تیری مانند کون ہے؟

ایک برتر ہستی سے محبت کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان چاہے نہ چاہے، وہ کسی نہ کسی کو اپنا معبود بنانے پر مجبور ہے۔ مگر معبود بننے کے لائق صرف ایک ہی ہستی ہے۔ اللہ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

انسان کا المیہ دیکھیے کہ اس نے اپنی تاریخ میں کبھی اللہ تعالیٰ کو قابل توجہ نہیں سمجھا۔ ہر دور میں اس نے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا ہے۔ پھر خدا کو غیر اہم جان کر انہی کی حمد کی ہے ۔ انہی کی عظمت کے گن گائے ہیں۔ انہی سے مدد مانگی ہے۔ انہی کے سامنے سر جھکایا ہے۔انہی سے محبت کی ہے۔ انہی کے لیے روئے ہیں۔انہی کے لیے تڑپے ہیں۔انہی کا اعتراف کیا ہے۔انہی کے شکر گزار بنے ہیں۔انہی کے لیے محبت اور انہی کے لیے نفرت کی ہے۔انہی کے نام کو آنکھوں کی روشنی اور انہی کی یاد کو زبان کی مٹھاس بنایا ہے۔

یہ سب تو اللہ کا حق ہے۔ ہر دور میں تھا۔ ہر دور میں رہے گا۔ غیر اللہ کی عبادت اور حمد کرنے والے یہ لوگ، انبیائے بنی اسرائیل کے الفاظ میں، اُس عورت کی مانند ہیں جو اپنے شوہر کو چھوڑ کر دوسرے مردوں کے ساتھ بدکاری کرتی ہے۔اس کے برعکس اللہ کے رسولوں کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا جینا مرنا سب اللہ کے لیے ہوتا ہے۔وہ ہر مشکل میں اسی پر بھروسہ کرتے اور ہر کامیابی پر اسی کی حمد کے ترانے پڑھتے ہیں۔ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے عرب پر غلبہ کے بعد صفا پہاڑ پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی جو حمد کی، اس کے الفاظ یہ ہیں۔

"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہاہے اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور حمد بھی اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے"۔ (مسلم،رقم 1218)

اللہ تعالیٰ نے فرعون کو جب غرق کیا اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی قوم کو سمندر سے سلامتی کے ساتھ گزاردیا تو اس موقع پر حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کی انتہائی خوبصورت انداز میں حمد و ثنا کی ۔ اس حمد کا ایک جملہ یہ ہے۔

’’[ان جھوٹے] معبودوں میں، اے خداوند، تیری مانند کون ہے‘‘۔ (خروج 15:11)

ان دونوں پیغمبروں کی ذات رہتی دنیا تک اس بات کا بھی نمونہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے کیسے ہوتے ہیں اور اس بات کا بھی کہ ایسے وفاداروں کو وہ کس طرح نوازتا ہے۔ مگر اس کی عطا اسی پر بس نہیں، وہ تو ایسا کریم ہے کہ لوگوں کو غیر اللہ کی پرستش کرتے دیکھتا ہے، پھر بھی ان پر اپنی نعمتوں کے دروازے بند نہیں کرتا۔

وفاداروں کو دینے والے تو بہت ہوتے ہیں، مگر بے حیا اور بے وفا لوگوں پر رحم کرنے والی ایک ہی ہستی ہے؛ اللہ جس کے سوا کوئی رب نہیں۔ وہ جب اپنے وفاداروں کو نوازے گا تو دنیا دیکھے گی۔ سو اب جو جس کو چاہے اپنی وفا کا مرکز و محور بنا لے۔ نبیوں کے طریقے پر چلنے والے، مرتے دم تک خدا کی محبت سے سرشار، یہی کہتے رہیں گے۔

[ان جھوٹے] معبودوں میں، اے خداوند، تیری مانند کون ہے؟ 

 مصنف: ریحان احمد یوسفی(ابو یحییٰ)

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

حجاج کرام کے لیے الوداعی نصیحتیں - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

ہجرتِ مصطفی کا منظوم واقعہ

الفاظ کی نئی دنیا (صراحہ)

زمرہ جات

رمضان غزلیں امید سوئے حرم سورہ البقرہ دعا سفرِ حج استقبال رمضان، ایمان، میرے الفاظ خطبہ مسجد نبوی میری شاعری پاکستان شاعری یاد حرم لبیک اللھم لبیک محبت خلاصہ قرآن سفرنامہ صراط مستقیم شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، کچھ دل سے حکمت کی باتیں دوستی سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر آزادی باغبانی عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی معلومات یوم دفاع آبِ حیات جنت خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر جنت کے پتے حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورہ المؤمنون سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل