منگل, ستمبر 30, 2014

خواہش


مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ جو دیوانہ ہو پاگل ہو اس پر شریعت کا حکم لاگو کیوں نہیں ۔
تو سمجھ آگیا کہ اس میں خواہش بھی نہیں ہوتی ۔
یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں بھکاری بنا رکھا ہے ۔ یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں روگی بنا رکھا ہے ۔
یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں جانور ، درندہ بنا رکھا ہے ۔
اور یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنا رکھا ہے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کون کون سی خواہشوں کے زیر اثر ہیں ۔
واللہ تعالیٰ اعلم

امید کے جگنو


کبھی کبھی ہوتا ہے نا کہ ہم خوش اور مگن ہوتے ہوئے بھی مطمئن نہیں ہوپاتے۔ زندگی ایک دائرے میں گھومتی محسوس ہوتی ہے اور تب ایک انجانی سی تھکن وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ ہر سفر بے سمت، ہر کام بے معنی سا لگنے لگتا ہے۔ انہی سوچوں میں گھرا دیکھ کر مایوسی اپنے پر پھیلاتی ہے اور ناامیدی ہمارے دل و دماغ پر اپنے پنجے گاڑھ لیتی ہے۔ ناامیدی ہم سے وہ معمولی خوشیاں بھی چھین لیتی ہے جو ہر ابھرتے سورج کے ساتھ ہمیں چلتے رہنے کی ہمت دیا کرتی ہیں۔ بے انتہا شور میں گھرے ہوئے بھی ہمیں اپنے اندر صرف ایک مہیب سناٹا سنائی دیتا ہے۔ ۔ ۔ روشنیوں کی چکاچوند میں بھی ہر طرف اندھیرا چھاتا محسوس ہوتا ہے مگر اس اندھیرے میں بھی امید کے جگنو راستہ دکھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بالکل اس کہانی کی طرح جس میں اندھیری رات میں بھٹکتے بلبل کو جگنو نے راستہ دکھایا تھا۔ امید کے جگنو زندگی کے بے مقصد دائروں میں بھٹکتے تھکن زدہ انسان کے ہاتھ تھامتے ہیں اور ناامیدی سے امید تک کا سفر طے کرواجاتے ہیں۔ سوچیں تو حیران رہ جائیں کہ ان معمولی، چھوٹی سی جانوں میں اتنی طاقت کہاں سے آجاتی ہے کہ یہ میلوں پھیلے سناٹے کو اپنی ذرّوں جیسی روشنی سے چیرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ طاقت انہیں امید دیتی ہے۔ امید انہیں یقین بخشتی ہے کہ اجالا کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اندھیرے پر حاوی ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جیسے کالی رات میں سورج کی پہلی ننھی سی کرن کچھ سہمی ہوئی سی آگے بڑھنے سے گھبراتی ہے تو امید کے جگنو اس کے ہاتھ تھام کر اسے بھی اس خوف سے نکال لاتے ہیں۔ پھر اسے دیکھتے دیکھتے سورج کی بہت سی کرنیں اندھیرے کو اجالے میں بدلنے میں اس کے ساتھ آکھڑی ہوتی ہیں۔ اصل ہمت پہلی کرن کو کرنی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ دقت کا سامنا اس پہلی کرن کو کرنا پڑتا ہے، مگر پھر امید کے جگنوؤں کے سہارے یہ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس اندھیرے سے اجالے کے سفر میں بہت سی کرنیں اس کی ہم سفر ہوجاتی ہیں۔ اندھیرا جتنا بھی گہرا ہو، امید کے جگنو اس اندھیرے کو اجالے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف ان پر اعتماد کرنے کی ہے۔ ہاتھ بڑھائیے اور امید کے جگنوؤں کے بڑھے ہاتھ تھام کر ان کے ساتھ اجالے کے سفر میں شامل ہوجائیں۔ ۔ ۔ زندگی بہت با مقصد لگنے لگے گی

جمعرات, ستمبر 25, 2014

آج کی بات۔۔۔۔ 25 ستمبر 2014



انسان کی زندگی میں رشتے درختوں کی مانند ھوتے ھیں. بعض اوقات اپنے مفاد کی خاطر ھم انہیں کاٹتے چلے جاتے ھیں لیکن جب وقت کی کڑی دھوپ ھمیں جھلسانے لگتی ھے تو سائے کی خاطر پھر کسی رشتے کی طرف ھی بھاگتے ھیں- .

منگل, ستمبر 23, 2014

آخری خواہش



گارڈین اخبار کی ایک ریسرچ تھی‘ اخبار کے ایک رپورٹر نے آخری سانس لیتے ہوئے مریضوں کی آخری خواہشات جمع کیں‘ یہ بے شمار مرتے ہوئے لوگوں سے ملا اور ان ملاقاتوں کی روشنی میں اس نے اپنی ریسرچ مکمل کی‘ ریسرچ کے مطابق مرنے والوں میں پانچ خواہشیں ’’کامن‘‘ تھیں‘ ان کا کہنا تھا ’’ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی میں جو عنایت کیا تھا‘ ہم اسے فراموش کر کے ان چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہے جو ہمارے نصیب میں نہیں تھیں۔

اللہ تعالیٰ اگر ہماری زندگی میں اضافہ کر دے یا یہ ہمیں دوبارہ زندگی دے دے تو ہم صرف ان نعمتوں کو انجوائے کریں گے جو ہمیں حاصل ہیں‘ ہم زیادہ کے بجائے کم پر خوش رہیں گے‘‘ ان کا کہنا تھا‘ ہم نے پوری زندگی لوگوں کو ناراض کرتے اور لوگوں سے ناراض ہوتے گزار دی‘ ہم بچپن میں اپنے والدین‘ اپنے ہمسایوں‘ اپنے کلاس فیلوز اور اپنے اساتذہ کو تنگ کرتے تھے‘ ہم جوانی میں لوگوں کے جذبات سے کھیلتے رہے اور ہم ادھیڑ عمر ہو کر اپنے ماتحتوں کو تکلیف اور سینئرز کو چکر دیتے رہے‘ ہم دوسروں کے ٹائر کی بلاوجہ ہوا نکال دیتے تھے‘ دوسروں کی گاڑیوں پر خراشیں لگا دیتے تھے اور شہد کے چھتوں پر پتھر مار دیتے تھے‘ ہم بہن بھائیوں اور بیویوں کے حق مار کر بیٹھے رہے‘ ہم لوگوں پر بلاتصدیق الزام لگاتے رہے۔

ہم نے زندگی میں بے شمار لوگوں کے کیریئر تباہ کیے‘ ہم اہل لوگوں کی پروموشن روک کر بیٹھے رہتے تھے اور ہم نااہل لوگوں کو پروموٹ کرتے تھے‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی مل جائے تو ہم عمر بھر کسی کو تکلیف دیں گے اور نہ ہی کسی سے تکلیف لیں گے‘ ہم ناراض ہوں گے اور نہ ہی کسی کو ناراض کریں گے‘‘ زندگی کی آخری سیڑھی پر بیٹھے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہماری مذہب کے بارے میں اپروچ بھی غلط تھی‘ ہم زندگی بھر لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتے رہے‘ ہم انھیں دوزخی یا جنتی قرار دیتے رہے۔

ہم مسلمان ہیں تو ہم باقی مذاہب کے لوگوں کو کافر سمجھتے رہے اور ہم اگر یہودی اور عیسائی ہیں تو ہم نے زندگی بھر مسلمانوں کو برا سمجھا‘ ہم آج جب زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے دنیا کا ہر شخص ایک ہی جگہ سے دنیا میں آتا ہے اور وہ ایک ہی جگہ واپس جاتا ہے‘ ہم ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں اور قبر کے اندھیرے میں گم ہو جاتے ہیں‘ ہمیں اگر آج دوبارہ زندگی مل جائے یا اللہ تعالیٰ ہماری عمر میں اضافہ کر دے تو ہم مذہب کو کبھی تقسیم کا ذریعہ نہیں بنائیں گے‘ ہم لوگوں کو آپس میں توڑیں گے نہیں‘ جوڑیں گے‘ ہم دنیا بھر کے مذاہب سے اچھی عادتیں‘ اچھی باتیں کشید کریں گے اور ایک گلوبل مذہب تشکیل دیں گے۔

ایک ایسا مذہب جس میں تمام لوگ اپنے اپنے عقائد پر کاربند رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور دنیا میں مذہب کی بنیاد پر کوئی جنگ نہ ہو‘ آخری سانسیں گنتے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہم نے زندگی بھر فضول وقت ضایع کیا‘ ہم پوری زندگی بستر پر لیٹ کر چھت ناپتے رہے‘ کرسیوں پر بیٹھ کر جمائیاں لیتے رہے اور ساحلوں کی ریت پر لیٹ کر خارش کرتے رہے‘ ہم نے اپنی دو تہائی زندگی فضول ضایع کر دی‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی ملے تو ہم زندگی کے ایک ایک لمحے کو استعمال کریں گے‘ ہم کم سوئیں گے‘ کم کھائیں گے اور کم بولیں گے۔

ہم دنیا میں ایسے کام کریں گے جو دوسرے انسانوں کی زندگیوں کو آسان بنائیں‘ جو محروم لوگوں کو فائدہ پہنچائیں اور زندگی کی آخری سیڑھی پر بیٹھے لوگوں کا کہنا تھا‘ ہم عمر بھر پیسہ خرچ کرتے رہے لیکن ہم اس کے باوجود اپنی کمائی کا صرف 30 فیصد خرچ کر سکے‘ ہم اب چند دنوں میں دوزخ یا جنت میں ہوں گے لیکن ہماری کمائی کا ستر فیصد حصہ بینکوں میں ہو گا یا پھر یہ دولت ہماری نالائق اولاد کو ترکے میں مل جائے گی‘ ہمیں اگر دوبارہ زندگی ملی تو ہم اپنی دولت کا ستر فیصد حصہ ویلفیئر میں خرچ کریں گے‘ ہم مرنے سے قبل اپنی رقم چیریٹی کر جائیں گے۔

یہ مرنے والے لوگوں کی زندگی کا حاصل تھا‘ یہ زندگی میں خوشی حاصل کرنے کے پانچ راز بھی ہیں لیکن انسانوں کو یہ راز زندگی میں سمجھ نہیں آتے‘ ہم انسان یہ راز اس وقت سمجھتے ہیں جب ہم موت کی دہلیز پر کھڑے ہوتے ہیں‘ جب ہمارے ہاتھ سے زندگی کی نعمت نکل جاتی ہے‘ انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے‘ اس کی آنکھ اس وقت تک نہیں کھلتی جب تک اس کی آنکھیں مستقل طور پر بند نہیں ہو جاتیں اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ آنکھیں کھولنے کے لیے آنکھوں کے بند ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

اقتباس ' موت کی دہلیز پہ' از جاوید چوہدری

جمعرات, ستمبر 11, 2014

آج کی بات ۔۔۔ 11 ستمبر 2014



اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنی سو چوں میں گم ہم ہمت ہارنے کے قریب ہوتے ہیں کہ اچانک کچھ ایسے الفاظ پڑهنے کو ملتے ہیں کہ حوصلہ بحال ہو جاتا ہے. یہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے وه ہمیں امید کی کرن تهما دیتا ہے

سیلاب : رحمت یا زحمت



سیلاب : رحمت یا زحمت
 ( از ابو یحییٰ: ماہنامہ انذار، اکتوبر 2014)

پاکستان ایک دفعہ پھر سیلاب کی زد میں ہے۔سیکڑوں لوگ مارے جاچکے ہیں۔ہزاروں ایکڑ زرعی اور رہائشی زمین زیر آب آچکی ہے ۔ لاکھوں لوگ متاثرہوچکے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا اور آخری سیلاب نہیں ۔ فیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق پاکستان میں اب تک دو درجن بڑے سیلاب آئے ہیں ۔ان میں سب سے بڑا سیلاب 2010کا تھا۔ یہ وہی سیلاب تھا جس میں بعض نادان مذہبی دانشوروں نے یہ غیر ضروری بحث اٹھادی کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ہم نے اُس وقت بھی پے در پے مضامین لکھ کر قرآ ن مجید اور عقل عام کی روشنی میں یہ ثابت کیا تھا کہ سیلاب عذاب نہیں ہوتا، اصل عذاب وہ نااہل فکری اور سیاسی قیادت ہوتی ہے جسے لوگ اپنے جذبات و تعصبات کی بنا پر خود اپنے اوپر مسلط کرلیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک زرعی ملک کے لیے بارشیں اور ان سے آنے والا سیلاب اللہ کی عظیم نعمت ہے۔خاص کر ایک ایسے دور میں جب دنیا میں پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کرگیا ہو۔ سیلاب اپنے ساتھ پانی کا ایسا ذخیرہ لاتا ہے جسے ڈیموں میں جمع کرلیا جائے تو کئی برس تک پانی کی کمی کا مسئلہ ختم ہوجاتا ہے۔سیلاب اپنے ساتھ ایسی زرخیر مٹی لاتا ہے جو مردہ زرعی زمینوں کو دوبارہ زندہ کردیتی ہے۔ مگر ان فوائد سے وہی قومیں فائدہ اٹھاتی ہیں جن کی لیڈر شپ مال بنانے سے زیادہ ڈیم بنانے اور واٹر مینجمنٹ کو اہم سمجھتی ہو۔

مگر جہاں دانشور سیلاب میں چھپے مواقع دیکھنے کے بجائے عذاب کی دہائی دیتے رہیں، جہاں سیاسی رہنماصرف سیلاب کے زمانے میں متحرک ہوتے ہوں وہاں ہر دفعہ سیلاب آنے پر وہی کچھ ہوتا ہے جو ہمارے ہاں ان دو درجن سیلابوں میں ہوا ہے۔یعنی جان و مال کی بربادی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی دنیا میں ہر مصیبت میں ایک خیر پوشیدہ ہوتی ہے۔ مگر یہ خیر اُسی کو ملتی ہے جو اسے لینے کے لیے تیار ہو۔ باقیوں کو صرف بربادی ملتی ہے۔

سوموار, ستمبر 08, 2014

آج کی بات۔۔۔ 08 ستمبر 2014



تنقید اور تضحیک میں فرق بنیادی ہے- تنقید ضمیر کو مخاطب کرتی ہے اور تضحیک عزت نفس کو - تنقید کا مقصد جاننا اور تضحیک کا مقصد بھڑاس نکالنا ہے- تنقید جواب کا تقاضہ کرتی ہے اور تضحیک خاموشی کا.

اتوار, ستمبر 07, 2014

روٹی



اسے کاٹا گیا پیسا گیا گوندھا گیا لیکن
سبق گندم سے دنیا لینا پھر بھی بھول جاتی ہے
کسی بھوکے کے کام آنے سے پہلے غور سے دیکھو

دہکتی آگ پر روٹی خوشی سے پھول جاتی ہے

ہفتہ, ستمبر 06, 2014

یوم دفاع



تحریر: ملک جہانگیر اقبال

٦ ستمبر١٩٦٥ ..
یعنی یوم دفاع پاکستان . وہ دن جب پاکستانی افواج اور خاص توڑ پر پاک فضائیہ نے بہادری کی عظیم داستانیں رقم کی ، جب اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر یہ باور کرا دیا تھا کہ جنگیں محض اسلحے یا حجم سے نہیں لڑی جاتی ہیں بلکہ افواج میں جان قربان کرنے کا جذبہ ہو اور اسے قوم کی حمایت حاصل ہو تو وہ اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن کو زیر کر سکتے ہیں .

میں تاریخ کے واقعات کم لکھتا ہوں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم تاریخ سے سبق اور جذبہ تو حاصل کر سکتے ہیں پر یہ یاد رہے ہر آنے والا دن مختلف ہوتا ہے ہر آنے والی جنگ الگ نوعیت کی ہوتی ہے . اور ہمیں یاد رکھنا چاہیئے اب جو جنگ ہوئی وہ حجم میں شاید ١٩٦٥ کی جنگ سے بہت بڑی ہوگی اور بہ یک وقت بہت سے دشمنوں سے بہت سے محاذوں پر لڑنا ہوگا .
اگر آپ گزشتہ ١٠ سال ہی دیکھ لیں تو ہماری افواج دنیا کی مشکل ترین جنگ میں الجھی ہوئی ہیں جس میں دشمنوں کی تعداد اور اقسام بدلتی جارہی ہیں . ایسا لگتا ہے جیسے پوری ترتیب کے ساتھ دشمن نے مہرے کھڑے کر دیے ہیں کہ ایک کے گرتے ہی دوسرا مہرہ آن کھڑا ہوتا ہے ایک نئی شاطر سوچ اور گھناونے منصوبے کے ساتھ .
اگر میں یہ کہوں کے گزشتہ ١٠ سالوں سے اس قوم کا ہر دن یوم دفاع ہے تو غلط نہ ہوگا اور یقیناً مورخ جب تاریخ لکھے گا تو ان دس سالوں میں ہونے والی دس ہزار سازشوں پر اسکا قلم ضرور خشک ہوگا اور وہ بار بار حقائق پلٹ پلٹ کر دیکھے گا کہ کیا واقعی کوئی قوم اور اسکی سپاہ اتنی سازشوں کا سامنا کرتے ہوئے بھی ہمیشہ کی طرح ہشاش بشاش تھی . کیا واقعی دشمن تیر پر تیر پھینکے جارہا تھا کبھی سرحد پار سے اور کبھی گھر کے اندار سے ہی اور یہ قوم اور اس کی سپاہ اپنے سینوں پر ان تیروں کو روکتے رہے ؟ یہ سب جاننے کے بعد مورخ یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ یقیناً یہ ایک عظیم قوم ہے ..
ستمبر ١٩٦٥ میں دشمن واضح تھا نگاہیں سرحد پر تھیں کہ یہیں سے دشمن حملہ کرے گا . پر آج کے ستمبر کو اگر ستم گر کہا جاۓ تو کچھ غلط نہ ہوگا کہ اس ستم گر میں دشمن چہار سو پھیل چکا ہے اب اگر ایک نگاہ سرحد پر رکھنی ہے تو دوسری نگاہ گھر کے اندر موجود دشمن کے آلہ کاروں پر بھی رکھنی ہے سرکے سامنے اور سر کے پیچھے دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے . یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ اس خطے کے مسلمانوں کے خلاف سازش بنی گئی ہو یا اس خطے کے مسلمانوں کی صفحوں میں غدار پیدا کئے گئے ہوں ، اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو محمود غزنوی کی سپاہ بھی جب ہندوستان آئی تھیں تو اس سازشوں کی حسین سرزمین نے اسکے لوگوں میں بھی سلطان کے خلاف باغی پیدا کے . الله کو اکبر ماننے والے ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوئے آخر میں فتح تو حق کی ہی ہوئی اور سلطان سرخرو ہوا پر یہ حقیقت اسے ماننا پڑی کہ ہندوستان جیسی سازشی زمین اور اس میں رہنے والی برہمن قوم جیسی شاطر سوچ شاید ہی کسی اور قوم میں ہو .
یہی وجہ ہے کہ آج کا ستمبر ١٩٦٥ کے ستمبر سے بہت زیادہ سخت ہے اب قوم بھی مختلف حصّوں میں بٹی ہوئی ہے اور افواج بھی کہیں سیلاب دیکھ رہی ہے کہیں ضرب عضب اور کہیں دیگر اندرونی اور بیرونی خطرات . پہلے دشمن واضح تھا اور دشمن کا نعرہ " بھارت ماتا کی جے ہو " تھا اور اب دشمن واضح نہیں ہے اور اب دشمن بھی اسکو بنا دیا گیا ہے جو نعرہ " الله اکبر " کا لگاتا ہے ، یعنی شاطر سوچ نے ہماری صفحوں میں ہی دشمن پیدا کردیا جو لڑائی وہ دوبدو لڑتا تھا اب اپنے مہروں کے ذریعے ہزاروں میل دور بیٹھ کر لڑ رہا ہے . اسکی سوچ کل بھی پاکستان کی بربادی تھی اور آج بھی پاکستان کی بربادی ہی ہے . ہاں پہلے وہ خود لڑتا تھا اور اب اسکے لئے لڑنے والے بہت سے میر جعفر پیدا ہو چکے ہیں .
سوات آپریشن میں شامل ایک فوجی دوست کے بقول " جب میں سامنے سے الله اکبر کی سدا سنتا تھا تو کچھ دیر کو اپنا فائر بند کردیتا تھا کہ کہیں اسکی صدا ادھوری نہ رہ جاۓ اور بے حرمتی نہ ہوجاۓ ، پر دشمن نے بہت گہری چال چلی تھی ہمارے مخالف سے الله اکبر کی صدا تو آتی تھی پر ان کا کوئی کام ایسا نہیں تھا کہ جس سے یہ کہا جاۓ کہ وہ واقعی الله کو اکبر مانتے ہیں .
ہمارے خلاف جو لڑ رہا تھا وہ ہمارے ہی جیسا تھا پر پھر بھی ہم سا نہیں رہا تھا ...

جس طرح ہم آج ستمبر ١٩٦٥ کے شہیدوں کو یاد کرتے ہیں ٹھیک ویسے ہی پچھلے دس سالوں سے جاری تاریخ کی سب سے عجیب نوعیت کی جنگ میں شہید ہونے والوں کو بھی ہمیں یاد رکھنا ہوگا ، میرے چار دوست سوات آپریشن میں شہید ہوئے ، میں خود ہمیشہ سے ہی ایک ادھورا سا مسلمان رہا ہوں دین کی زیادہ سمجھ نہیں رکھتا پر ان دوستوں کے بارے میں مجھے پورا یقین ہے بے شک وہ اپنے ایمان میں سچے تھے اسی لئے شہادت کا درجہ پا گئے ، میں کبھی ان کے گھر والوں سے ملنے نہیں گیا ، شاید وہاں جاؤں اور اپنے دوستوں کو نہ دیکھ پاؤں تو اپنے آنسو نہیں ضبط کر پاؤں گا کیوں کہ جوان اولاد کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر منوں مٹی تلے چھوڑ آنا اور پھر بھی چہرے پر اطمینان کا ہونا صرف ایک شہید کے باپ کا ہی طرہ امتیاز ہوسکتا ہے اور اپنے لخت جگر کو یاد کر کے کبھی آنکھیں بھگونا اور کبھی بے اختیار مسکرانا ایک شہید کی ماں کا ہی ہنر ہوسکتا ہے ، مجھ جیسے لوگ اتنا بڑا دل نہیں رکھتے پر بقول استاد جی " یہ جو شہید ہوتے ہیں نہ . انکے والدین پر بھی الله پاک کا خاص کرم ہوتا ہے اور جب وہ پاک ذات کہتی ہے کہ شہید کو مردہ نہ کہو تو پھر بتا وہ شہیدوں کے والدین کے دلوں کو غم میں کیسے ڈال سکتا ہے ؟ جسکی اولاد تا قیامت امر ہوگئی ہو وہ دل بھلا پشیمان کیوں ہو ؟ "
میں آج ان تمام بہنوں کو مبارک باد دیتا ہوں جن کے بھائی ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگئے ان ماؤں اور ہر اس بوڑھے باپ کو سلام جنھوں نے اپنا لخت جگر قربان کر دیا اور اس شہیدوں کی سرزمین کو رونق بخش دی. بیشک ہم اس کا بدلہ نہیں اتار سکتے پر اتنا ضرور پتا ہے کہ الله کے پاس آپکے صبر اور قربانی کا بہت بہترین اجر ہے اور بے شک ایک وہی ذات ہے جو اس قربانی کا ٹھیک ٹھیک اجر دے سکتا ہے . 

اے راہِ حق کے شہیدو



"اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو

لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو
وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا لیے تم نے
بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو
سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لیے تم نے
تمہیں چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو

چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم
رسولِ پاکﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہو گا
علیؓ تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے
حسینؓ پاک نے ارشاد یہ کیا ہو گا
تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو

جنابِ فاطمہؓ جگرِ رسول کے آگے
شہید ہو کے کیا ماں کو سرخرو تم نے
جنابِ حضرتِ زینبؓ گواہی دیتی ہیں
شہیدو رکھی ہے بہنوں کی آبرو تم نے
وطن کی بیٹیاں مائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو
اے راہِ حق کے شہیدو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں "

بدھ, ستمبر 03, 2014

آج کی بات۔۔۔ 03 ستمبر 2014



دنیا میں دوسروں کو برا سمجھنا بہت آسان ہےاس لئے کہ ان کی خامیاں بغیر کوشش کے نظر آجاتی ہیں..

مگر اپنی خامیوں کا احساس کرنے کے لئے ایک خاص نظر چاہئے..

یہ نظر جس میں پیدا ہوگئی وہی خدا کا بندہ ہے..
جس میں یہ نظر پیدا نہ ہوسکی وہ اپنی ذات کا بندہ ہے۔