اشاعتیں

2015 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

آج کی بات ۔۔۔ 31 دسمبر 2015

تصویر
عروج اس وقت کو کہتے ہیں۔۔ جس کے بعد زوال شروع ہوتا ہے۔

دو دل

تصویر
"وہ لوگ جو ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے ‘ اور خود بھی کوئی غلط کام نہیں کرتے ‘ وہ جو غیر جانبدار ہوتے ہیں‘ اللہ ان کو ان کی نمازوں اور صدقات کے باوجود عذاب سے محفوظ نہیں رکھے گا۔ میں کوئی نیک آدمی نہیں ہوں‘ نہ مجھے خود پہ کوئی غرور ہے ‘ مگر میں نے ظلم کے اوپرنیوٹرل رہنے کی بجائے ’’سائیڈ‘‘ منتخب کی تھی۔ میں جانبدار ہوں‘ اور مجھے فخر ہے اپنی جانبداری پہ۔سو میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں ینگ لیڈی۔غیر جانبدار رہنے والوں کو فلاح اور بقا کی ساری امید ترک کر دینی چاہیے۔ کیونکہ جب عذاب آئے گا‘ تو وہ صرف ان لوگوں پہ نہیں آئے گا جو برے کام کرتے تھے ۔
اللہ نے نہیں بنائے کسی آدمی کے سینے میں دو دل (سورہ احزاب آیت 4-5) ۔
 اگر آپ کا دل اچھے لوگوں کے ساتھ نہیں ہے تو وہ برے لوگوں کے ساتھ ہے۔"
نمرہ احمد کے ناول نمل سے اقتباس

آج کی بات ۔۔۔ 27 دسمبر 2015

تصویر
یہ کہنا بڑے کمال کی بات ہے کہ
مجھ میں کمال کی کوئی بات نہیں!
(ڈاکٹر اظہر وحید)

پروردگار بحر و بر ۔۔۔​

تصویر
پروردگار بحر و بر ​ پروردگار بحر و بر پروردگار بحر و بر
اے مالک جن و بشر
تابع تیرے شمس و قمر
ہر شے ترے زیر اثر
پروردگار بحر و بر

معبود تو ہی بالیقیں تیرے سوا کوئی نہیں
کیا آسماں ‌اور‌ کیا زمیں خم ہے جہاں سب کی جبیں
بس ایک تیرا آستاں
بس ایک تیرا سنگ در
پروردگار بحر و بر

وہ طائران خوش نوا وہ لہلہاتے سبزہ زار
وہ ذرہء ناچیز ہو یا کوہساروں کی قطار
تسبیح کرتے ہیں تیری
سب بے حساب و بے شمار
غافل ہیں ہم انساں مگر

پروردگار بحر و بر

تو واحد و برحق بھی ہے
تو قادر مطلق بھی ہے
یا رب بحق مصطفےٰ
تو بخش دے اپنی خطا
اس ملت مظلوم کو اس امت مرحوم کو
دے زندگی کر زندہ تر

پروردگار بحر و بر

دیتے ہیں تجھ کو واسطہ ہم صاحب معراج کا
سارے زمانے ہیں تیرے سارے خزانے ہیں تیرے
تو وقت کی رفتار کو اک بار پھر سے موڑ دے
ہم عاصیوں کے ہاتھ میں غیروں کا جو کشکول ہے
قدرت سے اپنی توڑ دے
اے رازق شاہ و گدا
اے خالق شام و سحر
پروردگار بحر و بر

ہیں وقت کے خاروں میں ہم آفات کے غاروں میں ہم
لگتی ہیں اپنی بولیاں رسوا ہیں بازاروں میں ہم
بے شک سر فہرست ہیں تیرے گناہگاروں میں ہم
پھر بھی ہے یہ قرآن میں یعنی تیرے فرمان میں​ لا تقنطو لا تقنطو
ستار تو غفار تو
پہچان ہے رحمت تیر…

آج کی بات ۔۔ 26 دسمبر 2015

تصویر
کامیابی کا نشہ کبھی دماغ پر مت چڑھنے دیجیئے اور ناکامی کا صدمہ کبھی دل پر مت لیجیئے
ہمیشہ خوش رہیں گے۔

قائد سا رہبر

تصویر
ہمیں اب پھر ضرورت ہے
کسی قائد سے رہبر کی
جو اس ٹوٹی بکھرتی قوم کو پھر ایک جاں کردے
کہ اس کی رہبری میں پھر چلے یہ کارواں اپنا
اور اپنے دیس کو اک بار پھر سے ہم کریں تعمیر
بھلا کے دل سے ہر نفرت
نہ قوموں میں بٹیں ہم یوں
بس اک قوم بن کر پھر سے اس دنیا پہ چھا جائیں
ہمیں اب پھر ضرورت ہے
کسی قائد سے رہبر کی
ہماری ڈوبتی کشتی کو لہروں سے نکالے جو
ہمیں یکجا کرے اور کشتی کو سنبھالے جو 
سیما آفتاب

تجھ سا کوئی نہیں

تصویر
اے رسول امیں، خاتم المرسلیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں ہے عقیدہ اپنا بصدق و یقیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
اے براہیمی و ہاشمی خوش لقب، اے تو عالی نسب، اے تو والا حسب دودمانِ قریشی کے دُرِثمین، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
دست قدرت نے ایسا بنایا تجھے، جملہ اوصاف سے خود سجایا تجھے اے ازل کے حسیں، اے ابد کے حسیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
بزم کونین پہلے سجائی گئی، پھر تری ذات منظر پر لائی گئی سید االاولیں، سید الآخریں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
تیرا سکہ رواں‌ کل جہاں میں ہوا، اِس زمیں میں ہوا، آسماں میں ہوا کیا عرب کیا عجم، سب ہیں زیرِ نگیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
تیرے انداز میں وسعتیں فرش کی، تیری پرواز میں رفعتیں عرش کی تیرے انفاس میں‌ خلد کی یاسمیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
"سدرۃ ُالمنتہیٰ" رہگزر میں تری ، "قابَ قوسین" گردِ سفر میں تری تو ہے حق کے قریں، حق ہے تیرے قریں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
کہکشاں ضو ترے سرمدی تاج کی، زلف ِتاباں حسیں رات معراج کی "لیلۃُ القدر "تیری منور…

آج کی بات ۔۔۔ 23 دسمبر 2015

تصویر
جب آپ کے اندر وہ آواز موجود ہو جو پکار پکار کر آپ کو بتاتی رہے کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ حرام ہے...  تو اللّہ کا شکر ادا کریں کہ آپ کا دل ابھی زندہ ہے.

خیر البشر کہوں میں، خیر الوریٰ کہو تم

تصویر
اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم
جب میں کہوں محمد صلِّ علیٰ کہو تم خیر البشر کہوں میں، خیر الوریٰ کہو تم
اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم
آشوبِ ذندگی میں تسکینِ دل کی خاطر روئے نبی کہوں میں، شانِ خدا کہو تم خیر البشر کہوں میں، خیر الوریٰ کہو تم
اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم
وہ رشکِ انبیاء ہیں وہ فخرِ اولیاء ہیں وہ روحِ کُن فِکاں ہیں، وہ جان دو جہاں ہیں جلوہ فگن کہوں میں، جلوہ نما کہو تم خیر البشر کہوں میں، خیر الوریٰ کہو تم
اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم
کس حسن کے ہیں جلوے، دن رات کے اجالے شمس الضّحیٰ کہوں میں، بدر الدّجیٰ کہو تم خیر البشر کہوں میں، خیر الوریٰ کہو تم
اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم
#WhoIsMuhammad

انتخابِ کلام مسدس حالی

تصویر
عَرَب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا
جہاں سے الگ اِک جزیرہ نما تھا
زمانہ سے پیوند جس کا جدا تھا
نہ کشورستاں تھا، نہ کشور کشا تھا

تمدّن کا اُس پر پڑا تھا نہ سایا
ترّقی کا تھا واں قدم تک نہ آیا


نہ آب و ہوا ایسی تھی روح پرور
کہ قابل ہی پیدا ہوں خود جس سے جوہر
نہ کچھ ایسے سامان تھے واں میسر
کنول جس سے کِھل جائیں دل کے سراسر

نہ سبزہ تھا صحرا میں پیدا نہ پانی
فقط آبِ باراں پہ تھی زندگانی


زمیں سنگلاخ اور ہوا آتش افشاں
لوؤں کی لپٹ، بادِ صر صر کے طوفاں
پہاڑ اور ٹیلے سراب اور بیاباں
کھجوروں کے جھنڈ اور خارِ مغیلاں

نہ کھتّوں میں غلّہ نہ جنگل میں کھیتی
عرب اور کل کائنات اس کی یہ تھی


نہ واں مصر کی روشنی جلوہ گر تھی
نہ یونان کے علم و فن کی خبر تھی
وہی اپنی فطرت پہ طبعِ بشر تھی
خدا کی زمیں بن جُتی سر بسر تھی

پہاڑ اور صحرا میں ڈیرا تھا سب کا
تلے آسماں کے بسیرا تھا سب کا


کہیں آگ پُجتی تھی واں بے محابا
کہیں تھا کواکب پرستی کا چرچا
بہت سے تھے تثلیث پر دل سے شیدا
بتوں کا عمل سُو بہ سُو جا بجا تھا

کرشموں کا راہب کے تھا صید کوئی
طلسموں میں کاہن کے تھا قید کوئی


وہ دنیا میں گھر سب سے پہلا خدا کا
خلیل ایک معمار تھا جس بنا کا
ازل میں مشیّت …

100 لفظوں کی کہانی ۔۔۔ الف نون

تصویر

کبھی سوچا؟؟؟

تصویر
ﺍﮔﺮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﯽ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﮮ ﭨﯽ ﺍﯾﻢ ﮐﺎﺭﮈ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻥ ﭼﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ بہتر ﮨﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺘﮯ ﮔﯽ؟ 
ﺍﮔﺮ ﮐﺴﺮﯼٰ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﮭﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺻﻮﻓﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﺨﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﺭﺍﻡ ﺩﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ؟ 
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺷﺘﺮ ﻣﺮﻍ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺟﻦ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ پنکھے اوراے ﺳﯽ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﯾﮟ ﺣﺼﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ؟ 
ﺁﭖ ﺍپنی خوبصورت ﮐﺎﺭ ﻟﯿﮑﺮ ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻓﺮﺍﭨﮯ ﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﯿﮯ، ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﭘﺮ غرور اور گھمنڈ ہوگا ؟ 
ﮨﺮﻗﻞ بادشاہ ﺧﺎﺹ ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺻﺮﺍﺣﯽ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﮑﺮ ﭘﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍِﺱ ﺁﺳﺎﺋﺶ ﭘﺮ ﺣﺴﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺗﻮ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ آپ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ کے فرج کا پانی پیش کریں گے ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﮯ ﮔﺎ؟ 
ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﻏﺴﻞ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﯽ ﺟﺎﮐﻮﺯﯼ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ؟
جنا…

بہتر کون؟

تصویر
آج کل سائنس کی ترقی کا چرچہ ہے ۔ سائنس کی ترقی نے آدمی کو بہت سہولیات مہیاء کر دی ہیں
پڑھنے لکھنے پر بھی زور ہے جس کے نتیجہ میں بہت لوگوں نے بڑی بڑی اسناد حاصل کر لی ہیں
توقع تو تھی کہ ان سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے آدمی تعلیم حاصل کر کے انسان بن جائیں گے لیکن سائنس کی ترقی میں انسانیت کم پنپ پائی ہے اور وبال یا جہالت زیادہ
سائنس کے استعمال نے انسان کا خون انفرادی ہی نہیں بلکہ انبوہ کے حساب سے آسان بنا دیا ہے اور انسانیت بلک رہی ہے
ایسے میں ویب گردی کرتے میں افریقہ جا پہنچا ۔ دیکھیئے نیچے تصویر میں کون بچے ہیں اور کیا کر رہے ہیں

ان بچوں کے پاس اپنے جسم ڈھانپنے کیلئے پورے کپڑے نہیں لیکن اس تصویر سے اُن کی باہمی محبت اور احترام کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہ تو میرا اندازہ ہے ۔ اصل حقیقت یہ ہے ایک ماہرِ بشریات (anthropologist) نے شاید ایسے لوگوں کو پڑھا لکھا نہ ہونے کی بناء پر جاہل اور خود غرض سمجھتے ہوئے اپنے مطالعہ کے مطابق ایک مشق دی ۔ماہرِ بشریات نے پھلوں سے بھرا ایک ٹوکرا تھوڑا دور ایک درخت کے نیچے رکھ کر افریقہ میں بسنے والے ایک قبیلے کے بچوں سے کہا
”جو سب سے پہلے اس ٹوکرے کے پاس پہنچے گ…

خُوں بہا

تصویر
”خُوں بہا“
اپنے شہسواروں کو
قتل کرنے والوں سے
خوں بہا طلب کرنا
وارثوں پہ واجب تھا قاتلوں پہ واجب تھا
خوں بہا ادا کرنا
واجبات کی تکمیل
منصفوں پہ واجب تھی
(منصفوں کی نگرانی قدسیوں پہ واجب تھی)
وقت کی عدالت میں
ایک سمت مسند تھی
ایک سمت خنجر تھا
تاج زرنگار اک سمت
ایک سمت لشکر تھا
اک طرف تھی مجبوری
اک طرف مقدر تھا
طائفے پکار اٹھے
تاج و تخت زندہ باد"
"ساز و رخت زندہ باد
خلق ھم سے کہتی ھے
سارا ماجرا لکھیں
کس نے کس طرح پایا
اپنا خوں بہا لکھیں
چشمِ نم سے شرمندہ
ھم قلم سے شرمندہ
سوچتے ھیں کیا لکھیں ؟؟

”افتخار عارف“

کسی کے نام دل کا انتساب لکھ رہے تھے ہم

تصویر
حیات و کائنات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم جہاں جہاں ثواب تھا عذاب لکھ رہے تھے ہم  ہماری تشنگی کا غم رقم تھا موج موج پر سمندروں کے جسم پر سراب لکھ رہے تھے ہم  سوال تھا کہ جستجو عظیم ہے کہ آرزو سو یوں ہوا کہ عمر بھر جواب لکھ رہے تھے ہم سلگتے دشت ، ریت اور ببول تھے ہر ایک سو نگر نگر ، گلی گلی گلاب لکھ رہے تھے ہم  زمین رک کے چل پڑی ، چراغ بجھ کے جل گئے کہ جب ادھورے خوابوں کا حساب لکھ رہے تھے ہم مجھے بتانا زندگی وہ کون سی گھڑی تھی جب خود اپنے اپنے واسطے عذاب لکھ رہے تھے ہم  چمک اٹھا ہر ایک پل ، مہک اٹھے قلم دوات کسی کے نام دل کا انتساب لکھ رہے تھے ہم
عزیز نبیل

تفسیر نہیں، تدبر!

تصویر
تفسیر نہیں، تدبر!ابن علی
ایک ہے قرآنِ مجید کی تفسیر۔ ایک ہے قرآنِ مجید پر تدبر۔ یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ’’تفسیری عمل‘‘ آپ ایک ہی بار کرتے ہیں۔ یا اپنے علم کو تازہ کرنے کےلیے کبھی کبھار اس کو دہرا لیتے ہیں۔ لیکن ’’تدبر‘‘ آپ بار بار کرتے ہیں۔ یہ عمل ہر لحظہ جاری رہتا ہے۔ زیادہ لوگ ’’تفسیر‘‘ اور ’’تدبر‘‘ کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں؛ ظاہر ہے ان حضرات کے ہاں ’’تدبر‘‘ کی نوبت کم ہی آئے گی اور یہ کچھ علمی نکات وغیرہ میں گم رہنا ہی کل کام جانیں گے۔
تفسیر اور تدبر میں کیا فرق ہے؟ قرآنی علوم کے ماہر ڈاکٹر محمد الربیعہ اس کے تحت مندرجہ ذیل نکات بیان کرتے ہیں:
1۔           تفسیر کا مطلب ہے آیت کے معنیٰ کو کھولنا۔ جبکہ تدبر کا عمل اس کے بعد شروع ہوتا ہے، یعنی آیت میں جو بات کہی گئی اس کے مقصود پر غور کرنا۔ اس میں جن اشیاء کی جانب اشارے ہوئے ہیں ان کا اندازہ کرنا۔ ان پر یقین پیدا کرنا اور ان کو دل میں اتارنا۔
2۔           تفسیر میں آپ کی غرض آیت کا معنیٰ جاننے سے ہوتی ہے۔ جبکہ تدبر کی غرض اس معنیٰ سے فائدہ لینا، اس پر ایمان کی صورت میں، عمل اور سلوک کی صورت میں۔
3۔           تدبر کا حکم سب لو…

بہت محدود ہے میرا تخیل

تصویر
بہت محدود ہے میرا تخیل تیرے جلووں کی کوئی حد نہیں ہے
عزیز نبیلؔ

آج کی بات ۔۔۔ 09 دسمبر 2015

تصویر
جب کوئی انسان اپنےآپ اور اپنی کامیابیوں کو سیلف میڈ (SELF MADE) کا نام دیتا ہے تو وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کی نفی کرتا ہے بلکہ ان تمام انسانوں کے احسانات اور مہربانیوں کو بھی روند ڈالتا ہے جنہوں نے اس کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
 اور یہ دنیا کا بد ترین تکبر ہے۔

عمل اور ردِعمل

تصویر
عمل اور ردِعمل 
تحریر:شمیم مرتضیٰ
----------------------------- زندگی کا ایک سادہ سا اصول ہے کہ ہر عمل کا ردِّ عمل ہوتا ہے۔ اسی اصول کے مصداق جب ہم کو ئی نیکی کرتے ہیں تو اِس نیکی کا بھی ایک ردِّ عمل ہوتا ہے۔ مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ ردِّ عمل کسی میکانیکی عمل کی طرح نہیں ہوتا جیسا کہ نیوٹن بیان کرتا ہے بلکہ اس کےپیچھے ایک بہت بڑی defining force کام کر رہی ہوتی ہے اور وہ ہے ہماری "نیت"۔ یہی قوت فیصلہ کرتی ہے کہ نیکی کا صلہ بڑھ کر ملنا ہے کہ گھٹ کر یاکہ بالکل ہی نہیں ملنا۔ بعض اوقات ہم اپنے تئیں ایک بہت چھوٹی سی نیکی کرتے ہیں مگر ہمیں خبر نہیں ہوتی کہ اپنے اخلاص کی وجہ سے اس نیکی کا ایک upward spiral effect قائم ہوتا ہے اور ایک چھوٹی سی نیکی اپنے اجر میں دوسری نیکیوں سے بڑھ جاتی ہے۔
ممکن ہے کہ جس نیکی کو ہم ایک نہایت چھوٹی سی نیکی سمجھ کر کررہے ہوں اس کا شجرہ ایک بہت بڑی نیکی سے ملتا ہو۔راستہ سے ایک چھوٹا سا پتھر ہٹانا ہو، اپنےکسی مسلمان بھائی کو مسکرا کر دیکھنا ہو، ایک چھوٹا سا پودا لگانا ہو یا کسی کے کام آجانا ہو۔ بظاہر بہت معمولی سے کام ہیں۔
مگر ان میں ب…

آج کی بات ۔۔۔ 05 دسمبر 2015

تصویر
"اس نے کہا۔ میں نے مان لیا،
اس نے زور دیا، مجھے شک گزرا،
اس نے قسم کھائی،
میں نے کہا، یہ تو جھوٹ بولتا ھے۔"

آج کی بات ۔۔۔ 04 دسمبر 2015

تصویر
کسی نے ’ناممکن‘ سے پوچھا: کہاں بستے ہو؟ اس نے جواب دیا: نکمے انسان کے خوابوں میں

بلغ العلیٰ بکمالہ

تصویر
بلغ العلیٰ بکمالہ کشف الدجیٰ بجمالہ حسنت جمیع خصالہ صلو علیہ واٰلہ
وہ اولیٰ کو پہنچے کمال سے مٹی ظلمت ان کے جمال سے ہوئےدلپسند خصال سے ہو درود ان پہ اور آل پر صلو علیہ واٰلہ
وہ ہیں بحر جود و نوال میں ہے مٹھاس ان کے مقال میں وہ رشک مہرِ جمال میں ہو درود ان پہ اور آل پر صلو علیہ واٰلہ
وہ محمد و احمد و مصطفیٰ وہ ہیں سرور صف انبیاء جو عدو ہے ان سے کانپتا ہو درود ان پہ اور آل پر صلو علیہ واٰلہ
 ہوئیں عام ساری بھلائیاں ہوئیں تابناک صفائیں وہ صحابیوں کی رسائیاں ہو درود ان پہ اور آل پر صلو علیہ واٰلہ
وہ نکات ان کے کلام سے حسنات قصد و مرام کے کہ عَلم بلند ہیں کام کے ہو درود ان پہ اور آل پر صلو علیہ واٰلہ
بلغ العلیٰ بکمالہ کشف الدجیٰ بجمالہ حسنت جمیع خصالہ صلو علیہ واٰلہ

فاصلہ ... ایک خوبصورت تحریر سے ماخوز نظم

تصویر
"دور ہمیشہ ہم آتے ہیں، اللہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا۔ فاصلہ ہم پیدا کرتے ہیں۔ اس کو مٹانا بھی ہمیں ہوتا ہے۔"
اقتباس: جنت کے پتے از نمرہ احمد

 کبھی گر یہ لگے تم کو تمہارے اور خدا کے درمیاں ہیں حائل فاصلے کچھ یوں (ترمیم شدہ) کہ تم جتنی بھی شدت سے پکارو وہ نہیں سنتا سمجھ لینا اسی لمحے کہ یہ سب فاصلے پیدا کیے کس نے خدا تو اپنے بندوں سے کبھی دوری نہیں رکھتا رگ جاں سے بھی نزدیک تر بندے سے رہتا ہے
سیما آفتاب ( 4 مئی 2012)

حلال کی لذت ۔۔ از نمرہ احمد

تصویر
وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهِ مِن بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِّلشَّارِبِينَ ( 66 )
اور تمہارے لیے چارپایوں میں بھی (مقام) عبرت (وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے وَمِن ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ( 67 )
اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے
"یہ آیاتِ نحل ہمیں سکھاتی ہیں کہ جیسے گوبر اور خون کے درمیان سے پاکیزہ چیز نکل سکتی ہے ‘ اور جیسے انگور اور کھجور سے ناپاک شے بن سکتی ہے ‘ ویسے ہی شہد کی مکھی کے راستوں کو مشکل بنانے والی چیزوں کا صحیح یا غلط استعمال آپ کے ہاتھ میں ہے۔مگر اتنا یاد رکھئے گا ‘ کہ جو آپ کے نصیب میں ہے ‘وہ آپ کو ضرور ملے گا۔ چاہے حرام سے ‘ چاہے حلال سے۔ لیکن…

تیری مانند کون ہے؟

تصویر
ایک برتر ہستی سے محبت کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان چاہے نہ چاہے، وہ کسی نہ کسی کو اپنا معبود بنانے پر مجبور ہے۔ مگر معبود بننے کے لائق صرف ایک ہی ہستی ہے۔ اللہ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

انسان کا المیہ دیکھیے کہ اس نے اپنی تاریخ میں کبھی اللہ تعالیٰ کو قابل توجہ نہیں سمجھا۔ ہر دور میں اس نے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا ہے۔ پھر خدا کو غیر اہم جان کر انہی کی حمد کی ہے ۔ انہی کی عظمت کے گن گائے ہیں۔ انہی سے مدد مانگی ہے۔ انہی کے سامنے سر جھکایا ہے۔انہی سے محبت کی ہے۔ انہی کے لیے روئے ہیں۔انہی کے لیے تڑپے ہیں۔انہی کا اعتراف کیا ہے۔انہی کے شکر گزار بنے ہیں۔انہی کے لیے محبت اور انہی کے لیے نفرت کی ہے۔انہی کے نام کو آنکھوں کی روشنی اور انہی کی یاد کو زبان کی مٹھاس بنایا ہے۔

یہ سب تو اللہ کا حق ہے۔ ہر دور میں تھا۔ ہر دور میں رہے گا۔ غیر اللہ کی عبادت اور حمد کرنے والے یہ لوگ، انبیائے بنی اسرائیل کے الفاظ میں، اُس عورت کی مانند ہیں جو اپنے شوہر کو چھوڑ کر دوسرے مردوں کے ساتھ بدکاری کرتی ہے۔اس کے برعکس اللہ کے رسولوں کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا جینا مرنا سب اللہ کے لیے ہوتا ہے۔وہ …

آج کی بات ۔۔۔ 01 دسمبر 2015

تصویر
جولطف عجز و انکساری ، عاجزی و فروتنی، جھک جانے میں ہے،
وہ مزا اکڑ میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

جو بات کسی دوسرے شخص کی چالاکیوں پر صرف نظر کرنے میں ہے،
وہ اس کا جواب دینے میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! 

جو عزت اپنا احتساب کرنے میں ہے ،
کسی اور کے احتساب میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!! 

جو انتقام خاموشی میں ہے،
وہ زبانی جواب میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!

پروفیسر محمد عقیل

چھوٹی سی نیکی

تصویر
چند راتوں پہلے کی بات ہے، میں نے بستر پر جانے سے پہلے حسب معمول کمرے کی بتی بند کر دی ایک دم سے گہرا اندھیرا چھا گیا،مگر اس میں کوئی چیز چمک رہی تھی میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اینڈرائیڈ قون کی چارجنگ والی لائیٹ ہے،خیر میں بستر پرلیٹ گیا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ اس کی ٹمٹماہٹ بڑھ گئی اور مزید کچھ دیر گزری تو مجھے اس ٹمٹاتی روشنی میں کمرے کی اس طرف والی دیوار نظر آنے لگی جدھر فون رکھا تھا۔ یہ تو تھی ایک بات اب آتے ہیں اصل بات کی طرف ۔ ۔ ۔ ۔ 
بات کچھ یوں ہے کہ ہماری چھوٹی سی نیکی جس کی ہمارے سامنے قدروقیمت ہے ہی نہیں اور نہ ہم اس کی طرف غور کرتے ہیں وہ بھی تاریک کمرے (معاشرے) میں اس ٹمٹماتی روشنی کا کام کرتی ہے اور آگے چل کرہمارے لیئے آسانی کا باعث بنے گی۔ آپ کی چھوٹی چھوٹی نیکیاں جن کوآپ سرِ راہ چلتے ہوئے گنوا دیتے ہیں اور دھیان نہیں دیتے ان میں راستے میں چلتے ہوئے لوگوں کو سلام کرنا ، اگر کوئی تکلیف دینے والی چیز نظر آئے تو اس کو پاؤں کی ٹھوکر سے ہی سہی سائیڈ پر کر دینا چائیے۔ اگر کہیں کوئی شخص مصیبت میں اٹکا ہوا نظر آ جائے تو فوراََ سے پہلے اس کی مدد کے اسباب تلاش کیجیئے کہ کس طرح…

زبانیں جہاں گنگ ہیں ، لفظ ششدر

تصویر
حرم کی مقدس فضاؤں میں گم ہوں
میں جنت کی ٹھنڈی ہواؤں میں گم ہوں

میں بے گانہ ہوکر ہر اک ماسوا سے
بس اک آشنا کی وفاؤں میں گم ہوں

زبانیں جہاں گنگ ہیں ، لفظ ششدر
تحیر کی ایسی فضاؤں میں گم ہوں

میں کعبے کے بے آب و رنگ پتھروں سے
کرم کی امڈتی گھٹاؤں میں گم ہوں

کبھی سنگِ اسود کی کرنوں سے حیراں
کبھی ملتزم کی دعاؤں میں گم ہوں

مقفل ہے در ، لٹ رہے ہیں خزانے
عطا کی نرالی اداؤں میں گم ہوں

ہر اک دل سے ظلمت کے دل چھٹ رہے ہیں
غلافِ سیہ کی ضیاؤں میں گم ہوں

جو میرے گناہوں کو بھی دھو رہی ہے
میں رحمت کی ان انتہاؤں میں گم ہوں

یہ میزابِ رحمت پہ پُر درد نالے
فلک سے برستی عطاؤں میں گم ہوں

یہ زمزم کے چشمے ، یہ پیاسوں کے جمگھٹ
زمیں سے ابلتی شفاؤں میں گم ہوں

جو اس آستاں کے لگاتے ہیں پھیرے
میں ان کے جنوں کی اداؤں میں گم ہوں

کھڑے ہیں بھکاری ترے در کو تھامے
میں ان کی بلکتی صداؤں میں گم ہوں

یہ سینے سے اٹھتی ندامت کی آہیں
میں ان دردِ دل کی دواؤں میں گم ہوں

یہ کعبے کے درباں ، یہ نازوں کے پالے
میں ان کی پیاری جفاؤں میں گم ہوں

تصور میں یادوں کی محفل سجی ہے
تخیل کی دلکش خلاؤں میں گم ہوں

ابھی شرحِ الفت کی منزل کہاں ہے
ابھی …

زمرہ جات

غزلیں سورہ البقرہ اللہ امید دعا استقبال رمضان، سوئے حرم پاکستان میری شاعری میرے الفاظ سفرِ حج محبت خطبہ مسجد نبوی خلاصہ قرآن شاعری ایمان، صراط مستقیم یاد حرم اچھی بات، نعت رسول مقبول حمد باری تعالٰی شکر حج 2015 سفرنامہ #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل حج 2017 سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، استغفار توبہ توکل خوشی دوستی سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر باغبانی حکمت کی باتیں سفر مدینہ قائد اعظم یوم دفاع آبِ حیات آزادی جنت خطبہ حجتہ الوداع رومی، سورۃ الناس شکریہ عید مبارک فارسی اشعار، قرآن کہانی لبیک اللھم لبیک محمد، سوشل میڈیا، معلومات نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش جنت کے پتے حج 2016 حیا، خطبہ مسجد الحرام ذرا مسکرائیے زیارات مکہ سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورہ الکوثر سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں محمد، مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل