جمعرات, دسمبر 31, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 31 دسمبر 2015

عروج اس وقت کو کہتے ہیں۔۔ جس کے بعد زوال شروع ہوتا ہے۔

دو دل




"وہ لوگ جو ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے ‘ اور خود بھی کوئی غلط کام نہیں کرتے ‘ وہ جو غیر جانبدار ہوتے ہیں‘ اللہ ان کو ان کی نمازوں اور صدقات کے باوجود عذاب سے محفوظ نہیں رکھے گا۔ میں کوئی نیک آدمی نہیں ہوں‘ نہ مجھے خود پہ کوئی غرور ہے ‘ مگر میں نے ظلم کے اوپرنیوٹرل رہنے کی بجائے ’’سائیڈ‘‘ منتخب کی تھی۔ میں جانبدار ہوں‘ اور مجھے فخر ہے اپنی جانبداری پہ۔سو میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں ینگ لیڈی۔غیر جانبدار رہنے والوں کو فلاح اور بقا کی ساری امید ترک کر دینی چاہیے۔ کیونکہ جب عذاب آئے گا‘ تو وہ صرف ان لوگوں پہ نہیں آئے گا جو برے کام کرتے تھے ۔
 اللہ نے نہیں بنائے کسی آدمی کے سینے میں دو دل (سورہ احزاب آیت 4-5) ۔
 اگر آپ کا دل اچھے لوگوں کے ساتھ نہیں ہے تو وہ برے لوگوں کے ساتھ ہے۔"

نمرہ احمد کے ناول نمل سے اقتباس

اتوار, دسمبر 27, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 27 دسمبر 2015


یہ کہنا بڑے کمال کی بات ہے کہ
مجھ میں کمال کی کوئی بات نہیں!

(ڈاکٹر اظہر وحید)

ہفتہ, دسمبر 26, 2015

پروردگار بحر و بر ۔۔۔​


پروردگار بحر و بر
پروردگار بحر و بر پروردگار بحر و بر
اے مالک جن و بشر
تابع تیرے شمس و قمر
ہر شے ترے زیر اثر
پروردگار بحر و بر

معبود تو ہی بالیقیں تیرے سوا کوئی نہیں
کیا آسماں ‌اور‌ کیا زمیں خم ہے جہاں سب کی جبیں
بس ایک تیرا آستاں
بس ایک تیرا سنگ در
پروردگار بحر و بر

وہ طائران خوش نوا وہ لہلہاتے سبزہ زار
وہ ذرہء ناچیز ہو یا کوہساروں کی قطار
تسبیح کرتے ہیں تیری
سب بے حساب و بے شمار
غافل ہیں ہم انساں مگر

پروردگار بحر و بر

تو واحد و برحق بھی ہے
تو قادر مطلق بھی ہے
یا رب بحق مصطفےٰ
تو بخش دے اپنی خطا
اس ملت مظلوم کو اس امت مرحوم کو
دے زندگی کر زندہ تر

پروردگار بحر و بر

دیتے ہیں تجھ کو واسطہ ہم صاحب معراج کا
سارے زمانے ہیں تیرے سارے خزانے ہیں تیرے
تو وقت کی رفتار کو اک بار پھر سے موڑ دے
ہم عاصیوں کے ہاتھ میں غیروں کا جو کشکول ہے
قدرت سے اپنی توڑ دے
اے رازق شاہ و گدا
اے خالق شام و سحر
پروردگار بحر و بر

ہیں وقت کے خاروں میں ہم آفات کے غاروں میں ہم
لگتی ہیں اپنی بولیاں رسوا ہیں بازاروں میں ہم
بے شک سر فہرست ہیں تیرے گناہگاروں میں ہم
پھر بھی ہے یہ قرآن میں یعنی تیرے فرمان میں
لا تقنطو لا تقنطو
ستار تو غفار تو
پہچان ہے رحمت تیری ہے شان تیری درگذر
ہے شان تیری درگذر
پروردگار بحر و بر

پھر سامنے فرعون ہے خوں رنگ ہے دریائے نیل
پھر آتش نمرود کی زد میں ہے اولاد خلیل
فتنہ گروں کی چال سے واقف ہے تو رب جلیل
پھر سے ابابیلوں کو بھیج
پھر آگ کو گلزار کر
پروردگار بحر و بر

اک حشر ہے چاروں طرف دشمن کھڑے ہیں صف بہ صف
کیا بت پرستوں سے گلہ اپنے بھی ہیں خنجر بکف
موسیٰ و عیسیٰ کے خدا اسلام ہے سب کا ہدف
احساس دے توفیق دے پھر جذبہء صدیق دے
پھر سے کوئی خیبر شکن
پھر بھیج دے کوئی عمر
پھر بھیج دے کوئی عمر
پروردگار بحر و بر ۔۔۔
ثناءخوان۔ خورشید احمد

آج کی بات ۔۔ 26 دسمبر 2015


کامیابی کا نشہ کبھی دماغ پر مت چڑھنے دیجیئے
اور ناکامی کا صدمہ کبھی دل پر مت لیجیئے

ہمیشہ خوش رہیں گے۔

جمعہ, دسمبر 25, 2015

قائد سا رہبر



ہمیں اب پھر ضرورت ہے
کسی قائد سے رہبر کی
جو اس ٹوٹی بکھرتی قوم کو پھر ایک جاں کردے
کہ اس کی رہبری میں پھر چلے یہ کارواں اپنا
اور اپنے دیس کو اک بار پھر سے ہم کریں تعمیر
بھلا کے دل سے ہر نفرت
نہ قوموں میں بٹیں ہم یوں
بس اک قوم بن کر پھر سے اس دنیا پہ چھا جائیں
ہمیں اب پھر ضرورت ہے
کسی قائد سے رہبر کی
ہماری ڈوبتی کشتی کو لہروں سے نکالے جو
ہمیں یکجا کرے اور کشتی کو سنبھالے جو 

سیما آفتاب

بدھ, دسمبر 23, 2015

تجھ سا کوئی نہیں


اے رسول امیں، خاتم المرسلیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
ہے عقیدہ اپنا بصدق و یقیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

اے براہیمی و ہاشمی خوش لقب، اے تو عالی نسب، اے تو والا حسب
دودمانِ قریشی کے دُرِثمین، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

دست قدرت نے ایسا بنایا تجھے، جملہ اوصاف سے خود سجایا تجھے
اے ازل کے حسیں، اے ابد کے حسیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

بزم کونین پہلے سجائی گئی، پھر تری ذات منظر پر لائی گئی
سید االاولیں، سید الآخریں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

تیرا سکہ رواں‌ کل جہاں میں ہوا، اِس زمیں میں ہوا، آسماں میں ہوا
کیا عرب کیا عجم، سب ہیں زیرِ نگیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

تیرے انداز میں وسعتیں فرش کی، تیری پرواز میں رفعتیں عرش کی
تیرے انفاس میں‌ خلد کی یاسمیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

"سدرۃ ُالمنتہیٰ" رہگزر میں تری ، "قابَ قوسین" گردِ سفر میں تری
تو ہے حق کے قریں، حق ہے تیرے قریں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

کہکشاں ضو ترے سرمدی تاج کی، زلف ِتاباں حسیں رات معراج کی
"لیلۃُ القدر "تیری منور جبیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

مصطفےٰ مجتبےٰ، تیری مدح وثنا، میرے بس میں ، دسترس میں نہیں
دل کو ہمت نہیں ، لب کو یارا نہیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

کوئی بتلائے کیسے سراپا لکھوں، کوئی ہے ! وہ کہ میں جس کو تجھ سا کہوں
توبہ توبہ! نہیں کوئی تجھ سا نہیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

چار یاروں کی شان جلی ہے بھلی، ہیں یہ صدیق، فاروق، عثمان ، علی
شاہدِ عدل ہیں یہ ترے جانشیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

اے سراپا نفیس انفسِ دوجہاں، سرورِ دلبراں دلبرِ عاشقاں
ڈھونڈتی ہے تجھے میری جانِ حزیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں

سید نفیس الحسینی

آج کی بات ۔۔۔ 23 دسمبر 2015

جب آپ کے اندر وہ آواز موجود ہو جو پکار پکار کر آپ کو بتاتی رہے کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ حرام ہے...
 تو اللّہ کا شکر ادا کریں کہ آپ کا دل ابھی زندہ ہے.

سوموار, دسمبر 21, 2015

خیر البشر کہوں میں، خیر الوریٰ کہو تم


اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم
اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم

جب میں کہوں محمد صلِّ علیٰ کہو تم
خیر البشر کہوں میں، خیر الوریٰ کہو تم

اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم
اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم

آشوبِ ذندگی میں تسکینِ دل کی خاطر
روئے نبی کہوں میں، شانِ خدا کہو تم
خیر البشر کہوں میں، خیر الوریٰ کہو تم

اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم
اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم

وہ رشکِ انبیاء ہیں وہ فخرِ اولیاء ہیں
وہ روحِ کُن فِکاں ہیں، وہ جان دو جہاں ہیں
جلوہ فگن کہوں میں، جلوہ نما کہو تم
خیر البشر کہوں میں، خیر الوریٰ کہو تم

اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم
اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم

کس حسن کے ہیں جلوے، دن رات کے اجالے
شمس الضّحیٰ کہوں میں، بدر الدّجیٰ کہو تم
خیر البشر کہوں میں، خیر الوریٰ کہو تم

اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم
اللھم صلِّ علیٰ محمد واٰلہ وبارک وسلم

#WhoIsMuhammad

ہفتہ, دسمبر 19, 2015

انتخابِ کلام مسدس حالی



عَرَب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا
 جہاں سے الگ اِک جزیرہ نما تھا
  زمانہ سے پیوند جس کا جدا تھا
 نہ کشورستاں تھا، نہ کشور کشا تھا

تمدّن کا اُس پر پڑا تھا نہ سایا
ترّقی کا تھا واں قدم تک نہ آیا


نہ آب و ہوا ایسی تھی روح پرور
  کہ قابل ہی پیدا ہوں خود جس سے جوہر
  نہ کچھ ایسے سامان تھے واں میسر
  کنول جس سے کِھل جائیں دل کے سراسر

نہ سبزہ تھا صحرا میں پیدا نہ پانی
  فقط آبِ باراں پہ تھی زندگانی


زمیں سنگلاخ اور ہوا آتش افشاں
  لوؤں کی لپٹ، بادِ صر صر کے طوفاں
 پہاڑ اور ٹیلے سراب اور بیاباں
 کھجوروں کے جھنڈ اور خارِ مغیلاں

نہ کھتّوں میں غلّہ نہ جنگل میں کھیتی
  عرب اور کل کائنات اس کی یہ تھی


نہ واں مصر کی روشنی جلوہ گر تھی
  نہ یونان کے علم و فن کی خبر تھی
  وہی اپنی فطرت پہ طبعِ بشر تھی
  خدا کی زمیں بن جُتی سر بسر تھی

پہاڑ اور صحرا میں ڈیرا تھا سب کا
تلے آسماں کے بسیرا تھا سب کا


کہیں آگ پُجتی تھی واں بے محابا
  کہیں تھا کواکب پرستی کا چرچا
بہت سے تھے تثلیث پر دل سے شیدا
 بتوں کا عمل سُو بہ سُو جا بجا تھا

کرشموں کا راہب کے تھا صید کوئی  
طلسموں میں کاہن کے تھا قید کوئی


وہ دنیا میں گھر سب سے پہلا خدا کا
  خلیل ایک معمار تھا جس بنا کا
 ازل میں مشیّت نے تھا جس کو تاکا  
کہ اس گھر سے اُبلے گا چشمہ ہدیٰ کا

وہ تیرتھ تھا اِک بُت پرستوں کا گویا
جہاں نامِ حق کا نہ تھا کوئی جویا


قبیلے قبیلے کا بُت اِک جدا تھا
کسی کا ہُبَل تھا، کسی کا صفا تھا
یہ عزّا پہ، وہ نائلہ پر فدا تھا
اسی طرح گھر گھر نیا اِک خدا تھا

نہاں ابرِ ظلمت میں تھا مہرِ انور
  اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر


چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ
 ہر اِک لُوٹ اور مار میں تھا یگانہ
  فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ
  نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ

وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
  درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے


نہ ٹلتے تھے ہر گز جو اڑ بیٹھتے تھے
  سلجھتے نہ تھے جب جھگڑ بیٹھتے تھے
  جو دو شخص آپس میں لڑ بیٹھتے تھے
  تو صد ہا قبیلے بگڑ بیٹھتے تھے

بلند ایک ہوتا تھا گر واں شرارا
  تو اس سے بھڑک اٹھتا تھا ملک سارا


وہ بکر اور تغلب کی باہم لڑائی  
صدی جس میں آدھی انہوں نے گنوائی
  قبیلوں کی کر دی تھی جس نے صفائی
 تھی اک آگ ہر سُو عرب میں لگائی

نہ جھگڑا کوئی ملک و دولت کا تھا وہ
  کرشمہ اک ان کی جہالت کا تھا وہ


کہیں تھا مویشی چَرانے پہ جھگڑا
  کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا
  لبِ جُو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا
  کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا

یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں
  یونہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں


جو ہوتی تھی پیدا کسی گھر میں دختر
  تو خوفِ شماتت سے بے رحم مادر
  پھرے دیکھتی جب تھے شوہر کے تیور
  کہیں زندہ گاڑ آتی تھی اس کو جا کر

وہ گود ایسی نفرت سے کرتی تھی خالی
 جنے سانپ جیسے کوئی جننے والی



جوا انکی دن رات کی دل لگی تھی
 شراب انکی گھٹی میں گویا پڑی تھی
  تعیّش تھا، غفلت تھی، دیوانگی تھی
غرَض ہر طرح ان کی حالت بُری تھی

بہت اس طرح ان کو گزری تھیں صدیاں
  کہ چھائی ہوئی نیکیوں پر تھیں بدیاں

یکایک ہوئی غیرتِ حق کو حرکت
بڑھا جانبِ بو قبیس ابرِ رحمت
ادا خاکِ بطحا نے کی وہ ودیعت
چلے آتے تھے جس کی دیتے شہادت

ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا
دعائے خلیل اور نویدِ مسیحا


ہوئے محو عالم سے آثارِ ظلمت
کہ طالع ہوا ماہِ بُرجِ سعادت
نہ چھٹکی مگر چاندنی ایک مدّت
کہ تھا ابر میں ماہتابِ رسالت

یہ چالیسویں سال لُطفِ خدا سے
کیا چاند نے کھیت غارِ حرا سے


وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ


خطا کار سے در گزر کرنے والا
بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا


مسِ خام کو جس نے کُندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا

رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا
اِدھر سے اُدھر پھر گیا رُخ ہوا کا


پڑی کان میں دھات تھی اک نکمّی
نہ کچھ قدر تھی اور نہ قیمت تھی جسکی
طبیعت میں جو اس کے جوہر تھے اصلی
ہوئے سب تھے مٹّی میں مل کر وہ مٹّی

پہ تھا ثبت علمِ قضا و قدر میں
کہ بن جائے گی وہ طلا اک نظر میں


وہ فخرِ عرب زیبِ محراب و منبر
تمام اہلِ مکّہ کو ہمراہ لے کر
گیا ایک دن حسبِ فرمانِ داور
سوئے دشت اور چڑھ کے کوہِ صفا پر

یہ فرمایا سب سے کہ اے آلِ غالب
سمجھتے ہو تم مجھ کو صادق کہ کاذب


کہا سب نے قول آج تک کوئی تیرا
کبھی ہم نے جھوٹا سنا اور نہ دیکھا
کہا گر سمجھتے ہو تم مجھ کو ایسا
تو باور کرو گے اگر میں کہوں گا

کہ فوجِ گراں پشتِ کوہِ صفا پر
پڑی ہے کہ لُوٹے تمھیں گھات پا کر


کہا تیری ہر بات کا یاں یقیں ہے
کہ بچپن سے صادق ہے تُو اور امیں ہے
کہا گر مری بات یہ دل نشیں ہے
تو سن لو خلاف اس میں اصلاً نہیں ہے

کہ سب قافلہ یاں سے ہے جانے والا
ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا


وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
نئی اک لگن دل میں سب کے لگا دی
اک آواز میں سوتی بستی جگا دی

پڑا ہر طرف غُل یہ پیغامِ حق سے
کہ گونج اٹھے دشت و جبل نامِ حق سے


سبق پھر شریعت کا ان کو پڑھایا
حقیقت کا گُر ان کو ایک اک بتایا
زمانہ کے بگڑے ہوؤں کو بنایا
بہت دن کے سوتے ہوؤں کو جگایا

کُھلے تھے نہ جو راز اب تک جہاں پر
وہ دکھلا دیئے ایک پردہ اٹھا کر


کسی کو ازل کا نہ تھا یاد پیماں
بھلائے تھے بندوں نے مالک کے فرماں
زمانہ میں تھا دورِ صہبائے بطلاں
مئے حق سے محرم نہ تھی بزمِ دوراں

اچھوتا تھا توحید کا جام اب تک
خمِ معرفت کا تھا منہ خام اب تک
 
نہ واقف تھے انساں قضا اور جزا سے
نہ آگاہ تھے مبدا و منتہا سے
لگائی تھی ایک اِک نے لو ماسوا سے
پڑے تھے بہت دور بندے خدا سے

یہ سنتے ہی تھرّا گیا گلّہ سارا
یہ راعی نے للکار کر جب پکارا


کہ ہے ذاتِ واحد عبادت کے لائق
زبان اور دل کی شہادت کے لائق
اسی کے ہیں فرماں اطاعت کے لائق
اسی کی ہے سرکار خدمت کے لائق

لگاؤ تو لو اس سے اپنی لگاؤ
جھکاؤ تو سر اس کے آگے جھکاؤ


اسی پر ہمیشہ بھروسا کرو تم
اسی کے سدا عشق کا دم بھرو تم
اسی کے غضب سے ڈرو گر ڈرو تم
اسی کی طلب میں مرو گر مرو تم

مبرّا ہے شرکت سے اس کی خدائی
نہیں اس کے آگے کسی کو بڑائی


خِرَد اور ادراک رنجور ہیں واں
مہ و مہر ادنیٰ سے مزدور ہیں واں
جہاندار مغلوب و مقہور ہیں واں
نبی اور صدّیق مجبور ہیں واں

نہ پرسش ہے رہبان و احبار کی واں
نہ پروا ہے ابرار و احرار کی واں


تم اوروں کی مانند دھوکا نہ کھانا
کسی کو خدا کا نہ بیٹا بنانا
مری حد سے رتبہ نہ میرا بڑھانا
بڑھا کر بہت تم نہ مجھ کو گھٹانا

سب انساں ہیں واں جس طرح سرفگندہ
اسی طرح ہوں میں بھی اِک اس کا بندہ


بنانا نہ تربت کو میری صنم تم
نہ کرنا مری قبر پر سر کو خم تم
نہیں بندہ ہونے میں کچھ مجھ سے کم تم
کہ بیچارگی میں برابر ہیں ہم تم

مجھے دی ہے حق نے بس اتنی بزرگی
کہ بندہ بھی ہوں اس کا اور ایلچی بھی


اسی طرح دل ان کا ایک اِک سے توڑا
ہر اک قبلۂ کج سے منہ ان کا موڑا
کہیں ماسوا کا علاقہ نہ چھوڑا
خداوند سے رشتہ بندوں کا جوڑا

کبھی کے جو پھرتے تھے مالک سے بھاگے
دیئے سر جھکا ان کے مالک کے آگے


پتا اصل مقصود کا پا گیا جب
نشاں گنجِ دولت کا ہاتھ آ گیا جب
محبّت سے دل ان کا گرما گیا جب
سماں ان پہ توحید کا چھا گیا جب

سکھائے معیشت کے آداب ان کو
پڑھائے تمدّن کے سب باب ان کو


جتائی انہیں وقت کی قدر و قیمت
دلائی انہیں کام کی حرص و رغبت
کہا چھوڑ دیں گے سب آخر رفاقت
ہو فرزند و زن اس میں یا مال و دولت

نہ چھوڑے گا پر ساتھ ہر گز تمھارا
بھلائی میں جو وقت تم نے گزارا


غنیمت ہے صحّت علالت سے پہلے
فراغت، مشاغل کی کثرت سے پہلے
جوانی، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے
اقامت، مسافر کی رحلت سے پہلے

فقیری سے پہلے غنیمت ہے دولت
جو کرنا ہے کر لو کہ تھوڑی ہے مہلت

یہ کہہ کر کیا علم پر ان کو شیدا
کہ ہیں دور رحمت سے سب اہلِ دنیا
مگر دھیان ہے جن کو ہر دم خدا کا
ہے تعلیم کا یا سدا جن میں جرچا

انہی کے لیے یان ہے نعمت خدا کی
انہی پر ہے واں جاکے رحمت خدا کی"

سکھائی انہیں نوعِ انساں پہ شفقت
کہا " ہے یہ اسلامیوں کی علامت
کہ ہمسایہ سے رکھتے ہیں وہ محبت
شب و روز پہنچاتے ہیں اس کو راحت

وہ برحق سے اپنے لیے چاہتے ہیں
وہی ہر بشر کے لیے چاہتے ہیں

خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر
کسی کے گر آفت گزر جائے سر پر
پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر۔

ڈرایا تعصب سے ان کو یہ کہہ کر
کہ زندہ رہا اور مرا جو اسی پر
ہوا وہ ہماری جماعت سے باہر
وہ ساتھی ہمارا نہ ہم اس کے یاور

نہیں حق سے کچھ اس محبت کو بہرہ
کہ جو تم کو اندھا کرے اور بہرہ


بچایا برائی سے ان کو یہ کہہ کر
کہ طاعت سے ترکِ معاصی ہے بہتر
تو رع کا ہے ذات میں جن کی جوہر
نہ ہوں گے کبھی عابد ان کے برابر

کرو ذکر اہلِ ورع کا جہاں تم
نہ لو عابدوں کا کبھی نام واں تم

غریبوں کو محنت کی رغبت دلائی
کہ بازو سے اپنے کرو تم کمائی
خبر تاکہ لو اس سے اپنی پرائی
نہ کرنی پڑے تم کو در در گدائی

طلب سے ہے دنیا کی گریاں یہ نیت
تو چمکو گے واں ماہِ کامل کی صورت

امیروں کو تنبیہ کی اس طرح پر
کہ ہیں تم میں جو اغنیا اور تو نگر
اگر اپنے طبقہ میں ہوں سب سے بہتر
بنی نوع کے ہوں مددگار و یاور

نہ کرتے ہوں بے مشورت کام ہر گز
اٹھاتے نہ ہوں بے دھڑک گام ہر گز

تو مردوں سے آسودہ تر ہے وہ طبقہ
زمانہ مبارک ملے جس کو ایسا
پہ جب اہلِ دولت ہوں اشرارِ دنیا
نہ ہو عیش میں جن کو اوروں کی پروا

نہیں اس زمانہ میں کچھ خیرو برکت
اقامت سے بہتر ہے اس وقت رحلت

دیے پھیر دل ان کے مکرو ریا سے
بھرا ان کے سینہ کو صدق و صفا سے
بچایا انہیں کذب سے، افترا سے
کیا سرخرو خلق سے اور خدا سے

رہا قول حق میں نہ کچھ باک ان کو
بس اک شوب میں کردیا پاک ان کو

کہیں حفظِ صحت کے آئیں سکھائے
سفر کے کہیں شوق ان کو دلائے
مفاد ان کو سوداگری کے سجھائے
اصول ان کو فرماں دہی کے بتائے

نشاں راہِ منزل کا ایک اک دکھایا
بنی نوع کا ان کو رہبر بنایا

ہوئی ایسی عادت پہ تعلیم غالب
کہ باطل کے شیدا ہوئے حق کے طالب
مناقب سے بدلے گئے سب مثالب
ہوئے روح سے بہرہ وران کے قالب

جسے راج رد کر چکے تھے، وہ پتھر
ہوا جاکے آخر کو قایم سرے پر

جب امت کو سب مل چکی حق کی نعمت
ادا کر چکی فرض اپنا رسالت
رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی حجت
نبی نے کیا خلق سے قصدِ رحلت

تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی
کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی

سب اسلام کے حکم بردار بندے
سب اسلامیوں کے مددگار بندے
خدا اور بنی کے وفادار بندے
یتیموں کے رانڈوں کے غمخوار بندے

رہِ کفر و باطر سے بیزار سارے
نشہ میں مئے حق کے سرشار سارے

جہالت کی رشمیں مٹا دینے والے
کہانیت کی بنیاد ڈھا دینے والے
سر احکام دیں پر جھکا دینے والے
خدا کے لیے گھر لٹا دینے والے

ہر آفت میں سینہ سپر کرنے والے
فقط ایک اللہ سے ڈرنے والے

اگر اختلاف ان میں باہم دگر تھا
تو بالکل مدار اس کا اخلاص پر تھا
جھگڑتے تھے لیکن نہ جھگڑوں میں شرتھا
خلاف آشتی سے خوش آیندہ تر تھا

یہ تھی موج پہلی اس آزادگی کی
ہرا جس سے ہونے کو تھا باغ گیتی

نہ کھانوں میں تھی واں تکلف کی کلفت
نہ پوشش سے مقصود تھی زیب و زینت
امیر اور لشکر کی تھی ایک صورت
فقیر اور غنی سب کی تھی ایک حالت

لگایا تھا مالی نے اک باغ ایسا
نہ تھا جس میں چھوٹا بڑا کوئی پود ا

خلیفہ تھے امت کے ایسے نگہباں
ہو گلہ کا جیسے نگہبان چوپاں
سمجھتے تھے ذی و مسلم کو یکساں
نہ تھا عبد و حر میں تقاوت نمایاں

کنیز اور بانو تھی آپس میں ایسی
زمانہ میں ماں جائی بہنیں ہوں جیسی
 
  


 انتخاب مسدس حالی از الطاف حسین حالی 

100 لفظوں کی کہانی ۔۔۔ الف نون


جمعہ, دسمبر 18, 2015

کبھی سوچا؟؟؟


ﺍﮔﺮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﯽ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﮮ ﭨﯽ ﺍﯾﻢ ﮐﺎﺭﮈ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻥ ﭼﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ بہتر ﮨﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺘﮯ ﮔﯽ؟ 

ﺍﮔﺮ ﮐﺴﺮﯼٰ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﮭﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺻﻮﻓﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﺨﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﺭﺍﻡ ﺩﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ؟ 

ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺷﺘﺮ ﻣﺮﻍ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺟﻦ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ پنکھے اوراے ﺳﯽ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﯾﮟ ﺣﺼﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ؟ 

ﺁﭖ ﺍپنی خوبصورت ﮐﺎﺭ ﻟﯿﮑﺮ ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻓﺮﺍﭨﮯ ﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﯿﮯ، ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﭘﺮ غرور اور گھمنڈ ہوگا ؟ 

ﮨﺮﻗﻞ بادشاہ ﺧﺎﺹ ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺻﺮﺍﺣﯽ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﮑﺮ ﭘﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍِﺱ ﺁﺳﺎﺋﺶ ﭘﺮ ﺣﺴﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺗﻮ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ آپ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ کے فرج کا پانی پیش کریں گے ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﮯ ﮔﺎ؟ 

ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﻏﺴﻞ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﯽ ﺟﺎﮐﻮﺯﯼ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ؟

جناب ﺁﭖ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺭﮨﮯ ہیں ، ﺑﻠﮑﮧ ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﺳﻮﭺ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﯿﮟ آپ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺼﯿﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﻻﮞ ﮨﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﺍﺣﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﻌﺘﯿﮟ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﯿﻨﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ !!!

ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﭘﮍﮬﯿﺌﮯ، ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ.

......... ﺍﻟﻠﮭﻢ ﺍﻋﻨﯽ ﻋﻠﯽ ﺫﮐﺮﮎ ﻭ ﺷﮑﺮﮎ ﻭ ﺣﺴﻦ ﻋﺒﺎﺩﺗﮏ۔

جمعرات, دسمبر 17, 2015

بہتر کون؟


آج کل سائنس کی ترقی کا چرچہ ہے ۔ سائنس کی ترقی نے آدمی کو بہت سہولیات مہیاء کر دی ہیں
پڑھنے لکھنے پر بھی زور ہے جس کے نتیجہ میں بہت لوگوں نے بڑی بڑی اسناد حاصل کر لی ہیں
توقع تو تھی کہ ان سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے آدمی تعلیم حاصل کر کے انسان بن جائیں گے
لیکن
سائنس کی ترقی میں انسانیت کم پنپ پائی ہے اور وبال یا جہالت زیادہ
سائنس کے استعمال نے انسان کا خون انفرادی ہی نہیں بلکہ انبوہ کے حساب سے آسان بنا دیا ہے اور انسانیت بلک رہی ہے
ایسے میں ویب گردی کرتے میں افریقہ جا پہنچا ۔ دیکھیئے نیچے تصویر میں کون بچے ہیں اور کیا کر رہے ہیں

Ubuntu

ان بچوں کے پاس اپنے جسم ڈھانپنے کیلئے پورے کپڑے نہیں لیکن اس تصویر سے اُن کی باہمی محبت اور احترام کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہ تو میرا اندازہ ہے ۔ اصل حقیقت یہ ہے
ایک ماہرِ بشریات (anthropologist) نے شاید ایسے لوگوں کو پڑھا لکھا نہ ہونے کی بناء پر جاہل اور خود غرض سمجھتے ہوئے اپنے مطالعہ کے مطابق ایک مشق دی ۔ماہرِ بشریات نے پھلوں سے بھرا ایک ٹوکرا تھوڑا دور ایک درخت کے نیچے رکھ کر افریقہ میں بسنے والے ایک قبیلے کے بچوں سے کہا
”جو سب سے پہلے اس ٹوکرے کے پاس پہنچے گا ۔ یہ سارے میٹھے پھل اُس کے ہوں گے“۔
اُس نے بچوں کو ایک صف میں کھڑا کرنے کے بعد کہا ”ایک ۔ دو ۔ تین ۔ بھاگو“۔
سب بچوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لئے اور اکٹھے بھاگ کر اکٹھے ہی پھلوں کے ٹوکرے کے پاس پہنچ گئے اور ٹوکرے کے گرد بیٹھ کر سب پھل کھانے لگے
ماہرِ بشریات جو ششدر کھڑا تھا بچوں کے پاس جا کر بولا ”تم لوگ ہاتھ پکڑ کر اکٹھے کیوں بھاگے ؟ تم میں سے جو تیز بھاگ کر پہلے ٹوکرے کے پاس پہنچتا سارے پھل اس کے ہو جاتے”۔
بچے یک زبان ہو کر بولے ”اُبنٹُو (ubuntu) یعنی میرا وجود سب کی وجہ سے ہے ۔ ہم میں سے ایک کیسے خوش ہو سکتا ہے جب باقی افسردہ ہوں”۔
کیا یہ سکولوں اور یونیورسٹیوں سے محروم لوگ اُن لوگوں سے بہتر نہیں جو سکولوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر انفرادی بہتری کیلئے دوسروں کا نقصان کرتے ہیں
اپنی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے دوسروں کا قتل کرتے ہیں
اور بہت خوش ہیں کہ جسے چاہیں اُسے اُس کے ملک یا گھر کے اندر ہی ایک بٹن دبا کر فنا کر دیں
سائنس نے ہمیں آسائشیں تو دے دیں ہیں مگر انسانیت ہم سے چھین لی۔

بدھ, دسمبر 16, 2015

خُوں بہا



”خُوں بہا“

اپنے شہسواروں کو
قتل کرنے والوں سے
خوں بہا طلب کرنا
وارثوں پہ واجب تھا
قاتلوں پہ واجب تھا
خوں بہا ادا کرنا
واجبات کی تکمیل
منصفوں پہ واجب تھی

(منصفوں کی نگرانی قدسیوں پہ واجب تھی)
وقت کی عدالت میں
ایک سمت مسند تھی
ایک سمت خنجر تھا
تاج زرنگار اک سمت
ایک سمت لشکر تھا

اک طرف تھی مجبوری
اک طرف مقدر تھا
طائفے پکار اٹھے
تاج و تخت زندہ باد"
"ساز و رخت زندہ باد

خلق ھم سے کہتی ھے
سارا ماجرا لکھیں
کس نے کس طرح پایا
اپنا خوں بہا لکھیں

چشمِ نم سے شرمندہ
ھم قلم سے شرمندہ
سوچتے ھیں کیا لکھیں ؟؟


”افتخار عارف“

ہفتہ, دسمبر 12, 2015

کسی کے نام دل کا انتساب لکھ رہے تھے ہم


حیات و کائنات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم
جہاں جہاں ثواب تھا عذاب لکھ رہے تھے ہم 
 
ہماری تشنگی کا غم رقم تھا موج موج پر
سمندروں کے جسم پر سراب لکھ رہے تھے ہم 
 
سوال تھا کہ جستجو عظیم ہے کہ آرزو
سو یوں ہوا کہ عمر بھر جواب لکھ رہے تھے ہم
 
سلگتے دشت ، ریت اور ببول تھے ہر ایک سو
نگر نگر ، گلی گلی گلاب لکھ رہے تھے ہم 
 
زمین رک کے چل پڑی ، چراغ بجھ کے جل گئے
کہ جب ادھورے خوابوں کا حساب لکھ رہے تھے ہم
 
مجھے بتانا زندگی وہ کون سی گھڑی تھی جب
خود اپنے اپنے واسطے عذاب لکھ رہے تھے ہم 
 
چمک اٹھا ہر ایک پل ، مہک اٹھے قلم دوات
کسی کے نام دل کا انتساب لکھ رہے تھے ہم

عزیز نبیل


جمعہ, دسمبر 11, 2015

تفسیر نہیں، تدبر!

تفسیر نہیں، تدبر!

ابن علی

ایک ہے قرآنِ مجید کی تفسیر۔ ایک ہے قرآنِ مجید پر تدبر۔ یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ’’تفسیری عمل‘‘ آپ ایک ہی بار کرتے ہیں۔ یا اپنے علم کو تازہ کرنے کےلیے کبھی کبھار اس کو دہرا لیتے ہیں۔ لیکن ’’تدبر‘‘ آپ بار بار کرتے ہیں۔ یہ عمل ہر لحظہ جاری رہتا ہے۔ زیادہ لوگ ’’تفسیر‘‘ اور ’’تدبر‘‘ کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں؛ ظاہر ہے ان حضرات کے ہاں ’’تدبر‘‘ کی نوبت کم ہی آئے گی اور یہ کچھ علمی نکات وغیرہ میں گم رہنا ہی کل کام جانیں گے۔

تفسیر اور تدبر میں کیا فرق ہے؟ قرآنی علوم کے ماہر ڈاکٹر محمد الربیعہ اس کے تحت مندرجہ ذیل نکات بیان کرتے ہیں:

1۔           تفسیر کا مطلب ہے آیت کے معنیٰ کو کھولنا۔ جبکہ تدبر کا عمل اس کے بعد شروع ہوتا ہے، یعنی آیت میں جو بات کہی گئی اس کے مقصود پر غور کرنا۔ اس میں جن اشیاء کی جانب اشارے ہوئے ہیں ان کا اندازہ کرنا۔ ان پر یقین پیدا کرنا اور ان کو دل میں اتارنا۔

2۔           تفسیر میں آپ کی غرض آیت کا معنیٰ جاننے سے ہوتی ہے۔ جبکہ تدبر کی غرض اس معنیٰ سے فائدہ لینا، اس پر ایمان کی صورت میں، عمل اور سلوک کی صورت میں۔

3۔           تدبر کا حکم سب لوگوں کو ہوا ہے۔ کہ وہ قرآن سے ہدایت اور فائدہ لیں۔ یہ وجہ ہے کہ ابتداءً  کفار کو یہ بات کہی گئی کہ آخر وہ قرآن مجید میں تدبر کیوں نہیں کرتے۔ تدبر میں لوگ درجہ بدرجہ تقسیم ہوں گے تو اس کی بنیاد یہ ہوگی کہ کسی شخص میں علم کے ساتھ ساتھ کلام سے ’’اثر لینے‘‘ کی قوت کتنی ہے اور کلام کے ساتھ اس کا تفاعل interaction  کس درجہ کا ہے۔ جبکہ تفسیر میں لوگوں کی درجہ بندی اس بنیاد پر ہوگی کہ اس کی علمی استعداد کیسی ہے۔ نیز اس کو قرآن کے معانی   جاننے کی ضرورت کس درجہ کی ہے۔ ابن عباس نے تفسیر کے چار درجے بتائے ہیں: ایک تفسیر کا وہ پہلو جس میں کسی شخص کا کوئی عذر نہیں (یعنی وہ سب کو سمجھ آتی ہے؛ ’’تدبر‘‘ کا بھی سب سے زیادہ تعلق قرآن کے اسی حصے سے ہے؛ یہی چیز نصیحت لینے سے متعلق ہے؛ اور یہ چیز کافروں سے بھی مطلوب تھی، ظاہر ہے کافروں کو ان آیات کی تفسیر موقع پر کرکے نہیں دی جاتی تھی؛ وجہ یہی کہ یہ قرآنی کلام کا وہ پہلو ہے جو ہر کسی کو سمجھ آتا ہے)۔ تفسیر کا ایک پہلو وہ جسے پانے کےلیے عربی زبان کے دقائق معلوم ہونا ضروری ہیں۔ ایک تفسیر وہ جو علماء ہی کے کرنے کی ہے (خواہ عربی آپ کو کتنی ہی آتی ہو؛ یہ چیز آپ کو مدرسۂ صحابہ سے ہی ملے گی)۔ پھر ایک تفسیر وہ جو صرف اللہ کو معلوم ہے۔

4۔           تدبر کےلیے شرط کوئی نہیں۔ ہر کسی کو یہ کرنا ہے۔ ہاں جس آیت پر تدبر کرنا ہو اس کا معنیٰ پہلے سمجھ لینا چاہئے۔ نیز قصد و ارادہ کا خالص ہونا ضروری ہے۔ تبھی فرمایا: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآَنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ’’یقیناً ہم نے قرآن کو آسان کر رکھا ہے؛ تو کیا ہے کوئی جو اس سے نصیحت لے‘‘۔ البتہ مفسر ہونے کےلیے باقاعدہ شروط ہیں، کیونکہ تفسیر خدا پر ایک بات کرنے کے مترادف ہے، لہٰذا وہ ہر کسی کے کرنے کی نہیں۔ یہ وجہ ہے کہ سلف قرآن کی تفسیر میں بات کرنے سے بہت بچتے تھے کہ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم کے ہاں کہا جاتا ہے: تدبر کے معاملہ میں آدمی کا کوئی عذر نہیں۔ ہاں تفسیر کے معاملہ میں اس کا عذر ہے۔

5۔           تدبر ایک غایت ہے۔ جبکہ تفسیر ایک ذریعہ۔ یعنی تفسیر کا مقصد ہے کہ وہ آپ کو قرآن مجید میں موجود علم اور عمل تک پہنچائے۔ جبکہ تدبر بذاتِ خود اُس ’’عمل‘‘ میں آتا ہے جو تفسیر سے مقصود ہے۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبد اللہ بن مسعود  کہتے ہیں: قرآن کو یوں مت بھگتاؤ جس طرح اشعار بھگتائے جاتے ہیں اور نہ اس کو یوں بکھیرو جیسے ردی کھجور لا دھری جاتی ہے۔ اس کے عجائب پر رک جایا کرو، اور اس کے ساتھ قلوب کو جنبش دیا کرو۔

حضرت عمر  کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے سورۃ البقرۃ پڑھنے میں بارہ سال لگائے۔ آپؓ کے فرزند عبد اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے سورۃ البقرۃ ختم کرنے میں آٹھ سال لگائے۔

حسن بصری  کا قول ہے: تم رات کو قیام کرنے والے لوگوں نے قرآن مجید کو ایک روٹین کی چیز بنا لیا ہے۔ حالانکہ تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ اسے اس طرح لیتے گویا وہ خدا کی جانب سے آیا ہوا ایک ایک خط کھولتے ہیں۔ تب اُن کی راتیں اس پر غور و فکر میں گزرتیں اور ان کے دن اس کے نفاذ میں۔

ابن قدامہ  کہتے ہیں: قرآن پڑھنے والے پر لازم ہے کہ وہ اپنے اوپر یہ احساس طاری کرے کہ قرآن کا سب خطاب اور وعید ایک اسی کےلیے ہے۔

ابن قیم  کہتے ہیں: اگر تم قرآن سے فائدہ پانے کے خواہشمند ہو تو قرآن پڑھتے یا سنتے وقت دلجمع ہو جایا کرو، ہمہ تن گوش ہو جایا کرو، اور اس کے آگے یوں حاضر باش ہو جایا کرو گویا اللہ مالک الملک خاص تم سے ہی مخاطب ہے۔

مکمل مضمون پڑھئیے: تفسیر نہیں تدبر

جمعرات, دسمبر 10, 2015

بدھ, دسمبر 09, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 09 دسمبر 2015

جب کوئی انسان اپنےآپ اور اپنی کامیابیوں کو سیلف میڈ (SELF MADE) کا نام دیتا ہے تو وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کی نفی کرتا ہے بلکہ ان تمام انسانوں کے احسانات اور مہربانیوں کو بھی روند ڈالتا ہے جنہوں نے اس کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا۔

 اور یہ دنیا کا بد ترین تکبر ہے۔

منگل, دسمبر 08, 2015

عمل اور ردِعمل


عمل اور ردِعمل 

تحریر:شمیم مرتضیٰ
-----------------------------
زندگی کا ایک سادہ سا اصول ہے کہ ہر عمل کا ردِّ عمل ہوتا ہے۔ اسی اصول کے مصداق جب ہم کو ئی نیکی کرتے ہیں تو اِس نیکی کا بھی ایک ردِّ عمل ہوتا ہے۔ مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ ردِّ عمل کسی میکانیکی عمل کی طرح نہیں ہوتا جیسا کہ نیوٹن بیان کرتا ہے بلکہ اس کےپیچھے ایک بہت بڑی defining force کام کر رہی ہوتی ہے اور وہ ہے ہماری "نیت"۔ یہی قوت فیصلہ کرتی ہے کہ نیکی کا صلہ بڑھ کر ملنا ہے کہ گھٹ کر یاکہ بالکل ہی نہیں ملنا۔
بعض اوقات ہم اپنے تئیں ایک بہت چھوٹی سی نیکی کرتے ہیں مگر ہمیں خبر نہیں ہوتی کہ اپنے اخلاص کی وجہ سے اس نیکی کا ایک upward spiral effect قائم ہوتا ہے اور ایک چھوٹی سی نیکی اپنے اجر میں دوسری نیکیوں سے بڑھ جاتی ہے۔
ممکن ہے کہ جس نیکی کو ہم ایک نہایت چھوٹی سی نیکی سمجھ کر کررہے ہوں اس کا شجرہ ایک بہت بڑی نیکی سے ملتا ہو۔راستہ سے ایک چھوٹا سا پتھر ہٹانا ہو، اپنےکسی مسلمان بھائی کو مسکرا کر دیکھنا ہو، ایک چھوٹا سا پودا لگانا ہو یا کسی کے کام آجانا ہو۔ بظاہر بہت معمولی سے کام ہیں۔
مگر ان میں بڑی کشش ہوتی ہے۔ ہر ایک معمولی نیکی دوسری نیکی کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ اس طرح دونیکیاں مل کر اگلی کسی نیکی کو اپنے ساتھ ملا لیتی ہیں اور یوں ایک chain reaction شروع ہوجاتا ہے۔ مگر اس کے لیے شرط ہے کہ ہم اپنے ارادے سے پورے اخلاص کے ساتھ ایک نیکی کی طرف قدم بڑھائیں۔ ایک دِیے سے دوسرا دِیا روشن ہوتا ہے اور ایک ترتیب چراغوں کی نظر آتی ہے۔دور تک نظر میں ایک روشنی کا سلسلہ قائم ہوجاتا ہے۔

یہی حال گناہوں کا بھی ہے۔ جس طرح بوم رنگ پلٹ کر اپنی طرف آتا ہے اسی طرح ہر کردہ گناہ پلٹ کر اپنے کرنے والے کی طرف آتا ہے۔ ایک گناہ دوسرے گناہ کو اپنی جانب کھینچتا ہے اور یوں گناہوں کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جب تک اس سلسلہ کو توبہ اور مغفرت کے ذریعہ منقطع نہ کردیا جائے۔کوئی چھوٹا گناہ یہ سمجھ کر نہ کر لیا جائے کہ یہ تومحض ایک چھوٹی سی بات ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی گناہ کی طرف بڑھنے والا ایک قدم اسفل ا لسافلین کی طرف جانے والے راستے کی دہلیز کو عبور کررہا ہو۔
نیکی اور گناہ زیادہ تر صحبت کے ردعمل کے طور پہ عمل میں آتے ہیں جیسا کہ اگر ہم تقویٰ اختیار کرنا چاہتے ہیں تو صالحین، توابین اور صادقین کی صحبت میں بیٹھنے سے نیکی کی طرف راغب ہونا آسان ہو جاتا ہے جب کہ سافلین کی صحبت کا ردعمل گناہ اور برائی کی طرف رغبت کی صورت میں ملتا ہے۔
ذرا سوچئے جہاں پرہیزگار اور نمازی لوگوں کی نشست ہو وہاں اذان کے بعد نماز کے لیے اٹھنا کتنا آسان ہو جاتا ہے جب کہ اس کے برعکس شرابیوں کی محفل سے نماز کے لیے اٹھنا مشکل اور شراب پینا کتنا آسان ہو گا۔

غور فرمائیے
----------------
• اپنے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے کاموں کا جائزہ لیجئے اور غور کیجئے کہ آیا ہم کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی ایسا تو نہیں کر رہے جس کا ردعمل کسی برائی ، گناہ یا کبیرہ گناہ کی صورت میں ملے گا۔
• اپنے رویہ کا جائزہ لیجئے کہ کہیں آپ کا رویہ کسی کے دل میں کسی کے لیے کدورت، شک، بدگمانی یا نفرت تو پیدا نہیں کر رہا۔

• اگر ان میں سے کسی ایک کا جواب بھی ہاں ہے تو اپنے تزکیہ کی طرف توجہ دیجیئے۔ بلاشبہ سب سے اچھا تزکیہ وہی ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں کیا جائے۔

www.almubashir.org

ہفتہ, دسمبر 05, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 05 دسمبر 2015

"اس نے کہا۔ میں نے مان لیا،
اس نے زور دیا، مجھے شک گزرا،
اس نے قسم کھائی،
میں نے کہا، یہ تو جھوٹ بولتا ھے۔"

جمعہ, دسمبر 04, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 04 دسمبر 2015

کسی نے ’ناممکن‘ سے پوچھا:
کہاں بستے ہو؟
اس نے جواب دیا:
نکمے انسان کے خوابوں میں

بلغ العلیٰ بکمالہ



بلغ العلیٰ بکمالہ
کشف الدجیٰ بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ
صلو علیہ واٰلہ

وہ اولیٰ کو پہنچے کمال سے
مٹی ظلمت ان کے جمال سے
ہوئےدلپسند خصال سے
ہو درود ان پہ اور آل پر
صلو علیہ واٰلہ

وہ ہیں بحر جود و نوال میں
ہے مٹھاس ان کے مقال میں
وہ رشک مہرِ جمال میں
ہو درود ان پہ اور آل پر
صلو علیہ واٰلہ

وہ محمد و احمد و مصطفیٰ
وہ ہیں سرور صف انبیاء
جو عدو ہے ان سے کانپتا
ہو درود ان پہ اور آل پر
صلو علیہ واٰلہ

 ہوئیں عام ساری بھلائیاں
ہوئیں تابناک صفائیں
وہ صحابیوں کی رسائیاں
ہو درود ان پہ اور آل پر
صلو علیہ واٰلہ

وہ نکات ان کے کلام سے
حسنات قصد و مرام کے
کہ عَلم بلند ہیں کام کے
ہو درود ان پہ اور آل پر
صلو علیہ واٰلہ

بلغ العلیٰ بکمالہ
کشف الدجیٰ بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ
صلو علیہ واٰلہ


جمعرات, دسمبر 03, 2015

فاصلہ ... ایک خوبصورت تحریر سے ماخوز نظم

"دور ہمیشہ ہم آتے ہیں، اللہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا۔ فاصلہ ہم پیدا کرتے ہیں۔ اس کو مٹانا بھی ہمیں ہوتا ہے۔"

اقتباس: جنت کے پتے از نمرہ احمد


 کبھی گر یہ لگے تم کو
تمہارے اور خدا کے درمیاں
ہیں حائل فاصلے کچھ یوں (ترمیم شدہ)
کہ تم جتنی بھی شدت سے پکارو
وہ نہیں سنتا
سمجھ لینا اسی لمحے
کہ یہ سب فاصلے پیدا کیے کس نے
خدا تو اپنے بندوں سے
کبھی دوری نہیں رکھتا
رگ جاں سے بھی نزدیک تر
بندے سے رہتا ہے

سیما آفتاب
( 4 مئی 2012)


بدھ, دسمبر 02, 2015

حلال کی لذت ۔۔ از نمرہ احمد


وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهِ مِن بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِّلشَّارِبِينَ ( 66 )
اور تمہارے لیے چارپایوں میں بھی (مقام) عبرت (وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے
وَمِن ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ( 67 )
اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے
 
"یہ آیاتِ نحل ہمیں سکھاتی ہیں کہ جیسے گوبر اور خون کے درمیان سے پاکیزہ چیز نکل سکتی ہے ‘ اور جیسے انگور اور کھجور سے ناپاک شے بن سکتی ہے ‘ ویسے ہی شہد کی مکھی کے راستوں کو مشکل بنانے والی چیزوں کا صحیح یا غلط استعمال آپ کے ہاتھ میں ہے۔مگر اتنا یاد رکھئے گا ‘ کہ جو آپ کے نصیب میں ہے ‘وہ آپ کو ضرور ملے گا۔ چاہے حرام سے ‘ چاہے حلال سے۔ لیکن اگر آپ اس کو حرام سے لینے کی کوشش کریں گے ‘ تو الله آپ کے حلال کی لذت لے لے گا۔ کچھ میاں بیوی پسند کی شادی کے باوجود بڑی ناخوش زندگی گزار رہے ہوتے ہیں‘ کبھی سوچا ہے کیوں؟ کیونکہ وہ شادی سے پہلے سب حرام سے لے چکے ہوتے ہیں‘ جو بعد میں ان کو مل ہی جانا تھا‘ اس لئے ان کے حلال کی مٹھاس ختم ہو جاتی ہے۔ آپ کسی کے ساتھ ‘ بھلے اپنے منگیتر کے ساتھ ہی سیل فون پہ انوالوڈ ہیں‘ تو اتنا یاد رکھیں کہ محرم اور نا محرم کے قوانین آپ کی دلیلوں اور حیلوں بہانوں سے بدل نہیں جائیں گے۔ جو غلط ہے ‘ وہ غلط ہے۔ آپ جتنا حرام لیں گے ‘ اتنا اپنے حلال کو کھوتے جائیں گے۔"
"لیکن ‘ اس کے بر عکس اگر آپ حرام چھوڑ دیں‘ جس چیز سے منع کیا جا رہا ہے ‘ اس کو الله کے لئے ترک کر دیں ‘تو الله وہی چیز کچھ ہی عرصے میں آپ کو حلال بنا کر دے دے گا۔یہ میں نہیں کہہ رہا ‘ یہ امام ابنِ قیم نے سات سو برس پہلے کہا تھا ۔ آپ جانتے ہیں ‘ الله کسی کا کچھ نہیں رکھتا ‘ وہ بہت غیرت والا ہے ‘ آپ جو بھی اس کی راہ میں صدقہ کریں ‘ یا قربانی ‘ تو وہ اس کو کئی گنا برکت دے کر آپ کو لوٹا دیتا ہے۔ اس لئے ...حرام کو چھوڑ دیں‘ اس یقین کے ساتھ کہ الله اس کو حلال بنا کر آپ کو لوٹا دے گا."

اقتباس: ناول نمل از نمرہ احمد

تیری مانند کون ہے؟

ایک برتر ہستی سے محبت کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان چاہے نہ چاہے، وہ کسی نہ کسی کو اپنا معبود بنانے پر مجبور ہے۔ مگر معبود بننے کے لائق صرف ایک ہی ہستی ہے۔ اللہ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

انسان کا المیہ دیکھیے کہ اس نے اپنی تاریخ میں کبھی اللہ تعالیٰ کو قابل توجہ نہیں سمجھا۔ ہر دور میں اس نے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا ہے۔ پھر خدا کو غیر اہم جان کر انہی کی حمد کی ہے ۔ انہی کی عظمت کے گن گائے ہیں۔ انہی سے مدد مانگی ہے۔ انہی کے سامنے سر جھکایا ہے۔انہی سے محبت کی ہے۔ انہی کے لیے روئے ہیں۔انہی کے لیے تڑپے ہیں۔انہی کا اعتراف کیا ہے۔انہی کے شکر گزار بنے ہیں۔انہی کے لیے محبت اور انہی کے لیے نفرت کی ہے۔انہی کے نام کو آنکھوں کی روشنی اور انہی کی یاد کو زبان کی مٹھاس بنایا ہے۔

یہ سب تو اللہ کا حق ہے۔ ہر دور میں تھا۔ ہر دور میں رہے گا۔ غیر اللہ کی عبادت اور حمد کرنے والے یہ لوگ، انبیائے بنی اسرائیل کے الفاظ میں، اُس عورت کی مانند ہیں جو اپنے شوہر کو چھوڑ کر دوسرے مردوں کے ساتھ بدکاری کرتی ہے۔اس کے برعکس اللہ کے رسولوں کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا جینا مرنا سب اللہ کے لیے ہوتا ہے۔وہ ہر مشکل میں اسی پر بھروسہ کرتے اور ہر کامیابی پر اسی کی حمد کے ترانے پڑھتے ہیں۔ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے عرب پر غلبہ کے بعد صفا پہاڑ پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی جو حمد کی، اس کے الفاظ یہ ہیں۔

"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہاہے اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور حمد بھی اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے"۔ (مسلم،رقم 1218)

اللہ تعالیٰ نے فرعون کو جب غرق کیا اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی قوم کو سمندر سے سلامتی کے ساتھ گزاردیا تو اس موقع پر حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کی انتہائی خوبصورت انداز میں حمد و ثنا کی ۔ اس حمد کا ایک جملہ یہ ہے۔

’’[ان جھوٹے] معبودوں میں، اے خداوند، تیری مانند کون ہے‘‘۔ (خروج 15:11)

ان دونوں پیغمبروں کی ذات رہتی دنیا تک اس بات کا بھی نمونہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے کیسے ہوتے ہیں اور اس بات کا بھی کہ ایسے وفاداروں کو وہ کس طرح نوازتا ہے۔ مگر اس کی عطا اسی پر بس نہیں، وہ تو ایسا کریم ہے کہ لوگوں کو غیر اللہ کی پرستش کرتے دیکھتا ہے، پھر بھی ان پر اپنی نعمتوں کے دروازے بند نہیں کرتا۔

وفاداروں کو دینے والے تو بہت ہوتے ہیں، مگر بے حیا اور بے وفا لوگوں پر رحم کرنے والی ایک ہی ہستی ہے؛ اللہ جس کے سوا کوئی رب نہیں۔ وہ جب اپنے وفاداروں کو نوازے گا تو دنیا دیکھے گی۔ سو اب جو جس کو چاہے اپنی وفا کا مرکز و محور بنا لے۔ نبیوں کے طریقے پر چلنے والے، مرتے دم تک خدا کی محبت سے سرشار، یہی کہتے رہیں گے۔

[ان جھوٹے] معبودوں میں، اے خداوند، تیری مانند کون ہے؟ 

 مصنف: ریحان احمد یوسفی(ابو یحییٰ)

منگل, دسمبر 01, 2015

آج کی بات ۔۔۔ 01 دسمبر 2015

جولطف عجز و انکساری ، عاجزی و فروتنی، جھک جانے میں ہے،
وہ مزا اکڑ میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!


جو بات کسی دوسرے شخص کی چالاکیوں پر صرف نظر کرنے میں ہے،
وہ اس کا جواب دینے میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! 


جو عزت اپنا احتساب کرنے میں ہے ،
کسی اور کے احتساب میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!! 


جو انتقام خاموشی میں ہے،
وہ زبانی جواب میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!


پروفیسر محمد عقیل 

چھوٹی سی نیکی

 
چند راتوں پہلے کی بات ہے، میں نے بستر پر جانے سے پہلے حسب معمول کمرے کی بتی بند کر دی ایک دم سے گہرا اندھیرا چھا گیا،مگر اس میں کوئی چیز چمک رہی تھی میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اینڈرائیڈ قون کی چارجنگ والی لائیٹ ہے،خیر میں بستر پرلیٹ گیا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ اس کی ٹمٹماہٹ بڑھ گئی اور مزید کچھ دیر گزری تو مجھے اس ٹمٹاتی روشنی میں کمرے کی اس طرف والی دیوار نظر آنے لگی جدھر فون رکھا تھا۔ یہ تو تھی ایک بات اب آتے ہیں اصل بات کی طرف ۔ ۔ ۔ ۔ 

بات کچھ یوں ہے کہ ہماری چھوٹی سی نیکی جس کی ہمارے سامنے قدروقیمت ہے ہی نہیں اور نہ ہم اس کی طرف غور کرتے ہیں وہ بھی تاریک کمرے (معاشرے) میں اس ٹمٹماتی روشنی کا کام کرتی ہے اور آگے چل کرہمارے لیئے آسانی کا باعث بنے گی۔ آپ کی چھوٹی چھوٹی نیکیاں جن کوآپ سرِ راہ چلتے ہوئے گنوا دیتے ہیں اور دھیان نہیں دیتے ان میں راستے میں چلتے ہوئے لوگوں کو سلام کرنا ، اگر کوئی تکلیف دینے والی چیز نظر آئے تو اس کو پاؤں کی ٹھوکر سے ہی سہی سائیڈ پر کر دینا چائیے۔ اگر کہیں کوئی شخص مصیبت میں اٹکا ہوا نظر آ جائے تو فوراََ سے پہلے اس کی مدد کے اسباب تلاش کیجیئے کہ کس طرح اس کو اس مصیبت سے نکالا جائے نہ کہ فون لے کر ویڈیو بنانا شروع ہو جائیں یا ویسے ہی باقی تماش بینوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں ورنہ کو کل آپ پر بھی ایسا وقت آ سکتا ہے آج کسی کے ساتھ بھلائی کی ہوگی تو کل کو اسکا بدلہ ملے گا، پھر نہ کہنا کہ میں زندہ جلتا رہا اور معاشرہ میری تصویر بناتا رہا۔ کسی نے یونہی نہیں کہا کر بھلا سو ہو بھلا۔

ہمارا کام ہے بھلائی کی دعوت دینا کیوں کہ یہ بھی ایک نیکی ہے!
آگے اللہ مالک ہے۔ 
 دعا ہےسب کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے۔ (آمین)
تحریر : پروفیسر نیک دل :)