کسی کے نام دل کا انتساب لکھ رہے تھے ہم


حیات و کائنات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم
جہاں جہاں ثواب تھا عذاب لکھ رہے تھے ہم 
 
ہماری تشنگی کا غم رقم تھا موج موج پر
سمندروں کے جسم پر سراب لکھ رہے تھے ہم 
 
سوال تھا کہ جستجو عظیم ہے کہ آرزو
سو یوں ہوا کہ عمر بھر جواب لکھ رہے تھے ہم
 
سلگتے دشت ، ریت اور ببول تھے ہر ایک سو
نگر نگر ، گلی گلی گلاب لکھ رہے تھے ہم 
 
زمین رک کے چل پڑی ، چراغ بجھ کے جل گئے
کہ جب ادھورے خوابوں کا حساب لکھ رہے تھے ہم
 
مجھے بتانا زندگی وہ کون سی گھڑی تھی جب
خود اپنے اپنے واسطے عذاب لکھ رہے تھے ہم 
 
چمک اٹھا ہر ایک پل ، مہک اٹھے قلم دوات
کسی کے نام دل کا انتساب لکھ رہے تھے ہم

عزیز نبیل


تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

حجاج کرام کے لیے الوداعی نصیحتیں - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

ہجرتِ مصطفی کا منظوم واقعہ

الفاظ کی نئی دنیا (صراحہ)

زمرہ جات

رمضان غزلیں امید سوئے حرم سورہ البقرہ دعا سفرِ حج استقبال رمضان، ایمان، میرے الفاظ خطبہ مسجد نبوی میری شاعری پاکستان شاعری یاد حرم لبیک اللھم لبیک محبت خلاصہ قرآن سفرنامہ صراط مستقیم شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، کچھ دل سے حکمت کی باتیں دوستی سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر آزادی باغبانی عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی معلومات یوم دفاع آبِ حیات جنت خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر جنت کے پتے حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورہ المؤمنون سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل