فاصلہ ... ایک خوبصورت تحریر سے ماخوز نظم

"دور ہمیشہ ہم آتے ہیں، اللہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا۔ فاصلہ ہم پیدا کرتے ہیں۔ اس کو مٹانا بھی ہمیں ہوتا ہے۔"

اقتباس: جنت کے پتے از نمرہ احمد


 کبھی گر یہ لگے تم کو
تمہارے اور خدا کے درمیاں
ہیں حائل فاصلے کچھ یوں (ترمیم شدہ)
کہ تم جتنی بھی شدت سے پکارو
وہ نہیں سنتا
سمجھ لینا اسی لمحے
کہ یہ سب فاصلے پیدا کیے کس نے
خدا تو اپنے بندوں سے
کبھی دوری نہیں رکھتا
رگ جاں سے بھی نزدیک تر
بندے سے رہتا ہے

سیما آفتاب
( 4 مئی 2012)


تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

آٹھ مصیبتیں

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل