اشاعتیں

September, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خواہش

تصویر
مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ جو دیوانہ ہو پاگل ہو اس پر شریعت کا حکم لاگو کیوں نہیں ۔ تو سمجھ آگیا کہ اس میں خواہش بھی نہیں ہوتی ۔ یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں بھکاری بنا رکھا ہے ۔ یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں روگی بنا رکھا ہے ۔ یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں جانور ، درندہ بنا رکھا ہے ۔ اور یہ خواہش ہی ہے جس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنا رکھا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کون کون سی خواہشوں کے زیر اثر ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم

امید کے جگنو

تصویر
کبھی کبھی ہوتا ہے نا کہ ہم خوش اور مگن ہوتے ہوئے بھی مطمئن نہیں ہوپاتے۔ زندگی ایک دائرے میں گھومتی محسوس ہوتی ہے اور تب ایک انجانی سی تھکن وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ ہر سفر بے سمت، ہر کام بے معنی سا لگنے لگتا ہے۔ انہی سوچوں میں گھرا دیکھ کر مایوسی اپنے پر پھیلاتی ہے اور ناامیدی ہمارے دل و دماغ پر اپنے پنجے گاڑھ لیتی ہے۔ ناامیدی ہم سے وہ معمولی خوشیاں بھی چھین لیتی ہے جو ہر ابھرتے سورج کے ساتھ ہمیں چلتے رہنے کی ہمت دیا کرتی ہیں۔ بے انتہا شور میں گھرے ہوئے بھی ہمیں اپنے اندر صرف ایک مہیب سناٹا سنائی دیتا ہے۔ ۔ ۔ روشنیوں کی چکاچوند میں بھی ہر طرف اندھیرا چھاتا محسوس ہوتا ہے مگر اس اندھیرے میں بھی امید کے جگنو راستہ دکھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بالکل اس کہانی کی طرح جس میں اندھیری رات میں بھٹکتے بلبل کو جگنو نے راستہ دکھایا تھا۔ امید کے جگنو زندگی کے بے مقصد دائروں میں بھٹکتے تھکن زدہ انسان کے ہاتھ تھامتے ہیں اور ناامیدی سے امید تک کا سفر طے کرواجاتے ہیں۔ سوچیں تو حیران رہ جائیں کہ ان معمولی، چھوٹی سی جانوں میں اتنی طاقت کہاں سے آجاتی ہے کہ یہ میلوں پھیلے سناٹے کو اپنی ذرّوں جیسی روشن…

آج کی بات۔۔۔۔ 25 ستمبر 2014

تصویر
انسان کی زندگی میں رشتے درختوں کی مانند ھوتے ھیں. بعض اوقات اپنے مفاد کی خاطر ھم انہیں کاٹتے چلے جاتے ھیں لیکن جب وقت کی کڑی دھوپ ھمیں جھلسانے لگتی ھے تو سائے کی خاطر پھر کسی رشتے کی طرف ھی بھاگتے ھیں- .

آخری خواہش

تصویر
گارڈین اخبار کی ایک ریسرچ تھی‘ اخبار کے ایک رپورٹر نے آخری سانس لیتے ہوئے مریضوں کی آخری خواہشات جمع کیں‘ یہ بے شمار مرتے ہوئے لوگوں سے ملا اور ان ملاقاتوں کی روشنی میں اس نے اپنی ریسرچ مکمل کی‘ ریسرچ کے مطابق مرنے والوں میں پانچ خواہشیں ’’کامن‘‘ تھیں‘ ان کا کہنا تھا ’’ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی میں جو عنایت کیا تھا‘ ہم اسے فراموش کر کے ان چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہے جو ہمارے نصیب میں نہیں تھیں۔

اللہ تعالیٰ اگر ہماری زندگی میں اضافہ کر دے یا یہ ہمیں دوبارہ زندگی دے دے تو ہم صرف ان نعمتوں کو انجوائے کریں گے جو ہمیں حاصل ہیں‘ ہم زیادہ کے بجائے کم پر خوش رہیں گے‘‘ ان کا کہنا تھا‘ ہم نے پوری زندگی لوگوں کو ناراض کرتے اور لوگوں سے ناراض ہوتے گزار دی‘ ہم بچپن میں اپنے والدین‘ اپنے ہمسایوں‘ اپنے کلاس فیلوز اور اپنے اساتذہ کو تنگ کرتے تھے‘ ہم جوانی میں لوگوں کے جذبات سے کھیلتے رہے اور ہم ادھیڑ عمر ہو کر اپنے ماتحتوں کو تکلیف اور سینئرز کو چکر دیتے رہے‘ ہم دوسروں کے ٹائر کی بلاوجہ ہوا نکال دیتے تھے‘ دوسروں کی گاڑیوں پر خراشیں لگا دیتے تھے اور شہد کے چھتوں پر پتھر مار دیتے تھے‘ ہم …

آج کی بات ۔۔۔ 11 ستمبر 2014

تصویر
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنی سو چوں میں گم ہم ہمت ہارنے کے قریب ہوتے ہیں کہ اچانک کچھ ایسے الفاظ پڑهنے کو ملتے ہیں کہ حوصلہ بحال ہو جاتا ہے. یہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے وه ہمیں امید کی کرن تهما دیتا ہے

سیلاب : رحمت یا زحمت

تصویر
سیلاب : رحمت یا زحمت
 ( از ابو یحییٰ: ماہنامہ انذار، اکتوبر 2014)

پاکستان ایک دفعہ پھر سیلاب کی زد میں ہے۔سیکڑوں لوگ مارے جاچکے ہیں۔ہزاروں ایکڑ زرعی اور رہائشی زمین زیر آب آچکی ہے ۔ لاکھوں لوگ متاثرہوچکے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا اور آخری سیلاب نہیں ۔ فیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق پاکستان میں اب تک دو درجن بڑے سیلاب آئے ہیں ۔ان میں سب سے بڑا سیلاب 2010کا تھا۔ یہ وہی سیلاب تھا جس میں بعض نادان مذہبی دانشوروں نے یہ غیر ضروری بحث اٹھادی کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ہم نے اُس وقت بھی پے در پے مضامین لکھ کر قرآ ن مجید اور عقل عام کی روشنی میں یہ ثابت کیا تھا کہ سیلاب عذاب نہیں ہوتا، اصل عذاب وہ نااہل فکری اور سیاسی قیادت ہوتی ہے جسے لوگ اپنے جذبات و تعصبات کی بنا پر خود اپنے اوپر مسلط کرلیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک زرعی ملک کے لیے بارشیں اور ان سے آنے والا سیلاب اللہ کی عظیم نعمت ہے۔خاص کر ایک ایسے دور میں جب دنیا میں پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کرگیا ہو۔ سیلاب اپنے ساتھ پانی کا ایسا ذخیرہ لاتا ہے جسے ڈیموں میں جمع کرلیا جائے تو کئی برس تک پانی کی کمی کا مسئلہ ختم ہوجاتا ہے۔سیلاب اپنے سات…

آج کی بات۔۔۔ 08 ستمبر 2014

تصویر
تنقید اور تضحیک میں فرق بنیادی ہے- تنقید ضمیر کو مخاطب کرتی ہے اور تضحیک عزت نفس کو - تنقید کا مقصد جاننا اور تضحیک کا مقصد بھڑاس نکالنا ہے- تنقید جواب کا تقاضہ کرتی ہے اور تضحیک خاموشی کا.

روٹی

تصویر
اسے کاٹا گیا پیسا گیا گوندھا گیا لیکن
سبق گندم سے دنیا لینا پھر بھی بھول جاتی ہے
کسی بھوکے کے کام آنے سے پہلے غور سے دیکھو
دہکتی آگ پر روٹی خوشی سے پھول جاتی ہے

یوم دفاع

تحریر: ملک جہانگیر اقبال
٦ ستمبر١٩٦٥ ..
یعنی یوم دفاع پاکستان . وہ دن جب پاکستانی افواج اور خاص توڑ پر پاک فضائیہ نے بہادری کی عظیم داستانیں رقم کی ، جب اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر یہ باور کرا دیا تھا کہ جنگیں محض اسلحے یا حجم سے نہیں لڑی جاتی ہیں بلکہ افواج میں جان قربان کرنے کا جذبہ ہو اور اسے قوم کی حمایت حاصل ہو تو وہ اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن کو زیر کر سکتے ہیں .
میں تاریخ کے واقعات کم لکھتا ہوں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم تاریخ سے سبق اور جذبہ تو حاصل کر سکتے ہیں پر یہ یاد رہے ہر آنے والا دن مختلف ہوتا ہے ہر آنے والی جنگ الگ نوعیت کی ہوتی ہے . اور ہمیں یاد رکھنا چاہیئے اب جو جنگ ہوئی وہ حجم میں شاید ١٩٦٥ کی جنگ سے بہت بڑی ہوگی اور بہ یک وقت بہت سے دشمنوں سے بہت سے محاذوں پر لڑنا ہوگا .
اگر آپ گزشتہ ١٠ سال ہی دیکھ لیں تو ہماری افواج دنیا کی مشکل ترین جنگ میں الجھی ہوئی ہیں جس میں دشمنوں کی تعداد اور اقسام بدلتی جارہی ہیں . ایسا لگتا ہے جیسے پوری ترتیب کے ساتھ دشمن نے مہرے کھڑے کر دیے ہیں کہ ایک کے گرتے ہی دوسرا مہرہ آن کھڑ…

اے راہِ حق کے شہیدو

تصویر
"اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو
لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو
وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا لیے تم نے
بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو
سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لیے تم نے
تمہیں چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو
چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم
رسولِ پاکﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہو گا
علیؓ تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے
حسینؓ پاک نے ارشاد یہ کیا ہو گا
تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو
جنابِ فاطمہؓ جگرِ رسول کے آگے
شہید ہو کے کیا ماں کو سرخرو تم نے
جنابِ حضرتِ زینبؓ گواہی دیتی ہیں
شہیدو رکھی ہے بہنوں کی آبرو تم نے
وطن کی بیٹیاں مائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو
اے راہِ حق کے شہیدو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں "

آج کی بات۔۔۔ 03 ستمبر 2014

تصویر
دنیا میں دوسروں کو برا سمجھنا بہت آسان ہےاس لئے کہ ان کی خامیاں بغیر کوشش کے نظر آجاتی ہیں..

مگر اپنی خامیوں کا احساس کرنے کے لئے ایک خاص نظر چاہئے..

یہ نظر جس میں پیدا ہوگئی وہی خدا کا بندہ ہے..
جس میں یہ نظر پیدا نہ ہوسکی وہ اپنی ذات کا بندہ ہے۔

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل