اشاعتیں

October, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جنت کے پتے

تصویر
"آپ جنت کے پتے کسے کہتے ہیں؟"

احمد نے گہری سانس لی اور کہنے لگا۔

"آپ جانتی ہیں، جب آدم علیہ السلام اور حوا جنت میں رہا کرتے تھے، اس جنت میں، جہاں نہ بھوک تھی، نہ پیاس، نہ دھوپ اور نہ ہی برہنگی۔ تب اللہ نے انہیں ایک ترغیب دلاتے درخت کے قریب جانے سے روکا تھا، تاکہ وہ دونوں مصیبت میں نہ پڑ جائیں۔"

وہ سانس لینے کو رُکا۔

"اس وقت شیطان نے ان دونوں کو ترغیب دلائی کہ اگر وہ اس ہمیشگی کے درخت کو چھو لیں تو فرشتے بن جائیں گے۔ انہیں کبھی نہ پرانی ہونے والی بادشاہت ملے گی۔ سو انہوں نے درخت کو چکھ لیا۔ حد پار کر لی . . . تو ان کو فوراً بے لباس کر دیا گیا۔ اس پہلی رسوائی میں وہ سب سے پہلی شے جس سے انسان نے خود کو ڈھکا تھا، وہ جنت کے پتے تھے، ورق الجنتہ۔"

"آپ جانتی ہیں، ابلیس نے انسان کو کس شے کی ترغیب دلا کر اللہ کی حد پار کروائی تھی؟ فرشتہ بننے کی اور ہمیشہ رہنے کی۔ جانتی ہیں حیا! فرشتے کیسے ہوتے ہیں؟"

اس نے نفی میں گردن ہلائی ، گو کہ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتا۔

"فرشتے خوب صورت ہوتے ہیں۔" وہ لمحے بھر کو رُکا۔ "اور ہمیشہ ک…

آج کی بات 25 اکتوبر 2013

تصویر
برے لوگوں کو بھول کر اچھے لوگوں کی تلاش سے کہیں بہتر ہے کہ ہم لوگوں کی بُری باتیں بھول جائیں اور اُنکی اچھی باتوں کو تلاش کریں

جانے کیوں؟

تصویر
جانے كيوں ہم نے اپنے دِلوں ميں اِتنے سہم پال ركھے ہيں كہ كوئى خوشى پا ليں تو مُسكراتے تک مُنہ چھپا كر ہيں-

جانے كيوں ہم يہ سوچتے ہيں كہ ہمارے آس پاس انسان نہيں كوئى شكرے منڈلاتے پھرتے ہيں۔
جو اگر ہمارے دامن ميں خوشى يا لبوں پر ہنسى ديكھيں گے تو جھپٹ كر لے اُڑيں گے-

جانے اپنى خوشى كو دوسروں كے ساتھ بانٹ كر بڑھانے كى روایت كو كہاں ركھ كر بُھول گئے ہم؟

آج کی بات 24 اکتوبر 2013

تصویر
انسان کی خواہشیں جب تک اس کے وجود اور اس کی عمر سے لمبی رہتی ہیں۔ یہ اس وقت تک انسان رہتا ہے‘ تم اپنی خواہشوں کو اپنی عمر اور اپنے وجودسے چھوٹا کر لو‘ تم خوشی بھی پا جائو گے اور سکون بھی۔

انسان سے بندہ بننے کا نسخہ

تصویر
------- انسان سے بندہ بننے کا نسخہ ---------
انسان سے بندہ بننے کا نسخہ بہت آسان ہے ۔بس کرنا کچھ ایسے ہے کہ جو مل جائے اس پر شکر کر لو۔۔۔جو چھن جائے اس پر افسوس نہ کرو۔۔۔۔۔جو مانگ لے اسے دے دو ۔۔۔۔۔۔جو بھول جائے اسے بھول جاؤ ۔۔۔۔دنیا میں خالی ہاتھ آئے تھے خالی ہی جانا ہے ۔۔۔۔۔۔بس جتنی ضرورت ہو اتنا ہی رکھو۔۔۔۔۔۔۔۔ ہجوم سے پرہیز کرو ،تنہائی کو ساتھ بناؤ۔۔۔۔ مفتی ہو تب بھی فتویٰ جاری نہ کرو۔۔۔۔جسے خدا نے ڈھیل دی ہو اس کا احتساب کبھی نہ کرو۔۔۔۔بلا ضرورت سچ فساد ہوتا ہے ، کوئی پوچھے تو سچ بولو ورنہ چپ رہو۔۔۔۔۔۔۔ بس ایک چیز کا دھیان رکھنا کسی کو خود نہیں چھوڑنا دوسرے کو فیصلے کا موقع دینا ۔۔۔۔۔ جو جارہا ہو اسے جانے دو لیکن اگر کوئی وآپس آئے تو اس کے لیئے دروازے کھلے رکھو یہ اللہ کی سنت ہے۔۔۔۔

کر بھلا ہو بھلا

تصویر
عجيب شے ھے دنيا، اور اس سے بھى زياده عجيب اور نہ سمجھ ميں آنے والے دنيا كے باسى-

جب تک آپ پر كوئى ايسا وقت نہيں پڑتا كہ جب آپ كو ضرورت ھو كسى كے ساتھ، كسى كى ھمدردى، كسى كى مدد كى، تب تک آپ كو اندازه ھى نہيں ھوتا كہ كون كيا ھے، كون كيسا ھے-
كون محض باتوں كا دھنى اور كون قول كا پكا-

ليكن ايسے ھى وقت ايک اور بات بھى بڑى كھل كر سامنے آتى ھے،
جسے پہلے ھم نے ذھن كے كسى كونے ميں سلا ركھا ھوتا ھے-
اور وه يہ كہ كب، كب كسى دوسرے كو ھمارى ضرورت تھى اور ھم اس كے كسى كام نہ آئے-

كوشش ھمارى يہى ھوتى ھے كہ اب بھى سويا ھى رھے يہ احساس-
اور ھم دوسروں كو قصوروار اور ظالم بتا كر اپنے دل كو تسلى ديتے رھيں-
ليكن ھميشہ ايسا ھو نہيں پاتا-
كيونكہ بظاھر ھم كچھ بھى بنے رھيں، ھمارے اندر كے سارے بھيد عياں ھوتے ھيں ھم پر-
ھميں سارا پتہ ھوتا ھے كہ كتنے پانى ميں ھيں ھم-

اسى لئے تو كہا جاتا ھے كہ بندے بشر كو لاپروا نہيں ھونا چاھئے-
كيونكہ بنده بےنياز نہيں ھو سكتا-
بےنيازى تو بس رَبّ كا ھى وصف ھے اور اسى پر جچتى ھے-
وه تو گنہگاروں سياه كاروں كو بھى عطا كرتا ھے-
ليكن دنيا كا طريقہ اور ھے-
اس سے تو بھلے كى اميد ركھ…

نور

تصویر
نور کیا ہوتا ہے؟ تم جانتے ہو؟
نور وہ ہوتا ہے, جو اندھیری سرنگ کے دوسرے سرے پہ نظر آتا ہے, گویا کسی پہاڑ سے گرتاپگھلے سونے کا چشمہ ہو۔
اور کیسے ملتا ہے نور؟
جو الله کی جتنی مانتا ہے, اسے اتنا ہی نور ملتا ہے۔ کسی کا نور پہاڑ جتنا ہوتا ہے, کسی کا درخت جتنا, کسی کا شعلے جتنا اور کسی کا پاؤں کے انگوٹھے جتنا۔
انگوٹھے جتنا نور جو جلتا بجھتا , بجھتا جلتا ہے۔ یہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو کچھ دن بہت دل لگا کر نیک عمل کرتے ہیں اور پھر کچھ دن سب چھوڑ چھاڑ کر ڈپریشن میں گھر کر بیٹھ جاتے ہیں۔
اور انسان کیا کرے کہ اسے آسمانوں اور زمین جتنا نور مل جائے؟
وہ الله کو نہ کہنا چھوڑ دے ۔اسے اتنا نور ملے گا کہ اس کی ساری دنیا روشن ہو جائے گی۔ دل کو مارے بغیر نور نہیں ملتا۔ دل تو مارنا پڑتا ہے مگر ضروری تو نہیں ہے کہ ٹھوکر بھی کھائی جائے۔ انسان ٹھوکر کھائے بغیر, زخم کھائے بغیر, خود کو جلائے بغیر بات کیوں نہیں مانتا۔ پہلی دفعہ میں ہاں کیوں نہیں کہتا؟ پہلے حکم پہ سر کیوں نہیں جھکاتا؟ ہم سب کو آخر منہ کے بل گرنے کا انتظار کیوں ہوتا ہے اور گرنے کہ بعد ہی بات کیوں سمجھ میں آتی ہے؟

اقتباس :" جنت کے…

آج کی بات 22 اکتوبر 2013

تصویر
رشتے ہمیں زندہ ہونے کا احساس دلاتے ہیں ، تعلق مسکرا مسکرا کے یہ کہتا ہے کہ کوئی ہماری ذات سے جڑا ہے اور کسی کی ذات سے ہم جڑے ہیں

سکون قلب

تصویر
ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﮐﺴﯽ ﻓﺎﺭﻣﻮﻟﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ،
ﻓﺎﺭﻣﻮﻟﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﺑﻨﺎ ﻟﯽﮨﮯ،ﻟﻮ ﮐﮭﺎ ﻟﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﮨﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ،ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺩﻋﺎ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺿﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﻧﺎﻣﻨﻈﻮﺭ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ۔

ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻓﺮﻕ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ۔ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺟﻮ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭼﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ، ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔

وﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ

نیت کا بدلہ

تصویر
دو حجاج کرام کی آپس میں گفتگو، تھوڑی سی طویل ہے، لیکن پڑھنے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ آپ کا وقت ضایع نہیں ہوا۔

حاجی سعید صاحب فریضہ حج ادا کرنے کے بعد وطن واپسی کے لیے ایئرپورٹ پر بیٹھے اپنے جہاز کا انتظار کر رہےتھے۔ ان کے ساتھ والی کرسی کو خالی پاکر ایک اور حاجی صاحب ان کے پاس آ بیٹھے۔ انھوں نے ایک دوسرے کو سلام کیا، نام وغیرہ پوچھا اور انتظار کی کوفت ختم کرنے کے لیے دوسرے حاجی صاحب نے خود ہی اپنے بارے میں بتانا شروع کیا کہ:

برادر سعید! میں پیشے کے لحاظ سے ایک ٹھیکیدار ہوں۔ اس سال مجھے ایک بہت بڑا ٹھیکہ مل گیا، یہ ٹھیکہ تو گویا میری زندگی کے حاصل جیسا تھا۔ اور میں نے نیت کر لی کہ اللہ کی اس نعمت کے شکرانے کے طور پر میں اس سال دسویں بار فریضہ حج ادا کرونگا۔ بس اپنی منت کو پورا کرنے کیلئے میں نے اپنا حج داخلہ کرایا۔ ادھر آ کر بھی خوب صدقات دیئے اور خیراتیں کیں تاکہ اللہ میرے حج کو قبول کرلے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں دسویں بار حاجی بن گیا ہوں۔
سعید صاحب نے سر کو ہلا کر گفتگو میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور مسنون طریقے سے حج کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا:
حجا مبرورا ، …

ہمیں تسخیر کرنے تک

تصویر
ہمیں دریافت کرنے سے، ہمیں تسخیر کرنے تک
بہت ہیں مرحلے باقی، ہمیں زنجیر کرنے تک

ہمارے ہجر کے قصّے، سمیٹوگے تو لکھوگے
ہزاروں بار سوچو گے، ہمیں تحریر کرنے تک

ہمارا دل ہے پیمانہ، سو پیمانہ تو چھلکے گا
چلو دو گھونٹ تم بھر لو، ہمیں تاثیر کرنے تک

پرانے رنگ چھوڑو آنکھ کے، اک رنگ ہی کافی ہے
محبّت سے چشم بھر لو، ہمیں تصویر کرنے تک

ہنر تکمیل سے پہلے، مصور بھی چھپاتا ہے
ذرا تم بھی چھپا رکھو، ہمیں تعمیر کرنے تک

محبت

تصویر
ایک دفعہ میں ایک دوست کے ساتھ چڑیا گھر گیا بندر کے پنجرے میں دیکھا کہ وہ اپنی بندریا سے چمٹا محبت کی اعلیٰ تفسیر بنا بیٹھا تھا۔ تھوڑا آگے جا کرشیر کے پنجرے کے پاس سے گزر ہوا تو معاملہ الٹ تھا، شیر اپنی شیرنی سے منہ دوسری طرف کیئے خاموش بیٹھا تھا۔ میں نے دوست سے کہا کہ بندر کو اپنی مادہ سے کتنا پیار ہے اور یہاں کیسی سرد مہری ہے؟
دوست نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا؛ اپنی خالی بوتل شیرنی کو مارو۔ میں نے بوتل پھینکی تو شیر اچھل کر درمیان میں آگیا۔ شیرنی کے دفاع میں اسکی دھاڑتی ہوئی آواز کسی تفسیر کی طالب نہ تھی۔ میں نے ایک بوتل جا کر بندریا کو بھی ماری یہ دیکھنے کو کہ بندر کا ردعمل کیا ہوتا ہے، بوتل اپنی طرف آتے دیکھ کر بندر اپنی مادہ کو چھوڑ کر اپنی حفاظت کیلئے اچھل کر کونے میں جا بیٹھا۔
میرے دوست نے کہا کہ کچھ لوگ شیر کی طرح ہی ہوتے ہیں؛ ان کی ظاہری حالت پر نہ جانا، ان کے پیاروں پر بن پڑے تو اپنی جان لڑا دیا کرتے ہیں، مگر ان پر آنچ نہیں آنے دیتے۔
اور کچھ لوگ جو ظاہرا" بہت محبت جتاتے ہیں لیکن وقت آنے پر یوں آنکھیں پھیر لیتے ہیں جیسے کہ جانتے ہی نہ ہوں

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

تصویر
کیسارقت آمیز تھا وہ منظر جب بوڑھا شفیق باپ اپنے کم سن لخت جگر سے کہ رہا ہے کہ’’پیارے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے میں تجھے ذبح کررہا ہوںبتا تیری کیا رائے ہے؟‘‘ اور لائق فرزند نے پورے عزم سے جواب دیا’’ابا جان آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے اسے کرڈالیے آپ انشااللہ مجھے صابروںمیں پائیں گے‘‘(الصفات۱۰۲)۔
اب حضرت ابراہیمؑ تھے اور حضرت اسماعیلؑ ۔ دنیا کی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ ہونے والا تھا۔صحرا کی اس تپتی ریت پر اپنے معصوم لخت جگر کو لٹاکر اس کے سینے پر گھٹنا ٹیک کر تیز چھری اسکی گردن پر پھیردی۔ اور اس معصوم جان نے اپنی گردن اس لئے زمین پر ڈال دی کہ اس کے باپ تعمیل حکم ربی کے ماسوا کچھ نہیں کرتے۔ صحرا ، پہاڑ، سورج بھی اطاعت وفرماں برداری کا یہ روح پرور منظر جھک کر دیکھ رہے ہیں کہ رحمت خداوندی جو ش میں آجاتی ہے’’اے ابراہیمؑ تم نے اپنا خواب سچا کردکھایا ہم وفادار بندوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں یقناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی‘‘(الصفات۱۰۶)۔
حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کی گردن پر چھری پھیر کر جاں نثاری اور وفاداری کے جذبات کی تسکین کرلی لیکن قدرت کو بیٹے کی قربانی منظور نہ تھی پس عشق کا ا…

عید الاضحیٰ مبارک

تصویر
ﻋﯿﺪ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺧﻮﺷﯽ !
ﺍﺳﮯ ﺑﺎﻧﭩﺌﯿﮯ ، ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ۔
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺻﺮﻑ ﺟﺎﻧﻮﺭﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ
ﺩﯾﺠﺌﯿﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﺴﯽ ﯾﺘﯿﻢ ﮐﺴﯽ ﻧﺎﺩﺍﺭ
ﺳﮯ ﮔُﮭﻠﻨﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮌﮮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ
ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺭﺍﺋﮕﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ !
عید مبارک

گیلی لکڑیاں

تصویر
گیلی لکڑ یاں

ہوا، آگ، پانی اور مٹی زندگی کے بنیادی عناصر ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام کیا ہے کہ کرہ ارض پر زندگی کے یہ تمام بنیادی عناصر کثرت سے موجود رہیں ۔تاہم ان عناصر میں سے آگ ایک ایسا عنصر ہے جو حرارت کی شکل میں تو سورج سے تمام جانداروں کو براہِ راست ملتا رہتا ہے ، مگر آگ کی شکل میں یہ عام دستیاب نہیں ہے ۔البتہ اللہ تعالیٰ نے وہ ایندھن بافراط اس دھرتی پر رکھ دیا ہے جس سے انسان آگ حاصل کرسکتے ہیں ۔
موجودہ دور میں قدرتی گیس آگ کے حصول کے لیے سب سے زیادہ سستے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے ۔تاہم اس سے قبل انسانی تاریخ کے تمام عرصے میں آگ کے لیے ایندھن کے طور پر لکڑیاں ہی استعمال ہوتی رہی ہیں ۔ہزاروں سال تک انسان جنگلات اور درختوں سے لکڑ یوں کو کاٹتے اور ان سے اپنے گھر اور چولہے گرم رکھتے رہے ہیں ۔آج بھی ان علاقوں میں جہاں گیس موجود نہیں یہی ایندھن آگ کے حصول کا واحد ذریعہ ہے ۔
جن لوگوں نے لکڑ ی کو ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے دیکھا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ لکڑ ی پر پانی کا پڑ نا اسے ایندھن کے طور پر استعمال کے قابل نہیں رہنے دیتا۔لکڑ ی جتنی خشک ہو گی ، اتنی ہی جلدی اور تیز آگ پید…

شیر کا بال

تصویر
کسی گاوءں میں کوئی عورت رہتی تهی.. وہ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﻭﺍﻻ ﻋﺎﻣﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﮔﻨﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻮﯾﺬ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﺋﺶ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻋﻤﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻄﯿﻊ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺩﮮ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﻧﺎ ﭘﺎﺋﯽ ﮨﻮ۔ ﺑﻨﺪﮦ ﻋﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﺗﻌﻮﯾﺬ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﮭﺮﮮ ﮐﺮﺗﺎ، ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺍﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮨﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﺋﯽ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ، ﺗﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﯼ ﮨﻮﮔﯽ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﯾﮧ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ؟ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﻮﺷﯽ ﮨﺮ ﻗﯿﻤﺖ ﺩﯾﻨﮯ کﯿﻠﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮞ۔ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻝ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﻻ ﺩﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻋﻤﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ۔ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﺎ ﺑﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﻻ ﺩﻭﮞ؟ ﺟﻨﺎﺏ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺭﻭﭘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﯿﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻗﯿﻤﺖ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺗﻮﺁﭖ ﻋﻤﻞ ﻧﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ! ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺷﯿﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﻧﺨﻮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻭﺣﺸﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﺎ…

دلیل کی اہمیت

تصویر
آپ کے ذہن میں کوئی ایسی دلیل آجائے جو بہت طاقت ور ہو اور اس سے اندیشہ ہو کہ اگر میں یہ دلیل دوں گا تو سامنے والا بندی شرمندہ ہو جائے گا، کیونکہ اس کے پاس اس دلیل کی کوئی کاٹ نہیں ہو گی۔۔۔ شطرنج کی ایسی چال میرے پاس آگئی ہے کہ اس بات کا جواب نہیں دے سکے گا۔۔ اس موقع پر بزرگ کہتے ہیں
اپنی دلیل روک لو بندہ بچالو اسے ذبح نہ ہونے دو  کیونکہ وہ زیادہ قیمتی ہے
اشفاق احمد

علم کے راستے

تصویر
علم کے بے شمار راستے ہیں!
یہ راستے کہاں سے شروع ہوئے ؟یہ حقیقت ہمارے علم کی دسترس میں ہے !
لیکن راستے کہاں ختم ہوتے ہیں ؟
کوئی نہیں جانتا

خلیل جبران

آج کی بات 09 اکتوبر 2013

تصویر
تجربہ وہ ہے جو دوسروں سے سیکھا جائے کیونکہ اپنا تجربہ تو ہمیشہ نقصان کی قیمت پر حاصل ہوتا ہے

ایمان، حج اور جہاد

تصویر
ذوالحجہ کا مہینہ حج کا مہینہ ہے۔ یہ عظیم عبادت جو اسلام کے بنیادی اراکین میں سے ایک رکن ہے، زندگی میں ہر صاحب استطاعت مسلمان پر ایک دفعہ فرض ہے۔ امام بخاری اپنے صحیح کی کتاب الایمان میں ایک روایت لائے ہیں جو اس بات کا بہترین بیان ہے کہ دین اسلام میں حج کی کیا اہمیت ہے:

’’حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل افضل ہے۔ فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان۔ کہا پھر کون سا عمل؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد۔ پھر پوچھا گیا پھر اس کے بعد تو فرمایا: حج مبرور۔‘‘ ، (بخاری، رقم:26)

یہ حج مبرور کیا ہے؟ اس کو ایک دوسری روایت میں اس طرح واضح کیا گیا ہے:

’’جو شخص اللہ کے لیے حج کرے، پھر اُس میں کوئی شہوت یا نافرمانی کی بات نہ کرے تو وہ حج سے اِس طرح لوٹتا ہے، جس طرح اُس کی ماں نے اُسے آج جنا ہے۔‘‘ ، (بخاری ، رقم:1819)

اس حج مبرور کا بدلہ ایک روایت میں اس طرح بیان ہوا ہے۔

’’عمرے کے بعد عمرہ اِن کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ ہے اور سچے حج (حج مبرور) کا بدلہ تو صرف جنت ہی ہے۔‘‘ (بخاری ،رقم:1773)

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی نوعیت کے اعتبا…

چھوٹی سی بات

تصویر
ایک صاحب اپنے ٧ یا ٨ سالہ بچے کو موٹر بائیک کے آگے بیٹھا کر تیزی سے سڑک کا موڑ کاٹتا ہے کہ یکا یک سامنے سے ایک گاڑی والا آجاتا ہے ۔۔ موٹر سائیکل والا بہت تیز تھا لیکن گاڑی والے نے بہت ہمت کر کے اپنی گاڑی کو بریک لگائی ، پھر بھی اس ایمرجنسی بریک میں بائیک والے کی ایک ٹانگ پر ہلکی سی خراش آئی اور وہ گرتے گرتے بال بال بچا ، ١٠ قدم پر جاکر اُس نے بائیک روک لی بچے کو وہیں بیٹھا رہنے دیا ) جو قدرے خوف ذدہ ہو گیا تھا ، اور نہیں چاہتا تھا کہ اُس کا والد اُسے چھوڑ کر جائے ( ۔۔ بائیک والے نے آتے ہی گاڑی والے کے گریبان کو پکڑ کر اُسے گاڑی سے باہر نکالا ،، اور اُسے گالی گلوچ کرنے لگ گیا ۔۔۔۔ گاڑی والا جو بہت دھیما بھلا مانس انسان لگ رہا تھا ، اُس بائیک والے سے کہنے لگا ۔۔““ غلطی تمہاری ہے ، تمہیں موڑ کاٹتے ہوئے بائیک کو آہستہ کرنا چاہے تھا ،، پھر بھی میں تم سے اُلجھنا نہیں چاہتا ۔۔
لیکن بائیک والا اُس سے لڑنے پر بضد تھا ۔۔۔ آخر کار گاڑی والے نے معاملہ ختم کرنے کے لئے وہ جملہ کہا جس نے معاشرتی اقدار میں پلتی ہماری نئی نسلوں کے زہنوں کا احاطہ کیا ہواہے ۔۔

““ دیکھو تمہارا بچہ تمہیں بڑ…

لا مکاں کی منزلت

تصویر
ﻻﻣﮑﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻟﺖ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﺐ ﮐﻮﻥﻭ ﻣﮑﺎﮞ  "ﮨُﻮ " ﮐﮯ ﻭﯾﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ "ﮨﮯ "ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ

آج کی باات۔۔ 05 اکتوبر 2013

تصویر
زمیں اور اہلِ زمین کے درمیان بکھری اچھی باتوں اور عادتوں کو یوں چُنو جیسے پرندے زندگی کے لیے رزق چُنتے ہیں

آج کی بات۔۔ 04 اکتوبر 2013

تصویر
عزت نفس اور اور انا کو پہچانو، کیونکہ عزت نفس کا تعلق ایمان سے ہے اور انا کا تعلق شیطان سے ہے

یہ دنیا۔۔ وہ دنیا

تصویر
یہ دنیا۔۔وہ دنیا

ابو یحییٰ


اس مادی دنیا میں ہمارا ہر عمل ایک نتیجہ تخلیق کرتا ہے۔ ہم چلیں گے تو آگے بڑھیں گے۔ بوئیں گے تو کاٹیں گے۔ کھائیں گے تو سیر ہوں گے۔ پئیں گے تو پیاس بجھے گی۔ بولیں گے تو سنے جائیں گے۔ محنت کریں گے تو اسباب دنیا جمع کرتے چلے جائیں گے۔

مگر اس دنیا میں ایمانی عمل کوئی مادی نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ بلکہ بعض اوقات الٹا نتیجہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک بندہ مومن اس طرح تڑپ کر خالق ارض و سما کی حمد کرتا ہے کہ پہاڑ و پرند اس کے ساتھ حمد کرنے لگتے ہیں، مگر وہ گھر سے بے گھر اور وطن سے بے وطن کردیا جاتا ہے۔ ایک دیانت دار شخص کرپشن کی دلدل میں گھرے ہوکر بھی خود کو آلودہ نہیں کرتا، مگر اس کی ایمانداری اس کے لیے قیمتی پلاٹ اور عالیشان گھر نہیں تخلیق کردیتی۔ ایک باحیا لڑکی اپنی شرافت کا بھرم رکھتی ہے، مگر حسن پرستی کے اس دور میں اپنا گھر اس کے لیے خواب و خیال ہوجاتا ہے۔

وہ قدریں جن کے بغیر انسانیت شرف انسانیت سے محروم ہوجائے گی وہ اس مادی دنیا میں آخری درجے میں غیر موثر ہیں۔ اس سے زیادہ حوصلہ پست کر دینے والی کوئی حقیقت اس مادی دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ ایسے میں خدا کی کتاب ہے جو یہ بتاتی ہ…

عمر کی سیڑھیاں

تصویر
ہاں، سنو دوستو
جو بھی دنیا کہے
اس کو پرکھے بِنا، مان لینا نہیں
ساری دنیا یہ کہتی ہے
پربت پہ چڑھنے کی نِسبت اترنا بہت سہل ہے
کس طرح مان لیں
تم نے دیکھا نہیں
سرفرازی کی دھن میں کوئی آدمی
جب بلندی کے رستے پہ چلتا ہے تو
سانس تک ٹھیک کرنے کو رکتا نہیں
اور اسی شخص کا
عمرکی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے
پاؤں اٹھتا نہیں
اس لیے دوستو، جو بھی دنیا کہے
اس کو پرکھے بنا، مان لینا نہیں
ساری دنیا یہ کہتی ہے
اصل سفر تو مسافر کی آنکھ میں پھیلا ہوا خواب ہے
کس طرح مان لیں
تم نے دیکھا نہیں
عمر کےاس سرابِ اجل خیز میں
خواب تو خواب ہیں
ہم کھلی آنکھوں سے جو بھی کچھ دیکھتے ہیں
وہ ہوتا نہیں
راستےکے لیے
(راستےکی طرح)
آدمی اپنے خوابوں کو بھی کاٹ دیتے ہیں لیکن
سلگتا ہوا راستہ
پھر بھی کٹتا نہیں
اس لیے دوستو
جوبھی دنیا کہے
اس کو پرکھے بنا، مان لینا نہیں امجد اسلام امجد

خود فریبی

تصویر
آئینہ پھیلا رہا ہے خود فریبی کا یہ مرض ہر کسی سے کہہ رہا ہے. آپ سا کوئی نہیں!
------------------------------------
Aaina Phela Raha Hia Khud Farebi Ka Yeh Marz Har Kisi Se Keh Raha Hai, Ap sa Koi Nahi

عقل اور نصیب

تصویر
٭ عقل اور نصیب ٭
کہتے ہیں ﮐﺴﯽ جگہ دو ﺷﺨﺺ رہتے ﺗﮭﮯ ،
اﯾﮏ ﮐﺎ ﻧﺎم “ ﻋﻘﻞ ” ﺗﮭﺎ اور دوﺳﺮے ﮐﺎ ﻧﺎم “ ﻧﺼﯿﺐ ”

ایک دفعہ وﮦ دوﻧﻮں ﮐﺎر ﻣﯿﮟ ﺳﻮار ہو ﮐﺮ اﯾﮏ ﻟﻤﺒﮯ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﮯ ،
آدﮬﮯ راﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺴﺎن راﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺎر ﮐﺎ ﭘﯿﭩﺮول ﺧﺘﻢ ہو ﮔﯿﺎ ،
دوﻧﻮں ﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ کہ ﮐﺴﯽ ﻃﺮح رات گہری ہونے سے پہلے پہلے وہاں ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ،
ﻣﮕﺮ اﺗﻨﺎ ﭘﯿﺪل ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ بہتر یہ جانا کہ ادھر ہی وقت گزار لیں ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺪدﮔﺎر نہیں آ ﺟﺎﺗﺎ۔
ﻋﻘﻞ ﻧﮯ فیصلہ ﮐﯿﺎ کہ وﮦ ﺳﮍک ﮐﮯ ﮐﻨﺎرے ﻟﮕﮯ ہوئے درﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺳﻮﺋﮯ ﮔﺎ
ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮯ فیصلہ ﮐﯿﺎ کہ وﮦ ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ہی ﺳﻮﺋﮯ ﮔﺎ۔

ﻋﻘﻞ ﻧﮯ ﻧﺼﯿﺐ ﺳﮯ کہا ﺑﮭﯽ کہ ﺗﻮ ﭘﺎﮔﻞ ہو ﮔﯿﺎ ہے ﮐﯿﺎ ؟
ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ اﭘﻨﮯ آپ ﮐﻮ ﻣﻮت ﮐﮯ منہ ﻣﯿﮟ ڈاﻟﻨﺎ ہے۔

ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮯ کہا: نہیں ۔ ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﻣﻔﯿﺪ ہے ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺟﮕﺎ ﮐﺮ یہاں ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﮔﺎ اور ہماری ﻣﺪد ﮐﺮے ﮔﺎ۔
اور اس ﻃﺮح ﻋﻘﻞ درﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ اور ﻧﺼﯿﺐ ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ہی ﭘﮍ ﮐﺮ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ۔

ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ اﯾﮏ ﺑﮍے ﺗﯿﺰ رﻓﺘﺎر ﭨﺮک ﮐﺎ ادﮬﺮ ﺳﮯ ﮔﺰر ہوا۔
ﺟﺐ ﭨﺮک ڈراﺋﯿﻮر ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﭘﮍی کہ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮍک ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮں ﺑﯿﭻ ﭘﮍا ﺳﻮ رہا ہے
ﺗﻮ اس ﻧﮯ روﮐﻨﮯ ﮐﯽ بہت ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ، ﭨﺮک …

چلو ہم سیپیاں چننے کسی ساحل پہ چلتے ہیں

تصویر

آج کی بات۔ 02 اکتوبر 2013

تصویر
"اچھا دوست سفید رنگ کی طرح ھوتا ھے سفید رنگ میں کوئی بھی رنگ ملاؤ نیا رنگ بن جاتا ھے، مگر دنیا کے سارے رنگ ملا کر بھی سفید رنگ نہیں بنتا "

رکاوٹ

تصویر
ﺭﮐﺎﻭﭦ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﯾﮧ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻓﻄﺮﺕ ﮨﮯ ﺻﺎﺣﺒﻮ ۔ ﺭﮐﺎﻭﭨﯿﮟ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺭﺣﻤﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺭﮐﺎﻭﭨﯿﮟ
ﺣﺮﮐﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﻦ ﮐﮯ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ
ﻣﯿﮟ ﺭﮐﺎﻭﭨﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔
ﺑﮍﯼ ﺭﮐﺎﻭﭨﯿﮟ ﮐﮭﮍﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﭼﮭﻮﭨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔
Revolt ﻧﮧ ﮨﻮ ، ﺣﺮﮐﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺍﻭر ﺣﺮﮐﺖ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ،
ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔

ایموشنل اکاؤنٹ

تصویر
اکثر اوقات ہم لوگ اپنے رشتے داروں یا بہن بھائیوں کے اتنے نزدیک نہیں ہوتے جتنے ہم اپنے دوستوں کے نزدیک ہوتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں سے ہر بات شئیر کرتے ہیں حتٰی کے انتہائی سیکرٹ چیزیں بھی شئیر کر لیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ جو بات ہم اپنے دوستوں سے شئیر کرتے ہیں اپنے ماں باپ سے نہیں شئیر کر سکتے؟ کیا جنریشن گیپ سچ میں حقیقت ہے؟ کیا واقعی میں ہم اپنی نسلوں کے درمیان فاصلہ بڑھا رہے ہیں؟

ہم سب جانتے ہیں بینک اکاؤنٹ کیا ہوتے ہیں۔ کیسے کھلوائے جاتے ہیں اور ان میں پیسے کیسے جمع کروائے جاتے ہیں اور کیسے نکلوائے جاتے ہیں۔ اگر میں اپنے بینک اکاؤنٹ میں کافی پیسے جمع کروا کر رکھے ہیں تو مجھے کسی قسم کا خوف نہیں ہو گا میں جانتا ہوں گا کہ میں اپنی کسی بھی غلطی کا مداوا کرنے کے قابل ہوں۔ اور اگر میرے اکاؤنٹ میں رقم نہ ہونے کے برابر ہے یا میں قرضے پر چل رہا ہوں تو مجھے بےحد سوچ سمجھ کر چلنا ہو گا۔ کیونکہ ایسی صورت میں میرے پاس کسی قسم کی غلطی یا لچک کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔

انسان بھی اسی قسم کے لین دین پر چل رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ اکاؤنٹ ایموشنل اکاؤنٹ کہلاتا ہے۔ اگر میں وعدوں کی پاسداری، صداقت…

آج کی بات (01 اکتوبر 2013)

تصویر
جو مصیبت تمہیں اللہ کی طرف متوجہ کردے وہ مصیبت نہیں نعمت ہے۔ اور جو نعمت تمہیں اللہ سے غافل کر دے وہ نعمت نہیں مصیبت ہے۔

ذندگی کی ضرورت

تصویر
لوگ کہتے ہیں زندگی میں یہ ضروری ہے اور وہ ضروری ہے , میں تمہیں
بتاؤں زندگی میں کچھہ بھی ضروری نہیں ہوتا نہ مال، نہ اولاد، نہ رتبہ، نہ لوگوں کی محبت, بس آپ ہونے چاہییں اور آپ کا الله سے ہر پل بڑھتا تعلق ہونا چاہئے . باقی یہ مسلے تو کسی بادل کی طرح ہوتے ہیں.

جہاز کی کھڑکی سے کبھی نیچے تیرتا کوئی بادل دیکھا ہے؟ اوپر سے دیکھو تو وہ کتنا بے ضرر لگتا ہے مگر جو اس بادل تلے کھڑا ہوتا ہے نا. اس کا پورا آسمان بادل ڈھانپ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ روشنی ختم ہوگئی، اور دنیا تاریک ہوگئی.

غم بھی ایسے ہوتے ہیں جب زندگی پہ چھا جاتے ہیں تو سب تاریک لگتا ہے لیکن اگر تم اس زمین سے اوپر اٹھہ کر آسمانوں سے پورا منظر دیکھو تو تم جانوگی کہ یہ تو ایک ننھا سا ٹکڑا ہے جو ابھی ہٹ جائے گا, اگر یہ سیاہ بادل زندگی پہ نہ چھائیں نا تو ہماری زندگی میں کبھی رحمت کی بارش نہ ہو.!
جنت کے پتے _____ نمرہ احمد

محرومی کی نعمت

تصویر
محرومی کی نعمت
ابویحییٰ

انسانوں کی دنیامیں محرومی سے بڑ ی کوئی آفت نہیں اور خدا کی دنیا میں محرومی سے بڑ ی کوئی نعمت نہیں ۔یہ بات پڑ ھنے والوں کو شائد ایک مذاق لگے ، مگربلاشبہ یہ سب سے بڑ ی حقیقت ہے ۔

انسانی دنیامیں محرومی کو کوئی پسند نہیں کرتا۔ اس لیے کہ محرومی کا مطلب دکھ، تکلیف، مایوسی، معذوری، بدحالی اور دوسروں سے پیچھے رہ جانا ہوتا ہے ۔تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ محرومی اس دنیا میں ناگزیرطور پر پائی جاتی ہے ۔ ہر شخص زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر محرومی سے گزرتا ہے ۔ چھوٹی اور بڑ ی، عارضی اور مستقل، اپنی اور دوسروں کی محرومی۔زندگی گویا کہ محرومی کی داستان سے عبارت ہے ۔لوگ مال سے ، طاقت سے ، صحت سے ، تحفظ سے اور متعدد دیگر چیزوں سے محروم ہو سکتے ہیں ۔ بلکہ سچی بات یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان جتنی خواہشات کرسکتا ہے اتنی ہی محرومی کی قسمیں گنوائی جا سکتی ہیں ۔
یہ محرومی انسانوں کو بدقسمتی لگتی ہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان چاہے تو اس محرومی کو دنیا کی عظیم ترین طاقت میں تبدیل کر لے ۔دراصل اس دنیا میں انسان کوسب کچھ رب کی عطا ہی سے ملتا ہے ۔ایسے میں کوئی بندہ اگر ابر کرم کی اس برسات میں مح…

زمرہ جات

رمضان غزلیں امید سوئے حرم سورہ البقرہ دعا سفرِ حج استقبال رمضان، ایمان، میرے الفاظ خطبہ مسجد نبوی میری شاعری پاکستان شاعری یاد حرم لبیک اللھم لبیک محبت خلاصہ قرآن سفرنامہ صراط مستقیم شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، حکمت کی باتیں دوستی سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم کچھ دل سے 9نومبر آزادی باغبانی عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی معلومات یوم دفاع آبِ حیات جنت خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر جنت کے پتے حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورہ المؤمنون سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل