اتوار, اپریل 23, 2017

اپنائیت کبھی نہ چھوڑو دوبارہ پوچھو


ڈپریشن
دبے پاؤں آ کر بیٹھ جاتا ہے
ہمارے اندر
چپ چاپ

اندھیرے کسی کونے میں
چلو اسے جانیں
پہچانیں

ہلکی سی بھی کوئی نظر چھپائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو دیکھیں دوبارہ

تھوڑا سا بھی کوئی ڈگمگائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو تھامیں دوبارہ

ذرا سا بھی کچھ صحیح نہ لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پوچھیں دوبارہ

پروا ہے 

تو دوبارہ پوچھو

بشکریہ

تدبر القرآن۔۔۔۔ سورۃ البقرہ۔۔۔۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔۔۔۔ حصہ- 39

تدبر القرآن
سورۃ البقرہ
نعمان علی خان
حصہ- 39
فإذا قرأۃ القرآن فاستعذ بالله من الشيطان الرجيم 

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 
وَبَشِّرِ الَّذِين آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُواْ مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقاً قَالُواْ هَـذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأُتُواْ بِهِ مُتَشَابِهاً وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔ 25

خوش خبری دیجیے لوگوں کو.

 یہ پیغمبر اسلام کی سنت ہے. اللہ کی طرف سے مصحف میں وہ پہلا حکم جو براہ راست پیغمبر اسلام کو دیا گیا ہے. کیا ہے بھلا ؟ *بَشِّر* مبارکباد دیں. خوشخبری دیں. یہاں اللہ تعالٰی ایمان والوں کو انداز سکھا رہے ہیں کہ دعوت کا کام کیسے کرنا ہے؟ 

*وَبَشِّرِ الَّذِين آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ* 

اس آیت میں لفظ *عملو* کا استعمال کیا گیا . اعمال الصالحات یعنی نیک اعمال. صالحات= جمع مؤنث سالم ہے. جمع کی چھوٹی مقدار. خوشخبری دیں ان کو جو ایمان لائے اور چند (گنے چنے) نیک اعمال سر انجام دیئے. اللہ تعالٰی ہم سے کوئی لمبی چوڑی فہرست کی پیروی نہیں چاہتے. وہ ہم سے، ایمان کے بعد، چند بنیادی نیک اعمال کی پابندی چاہتے ہیں.
لوگ اکثر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے پاس آتے اور کہتے کہ آپ (صل اللہ علیہ و آلہ و سلم) ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیے کہ جس کو اختیار کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں. رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ان کو یہ نہیں کہتے تھے کہ آؤ بیٹھو اور پھر ان کو کوئی 800 اعمال کی فہرست تھما دیتے . کہ تمہارے دل کی صفائی کے لیے یہ یہ ضروری ہے اور صرف انہی طریقوں پر عمل کر کے ہی تمہارا تزکیہ ہو گا."
آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا نئے مسلمانوں کی تربیت کا یہ انداز نہیں تھا. بلکہ کسی شخص کے مزاج کو دیکھتے ہوئے آپ کہتے.. *لا تغضب*.. غصہ مت کرو. کسی دوسرے کو نصیحت کرتے. *اپنی والدہ سے احسن سلوک کرو*.. کسی کو محض،*لا الہ الا اللہ* پڑھنے کی تلقین کرتے. کہ اپنے ایمان کی مضبوطی کیلئے اسے لازم پکڑ لو. اب دیکھیے کیا رسول اللہ ہر شخص کو ایک ہی نصیحت کرتے تھے؟ نہیں! بلکہ وہ لوگوں کی پہلے روحانی، اور نفسیاتی تشخیص کرتے تھے اور پھر ان کو عمل کیلئے صرف ایک بات بتاتے تھے. جس پر عمل کر کے وہ بہتر انسان، اچھے مسلمان بن سکیں. آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) لوگوں پر ایک دم بہت زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے تھے. کہ عمل پر عمل. یا تاکید پر تاکید. 

اچھا تو اب آپ کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟ ان موسمیاتی/اتفاقی طالب علموں سے جو کبھی کبھار ہی مسجد کا رخ کرتے ہیں. اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو فجر کی نماز کیلئے مسجد آتے ہیں، ان کی عبادت کا درجہ بلند ہے اور وہ اکثر روزے بھی رکھتے ہیں. اچھی باتیں ان کے لیے مزید نیک اعمال کی تحریک بنتی ہیں.... لیکن یہاں ذکر ان لوگوں کا ہے جو بمشکل اسلام کو قائم رکھ پا رہے ہیں. وہ کسی ایک چیز کو پکڑنا چاہتے ہیں. ان کو لمبی فہرست کی ضرورت نہیں ہے. وہ صرف ایک بات دریافت کر لیں کہ جس پر استقامت اختیار کر کے وہ جنت کا راستہ پا جائیں..

استاد نعمان علی خان
جاری ہے..........

جمعہ, اپریل 21, 2017

خطاب بہ جوانان اسلام ... از علامہ اقبال



خطاب بہ جوانان اسلام
علامہ محمد اقبال

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا

تمدن آفریں خلاق آئین جہاں داری
وہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارا

سماں ‘الفقر فخری’ کا رہا شان امارت میں
”بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روے زیبا را”

گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا

غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے
جہاں گیر و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا

اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارا

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سیارا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارا

مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

”غنی! روز سیاہ پیر کنعاں را تماشا کن
کہ نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را”

تدبر القرآن ۔۔۔ سورہ العلق ۔۔۔ پروفیسر محمد عقیل

سورہ العلق کی تشریح
پروفیسر محمد عقیل
پس منظر
سورہ العلق کی ابتدائی پانچ آیات وہ پہلی وحی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں۔ ان پانچ آیات کے بعد دیگر آیات کچھ عرصے بعد نازل ہوئیں۔

۱۔ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِىْ خَلَقَ (1)
اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے سب کو پیدا کیا۔

تشریح: عام طور پر اس آیت کے پہلے لفظ پر بہت زیادہ فوکس کیا جاتا ہے جس کی بنا پر اس آیت کا پورا مفہو م ہی بدل جاتا ہے۔ یہاں اقرا کا لفظ ایک حکم اور ہدایت ہے۔ جیسے قرآن میں کئی مقامات پر نبی کریم کو کہا گیا کہ ” قل” یعنی کہہ دو۔ تو اسی طرح یہاں اللہ تعالی فرشتے کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے رہے ہیں کہ ” پڑھو” یعنی جو کچھ وحی تمہیں دی جارہی ہے اسے پڑھو۔ اسی لیے جب جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غار حرا میں ملے اور وحی کا یہ ابتدائی حکم دیا کہ ” پڑھو” تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ” ماانا بقاری ” یعنی میں تو پڑھا ہوا نہیں تو کیسے پڑھوں یا کیا پڑھوں۔
تو اگر ہم اقرا کے لفظ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جانے والی ایک کمانڈ یا ہدایت مان لیں باقی آیت کا مفہوم کم و بیش وہی ہے جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا ہے۔ یعنی ” باسم ربک الذی خلق”۔ یعنی ابتدا ہے تمہارے رب کے نام سے جس نے تخلیق بھی کیا۔ یہ ابتدا ہے قرآن کی اور انسانیت کو دی جانے والی آخری وحی کی۔ اور اس کی ابتدا ہوتی ہے پالنے والے یعنی رب کے نام سے جو خالق بھی ہے۔ یہاں رب اور خالق کی دو صفات کا مطلب اس وقت دیگر مذاہب میں ہائی جانے والے تصورات کی نفی کرنا تھا جس میں پالنے والا خدا الگ اور پیدا کرنے والا الگ ہوتا ہے۔ مشرکین مکہ کے مختلف بتوں کے فنکشنز مختلف تھے۔ کوئی پیدا کرنے والا، کوئی پالنے والا ، کوئی حفاظت کرنے والا تو کوئی کوئی اور کام کرنے والا تھا۔اس پہلی آیت نے اس پورے فلسفے کو منہدم کردیا۔ یہ بتادیا کہ رب یعنی پالنے والا وہی ہے جس نے پیدا کیا اور یہ کوئی اور نہیں ہے۔
اس آیت کو دیکھیں تو یہ دراصل وحی کی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ابتدا ہے البتہ یہاں الفاظ مختلف ہیں۔

۲۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2)
انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔

پچھلی آیت وحی کی ابتدا تھی تو یہ آیت انسان کے مادی وجود کی ابتدا کو بیان کرتی ہے۔ قرآن نے اس زمانے میں یہ بات کہہ دی کہ انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ یہ رحم مادر میں نر اور مادہ کے ملاپ کے بعد زائگوٹ کی جانب اشارہ ہے جو ایک خون کے لوتھڑے یا جمے ہوئے خون کی مانند ہی ہوتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وحی کی ابتدا ہی میں اس دوسری آیت میں تخلیق کا یہ عمل بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ یہاں دراصل وحی بھیجنے والی ہستی کا تعارف کرایا جارہا ہے۔ کہ وہ رب ہے، وہ خالق ہے تو اب اگر وہ خالق ہے تو اس کا ثبوت کیا ہے کہ وہی خالق ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے تخلیق کا وہ مرحلہ بیان کردیا جو اس وقت انسان کے علم میں نہیں تھا۔ ظاہر ہے یہ مرحلہ ایک خالق ہی جان سکتا ہے۔
یہ مرحلہ اولین مخاطبین یعنی مشرکین مکہ کے لیے اہم نہیں تھا کیونکہ اس وقت وہ سائنسی علم کے ارتقا کے بغیر اس سچائی کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔ وہ خون کے لوتھڑے کو ایک دوسری فارم میں جانتے تھے۔البتہ انہیں اس بات کا شعور ضرور تھا کہ انسان ایک حقیر سے نطفے سے پیدا ہوتا ہے۔
یہاں یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ وحی جس ہستی کی جانب سے بھیجی جارہی ہے وہ کتنی عظیم اور قدرت رکھتی ہے کہ ایک جمے ہوئے خون سے زندگی پیدا کرتی ہے۔ یہ اس کی عظمت کی وہ دلیل ہے انسان کی نظروں کے سامنے ہے ۔ تو اسی وحی میں جب آگے یہ بتایا جائے گا کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا تو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس وحی اور اس پیغام کا بھیجنے والا کوئی معمولی نہیں بلکہ ہر شے پر قاد ر ہے۔

۳۔ اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ (3)
پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کرم والا ہے۔

یہاں دوبارہ وہی لفظ ” اقرا” یعنی پڑھو استعمال ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تصور کیجے کہ وہ ایک غار میں موجود ہیں اور خدا کا فرشتہ ان سے ہم کلام ہے۔ وہ اپنی زندگی میں پہلی باراس تجربے سے براہ راست گذررہے ہیں ، ایک عجیب مقام حیرت ہے، ذہن میں کئی سوالات پوشیدہ ہیں۔ اس کیفیت میں فرشتہ ان سے مخاطب ہے تو وہ دوبارہ ہدایت کرتا ہے کہ اس مقام حیرت اور ان سوالات کو فی الحال پس پشت ڈالیے اور پھر پڑھیے۔اور گھبرائیے نہیں ، یہ کلام جس ہستی کی جانب سے آرہا ہے وہ کوئی جابر، قاہر ،ظالم اور متشدد قسم کی ہستی نہیں ۔ بلکہ وہ تو انہتائی کریم ، شفیق ، مہربان اور خیال رکھنے والی ذات ہے۔ وہ آپ کے تمام سوالات کے جواب دے گی، آپ کی اس حیرت کو دور کردے گی، وہ آپ کے اضطراب کو سکون میں بدل دے گی۔ یہ وہ پیغام ہے جو اس آیت میں خدا نے اپنے نبی کو دیا۔
دوسری جانب یہ آیت اپنے دوسرے مخاطبین کو وحی بھیجنے والی ہستی کی چوتھی صفت سے آشنا کرتی ہے۔ پہلی آیت میں بتایا گیا کہ اس کلام کا بھیجنے والا رب بھی ہے ، خالق بھی ہے اور قادر مطلق بھی ہے۔ اب یہاں بتایا جارہا ہے کہ وہ بہت ہی کرم ، لطف، مہربانی والا خدا ہے۔ وہ بے شک سب سے بلندو بالا ہے لیکن دنیاوی حکمرانوں کی طرح وہ کوئی سخت مزاج یا تشدد کرنے والا نہیں ہے۔ وہ اپنی بات جو بھیج رہا ہے وہ کوئی عذاب کا پیغام نہیں بلکہ انسانیت کے رحمت ہے۔وہ اپنی بات اس وقت ماننے کا مکلف انسان کو ٹھہراتا ہے جب وہ اچھی طرح سمجھادے اور مخاطب یہ بات اچھی طرح سمجھ لے۔ وہ اپنی مرضی اگر تھوپنا چاہتا تو اس پیغام کے بغیر ہی یہ کام کردیتا۔ لیکن وہ تو کریم النفس ہستی ہے۔

۴۔ اَلَّذِىْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ(4)
جس نے قلم سے سکھایا۔

یہ وہ ذات ہے جس نے انسان کو سکھایا۔ یہاں قلم ایک ٹول کے طور پر بیان ہوا ہے۔ دیکھا جائے تو قلم یہاں مجازی معنوں میں ہے حقیقی معنوں میں نہیں۔ اگر ہم دیکھیں تو پین یا قلم انسانی تاریخ میں بالکل ابتدا سے موجود نہیں تھا۔ پہلے انسان اپنے خیالات کے اظہار کے لیے کلام، تصاویر ، بت اور دیگر طریقوں سے کیا کرتا تھا۔ اس کے بعد انسان کی تاریخ میں قلم اگر آیا بھی تو وہ عوام کی بجائے مخصوص طبقات کے استعمال میں تھا ۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بہت کم لوگ لکھنا اور پڑھنا جانتے تھے اور خود نبی کریم بھی لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تھے۔
تو اگر یہاں قلم سے مراد پین یا پر لیا جائے تو یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ انسان کو ابتدا ہی سے قلم سے سکھایا گیا اور نہ ہی ہر انسان نے قلم سے سیکھا۔ بلکہ ہم دیکھیں تو آج بھی ایک بچہ اپنی ابتدائی زندگی میں جو کچھ سیکھتا ہے وہ قلم کے بغیر ہی ہوتا ہے۔اگر یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جانے والی وحی مراد لی جائے تو یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ حضرت جبریل نے اس وقت قلم استعمال نہیں کیا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں قلم سے کیا مراد ہے۔ قلم درحقیقت ایک ٹول یا آلے طور پر استعمال ہوا ہے۔ قلم کا کام انسانی کی سوچ ، علم اور خیالات کو منتقل کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر وہ چیز یا طریقہ کار جو علم کو آگے پہنچانے کا سبب بنے وہ قلم کی ذیل میں آجائے گا۔ چنانچہ یہاں قلم سے مراد ہر وہ کمیونکیشن یا ابلاغ کا ذریعہ ہے جس سے علم ایک شخص سے دوسرے شخص، ایک گروہ سے دوسرے گروہ اور ایک زمانے سے دوسرے زمانے میں منتقل ہوتا ہے۔ اس میں قلم ، کمپیوٹر، زبانی تقریر، تصویر ، ہر طرح کی کمیونکیشن کا ذریعہ شامل ہے۔
اس آیت کا اصل پہلو قلم نہیں بلکہ سکھانے کا عمل ہے۔ قلم کا ذکر تو یہاں ضمنا آگیا ہے۔ اصل فوکس اس بات پر ہے کہ انسان کو سکھایا اور اسے علم دیا۔ اس سے پچھلی آیت میں بات یہ ہوئی تھی کہ انسان کے حیوانی وجود کی ابتدا کس طرح جمے ہوئے خون سے ہوئی۔ اب یہاں انسا ن کے روحانی وجود کی ابتدا کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ کس طرح انسان کو سکھا کر اور اسے علم دے کر دیگر مخلوقات سے ممتاز کیا گیا۔ یہاں اسی خالق کی صفت خلاق کی جانب اشارہ ہے کہ اس سنے انسان کے حیوانی وجودکو تخلیق کرنے کے بعد تنہا نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کو وہ سب کچھ سکھایا جس کی اسے ضرورت تھی۔
یہاں پس منظر واضح رہے کہ خدا انسانیت سے اپنے آخری آفیشل پیغام میں پہلی بار مخاطب ہورہا ہے۔ تو یہ بات بتائی جارہی ہے کہ یہ وحی بھی اسی سکھانے کا عمل ہے۔ یہ وہ پیغام ہے جس کی انسانیت کو ضرورت ہے اور اس کا سیکھنا اور اس کا جاننا بھی دیگر چیزوں کی طرح ضروری ہے۔ سیکھنے کا عمل انسانی عقل سے متعلق ہے۔ اس لیے یہ آیت علم اور عقل کی اہمیت کو بھی بیان کرتی ہے۔ عقل نہ ہو تو انسان پر نہ تو کوئی دنیاوی قانون لاگو ہوتا ہے اور نہ کوئی دینی حکم۔ اسی لیے عقل کا ہونا ، اس کا استعمال کرنا اور اس کا درست استعمال کرنا ہی اصل مقصد ہے۔
یہ آیت اللہ کی صفت علیم و حکیم کی جانب اشارہ کررہی ہے۔

۵۔عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ(5)
انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔

اس آیت میں یہ بتادیا کہ انسان کو جو کچھ بھی علم ملا ہے وہ خدا کی جانب سے ملا ہے۔انسان کو اللہ تعالی نے جو علم دیا ہے وہ اس کی فطرت و جبلت اور وجدان کے ساتھ ساتھ وحی کے ذریعے بھی دیا ہے۔ اسی طرح انسان اپنے تجربات سے بھی بہت کچھ سیکھتا اور اپنا علم اگلی نسل کو منتقل کرتا ہے۔ اگر ہم دنیا کے علم کو دیکھیں تو کھیتی باڑی کرنا، کھانا پکانا، شکار کرنا، جنسی تعلق قائم کرنا، رہائش تعمیر کرنا ، لباس پہننا ، اسلحہ بناناوغیرہ وہ علوم ہیں جو انسان کو جبلت ، فطرت ، وجدان اور وحی کے ذریعے ملے ہیں۔ اگر انسان ان سب علوم کو مائنس کردے تو اس کی زندگی غاروں کے دور میں چلی جائے گی۔یہی حال تمام سائنسی ایجادات کا ہے۔ ان کو بنانے میں خدا کی جانب سے راہنمائی ہر لمحہ پیش پیش رہی ہے۔
تو علم عطا کرنا خدا کی دین ہے اور یہ وہ سار ا کا سارا علم ہے جو انسان نہیں جانتا تھا بلکہ اسے مختلف طریقوں سے سکھایا گیا۔ اس آیت میں ایک جانب تو اللہ کی ربوبیت اور خلاقی کی جھلک ہے تو دوسری جانب یہ پیغام بھی دیا جارہا ہے یہ وحی بھی اسی نوعیت کا علم ہے جو ماضی میں خدا انسانوں کی ہدایت کے لیے نشر کرتا رہا ہے ۔ دیگر علوم کی طرح یہ علم بھی اللہ کی جانب سے ہے اس لیے اس میں کوئی شک نہیں ہوناچاہیے۔ اس علم میں اور دیگر علوم میں کچھ قدر مشترک اور کچھ بات مختلف ہے۔
اس وحی کے علم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ براہ راست عالم کے پروردگار نے اپنے الفاظ میں نازل کیا ہے جبکہ دیگر علوم بالواسطہ طور پر انسان کو وجدانی طور پر عطا کیے جاتے ہیں۔ دوسرا اہم فرق یہ ہے کہ دیگر علوم کے منتقل ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک نسل اپنے سے اگلی نسل کو یہ منتقل کرتی ہے جبکہ یہ علم ایک ہی شخص کو عطا کیا جارہا ہے اور یہاں سے اس کا انتقال ہوگا۔ تیسر ی چیز یہ ہے اس علم کے ماننے اور نہ ماننے کا نتیجہ باقی علوم کی طرح نہیں ہوگا۔ اگر کسی نے یہ سمجھ لیا کہ یہ خدا کی جانب سے ہے اور اس کے باوجود نہیں مانا تو اس کا انکار خدا کی توہین کے مترادف ہوگا۔ جس کا نقصان بھگتنا پڑے گا۔
یہ آیت خدا کے رحمان و رحیم ہونے کی جانب اشارہ کررہی ہے کہ اس کی کرم نوازی کہ اس نے انسان کو و ہ سب سکھادیا جس کی اسے ضرورت تھی۔

ابتدائی پانچ آیات کا خلاصہ
یہ پانچ آیات انسانوں کو ایک عظیم ہدایت دینے سے قبل ایک تعارف کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں یہ بتایا گیا کہ یہ پیغام کسی انسان ، فرشتے، جن یا دیگر مخلوق کی جانب سے نہیں ہے ۔ اس کی نسبت عالم کے پروردگار کی جانب ہے ۔ اسی لیے یہ کہا گیا کہ ” اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا”۔ یعنی یہ پیغام اسی رب کے نام سے ہے جو خالق بھی ہے۔ وہ قادر مطلق خالق بھی ہے جس نے جمے ہوئے خون سے انسان کے حیوانی وجود کو پیدا کیا۔ وہ رب یاآقا انتہائی کرم کرنے والا ہے ۔ اسی کرم کا تقاضا اور نتیجہ ہے کہ انسان کو مختلف ذرائع سے سکھایا اور عقل عطا کی اور وہ سب کچھ سکھایا جو اس کی دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ یہ وحی بھی اسی سکھانے کا عمل کا تسلسل ہے جو ایک کریم ، قادرالمطلق ،علیم اور حکیم آقا کی جانب سے عطا کی جارہی ہے۔

اگلی آیات
جیسا کہ ان آیات سے پتا لگ رہا ہے کہ آگے کی آیات کچھ عرصے بعد نازل ہوئیں۔ یعنی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائی پانچ آیات وحی کی گئیں تو آپ پر نفسیاتی طور پر ایک تردد و خوف کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ نے سب سے پہلے اس کا اظہار اپنی بیوی حضرت خدیجہ اور اپنے دوست ابوبکر صدیق سے کیا۔ دونوں نے آپ کو تسلی دی کہ یہ جو کچھ بھی ہے اس سے آپ کو نقصان نہیں پہنچنے والا کیونکہ آپ تو خود اک نیک سیرت انسان ہیں۔ حضرت خدیجہ کے کزن ورقہ بن نوفل نے تصدیق کی کہ یہ وہی وحی کا علم ہے جو ماضی میں بھی لوگوں کو دیا گیا ہے۔
اس ابتدائی بات چیت کے بعد ظاہر ہے یہ بات آہستہ آہستہ مکہ میں پھیلی ہوگی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی خوشی، غمی اور حیرت سب سے پہلے اپنے قریبی ساتھیوں اور رشتے داروں ہی سے شئیر کرتا ہے۔ تو نبی کریم نے یہ دعوت اسی فطری جذبے کے تحت اور خدا کے حکم سے اپنے قریبی رشتہ داروں کے سامنے رکھی۔ اس وقت نبی کریم کی عمر صرف چالیس سال تھی اور آپ کے رشتے داروں میں بہت سے لوگ آپ سے دنیاوی رتبے اور عمر میں بڑے تھے۔ ان میں سب سے اہم ابولہب ، ابوجہل اور ابوطالب تھے جو نبی کریم کے چچا بھی تھے اور بنی ہاشم قبیلہ کے کرتا دھرتا تھے۔
ابوجہل کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے مخالفت کا آغاز ہوا کیونکہ آپ کے اور ابوجہل کے مکانات بھی قریب قریب تھے۔ ایک تو رشتہ داری کی قربت دوسرے ہمسائیگی۔ آپ کی خواہش یہی ہوگی کہ ابوجہل چچا کی حیثیت سے آپ کو سپورٹ کریں اور اس مشکل وقت میں کام آئیں۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ اسی پہلے کھلم کھلم اختلاف کو قرآن نے موضوع بنا کر بیان کیا۔ اس کے بیان کی وجہ اس کا خلاف توقع ہونا ، اسکی شدت اور بے اصولی تھی۔ اسی پس منظر میں ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔

۶۔ كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى (6) اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى (7)اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰى(8)
ہرگز نہیں، بے شک آدمی سرکش ہو جاتا ہے۔جب کہ اپنے آپ کو غنی پاتا ہے۔بے شک آپ کے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

یہاں بات عمومی طور پر بیان ہوئی ہے ۔ وحی کی دعوت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی تجربات سے گزرنا تھا اور اس میں سب سے پہلا تجربہ یہی اصول تھا کہ انسان کے جب سارے مسائل حل ہورہے ہوتے ہیں تو اس سے اس میں سرکشی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ رویہ قریش کی لیڈر شپ میں بالکل عام تھا اور ابتدا میں جو لوگ ایمان لائے تھے وہ غریب لوگ تھے۔ حالانکہ انسان جانتا ہے کہ وہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر چلا جائے گا۔ تو جو چیز اس میں تکبر پیدا کررہی ہے وہ تو ایک عارضی چیز ہے۔
یہی اصول آج کے دن بھی موجود ہے۔ خدا کی یاد سے غافل بالعموم امیر اور دولت مند ہی ہوتے ہیں۔ انہیں خدا کا حکم ماننا برا لگتا ہے کیونکہ وہ خود کو لاشعور ی طور پر بڑا سمجھتے اور قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ وہ ہر اصول، قانون اور حکم کو پیسوں سے خریدنا چاہتے ہیں۔ یہیں سے ان کی گمراہی اور تباہی کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔

۷۔ اَرَاَيْتَ الَّذِىْ يَنْهٰى (9)عَبْدًا اِذَا صَلّىٰ (10)
کیا آپ نے اس کو دیکھا جو منع کرتا ہے۔ایک بندے کو جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے۔

یہاں وہی ابوجہل کی جانب اشارہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ابوجہل نے نہیں ماننا تھا تو نہ مانتا ، وہ نبی کریم کو دعوت دینے سے کیوں روکنے لگا خاص طور پر جب آپ مراسم عبودیت ادا کررہے تھے اس وقت۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ ابوجہل قریش کے لیڈروں میں سے تھا۔ خانہ کعبہ میں بت پرستی اس وقت اہل مکہ اور بالخصوص قریش کے لیے ایک معاشی فائدہ کے باعث تھی۔ لوگ دوردراز کے علاقوں سے یہاں حج اور عمرہ کرنے اور اپنے بتوں کو چڑھاوے چڑھانے کے لیے آتے تھے۔ ظاہر ہے، اگر بت پرستی کا خاتمہ ہوتا تو قریش کو ملنے والی ایک بڑی رقم سے ہاتھ دھونا پڑتے۔ اس کے علاوہ نبی کریم کو رسول ماننے کے بعد سیاسی حکمرانی بھی ممکنہ طور پر قریش کی اس وقت کی لیڈرشپ کے ہاتھوں سے نکل جاتی۔
اس تناظر میں ابوجہل نے نہ صرف دعوت کا انکار کیا بلکہ اس کا سب سے بڑا مخالف بن کر کھڑا ہوگیا۔ ان آیات میں اسی جانب اشارہ ہے کہ ابوجہل کو تم نے دیکھا کہ کس طرح اس نے ہمارے بندےمحمد کو اپنے رب کے آگے جھکنے سے روک دیا۔
ابوجہل کی دوسری حیثیت مذہبی نظام کے پیشوا اور کرتا دھرتا کی تھی۔ اس کی مخالفت کی ایک دوسری وجہ یہی مذہبی پروہتوں کی نمائندگی تھی۔ امیروں کے بعد دوسرے لوگ جو غنی ہوتے ہیں اور لاپرواہی کا شکار ہوسکتے ہیں وہ مذہبی لیڈرشپ ہے۔ ان کے پاس دولت کے برعکس ایک دوسری طاقت ہوتی ہے اور وہ ہے خدا کے نام پر لوگوںکو احکامات دینا۔ اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس طاقت کا غلط استعمال کرلیں گے۔ چنانچہ ماضی میں بنی اسرائل کے علماء نے یہی کیا یہاں تک کہ اپنی مذہبی گدی بچانے کے لیے حضرت مسیح علیہ السلام تک کو پھانسی چڑھانے کی کوشش کی۔
اسی خدشے کا اظہار نبی کریم نے اپنی امت کے لیے کیا تھا کہ تم ضرور یہود و نصاری کی پیروی کروگے۔ یہی معاملہ ہماری مذہبی لیڈرشپ کے ساتھ ہوچکا ہے۔ آج مدارس میں جب بھی اصلاحات لانے کی بات کی جاتی ہے تو اسی قسم کی مخالفت ان کی جانب سے پیدا ہوتی ہے۔

۸۔اَرَاَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰٓى (11)اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى(12)
بھلا دیکھو تو سہی اگر وہ راہ پر ہوتا۔یا پرہیز گاری سکھاتا۔

یہاں اس تاسف کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ابو جہل ایک لیڈر ہونے کے ناطے اور نبی کریم کا قرابت دار ہونے کے ناطے خود ہدایت کو قبول کرتا اور اسی تقوی کا حکم دیتا جو نبی کریم دے رہے تھے۔ لیکن و ہ اس مشن میں ساتھی بننے کی بجائے مخالف بن گیا۔

۹۔ اَرَاَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّىٰ (13) اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى (14)
بھلا دیکھو تو سہی اگر اس نے جھٹلایا اور منہ موڑ لیا۔تو کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔

یہ ابوجہل کے برے رویے اور باڈی لینگویج کی جانب اشارہ ہے۔ کہ اس نے اس حق میں ساتھی بننے کی بجائے اسے جھٹلادیا اور منہ موڑ لیا۔ اگلی آیت میں یہ بتایا جارہا ہے کہ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ابوجہل کو ئی ملحد نہیں تھا بلکہ وہ خدا کو مانتا تھا اور اپنے مذہب کا پیروکار تھا۔ وہ اصلا مذہب ابراہیمی کا پیروکار تھا اور جانتا تھا کہ اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ اس علم کے باوجود اس کا نبی کریم سے پرتشدد رویہ یہ بتارہا تھا کہ وہ انتقام کی آگ میں اس حد تک آگے جاچکا تھا کہ اپنے مذہب کی اقدار بھی فراموش کربیٹھتا تھا۔

۱۰۔ كَلَّا لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (15) نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ(16)
ہرگز ایسا نہیں چاہیے، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔پیشانی جھوٹی خطا کار۔

یہاں ابوجہل کو وارننگ دے دی گئی تھی کہ تمہار ا معاملہ کسی عام انسان سے نہیں بلکہ عالم کے پروردگار سے ہے۔ یہاں پیشانی کے بال سے پکڑ کر گھسیٹنے کا جملہ اپنے مجازی معنوں میں ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوزخ کے فرشتے اس طرح گھسیٹیں گے۔ ایک دوسری تعبیر یہ ہے کہ انسان کی پیشانی کے سامنے والا حصہ بہت اہم ہوتا ہے ۔ اگر اسے نقصان پہنچ جائے انسان کی عقل ختم ہوسکتی اور وہ دماغی طور پر بالکل معذور ہوسکتا ہے۔ تو یہاں اشارہ ہے کہ اگر یہ شخص باز نہ آیا تو ہم اسے نہ صرف جاہل بنادیں گے بلکہ جاہلوں کے سردار کے نام سے رہتی دنیا تک زندہ رکھیں گے۔ واضح رہے کہ ابوجہل کا اصل نام عمرو ابن ہشام تھا۔ ابوجہل یعنی جاہلوں کا سردار کا لقب تو اسے بعد میں ملا جب اس نے اسلام کی مخالفت میں انتہائی درجے کی جہالت کا اظہار کیا۔ یہی ابوجہل کا لقب اس آیت میں کی گئی پیشن گوئی کا اظہار ہے۔

۱۱۔ فَلْيَدْعُ نَادِيَهٝ (17) سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ (18)
پس وہ اپنے مجلس والوں کو بلا لے۔ہم بھی مؤکلین دوزخ کو بلا لیں گے۔

یہاں یہ وارننگ شدید رخ اختیار کررہی ہے ۔ چونکہ ابو جہل کی مخالفت اب اس مقام پر پہنچ گئی تھی کہ اس نے تشدد کا رخ اختیار کرلیا تھا۔ تو یہاں پہلے تو اسے ڈائیلاگ کی دعوت دی گئی کہ وہ بھی اپنا جتھا لے آئے تو ہم بھی اپنا جتھا لے آتے ہیں اور بات کرکے دیکھ لیتے ہیں کہ کون جاہل ہے۔

۱۲۔كَلَّا ۖ لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ ۩ (19)
ہرگز ایسا نہیں چاہیے، آپ اس کا کہا نہ مانیے اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے۔

یہاں نبی کریم کو حکم دیا جارہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اس کی باتوں کی طرف توجہ فرمالیں۔ دراصل یہاں نبی کریم کو مخاطب کرنے کے  ساتھ بالواسطہ نومسلموں کو مخاطب کیا جارہا ہے کہ تم ان کی باتوں میں نہ آجانا، اس کے تشدد کی پروا مت کرنا، اس کی ظلم ستم سے نہ گھبرانا۔ بس جب بھی اس کی باتوں سے یا تشدد سے تکلیف ہو تو اللہ کا قرب تلاش کرکے اور خواہشات و جذبات کو خدا کے آگے سرنگوں کردینا۔

جمعرات, اپریل 20, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 20 اپریل 2017

~!~ آج کی بات ~!~

اپنی ذات کی "کرپشن" ڈھونڈ کر اسے "ضمیر" کی عدالت میں پیش کردیں، ضمیر وہ جج ہے جو کبھی غلط فیصلہ نہیں دیتا۔

از: سید اسرار احمد

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
علامہ محمد اقبال

ویک اپ کال!!

اکثر قدرت ہمیں "ویک اپ کال" دیتی ہے، اپنی راہ درست کرنے کے لیے، اپنی غلطی سدھارنے کے لیے، اپنا محاسبہ کرنے کے لیے، کبھی بیماری کی صورت، کبھی پریشانی کی صورت، کبھی محرومی کی صورت، کبھی نعمت کی صورت،  کبھی خوشحالی کی صورت اور کبھی خوشی کی صورت بھی ۔۔۔ عقل مند وہ ہے جو وقت پہ اس کو پہچان لے اور لوٹ آئے اپنے رب کی طرف۔ ورنہ صرف 'کاش' رہ جاتا ہے زندگی میں۔۔۔۔
 ~ سیما آفتاب ~

" وہ دس دن"
 
وہ ایک تبدیل شدہ انسان تھا، میں اس سے پندرہ سال قبل ملا تو وہ ایک شیخی خور انسان تھا، وہ لمبی لمبی ڈینگیں مار رہا تھا ،،میں نے لانگ آئی لینڈ میں پانچ ملین ڈالر کا فلیٹ خرید لیا، میں نے نئی فراری بُک کروا دی، میں چھٹیوں میں بچوں کو ہونو لولو لے گیا، میں نے پچھلے سال ایدھی فاؤنڈیشن کو پانچ کروڑ روپے کا چیک بھجوا دیا اور آئی ہیٹ دس کنٹری،، وغیرہ وغیرہ، اس کی باتوں میں شیخی، ڈینگ، بناوٹ اور نفرت سارے عناصر موجود تھے۔

میں آدھ گھنٹے میں اکتا گیا، مجھے اس کی رولیکس واچ، گلے میں دس تولے کی زنجیر، بلیک اطالوی سوٹ، ہوانا کا سیگار اور گوچی کے جوتے بھی تنگ کر رہے تھے، وہ سر سے لے کر پاؤں تک دولت کا (بدبودار) اشتہار تھا، وہ میرے دفتر آیا تو وہ پانی کی اپنی بوتل، کافی کا اپنا مگ اور اپنے ٹشو پیپر ساتھ لے کر آیا، وہ ہمارا منرل واٹر تک پینے کے لیے تیار نہیں تھا، وہ ہاتھ ملانے کے بعد جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا، ہاتھ باہر نکالتا تھا اور دونوں ہاتھ رگڑتا تھا، میں نے تھوڑا سا غور کیا تو پتہ چلا اس نے جیب میں جراثیم کش کیمیکل رکھا ہوا ہے، وہ ہاتھ ملانے کے بعد جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا، کیمیکل کی ٹیوب دبا کر مواد لگاتا تھا اور ہاتھ باہر نکال کر دونوں ہاتھ رگڑتا تھا اور اپنے ہاتھ اجنبی جراثیموں سے محفوظ کر لیتا تھا، وہ میرے دفتر کو بھی ناپسندیدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا، وہ آنکھیں چڑھا کر دائیں بائیں دیکھتا اور پھر برا سا منہ بناتا، وہ غیبت کا بھرا ہوا ڈرم بھی تھا۔

میں جس شخص کا نام لیتا تھا وہ اس کے خلاف مقدمے کھول کر بیٹھ جاتا تھا، میں جس مقام، جس شہر اور جس ملک کا تذکرہ کرتا تھا وہ اس کی منفی باتیں بیان کرنے لگتا، وہ حِس مزاح سے بھی عاری تھا، میں نے اسے جو بھی لطیفہ سنایا اس نے برا سا منہ بنا کر مجھے شرمندہ کر دیا، میں آدھے گھنٹے میں اس سے اکتا گیا، قدرت کا غیبی ہاتھ آیا، اس کا ،،گولڈ پلیٹڈ،، موبائل فون بجا، وہ فون اٹھا کر کونے میں گیا اور فون ختم ہوتے ہی افراتفری میں میرے دفتر سے نکل گیا، میں نے چھت کی طرف منہ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، وہ چلا گیا لیکن پندرہ سال ہمارا ای میل اور ایس ایم ایس پر رابطہ رہا، یہ رابطہ بھی عید، شب برات یا یوم آزادی پر مبارک باد اور شکریے تک محدود تھا، مجھے بڑے عرصے بعد پتہ چلا مبارک باد کی یہ ،،ای میلز،، بھی وہ نہیں بھجواتا تھا، اس نے اپنے لیپ ٹاپ میں مبارک باد کا سافٹ ویئر لگا رکھا تھا، یہ سافٹ ویئر فہرست میں موجود لوگوں کو خود بخود پیغام بھجوا دیتا تھا، اس کے ایس ایم ایس بھی خود کار نظام کے تحت دنیا بھر میں پھیلے لوگوں تک پہنچ جاتے تھے۔

ہم پندرہ سال نہیں ملے، پندرہ سال طویل عرصہ ہوتا ہے، آپ اس عرصے میں بڑے سے بڑے حادثے، بڑے سے بڑے سانحے بھول جاتے ہیں، انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ پندرہ سال کوئی زبان نہ بولے تو 95 فیصد لفظ اس کی یاد داشت سے محو ہو جاتے ہیں، ہم پندرہ سال نہیں ملے لیکن میں اس کے باوجود اسے بھول نہ سکا، میں جب بھی رولیکس گھڑی دیکھتا، میرے سامنے کوئی لانگ آئی لینڈ کا نام لیتا یا میں کسی شخص کو کیمیکل سے ہاتھ صاف کرتے، فرنچ منرل واٹر پیتے یا پھر شیخی مارتے دیکھتا تو مجھے بے اختیار وہ یاد آ جاتا اور میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکتا مگر کل جب پندرہ سال بعد اس سے دوسری ملاقات ہوئی تو وہ ایک تبدیل شدہ انسان تھا، اس نے جینز کی عام سی پینٹ، ڈھیلا سا سویٹر، لمبا کوٹ، لانگ شوز اور سر پر اونی ٹوپی پہن رکھی تھی، وہ مسکرا بھی رہا تھا، لطیفے بھی سنا رہا تھا اور قہقہے بھی لگا رہا تھا، وہ اٹھارہ سو سی سی کی عام سی گاڑی سے اترا تھا۔

اس نے میرے دفتر کی گھٹیا چائے بھی پی لی اور وہ ہر شخص سے بلا خوف ہاتھ بھی ملا رہا تھا، میرے دفتر میں درجنوں لوگ آتے ہیں، میں نے آج تک کسی شخص کو اپنے چپڑاسی سے ہاتھ ملاتے نہیں دیکھا لیکن وہ چپڑاسی کے لیے بھی کھڑا ہوا، اس نے اس سے ہاتھ بھی ملایا اور اس کی خیریت بھی پوچھی، وہ ملک کے بارے میں بھی مثبت رائے کا اظہار کر رہا تھا، وہ دو گھنٹے میرے ساتھ بیٹھا رہا اور ان دو گھنٹوں میں اس نے کسی کی غیبت کی، کسی کے خلاف منفی فقرہ بولا، کوئی شیخی بھگاری، کوئی ڈینگ ماری اور نہ ہی اپنی کسی گاڑی، سفر اور فلیٹ کا ذکر کیا، میں نے اس سے ڈرتے ڈرتے پوچھا ،،آپ کی کمپنی کیسی چل رہی ہے؟،، اس کے جواب نے حیران کر دیا، اس کا کہنا تھا، کمپنی کی گروتھ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ہمیں امید ہے یہ اگلے سال امریکا کی پہلی ہزار کمپنیوں میں آ جائے گی، ہماری ملاقات کے دوران نماز کا وقت آیا تو وہ اٹھا، جائے نماز بچھائی اور نماز ادا کر کے واپس آ گیا۔

اس نے بتایا وہ دن میں دو بار وضو کرتا ہے اور یہ دو وضو پورا دن گزار دیتے ہیں، میں اس کایا پلٹ پر بہت حیران تھا، میں اپنی حیرت پر قابو نہ رکھ سکا تو میں نے اس کایا پلٹ کے بارے میں پوچھ لیا، وہ مسکرایا اور نرم آواز میں بولا "بھائی جاوید یہ سب میری زندگی کے دس دنوں کا کمال ہے، وہ دس دن آئے اور انھوں نے حیات کا سارا پیٹرن بدل دیا" میں خاموشی سے سنتا رہا، وہ بولا "مجھے ایک دن ٹریڈ مل پر بھاگتے ہوئے پیٹ میں درد ہوا، میں ڈاکٹر کے پاس گیا، ڈاکٹر نے دوا دی لیکن مجھے آرام نہ آیا، میں اگلے دن اسپتال چلا گیا، ڈاکٹر نے معائنہ کیا، خون اور پیشاب کے نمونے لیے، یہ نمونے لیبارٹری بھجوا دیے، خون کے نمونوں کے نتائج آئے تو پاؤں کے نیچے سے زمین سرک گئی، میں لبلبے کے کینسر میں مبتلا تھا، میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا، میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا آ گیا، میں اسپتال کے لان میں بینچ پر بیٹھ گیا اور حسرت سے دنیا کو دیکھنے لگا۔

زندگی کے پیچھے زندگی بھاگ رہی تھی مگر میں اداس تھا، میرے اندر گہرائی میں کوئی چیز ٹوٹ رہی تھی، مجھے محسوس ہوا میری رگوں میں لہو نہیں کرچیاں ہیں اور یہ کرچیاں دل کی ہر دھک کے ساتھ آگے سرک رہی ہیں، میں بینچ سے اٹھا، اپنا موبائل فون توڑا، بینک سے پچاس ہزار ڈالر نکلوائے، اپنا پرس، بیگ اور لیپ ٹاپ گاڑی میں رکھا، گاڑی گھر بھجوائی، ائیر پورٹ گیا اور ٹکٹ خرید کر فیجی آئی لینڈ چلا گیا، میرا خیال تھا میرے پاس صرف دو مہینے ہیں اور میں نے ان دو مہینوں میں پوری زندگی گزارنی ہے، میں نے زندگی میں پہلی بار ٹینٹ خریدا اور میں یہ ٹینٹ لے کر جنگلوں میں نکل گیا، میں نے چار دن جنگلوں، جھیلوں، آبشاروں اور سمندر کے اداس کناروں پر گزارے، میں اس کے بعد شہر کی رونق میں گم ہو گیا، میں نوجوانوں کے ساتھ فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر ڈانس کرتا، سڑک کے کنارے اسٹالوں سے برگر خرید کر کھاتا، صبح صادق کے وقت مشرق کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتا اور سورج کو اپنے سامنے اگتا ہوا دیکھتا، میں ننگے پاؤں ساحل کے ساتھ ساتھ چلتا رہتا، میں لہروں کو ابھرتے، ساحل سے ٹکراتے اور واپس جاتے دیکھتا، میں اپنے پاؤں تلے ریت کو کھسکتے ہوئے محسوس کرتا۔

میں درختوں میں روشنی کے بنتے بگڑتے سائے بھی دیکھتا، میں نے زندگی میں پہلی بار صداؤں کے، آوازوں کے، گرتی ہوئی آبشاروں کے اور دوڑتے اڑتے پرندوں کے پروں میں بندھی زندگی دیکھی، میں نے زندگی میں پہلی بار زندگی کو محسوس کیا، میں پانی بھی پیتا تھا تو میں حلق سے لے کر معدے تک اس کی ٹھنڈک کو محسوس کرتا تھا، میں کھاتا تھا تو میں کھانے میں چھپے تمام ذائقے محسوس کرتا تھا، میں آنکھیں بند کرتا تھا تو اندھیرے میں چھپے رنگ محسوس کرتا تھا، میں اجنبیوں سے ملتا تھا تو مجھے ان کی اچھائیاں نظر آتی تھیں، میں اپنے دائیں بائیں اوپر نیچے دیکھتا تھا تو مجھے ہر چیز، ہر منظر اچھا لگتا تھا، مجھے زندگی میں پہلی بار دنیا کی کوئی برائی برائی، کوئی خامی خامی اور کوئی خرابی خرابی محسوس نہ ہوئی۔

مجھے دنیا ایک خوبصورت جزیرہ، ایک نعمت محسوس ہوئی، میں دس دن اس کیفیت میں رہا، میں نے دسویں دن اپنی بیوی کو فون کیا، وہ بہت پریشان تھی، وہ لوگ مجھے پوری دنیا میں ڈھونڈ رہے تھے، میری بیوی نے انکشاف کیا " تمہاری میڈیکل رپورٹ غلط تھی، اسپتال نے خون کے نمونے تین مختلف لیبارٹریوں میں بھجوائے تھے، پہلی رپورٹ میں لبلبے کا کینسر نکلا جب کہ دوسری دونوں رپورٹیں نارمل ہیں، ڈاکٹر دوبارہ خون کے نمونے لینا چاہتے ہیں" میں یہ سن کر حیران رہ گیا، میں سیدھا فیجی کے اسپتال گیا، خون دیا، رپورٹ آئی تو میں اس میں بھی نارمل تھا، میں نے شکر ادا کیا اور امریکا واپس چلا گیا"۔

وہ دوبارہ بولا "میں آج یہ سمجھتا ہوں، وہ رپورٹ قدرت کی طرف سے "ویک اپ کال" تھی، مجھے اللہ تعالیٰ زندگی کی حقیقت بتانا چاہتا تھا اور میں یہ حقیقت جان گیا، میں آج یہ سمجھتا ہوں آپ جب تک زندگی کے ہر لمحے کو آخری سمجھ کر زندگی نہیں گزارتے آپ اس وقت تک زندگی کو اس کے اصل رنگوں میں محسوس نہیں کر سکتے، آپ کو اس وقت تک زندگی محسوس نہیں ہو سکتی"۔

بدھ, اپریل 19, 2017

مقصدِ زندگی

~!~ مقصدِ زندگی ~!~

کوشاں سبھی ہیں رات دن اک پل نہیں قرار ۔ ۔ ۔ ۔ پھرتے ہیں جیسے ہو گرسنہ گُرگِ خونخوار
اور نام کو نہیں انہیں انسانیت سے پیار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ بات کیا جو اپنے لئے جاں پہ کھیل جانا
 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سیرت نہ ہو تو صورتِ سُرخ و سفید کیا ہے ۔ ۔ دل میں خلوص نہ ہو تو بندگی ریا ہے
جس سے مٹے نہ تیرگی وہ بھی کوئی ضیاء ہے ۔ ِضد قول و فعل میں ہو تو چاہيئے مٹانا
 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بھڑ کی طرح جِئے تو جینا تيرا حرام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جینا ہے یہ کہ ہو تيرا ہر دل میں احترام
مرنے کے بعد بھی تيرا رہ جائے نیک نام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تجھ کو یاد رکھے صدیوں تلک زمانہ
 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وعدہ ترا کسی سے ہر حال میں وفا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا نہ ہو کہ تجھ سے انساں کوئی خفا ہو
سب ہمنوا ہوں تیرے تُو سب کا ہمنوا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ جان لے ہے بیشک گناہ “دل ستانا”
 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تو زبردست ہے تو قہرِ خدا سے ڈرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور زیردست پر کبھی ظلم و ستم نہ کرنا
ایسا نہ ہو کہ اک دن گر جائے تو بھی ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔۔ پھر تجھ کو روند ڈالے پائوں تلے زمانہ
 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مل جائے کوئی بھوکا کھانا اسے کھلانا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مل جائے کوئی پیاسا پانی اسے پلانا
آفت زدہ ملے ۔ نہ آنکھیں کبھی چرانا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مضروبِ غم ہو کوئی مرہم اسے لگانا
 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

دل میں ہے جو غرور و تکبر نکال دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور نیک کام کرنے میں اپنی مثال دے
جو آج کا ہو کام وہ کل پر نہ ڈال دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا نہیں کسی کو دیتی سدا ٹھکانا
 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ایمان و دِین یہی ہے اور بندگی یہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ قول ہے بڑوں کا ہر شُبہ سے تہی ہے
اسلاف کی یہی روشِ اولیں رہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ تجھ سے بھی ہو جہاں تک اپنے عمل میں لانا
 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نفرت رہے نہ باقی ۔ نہ ظلم و ستم کہیں ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اقدام ہر بشر کا اُمید آفریں ہو
کہتے ہیں جس کو جنت کیوں نہ یہی زمیں ہو ۔ اقرار سب کریں کہ تہِ دل سے ہم نے مانا
 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ-38

تدبر القرآن
سورۃ البقرہ
نعمان علی خان
حصہ-38

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کچھ ایسے لوگ ہیں (انا للہ و انا الیہ راجعون) جو کبھی نماز جمعہ کے لئے بھی نہیں آتے. آپ ان لوگوں کو صرف عیدین پر ہی دیکھتے ہیں. اب اگر امام صاحب بھی ان سے غصہ کا اظہار کریں کہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ نماز عید تو فرض بھی نہیں ہے. اتنے عرصے بعد آئے ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے. وغیرہ وغیرہ. اوہ بھائی! اس وقت اگر آپ کسی کے ساتھ یہ سلوک کریں گے تو ردعمل کے طور پر وہ اگلی دفعہ عید کے لئے بھی نہیں آئے گا. براہ مہربانی رک جائیں . یہ ایسا وقت ہے کہ آپ اسے امید دلائیں کہ وہ دوبارہ آنے کی ہمت کر پائے. ایسے لوگوں کو اپنی گفتگو سے نرمی کا احساس دلائیں. بصورت دیگر وہ احساس جرم کا شکار ہو جائے گا. اور دوبارہ کبھی مسجد نہ آنے کا، نماز نہ پڑھنے کا عزم کر لے گا. آپ اس کو کہہ سکتے ہیں کہ بے شک کافی عرصہ سے آپ نے اللہ کو چھوڑا ہوا تھا، لیکن اللہ نے تو آپ کو کبھی بھی نہیں چھوڑا. آپ جب چاہیں اللہ کی طرف واپس آسکتے ہیں. اس کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے. جنت ہر اس شخص کے لیے ہے جو یقین رکھتا ہے ایمان رکھتا ہے. 

میرے پاس بہت سے ایسے لوگ آتے ہیں جو دین سے دور ہیں اور ان کا اس بات پر یقین پختہ ہو گیا ہے کہ وہ بس جہنم کے لیے ہی بنے ہیں. وہ میرے پاس آ کر ایسے بات شروع کرتے ہیں." برادر محترم! میں ایک نہایت برا مسلمان ہوں. بلکہ میں تو اچھا انسان بھی نہیں ہوں. میرا آپ سے ایک سوال ہے....... "

میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ اچھے انسان نہیں ہیں؟ آپ کیسے اپنے بارے میں ایسا سوچ سکتے ہیں؟ آپ کو ہر حال میں اپنے بارے میں بہتر رائے رکھنی چاہیے. کیونکہ اللہ کی آپ کے بارے میں بہتر رائے ہے. آپ اپنے آپ کو ترک نہ کریں. کیونکہ اللہ نے آپ کو ترک نہیں کیا. اس بات کا اندازہ آپ اپنی سانسوں سے لگا سکتے ہیں. آپ کا زندہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالٰی آپ سے ابھی مایوس نہیں ہوئے . ہاں اگر آپ اپنا آخری مقصد بھی نہیں پورا کر رہے، کوئی مثبت بات، کوئی نیکی آپ سر انجام نہیں دے رہے، اور ایسی صورت میں اگر اللہ بھی آپ سے مایوس ہو جائے تو پھر آپ مزید زندہ نہیں رہ سکتے. یعنی آپ کا زندہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ابھی اللہ تعالٰی آپ سے مایوس نہیں ہوئے. 

استاد نعمان علی خان 
جاری ہے.........

منگل, اپریل 18, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 18 اپریل 2017

~!~ آج کی بات ~!~

ہر دن کا بہترین سبق وہ ہے جو انسان اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے اپنی شخصیت کے اندر ایک مثبت تبدیلی پیدا کرنے کے لیے حاصل کر لیتا ہے۔

عبرت اور غور و فکر


عبرت اور غور و فکر

عبرت حاصل کرنا اور سبق آموزی روشن ذہنوں کا خاصہ ہے، عبرت حاصل کرنا؛ تجربہ کاری اور بصیرت کی علامت ہوتی ہے، دوسروں سے سبق حاصل کرنے کا عمل انسان کو کامیابیوں سے ہمکنار کرتا ہے اور تباہی سے نجات دلاتا ہے، اس کی وجہ سے عبرت پکڑنے والا شخص مثبت اقدامات کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ نیز اس سے انسان کو نیک اور باصلاحیت لوگوں کے راستے پر چلنے کی رہنمائی ملتی ہے، اور اس کے لیے نتائج مثبت برآمد ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی شخص کو سبق حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا تو اس کو سمجھانا بھی سود مند ثابت نہیں ہوتا، آخر کار وہ تباہی سے دوچار ہو جاتا ہے اور ہوس پرست بن جاتا ہے، ایسا شخص منفی سوچ کے حاملین کے پیچھے چلتا ہے اور اپنے آپ کو پشیمان ہونے والوں میں شامل کر لیتا ہے۔
عبرت حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ:
٭ حالیہ یا ماضی کی اندوہناک صورتحال کو دیکھ کر، اِن کے اسباب سے بچتے ہوئے بہتری کی جانب بڑھنا، یا پھر:
٭ صالحین کی سیرت اور اللہ تعالی کی طرف سے انہیں ملنے والے انعامات دیکھ کر ان کے طور طریقے کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دینے کا نام عبرت حاصل کرنا ہے۔ یا پھر:
٭ مخلوقات کی ماہیت، پر اسرار رازوں اور صفات کو معلوم کر کے انہیں ایک خالق کی بندگی پر کار بند کرنے کی حکمت معلوم کرنا اور اسی کی اطاعت اور بندگی پر کاربند رہنے کا نام عبرت حاصل کرنا ہے۔

اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ نے انبیائے کرام، رسولوں اور اہل ایمان کے قصے بیان کیے ہیں، ان میں ہمارے لیے بہت زیادہ اسباق اور بعد میں آنے والوں کے لیے عملی نمونے ہیں، ان کے باعث عذاب سے نجات مل سکتی ہے اور کامیابیاں حاصل ہو سکتی ہیں، انجام بھی اچھا ہو سکتا ہے اور درجات بھی بلند ہو سکتے ہیں، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: ان کے بیان میں عقل والوں کے لئے یقیناً نصیحت اور عبرت ہے، یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ سابقہ کتابوں کی تصدیق ہے ، یہ ہر چیز کو کھول کر بیان کرنے والا ہے اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے ۔[يوسف: 111]
جبکہ جھٹلانے والوں کے متعلق فرمانِ باری تعالی ہے: دیکھ! ان کے مکر کا انجام کیسا کچھ ہوا ؟ کہ ہم نے انہیں ان کی قوم سمیت سب کو غارت کر دیا، یہ ہیں ان کے مکانات جو ان کے ظلم کی وجہ سے اجڑے پڑے ہیں، جو لوگ جانتے ہیں ان کے لیے اس میں بڑی نشانی ہے۔ اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے اور متقی تھے۔ [النمل: 51 – 53]

اس لیے تاریخی واقعات اور حالات سے وہی لوگ عبرت اور سبق حاصل کرتے ہیں جو نیک لوگوں کی راہ پر گامزن ہوں اور بہتری چاہتے ہوں، نیز برائی اور برے لوگوں سے دور ہوں۔ جبکہ ایسے لوگ جو عبرت حاصل نہ کریں، نصیحت نہ پکڑیں، محاسبہِ نفس نہ کریں، اپنی آخرت سنوارنے کیلیے کوئی اقدامات نہ کریں، ان کی عقل یا ان کا دین قبیح کاموں اور گناہوں سے نہ روکے تو وہ جانوروں جیسے ہیں، اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا: کیا آپ اسی خیال میں ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں۔ وہ تو بالکل چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے۔ [الفرقان: 44]

 جس طرح اللہ تعالی نے ہمیں انبیائے کرام اور اہل ایمان کے واقعات بتلائے کہ ہم ان کے راستے پر چلیں اور نجات کا راستہ اپنائیں، ان کی سیرت سے سیکھیں اور ان کے حالات و واقعات کو اپنی نظروں کے سامنے رکھیں، تو اسی طرح اللہ تعالی نے حق جھٹلانے والوں، ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم لوگوں کے حالات بھی بیان کیے ہیں، جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی، ہوس پرستی میں مگن رہے؛ ان کا تذکرہ اس لیے کیا کہ ہم ان کو ملنے والی سزاؤں سے عبرت حاصل کریں، انہیں دنیا اور آخرت میں جو عذاب جھیلنے پڑیں گے، ان سے سبق حاصل کریں، ان پر پڑنے والی پھٹکار سے بچنے کی کوشش کریں۔

مخلوقات کی فطرت سے سبق حاصل کرنا، ان کی صفات اور رنگ ڈھنگ سے نصیحت لینا، ان کی بےمثال تخلیق پر غور و فکر کرنا، ان تمام امور کا مقصد اور ہدف یہ ہے کہ اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار مزید پختہ ہو، عبادت اور اطاعت صرف اللہ تعالی کی ہو؛ کیونکہ جو پیدا کرتے وقت اکیلا تھا وہی تنہا معبودِ برحق بھی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: تمہارے لیے تو چوپایوں میں بھی بڑی عبرت ہے کہ ہم تمہیں ان کے پیٹ میں موجود گوبر اور لہو کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے سہتا پچتا ہے. [النحل: 66]
اسی طرح فرمایا: اللہ تعالی ہی دن اور رات کو رد و بدل کرتا رہتا ہے، آنکھوں والوں کے لیے تو اس میں یقیناً بڑی بڑی عبرتیں ہیں۔ [النور: 44]

غور و فکر اور عبرت حاصل کرنے سے متردد دل بھی ثابت قدم ہو جاتا ہے اور دل کو جِلا ملتی ہے، بصر و بصیرت منور ہو جاتی ہیں، نیز رہن سہن صحیح ہو جاتا ہے۔
جبکہ غور و فکر اور عبرت حاصل کرنے سے روگردانی پر دل سخت ہوتے ہیں، غفلت پیدا ہوتی ہے، انسان پشیمانی کی جانب گھسٹتا چلا جاتا ہے اور گناہ سر زد ہوتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غفلت شیطانی راہ ہے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے قول و فعل کا سوال کرتے ہیں،
 یا اللہ! ہم تیری رحمت کے صدقے جہنم اور اس کے قریب کرنے والے قول و فعل سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا ارحم الراحمین!

تحفہ

~!~ تحفہ ~!~

تحفے صرف وہ نہیں ہوتے جو چیزوں کی صورت دیدہ زیب ڈبوں یا لفافوں میں پیک کرکے دی جائیں۔ تحفے وہ (الفاظ) ہیں جو آپ کے اپنوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں (Booster Lines)

سو آپ حوصلہ افزائی کرنے والا، سراہنے والا اور محبت اور احترام دینے والا بنیں۔
محبت کرنے، خیال کرنے، شکر گزار ہونے اور سننے والا بنیں۔
جو اپنا وقت دے سکے، جس کی کوئی قیمت کوئی بدل نہیں۔ 

اور آپ!! جی آپ جو میری تحریروں کو پڑھتے ہیں، آپ سب کا شکریہ۔ میری تحریروں، صلاحیتوں کا حصہ بننے پر ۔۔ اور جو خاموش قاری ہیں۔۔۔ آپ کا بھی شکریہ۔

سوموار, اپریل 17, 2017

شوقِ خود نمائی


~!~ "شوقِ خود نمائی" ~!~


خود نمائی خود فروشی ہو گئی.
آپ نے اپنے کو ارزاں کر دیا.

وحشت رضا علی کلکتوی 

کسی کا کہنا ہے کہ "محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری کامیابی شور مچادے"
ہم میں سے ہر ایک کامیاب ہونا چاہتا ہے، ہر ایک اپنا طرز زندگی بہتر کرنا چاہتا ہے، تعلیمی و عملی میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنا چاہتا ہے۔ یہ تمام خواہشات بالکل بھی بری نہیں، برائی تب آتی ہے جب ان کے نتیجے میں ہم میں وہ بیماری پیدا ہو جائے جسے "خود نمائی" کہتے ہیں۔

خود نمائی ایک نفسیاتی و روحانی بیماری تو ہے ہی یہ فرد کو ریا کاری کی طرف بھی لے جاتی ہے۔ ریا کاری گناہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو تمام اعمال کو ضائع کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ خود نمائی اور ریا کاری میں بہت معمولی فرق ہے ۔خود نمائی اپنی کسی خوبی، صلاحیت، دولت، غربت ، پسند نا پسند ، عمل و فعل کو نمایاں کرنے کے لیے بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کو کہتے ہیں۔ تاکہ دوسرے اس کی تعریف کریں اسے منفرد ،اچھا ،اعلی خیال کیا جائے یا اس کے ساتھ ہمدردی کی جائے ۔جب کہ ریا کاری نیک اعمال اس نیت سے یا یہ سوچ کر کرنا کہ دیکھنے والے سننے والے مجھ کو نیک خیال کریں یعنی نیک افعال دکھاوے کے لیے کرنے کو کہتے ہیں ۔خود نمائی کا شوق نیکی کے اجر کو کھا جاتا ہے۔ " اپنی اچھائی کو خود سے ظاہر نہ کرو اچھائی خود کو اپنے آپ ہی ظاہر کردیتی ہے"

خود نمائی ہر دور میں لوگوں میں رہی ہے مگرموجودہ دور میں یہ بیماری یا خامی وبا کی صورت اختیار کر گئی ہے ہر وقت ایک دوسرے کے مقابلے کی دوڑ میں لگے ہیں ہم لوگ۔۔

فلاں مجھے سے آگے نہ نکل جائے۔
فلاں کا بچہ میرے بچے سے زیادہ اچھے مارکس نہ لے آئے ورنہ کتنی بے عزتی ہوگی۔
موبائل فون مہنگے سے مہنگا ہو۔ پھر اس کی نمائش بھی ہو۔
گھر گھر کم آرائشی اشیاء کا شو روم زیادہ لگتا ہے۔
کپڑا تو برانڈڈ سے کم پہننا گناہ تصور کیا جانے لگا ہے، اور اگر اب برانڈڈ دکان سے کپڑا لیا ہے تو بتانا بھی فرض ہے۔
اور جب سے سوشل میڈیا ہماری زندگیوں میں آیا ہے اس بیماری کو پروان چڑھنے کا خوب خوب موقع ملا ہے
کسی اچھے ریسٹورنٹ گئے تو وہاں کا "چیک ان" حاضر (ہم بھی اچھی جگہ کھاتے ہیں) ساتھ میں کھانے کی تصویر بھی۔
دوستوں سے ملنے گئے تو سلام دعا سے پہلے فیس بک سٹیٹس حاضر۔
جہاز میں فرسٹ کلاس میں سفر کرلیا تو بتانا تو بنتا ہے نا؟؟
اور ہاں "سیلفی" کا بخار تو ہر چھوٹے بڑے، مرد و عورت پر یکساں سوار ہے ۔۔۔ کسی محفل میں جائیں تو لوگ آپس میں باتیں کرنے کے بجائے  سیلفی لیتے پائے جاتے ہیں۔
اور جب سیلفی لی ہے اور دس بارہ کوششوں کے بعد من چاہی آجائے تو اس کو فوراً اپ لوڈ کرنا بھی ضروری ہے چاہے ٹائم لائن پر ہو یا ڈی پی پر ۔۔۔ (واہ واہ نہ کروائیں اپنی؟؟؟ )

کہاں تک سنیں گے کہاں تک سنائیں ۔۔۔۔۔

لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ اس کا کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے ان کو؟ میرے نزدیک فائدہ بڑا محدود ہے ۔۔۔ وہ یہ کہ آپ کی "خود نمائی" کو چند تعریفی کلمات مل جاتے ہیں، (چند دن خوش رہنے کے لیے)  اس کے بعد کچھ اور چاہیے ہوتا ہے۔۔ اور نقصان تو ہم اپنے سامنے دیکھ ہی رہے ہیں کہ بغیر سوچے سمجھے ایک کے پیچھے ایک اس سے آگے نکلنے کے لیے دوڑے جا رہا ہے کہ میں نمبر ون آجاؤں ، سکون ناپید ہو گیا ہے، قناعت ختم ہو گئی ہے۔۔ زندگی کا مقصد بس یہ بن گیا ہے کہ جو میں کروں وہ ساری دنیا کو پتا ہو۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سےدوسرے لوگوں میں حسد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

خود نمائی دراصل احساس کمتری یا احساس برتری کی ہی وجہ سے ہوتا ہے۔احساس کمتری کا شکار لوگ اپنی اہمیت جتانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ احساس برتری کا شکار لوگوں کو جب لوگ  اہمیت نہ دیں تو وہ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ہم کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھ لینا چاہیے کہ ہم میں سے کون،کہیں میں خود ہی تو خود نمائی یا ریاکاری کا شکار نہیں ہوں۔ایسا نہ ہو کہ ہم کو پتہ ہی نہ چلے اور ہم خود نمائی اور ریاکاری کی دلدل میں پھنستے جائیں اور ہمارے اعمال ضائع ہو جائیں ۔ ہمیشہ خود کو "لو پروفائل" رکھیں اگر کوئی کامیابی حاصل کی ہے تو اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ بانٹیں جو حقیقت میں آپ کی کامیابی پر خوش ہوں (صرف لفظی نہیں) اور اگر کوئی نیکی سر انجام دی ہے تو اس کے بارے میں تو حکم ہے کہ "ایک ہاتھ کی خبر دوسرے ہاتھ کو نہ ہو" اور ہم سارے جہان میں نشر کرتے پھرتے ہیں۔۔۔ کیا صلہ ملے گا اس نیکی کا؟ یہ ہمیں سوچنا چاہئیے۔ خود نمائی اور ریاکاری سے بچنے کا سب سے اہم طریقہ خود احتسابی ہے ۔رات کو سونے سے پہلے اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے ۔جس شخص میں خود نمائی یا ریا کاری کا خناس نہ ہو وہ اعلی ظرف ہوتا ہے وہ اپنی زندگی اعلی اخلاقی اصولوں کے تحت بسر کرتا ہے۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے 

شوق خود نمائی کا انتہا کو پہنچا ہے
شہرتوں کی خاطر ہم سج گئے دکانوں پر

اکرام مجیب

آخر میں ایک حکایت اسی حوالے سے

کسی جگہ ابو نصر الصیاد نامی ایک شخص، اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا، جسے دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا؛ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوں اور غموں سے تھک گیا ہوں۔

شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤ، ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔

سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا، نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال دیتے ہوئے کہا اسے بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو۔

جال میں پہلی بار ہی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باہر آ گئی۔ شیخ صاحب نے ابو نصر سے کہا، اس مچھلی کو جا کر فروخت کرو اور حاصل ہونے والے پیسوں سے اپنے اہل خانہ کیلئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لینا۔

ابو نصر نے شہر جا کر مچھلی فروخت کی، حاصل ہونے والے پیسوں سے ایک قیمے والا اور ایک میٹھا پراٹھا خریدا اور سیدھا شیخ احمد بن مسکین کے پاس گیا اور اسے کہا کہ حضرت ان پراٹھوں میں سے کچھ لینا قبول کیجئے۔ شیخ صاحب نے کہا اگر تم نے اپنے کھانے کیلئے جال پھینکا ہوتا تو کسی مچھلی نے نہیں پھنسنا تھا، میں نے تمہارے ساتھ نیکی گویا اپنی بھلائی کیلئے کی تھی نا کہ کسی اجرت کیلئے۔ تم یہ پراٹھے لے کر جاؤ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاؤ۔

ابو نصر پراٹھے لئے خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اُس نے راستے میں بھوکوں ماری ایک عورت کو روتے دیکھا جس کے پاس ہی اُس کا بیحال بیٹا بھی بیٹھا تھا۔ ابو نصر نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پراٹھوں کو دیکھا اور اپنے آپ سے کہا کہ اس عورت اور اس کے بچے اور اُس کے اپنے بچے اور بیوی میں کیا فرق ہے، معاملہ تو ایک جیسا ہی ہے، وہ بھی بھوکے ہیں اور یہ بھی بھوکے ہیں۔ پراٹھے کن کو دے؟ عورت کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو اس کے بہتے آنسو نا دیکھ سکا اور اپنا سر جھکا لیا۔ پراٹھے عوررت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ لو؛ خود بھی کھاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی بھی کھلاؤ۔ عورت کے چہرے پر خوشی اور اُس کے بیٹے کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

ابو نصر غمگین دل لئے واپس اپنے گھر کی طرف یہ سوچتے ہوئے چل دیا کہ اپنے بھوکے بیوی بیٹے کا کیسے سامنا کرے گا؟

گھر جاتے ہوئے راستے میں اُس نے ایک منادی والا دیکھا جو کہہ رہا تھا؛ ہے کوئی جو اُسے ابو نصر سے ملا دے۔ لوگوں نے منادی والے سے کہا یہ دیکھو تو، یہی تو ہے ابو نصر۔ اُس نے ابو نصر سے کہا؛ تیرے باپ نے میرے پاس آج سے بیس سال پہلے تیس ہزار درہم امانت رکھے تھے مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ ان پیسوں کا کرنا کیا ہے۔ جب سے تیرا والد فوت ہوا ہے میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں کہ کوئی میری ملاقات تجھ سے کرا دے۔ آج میں نے تمہیں پا ہی لیا ہے تو یہ لو تیس ہزار درہم، یہ تیرے باپ کا مال ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میں بیٹھے بٹھائے امیر ہو گیا۔ میرے کئی کئی گھر بنے اور میری تجارت پھیلتی چلی گئی۔ میں نے کبھی بھی اللہ کے نام پر دینے میں کنجوسی نا کی، ایک ہی بار میں شکرانے کے طور پر ہزار ہزار درہم صدقہ دے دیا کرتا تھا۔ مجھے اپنے آپ پر رشک آتا تھا کہ کیسے فراخدلی سے صدقہ خیرات کرنے والا بن گیا ہوں۔

ایک بار میں نے خواب دیکھا کہ حساب کتاب کا دن آن پہنچا ہے اور میدان میں ترازو نصب کر دیا گیاہے۔ منادی کرنے والے نے آواز دی ابو نصر کو لایا جائے اور اُس کے گناہ و ثواب تولے جائیں۔

کہتا ہے؛ پلڑے میں ایک طرف میری نیکیاں اور دوسری طرف میرے گناہ رکھے گئے تو گناہوں کا پلڑا بھاری تھا۔

میں نے پوچھا آخر کہاں گئے ہیں میرے صدقات جو میں اللہ کی راہ میں دیتا رہا تھا؟

تولنے والوں نے میرے صدقات نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیئے۔ ہر ہزار ہزار درہم کے صدقہ کے نیچے نفس کی شہوت، میری خود نمائی کی خواہش اور ریا کاری کا ملمع چڑھا ہوا تھا جس نے ان صدقات کو روئی سے بھی زیادہ ہلکا بنا دیا تھا۔ میرے گناہوں کا پلڑا ابھی بھی بھاری تھا۔ میں رو پڑا اور کہا، ہائے رے میری نجات کیسے ہوگی؟

منادی والے نے میری بات کو سُنا تو پھر پوچھا؛ ہے کوئی باقی اس کا عمل تو لے آؤ۔

میں نے سُنا ایک فرشہ کہہ رہا تھا ہاں اس کے دیئے ہوئے دو پُراٹھے ہیں جو ابھی تک میزان میں نہیں رکھے گئے۔ وہ دو پُراٹھے ترازو پر رکھے گئے تو نیکیوں کا پلڑا اُٹھا ضرور مگر ابھی نا تو برابر تھا اور نا ہی زیادہ۔

مُنادی کرنے والے نے پھر پوچھا؛ ہے کچھ اس کا اور کوئی عمل؟ فرشتے نے جواب دیا ہاں اس کیلئے ابھی کچھ باقی ہے۔ منادی نے پوچھا وہ کیا؟ کہا اُس عورت کے آنسو جسے اس نے اپنے دو پراٹھے دیئے تھے۔

عورت کے آنسو نیکیوں کے پلڑے میں ڈالے گئے جن کے پہاڑ جیسے وزن نے ترازو کے نیکیوں والے پلڑے کو گناہوں کے پلڑے کے برابر لا کر کھڑا کر دیا۔ ابو نصر کہتا ہے میرا دل خوش ہوا کہ اب نجات ہو جائے گی۔

منادی نے پوچھا ہے کوئی کچھ اور باقی عمل اس کا؟

فرشتے نے کہا؛ ہاں، ابھی اس بچے کی مُسکراہٹ کو پلڑے میں رکھنا باقی ہے جو پراٹھے لیتے ہوئے اس کے چہرے پر آئی تھی۔ مسکراہٹ کیا پلڑے میں رکھی گئی نیکیوں والا پلڑا بھاری سے بھاری ہوتا چلا گیا۔ منادی کرنے ولا بول اُٹھا یہ شخص نجات پا گیا ہے۔

ابو نصر کہتا ہے؛ میری نیند سے آنکھ کھل گئی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا؛ اگر میں نے اپنے کھانے کیلئے جال پھینکا ہوتا تو کسی مچھلی نے نہیں پھنسنا تھا اور اپنے کھانے کیلئے پراٹھے خریدے ہوتے تو آج نجات بھی نہیں ہونی تھی۔

اللہ ہم سب کو اس بیماری سے جلد شفا عطا فرمائے آمین!!

دعاؤں کی طلبگار
سیما آفتاب