جمعہ, اکتوبر 25, 2013

جنت کے پتے


"آپ جنت کے پتے کسے کہتے ہیں؟"

احمد نے گہری سانس لی اور کہنے لگا۔

"آپ جانتی ہیں، جب آدم علیہ السلام اور حوا جنت میں رہا کرتے تھے، اس جنت میں، جہاں نہ بھوک تھی، نہ پیاس، نہ دھوپ اور نہ ہی برہنگی۔ تب اللہ نے انہیں ایک ترغیب دلاتے درخت کے قریب جانے سے روکا تھا، تاکہ وہ دونوں مصیبت میں نہ پڑ جائیں۔"

وہ سانس لینے کو رُکا۔

"اس وقت شیطان نے ان دونوں کو ترغیب دلائی کہ اگر وہ اس ہمیشگی کے درخت کو چھو لیں تو فرشتے بن جائیں گے۔ انہیں کبھی نہ پرانی ہونے والی بادشاہت ملے گی۔ سو انہوں نے درخت کو چکھ لیا۔ حد پار کر لی . . . تو ان کو فوراً بے لباس کر دیا گیا۔ اس پہلی رسوائی میں وہ سب سے پہلی شے جس سے انسان نے خود کو ڈھکا تھا، وہ جنت کے پتے تھے، ورق الجنتہ۔"

"آپ جانتی ہیں، ابلیس نے انسان کو کس شے کی ترغیب دلا کر اللہ کی حد پار کروائی تھی؟ فرشتہ بننے کی اور ہمیشہ رہنے کی۔ جانتی ہیں حیا! فرشتے کیسے ہوتے ہیں؟"

اس نے نفی میں گردن ہلائی ، گو کہ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتا۔

"فرشتے خوب صورت ہوتے ہیں۔" وہ لمحے بھر کو رُکا۔ "اور ہمیشہ کی بادشاہت کسے ملتی ہے؟ کون ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے؟ وہ جسے لوگ بھول نہ سکیں، جو انہیں مسحور کر دے، ان کے دلوں پہ قبضہ کر لے۔ خوب صورتی اور امر ہونے کی چاہ، یہ دونوں چیزیں انسان کو دھوکے میں ڈال کر ممنوعہ حد پار کراتی ہیں اور پھل کھانے کا وقت نہیں ملتا۔ انسان چکھتے ہی بھری دنیا میں رسوا ہو جاتا ہے۔ اس وقت اگر وہ خود کو ڈھکے تو اسے ڈھکنے والے جنت کے پتے ہوتے ہیں۔ لوگ اسے کپڑے کا ٹکڑا کہیں یا کچھ اور، میرے نزدیک یہ ورق الجنتہ ہیں۔"

(نمره احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)

جمعرات, اکتوبر 24, 2013

جانے کیوں؟


جانے كيوں ہم نے اپنے دِلوں ميں اِتنے سہم پال ركھے ہيں كہ كوئى خوشى پا ليں تو مُسكراتے تک مُنہ چھپا كر ہيں-

جانے كيوں ہم يہ سوچتے ہيں كہ ہمارے آس پاس انسان نہيں كوئى شكرے منڈلاتے پھرتے ہيں۔

جو اگر ہمارے دامن ميں خوشى يا لبوں پر ہنسى ديكھيں گے تو جھپٹ كر لے اُڑيں گے-

جانے اپنى خوشى كو دوسروں كے ساتھ بانٹ كر بڑھانے كى روایت كو كہاں ركھ كر بُھول گئے ہم؟

آج کی بات 24 اکتوبر 2013


 انسان کی خواہشیں جب تک اس کے وجود اور اس کی عمر سے لمبی رہتی ہیں۔ یہ اس وقت تک انسان رہتا ہے‘ تم اپنی خواہشوں کو اپنی عمر اور اپنے وجودسے چھوٹا کر لو‘ تم خوشی بھی پا جائو گے اور سکون بھی۔

انسان سے بندہ بننے کا نسخہ


------- انسان سے بندہ بننے کا نسخہ ---------

انسان سے بندہ بننے کا نسخہ بہت آسان ہے ۔بس کرنا کچھ ایسے ہے کہ جو مل جائے اس پر شکر کر لو۔۔۔جو چھن جائے اس پر افسوس نہ کرو۔۔۔۔۔جو مانگ لے اسے دے دو ۔۔۔۔۔۔جو بھول جائے اسے بھول جاؤ ۔۔۔۔دنیا میں خالی ہاتھ آئے تھے خالی ہی جانا ہے ۔۔۔۔۔۔بس جتنی ضرورت ہو اتنا ہی رکھو۔۔۔۔۔۔۔۔ ہجوم سے پرہیز کرو ،تنہائی کو ساتھ بناؤ۔۔۔۔ مفتی ہو تب بھی فتویٰ جاری نہ کرو۔۔۔۔جسے خدا نے ڈھیل دی ہو اس کا احتساب کبھی نہ کرو۔۔۔۔بلا ضرورت سچ فساد ہوتا ہے ، کوئی پوچھے تو سچ بولو ورنہ چپ رہو۔۔۔۔۔۔۔ بس ایک چیز کا دھیان رکھنا کسی کو خود نہیں چھوڑنا دوسرے کو فیصلے کا موقع دینا ۔۔۔۔۔ جو جارہا ہو اسے جانے دو لیکن اگر کوئی وآپس آئے تو اس کے لیئے دروازے کھلے رکھو یہ اللہ کی سنت ہے۔۔۔۔

بدھ, اکتوبر 23, 2013

کر بھلا ہو بھلا


عجيب شے ھے دنيا، اور اس سے بھى زياده عجيب اور نہ سمجھ ميں آنے والے دنيا كے باسى-

جب تک آپ پر كوئى ايسا وقت نہيں پڑتا كہ جب آپ كو ضرورت ھو كسى كے ساتھ، كسى كى ھمدردى، كسى كى مدد كى، تب تک آپ كو اندازه ھى نہيں ھوتا كہ كون كيا ھے، كون كيسا ھے-
كون محض باتوں كا دھنى اور كون قول كا پكا-

ليكن ايسے ھى وقت ايک اور بات بھى بڑى كھل كر سامنے آتى ھے،
جسے پہلے ھم نے ذھن كے كسى كونے ميں سلا ركھا ھوتا ھے-
اور وه يہ كہ كب، كب كسى دوسرے كو ھمارى ضرورت تھى اور ھم اس كے كسى كام نہ آئے-

كوشش ھمارى يہى ھوتى ھے كہ اب بھى سويا ھى رھے يہ احساس-
اور ھم دوسروں كو قصوروار اور ظالم بتا كر اپنے دل كو تسلى ديتے رھيں-
ليكن ھميشہ ايسا ھو نہيں پاتا-
كيونكہ بظاھر ھم كچھ بھى بنے رھيں، ھمارے اندر كے سارے بھيد عياں ھوتے ھيں ھم پر-
ھميں سارا پتہ ھوتا ھے كہ كتنے پانى ميں ھيں ھم-

اسى لئے تو كہا جاتا ھے كہ بندے بشر كو لاپروا نہيں ھونا چاھئے-
كيونكہ بنده بےنياز نہيں ھو سكتا-
بےنيازى تو بس رَبّ كا ھى وصف ھے اور اسى پر جچتى ھے-
وه تو گنہگاروں سياه كاروں كو بھى عطا كرتا ھے-
ليكن دنيا كا طريقہ اور ھے-
اس سے تو بھلے كى اميد ركھنے سے پہلے اس كے ساتھ بھلا كرنا پڑتا ھے-

بھلا كر كے گلہ كريں تو بنتا بھى ھے-

ليكن بھلا كرنے كى توفيق جس كو ھو جائے اس كے دل سے سارے گلے پھر آپ ھى آپ دُھلتے چلے جاتے ھيں-

تحرير: نِيلم ملِک

منگل, اکتوبر 22, 2013

نور


نور کیا ہوتا ہے؟ تم جانتے ہو؟
نور وہ ہوتا ہے, جو اندھیری سرنگ کے دوسرے سرے پہ نظر آتا ہے, گویا کسی پہاڑ سے گرتاپگھلے سونے کا چشمہ ہو۔
اور کیسے ملتا ہے نور؟
جو الله کی جتنی مانتا ہے, اسے اتنا ہی نور ملتا ہے۔ کسی کا نور پہاڑ جتنا ہوتا ہے, کسی کا درخت جتنا, کسی کا شعلے جتنا اور کسی کا پاؤں کے انگوٹھے جتنا۔
انگوٹھے جتنا نور جو جلتا بجھتا , بجھتا جلتا ہے۔ یہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو کچھ دن بہت دل لگا کر نیک عمل کرتے ہیں اور پھر کچھ دن سب چھوڑ چھاڑ کر ڈپریشن میں گھر کر بیٹھ جاتے ہیں۔
اور انسان کیا کرے کہ اسے آسمانوں اور زمین جتنا نور مل جائے؟
وہ الله کو نہ کہنا چھوڑ دے ۔اسے اتنا نور ملے گا کہ اس کی ساری دنیا روشن ہو جائے گی۔ دل کو مارے بغیر نور نہیں ملتا۔ دل تو مارنا پڑتا ہے مگر ضروری تو نہیں ہے کہ ٹھوکر بھی کھائی جائے۔ انسان ٹھوکر کھائے بغیر, زخم کھائے بغیر, خود کو جلائے بغیر بات کیوں نہیں مانتا۔ پہلی دفعہ میں ہاں کیوں نہیں کہتا؟ پہلے حکم پہ سر کیوں نہیں جھکاتا؟ ہم سب کو آخر منہ کے بل گرنے کا انتظار کیوں ہوتا ہے اور گرنے کہ بعد ہی بات کیوں سمجھ میں آتی ہے؟

اقتباس :" جنت کے پتے " از نمرہ احمد

سوموار, اکتوبر 21, 2013

سکون قلب


ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﮐﺴﯽ ﻓﺎﺭﻣﻮﻟﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ،
ﻓﺎﺭﻣﻮﻟﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﺑﻨﺎ ﻟﯽﮨﮯ،ﻟﻮ ﮐﮭﺎ ﻟﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﮨﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ،ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺩﻋﺎ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺿﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﻧﺎﻣﻨﻈﻮﺭ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ۔

ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻓﺮﻕ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ۔ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺟﻮ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭼﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ، ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔

وﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ

نیت کا بدلہ



دو حجاج کرام کی آپس میں گفتگو، تھوڑی سی طویل ہے، لیکن پڑھنے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ آپ کا وقت ضایع نہیں ہوا۔

حاجی سعید صاحب فریضہ حج ادا کرنے کے بعد وطن واپسی کے لیے ایئرپورٹ پر بیٹھے اپنے جہاز کا انتظار کر رہےتھے۔ ان کے ساتھ والی کرسی کو خالی پاکر ایک اور حاجی صاحب ان کے پاس آ بیٹھے۔ انھوں نے ایک دوسرے کو سلام کیا، نام وغیرہ پوچھا اور انتظار کی کوفت ختم کرنے کے لیے دوسرے حاجی صاحب نے خود ہی اپنے بارے میں بتانا شروع کیا کہ:

برادر سعید! میں پیشے کے لحاظ سے ایک ٹھیکیدار ہوں۔ اس سال مجھے ایک بہت بڑا ٹھیکہ مل گیا، یہ ٹھیکہ تو گویا میری زندگی کے حاصل جیسا تھا۔ اور میں نے نیت کر لی کہ اللہ کی اس نعمت کے شکرانے کے طور پر میں اس سال دسویں بار فریضہ حج ادا کرونگا۔ بس اپنی منت کو پورا کرنے کیلئے میں نے اپنا حج داخلہ کرایا۔ ادھر آ کر بھی خوب صدقات دیئے اور خیراتیں کیں تاکہ اللہ میرے حج کو قبول کرلے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں دسویں بار حاجی بن گیا ہوں۔
سعید صاحب نے سر کو ہلا کر گفتگو میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور مسنون طریقے سے حج کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا:
حجا مبرورا ، و سعیا مشکورا، و ذنبا مغفورا ان شاء اللہ
(اللہ کرے آپ کا حج مقبول ہو، آپ کی سعی مشکور ہو اور آپ کے گناہ معاف کر دیئے جائیں)
اس شخص نے مسکرا کر سعید صاحب کی نیک تمناؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا:
اللہ تبارک و تعالیٰ سب کے حج قبول کرے، تو سعید صاحب، کیا آپ کے حج کا بھی کوئی خاص قصہ ہے ؟
سعید نے کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ کہا:

ہاں جی، میرے حج کے پیچھے بھی ایک طویل قصہ ہے مگر میں یہ قصہ سنا کر آپ کے سر میں درد نہیں کرنا چاہتا۔
یہ سن کر وہ شخص ہنس پڑا اور کہا؛
ارے سعید صاحب، آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ہمارے پاس سوائے انتظار کے اور کوئی کام ہی نہیں ، اب بھلا آپ کے قصے سے ہمارا وقت کٹے گا یا مجھے کوفت ہوگی؟
سعید صاحب مسکرا دیئے اور بولے؛
جی، انتظار، انتظار ہی تو میرے قصے کی ابتدا ہے کہ اتنے طویل سالوں تک حج کی خواہش کو دل میں لئے کام میں لگا رہا۔ میں پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہوں۔ آج سے تیس سال پہلے کام کرنا شروع کیا تھا، جب ریٹائرمنٹ کے نزدیک پہنچا اور بچوں کی شادیوں اور دیگر فرائض سے فراغت پائی اور کچھ ذہنی آسودگی ملی تو اپنی باقی کی جمع پونجی دیکھی۔ یہ پیسے مجھے حج کیلئے کافی دکھائی دیئے تو سوچا کیوں ناں اب اس حج کے فریضے سے سبکدوش ہو لوں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ جب استطاعت ہو تو اس فرض کی ادائیگی میں تآخیر اچھی نہیں ہوتی ، کیا پتہ کہ کب سانس ساتھ چھوڑ جائے۔
اس آدمی نے اپنی بھرپور توجہ کا احساس دلانے کیلئے اپنی طرف سے بات میں اضافہ کیا۔

جی کیوں نہیں، جب استطاعت ہو تو یہ فرض ضرور ادا کیا جائے۔
سعید صاحب نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا؛
جی سچ فرمایا آپ نے۔
میں نے اسی دن ہی ہسپتال جاتے ہوئے بنک سے سارے پیسے نکلوا لئے کہ شام کو سیدھا جا کر حج کیلئے داخلہ کرا دوں اپنا۔
اسی دن ہسپتال جا کر میری ملاقات ایک مریض بچے کی ماں سے ہوئی ۔ اس عورت کا بچہ ہمارے ہسپتال میں اور میری ہی زیر نگرانی ایک معذوری کے علاج کے سلسلے میں داخل تھا۔ غم اور لاچاری کے تاثرات اس عورت کے چہرے پر عیاں تھے۔ مجھے دیکھتے ہی بولی، اچھا سعید بھائی، اللہ حافظ۔، یہ میری آپ سے اس ہسپتال میں آخری ملاقات ہے۔
یہ سن کر مجھے اچھی خاصی حیرت ہوئی اور سب سے پہلی جو بات میرے ذہن میں آئی وہ یہ تھی کہ لگتا ہے کہ یہ عورت میرے علاج سے مطمئن نہیں اور بچے کو کسی اور ہسپتال لے جانا چاہتی ہے۔ پھر میں نے یہ بات اس سے پوچھ بھی لی۔
میری یہ بات سن کر وہ عورت فورا بول اٹھی؛ نہیں سعید بھائی، ایسی کوئی بات نہیں، آ پ تو میرے بیٹے کیلئے کسی بھی شفیق باپ سے سے زیادہ مہربان ہیں، جب ہم ہر طرف سے مایوس ہو چکے تھے تو آپ کی حوصلہ افزائی سے یہاں ہم نے اتنا اچھا علاج کروایا ہے۔
اب وہ شخص درمیان میں بول پڑا؛
عجیب بات ہے! اگر وہ عورت آپ کے علاج سے اتنی ہی مطمئن تھی اور اُسکا بیٹا بھی روبہ صحت تھا تو وہ پھر کیوں علاج چھوڑ کر جانا چاہ رہی تھی؟
سعید صاحب نے جواب دیا؛

جی مجھے بھی یہ بات کافی عجیب سی لگ رہی تھی۔ اس لئے میں نے اس سے اجازت لیکر معاملے کو مزید جاننے کیلئے اپنا رخ ہسپتال کے انتظامی شعبے کی طرف کر لیا۔ جاتے ہی میں نے اکاؤنٹنٹ سے پوچھا کہ یہ لوگ کیوں ہسپتال چھوڑنا چاہ رہے ہیں؟ ان کے کیس میں کہیں میری طرف سے کوئی کمی و کوتاہی تو نہیں ہوئی؟ اکاؤنٹنٹ نے کہا؛ نہیں جناب ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہوا یوں ہے کہ بچے کے باپ کی ملازمت جاتی رہی ہے اور یہ لوگ اب شدید مالی پریشانی اور مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ ہسپتال میں بچے کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات کو برداشت کرنا اب ان کے بس میں نہیں رہا، اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ بچے کا معاملہ اس کے نصیب اور مقدر پر چھوڑا جائے اور علاج کو ترک کر دیا جائے۔
وہ شخص بولا:
لا حول ولا قوۃ الا باللہ، کتنی لاچار تھی یہ ماں۔ لیکن کیا کیا جائے اس وقت دنیا جس معاشی بحران سے گزر رہی ہے کی وجہ سے اب تک لاکھوں لوگ اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اچھی اچھی شہرت رکھنے والی کمپنیاں اور بڑے بڑے ادارے بھی اپنے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر رہے ہیں۔ تو پھر سعید صاحب، آپ نے کیا کردار ادا کیا اس معاملے میں؟
سعید صاحب نے جواب دیا؛
اکاؤنٹنٹ کے کمرے سے نکل کر میں فورا ہی ہسپتال کے انتظامی سربراہ کے پاس گیا اور اسے گزارش کی کہ وہ بچے کا علاج ہسپتال کے بجٹ سے جاری رکھیں، لیکن اس نے شدت کے ساتھ میری بات رد کر دی۔ بلکہ اس نے تو مجھے یہاں تک بھی کہا کہ یہ ہسپتال کوئی خیراتی ادارہ نہیں ہے جو غریبوں اور مسکینوں کا مفت میں علاج کرتا رہے۔ ہم نے ہسپتال کو منافع میں چلانا ہے اور ہمارا ایک نام اور ہمارا ایک معیار ہے، جسے ہمارے پاس علاج کرانا ہے کرائے اور جسے جانا ہے چلا جائے۔

میں مدیر کے کمرے سے ٹوٹے دل کے ساتھ نکلا۔ میرا دل ابھی تک اس عورت کے چہرے پر آئی حسرت و یاس کے تاثرات پر اٹکا ہوا تھا۔ میں جانتا تھا کہ بچے کا علاج جاری نا رکھا گیا تو معاملہ پھر صفر تک جا پہنچے گا اور ہو سکتا ہے کہ آئندہ بچے کے علاج میں مزید پیچیدگیاں بھی پیدا ہو جائیں۔ میرا دل تھا کہ خون کے آنسو رو رہا تھا اور میں اپنی بیچارگی پر بھی کڑھ رہا ۔ یہ ٹھیک تھا کہ میں نے اس ہسپتال میں ایک اچھے مشاہرے پر کام کیا تھا مگر کیا میں اس تیس سال کی خدمت کے عوض ایک مریض کا مفت علاج بھی تجویز نہیں کر سکتا تھا؟ میں انہین سوچوں میں گم کھڑا تھا کہ لا شعوری طور میرا ہاتھ اپنی جیب میں گیا جس میں میں نے آج صبح بنک سے حج داخلہ کیلئے نکلوائے ہوئے پیسے ڈال رکھے تھے۔ پیسوں کو ہاتھ لگتے ہی میں نے اپنا منہ آسمان کی اٹھا دیا اور اپنے رب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا؛
اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرے دل میں تیرے گھر کا حج کرنے اور تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی زیارت کرنے کی کتنی تڑپ ہے۔ میں نے تو اس مقصد کیلئے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور کمائی اکٹھی کر کے ارادہ باندھ بھی لیا تھا ۔ اب تو میرے اس شوق کی تکمیل میں بس گھنٹے اور منٹ ہی حائل تھے ۔ مگر میں تیرے ساتھ کیا ہوا اپنا وعدہ توڑنے جا رہا ہوں، مجھے معاف کر دینا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تیری ذات بہت غفور الرحیم ہے ۔

میں نے اسی وقت اکاؤنٹنٹ کے پاس جا کر اپنے سارے پیسے اس بچے کے علاج کیلئے آئندہ چھ مہینوں کے ایڈوانس علاج کیے طور پر جمع کرا دیئے۔ میں نے اکاؤنٹنٹ سے وعدہ لیا کہ عورت سے کہے گا کہ ہمارے ہسپتال میں ایسی صورتحال کیلئے ایک سپیشل فنڈ ہوتا ہے جس سے اس کے بیٹے کا علاج کیا جا رہا ہے اور اس کو یہ نا معلوم ہونے دے کہ یہ پیسے ہسپتال نے نہیں بلکہ میں نے ادا کیئے ہیں۔
اب اس آدمی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے تھے، اس نے پوچھا؛ سعید بھائی، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کی اس نیکی کو قبول کرے اور دوسروں کو بھی آپ کی قائم کردہ اس مثال پر چلنے کی توفیق دے۔ اچھا ایک بات تو بتائیں کہ آپ نے تو سارے پیسے بچے کے علاج کیلئے جمع کرا دیئے تھے پھر حج پر کس طرح آ پہنچے؟
سعید صاحب نے ہنستے ہوئے جواب دیا؛

لگتا ہے کہ اپ اس قصے کا اختتامیہ جاننے کیلئے بے چین ہو رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کی دلچسپی اب اس قصے سے ختم ہو رہی ہو؟ اچھا خیر، میں آپ کو اس قصے کا بقیہ حصہ جلدی جلدی سناتا ہوں۔ میں اس دن نہایت ہی غمگین اپنے گھر پہنچا کہ میں نے اپنی زندگی کی آخری خواہش حج کی ادائیگی کو پورا کرنے کا موقع ضائع کر دیا تھا۔ ہاں کچھ خوشی بھی تھی کہ میں نے ایک خاندان کے مصیبت کے لمحات میں انکی مدد کی تھی۔ میں اس رات روتے روتے سویا تو میرے آنسو میرے گالوں پر بہہ رہے تھے۔ میں نے نیند میں خواب دیکھا کہ میں حرم میں موجود ہوں اور کعبہ شریف کے گرد طواف کر رہا ہوں، لوگ بڑھ بڑھ کر مجھ سے سلام کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں سعید صاحب، حج مبارک ہو، آپ نے زمین پر اپنا حج کرنے سے پہلے ہی آسمان پر حج کر لیا ہے۔ بلکہ لوگ مجھ سے اپنے بارے میں دعا کرنے کو بھی کہہ رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے حج بھی قبول فرمائے۔ اور جب میں نیند سے جاگا تو ایک عجیب قسم کی خوشی اور مسرت کے احساس سے ہمکنار تھا۔ میں اپنی طرف سے امید کھو بیٹھا تھا کہ کبھی کعبہ شریف کی زیارت بھی کر پاؤنگا مگر کم از کم میں نے نیند میں تو یہ زیارت کر ہی لی تھی۔ خیر، میں نے اللہ کی اس مہربانی پر بھی شکر ادا کیا اور جو کچھ ہو چکا تھا اس پر راضی رہنے کا عہد کیا۔ میں ابھی تک نیند کے خمار میں ہی پڑا اپنے حسین خواب کو یاد کر کے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بج اٹھی۔ دوسری طرف ہسپتال کا وہی مدیر بول رہا جس نے کل مجھے نخوت کے ساتھ انکار کیا تھا۔ اس کے لہجے سے التجا کا تاثر عیاں تھا ۔ میرے سلام کرنے پر اس نے کہا، ڈاکٹر سعید، میں جانتا ہوں کہ آپ میرے کل کے رویئے پر ناراض ہونگے مگر میں پالیسی کے ہاتھوں مجبور تھا۔ مجھے آپ کی مدد کی ضرورت آن پڑی ہے، انکار مت کیجئے گا۔ ایک بہت بڑی کاروباری شخصیت حج پر جانا چاہتی ہے مگر ان کے ساتھ ذاتی طبیب کے جانے کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ اس کے ذاتی معالج کا فریضہ پہلے تو اس کی بیوی سر انجام دیتی تھی مگر آجکل وہ پورے دنوں سے ہے اور سفر پر نہیں جا سکتی۔ یہ آدمی ہمارے ہسپتال میں نصف کا شریک ہے۔ اسے ناراض کرنا گویا میرا اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔ اس نے فوری طور پر مجھ سے ایک نام مانگا ہے اور میرے ذہن میں آپ کا نام آیا ہے، آپ اس شخصیت سے کافی ذہنی مطابقت رکھتے ہیں، مہربانی کر کے انکار مت کیجیئے گا؟
میں نے تھوڑے سے تامل کے بعد پوچھا؛

اس شخص کے ساتھ میری رفاقت محض طبیب اور ذاتی معالج کی سی ہی ہو گی یا وہ مجھے حج ادا کرنے کا بھی موقع دے گا؟
مدیر نے بلا توقف کہا؛ ڈاکٹر سعید صاحب، آپ اس شخصیت کے ساتھ اسی کے نان و نفقہ پر جائیں گےاور وہ آپ کو حج ادا کرنے کا بھی پورا پورا موقع دے۔
اور جس طرح کہ آپ دیکھ رہے ہیں میں نے بہت ہی احسن طریقے سے حج ادا کیا ہے ۔ صرف یہی ہی نہیں اس آدمی نے مجھے میری خدمات کے عوض ایک معقول رقم بھی ادا کی ہے۔ اس کے ساتھ گزرے فرصت کے لمحات میں، میں نے اسے اس بچے اور عورت کا قصہ سنایا تو اس نے فورا ہی ہسپتال کو احکامات بجھوائے کہ اس بچے کا آئندہ علاج مفت اور ہسپتال کے خرچہ پر کیا جائے۔ بلکہ اب تو اس صاحب کے حکم سے ہسپتال میں آنے والے ایسے کیسز کیلئے باقاعدگی سے ایک فنڈ مختص کیا گیا ہے، مزید اس نے بچے کے والد کو میں اپنی کسی کمپنی میں اس کی قابلیت کے مطابق ایک ملازمت بھی دی ہے۔
اس آدمی نے اٹھ کر سعید صاحب کی پیشانی پر ایک بوسہ دیا اور کہا؛
سعید صاحب، اللہ کی قسم، میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی اتنی خجالت محسوس نہیں کی جتنی آج کر رہا ہوں۔ میں ایک کے بعد ایک حج کر کے یہی محسوس کرتا رہا کہ بہت بڑا معرکہ سر کر رہا ہوں۔ میں یہ سوچتا تھا کہ ہر بار حج کرنے سے اللہ کے نزدیک میرا مرتبہ بلند سے بلند ہوتا جا رہا ہوگا۔ لیکن آج میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو بہت ہی حقیر سمجھ رہا ہوں۔ آپ کا یہ ایک حج میرے دس نہیں بلکہ میرے حج جیسے ایک ہزار حج سے زیادہ بہتر حج ہے۔ میں پیسے خرچ کر کے حج پر جاتا رہا ور آپ کو اللہ نے خود بلوا کر حج کروایا۔
سعید صاحب کو اس آدمی کی بڑبڑاہت صاف سنائی دے رہی تھی جو دوسری طرف منہ کئے کہہ رہا تھا ؛
اے اللہ مجھے بخش دے، اے اللہ مجھے بخش دے۔

عربی سے ماخوذ و مترجم از محمد سلیم

اتوار, اکتوبر 20, 2013

ہمیں تسخیر کرنے تک


 
ہمیں دریافت کرنے سے، ہمیں تسخیر کرنے تک
بہت ہیں مرحلے باقی، ہمیں زنجیر کرنے تک

ہمارے ہجر کے قصّے، سمیٹوگے تو لکھوگے
ہزاروں بار سوچو گے، ہمیں تحریر کرنے تک

ہمارا دل ہے پیمانہ، سو پیمانہ تو چھلکے گا
چلو دو گھونٹ تم بھر لو، ہمیں تاثیر کرنے تک

پرانے رنگ چھوڑو آنکھ کے، اک رنگ ہی کافی ہے
محبّت سے چشم بھر لو، ہمیں تصویر کرنے تک

ہنر تکمیل سے پہلے، مصور بھی چھپاتا ہے
ذرا تم بھی چھپا رکھو، ہمیں تعمیر کرنے تک

جمعرات, اکتوبر 17, 2013

محبت

 
ایک دفعہ میں ایک دوست کے ساتھ چڑیا گھر گیا بندر کے پنجرے میں دیکھا کہ وہ اپنی بندریا سے چمٹا محبت کی اعلیٰ تفسیر بنا بیٹھا تھا۔ تھوڑا آگے جا کرشیر کے پنجرے کے پاس سے گزر ہوا تو معاملہ الٹ تھا، شیر اپنی شیرنی سے منہ دوسری طرف کیئے خاموش بیٹھا تھا۔ میں نے دوست سے کہا کہ بندر کو اپنی مادہ سے کتنا پیار ہے اور یہاں کیسی سرد مہری ہے؟
دوست نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا؛ اپنی خالی بوتل شیرنی کو مارو۔ میں نے بوتل پھینکی تو شیر اچھل کر درمیان میں آگیا۔ شیرنی کے دفاع میں اسکی دھاڑتی ہوئی آواز کسی تفسیر کی طالب نہ تھی۔ میں نے ایک بوتل جا کر بندریا کو بھی ماری یہ دیکھنے کو کہ بندر کا ردعمل کیا ہوتا ہے، بوتل اپنی طرف آتے دیکھ کر بندر اپنی مادہ کو چھوڑ کر اپنی حفاظت کیلئے اچھل کر کونے میں جا بیٹھا۔
میرے دوست نے کہا کہ کچھ لوگ شیر کی طرح ہی ہوتے ہیں؛ ان کی ظاہری حالت پر نہ جانا، ان کے پیاروں پر بن پڑے تو اپنی جان لڑا دیا کرتے ہیں، مگر ان پر آنچ نہیں آنے دیتے۔
اور کچھ لوگ جو ظاہرا" بہت محبت جتاتے ہیں لیکن وقت آنے پر یوں آنکھیں پھیر لیتے ہیں جیسے کہ جانتے ہی نہ ہوں

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے


کیسارقت آمیز تھا وہ منظر جب بوڑھا شفیق باپ اپنے کم سن لخت جگر سے کہ رہا ہے کہ’’پیارے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے میں تجھے ذبح کررہا ہوںبتا تیری کیا رائے ہے؟‘‘ اور لائق فرزند نے پورے عزم سے جواب دیا’’ابا جان آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے اسے کرڈالیے آپ انشااللہ مجھے صابروںمیں پائیں گے‘‘(الصفات۱۰۲)۔

اب حضرت ابراہیمؑ تھے اور حضرت اسماعیلؑ ۔ دنیا کی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ ہونے والا تھا۔صحرا کی اس تپتی ریت پر اپنے معصوم لخت جگر کو لٹاکر اس کے سینے پر گھٹنا ٹیک کر تیز چھری اسکی گردن پر پھیردی۔ اور اس معصوم جان نے اپنی گردن اس لئے زمین پر ڈال دی کہ اس کے باپ تعمیل حکم ربی کے ماسوا کچھ نہیں کرتے۔ صحرا ، پہاڑ، سورج بھی اطاعت وفرماں برداری کا یہ روح پرور منظر جھک کر دیکھ رہے ہیں کہ رحمت خداوندی جو ش میں آجاتی ہے’’اے ابراہیمؑ تم نے اپنا خواب سچا کردکھایا ہم وفادار بندوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں یقناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی‘‘(الصفات۱۰۶)۔

حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کی گردن پر چھری پھیر کر جاں نثاری اور وفاداری کے جذبات کی تسکین کرلی لیکن قدرت کو بیٹے کی قربانی منظور نہ تھی پس عشق کا اتنا ہی امتحان مطلوب تھا۔میڈھے کو بھیج کر حضرت اسماعیل ؑ کو بچالیاگیا۔اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اس عظیم قربانی کی یاد ہرسال تازہ کریں جو ان کے جدامجد نے پیش کی تھی۔
لیکن ۔۔۔ قربانی کا یہ مطالبہ اچانک تو نہیں کردیا گیاتھا۔۔۔ یوں تو کوئی اپنی پسندیدہ ترین چیز ایک اشارے پر قربان کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔حضرت ابراہیم ؑ تو ہیں ہی قربانیوں کی تفسیر۔۔وہ کون سی آزمائش تھی جس میں آپ پورا نہیں اترے۔خاندان، برادری، وطن عزیز تو چھوٹی چیزیں ہیں آپ تو آتش نمرود میں کود پڑے بے آب وگیاہ وادی میں اپنے خاندان کو چھوڑ آئے اور جب وہی بیٹا چل کر جوان ہوا تو حکم ملا کہ خود اس کو ذبح کردو! دنیا میں کسی انسان کو جو عظیم ترین آزمائشیں پیش آسکتی ہیں وہ سب حضرت ابراہیمؑ کو پیش آئیں۔۔اور ہر آزمائش میں پوراترکر مسلم حنیف بن کر اسلام کی کامل ترین تصویر رہتی دنیا تک چھوڑ گئے۔ ’’جب ان سے ان کے رب نے کہا’’مسلم ہوجاؤ تو اس نے بے تامل کہا میں رب العالمین کا مسلم ہوگیا‘‘(البقرہ۱۳)۔

اور واقعتا ۔۔ہماری پوری زندگی گواہی نہیں دے رہی کہ ہم مسلم اور وفادار ہیں تواللہ کو نہ گوشت مطلوب ہے نہ خون نہ کوئی جشن قربانی!!  حقیقتاً تو جانوروں کے گلے پر چھری چلانے سے پہلے خود سے یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم اس طرح تیرے وفادار ہیں جیسے ہمارے ۔۔حضرت ابراہیمؑ واسماعیلؑ تھے۔ اورتیرا اشارہ ہوا تو ہم بھی حضرت اسماعیلؑ کی طرح اپنی گردن تیرے حضور پیش کردیں گے اور قربانی کے وقت جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ جانثاری کے انہی جذبات کا عکس ہے کہ ’’میں نے پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا رخ ٹھیک اس اللہ کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین کیلئے ہے اسکا کوئی شریک نہیں اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلم اور فرمانبردار ہوں‘‘۔

اب اگر یہ جذبہ اور ارادہ نہ ہو تو محض گوشت بانٹنے، کھانے اور کھلانے کی کوئی تقریب تو مطلوب نہیں۔ اللہ سے یہ عہد کرنے کے بعدکہ ’’میں رب العالمین کا مسلم ہوں‘‘ کہاں خود سَری کی گنجائش رہتی ہے۔ جانوروں کا فدیہ دیں اور پیروی اپنے من مانے طریقوں کی کریں۔ کیا جانوروں کی فدیے دیکر ہم نے خود کو اسلئے چھڑایا کہ اب ہم ہر باغی کے مددگار بن جائیں۔؟؟ نہ ہمیں معروف کے حکم سے کوئی غرض ہے نہ منکر کے پھیلنے سے کوئی خدشہ۔! ہماری بے حسی نے جس بے حیائی کی دنیا آباد کی ہے اسکی ایک جھلک میڈیا منٹوں میں پیش کردیتا ہے۔ جرائم کی داستانوں کو چٹخارے لیکر اور زیب داستاں کیلئے بیان کیا جارہا ہے۔ ننھی معصوم بچیوں کے ساتھ جو واقعات ہورہے ہیں لگتا ہے ہم ابلیس کی سرزمین کے باسی ہیں۔

حضرت ابراہیم نے اپنے دین وایمان ، اپنی نسل، اسلامی اقدار وروایات کے تحفظ کیلئے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی۔ اپنی سلامی اقدار وروایات کے تحفظ کیلئے ہم کتنے کوشاں ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بڑے شہروں کے چوک چوراہوں سے گذرجائیں تو موبائل کمپنیوں کے اشتہارات ہوں یا فوڈ کمپنیوں کے یا خواتین کے کپڑے بنانے والی کمپنیوں کے۔۔قوم کی بہنوں اور بیٹیوں کی برہنہ تشہیر ہم میں سے کسی کے ایمان پر کوئی حرف نہیں آنے دیتی۔ ہمارے اخلاقی نظام کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ سفاکی کا عالم یہ ہے کہ ایک خودکش حملے میں سیکڑوں جانیں بھی چلی جائیں تو ہمارے رونگٹھے کھڑے ہوتے ہیں نہ دعوتیں اورتقریبات متاثر ہوتے ہیں۔ جرائم کی جس طرح تشہیر کی جارہی ہے اس سے مجرمانہ ذہنیت کو فروغ مل رہا ہے کیونکہ ان جرائم کی وجوہات کی نہ تشخیص کی جارہی ہے نہ روکنے کے اقدامات!!جب قاتلوں، چوروں ،ڈاکوؤں کو ایوان ھائے اقتدار پناہ دے دیںتو معاشرتی فساد کو پھیلنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے۔ ہماری ، فلم، ٹی وی، تھیٹر، کیا کچھ پیش کررہے ہیں ؟ صبح ہوتے ہی مارننگ شوز جو رقص وموسیقی اور بے ہنگم قہقہوں اور لا یعنی گفتگو کا ایک طوفان بدتمیرزی بپا کردیتے ہیں ان سب کے ہم عادی ہوچکے ہیں۔ اب ایمان کے تیسرے درجے یعنی کراہیت سے بھی ہم عاری ہوچکے ہیں۔

پچھلے ہفتے ڈائیوو بس میں سفر کیا۔ بس کی میزبان لڑکی کے ایک ہاتھ میں ۔۔۔ تھے اور دوسرے ہاتھ میں میگزینز اور اخبار۔بس کی پچھلی نشست پر ہونے کے باعث جائزہ لینا میرے لئے آسان تھا کہ مسافروں بالخصوص نوجوانوں نے ہیڈ فون لینا پسند کئے ۔پھر ٹی وی پر جو عریاں ترین اشتہارات اور انڈین فلم چلی وہ ایسی کہ الامان الحفیظ میں نے جب میزبان سے احتجاج کیا تو وہ معصومیت سے بولی’’آپ خود دیکھ لیں مسافر کس شوق سے دیکھ رہے ہیں ہم تو مسافروں کے آرام اور تفریح کا خیال رکھتے ہیں‘‘ اور یہی تفریح ہے جو اب خبر نامے کے دوران بھی قوم کو مہیا کی جاتی ہے جب دوران خبرنامہ بالی وڈ کی فلموں کے چنیدہ عریاں مناظر اسکرین پر پیش کئے جاتے ہیں۔ 24گھنٹے کی نشریات میں کتنے گھنٹے کوئی بامقصد چیز پیش کی جاتی ہے اور کتنے گھنٹے عریاں اور بے مقصد تفریح۔۔اس جائزے کیلئے کسی کا دانشور ہونا بھی ضروری نہیں۔۔۔

ملک کی سیاست، معیشت، معاشرت، نظام عدل،امن وامان،تعلیم ہر شعبہ خدا کی بغاوت کو ہوا دے رہا ہے۔جتنی ٹیکنالوجی ترقی کررہی ہے دجالی تہذیب فتح کے لشکر اتاررہی ہے اور پیروانِ ابراہیمؑ گوشت کے تہوار کو’’قربانی‘‘سمجھ رہے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے کچھ ایسی ہی تہذیب کے بتوں کو خانہ خدا میں رسوا کیا تھا منہ کے بل گرادیا تھا۔ ہم اسی جاھلانہ تہذیب کے پیروردہ بن کر ۔خاموش تماشائی بنکر ۔سب کچھ برداشت کرکے۔محض دجالی تہذیب کے نوحے پڑھکر اور حقیقتاً اپنے مفادات کے بندے بن کر کب’’آدابِ فرزندی‘‘ نبھاسکتے ہیں۔۔! ہمارے پڑوس میں کیا ہورہا ہے؟ ملک میں کیا ہورہا ہے؟ بچوں کے تعلیمی اداروں میں کیا ہورہا ہے؟ جس موبائل فون اور لیپ ٹاپ کے حوالے ہم نے اپنی نوجوان نسل کو کردیا وہ انکو اخلاقی اور روحانی طور پر کن دنیائوں کی سیر کرارہی ہیں۔؟ کتنا ایمان اور قوت عمل باقی رہنے دیا اس ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہمارے نوجوان نسل میں۔؟؟ یہ سوچنے ، سمجھنے کی فرصت نہیں اس وقت ہمارے پاس۔ کیونکہ پے درپے حادثات، سانحات، خوف کی فضا نے ہماری فکر کو بھی شل کردیا ہے۔ اور خون مسلم کی اس ارزانی میں بھی ہمیں فکر تو ہے اپنی ذات اور خاندان کی۔اور وہ بھی انکی دائمی بقا کی نہیں۔! حضرت ابراہمؑ نے اپنی مروجہ تہذیب سے بغاوت کی تھی آج سنت ابراہیمیؑ کی یاد تازہ کرتے ہوئے ہم میں سے کتنے اس دجالی تہذیب کے خاتمے کیلئے اپنا کچھ وقت، مال یا صلاحیتیں قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟؟؟

عید الاضحیٰ مبارک


 




 ﻋﯿﺪ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺧﻮﺷﯽ !
ﺍﺳﮯ ﺑﺎﻧﭩﺌﯿﮯ ، ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ۔
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺻﺮﻑ ﺟﺎﻧﻮﺭﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ
ﺩﯾﺠﺌﯿﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﺴﯽ ﯾﺘﯿﻢ ﮐﺴﯽ ﻧﺎﺩﺍﺭ
ﺳﮯ ﮔُﮭﻠﻨﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮌﮮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ
ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺭﺍﺋﮕﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ !

عید مبارک

سوموار, اکتوبر 14, 2013

گیلی لکڑیاں



گیلی لکڑ یاں

ہوا، آگ، پانی اور مٹی زندگی کے بنیادی عناصر ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام کیا ہے کہ کرہ ارض پر زندگی کے یہ تمام بنیادی عناصر کثرت سے موجود رہیں ۔تاہم ان عناصر میں سے آگ ایک ایسا عنصر ہے جو حرارت کی شکل میں تو سورج سے تمام جانداروں کو براہِ راست ملتا رہتا ہے ، مگر آگ کی شکل میں یہ عام دستیاب نہیں ہے ۔البتہ اللہ تعالیٰ نے وہ ایندھن بافراط اس دھرتی پر رکھ دیا ہے جس سے انسان آگ حاصل کرسکتے ہیں ۔
موجودہ دور میں قدرتی گیس آگ کے حصول کے لیے سب سے زیادہ سستے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے ۔تاہم اس سے قبل انسانی تاریخ کے تمام عرصے میں آگ کے لیے ایندھن کے طور پر لکڑیاں ہی استعمال ہوتی رہی ہیں ۔ہزاروں سال تک انسان جنگلات اور درختوں سے لکڑ یوں کو کاٹتے اور ان سے اپنے گھر اور چولہے گرم رکھتے رہے ہیں ۔آج بھی ان علاقوں میں جہاں گیس موجود نہیں یہی ایندھن آگ کے حصول کا واحد ذریعہ ہے ۔
جن لوگوں نے لکڑ ی کو ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے دیکھا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ لکڑ ی پر پانی کا پڑ نا اسے ایندھن کے طور پر استعمال کے قابل نہیں رہنے دیتا۔لکڑ ی جتنی خشک ہو گی ، اتنی ہی جلدی اور تیز آگ پیدا کرنے کا سبب بنے گی۔ لکڑ ی گیلی ہوجائے تو وہ جلتی نہیں ۔ جل بھی جائے تو آگ کم اور دھواں زیادہ دیتی ہے ۔
دورِ جدید کے مسلمانوں کی دینداری کا معاملہ بھی گیلی لکڑ یوں سے زیادہ مختلف نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام کر رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک گروہ اسلام کا علمبردار بن کر دنیا میں رہے ۔ اسلام کے چمن میں مسلمانوں کی فصل درختوں کی شکل میں پیدا ہوتی رہے ۔ یہ لوگ اپنے وجود کو ایندھن کی طرح جلا کر ہدایت کی روشنی برقرار کھیں ۔ مگر بدقسمتی سے آج کا مسلمان اپنا مقصدِحیات بھول گیا ہے ۔اس نے اپنے وجود میں خواہشات اور تعصبات کی نمی کو اس طرح جذب کر لیا ہے کہ اب وہ خدا کے کام کے لیے ایک گیلی لکڑ ی بن چکا ہے ۔ اور ایسی لکڑ ی اول تو ایندھن کے طور پر استعمال ہونے کے قابل رہتی نہیں اور اگر کی بھی جائے تو اس سے آگ کے بجائے دھواں نکلتا ہے ۔
ایمان کی آگ ، عمل صالح کی حرارت اور اخلاقِ حسنہ کی روشنی صرف اس وجود سے پھوٹتی ہے جس نے مفادات، خواہشات اور تعصبات کی ہر نمی سے خود کو پاک کر لیا ہو۔ یہ پاک وجود دنیا میں رہتا اور اس سے استفادہ کرتا ہے ، مگر اسے اپنا مقصود نہیں بناتا۔ وہ خواہشات نفسانی کو اپنا معبود نہیں بناتا۔وہ حیوانی جذبات کو زندگی کا محور نہیں بناتا۔ وہ مادی لذات کو زندگی کا مرکز نہیں بناتا۔
ایسا بندۂ مومن دنیا کو سرائے سمجھ کر زندگی بسر کرتا ہے ۔دنیا کی رنگینیاں اسے اپنی جانب کھینچتی ہیں ، مگر وہ ان کے عارضی حسن کے لیے جنت کی ابدی بادشاہی کا نقصان اٹھانا گوارا نہیں کرتا۔ اس کے ہر لمحے ، پیسے اور صلاحیت کا بہترین مصرف یہ ہوتا ہے کہ اس سے جنت حاصل کی جائے ۔ایسا شخص تارک الدنیا تو نہیں ہوتا۔وہ شادی کرتا، گھر بناتا اور معاش کے لیے جدوجہد کرتا ہے ۔ مگر وہ جانتا ہے کہ اسے حدود میں جینا ہے ، ہوس میں نہیں ۔ ضرورت میں جینا ہے خواہش میں نہیں ۔اسے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا ہی اس کے امتحان کا پرچہ ہے ۔ یہ پرچہ اگر نہیں دیا تو آخرت کی کامیابی ممکن نہیں ہے ۔ مگر وہ جانتا ہے کہ بہرحال یہ دنیا کمرۂ امتحان ہے ، کمرۂ آرام نہیں ۔ یہی یقین اسے خد اکے کام کے لیے خشک لکڑ ی بنادیتا ہے ۔
دوسری طرف جو لوگ آخرت کو مقصودکے مقام سے ہٹادیں ، وہ جتنی بھی دینداری اختیار کر لیں ، ان کی دینداری سے آگ کے بجائے دھواں پیدا ہوتا ہے ۔وہ دھواں جس سے حرات پیدا ہوتی ہے نہ روشنی۔ یہ لوگ انفاق کرتے ہیں ، مگر ریا کاری کے ساتھ، یہ لوگ عبادت کرتے ہیں ، مگر غفلت کے ساتھ، یہ لوگ نصرت دین کے لیے اٹھتے ہیں ، مگر تعصبات کے ساتھ ۔ان کی تمام تر دینداری ان کی خواہشات اور جذبات کے تابع ہی ہوتی ہے ۔
ایسی گیلی لکڑ یاں دنیا میں ایندھن نہیں بن پاتیں ۔ البتہ قیامت کے دن وہ ضرور ایندھن بنیں گی، مگر یہ ایندھن جہنم کا ہو گا۔وہ جہنم جہاں انسان اور پتھر ایک ساتھ جلائے جائیں گے ۔

(Abu Yahya)

ہفتہ, اکتوبر 12, 2013

شیر کا بال


کسی گاوءں میں کوئی عورت رہتی تهی.. وہ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﻭﺍﻻ ﻋﺎﻣﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﮔﻨﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻮﯾﺬ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﺋﺶ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻋﻤﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻄﯿﻊ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺩﮮ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﻧﺎ ﭘﺎﺋﯽ ﮨﻮ۔ ﺑﻨﺪﮦ ﻋﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﺗﻌﻮﯾﺬ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﮭﺮﮮ ﮐﺮﺗﺎ، ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺍﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮨﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﺋﯽ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ، ﺗﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﯼ ﮨﻮﮔﯽ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﯾﮧ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ؟ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﻮﺷﯽ ﮨﺮ ﻗﯿﻤﺖ ﺩﯾﻨﮯ کﯿﻠﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮞ۔ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻝ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﻻ ﺩﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻋﻤﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ۔ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﺎ ﺑﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﻻ ﺩﻭﮞ؟ ﺟﻨﺎﺏ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺭﻭﭘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﯿﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻗﯿﻤﺖ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺗﻮﺁﭖ ﻋﻤﻞ ﻧﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ! ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺷﯿﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﻧﺨﻮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻭﺣﺸﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﺎﻝ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﭘﺎﺅﮞ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺑﯽ ﺑﯽ، ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﺎ ﺑﺎﻝ ﮨﯽ ﻻﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ اﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﻻﺅ ﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﻭﯾﺴﮯ ﺗﻮ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﭼﻠﯽ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻨﺪ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﺩﺍﻥ ﺳﮩﯿﻠﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﻠﺺ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺳﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﻮﺍﮐﺜﺮ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﮧ ﮐﺎﻡ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺷﯿﺮ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﯽ ﺧﻮﻧﺨﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﮨﻮ۔ ﺷﯿﺮ ﮐﻮ ﮐﮭﻼ ﭘﻼ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﺮ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻧﺼﯿﺤﺘﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻠﮯ ﺑﺎﻧﺪﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻥ ﻟﯽ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﺷﯿﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﮐﺮ ﺩﻭﺭ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺮ ﺁ ﮐﺮ ﯾﮧ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ۔ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻔﺖ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﮐﻢ ﮨﻮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﻭﮦ ﺩﻥ ﺁﻥ ﮨﯽ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺟﺐ ﺷﯿﺮ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮏ ﻭ ﺷﺒﮧ ﻧﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﭘﮭﯿﺮﺍ ﺗﻮ ﺷﯿﺮ ﻧﮯ ﻃﻤﺎﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﻮﻧﺪ ﻟﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻤﺤﮧ ﺗﮭﺎ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺁﮨﺴﺘﮕﯽ ﺳﮯ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻝ ﺗﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﯽ۔ ﺑﺎﻝ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻭﺵ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﻟﯽ، ﯾﮧ ﻟﯿﺠﯿﺌﮯ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﺎ ﺑﺎﻝ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺗﻮﮌﺍ ﮨﮯ۔ ﺍﺏ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﺎ ﻟﮕﺎﺋﯿﮯ۔ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﺎ ﺩﻝ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﯿﺖ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﭘﺎ ﺳﮑﻮﮞ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻧﺎ ﻣﻠﯽ ﮨﻮ۔ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﯾﮧ ﺑﺎﻝ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ؟ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺟﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻭﺵ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭽﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﻝ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺭﺿﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺷﯿﺮ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺟﯿﺘﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﺪﮮ ﺳﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﺲ ﺷﯿﺮ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺟﯿﺘﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﻮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺻﺒﺮ ﺁﺯﻣﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﻭﮦ ﺩﻥ ﺁ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺷﯿﺮ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺟﯿﺖ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﭘﺎﻧﺎ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﯼ؛ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺍﺱ ﺷﯿﺮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﺣﺸﯽ ، ﺍﺟﮉ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﯿﺴﺎ ﺳﻠﻮﮎ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ۔ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﺪﮮ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﮐﻮ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ، ﻣﮕﺮ ﺻﺒﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ، ﻭﯾﺴﺎ ﺻﺒﺮ ﺟﯿﺴﺎ ﺷﯿﺮ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﺣﻠﮯ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔

جمعہ, اکتوبر 11, 2013

دلیل کی اہمیت


آپ کے ذہن میں کوئی ایسی دلیل آجائے جو بہت طاقت ور ہو اور اس سے اندیشہ ہو کہ اگر میں یہ دلیل دوں گا تو سامنے والا بندی شرمندہ ہو جائے گا، کیونکہ اس کے پاس اس دلیل کی کوئی کاٹ نہیں ہو گی۔۔۔ شطرنج کی ایسی چال میرے پاس آگئی ہے کہ اس بات کا جواب نہیں دے سکے گا۔۔ اس موقع پر بزرگ کہتے ہیں

اپنی دلیل روک لو
بندہ بچالو
اسے ذبح نہ ہونے دو
 کیونکہ وہ زیادہ قیمتی ہے

اشفاق احمد

بدھ, اکتوبر 09, 2013

علم کے راستے


علم کے بے شمار راستے ہیں!
یہ راستے کہاں سے شروع ہوئے ؟یہ حقیقت ہمارے علم کی دسترس میں ہے !
لیکن راستے کہاں ختم ہوتے ہیں ؟
کوئی نہیں جانتا

خلیل جبران

اتوار, اکتوبر 06, 2013

ایمان، حج اور جہاد



ذوالحجہ کا مہینہ حج کا مہینہ ہے۔ یہ عظیم عبادت جو اسلام کے بنیادی اراکین میں سے ایک رکن ہے، زندگی میں ہر صاحب استطاعت مسلمان پر ایک دفعہ فرض ہے۔ امام بخاری اپنے صحیح کی کتاب الایمان میں ایک روایت لائے ہیں جو اس بات کا بہترین بیان ہے کہ دین اسلام میں حج کی کیا اہمیت ہے:

’’حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل افضل ہے۔ فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان۔ کہا پھر کون سا عمل؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد۔ پھر پوچھا گیا پھر اس کے بعد تو فرمایا: حج مبرور۔‘‘ ، (بخاری، رقم:26)

یہ حج مبرور کیا ہے؟ اس کو ایک دوسری روایت میں اس طرح واضح کیا گیا ہے:

’’جو شخص اللہ کے لیے حج کرے، پھر اُس میں کوئی شہوت یا نافرمانی کی بات نہ کرے تو وہ حج سے اِس طرح لوٹتا ہے، جس طرح اُس کی ماں نے اُسے آج جنا ہے۔‘‘ ، (بخاری ، رقم:1819)

اس حج مبرور کا بدلہ ایک روایت میں اس طرح بیان ہوا ہے۔

’’عمرے کے بعد عمرہ اِن کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ ہے اور سچے حج (حج مبرور) کا بدلہ تو صرف جنت ہی ہے۔‘‘ (بخاری ،رقم:1773)

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے حج دین ابراہیمی کی سب سے جامع عبادت ہے جسے تمام عبادات کا منتہائے کمال کہنا کوئی مبالغہ نہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کوئی عالم ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہر وہ شخص جس نے زندگی میں یہ سعادت حاصل کر رکھی ہو وہ اپنے تجربے سے اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بندہ مومن صرف اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کے طریقے پر اپنی جان پر دکھ جھیلتا، مال کو خرچ کرتا، گھر، وطن اور رشتے ناطوں کی دوری سہتا، احرام کی سخت پابندیاں خود پر لگاتا ہوا صرف اللہ کی رضا کے لیے اس کے گھر پر حاضر ہوتا اور مناسک حج ادا کرتا ہے۔ یہی وہ قربانی ہے جو ایمان اور جہاد کے بعد حج مبرور کو سب سے بڑا عمل بنادیتی ہے۔

تاہم ان سب کے ساتھ حج کو حج بنانے والی چیز یہ حقیقت ہے کہ حج دراصل جہاد کی تمثیل ہے۔ یہ اس جنگ کی تمثیل ہے جس کا اعلان روز ازل شیطان نے یہ کہہ کر کیا تھا کہ لاغوینھم اجمعین یعنی میں ان سب کو گمراہ کرکے دم لوں گا۔اس اعلان کے ساتھ ہی شیطان اور ذریت شیطان کی آدم اور اولاد آدم کے ساتھ ختم نہ ہونے والی جنگ شروع ہوگئی۔ بدقسمتی سے ہر دور میں انسانوں کی اکثریت اس جنگ میں اپنے باپ آدم علیہ السلام کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے شیطان کے ساتھ جاکر کھڑی ہوجاتی ہے اور اس کی طرف سے جنگ شروع کردیتی ہے۔ ایسے میں ایمان کا قلادہ گلے میں ڈالے اور اطاعت کا عہد کیے ہوئے سچے مسلمان خدا کی طرف جنگ کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ خواہشات کے تیروں اور شہوات کے شیطانی نیزوں کا مقابلہ صبر کی آہنی ڈھال سے اور تعصبات کی ہر فصیل کو حق پرستی اور سچائی کی تلوار سے فتح کرلیتے ہیں۔ حج ایسے ہی لوگوں کے لیے گویا ایک تربیتی کورس ہے۔



یہ مومن ابراہیمی صدا پر لبیک کہتے اور دنیوی زیب و زینت اور لطافت کو ترک کرکے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا پہلا پڑاؤ منیٰ کے فوجی کیمپ میں ہوتا ہے۔ پھر عرفات میں امام کے خطے کی شکل میں لشکر کشی سے پہلے وعظ و نصیحت اور اللہ سے دعا و زاری کا اہتمام ہوتا ہے۔ سفر جہاد کی تمثیل میں نمازیں جمع وقصر کرتے ہوئے یہ لشکر مزدلفہ پہنچتا ہے۔ اور صبح دم اپنے رب کو یاد کرتا ہوا غنیم پر جا پڑتا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جسے مناسک حج کی اصطلاح میں رمی جمار یا شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل کہتے ہیں۔ اس پہلے حملے کے ساتھ ہی قربانی دے کر خود کو رب کی راہ میں قربان کردینے کا عزم کرتے، سرمنڈوا کر اس کا شرف غلامی حاصل کرتے اور اس کے گھر کا طواف کرکے اس کو مرکز زندگی بنا کر اپنی زندگی گزارنے کا عزم کرتے ہیں۔

پہلے دن صرف پہلے بڑے شیطان پر اور اگلے دو یا تین دن تک تینوں شیطانوں پر یہ مومنانہ سنگ باری حملے جاری رہتے ہیں۔ یہ تین شیطان بھی دراصل ان تین چیزوں کی علامت ہیں جہاں سے انسان سب سے زیادہ گمراہ کیا جاتا ہے۔ پہلا ابلیس اور اس کی ذریت۔ یہ سب سے بڑی شیطانی قوت ہے۔ دوسری انسان کا اپنا نفس جو اگر خود پر غالب آجائے تو شیطان کا سب سے بڑا ساتھی بن جاتا ہے۔ تیسرا انسان کا ماحول اور اس میں پائی جانے والی شیطانی ترغیبات۔ یہی وہ تین مقامات ہیں جہاں انسان کو زندگی بھر شیطانی وسوسہ انگیزیوں کے خلاف لڑتے رہنا ہوتا ہے۔ اس سنگ باری کے بعد یہ مجاہد اس عزم کے ساتھ گھروں کو لوٹتے ہیں کہ زندگی بندگی میں گزرے گی اور شیطان کا ازلی چیلنج پورا نہیں ہوگا کہ خدا بندے کو شکر گزار نہیں پائے گا۔

بدقسمتی سے دور حاضر میں لوگ بڑی تعداد میں حج کرنے تو جاتے ہیں، مگر انہیں حج کی یہ حقیقی اسپرٹ نہیں بتائی جاتی۔ چنانچہ وہ اسے مناسک کا ایک مجموعہ سمجھ لیتے ہیں جسے برے بھلے طریقے پر ادا کردیا جاتا ہے۔ بلاشبہ مالی اور بدنی طور پر قربانی دے کر جب حج کیا جائے تو اس کا اپنی جگہ بڑا اجر ہے، مگر جب لوگ اسپرٹ سے واقف نہیں ہوتے تو پھر ان کی زندگی میں وہ حقیقی اسپرٹ پیدا نہیں ہوتی۔ وہ اکثر اوقات اسے گناہ بخشوانے کا ایک سفر سمجھتے ہیں اور واپس آکر وہی شیطان کی پیروی کی زندگی گزارنے لگتے ہیں جیسی وہ پہلے گزار رہے تھے۔

لیکن اسپرٹ اگر بار بار دہرائی جائے تو انسان کا حج صرف ایک سفر نہیں رہتا بلکہ یہ زندگی کا ایک نیا آغاز بن جاتا ہے۔ وہ آغاز جس کی آج ہمارے معاشرے کو سب سے بڑھ کر ضرورت ہے۔
 
ابو یحییٰ

چھوٹی سی بات


ایک صاحب اپنے ٧ یا ٨ سالہ بچے کو موٹر بائیک کے آگے بیٹھا کر تیزی سے سڑک کا موڑ کاٹتا ہے کہ یکا یک سامنے سے ایک گاڑی والا آجاتا ہے ۔۔ موٹر سائیکل والا بہت تیز تھا لیکن گاڑی والے نے بہت ہمت کر کے اپنی گاڑی کو بریک لگائی ، پھر بھی اس ایمرجنسی بریک میں بائیک والے کی ایک ٹانگ پر ہلکی سی خراش آئی اور وہ گرتے گرتے بال بال بچا ، ١٠ قدم پر جاکر اُس نے بائیک روک لی بچے کو وہیں بیٹھا رہنے دیا ) جو قدرے خوف ذدہ ہو گیا تھا ، اور نہیں چاہتا تھا کہ اُس کا والد اُسے چھوڑ کر جائے ( ۔۔ بائیک والے نے آتے ہی گاڑی والے کے گریبان کو پکڑ کر اُسے گاڑی سے باہر نکالا ،، اور اُسے گالی گلوچ کرنے لگ گیا ۔۔۔۔ گاڑی والا جو بہت دھیما بھلا مانس انسان لگ رہا تھا ، اُس بائیک والے سے کہنے لگا ۔۔““ غلطی تمہاری ہے ، تمہیں موڑ کاٹتے ہوئے بائیک کو آہستہ کرنا چاہے تھا ،، پھر بھی میں تم سے اُلجھنا نہیں چاہتا ۔۔
لیکن بائیک والا اُس سے لڑنے پر بضد تھا ۔۔۔ آخر کار گاڑی والے نے معاملہ ختم کرنے کے لئے وہ جملہ کہا جس نے معاشرتی اقدار میں پلتی ہماری نئی نسلوں کے زہنوں کا احاطہ کیا ہواہے ۔۔

““ دیکھو تمہارا بچہ تمہیں بڑے معصوم انداز سے دیکھ رہا ہے ۔۔ تم مجھ سے الجھو گے تو بات ہاتھا پائی تک پہنچے گی ، میں اکیلا ہوں مجھے میرا کوئی نہیں دیکھ رہا ، لیکن تمہارے ساتھ تمہارا بچہ ہے اگر اُس نے آج تمہیں مجھ سے مارکھاتا دیکھ لیا تو اُس کے دل میں تمہارے لئے ““ہیرو “ کا کردار ختم ہو جائے گا ۔۔

اُس کی سوچ کہ تم اُس زندگی میں سب سے بڑا سہارا ہو ختم ہو جائے گی ، جو اس کے بچپن کے لئے انتہائی خطرناک ہے ۔۔۔““

بائیک والے کی آنکھیں نم ہوگئیں ۔ اُس نے گاڑی والے کے کپڑے جھاڑتے ہوئے معافی مانگی اور واپس بائک پر آکر اپنے بچے کو پیار کرنے لگا ““ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ““

اس دانشمندی سے اُس بائیک والے نے بچے کے دل میں ““ ہیرو ““ کو مرنے نہیں دیا ۔

پر آج کیا ایسا ہوتا ہے ؟؟ ہم اپنے بچوں کے سامنے گالم گلوچ کرنے سے باز نہیں آتے پھر چاہے ٹی وی پر پروگرام دیکھتے ہوۓ سیاستدانوں کو گالیاں دینا ہو یا باہر گلی محلے میں کسی کو گالی دینا ہو . کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے یہ سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے کہ ہمارے رویوں کا معصوم بچوں پر کیا اثر پڑتا ہے کیا وجہ ہے کہ ایک ١٢ سالہ بچہ اپنے ١٣ سالہ دوست کا قتل کردیتا ہے اتنی جنونیت کیوں ؟؟ اگر ١٢ سالہ بچہ قتل کرتا ہے تو قصوروار وہ بچا نہیں اسکے والدین ہیں . کل طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو اسپتال میں ہی رہا وہاں بھی انسانوں کے ایسے ہی رویے دیکھے کہ جب تکلیف برداشت سے باہر ہوتی تو منہ سے اول فول نکالنے لگ جاتے تھے . تمام والدین سے گزارش ہے کہ کم سے کم اپنے بچوں کے سامنے اپنے رویوں کا منفی پہلو چھپائیں ورنہ آپ تو زندگی گزار چکے جوانی بتا چکے پر آپکے بچوں کی جوانیاں انہیں جنونی بنا دیں گی برداشت نہ کرنے والا تشدد پسند ... خدارا ان معصوموں کا خیال رکھئیے انکی اچھی تربیت کریں اگر ایسا کیا تو یہی آپکے لئے صدقہ جاریہ بننے ہیں اک دن ...

ہفتہ, اکتوبر 05, 2013

جمعہ, اکتوبر 04, 2013

یہ دنیا۔۔ وہ دنیا



یہ دنیا۔۔وہ دنیا

ابو یحییٰ


اس مادی دنیا میں ہمارا ہر عمل ایک نتیجہ تخلیق کرتا ہے۔ ہم چلیں گے تو آگے بڑھیں گے۔ بوئیں گے تو کاٹیں گے۔ کھائیں گے تو سیر ہوں گے۔ پئیں گے تو پیاس بجھے گی۔ بولیں گے تو سنے جائیں گے۔ محنت کریں گے تو اسباب دنیا جمع کرتے چلے جائیں گے۔

مگر اس دنیا میں ایمانی عمل کوئی مادی نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ بلکہ بعض اوقات الٹا نتیجہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک بندہ مومن اس طرح تڑپ کر خالق ارض و سما کی حمد کرتا ہے کہ پہاڑ و پرند اس کے ساتھ حمد کرنے لگتے ہیں، مگر وہ گھر سے بے گھر اور وطن سے بے وطن کردیا جاتا ہے۔ ایک دیانت دار شخص کرپشن کی دلدل میں گھرے ہوکر بھی خود کو آلودہ نہیں کرتا، مگر اس کی ایمانداری اس کے لیے قیمتی پلاٹ اور عالیشان گھر نہیں تخلیق کردیتی۔ ایک باحیا لڑکی اپنی شرافت کا بھرم رکھتی ہے، مگر حسن پرستی کے اس دور میں اپنا گھر اس کے لیے خواب و خیال ہوجاتا ہے۔

وہ قدریں جن کے بغیر انسانیت شرف انسانیت سے محروم ہوجائے گی وہ اس مادی دنیا میں آخری درجے میں غیر موثر ہیں۔ اس سے زیادہ حوصلہ پست کر دینے والی کوئی حقیقت اس مادی دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ ایسے میں خدا کی کتاب ہے جو یہ بتاتی ہے کہ یہ مادی دنیا ایک روز کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی اور ہر مادی عمل فنا ہوجائے گا۔

پھر ایک نئی دنیا تخلیق ہوگی۔ اس دنیا میں خدا کی محبت اور خوف میں بہنے والا ہر آنسوں ستاروں اور کہکشاؤں کی بادشاہی تخلیق کردے گا۔ فحش کو دیکھ کر جھک جانے والی نگاہ حسن کے جلووں کی ابدی تماشائی بنادی جائے گی۔ اپنی نسوانیت کو مجمع میں ابھارنے کے بجائے چھپانے والی حیا جمال و کمال کے آخری قالب میں ڈھال دی جائے گی۔ ایمان، رحم، انفاق، صبر اس روز وہ چیک بکس بن جائیں گے جن سے جنت کا ہر محل اور ہر نعمت خریدی جاسکے گی۔

یہ مادی دنیا اور اس کا ہر عمل فانی ہے۔ وہ ایمانی دنیا ابدی ہے۔ اس کی ہرنعمت لازوال ہے۔

جمعرات, اکتوبر 03, 2013

عمر کی سیڑھیاں




ہاں، سنو دوستو
جو بھی دنیا کہے
اس کو پرکھے بِنا، مان لینا نہیں
ساری دنیا یہ کہتی ہے
پربت پہ چڑھنے کی نِسبت اترنا بہت سہل ہے
کس طرح مان لیں
تم نے دیکھا نہیں
سرفرازی کی دھن میں کوئی آدمی
جب بلندی کے رستے پہ چلتا ہے تو
سانس تک ٹھیک کرنے کو رکتا نہیں
اور اسی شخص کا
عمرکی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے
پاؤں اٹھتا نہیں
اس لیے دوستو، جو بھی دنیا کہے
اس کو پرکھے بنا، مان لینا نہیں
ساری دنیا یہ کہتی ہے
اصل سفر تو مسافر کی آنکھ میں پھیلا ہوا خواب ہے
کس طرح مان لیں
تم نے دیکھا نہیں
عمر کےاس سرابِ اجل خیز میں
خواب تو خواب ہیں
ہم کھلی آنکھوں سے جو بھی کچھ دیکھتے ہیں
وہ ہوتا نہیں
راستےکے لیے
(راستےکی طرح)
آدمی اپنے خوابوں کو بھی کاٹ دیتے ہیں لیکن
سلگتا ہوا راستہ
پھر بھی کٹتا نہیں
اس لیے دوستو
جوبھی دنیا کہے
اس کو پرکھے بنا، مان لینا نہیں
 
امجد اسلام امجد

خود فریبی


آئینہ پھیلا رہا ہے خود فریبی کا یہ مرض
ہر کسی سے کہہ رہا ہے. آپ سا کوئی نہیں!

------------------------------------

Aaina Phela Raha Hia Khud Farebi Ka Yeh Marz
Har Kisi Se Keh Raha Hai, Ap sa Koi Nahi

عقل اور نصیب



٭ عقل اور نصیب ٭

کہتے ہیں ﮐﺴﯽ جگہ دو ﺷﺨﺺ رہتے ﺗﮭﮯ ،
اﯾﮏ ﮐﺎ ﻧﺎم “ ﻋﻘﻞ ” ﺗﮭﺎ اور دوﺳﺮے ﮐﺎ ﻧﺎم “ ﻧﺼﯿﺐ ”

ایک دفعہ وﮦ دوﻧﻮں ﮐﺎر ﻣﯿﮟ ﺳﻮار ہو ﮐﺮ اﯾﮏ ﻟﻤﺒﮯ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﮯ ،
آدﮬﮯ راﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺴﺎن راﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺎر ﮐﺎ ﭘﯿﭩﺮول ﺧﺘﻢ ہو ﮔﯿﺎ ،
دوﻧﻮں ﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ کہ ﮐﺴﯽ ﻃﺮح رات گہری ہونے سے پہلے پہلے وہاں ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ،
ﻣﮕﺮ اﺗﻨﺎ ﭘﯿﺪل ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ بہتر یہ جانا کہ ادھر ہی وقت گزار لیں ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺪدﮔﺎر نہیں آ ﺟﺎﺗﺎ۔
ﻋﻘﻞ ﻧﮯ فیصلہ ﮐﯿﺎ کہ وﮦ ﺳﮍک ﮐﮯ ﮐﻨﺎرے ﻟﮕﮯ ہوئے درﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺳﻮﺋﮯ ﮔﺎ
ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮯ فیصلہ ﮐﯿﺎ کہ وﮦ ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ہی ﺳﻮﺋﮯ ﮔﺎ۔

ﻋﻘﻞ ﻧﮯ ﻧﺼﯿﺐ ﺳﮯ کہا ﺑﮭﯽ کہ ﺗﻮ ﭘﺎﮔﻞ ہو ﮔﯿﺎ ہے ﮐﯿﺎ ؟
ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ اﭘﻨﮯ آپ ﮐﻮ ﻣﻮت ﮐﮯ منہ ﻣﯿﮟ ڈاﻟﻨﺎ ہے۔

ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮯ کہا: نہیں ۔ ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﻣﻔﯿﺪ ہے ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺟﮕﺎ ﮐﺮ یہاں ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﮔﺎ اور ہماری ﻣﺪد ﮐﺮے ﮔﺎ۔
اور اس ﻃﺮح ﻋﻘﻞ درﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ اور ﻧﺼﯿﺐ ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ہی ﭘﮍ ﮐﺮ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ۔

ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ اﯾﮏ ﺑﮍے ﺗﯿﺰ رﻓﺘﺎر ﭨﺮک ﮐﺎ ادﮬﺮ ﺳﮯ ﮔﺰر ہوا۔
ﺟﺐ ﭨﺮک ڈراﺋﯿﻮر ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﭘﮍی کہ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮍک ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮں ﺑﯿﭻ ﭘﮍا ﺳﻮ رہا ہے
ﺗﻮ اس ﻧﮯ روﮐﻨﮯ ﮐﯽ بہت ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ، ﭨﺮک ﻧﺼﯿﺐ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﺗﮯ ﺑﭽﺎﺗﮯ ﻣﮍ ﮐﺮ درﺧﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭨﮑﺮاﯾﺎ، درﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﻮﯾﺎ ہوا ﺑﯿﭽﺎرﮦ ﻋﻘﻞ ﮐﭽﻞ ﮐﺮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ اور ﻧﺼﯿﺐ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﺤﻔﻮظ رہا۔

سبق :

ﺷﺎﯾﺪ ﺣﻘﯿﻘﯽ زﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ اﯾﺴﺎ ہی ہوتا ہے ﻧﺼﯿﺐ ﻟﻮﮔﻮں ﮐﻮ کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے حالانکہ ان ﮐﮯ ﮐﺎم ﻋﻘﻞ ﺳﮯ نہیں ہو رہے ہوتے ، یہی انکی تقدیر ہوتی ہے !

ﺑﻌﺾ اوﻗﺎت ﺳﻔﺮ ﺳﮯ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮐﺴﯽ اﭼﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ہے ۔
ﺷﺎدی ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ہے ۔
اوﻻد نہیں ہو رہی ، اس ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻣﺼﻠﺤﺖ ہوا ﮐﺮﺗﯽ ہے ۔
ﻧﻮﮐﺮی ﺳﮯ ﻧﮑﺎل دﯾﺎ ﺟﺎﻧﺎ اﯾﮏ ﺑﺎﺑﺮﮐﺖ ﮐﺎروﺑﺎر ﮐﯽ اﺑﺘﺪا ﺑﻦ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ہے ۔"
مایوس مت ہوا کرو !
حوصلہ مت ہارا کرو !

ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمھارے لئے ناگوار ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو !
اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو !
الله بہتر جانتا ہے ، تم نہیں جانتے !

بدھ, اکتوبر 02, 2013

رکاوٹ



ﺭﮐﺎﻭﭦ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﯾﮧ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻓﻄﺮﺕ ﮨﮯ ﺻﺎﺣﺒﻮ ۔ ﺭﮐﺎﻭﭨﯿﮟ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺭﺣﻤﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺭﮐﺎﻭﭨﯿﮟ
ﺣﺮﮐﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﻦ ﮐﮯ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ
ﻣﯿﮟ ﺭﮐﺎﻭﭨﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔
ﺑﮍﯼ ﺭﮐﺎﻭﭨﯿﮟ ﮐﮭﮍﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﭼﮭﻮﭨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔
Revolt ﻧﮧ ﮨﻮ ، ﺣﺮﮐﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺍﻭر ﺣﺮﮐﺖ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ،
ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔

ایموشنل اکاؤنٹ




اکثر اوقات ہم لوگ اپنے رشتے داروں یا بہن بھائیوں کے اتنے نزدیک نہیں ہوتے جتنے ہم اپنے دوستوں کے نزدیک ہوتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں سے ہر بات شئیر کرتے ہیں حتٰی کے انتہائی سیکرٹ چیزیں بھی شئیر کر لیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ جو بات ہم اپنے دوستوں سے شئیر کرتے ہیں اپنے ماں باپ سے نہیں شئیر کر سکتے؟ کیا جنریشن گیپ سچ میں حقیقت ہے؟ کیا واقعی میں ہم اپنی نسلوں کے درمیان فاصلہ بڑھا رہے ہیں؟

ہم سب جانتے ہیں بینک اکاؤنٹ کیا ہوتے ہیں۔ کیسے کھلوائے جاتے ہیں اور ان میں پیسے کیسے جمع کروائے جاتے ہیں اور کیسے نکلوائے جاتے ہیں۔ اگر میں اپنے بینک اکاؤنٹ میں کافی پیسے جمع کروا کر رکھے ہیں تو مجھے کسی قسم کا خوف نہیں ہو گا میں جانتا ہوں گا کہ میں اپنی کسی بھی غلطی کا مداوا کرنے کے قابل ہوں۔ اور اگر میرے اکاؤنٹ میں رقم نہ ہونے کے برابر ہے یا میں قرضے پر چل رہا ہوں تو مجھے بےحد سوچ سمجھ کر چلنا ہو گا۔ کیونکہ ایسی صورت میں میرے پاس کسی قسم کی غلطی یا لچک کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔

انسان بھی اسی قسم کے لین دین پر چل رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ اکاؤنٹ ایموشنل اکاؤنٹ کہلاتا ہے۔ اگر میں وعدوں کی پاسداری، صداقت (آہم آہم) ایمانداری، خوش اخلاقی اور خوش دلی جمع کرواتا رہوں تو کچھ ہی عرصے میں میرے ایموشنل اکاؤنٹ میں کافی سرمایہ جمع ہو جائے گا۔ لوگوں کا میرے پر اعتماد بڑھ جائے گا۔ میں اس اعتماد کا فائدہ بھی اٹھا سکوں گا۔ میں کئی قسم کے تجربات یا غلطیاں کر سکوں گا۔ مگر میرے پر جو آپکا اعتماد ہو گا وہ میری غلطیوں کا مداوا کرے گا۔

لیکن اگر میں آپ سے بدتمیزی کروں۔ بد اخلاقی سے پیش آؤ۔ غیر ضروری طور پر غصہ دکھاؤں۔ آپ کو نظر انداز کرو۔ آپ کو ڈراؤں دھمکاؤں۔ تو پھر یقینی طور پر میرے ایموشنل اکاؤنٹ میں اعتماد کا لیول بہت کم ہو جائے گا اور میں قرض پر چل رہا ہوں گا اور یقینن میرے پاس غلطی کرنے یا لچک کی گنجائش بالکل نیہں رہ جائے گی۔ مجھے اپنی کہی ہوئی ہر بات کے بارے میں بہت محتاط رہنا پڑے گا۔ میں ہر وقت ذہنی دباؤ کا شکار رہوں گا۔

اگر اعتماد کا ایک خاص لیول اپنے اکاؤنٹ میں نہ جمع رکھا جائے تو پھر گھر تباہ ہو جاتے ہیں۔ بغیر جانے ہی ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جس میں ہر فریق اپنے اپنے اسٹائل کے مطابق زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کو برائے نام عزت دیتے ہیں۔ تعلقات خراب ہو کر لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتے ہیں۔ بدزبانی کی جاتی ہے دروازے بند کئے جاتے ہیں۔ جذباتی لا تعلقی پیدا ہو جاتی ہے اور آخر میں خود پر رحم کھایا جاتا ہے۔

بعض اوقات آپ کا کوئی بھی رشتہ دار کوئی اہم فیصلہ کم عمری کے باعث غلط کرنے جا رہا ہوتا ہے مگر چونکہ اعتماد کا لیول تباہ ہو چکا ہوتا ہے۔ بات چیت بند ہو چکی ہوتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس فیصلہ کا نتیجہ بے حد بھیانک نکلے۔

اس قسم کی بے حد نازک صورتحال کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ میں ایموشنل رقم موجود ہو۔

آپ کسی بھی انسان کے اکاؤنٹ میں جو سب سے اہم چیز جمع کروا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ آپ اسے غور سے سنیں۔ بغیر اپنی رائے دیے بغیر کسی قسم کی نصیحت کئیے۔ اور بغیر اپنی مثال دئیے۔ ٓصرف اور صرف اسے توجہ سے سنیں اور اسکو احساس دلائیں کہ آپ اسکو ایک مکمل انسان سمجھتے ہیں اسکے خیالات کو اسی طرح اہمیت دیتے ہیں اور انکی قدر کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات اس کے بارے میں فکر مند ہیں۔

یاد رکھئیے ایک پھول کے لئے پودا کبھی جڑ سمیت نہیں کھینچا جاتا۔
 
Source: http://bdtmzih.wordpress.com/2005/08/18/%D8%A7%DB%8C%D9%85%D9%88%D8%B4%D9%86%D9%84-%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%88%D9%94%D9%86%D9%B9/

منگل, اکتوبر 01, 2013

ذندگی کی ضرورت



لوگ کہتے ہیں زندگی میں یہ ضروری ہے اور وہ ضروری ہے , میں تمہیں
بتاؤں زندگی میں کچھہ بھی ضروری نہیں ہوتا نہ مال، نہ اولاد، نہ رتبہ، نہ لوگوں کی محبت, بس آپ ہونے چاہییں اور آپ کا الله سے ہر پل بڑھتا تعلق ہونا چاہئے . باقی یہ مسلے تو کسی بادل کی طرح ہوتے ہیں.

جہاز کی کھڑکی سے کبھی نیچے تیرتا کوئی بادل دیکھا ہے؟ اوپر سے دیکھو تو وہ کتنا بے ضرر لگتا ہے مگر جو اس بادل تلے کھڑا ہوتا ہے نا. اس کا پورا آسمان بادل ڈھانپ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ روشنی ختم ہوگئی، اور دنیا تاریک ہوگئی.

غم بھی ایسے ہوتے ہیں جب زندگی پہ چھا جاتے ہیں تو سب تاریک لگتا ہے لیکن اگر تم اس زمین سے اوپر اٹھہ کر آسمانوں سے پورا منظر دیکھو تو تم جانوگی کہ یہ تو ایک ننھا سا ٹکڑا ہے جو ابھی ہٹ جائے گا, اگر یہ سیاہ بادل زندگی پہ نہ چھائیں نا تو ہماری زندگی میں کبھی رحمت کی بارش نہ ہو.!

جنت کے پتے _____ نمرہ احمد

محرومی کی نعمت


محرومی کی نعمت
ابویحییٰ


انسانوں کی دنیامیں محرومی سے بڑ ی کوئی آفت نہیں اور خدا کی دنیا میں محرومی سے بڑ ی کوئی نعمت نہیں ۔یہ بات پڑ ھنے والوں کو شائد ایک مذاق لگے ، مگربلاشبہ یہ سب سے بڑ ی حقیقت ہے ۔

انسانی دنیامیں محرومی کو کوئی پسند نہیں کرتا۔ اس لیے کہ محرومی کا مطلب دکھ، تکلیف، مایوسی، معذوری، بدحالی اور دوسروں سے پیچھے رہ جانا ہوتا ہے ۔تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ محرومی اس دنیا میں ناگزیرطور پر پائی جاتی ہے ۔ ہر شخص زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر محرومی سے گزرتا ہے ۔ چھوٹی اور بڑ ی، عارضی اور مستقل، اپنی اور دوسروں کی محرومی۔زندگی گویا کہ محرومی کی داستان سے عبارت ہے ۔لوگ مال سے ، طاقت سے ، صحت سے ، تحفظ سے اور متعدد دیگر چیزوں سے محروم ہو سکتے ہیں ۔ بلکہ سچی بات یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان جتنی خواہشات کرسکتا ہے اتنی ہی محرومی کی قسمیں گنوائی جا سکتی ہیں ۔
یہ محرومی انسانوں کو بدقسمتی لگتی ہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان چاہے تو اس محرومی کو دنیا کی عظیم ترین طاقت میں تبدیل کر لے ۔دراصل اس دنیا میں انسان کوسب کچھ رب کی عطا ہی سے ملتا ہے ۔ایسے میں کوئی بندہ اگر ابر کرم کی اس برسات میں محروم رہ جائے تو اس پر ایک عظیم ترین دروازہ کھل جاتا ہے ۔ یہ دروازہ خدا تک براہِ راست رسائی کا دروازہ ہے ۔یہ پروردگار کے قرب کا دروازہ ہے ۔ یہ دروازہ بڑ ی سے بڑ ی عبادت، انفاق حتیٰ کہ شہادت کے بعد بھی کھلوانا آسان نہیں ۔ اس لیے کہ ہر عمل کو احتساب کے خدائی آپریشن سے گزرنا ہو گا جس میں نیت، خلوص اور محرکات کو پرکھا جائے گا۔

لیکن محروم آدمی صرف اپنی محرومی کی وجہ سے اس آپریشن سے نہیں گزارا جائے گا۔ اس کی محرومی اور اس کا صبر ہر قربانی کا نعم البدل بن جائے گا۔اس کے گنا ہوں کے لیے مغفرت کا پروانہ ہو گا اور نعمتیں دیتے وقت رحمت کے لا محدود پیمانے سے اسے دیا جا ئے گا۔

محرومی خدا کی قربت کا راز ہے ۔وہ خدا جس کے ہاتھ میں آسمان اور زمین کے خزانے اور ان کی بادشاہی ہے ۔ جس شخص نے اس راز کو جان لیا اس کی محرومی اس کی عظیم ترین راحت بن جائے گی۔