قائد سا رہبر



ہمیں اب پھر ضرورت ہے
کسی قائد سے رہبر کی
جو اس ٹوٹی بکھرتی قوم کو پھر ایک جاں کردے
کہ اس کی رہبری میں پھر چلے یہ کارواں اپنا
اور اپنے دیس کو اک بار پھر سے ہم کریں تعمیر
بھلا کے دل سے ہر نفرت
نہ قوموں میں بٹیں ہم یوں
بس اک قوم بن کر پھر سے اس دنیا پہ چھا جائیں
ہمیں اب پھر ضرورت ہے
کسی قائد سے رہبر کی
ہماری ڈوبتی کشتی کو لہروں سے نکالے جو
ہمیں یکجا کرے اور کشتی کو سنبھالے جو 

سیما آفتاب

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

آٹھ مصیبتیں

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-10

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل