹھ گئے ۔ چاندنی اتنی صاف تھی کہ دیوار کے اوپر سے خالد ؓ نظر آ سکتے تھے ۔شہرکا بڑا دروازہ کھلا ۔ خالدؓ سمجھے کہ اُکیدر فوج لے کر باہرآ رہا ہے اور وہ ان پر حملہ کرے گا لیکن اکیدر کے پیچھے پیچھے چند سوار باہر نکلے اور دروازہ بند ہو گیا۔ خالد کو یاد آیا کہ تبوک سے روانگی کے وقت رسولِ کریمﷺ نے انہیں کہا تھا اکیدر تمہیں شاید شکار کھیلتا ہوا ملے گا۔ اُکیدر بن مالک کے متعلق مشہور تھا کہ وہ جیسے شکار کھیلنے کیلئے ہی پیدا ہوا تھا۔ صحرا میں شکار رات کو ملتا تھا کیونکہ دن کے وقت جانور دبکے چھپے رہتے تھے۔ پورے چاند کی رات بڑے شکار کیلئے موزوں سمجھی جاتی تھی۔ یہ رسولِ اکرمﷺ کی انٹیلی جنس کا کمال تھا کہ آپﷺ نے دشمن کی عادات کو اورخصلتوں کا بھی پتا چلا لیا تھا اور آپﷺ نے خالدؓکو اکیدر کے متعلق پوری معلومات دے دی تھیں ۔

خالدؓ نے جب دیکھا کہ اکیدر بن مالک چند ایک سواروں کے ساتھ باہر آیا ہے تو انہوں نے اس کے انداز کا پوری طرح جائزہ لیا ۔خالد ؓسمجھ گئے کہ اکیدر کو معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ چار سو مسلمان سوار اس کے شہر کے قریب پہنچ گئے ہیں اور وہ شکار کھیلنے جا رہا ہے۔ خالدؓ اپنے آدمی کے ساتھ رینگتے سرکتے پیچھے آئے۔ جب اکیدر اپنے سواروں کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہو گیا تو خالدؓ دوڑ کر اپنے سواروں تک پہنچ گئے ۔ انہی نے کچھ سوار منتخب کیے اپنے تمام سواروں کو انہوں نے تیاری کی حالت میں رکھا ہوا تھا ۔ وہ سواروں کے ایک جیش کو اپنی قیادت میں اس طرف لے گئے جدھر اکیدر گیا تھا۔ خالد ؓنے یہ خیال رکھا کہ اکیدر شہر سے اتنا آگے چلا جائے کہ جب اس پر حملہ ہوتو شہر تک اس کی آواز بھی نہ پہنچ سکے۔
رات کے سنّاٹے میں اتنے زیادہ گھوڑوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا تھا۔ اکیدر اور اس کے ساتھیوں کو پتا چل گیا تھا کہ ان کے پیچھے گھوڑ سوار آ رہے ہیں ۔ اکیدر کا بھائی حسان بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے کہا کہ وہ جا کہ دیکھتا ہے کہ یہ کون ہیں ۔اس نے اپنا گھوڑا پیچھے کو موڑا ہی تھا کہ خالد ؓنے اپنے سواروں کو ہلّہ بولنے کا حکم دے دیا۔ اکیدر کو خالدؓ اور ان کے سواروں کی للکار سے پتا چلا کہ یہ مسلمان ہیں ۔ حسان نے برچھی سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن مارا گیا۔ اکیدر اپنے سواروں سے ذر االگ تھا۔ خالدؓ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اوررخ اکیدر کی طرف کر لیا۔ اکیدر ایسا بوکھلایا کہ خالدؓ پر وار کرنے کے بجائے اس نے راستے سے ہٹنے کی کوشش کی۔ خالدؓ نے اس پر کسی ہتھیار سے وار نہ کیا نہ گھوڑے کی رفتار کم کی۔ انہوں نے گھوڑا اکیدر کے گھوڑے کے قریب سے گزارااور بازو اکیدر کی کمر میں ڈال کر اسے اس کے گھوڑے سے اٹھا کر اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ اکیدر بن مالک کے شکاری ساتھیوں اور محافظوں نے دیکھا کہ ان کا فرماں روا پکڑا گیا اور اس کا بھائی مارا گیا ہے تو انہوں نے خالد ؓکے سواروں کا مقابلہ کرنے کے بجائے بھاگ نکلنے کا راستہ دیکھا۔ وہ زمین ایسی تھی کہ چھپ کرنکل جانے کیلئے نشیب کھڈ اور ٹیلے بہت تھے۔ ان میں سے کچھ زخمی ہوئے لیکن نکل گئے ۔شہر میں داخل ہو کر انہوں نے دروازہ بند کر لیا۔ خالدؓ بن ولید نے اکیدر کو پکڑے رکھا اور کچھ دور جا کر گھوڑا روکا ۔ اکیدر سے کہا کہ اس کے بھاگ نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ انہوں نے اسے گھوڑے سے اتارا اور خود بھی اترے۔’’کیا تم اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھتے تھے؟‘‘خالدؓنے پوچھا۔’’ہاں!میں اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا۔‘‘اکیدر بن مالک نے کہا۔’’لیکن تو نے مجھے اپنا نام نہیں بتایا۔‘‘’’خالد۔ خالد بن ولید!‘‘’’ہاں!‘‘اکیدر نے کہا ۔’’میں نے یہ نام سنا ہے……یہاں تک خالد ہی پہنچ سکتا تھا۔‘‘’’نہیں اکیدر!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’یہاں تک ہر وہ انسان پہنچ سکتا ہے جس کے دل میں اﷲ کا نام ہے اوروہ محمدﷺ کو اﷲ کا رسول مانتا ہے۔‘‘’’میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟‘‘اکیدر نے پوچھا۔’’تیرے ساتھ وہ سلوک نہیں ہو گا جو تو نے ہمارے رسولﷺ کے ایلچی کے ساتھ کیا تھا۔‘‘خالد ؓنے کہا۔’’ہم سے اچھے سلوک کی توقع رکھ ابنِ مالک! اگر ہم رومی ہوتے اور ہرقل کے بھیجے ہوئے ہوتے تو ہم کہتے کہ اپنا خزانہ اور اپنے شہر کی بہت ہی خوبصورت لڑکیاں اور شراب کے مٹکے ہمارے حوالے کردے۔ پہلے ہم عیش و عشرت کرتے پھر ہرقل کے حکم کی تعمیل کرتے۔‘‘
’’ہاں!‘‘ اکیدر نے کہا۔’’رومی ہوتے تو ایسا ہی کرتے اور وہ ایسا کر رہے ہیں۔ وہ کون سا تحفہ ہے جو میں ہرقل کو نہیں بھیجتا۔ولید کے بیٹے! مجھ پر لازم ہے کہ رومیوں کو خوش رکھوں۔‘‘’’کہاں ہیں رومی؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا تو انہیں مدد کیلئے بلا سکتا ہے ؟ ہم تیری مدد کو آئیں گے۔ میں تجھے قیدی بنا کر نہیں معزز مہمان بنا کر اﷲ کے رسولﷺ کے پاس لے جا رہا ہوں۔ تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ جبر نہیں ہوگا۔ ہم دشمنی کا نہیں دوستی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ ہمارے رسولﷺ کے سامنے جاکر تجھے تاسف ہو گا کہ جس کا تو دشمن رہا ہے وہ تو دوستی کے قابل ہے۔‘‘اکیدر بن مالک کی جیسے زبان گنگ ہو گئی ہو۔ اس نے کچھ بھی نہ کہا۔ اس کا گھوڑا وہیں کہیں آوارہ پھر رہاتھا۔ خالدؓ نے اپنے سواروں سے کہا کہ اکیدر کے گھوڑے کو پکڑ لائیں ۔سوار گھوڑے کو پکڑ لائے ۔ خالدؓ نے اکیدر کو گھوڑے پر سوار کیا اور تبوک واپسی کا حکم دے دیا۔ تبوک پہنچ کر خالدؓ نے اکیدر بن مالک کو رسولِ خداﷺ کے حضورپیش کیا۔ آپﷺ نے اس کے آگے اپنی شرطیں رکھیں لیکن ایسی شرط کا اشارہ تک نہ کیا کہ وہ اسلام قبول کرلے۔ اس کے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک کیا گیا۔ اس پر کوئی خوف طاری نہ کیا گیا۔ اسے یہی ایک شرط بہت اچھی لگی کہ مسلمان اس کی حفاظت کریں گے ۔ اس نے جزیہ دینے کی شرط مان لی اور دوستی کا معاہدہ کر لیا۔’’بے شک صرف مسلمان ہیں جو میری مدد کو پہنچ سکتے ہیں ۔‘‘معاہدہ کر کے اس نے کہا تھا ۔جب اکیدر بن مالک نے بھی دوستی کا معاہدہ کرکے مسلمانوں کو جزیہ دینا قبول کر لیا تو کئی اور چھوٹے چھوٹے قبیلوں کے سردار تبوک میں رسولِ کریمﷺکے پاس آ گئے اور اطاعت قبول کرلی۔ اس طرح دور دور تک کے علاقے مسلمانوں کے زیرِ اثر آ گئے۔ اور تمام قبائلی مسلمانوں کے اتحادی بن گئے۔ ان میں متعدد قبائل نے اسلام قبول کرلیا۔ اب رومیوں سے جنگ کی ضرورت نہیں رہی تھی ۔ ان کی پیش قدمی کا رستہ رک گیا تھا بلکہ ہرقل کیلئے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ مسلمانوں سے ٹکر لینے کو آگے بڑھا تو راستے کے تمام قبائل اسے اپنے علاقے میں ہی ختم کردیں گے۔ رسولِ اکرمﷺ نے مجاہدین کے لشکر کو مدینہ کو واپسی کا حکم دے دیا۔ یہ لشکر دسمبر ۶۳۰ء میں مدینہ پہنچ گیا۔ اسلام عقیدے کے لحاظ سے اور عسکری لحاظ سے بھی ایک ایسی طاقت بن چکا تھا کہ رسولِ کریمﷺ کے بھیجے ہوئے ایلچی کہیں بھی چلے جاتے انہیں شاہی مہمان سمجھا جاتا اور ان کا پیغام احترام سے سنا جاتا ۔ رسولِ کریمﷺ نے دور دراز کے قبیلوں اور چھوٹی بڑی حکومتوں کو قبولِ اسلام کے دعوت نامے بھیجنے شروع کر دیئے۔ ان میں بعض سردار سرکش ،خود سر اور کم فہم تھے۔ ان کی طرف رسولِ کریمﷺ کا پیغام اس قسم کا ہوتا تھا کہ قبولِ اسلام کے بجائے اگر وہ اپنی جنگی طاقت آزمانا چاہتے ہیں تو آزما لیں، اور یہ سوچ لیں کہ شکست کی صورت میں انہیں مسلمانوں کا مکمل طور پر مطیع ہونا پڑے گا اور ان کی کوئی شرط قبول نہیں کی جائے گی-

(جاری ھے)

تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

⚔ شمشیرِ بے نیام ⚔  حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( قسط 20 ) مالک بن عوف کی بیوی نے مالک کے ہاتھ سے تلوار لے لی اور پلنگ پر پھینک دی۔’’ہوش ...

راز زندگی-1


🎀 راز زندگی 🎀


زندگی کے سفر کی مختلف شکلیں ہیں۔ 
ہو سکتا ہے کہ آپ "آسانیوں کے زمانے“ سے گٌزر رہے ہوں اور کوئی "مشکلات کے زمانے" سے گزر رہا ہو۔ 
اللّہ تعالی کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں میں دِنوں کو پھیرتا رہتا ہے۔ آج کسی کی مشکل ہے، اگر آپ آسان کر دیں گے تو جب کبھی آپ مشکل سے گزریں گے تو اللّہ آپ کی مشکل آسان کر دیں گے۔ 
کیونکہ یہ زندگی کی حقیقت ہے ۔ 
آج کا دن، رات میں بدلے گا، اور رات سے صبح نکلے گی ۔ 
کسی پر سے ”رات“ گزر رہی ہے تو اس میں سے اپنے لیے اندھیرے نہ سمیٹیں، ورنہ آپ کے دن بھی”سیاہ“ ہو سکتے ہیں ۔

تدبّرکیا کیجئے، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کیجئے ....!



🎀 راز زندگی 🎀 زندگی کے سفر کی مختلف شکلیں ہیں۔  ہو سکتا ہے کہ آپ " آسانیوں کے زمانے “ سے گٌزر رہے ہوں اور کوئی " مشکلات کے زما...

شمشیرِ بے نیام ۔۔۔ خالد بن ولید ۔۔۔ قسط نمبر 19





شمشیرِ بے نیام

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

(  قسط نمبر-19 )

تاریخ میں ان آدمیوں کو قبیلۂ ثقیف کے لکھا گیا ہے۔جو اپنے آدمی کی للکار پر اس ٹھیکری پر چڑھنے لگے جس پر رسول ﷲﷺ کھڑے تھے۔ صحابہ کرامؓ جو آپﷺ کے ساتھ تھے، ان آدمیوں پر ٹوٹ پڑے۔ مختصر سے معرکے میں وہ سب بھاگ نکلے۔ ان میں سے کوئی بھی رسول اکرمﷺ تک نہ پہنچ سکا۔’’میں مالک بن عوف سے شکست نہیں کھاؤں گا۔‘‘رسول اﷲﷺ نے کہا۔’’وہ اتنی آسانی سے کیسے فتح حاصل کر سکتا ہے۔‘‘حضورﷺ نے اپنی فوج کو بکھرتے اور بھاگتے تو دیکھ ہی لیا تھا ۔ آپﷺ دشمن کو بھی دیکھ رہے تھے ۔ آپﷺ کی عسکری حس نے محسوس کر لیا کہ مالک بن عوف اپنے پہلے بھرپور اور کامیاب وار پر اس قدر خوش ہو گیا ہے کہ اسے اگلی چال کا خیال ہی نہیں رہا۔ وہ اسلامی فوج کی بھگدڑ اور افراتفری کی پسپائی سے فائدہ نہیں اٹھا رہا تھا۔ حضورﷺ کو توقع تھی کہ مالک بن عوف کی متحدہ فوج مسلمانوں کے تعاقب میں آئے گی لیکن تعاقب میں دشمن کے جو آدمی آئے تھے وہ تعداد میں تھوڑے اور غیر منظم تھے ۔ اس کے علاوہ حضورﷺ نے اپنے ہراول دستے کو پیچھے آتے بھی دیکھا تھا اور آپﷺ نے معلوم بھی کیا تھا کہ ہراول کے کتنے آدمی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ آپﷺ کو بتایا گیا کہ کئی ایک مجاہدین کے گھوڑے اور اونٹ زخمی ہوئے ہیں شہید ایک بھی نہیں ہوا۔ اس سے رسول ﷺ نے یہ رائے قائم کی کہ یہ دشمن تیر اندازی میں اناڑی ہے اور جلد باز بھی ہے۔ اتنی زیادہ تیر اندازی کسی کو زندہ نہ رہنے دیتی۔ حضورﷺ نے اپنے پاس کھڑے صحابہ کرامؓ پر نظر ڈالی۔ آپﷺ کی نظریں حضرت عباسؓ پرٹھہر گئیں ۔ حضرت عباس ؓ کی آواز غیر معمولی طورپر بلند تھی۔ جو بہت دور تک سنائی دیتی تھی۔ جسم کے لحاظ سے بھی حضرت عباسؓ قوی ہیکل تھے۔ ’’عباس!‘‘حضورﷺ نے کہا۔’’تم پر اﷲ کی رحمت ہو۔ مسلمانوں کو پکارو ……انہیں یہاں آنے کیلئے کہو۔‘‘’’اے انصار!‘‘ حضرت عباس ؓنے انتہائی بلند آواز میں پکارنا شروع کیا۔’’ اے اہلِ مدینہ…… اے اہلِ ……مکہ آؤ۔ اپنے رسول کے پاس آؤ۔‘‘

حضرت عباسؓ قبیلوں کے اور آدمیوں کے نام لے لے کر پکارتے رہے اور کہتے رہے کہ اپنے رسول ﷺ کے پاس اپنے اللہ کے رسول کے پاس آؤ۔

سب سے پہلے انصار آئے۔ ان کی تعداد معمولی تھی لیکن ایک کو دیکھ کردوسرا آتا چلا گیا۔ مکہ کے کچھ دوسرے قبیلوں کے لوگ بھی آ گئے۔ ان کی تعداد ایک سو ہو گئی۔ رسولِ کریمﷺ نے دیکھا کہ قبیلہ ہوازن کے بہت سے آدمی پسپا ہوئے مسلمانوں کی طرف دوڑے آ رہے تھے۔ آپﷺ نے ان ایک سو مجاہدین کو دشمن کے ان آدمیوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ مجاہدین ان کے عقب سے ان پر ٹوٹ پڑے۔ ہوازن کے آدمی بوکھلا گئے اور مقابلے کیلئے سنبھلنے لگے لیکن مجاہدین نے انہیں سنبھلنے کی مہلت نہ دی ۔ ان میں سے بہت سے بھاگ نکلے ۔ان کے زخمی اور ہلاک ہونے والے پیچھے رہ گئے۔ وہ تو اچانک ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ مجاہدین میں بھگدڑ مچ گئی تھی ، ورنہ وہ ہمیشہ اپنے سے کئی گنا زیادہ دشمن سے لڑے اور فاتح اور کامران رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ عباسؓ کی پکار پر مسلمان رسولِ ﷲﷺ کے حضور اکھٹے ہو رہے ہیں اور دشمن مسلمانوں کے چھوٹے سے گروہ کے جوابی حملے کو بھی برداشت نہیں کر سکا اور انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ ہوازن اور ثقیف ان کے تعاقب میں نہیں آ رہے تو کئی ہزار مجاہدین واپس آ گئے ۔ رسول ﷲﷺ نے انہیں فوراً منظم کیا اور دشمن پر حملے کا حکم دے دیا۔ خالدؓ بن ولید لا پتا تھے۔ کسی کو ہوش نہیں تھا کہ دیکھتا کہ کون لاپتا ہے اور کون کہاں ہے ۔ وہی تنگ گھاٹی جہاں مجاہدین پر قہر ٹوٹا تھا، اب متحدہ قبائل کیلئے موت کی گھاٹی بن گئی تھی۔ قبیلہ ہوازن چونکہ سب سے زیادہ لڑاکا قبیلہ تھا اس لیے اسی کے آدمیوں کو آگے رکھا گیا تھا۔ یہ لوگ بلا شک و شبہ ماہر لڑاکا تھے لیکن مسلمانوں نے جس قہر سے حملہ کیا تھا اس کے آگے ہوازن ٹھہر نہ سکے۔ مسلمان اس خفت کو بھی مٹانا چاہتے تھے جو انہیں غلطی سے اٹھانی پڑی تھی۔ یہ دست بدست لڑائی تھی ۔

مجاہدین نے تیغ زنی کے وہ جوہر دکھائے کہ ہوازن گر رہے تھے یا معرکے سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ رسولﷲ ﷺ معرکے کے قریب ایک بلند جگہ کھڑے تھے۔ آپﷺ نے للکار للکارکر کہا۔’’یہ جھوٹ نہیں کہ میں نبی ہوں ……میں ابنِ عبد المطلب ہوں۔‘‘ہوازن پیچھے ہٹتے چلے جا رہے تھے۔ وہ اب وار کرتے کم اور وار روکتے زیادہ تھے۔ ان کا دم خم ٹوٹ رہا تھا۔ ان کے پیچھے قبیلہ ٔ ثقیف کے دستے تیار کھڑے تھے ۔ مالک بن عوف نے چلا چلا کر ہوازن کو پیچھے ہٹا لیا۔ قبیلۂ ثقیف کے تازہ دم لڑاکوں نے ہوازن کی جگہ لے لی ۔ مسلمان تھک چکے تھے اور ثقیف تازہ دم تھے لیکن مسلمانوں کو اپنے قریب اپنے رسولﷺ کی موجودگی اور للکار نیا حوصلہ دے رہی تھی۔ مسلمانوں کی تلواروں اور برچھیوں کی ضربوں میں جو قہر اور غضب تھا اور ان کے نعروں اور للکار میں جو گرج اور کڑک تھی اس نے ثقیف پر دہشت طاری کردی۔ ثقیف کے لڑاکا جو عرب میں خاصے مشہور تھے تیزی سے پیچھے ہٹنے لگے اور پھر ان کے اونٹوں اور گھوڑوں نے بھگدڑ بپا کر دی۔ اس سے دشمن میں وہی کیفیت پیدا ہو گئی جو گھاٹی میں صبح کے وقت مسلمانوں میں پیدا ہو گئی تھی۔ ہوازن بڑی بری حالت میں پیچھے کو بھاگے تھے ۔ اب ثقیف بھی پسپا ہوئے تو ان کے اتحادی قبائل کے حوصلے لڑے بغیر ہی ٹوٹ پھوٹ گئے۔ وہ افراتفری میں بھاگ اٹھے۔
مالک بن عوف تنگ راستے سے دور پیچھے ہوازن کے بھاگے ہوئے دستوں کو یکجا کر رہا تھا۔ اس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ جارحانہ کارروائی سے منہ موڑ چکا ہے اور اپنے دستوں کو دفاعی دیوار کے طور پر ترتیب دے رہا ہے۔ رسول ﷲﷺ نے یہ ترتیب دیکھی تو آپﷺ اپنے لشکر کی طرف پلٹے۔ آپﷺ نے دیکھا کہ جو مجاہدین صبح کے وقت بھاگ گئے تھے وہ سب واپس آ گئے ہیں۔ حضورﷺ نے حکم دیا کہ’’ گھڑ سواروں کو آگے لاؤ۔‘‘ذرا سی دیر میں سوار پیادوں سے الگ ہو گئے ۔ آپﷺ نے سواروں کو ایک خاص ترتیب میں کرکے حکم دیا کہ ’’ہوازن کو سنبھلنے اور منظم ہونے کا موقع نہ دواور برق رفتار حملہ کرو۔‘‘ان سواروں میں بنو سلیم کے وہ سوار بھی شامل تھے جن پر سب سے پہلے تیروں کی بوچھاڑیں آئی تھیں اور مسلمانوں کی جمعیت پارہ پارہ ہو گئی تھی۔ لیکن بنو سلیم کا کمانڈر ان کے ساتھ نہیں تھا اور وہ تھے خالدؓ بن ولید جو ابھی تک کہیں بے ہوش پڑے تھے۔ رسولِ ﷲﷺ نے اس سوار دستے کی قیادت زبیر ؓبن العوام کے سپرد کی اور انہیں حکم دیا کہ آگے جو درّہ ہے اس پر مالک بن عوف قبضہ کیے بیٹھا ہے ،اسے درّے سے بے دخل کر دو۔ رسولِ کریمﷺ نے جنگ کی کمان اپنے دستِ مبارک میں لے لی تھی۔ آپﷺ کے اشارے پر زبیرؓ بن العوام نے ایسا برق رفتار اور جچا تلا ہلّہ بولا کہ ہوازن جو ابھی تک بوکھلائے ہوئے تھے مقابلے میں جم نہ سکے اور درّے سے نکل گئے ۔ درّہ خاصہ لمبا تھا۔ رسولِ اکرمﷺ نے زبیر ؓکے دستے کو درّے میں ہی رہنے دیا اور حکم دیا کہ اب درّہ جنگی اڈا ہوگا۔ٓ آپﷺ نے دوسرا سوار دستہ آگے کیا جس کے کمانڈر ابو عامر ؓ تھے۔حضورﷺ نے ابو عامر ؓ کے سپرد کام کیا کہ اوطاس کے قریب متحدہ قبائل کا جو کیمپ ہے اس پر حملہ کرو۔ 

’’خالد……خالد یہاں ہے ……‘‘کسی نے بڑی دور سے للکار کر کہا۔’’یہ پڑا ہے۔‘‘
رسولِ اکرمﷺ دوڑے گئے اور خالدؓ تک پہنچے ۔ خالد ؓابھی تک بے ہوش پڑے تھے ۔ آپﷺ خالدؓ کے پاس بیٹھ گئے اورانتہائی شفقت سے ان کے سر سے پاؤں تک پھونک ماری۔ خالد ؓنے آنکھیں کھول دیں ۔ رسول ﷲﷺ کے قلب اطہر سے نکلی دُعا کا اعجاز تھا کہ خالدؓ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ انہیں جو تیر لگے تھے وہ گہرے نہیں اترے تھے۔ تیر نکال لیے گئے اور بڑی تیزی سے مرہم پٹی کر دی گئی۔’’یا رسول ﷲﷺ!‘‘ خالدؓ نے کہا ۔’’میں لڑوں گا۔ میں لڑنے کے قابل ہوں۔‘‘
آ پﷺ نے خالد ؓ سے کہا کہ’’ زبیر کے سوار دستے میں شامل ہو جاؤ۔ تم ابھی کمان نہیں لے سکو گے۔‘‘خالدؓ ایک گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ ان کے کپڑے خون سے لال تھے۔ انہوں نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور زبیرؓ کے سوار دستے میں شامل ہو گئے۔انہوں نے زبیر ؓسے پوچھا۔’’کیا حکم ہے؟‘‘زبیرؓ نے انہیں بتایا کہ ہوازن کی خیمہ گاہ پر حملہ کرنا ہے جو اوطاس کے قریب ہے لیکن یہ حملہ ابو عامرؓ کریں گے۔ اوطاس وہاں سے کچھ دور تھا ۔ مالک بن عوف نے ہوازن دستے کو وہاں تک ہٹا لیا اور اپنی خیمہ گاہ کے اردگرد پھیلا دیا تھا ۔ یہ دفاعی حصار تھا، جس کی ہوازن کے کیمپ کے گرد ضرورت اس لیے تھی کہ وہاں وہ ہزاروں عورتیں بچے اور مویشی تھے جنہیں قبیلۂ ہوازن کے سپاہی اپنے ساتھ لائے تھے۔ مالک بن عوف نے تو یہ سوچا تھا کہ ہوازن اپنی عورتوں اور بچوں کو اپنے ساتھ دیکھ کر زیادہ غیرت مندی اور بے جگری سے لڑیں گے مگر اب یہ صورت پیدا ہو گئی کہ دُرید بن الصّمہ ،مالک بن عوف کو برا بھلا کہہ رہا تھا کہ اس کے منع کرنے کے باوجود مالک عورتوں کو ساتھ لے آیا تھا۔ ان کیلئے اب اپنے اہل و عیال اور مویشیوں کو مسلمانوں سے بچانا محال دکھائی دے رہا تھا۔ ابو عامر ؓ کا سوار دستہ اوطا س کی طرف بڑھا۔ قریب گئے تو ہوازن نے جم کر مقابلہ کیا اب وہ جنگ جیتنے کیلئے یا مسلمانوں کو تہس نہس کرکے مکہ پر قبضہ کرنے کیلئے نہیں بلکہ مسلمانوں سے اپنے اہل و عیال اور مویشیوں کو بچانے کیلئے لڑ رہے تھے۔ یہ بھی دست بدست معرکہ تھا ،جس میں جنگی چالوں کے نہیں ذاتی شجاعت کے مظاہرے ہو رہے تھے، سوار اور پیادے لڑتے ہوئے وادی میں پھیلتے جا رہے تھے۔ ابو عامرؓ نے دشمن کے نو سواروں کو ہلاک کر دیا مگر دسویں ہوازن کو للکارا تو اس کے ہاتھوں خود شہید ہو گئے۔ رسولِ اکرمﷺ نے پہلے ہی ان کا جانشین مقررکر دیا تھا ۔ وہ تھے ان کے چچا زاد بھائی ابو موسیٰؓ۔ا نہوں نے فوراً کمان سنبھال لی اور اپنے سواروں کو للکارنے لگے۔ ہوازن زخمی ہو ہو کر گر رہے تھے، صاف نظر آ رہا تھا کہ ان کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں۔ رسولِ اکرمﷺ نے زبیرؓ بن العوام کو جنہیں آپﷺ نے درّے میں روک لیا تھا۔ حکم دیا کہ اپنے دستے کو ابو موسیٰؓ کی مدد کیلئے لے جائیں ۔ حضورﷺ نے یہ اس لیے ضروری سمجھا تھا کہ دونوں دستے مل کر ہوازن کا کام جلدی تمام کر سکیں گے۔ زبیرؓ نے اپنے سواروں کو حملے کا حکم دیا۔ جب گھوڑے دوڑے اس وقت خالدؓ بن ولید کا گھوڑا دستے کے آگے تھا۔ ہوازن پہلے ہی ہمت ہار چکے تھے۔ مسلمانوں کے دوسرے سوار دستے کے حملے کی وہ تاب نہ لاسکے ان کے زخمیوں کی تعداد معمولی نہیں تھی۔
وہ اپنی عورتوں اور بچوں کو چھوڑ کر بھاگ نکلے ۔مسلمانوں نے کیمپ کو گھیرے میں لے لیا۔ چھوٹے چھوٹے قبیلوں کے لڑاکوں نے جب ہوازن اور ثقیف جیسے طاقتور قبیلوں کو بھاگتے دیکھا تو وہ وہاں سے بالکل غائب ہو گئے اور اپنی اپنی بستیوں میں جا پہنچے۔ مالک بن عوف میدانِ جنگ میں کہیں نظر نہیں آ رہا تھا ۔ وہ نظر آ ہی نہیں سکتا تھا ۔ اسے اپنے شہر طائف کی فکر پیدا ہو گئی تھی۔ اس نے اپنے قبیلے کے سرداروں سے کہا کہ’’ مسلمان جس رفتار اور جس جذبے سے آ رہے ہیں، اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ وہ طائف تک پہنچیں گے اور اس بستی کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔‘‘خطرے کے پیشِ نظر اس نے قبیلہ ثقیف کے تمام دستوں کو لڑائی سے نکالا اور طائف جا دم لیا۔ پیچھے حنین کی وادی میں کیفیت یہ تھی کہ ہوازن کی عورتیں اور بچے چیخ و پکار کر رہے تھے ۔ تمام وسیع و عریض وادی مجاہدینِ اسلام کی تحویل میں تھی۔ مکہ کے جو غیر فوجی مجاہدین کے ساتھ آئے تھے وہ زخمی مجاہدین کو اٹھارہے تھے، دشمن کے زخمی کرّاہ رہے تھے، مر رہے تھے۔ مرنے والوں میں بوڑھا دُرید بن الصّمہ بھی تھا۔ وہ لڑتا ہوا مارا گیا تھا ۔مسلمانوں کو دشمن کے زخمیوں اور قیدیوں سے جو ہتھیار اور گھوڑے ملے ان کے علاوہ چھ ہزار عورتیں اور بچے، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں اور بے شمارچاندی ہاتھ لگی۔مسلمانوں نے جنگ جیت لی تھی لیکن رسول ﷲﷺ نے فیصلہ کیا کہ مالک بن عوف کو مہلت نہیں دی جائے گی کہ وہ سستا سکے اور اپنی فوج کو منظم کر سکے۔ آپﷺ نے دراصل سانپ کا سر کچلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ آپﷺ کے حکم سے مالِ غنیمت آئی ہوئی عورتیں ،بچوں ، مویشیوں اور دیگر مال کو ایک دستے کے ساتھ جعرانہ بھیج دیا گیا ۔ اگلے حکم تک انہیں جعرانہ میں ہی رہنا تھا۔ دوسرے دن رسولِ ﷲﷺ کے حکم سے اسلامی فوج طائف کی طرف پیش قدمی کر گئی جہاں بڑی خونریز جنگ کی توقع تھی۔ معرکۂ حنین کا ذکر قرآن حکیم میں سورۂ توبہ میں آیا ہے ۔ بعض صحابہ کرامؓ نے معرکہ شروع ہونے سے پہلے کہا تھا کہ ہمیں کون شکست دے سکتا ہے ۔ اتنی بڑی طاقت کا مقابلہ کون کر سکتا ہے ؟ سورۂ توبہ میں آیا ہے:’’ﷲ نے بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد کی اور حنین کے دن بھی جب تم کو اپنی کثرت پر ناز تھا حالانکہ وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین باوجود اپنی وسعت کے تم پر تنگ ہو گئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگے پھر ﷲ نے اپنے رسول اور مسلمانوں پر تسلی نازل کی اور وہ فوجیں اتاریں جن کو تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو سزا دی اور کافروں کا بدلہ یہی ہے۔‘‘

 طائف بڑی خوبصورت بستی ہوا کرتی تھی۔ باغوں کی بستی تھی، پھولوں اور پھلوں کی مہک سے ہوائیں مخمور رہتی تھیں ۔طائف میں جا کر دکھی دل کھل اٹھتے تھے ۔ یہ جنگجو    سردارو ں کی بستی تھی۔ یہ ثقیف جیسے طاقتور قبیلے کا مرکز تھا۔ اس بستی کے قریب اس قبیلے کی عبادت گاہ تھی جس میں ثقیف ، ہوازن اور چند اور قبائل کے دیوتا لات کا بت رکھا تھا۔ جو بت نہیں ایک چبوترا تھا ۔ یہ قبائل اس چبوترے کو دیوتا کہتے اور اس کی پوجا کرتے تھے۔ اس عبادت گاہ میں ان کا کاہن رہتا تھا جسے خدا کا اوردیوتا لات کا ایلچی سمجھا جاتا تھا۔ کاہن فال نکال کر لوگوں کو آنے والے خطروں سے آگاہ کر دیا کرتا تھا ۔ کاہن کسی خوش نصیب کو ہی نظر آیا کرتا تھا۔عام لوگوں کو کاہن نہیں عبادت گاہ کے صرف مجاور ملا کرتے تھے۔کاہن کو جو دیکھ لیتا وہ ایسے خوش ہوتا تھا جیسے اس نے خدا کو دیکھ لیا ہو۔ طائف کیونکہ ان کے دیوتا کا مسکن تھا اس لیے یہ قبائل کا مقدس مقام تھا۔ ایک ہی مہینہ پہلے طائف میں جشن کا سماں تھا۔ یہاں کے سردارِ اعلیٰ مالک بن عوف نے پنے قبیلے جیسے ایک طاقتور قبیلے ہوازن اور کچھ اور قبیلوں کے سرداروں کو بہت بڑی ضرافت میں مدعو کیا تھا۔ علاقے کی چنی ہوئی خوبصورت ناچنے اور گانے والیاں بلائی گئی تھیں۔ ان کے رقص نے تماشائیوں پر وجد طاری کر دیا تھا۔ اس رات شراب کے مٹکے خالی ہو رہے تھے۔ اس رات اہلِ ثقیف اور اہلِ ہوازن نے عہد کیا تھا کہ وہ مکہ پر اچانک حملہ کرکے رسول ِﷲﷺ اور مکہ کے تمام مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیں گے ،ان قبائل کے ایک ضعیف العمر سردار دُرید بن الصّمہ نے کہا تھا:’’اٹھو اور لات کے نام پر حلف اٹھاؤ کہ ہم محمدﷺ اور اس کے تمام پیروکاروں کو جنہوں نے مکہ کے تمام بت توڑ ڈالے ہیں، ختم کرکے اپنی عورتوں کومنہ دکھائیں گے۔‘‘مالک بن عوف جس کی عمر ابھی تیس سال تھی، جوش سے پھٹا جارہا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ ’’قبائل کا متحدہ لشکر مکہ میں مسلمانوں کو بے خبری میں جا دبوچے گا۔‘‘ا س رات مالک بن عوف ،دُرید بن الصّمہ اور دوسرے قبیلوں کے سردار کاہن کے پاس گئے تھے۔ کاہن سے انہوں نے پوچھا تھا کہ وہ مکہ کے مسلمانوں کو بے خبری میں دبوچ سکیں گے ؟اور کیا ان کا اچانک اورغیر متوقع حملہ مسلمانوں کو گھٹنوں بٹھا سکے گا؟ کاہن نے انہیں یقین دلایا تھا کہ دیوتا لات نے انہیں اشیرباد دے دی ہے۔کاہن نے بڑے وسوق سے کہا تھا مسلمانوں کو اس وقت پتا چلے گا جب تمہاری تلواریں انہیں کاٹ رہی ہوں گی۔اب ایک ہی ماہ بعد طائف کا حسن اداس تھا ۔بستی کے ماحول پر خوف و ہراس طاری تھا۔ اپنے دیوتا لات کی آشیرباد سے اور کاہن کی یقین دہانی سے ثقیف ،ہوازن اور دیگر قبائل کا جو لشکر مکہ پر حملہ کرنے گیا تھا وہ مکہ سے دور حنین کے مقام پر مسلمانوں کے ہاتھوں پٹ کر اور تتر بتر ہوکر واپس آ رہاتھا۔ بھاگ کے آنے والوں میں پیش پیش اس متحدہ لشکر کا سالارِ اعلیٰ جواں سال اور جوشیلا سردار مالک بن عوف تھا۔ وہ سب سے پہلے اسی لیے طائف پہنچا تھا کہ شہر کے دفاع کو مضبوط بنا سکے ۔ مسلمان رسولِ ﷲﷺ کی قیادت میں طائف کی طرف بڑھے آ رہے تھے۔ ’’طائف کے لوگو!‘‘ طائف کی گلیوں میں گھبرائی گھبرائی سی آوازیں اٹھ رہی تھیں ۔’’مسلمان آ رہے ہیں ۔
شہر کا محاصرہ ہو گا ، تیار ہو جاؤ۔ اناج اور کھجوریں اکھٹی کرلو۔ پانی جمع کر لو۔‘‘سب سے زیادہ گھبراہٹ مالک بن عوف پر طاری تھی۔ اسے طائف ہاتھ سے جاتا نظر آ رہا تھا۔ اسے شکست اور پسپائی کی چوٹ تو پڑی ہی تھی، سب سے بڑی چوٹ اس پر یہ پڑی کہ وہ جب شہر میں داخل ہوا تو عورتوں نے اس کی بہادری اور فتح کے گیت گانے کی بجائے اسے نفرت کی نگاہوں سے دیکھا تھا اور اس کے لشکریوں کو بعض عورتوں نے طعنے بھی دیئے تھے۔’’بیویاں اور بیٹیاں کہاں ہیں جنہیں تم ساتھ لے گئے تھے؟‘‘عورتیں ،لشکریوں سے طنزیہ لہجے میں پوچھ رہی تھیں۔’’بچے بھی مسلمانوں کو دے آئے ہو؟‘‘یہ بھی ایک طعنہ تھا جو عورتیں انہیں دے رہی تھیں ۔مالک بن عوف نے اپنے سامنے اپنے نائب سالاروں اور کمانداروں کو بٹھارکھا تھا اور انہیں بڑی تیز تیز بولتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ’’ دوسرے قبیلوں کو بھی شہر میں لے آؤ۔ مسلمان آ رہے ہیں ۔‘‘مالک بن عوف نے ذرا سا بھی آرام نہ کیا۔ آتے ہی طائف کا دفاع مضبوط کرنے میں لگ گیا۔ اس کے نائب کماندار اور قاصد پسپا ہو کر آنے والوں کو اکھٹا کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ آدھی رات تک وہ تھک کر چور ہو چکا تھا ۔ اس نے اپنی سب سے زیادہ حسین اور چہیتی بیوی کو اپنے پاس بلایا ،وہ آگئی۔’’ کیاآپ نے حلف نہیں اٹھایا تھا کہ محمد ﷺ اور ا س کے تمام پیروکاروں کو جنہوں نے مکہ کے بت توڑ ڈالے ہیں ختم کرکے اپنی عورتوں کو منہ دکھائیں گے۔‘‘بیوی نے اسے کہا۔’’آپ فتح کی بجائے ماتھے پر شکست کا داغ لے کر آئے ہیں۔ آپ کے حلف اور عہد کے مطابق میرا وجود آپ پر حرام ہے۔‘‘’’تم میری بیوی ہو۔‘‘مالک بن عوف نے غصے سے کہا۔’’میری حکم عدولی کی جرات نہ کرو۔میں بہت تھکا ہوا ہوں اور میں بہت پریشان ہوں۔ مجھے اس وقت تمہاری ضرورت ہے۔ تم میری سب سے پیاری بیوی ہو۔‘‘
’’آپ کو میری ضرورت ہے ۔‘‘بیوی نے کہا۔’’لیکن مجھے ایک غیرت مند مرد کی ضرورت ہے۔ مجھے اس مالک بن عوف کی ضرورت ہے جو یہاں سے عہد کرکے نکلا تھا کہ مسلمانوں کو مکہ کے اندر ہی ختم کرکے واپس آئے گا۔ کہاں ہے وہ مالک بن عوف؟ وہ میرے لیے مر گیا ہے ۔ اس مالک بن عوف کو میں نہیں جانتی جو اپنے قبیلے اور اپنے دوست قبیلوں کی ہزاروں عورتوں اور ہزاروں بچے اپنے دشمن کے حوالے کرکے اپنی خواب گاہ میں آ بیٹھا ہے۔ وہ ایک عورت سے کہہ رہا ہے کہ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔‘‘اس حسین عورت کی آواز بلند ہو کر جذبات کی شدت سے کانپنے لگی۔ وہ مالک بن عوف کے پلنگ سے ا ٹھ کھڑی ہوئی اور کہنے لگی ۔’’آج رات تمہاری کوئی بیوی تمہارے پاس نہیں آئے گی۔ آج رات تمہاری کسی بیوی کو ان عورتوں کی آہیں اور فریادیں چَین سے سونے نہیں دیں گی جو مسلمانوں کے قبضے میں ہیں ۔ ذرا سوچ، تصور میں لا ان عورتوں کو ۔ ان نو خیز لڑکیوں کو جنہیں تو مسلمانوں کے حوالے کرآیا ہے ۔ وہ اب مسلمانوں کے بچے پیدا کریں گی ، بچے جو ان کے قبضے میں ہیں وہ مسلمان ہو جائیں گے۔‘‘مالک بن عوف توخطروں میں کود جانے والا خود سر آدمی تھا، اس نے اپنے بزرگ اور میدانِ جنگ کے منجھے ہوئے استاد دُرید بن الصّمہ کی پند ونصیحت کو ٹھکرا دیا تھا کہ وہ عقل و ہوش سے کام لے اور جوانی کے جوش و خروش پر قابو پائے۔ اب وہی مالک بن عوف اپنی بیوی کے سامنے یوں سر جھکائے بیٹھا تھا جیسے دہکتے ہوئے انگاروں پر کسی نے پانی چھڑک دیا ہو۔ اس کی مردانگی ختم ہو چکی تھی ۔’’تمام مسلمانوں کو ختم کرنے گئے تھے مالک؟ ‘‘بیوی اب اس طرح بولنے لگی جیسے اس کی نگاہوں میں اتنے جرّی اور بہادر شوہر کا احترام ختم ہو چکا ہو۔ وہ کہہ رہی تھی ’’مسلمانوں کو ختم کرتے کرتے تم مسلمانوں کی تعدا دمیں اضافہ کرآئے ہو۔‘‘ ’’کاہن نے کہا تھا کہ……‘‘’’کون کاہن؟‘‘بیوی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔’’وہ جو مندر میں بیٹھا فالیں نکالتا رہتا ہے؟ تم جیسے آدمی اپنی قسمت اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں اور اپنی قسمت اپنے ہاتھوں بنایا اور بگاڑا کرتے ہیں۔ تم نے کاہن سے پوچھا نہیں کہ اس کی فال نے جھوٹ کیوں بولا ہے؟‘‘مالک بن عوف اٹھ کھڑا ہوا۔اس کی سانسیں تیزی سے چلنے لگیں ۔ اس کی آنکھوں میں خون اترنے لگا۔ اس نے دیوارکے ساتھ لٹکتی ہوئی تلوار اتاری اور بیوی سے کچھ کہے بغیر باہر نکل گیا۔ طائف میں رات توآئی تھی لیکن وہاں کی سرگرمیاں اور بھاگ دوڑ دیکھ کر دن کا گمان ہوتا تھا ۔ باہرسے خبریں آ رہی تھیں کہ مسلمان طائف کی طرف بڑی تیزی سے بڑھے چلے آ رہے ہیں ۔ لوگ دفاعی تیاریوں میں مصروف تھے ۔ سب سے بڑا مسئلہ خوراک اور پانی کا تھا ۔ بہت سے لوگ پانی جمع کرنے کیلئے حوض بنا رہے تھے۔ مالک بن عوف ان سرگرمیوں کے شوروغل میں سے گزرتا چلا جا رہا تھا۔ لوگ اتنے مصروف تھے کہ کسی کو پتا ہی نہ چلا کہ ان کے درمیان سے ان کا سالارِ اعلیٰ گزر گیا ہے۔ عبادت گاہ میں وہ کاہن جس نے کہا تھا کہ ثقیف اورہوازن مسلمانوں کو مکہ میں بے خبری میں جالیں گے۔ گہری نیند سویا ہوا تھا۔ اسے جگانے کی کوئی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ وہ عبادت گاہ کے کسی اندرونی حصے میں سویا ہوا تھا۔ عبادت گاہ کے مجاور بیرونی کمرے میں سوئے ہوئے تھے۔ انہیں کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ یہ ان کے فرائض میں شامل تھا کہ کاہن کے کمرے تک کسی کو نہ پہنچنے دیں۔ دو تین مجاور اٹھ کر باہر آ گئے۔ ایک کے ہاتھ میں مشعل تھی ۔’’مالک بن عوف ۔‘‘ایک مجاور نے مالک کے راستے میں آ کر کہا۔’’کیا قبیلے کا سردار نہیں جانتا کہ اس سے آگے کوئی نہیں جا سکتا ؟ ہم سے بات کر مالک بن عوف۔‘‘’’اور کیا تم نہیں جانتے ایک سردار کا راستہ روکنے کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے؟‘‘ مالک بن عوف نے تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔’’میں کاہن کے پاس جا رہا ہوں۔‘‘’’کاہن کے قہر کو سمجھ مالک۔‘‘ ایک اور مجاور نے کہا۔’’کاہن جو اس وقت تمہیں سویا ہوا نظر آئے گا ، وہ لات کے حضور گیا ہوا ہے۔ اس حالت میں اس کے پاس جاؤ گے تو……‘‘مالک بن عوف ایسی ذہنی کیفیت میں تھا جس نے اس کے دل سے کاہن کا تقدس اور خوف نکال دیا تھا۔ ایک تو وہ بہت بری شکست کھا کر آیا تھا دوسرے اس کی اس بیوی نے اسے دھتکار دیا تھا جسے وہ دل وجان سے چاہتا تھا ۔ اس نے مجاور کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے مشعل کے ڈنڈے پر ہاتھ مارا اور اس کے ہاتھ سے مشعل چھین کر کاہن کے کمرے کی طرف چلا گیا ۔ مجاور اس کے پیچھے دوڑا لیکن وہ کاہن کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ کاہن مجاوروں کے شور سے جاگ اٹھا تھا۔ اپنے کمرے میں مشعل کی روشنی دیکھ کر اُٹھ بیٹھا۔ مالک بن عوف نے مشعل دیوار میں اس جگہ لگا دی جو اسی مقصد کیلئے دیوار میں بنائی گئی تھی۔’’مقدس کاہن! ‘‘مالک بن عوف نے کہا۔’’میں پوچھنے آیا ہوں کہ ……‘‘’’کہ تمہاری شکست کا سبب کیا ہوا؟‘‘ کاہن نے اس کی بات پوری کرتے ہوئے کہا۔’’کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ ایک حام کی قربانی دو۔‘‘
’’اورمقدس کاہن۔‘‘مالک بن عوف نے کہا۔’’تم نے یہ بھی کہا تھا کہ حام نہ ملے تو اپنے قبیلے سے کہو کہ اپنے خون کی اور اپنی جانوں کی قربانی دیں۔ تم نے کہا تھا کہ حام کی تلاش میں وقت ضائع نہ کرنا ۔تم نے کہا تھا کہ مسلمان لڑنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔‘‘
’’کیا تو اپنے دیوتا سے باز پرس کرنے آیا ہے کہ دشمن نے تمہیں شکست کیوں دی ہے؟‘‘کاہن نے پوچھا۔’’میں نے کہا تھا کہ پیٹھ نہ دکھانا ۔ کیا تیرے لشکر نے پیٹھ نہیں دکھائی ۔ تیرے لشکر میں تو اتنی سی بھی غیرت نہیں تھی کہ اپنی عورتوں ا ور بچوں کی حفاظت کرتا۔‘‘ ’’میں پوچھتا ہوں تم نے کیا کیا؟‘‘مالک بن عوف نے پوچھا۔’’اگر سب کچھ ہمیں ہی کرنا تھا تو تم نے کیا کمال دکھایا؟ تم نے کیوں کہا تھا کہ مسلمانوں کو اس وقت پتا چلے گا جب تمہاری تلواریں انہیں کاٹ رہی ہوں گی۔ کیا تم نے ہمیں دھوکا نہیں دیا؟ کیا یہ درست نہیں کہ محمدﷺ سچا ہے؟ جس نے تمہاری فال کو جھٹلا دیا ہے۔ اگر تم کاہن نہ ہوتے تو میں تمہیں قتل کر دیتا۔ اب طائف پر بہت بڑا خطرہ آ رہا ہے۔ کیا تم اپنے دیوتا کی بستی کو بچا سکتے ہو ؟ کیا تم مسلمانوں پر قہر نازل کرسکتے ہو؟‘‘’’پہلی بات یہ سن لے عوف کے بیٹے ! ‘‘کاہن نے کہا۔’’کاہن کو دنیا کی کوئی طاقت قتل نہیں کر سکتی۔کاہن کی جب عمر ختم ہوتی ہے تو وہ دیوتا لات کے وجود میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ تو مجھ پر تلوار اٹھا کر دیکھ لے اور دوسری بات یہ ہے کہ مسلمان طائف تک پہنچ سکتے ہیں ۔ یہاں سے زندہ واپس نہیں جا سکتے۔‘‘جس وقت مالک بن عوف کاہن کے کمرے میں داخل ہوا تھا، اس وقت کسی انسان کی شکل کا ایک سایہ عبادت گاہ کی عقبی دیوار پر رینگ رہا تھا۔ وہ جو کوئی بھی تھا وہ اپنی جان کا خطرہ مول لے رہا تھا۔ مالک بن عوف ہی تھا جو سرداری کے رعب میں رات کے وقت کاہن کے کمرے تک پہنچ گیا تھا۔ یہ عبادت گاہ صدیوں پرانی تھی۔ عقبی دیوار میں چھوٹا سا شگاف تھا ۔وہ انسان جس کا سایہ دیوارپر رینگ رہا تھا اس شگاف میں داخل ہو گیا ۔آگے اونچی گھاس اور جھاڑیاں تھیں۔ وہ انسان گھاس اورجھاڑیوں میں سے یوں گزرنے لگا کہ اس کے قدموں کی آہٹ یا ہلکی سی سرسراہٹ بھی سنائی نہیں دیتی تھی۔
وہ گھاس اور جھاڑیوں میں سے گزر کر اس چبوترے پر جا چڑھا، جس پر عبادت گاہ کی عمارت کھڑی تھی۔اس طرف کے دروازے کے کواڑ دیمک خوردہ تھے۔ وہ انسان کھائے ہوئے ان کواڑوں میں سے گزر کر عبادت گاہ میں داخل ہو گیا۔ آگے تاریک غلام گردش تھی۔ اس انسان نے جوتے اتار دیئے اور دبے پاؤں آگے بڑھتا گیا۔ اس گھپ اندھیرے میں وہ یوں چلا جا رہا تھا جیسے پہلے بھی یہاں آیا ہو۔ وہ غلام گردش کی بھول بھلیوں میں سے گزرتا کاہن کے کمرے کے نزدیک پہنچ گیا۔ اسے کاہن کی اور کسی اور کی باتیں سنائی دیں۔ وہ مالک بن عوف تھا جو کاہن کے ساتھ باتیں کر رہاتھا، یہ انسان رک گیا اسے کاہن کے کمرے سے آتی ہوئی مشعل کی روشنی نظر آرہی تھی۔
مالک بن عوف کاہن سے اتنا مرعوب ہوا کہ وہ سر جھکائے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔ یہ انسان جو قریب ہی کہیں چھپ گیا تھا آگے بڑھا۔ کاہن دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔اس کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں کیونکہ اس کے سامنے یک جوان سال لڑکی کھڑی تھی۔ اس لڑکی کو وہ پہچانتا تھا۔ یہ وہی یہودی لڑکی تھی جسے ایک ضعیف العمر یہودی کاہن کے پاس تحفے کے طور پر لایا تھااور اس لڑکی کے ساتھ اس نے سونے کے دو ٹکڑے کاہن کی نظر کیے تھے۔ یہ کاہن کا انعام یا معاوضہ تھا۔ کاہن نے اسے یقین دلایا تھا کہ ثقیف اور ہوازن کے قبیلے مسلمانوں کو مکہ میں ہمیشہ کیلئے ختم کر دیں گے۔ اس نے اس بوڑھے یہودی سے کہا تھا ۔’’دیوتا لات کا اشارہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔‘‘بوڑھا یہودی اس یہودی لڑکی کو کاہن کے پاس ایک رات کیلئے چھوڑ کر چلا گیا تھا  ۔طائف میں وہ اس خوش خبری کامنتظر بیٹھا تھا کہ ثقیف ہوازن اور ان کے دوست قبیلوں نے اسلام کو مسلمانوں کے خون میں ڈبو دیا ہے لیکن ہوا یہ کہ مالک بن عوف سر جھکائے ہوئے طائف میں داخل ہوا۔ پھر اس کے لشکری قدم گھسیٹتے ہوئے دو دو چار چار کی ٹولیوں میں طائف میں آنے لگے۔ بوڑھے یہودی کی کمر عمر نے پہلے ہی دوہری کر رکھی تھی۔ مالک بن عوف کو شکست خوردگی کی حالت میں واپس آتے دیکھ کر اس کی کمر جیسے ٹوٹ ہی گئی ہو۔ اس کی کمر پر آخری تنکا اس یہودی لڑکی نے رکھ دیا۔ جسے وہ انعام کے طورپر کاہن کے حوالے کر آیا تھا۔’’میں حیران ہوں کہ تم جیسے جہاندیدہ بزرگ نے دھوکا کھایا۔‘‘ لڑکی نے اسے کہا تھا۔’’مجھے اس مکروہ کاہن کے کسی ایک لفظ پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ میں نے تمہارے حکم سے اپنی عصمت قربان کردی۔‘‘’’میرے حکم سے نہیں۔‘‘بوڑھے یہودی نے کہاتھا ۔’’خدائے یہودہ کے حکم سے۔ تمہاری عصمت کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔‘‘یہودیوں میں یہ رواج عام تھا جو ابھی تک چلا آ رہا ہے کہ میدانِ جنگ میں آنے سے گریز کرتے تھے ۔ وہ ایسی چال چلتے تھے کہ اپنے دشمنوں کو آپس میں لڑا دیا کرتے تھے۔ اس کیلئے وہ دولت کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں کی عصمت بھی ایک کامیاب حربے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ یہودیوں کے معاشرے اور مذہب میں عصمت اور آبروکی کوئی قدروقیمت نہیں تھی۔ لیکن یہ لڑکی اپنی قوم سے بہت ہی مختلف ثابت ہوئی ۔ وہ بوڑھے یہودی پر ٹوٹ ٹوٹ پڑتی تھی اور کہتی تھی کہ مسلمانوں کا قلع قمع ہوجاتا تووہ فخر سے کہتی کہ اس نے اس مقصد کیلئے اپنی عصمت کی قربانی دی ہے اور وہ یہ بھی کہتی تھی کہ کاہن نے انہیں دھوکا دیا ہے۔ رات کو جب بوڑھا یہودی گہری نیند سویا ہوا تھا ،یہ لڑکی اٹھی۔ اس نے خنجر اپنے تکیے کے نیچے رکھا ہوا تھا۔ اس نے خنجر نکالا اوراپنے کپڑوں کے اندر چھپا لیا۔وہ دبے پاؤں باہر نکل گئی۔*
*’’ہم جانتے تھے کہ ہمارا جادو تمہیں ایک بار پھر ہمارے پاس لے آئے گا۔‘‘کاہن اس لڑکی سے کہہ رہا تھا۔’’ آؤ…… دروازے پر کھڑی کیا کر رہی ہو؟‘‘لڑکی آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور کاہن کے قریب جا رکی۔’’جادو نہیں انتقام کہو۔‘‘لڑکی نے اپنی دھیمی آواز میں کہا۔ اس میں قہر اورغضب چھپا ہواتھا ۔’’مجھے انتقام کا جادو یہاں تک لے آیا ہے۔‘‘’’کیا کہہ رہی ہو لڑکی؟‘‘کاہن نے حیرت ذدہ مسکراہٹ سے کہا۔’’تم مالک بن عوف سے انتقام لینا چاہتی ہو ؟ وہ جاچکا ہے۔ وہ مجھے قتل کرنے آیا تھا۔ کیا کوئی انسان اتنی جرات کرسکتا ہے کہ لات کے کاہن کو قتل کردے؟‘‘’’ہاں!‘‘لڑکی نے کہا۔’’ ایک انسان ہے جو لات کے کاہن کو قتل کر سکتا ہے ۔ وہ لات کا پجاری نہیں ،وہ میں ہوں ۔خدائے یہودہ کی پجارن۔‘‘لڑکی نے پلک جھپکتے کپڑوں کے اندر سے خنجر نکالا اور کاہن کے دل میں اتار دیا۔ اس کے ساتھ ہی لڑکی نے کاہن کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا کہ اس کی اونچی آواز نہ نکل سکے۔لڑکی نے خنجر نکالا اور کاہن کی شہہ رگ کاٹ دی۔ وہ بڑے اطمینان سے کاہن کے کمرے سے نکل آئی اور اس رستے جس رستے سے وہ آئی تھی عبادت گاہ کے احاطے سے نکل گئی۔ مالک بن عوف اپنی خواب گاہ میں سر جھکائے بیٹھا تھا ۔ اس کی چہیتی بیوی اس کے پاس بیٹھی تھی ۔غلام نے اطلاع دی کہ ایک اجنبی جوان عورت آئی ہے جس کے کپڑے خون سے لال ہیں اور اس کے ہاتھ میں خون آلود خنجر ہے۔ مالک بن عوف جو نیم مردہ نظر آرہا تھا، اچھل پڑا اوربولا کہ اسے اندر لے آؤ۔ اس کی اور اس کی بیوی کی نظریں دروازے پر جم گئیں۔ وہ جوان عورت دروازے میں آن کھڑی ہوئی اور بولی۔’’جوکام تم نہیں کر سکے تھے وہ میں کر آئی ہوں۔ میں نے کاہن کو قتل کر دیا ہے۔‘‘ مالک بن عوف پر سناٹا طاری ہو گیا۔ اس کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں نظر آنے لگیں۔ اس نے لپک کر تلوار اٹھائی اور نیام پرے پھینک کرلڑکی کی طرف بڑھا۔ اس کی بیوی راستے میں آگئی۔’’اس لڑکی نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے ۔‘‘بیوی نے اسے کہا۔’’تمہیں جھوٹے سہارے اور جھوٹے اشارے دینے والا مر گیا ہے۔ اچھا ہوا ہے۔‘‘’’تم نہیں جانتیں ہم پرکیا قہر نازل ہونے والا ہے ۔‘‘مالک بن عوف نے کہا۔’’تم پر کوئی قہر نازل نہیں ہوگا۔‘‘یہودی لڑکی نے کہا۔’’کیا کاہن نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ کاہن کو کوئی قتل نہیں کر سکتا اور کاہن کی جب عمر پوری ہو جاتی ہے تو وہ دیوتا لات کے وجود میں تحلیل ہو جاتا ہے ۔ اگر تم میں جرات ہے تو لات کے مجاوروں سے کہو کہ اپنے کاہن کی لاش لات کے وجود میں تحلیل کردیں۔ اس کی لاش کو باہر رکھ دو پھر دیکھو گدھ اور کتے کس طرح کھاتے ہیں ۔‘‘


جاری ہے..........


تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

⚔ شمشیرِ بے نیام ⚔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (  قسط نمبر-19 ) تاریخ میں ان آدمیوں کو قبیلۂ ثقیف کے لکھا گیا ہے۔جو اپنے آدمی کی للکار پ...

آج کی بات ۔۔۔ 523



💙 آج کی بات 💙

"عقل کا استعمال صرف یہ نہیں کہ انسان کائنات وما فیھا کی مکمل تسخیر میں اپنے رات دن ایک کردے۔
بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ جان لے کہ وہ کن حدود کے آگے نہیں جا سکتا"


تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ


💙 آج کی بات 💙 "عقل کا استعمال صرف یہ نہیں کہ انسان کائنات وما فیھا کی مکمل تسخیر میں اپنے رات دن ایک کردے۔ بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ جان ...

خیال رکھنا ۔۔۔۔



جب آپ اکیلے ہوں، اپنے خیالات کا خیال رکھیں
جب آپ دوستوں کے ساتھ ہوں، اپنی زبان کا خیال رکھیں
جب آپ غصے میں ہوں، اپنے مزاج کا خیال  رکھیں
جب آپ کسی محفل میں ہوں، اپنے رویے کا خیال رکھیں
جب آپ مشکل میں ہوں، اپنے جذبات کا خیال رکھیں
جب اللہ آپ کو نوازے، اپنی انا کا خیال رکھیں




تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

جب آپ اکیلے ہوں، اپنے خیالات کا خیال رکھیں جب آپ دوستوں کے ساتھ ہوں، اپنی زبان کا خیال رکھیں جب آپ غصے میں ہوں، اپنے مزاج کا خیال  رکھیں جب ...

ہم نشینی




"ہم نشینی"

با من آمیزشِ او الفتِ موج است و کنار
روز و شب با من و پیوسته گریزان از من

(ابوطالب کلیم کاشانی)

ترجمہ:
میرے ساتھ اُس کی ہم نشینی موج اور ساحل کی باہمی الفت کی طرح ہے؛
 یعنی وہ دن رات میرے ساتھ بھی ہے اور مسلسل مجھ سے گریزاں بھی۔



تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

"ہم نشینی" با من آمیزشِ او الفتِ موج است و کنار روز و شب با من و پیوسته گریزان از من (ابوطالب کلیم کاشانی) ترجمہ: میرے ساتھ اُس کی...

شمشیرِ بے نیام ۔۔۔ خالد بن ولید ۔۔۔ قسط نمبر 18





شمشیرِ بے نیام⚔ 


حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

( قسط نمبر-18)


جنوری ۶۳۰ء کی اس رات جب قبیلۂ ہوازن کے سردار قبیلہ ثقیف کی دعوت پر طائف آئے اور مالک بن عوف اور دُرید بن الصّمہ انہیں مکہ پر حملے کیلئے اکسا رہے تھے۔ ہوازن کے ایک سردار نے مشورہ دیا کہ کاہن کو بلا کر فال نکلوائی جائے کہ ہمارا حملہ کامیاب ہو گا کہ نہیں۔ یہ فال تیروں کے ذریعے نکالی جاتی تھی جسے ازلام کہتے تھے۔ بہت سے تیر اکھٹے رکھے ہوتے تھے۔ کسی پر ہاں لکھا ہوتا تھا۔ کسی پر نہیں۔ بت کا کوئی مجاور یا کاہن مذہبی پیشوا اس ترکش سے ایک تیر نکالتا اور دیکھتا تھا کہ اس پر ہاں لکھا ہے یا نہیں۔ یہ فال کا جواب ہوتا تھا۔ مجاور کی نسبت کاہن کو بہتر سمجھاجاتا تھا۔ کاہن دانش مند ہوتے تھے۔ ان کے پاس پُر اثر اور دل میں اتر جانے والے الفاظ کا ذخیرہ ہوتا تھا اور ان کے بولنے کا انداز تو ہر کسی کو متاثر کرلیتا تھا۔ کاہن فال نکالے بغیرغیب کی خبریں دیا کرتے اور لوگ انہیں سچ مانا کرتے تھے۔ اگلی صبح ہوازن اور ثقیف کے سردار ایک کاہن کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ان میں سے کسی نے ابھی بات بھی نہیں کی تھی کہ کاہن بول پڑا!’اگر میں غیب کی خبر دے سکتا ہوں اور آے یوالے وقت میں بھی جھانک کر بتا سکتا ہوں کہ کیسا ہوگا اور کیاہو گا تو کیا میں یہ نہیں بتا سکوں گا کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے؟‘‘……اس نے کہا۔’’تم اپنی زبانوں کو ساکن رکھو اور میری زبان سے سنو کہ تم کیا کہنے آئے ہو……تم جس دشمن پر حملہ کرنے جا رہے ہو وہ یوں سمجھو کہ سویا ہوا ہے۔ اس نے مکہ پر قبضہ کیا ہے اور وہاں کے انتظامات سیدھے کررہا ہے۔ وہ اپنی بادشاہی کی بنیادیں پکی کررہا ہے۔ مکہ میں اس کے دشمن بھی موجود ہیں ۔ ہر کسی نے محمد ﷺ کا مذہب قبول نہیں کیا۔‘‘’’مقدس کاہن!‘‘ دُرید بن الصّمہ نے کہا۔’’ہمیں یہ بتا کہ ہم محمدﷺ کو خبر ہونے سے پہلے ان کو دبوچ سکتے ہیں ؟ کیا ہمارا اچانک حملہ مکہ کے مسلمانوں کو گھٹنوں بٹھا سکے گا؟‘‘کاہن نے آسمان کی طرف دیکھا۔ کچھ بڑبڑایا اور بولا۔’’آنے والے وقت کے پردوں کو چاک کرکے دیکھا ہے……تمہارا حملہ اچانک ہوگا۔ مسلمانوں کو اس وقت پتا چلے گا جب تمہاری تلواریں انہیں کاٹ رہی ہوں گی۔ کون ہے جو برستی تلواروں میں سنبھل کر اپنے آپ کو بچانے کی ترکیب کر سکتا ہے؟……یہی وقت ہے۔ یہی موقع ہے۔ مسلمان اگر سنبھل گئے تو تم اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکو گے۔ پھر مسلمان تمہارے گھروں تک تمہارا پیچھا کریں گے اور تمہارے خزانوں کو اور تمہاری عورتوں کو تمہاری لاشوں کے اوپر سے گزار کر اپنے ساتھ لے جائیں گے……ازلام کی ضرورت نہیں ۔لات نے اشارہ دے دیا ہے اور پوچھا ہے کہ مجھے پوجنے والوں کی تلواریں ابھی تک نیاموں میں کیوں ہیں؟‘‘’’کوئی قربانی؟‘‘ایک سردار نے پوچھا۔’’حام۔‘‘کاہن نے کہا۔’’ایک حام۔ اگر ہے تو دے دو۔ نہیں ہے تو اپنے قبیلے سے کہو کہ پیٹھ نہ دکھائیں۔ اپنے خون کی اور اپنی جانوں کی قربانی دیں……حام کی تلاش میں وقت ضائع نہ کریں……جاؤ،میں نے تمہیں خبر دے دی ہے۔ مکہ میں مسلمان دوسرے کاموں میں مصروف ہیں۔وہ لڑنے کیلئے تیار نہیں۔ یہ وقت پھر نہیں آئے گا۔‘‘

حام اس اونٹ کو کہتے تھے جس کی چوتھی نسل پیدا ہو جاتی تھی۔ اسے یہ لوگ اپنے بت کے نام پر کھلا چھوڑ دیتے تھے۔ اس اونٹ کو متبرک سمجھ کر اس پر نہ کوئی سواری کر سکتا تھا نہ اس سے کوئی اور کام لیا جاتا تھا۔ اس پر خاص نشان لگا دیا جاتا تھا۔ اسے جو کوئی دیکھتا تھا ،اس کا احترام کرتا اور اسے اپنے کھانے کی چیزیں کھلا دیتا تھا۔ جب ہوازن اور ثقیف کے سردار کاہن کی اشیرباد لے کر چلے گئے توکاہن اندرونی کمرے میں چلا گیا۔ وہاں وہ بوڑھا یہودی بیٹھا تھا جسے گذشتہ رات ضیافت کے دوران مالک بن عوف نے اشارے سے کہا تھا کہ وہ سب کو بتائے کہ محکومی اور غلامی کیا ہوتی ہے۔’’میں نے تمہارا کام کردیا ہے۔‘‘کاہن نے اسے کہا۔’’اب یہ لوگ مکہ کی طرف کوچ میں تاخیر نہیں کریں گے۔‘‘’’کیا انہیں کامیابی حاصل ہوگی؟‘‘بوڑھے یہودی نے کہا۔’’کامیابی کا انحصار ان کے لڑنے کے جذبے اور عقل پرہے۔‘‘کاہن نے کہا۔’’اگر انہوں نے صرف جوش اور جذبے سے کام لیا اور عقل کو استعمال نہ کیا تو محمدﷺ کی عسکری قابلیت انہیں بہت بری شکست دے گی……میرا انعام؟‘‘’’تمہارا انعام ساتھ لایا ہوں۔‘‘بوڑھے نے کہا اور آواز دی۔ دوسرے کمرے سے ایک حسین لڑکی آئی۔بوڑھے یہودی نے اپنے چغے کے اندر ہاتھ ڈال کر سو نے کے دو ٹکڑے نکالے اور کاہن کو دے دیئے۔’’میں کل صبح اس لڑکی کو لے جاؤں گا۔‘‘بوڑھے نے کہا۔’’میں تمہیں ایک بات بتا دینا چاہتا ہوں ۔‘کاہن نے کہا۔’’میں نے تمہارے کہنے پر ان لوگوں کو کہا ہے کہ فوراً حملہ کریں لیکن ان سرداروں میں سمجھ بوجھ ہے ۔ حالات کو سمجھ لیتے ہیں ۔ان کا بوڑھا سردار دُرید بن الصّمہ پہلے سے جانتا تھا کہ مسلمان مکہ میں ابھی جم کے نہیں بیٹھ سکے۔ ان کے سامنے اور بہت سے مسئلے ہیں۔ ان پر حملے کیلئے یہی وقت موزوں ہے۔ ہوازن اور ثقیف کے سردار اپنے ارادے کی تصدیق کیلئے میرے پاس آئے تھے۔ اچھا ہوا کہ ان سے پہلے تم چوری چھپے میرے پاس آ گئے تھے۔‘‘’’میرا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو ختم کیا جائے۔‘‘بوڑھے یہودی نے کہا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ ہوازن اور ثقیف دو طاقتور قبیلے تھے۔ مسلمانوں نے مکہ فتح کرلیا تو ان دونوں قبیلوں کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ دونوں کے لوگ الگ الگ بستیوں میں رہتے ہیں اور بستیوں کی تعداد زیادہ ہے اور یہ ایک دوسرے سے دور دور بھی ہیں ۔مسلمان ہر بستی پر قابض ہوکر دونوں قبیلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔ انہوں نے سوچا کہ قبیلوں کو متحد کرکے مسلمانوں پر ہلّہ بول دیا جائے۔

دونوں قبیلے لڑنے والے آدمیوں کو ساتھ لے کر حنین کے قریب اوطاس کے مقام پر لے گئے۔ ان کے سرداروں نے چھوٹے چھوٹے کئی اور قبائل کو اس قسم کے پیغام بھیج کرکہ مسلمان ان کی بستیوں کو تباہ و برباد کرنے کیلئے آ رہے ہیں، اپنے اتحادی بنا لیا تھا۔ اس متحدہ لشکر کی تعداد بارہ ہزار ہو گئی تھی۔ اس کا سپہ سالار مالک بن عوف تھا۔ اس نے لشکر کے ہر آدمی کو اجازت دے دی تھی کہ وہ اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کو ساتھ لے آئے۔ اس نے اس اجازت کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ مکہ کا محاصرہ بہت لمبا بھی ہو سکتا ہے۔اگر ایسا ہو ا تو لشکریوں کو اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کا غم نہ ہوگا کہ معلوم نہیں کیسے ہوں گے۔ اس اجازت سے تقریباً سب نے فائدہ اٹھایا تھا۔ اس طرح جتنا لشکر لڑنے والوں کا تھا،اس سے کہیں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی تھی۔ اونٹ بھی بے شمار تھے۔ دُرید بن الصّمہ بہت بوڑھا تھا۔ وہ میدانِ جنگ میں جانے کے قابل نہیں تھا لیکن لڑنے اور لڑانے کا جو تجربہ اسے تھا وہ اور کسی کو نہیں تھا۔ سپہ سالار مالک بن عوف کو بنایا گیا تھا لیکن اس میں خوبی صرف یہ تھی کہ وہ بہت جوشیلا تھا۔ دُرید کو اس کے تجربے کی وجہ سے بلایاگیا تھا۔ دُرید بن الصّمہ اس وقت اس لشکر میں شامل ہوا جب لشکر اوطاس کے مقام پر خیمہ زن تھا۔ وہ شام کے وقت پہنچا،اسے بچوں کے رونے کی آوازیں سنائی دیں۔ اس نے بکریوں اور گدھوں کی آوازیں بھی سنیں۔ اس نے کسی سے پوچھا کہ لشکر کے ساتھ بچے ،بکریاں اور گدھے کون لایا ہے؟ اسے بتایا گیا کہ سپہ سالار نے بال بچے اور مویشی ساتھ لے جانے کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ انہیں ساتھ لانے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔’’مالک!‘‘ دُرید بن الصّمہ نے مالک بن عوف کے خیمے میں جاکر پوچھا۔’’یہ تو نے کیا کیا ہے؟میں نے ایسا لشکر پہلی بار دیکھا ہے جو لڑنے والے لشکر کی بجائے نقل مکانی کرنے والوں کا قافلہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘’’مجھے تمہاری جنگی فہم و فراست پر ذرا سا بھی شک نہیں میرے بزرگ!‘‘ مالک بن عوف نے کہا۔’’لیکن میں نے جو سوچا ہے ،وہ تم ساری عمر نہیں سوچ سکے۔ میں نے لشکریوں سے  یہ کہا ہے کہ محاصرہ لمبا ہو جانے کی صورت میں انہیں اپنے اہل و عیال اور مال مویشی کے متعلق پریشانی پیدا ہو جائے گی۔ لیکن میں نے سوچا کچھ اور ہے۔ میں مکہ کو محاصرے میں نہیں لوں گا بلکہ یلغار کردوں گا۔ مسلمانوں کو ہم بے خبری میں جا لیں گے۔ تمہیں معلوم ہے کہ مسلمان لڑنے میں کتنے تیز اور عقل مند ہیں۔وہ پینترے بدل بدل کر لڑیں گے۔ ہو سکتا ہے ہمارے آدمی ان کی بے جگری کے آگے ٹھہر نہ سکیں۔
وہ جب دیکھیں گے کہ ان کی عورتیں اور جوان بیٹیاں اور بچے اور دودھ دینے والے مویشی بھی ساتھ ہیں تو وہ انہیں بچانے کیلئے جان کی بازی لگا کر لڑیں گے اور زیادہ بہادری سے لڑیں گے۔ بھاگیں گے نہیں۔‘‘’’تجربہ عمر سے حاصل ہوتا ہے مالک! ‘‘دُرید نے کہا۔’’تیرے پاس جذبہ ہے، غیرت ہے، جرات ہے لیکن عقل تیری ابھی خام ہے۔ لڑائی میں اُن لوگوں کا دھیان آگے نہیں پیچھے ہوگا۔ یہ یہی دیکھتے رہیں گے کہ دشمن پہلو سے یا عقب سے ان کے بال بچوں تک تو نہیں آ گیا۔ دشمن جب ان پر جوابی حملہ کرے گا تو یہ تیزی سے اپنے بیوی بچوں تک پہنچیں گے کہ یہ دشمن سے محفوظ رہیں……تو بہت بڑی کمزوری اپنے ساتھ لے آیا ہے۔ محمد کی جنگی قیادت کو تو نہیں جانتا میں جانتا ہوں۔ اس کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک قابل سالار ہے۔ وہ تیری اس کمزور رگ پر وار کریں گے۔ وہ کوشش کریں گے کہ تیرے لشکر کی عورتوں اور بچوں کو یرغمال میں لے لیں۔ انہیں دور پیچھے رہنے دو اور مکہ کو کوچ کرو۔‘‘’’احترام کے قابل بزرگ!‘‘مالک بن عوف نے کہا۔’’تم بہت پرانی باتیں کر رہے ہو ۔تم نے محسوس نہیں کیا کہ اتنی لمبی عمر نے تمہیں تجربوں سے تو مالا مال کر دیاہے لیکن عمر نے تمہاری عقل کمزور کر دی ہے۔ اگر میں سپہ سالار ہوں تو میرا حکم چلے گا ۔ میں جہاں ضرورت سمجھوں گا تم سے مشورہ لے لوں گا۔‘‘مؤرخوں نے لکھا ہے کہ دُرید بن الصّمہ یہ سوچ کر چپ ہو گیا کہ یہ موقع آپس میں الجھنے کا نہیں تھا۔’’تم لشکر سے کچھ اور کہنا چاہتے ہو تو کہہ دو۔‘‘مالک بن عوف نے کہا۔’’جو کام مجھے کرنا ہے وہ میں تمہیں بتائے بغیر کروں گا۔‘‘دُرید نے کہا۔’’مجھ میں لڑنے کی طاقت نہیں رہی۔ لڑا سکتا ہوں۔‘‘اس نے اپنے خیمے میں جا کر قبیلے کے سرداروں کو بلایا اور اتنا ہی کہا۔’’جب حملہ کرو گے تو تمہارا اتحاد نہ ٹوٹے۔ تمام لشکر سے کہہ دو کہ حملہ سے پہلے تلواروں کی نیامیں توڑ کر پھینک دیں۔‘‘عربوں میں یہ رسم تھی کہ لڑائی میں جب کوئی اپنی نیام توڑ دیتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ شخص لڑتا ہوا جان دے دے گا ،پیچھے نہیں ہٹے گا اور شکست نہیں کھائے گا۔ نیام توڑنے کو وہ فتح یا موت کا اعلان سمجھتے تھے۔ کسی بھی تاریخ میں ایسا اشارہ نہیں ملتا کہ دُرید بن الصّمہ نے قبیلوں کے سراروں سے کہا ہو کہ وہ اپنے اہل و عیال کو اوطاس میں ہی رہنے دیں لیکن دو مؤرخوں نے لکھا ہے کہ لڑائی کے وقت صرف ہوازن قبیلہ تھا جس نے اپنی عورتوں ،بچوں اور بکریوں وغیرہ کو اپنے ساتھ رکھا تھا۔ یہ دوسرا موقع تھا کہ اتنے زیادہ قبیلوں کی متحد ہ فوج مسلمانوں کو تہس نہس کرنے آرہی تھی۔ اس سے پہلے جنگِ خندق میں اتنے زیادہ قبیلے مسلمانوں کے خلاف متحد ہوئے تھے۔ اب مالک بن عوف اس امید پر متحدہ فوج کو لے کر جا رہا تھا کہ وہ مکہ پر اچانک ٹوٹ پڑے گا۔ اس لشکر کو اب اوطاس سے مکہ کو کوچ کرنا تھا اور اس کوچ کی رفتار بہت تیز رکھنی تھی۔ اوطاس میں لشکر کا قیام اس لیے زیادہ ہو گیا تھا کہ دوسرے قبیلوں کو وہاں اکھٹا ہونا تھا۔ اگر اس لشکر میں صرف لڑنے والے ہوتے تو لشکر فوراً مکہ کی طرف پیش قدمی کر جاتا۔ اس میں عورتیں اور بچے بھی تھے اور ان کا سامان بھی تھا۔ اس لیے وہاں سے کوچ میں خاصی تاخیر ہو گئی ۔ اس دوران مکہ کی گلیوں میں ایک للکارسنائی دی۔’’مسلمانو! ہوشیار……تیار ہو جاؤ……وہ ایک شتر سوار تھا۔‘‘ جو رسول اکرمﷺ کے گھر کی طرف جاتے ہوئے اعلان کرتا جا رہا تھا ۔’’ﷲ کی قسم! میں جو دیکھ کر آیا ہوں وہ تم میں سے کسی نے نہیں دیکھا۔‘‘’’کیا شور مچاتے جا رہے ہو؟‘‘کسی نے اسے کہا ۔’’رکو اور بتاؤ کیا دیکھ کر آئے ہو؟‘‘’’رسول ﷲﷺ کو بتاؤں گا۔‘‘وہ کہتا جا رہا تھا۔’’تیار ہو جاؤ……ہوازن اور ثقیف کا لشکر……‘‘’’رسول ِکریمﷺ کو اطلاع مل گئی کہ ہوازن اور ثقیف کے قبیلوں کے ساتھ دوسرے قبیلوں کے ہزاروں لوگ اوطاس کے قریب خیمہ زن ہیں اور ان کا ارادہ مکہ پر حملہ کرنے کا ہے اور وہ کوچ کرنے والے ہیں ۔تاریخوں میں اس شخص کا نام نہیں ملتا۔ جس نے اوطاس میں اس متحدہ لشکر کو دیکھا اور یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ لشکر کا ارادہ کیا ہے۔ مؤرخین نے اتنا ہی لکھا ہے کہ رسولِ کریمﷺ کو قبل از وقت غیر مسلم قبیلوں کے اجتماع کی خبر مل گئی۔ ان مؤرخین کے مطابق)اور بعد کے مبصروں کی تحریروں کے مطابق(رسولِ اکرمﷺ کی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ جنگ و جدل سے گریز کیا جائے اور ان غیر مسلموں کو جو آپﷺ کو اور مسلمانوں کو دشمن سمجھتے اور آپﷺ کے خلاف سازشیں تیار کرتے رہتے تھے ،انہیں خیر سگالی اور بھائی چارے کے پیغام دیئے جائیں۔ اس خواہش اور کوشش کے علاوہ جنوری ۶۳۰ء میں حضورﷺ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ کیونکہ آپﷺ نے مکہ کو چند ہی دن پہلے اپنی تحویل میں لیا تھا اور شہر کے انتظامات میں مصروف تھے۔ حضورﷺ کو مشورے دیئے گئے کہ شہری انتظامات کو ملتوی کرکے دفاعی انتظامات کی طرف فوری توجہ دی جائے۔ اور دشمن کے حملے یا محاصرے کا انتظار کیا جائے۔ رسول ﷲﷺ نے مشورہ دینے والوں سے یہ کہہ کہ ان کا مشورہ مسترد کردیا کہ’’ ہم یہاں دفاعی مورچے بنا کر ان میں بیٹھ جائیں اور جب دشمن کو یہ خبر ملے کہ ہم بیدار ہیں اور قلعہ بند ہو کہ بیٹھ گئے ہیں تو دشمن مکہ سے کچھ دور خیمہ زن ہو کر اس انتظار میں تیار بیٹھ جائے کہ ہم دفاع میں ذرا سی کوتاہی کریں اور وہ شہر کو محاصرے میں لے لے ،یا سیدھی یلغار کردے۔ تو یہ دشمن کو دعوت دینے والی بات ہو گی کہ مسلسل خطرہ بن کر ہمارے سروں پر بیٹھا رہے۔‘‘

اس دور کی مختلف تحریروں سے صاف پتا چلتا ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے یہ اصول وضع کیا اور مسلمانوں کو ذہن نشین کرایا تھا کہ دشمن اگر اپنے گھر بیٹھ کر ہی للکارے تو اس کی للکار کا جواب ٹھوس طریقے یعنی عملی طریقے سے دو۔ دوسرا یہ کہ دشمن کی نیت اور اس کے عزائم کا علم ہو جائے تو اپنی سرحدوں کے اندر بیٹھ کر اس کا انتظار نہ کرتے رہو ،اس پر حملہ کردو اور حضورﷺ نے اپنی امت کو تیسرا اصول یہ دیا کہ ہر وقت تیاری کی حالت میں رہو اور دشمن کو احساس دلا دو کہ وہ تمہیں للکارے گا یا تمہارے لیے خطرہ بننے کی کوشش کرے گا تو تم بجلی کی طرح اس پر کوندو گے۔.    نہیں! ایسا نہیں ہو سکتا۔‘‘مالک بن عوف اپنے خیمے میں غصے سے بار بار زمین پر پاؤں مارتا اور کہتا تھا۔’’وہ اتنی جلدی کس طرح یہاں تک پہنچ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے ساتھ غداروں کو بھی لائے تھے جنہوں نے محمدﷺ کو بہت دن پہلے خبردار کر دیا تھا کہ ہم آ رہے ہیں؟‘‘’’خود جا کر دیکھ لے مالک!‘‘ بوڑھے دُرید بن الصّمہ نے کہا۔’’اپنی آنکھوں سے دیکھ  لے۔ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو اپنے دیوتا لات کو دھوکا دے رہا ہوں۔ اس آدمی نے کہا جو دیکھ کر آیا تھا کہ مسلمانوں کا ایک لشکر جس کی تعداد کم و بیش دس ہزار تھی ،حنین کے قریب آ کر پڑاؤ کیے ہوئے تھا۔ اس نے کہا۔ انہوں نے خیمے نہیں گاڑے ،وہ تیاری کی حالت میں ہیں……اور یہ بھی جھوٹ نہیں کہ اس لشکر کا سپہ سالار خود محمدﷺ ہیں ۔‘‘مالک بن عوف غصے سے باؤلا ہوا چلا جا رہاتھا۔ وہ مسلمانوں پر اچانک ٹوٹ پڑنے چلا تھا۔ اس نے اوطاس سے مکہ کی طرف پیش قدمی کا حکم دے دیا تھا مگر اسے اطلاع ملی کہ مسلمان اپنے رسولﷺ کی قیادت میں اس کی جمیعت سے تھوڑی ہی دور حنین کے گردونواح میں آ گئے ہیں اور مقابلے کیلئے تیار ہیں۔’’غصہ تیری عقل کو کمزور کر رہا ہے مالک!‘‘ دُرید نے اسے کہا۔’’اب محاصرے اور یلغار کو دماغ سے نکال اور اس زمین سے فائدہ اٹھا جس پر مسلمانوں سے تیرا مقابلہ ہو گا۔ تو اچھی چالیں سوچ سکتا ہے۔ تو دشمن کو دھوکا دے سکتا ہے۔ تجھ میں جرات ہے پھر تو کیوں پریشان ہو رہا ہے؟ میں تیرے ساتھ ہوں……میں تجھے ایک بار پھر کہتا ہوں کہ ہوازن کے لوگوں نے اپنی عورتوں اور بچوں اور اپنے مویشیوں کو ساتھ لا کر اچھا نہیں کیا……آ میرے ساتھ حنین کی وادی کو دیکھیں۔‘‘وہ دونوں اس علاقے کو دیکھنے چل پڑے جہاں لڑائی متوقع تھی۔

رسولِ کریمﷺ کے ساتھ مجاہدین کی جو فوج تھی اس کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ اس نفری میں مکہ کے دو ہزار ایسے افراد تھے جنہیں اسلام قبول کیے ابھی چند ہو دن ہوئے تھے۔ بعض صحابہ کرامؓ ان نو مسلموں پر بھروسہ کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ لیکن ﷲ کے رسولﷺ کو اپنے ﷲ پر بھروسہ تھا۔ ابو سفیانؓ،عکرمہ ؓاور صفوانؓ بھی نو مسلم تھے۔ یہ تینوں سرداری اور سالاری کے رتبوں کے افراد تھے جن کا نو مسلم قریش پر اثرورسوخ بھی تھا۔ لیکن دیکھا یہ گیا کہ یہ سب اپنے مرضی سے اس لشکر میں شامل ہوئے تھے۔ ایک مؤرخ نے لکھا ہے کہ ان تینوں نے مجاہدین کیلئے کم و بیش ایک سو زِرہ بکتر دیے تھے۔ یہ لشکر ۲۷ جنوری ۶۳۰ء )۶شوال ۸ھ(کی صبح مکہ سے روانہ ہوا اور ۳۱ جنوری کی شام حنین کے گردونواح میں پہنچ گیا تھا ۔ کوچ برق رفتار تھا۔ رسولِ کریمﷺ کو معلوم تھا کہ قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف لڑنے والے قبیلے ہیں اور ان کے قائد دُرید اور مالک جنگی فہم و فراست اور چالوں سے بخوبی واقف ہیں۔ اس لیے آپﷺ نے ہراول میں جن سات سو مجاہدین کو رکھا وہ بنو سلیم کے تھے اور ان کے کمانڈر خالدؓ بن ولید تھے۔ حنین ایک وادی ہے جو مکہ سے گیارہ میل دور ہے۔ بعض جگہوں پر یہ وادی سات میل چوڑی ہے،کہیں اس کی چوڑائی اس سے بھی کم ہے اور حنین کے قریب جاکر وادی کی چوڑائی کم ہوتے ہوتے بمشکل دو فرلانگ رہ جاتی ہے ۔ یہاں سے وادی کی سطح اوپر کو اٹھتی ہے یعنی یہ چڑھائی ہے۔ آگے ایک درّہ نما راستہ ہے جو دائیں بائیں مڑتا ایک اور وادی میں داخل ہوتا ہے ۔ اس وادی کا نام نخلۃ الیمانیہ ہے ۔ راستہ خاصا تنگ ہے۔ مسلمانوں نے اپنے جاسوسوں کی آنکھوں سے دیکھا کہ قبیلوں کی متحدہ فوج ابھی اوطاس کے قریب خیمہ زن ہے مگر جاسوس رات کی تاریکی میں نہ جھانک سکے یا انہوں نے ضرورت  محسوس نہ کی کہ رات کو بھی دیکھ لیتے کہ دشمن.  کوئی نقل و حرکت تو نہیں کر رہا۔ دن کے دوران متحدہ قبیلوں کے کیمپ میں کوچ کاپیش قدمی کی تیاری کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔ کیمپ پر مردنی سی چھائی ہوئی تھی۔ کوئی سرگرمی نہیں تھی۔ یکم فروری ۶۳۰ء (۱۱شوال ۸ھ)کی سحر مجاہدین نے اوطاس کی طرف پیش قدمی کی ۔ اسکیم یہ تھی کہ دشمن کے کیمپ پر یلغار کی جائے گی۔ امید یہی تھی کہ دشمن کو بے خبری میں جالیں گے۔ پیش قدمی مکمل طور پرمنظم تھی۔ ہراول میں بنو سلیم کے مجاہدین تھے جن کے قائد خالدؓ بن ولید تھے۔ اس حیثیت میں خالد ؓ سب سے آگے تھے۔ اسلامی فوج کی نفری تو بارہ ہزار تھی۔ لیکن اس باقاعدہ فوج کے ساتھ ایک بے قاعدہ فوج بھی تھی جس کی نفری بیس ہزار تھی۔ یہ مکہ اور گردونواح کے لوگ تھے جو فوج کی مدد کیلئے ساتھ آئے تھے۔ ایک واقعہ قابلِ ذکر ہے ۔اتنا زیادہ لشکر دیکھ کر بعض صحابہ کرامؓ نے بڑے فخر سے کہا۔’’کون ہے جو ہمیں شکست دے سکتا ہے؟‘‘
دو مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اس فخرمیں تکبر کی جھلک بھی تھی۔

خالدؓ اسلامی لشکر کے آگے تھے۔ وہ وادی حنین کے تنگ راستے میں داخل ہوئے تو صبح طلوع ہو رہی تھی ،خالدؓ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور رفتار تیز کردی۔ خالدؓ جوشیلے جنگجو تھے اور جارحانہ قیادت میں یقین رکھتے تھے۔ وہ جب مسلمان نہیں ہوئے تھے تو قبیلۂ قریش کے سردارِ اعلیٰ ابو سفیان سے انہیں سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ وہ انہیں کھُل کر لڑنے نہیں دیتے تھے۔ ان کے قبولِ اسلام کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے رسولِ کریمﷺ کی عسکری قیادت میں وہ جذبہ دیکھا تھا جو انہیں پسند تھا۔ خالدؓ نے قبولِ اسلام سے پہلے عکرمہ سے کہا بھی تھا کہ میرے عسکری جذبے اور میدانِ جنگ میں جارحانہ انداز کی قدر صرف مسلمان ہی کر سکتے ہیں۔ رسول ﷲﷺ کی خالدؓ کی عسکری اہلیت اور قابلیت کی جو قدرکی تھی اس کا ثبوت یہ تھا کہ وہ اتنے بڑے لشکر کے ہراول کے کمانڈر تھے۔ صبح طلوع ہو رہی تھی جب خالدؓ بن ولید کا ہراول کا دستہ گھاٹی والے تنگ رستے میں داخل ہوا۔ اچانک زمین و آسمان جیسے پھٹ پڑے ہوں ۔ ہوازن ،ثقیف اور دیگر قبیلوں کی متحدہ فوج کے نعرے گھٹاؤں کی گرج اور بجلیوں کی کڑک کی طرح بلند ہوئے اور موسلا دھار بارش کی طرح تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں۔ یہ تیر دائیں بائیں کی چٹانوں اور ٹیکریوں سے آ رہے تھے۔ یہ دشمن کی گھات تھی۔ مالک بن عوف اور دُرید بن الصّمہ نے دن کے وقت اپنے کیمپ میں کوئی سرگرمی ظاہر نہیں ہونے دی تھی۔ ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے یہ جنگی کیمپ نہیں کسی قافلے کا پڑاؤ ہے ۔شام کے بعد مالک بن عوف اپنی فوج کو حنین کے تنگ راستے پر لے گیا اور تیر اندازوں کو دونوں طرف چھپا کر بِٹھا دیا تھا۔ تیروں کی بوچھاڑیں اچانک بھی تھیں اور بہت زیادہ بھی۔ مجاہدین کے گھوڑے تیر کھا کے بے لگام ہو کر بھاگے۔ جو سوار تیروں سے محفوظ رہے ،و ہ بھی پیچھے کو بھاگ اٹھے۔ تیروں کی بوچھاڑیں اور تندوتیز ہو گئیں۔ گھوڑے بھی بے قابو اور سوار بھی بے قابو ہو گئے ۔ بھگدڑ مچ گئی۔’’مت بھاگو! ‘‘خالدؓ بن ولید تیروں کی بوچھاڑوں میں کھڑے چلّا رہے تھے۔’’پیٹھ نہ دکھاؤ……مقابلہ کرو……ہم دشمن کو……‘‘گھوڑوں اور سواروں کی بھگدڑ ایسی تھی کہ خالدؓ بن ولید کی پکار کسی کے کانوں تک پہنچتی ہی نہیں تھی۔ کوئی یہ دیکھنے کیلئے بھی نہیں رُکتا تھا کہ خالدؓ کے جسم میں کتنے تیر اُتر گئے ہیں اور وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے وہیں کھڑے اپنے دستے کو مقابلے کیلئے للکار رہے ہیں۔ وہ آخر بھگدڑ کے ریلے کی زد میں آ گئے اور ان کے دھکوں سے یوں دور پیچھے آ گئے جیسے سیلاب میں بہہ گئے ہوں۔ جب بھگدڑ کا ریلا گزر گیا تو خالدؓ اتنے زخمی ہو چکے تھے کہ گھوڑے سے گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے۔

ہراول کے پیچھے اسلامی فوج آ رہی تھی ۔ اس کے رضا کاروں کا بے قاعدہ لشکر بھی تھا، ہراول کا دستہ بھاگتا دوڑتا پیچھے کو آیا تو فوج میں بھی بھگدڑ مچ گئی،ہراول کے بہت سے آدمیوں کے جسموں میں تیر پیوست تھے،اور انکے کپڑے خون سے لال تھے۔ گھوڑوں کو بھی تیر لگے ہوئے تھے ۔ مالک بن عوف کی فوج کے نعرے جو پہلے سے زیادہ بلند ہو گئے تھے ،سنائی دے رہے تھے۔ یہ حال دیکھ کر اسلامی فوج بکھر کر پیچھے کو بھاگی۔ بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ وہ قریش جو بے دلی سے مسلمان ہوئے تھے اور اسلامی فوج کے ساتھ آ گئے تھے انہوں نے اس بھگدڑ کو یوں بڑھایا جیسے جلتی پر تیل ڈالا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف بھاگے بلکہ انہوں نے خوف وہراس پھیلایا۔ اُنہیں ایک خوشی تو یہ تھی کہ لڑائی سے بچے اور دوسری یہ کہ مسلمان بھاگ نکلے ہیں اور انہیں شکست ہوئی ہے۔ مسلمانوں کی کچھ نفری وہیں جا پہنچی جہاں سے چلی تھی،اس جگہ کو فوجی اڈا(بیس)بنایا گیا تھا۔زیادہ تعداد ان مسلمانوں کی تھی جنہوں نے پیچھے ہٹ کر ایسی جگہوں پر پناہ لے لی جہاں چھپا جا سکتا تھا لیکن وہ چھپنے کیلئے بلکہ چھپ کر یہ دیکھنے کیلئے وہاں رُکے تھے کہ ہوا کیا ہے؟ اور وہ دشمن کہاں ہے جس سے ڈر کر پوری فوج بھاگ اٹھی ہے ۔ وہاں تو حالت یہ ہو گئی تھی کہ بھاگتے ہوئے اونٹ اور گھوڑے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے اور پیادے ان کے درمیان آ کر کچلے جانے سے بچنے کیلئے ہر طرف بھاگ رہے تھے۔ رسولِ کریمﷺ نے اپنی فوج کی یہ حالت دیکھی تو آپﷺ بھاگنے والوں کے رستے میں کھڑے ہو گئے ،آپﷺ کے ساتھ نو صحابہ کرامؓ تھے ۔ان میں چار قابلِ ذکر ہیں:حضرت عمرؓ، حضرت عباسؓ ،حضرت علیؓ اور حضرت ابو بکرؓ۔’’مسلمانو ں ! ‘‘رسولِ کریمﷺ نے بلند آواز سے للکارنا شروع کر دیا۔’’کہاں جا رہے ہو؟میں اِدھر کھڑا ہوں۔ میں جو ﷲ کا رسول ہوں ۔ مجھے دیکھو میں محمد ابنِ عبدﷲ یہاں کھڑا ہوں ۔‘‘مسلمان ہجوم کے قریب سے بھاگتے ہوئے گزرتے جا رہے تھے۔ آپﷺ کی آواز شور میں دب کر رہ گئی تھی۔ خالدؓ بن ولید کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ وہ آگے کہیں بے ہوش پڑے تھے۔ اتنے میں قبیلہ ہوازن کے کئی آدمی اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار بھاگتے ہوئے مسلمانوں کے تعاقب میں آئے۔ ان کے آگے ایک شتر سوار تھا جس نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ حضرت علیؓ نے ایک مسلمان کو ساتھ لیا اور اس شتر سوار علمبردار کے پیچھے دوڑ پڑے۔ قریب جا کر حضرت علیؓ نے اس کے اونٹ کی پچھلی ٹانگ پر تلوار کا وار کر کے ٹانگ کاٹ دی۔ اونٹ گرا تو سوار بھی گر پڑا۔حضرت علیؓ نے اس کے اٹھتے اٹھتے اس کی گردن صاف کاٹ دی۔ حضورﷺ ایک ٹھیکری پر جا کھڑے ہوئے ۔ دشمن کے کسی آدمی کی للکار سنائی دی۔’’ وہ رہا محمدﷺ……قتل کر دو۔‘‘


جاری ہے۔۔۔۔۔

تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

⚔ شمشیرِ بے نیام ⚔  حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( قسط نمبر-18) جنوری ۶۳۰ء کی اس رات جب قبیلۂ ہوازن کے سردار قبیلہ ثقیف کی دعوت پر طائف آئ...