آج کی بات ۔۔۔۔۔ 29 ستمبر 2018

✰ آج کی بات ✰

کانٹا چبھنے کی تکلیف برداشت کرنے پر جہاں اجر کی بشارتیں ہوں، 
وہاں دل میں نشتر چبھنے کی اذیت برداشت کرنے پر کیا کیا اجر لکھتا ہو گا رب؟ 


نیر تاباں

✰ آج کی بات ✰ کانٹا چبھنے کی تکلیف برداشت کرنے پر جہاں اجر کی بشارتیں ہوں،  وہاں دل میں نشتر چبھنے کی اذیت برداشت کرنے پر کیا کی...

نماز اور قربانی، موت اور زندگانی اللہ کے لیے ۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 28 ستمبر 2018

Image result for ‫قل ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی لله رب العالمین‬‎
نماز اور قربانی، موت اور زندگانی اللہ کے لیے
خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)
امام و خطیب: ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 18 محرم الحرام 1440 کا خطبہ جمعہ " نماز اور قربانی، موت اور زندگانی اللہ کے لیے" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ سورت انعام کی آیت 162 پوری زندگی کا با مقصد خاکہ پیش کرتی ہے اس میں زندگی کے ہر گوشے کو اللہ کے لیے گزارنے کی ترغیب ہے، زندگی میں للہیت کی موجودگی سے انسان کا ہر کام اسی کی رضا کے لیے مختص ہو جاتا ہے۔ عبادات میں فرائض کا مقام سب سے بلند ہے اور فرائض میں نماز سب سے اہم رکن ہے، عقلمند انسان فرائض کے ساتھ نوافل کی پابندی بھی کرتا ہے تا کہ اللہ کی محبت پا لے، اور مستجاب الدعوات بن جائے۔ اسی طرح اللہ کے لیے جانور ذبح کرنا بھی بہت بلند عبادت ہے، یہ صرف اللہ کے لیے خاص ہے کسی حجر ، شجر، قبر یا ولی کے لیے نہیں ہو سکتی، اگر کوئی کرے تو یہ شرک کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی جانب سے لعنت کا باعث بھی ہے۔ ہماری زندگی حیات اور ممات دو حصوں میں منقسم ہے اور ہر ایک حصہ اللہ کے احکام کے مطابق گزاریں تو یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے، اس سے ہمیں انفرادی اور معاشرتی دونوں فوائد حاصل ہوں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان جب للہیت کے ساتھ زندگی گزارے تو کسی نکتہ چینی کرنے والے کی جانب متوجہ ہی نہیں ہوتا وہ اپنے مشن پر گامزن رہتا ہے۔ اسی طرح ملکی اور قومی تعمیر و ترقی میں معاونت بھی اللہ کے لیے زندگی گزارنے میں شامل ہے، پھر آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

《《 منتخب اقتباس 》》 

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان کی تکریم کرتے ہوئے اسے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا، میں نعمت ایمان اور اس فضیلت پر اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ کی بندگی ساری مخلوقات کا مقصد ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے ہمیں گھٹیا حرکتوں اور گالم گلوچ سے روکا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور قلب سلیم والے صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ}
 آپ کہہ دیں کہ میری نماز ،میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے [162] اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔ [الأنعام: 162، 163]

اس آیت کریمہ نے زندگی کے ہدف، ذمہ داری اور مقصد کی منظر کشی کی ہے، وہ اس طرح کہ مسلمان کی زندگی اور موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، حیات و ممات اللہ کے لیے ہے جو یوم جزا کا مالک ہے، جس نے ہمیں پیدا کیا ، ہمیں رزق دیا اور ہمیں زندگی عنایت کی۔

اس آیت کی تلاوت ، اس کے ذریعے وعظ اور اس میں غور و فکر عظیم مفاہیم اور معانی کو جلا بخشتے ہیں، ایسے خوبصورت معانی کی تجدید ہوتی ہے جن کا ہر وقت ذہن میں تازہ رہنا ضروری ہے، جنہیں غفلت یا فراموشی کے دائرے میں نہیں چھوڑا جا سکتا ، وہ خوبصورت معانی یہ ہیں کہ انسان کی نماز، عبادات، زندگی اور موت سب کچھ اللہ کے لیے ہو، انسان اپنے تمام امور میں خالق ،رازق ، مختار کل، اور مُدبر ذات کے تابع ہو، انسان اپنے تمام معاملات میں رضائے الہی کا متلاشی ہو اس کے علاوہ اسے کسی چیز کی تمنا نہ ہو؛ یہی وجہ ہے کہ رضائے الہی کا متلاشی بولتا ہے تو اللہ کے لیے ، کوئی کام کرتا ہے تو صرف اللہ کے لیے، رات دن صبح اور شام اس کا ہر وقت اللہ وحدہ لا شریک کے لیے ہوتا ہے۔

یہ آیت اعلی ترین مقام حاصل کرنے کی یاد دہانی کراتی ہے اور وہ ہے عبودیت کہ مسلمان کسی بھی چیز کو اپنائے یا چھوڑے ہر اقدام اللہ تعالی پر ایمان اور اخلاص کے باعث ہو، اللہ تعالی سے محبت اور اشتیاق کی بنا پر ہو، اللہ تعالی سے خوف اور اس کے فضل کی تمنا کے لیے ہو۔ لال خوری اور حرام سے دوری، والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ، حسن اخلاق، آنکھوں کی حفاظت اور حجاب، اللہ تعالی کی جانب دعوت، نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا سب کچھ اللہ کے لیے ہو۔

{قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي} آپ کہہ دیں: میری نماز اور میری قربانی [الأنعام: 162] 
حصولِ قربِ الہی کے لیے بنیادی ترین اور عظیم ترین عبادات وہ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیا ہے۔

ڈھیروں اجر و ثواب کا متلاشی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نوافل اور سنتوں کا بھی خصوصی اہتمام کرتا ہے، اس طرح وہ اللہ تعالی کی محبت بھی پا لیتا ہے، جس کی بدولت اس کی روح اور جسم رفعت و طہارت کے اعلی مقام تک پہنچ جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث قدسی میں فرماتے ہیں: (۔۔۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پس جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو اس کا کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں) بخاری

اللہ کے لیے جانور ذبح کرنا ایمان کے بنیادی امور میں شامل ہے، عقیدہ توحید کے مظاہر میں سے ایک ہے، اس کو قربانی بھی کہتے ہیں، اسلام میں صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہی قربانی کرنا جائز ہے، قربانی کا جانور روزِ قیامت اپنے چمڑے ، بال اور کھروں سمیت پورے جسم کے ساتھ حاضر ہو گا اور اسے بندے کے ترازو میں شامل کر دیا جائے گا؛ بشرطیکہ قربانی اللہ کے لیے کی گئی ہو، اللہ کے سوا کسی کے لیے نہ ہو۔ اس لیے جانور کسی حجر، شجر، قبر یا ولی کے لیے ذبح نہ کیا جائے، بلکہ صرف اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے خالص ہو۔

{وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔[الأنعام: 162]
 زندگی اللہ رب العالمین کے لیے ہو، یہ وہ زندگی ہے جو اللہ کے دین اور شریعت کے مطابق ہو، اوامر اور نواہی کے مطابق ہو، زندگی میں خوشی غمی، رات اور دن سب اللہ کے حکم کے مطابق ہوں، زندگی میں اٹھنا بیٹھنا، حرکت و سکونت، نیند اور بیداری، خرید و فروخت، کھانا پینا، تعلیم و تعلم، تجارت و ملازمت، الغرض ہر چیز اللہ رب العالمین کے حکم کے مطابق ہو۔

مسلمان کا ایک ہی معبود ہے اور وہ اللہ ہے، وہ مالک الملک ہے، اللہ تعالی یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کے علاوہ ہر کسی کی غلامی سے آزاد ہو جائے، انسان کی ساری زندگی اور لین دین سمیت اس کا انجام کار اللہ سبحانہ و تعالی کی جانب ہو، اس طرح مسلمان اللہ کے لیے زندہ رہے گا اور اللہ تعالی کی اطاعت میں ہی زندگی گزارے گا۔

یہ زندگی اگر ہم اللہ کے لیے گزاریں، اس کی رضا کے مطابق بسر کریں، اللہ کی محبوب چیزوں سے محبت کریں اور ناپسند چیزوں کو ناپسند جانیں، اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر سے جلا بخشیں، تو یہ زندگی انتہائی خوش گوار اور پر لطف ہو گی، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ}
 جو ایمان لائے ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں۔ سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔ [الرعد: 28]

اللہ رب العالمین کے لیے زندگی اس طرح بھی ہوگی کہ اپنی عمر تعمیر و ترقی میں صرف کریں، عقل کو دھرتی سنوارنے کے لیے کام میں لائیں، صنعتی اور زرعی ترقی میں استعمال کریں، معاشرتی زندگی میں بہتری لائیں، امن و خوشحالی قائم کریں، اسی کے متعلق فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ} 
اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، تو اس شہر کو پر امن بنا دے، اور یہاں کے رہنے والوں میں سے جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائیں، انہیں مختلف قسم کے میوے عطا فرما، اللہ نے کہا اور جو کافر ہوگا اسے بھی کچھ دنوں تک نفع پہنچاؤں گا، پھر اسے جہنم کے عذاب میں داخل ہونے پر مجبور کر دوں گا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے [البقرة: 126]

ایسا مسلمان جو اپنی زندگی اللہ کے لیے بنا لے تو وہ بارش کی طرح ہوتا ہے، جہاں بھی جائے فائدہ پہنچاتا ہے، دلوں میں امید کی کرن جگاتا ہے، اللہ پر اعتماد کو مضبوط کرتا ہے، زندگی میں خدا ترسی کو فروغ دیتا ہے، خیر پھیلاتا ہے اور مساکین کو کھانا کھلاتا ہے، کمزور، یتیم اور بیماروں کا خیال کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا}
 اور جس نے ایک جان کو زندہ کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کیا [المائدة: 32]

اور جس کی زندگی اللہ کے لیے ہو تو وہ اللہ کے سوا کسی اور سے بدلے یا شکریہ کا بھی متمنی نہیں ہوتا، وہ اپنے مشن میں بڑھتا چلا جاتا ہے کسی کی نکتہ چینی اور اعتراضات اس کے قدموں کو نہیں روک پاتے، ان کی زبان یہ کہتی ہے کہ: 
{إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (9) إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا (10) فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا (11) وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا}
 ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ ہی کوئی کلمہ شکر[9] ہم اپنے رب سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بڑا ہی اداس بنانے والا ہوگا، اور جس کی تیوری چڑھی ہوگی [10] تو اللہ نے انہیں ان کی اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں چہرے کی شادابی اور فرحت عطا کی [11] اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس دیا ۔ [الإنسان: 9 - 12]

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: 
{إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا}
 اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے۔ اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، نیز ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ}
 ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23]

 {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10]
 اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10]

 {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ}[البقرة: 201]
 ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]



نماز اور قربانی، موت اور زندگانی اللہ کے لیے خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) امام و خطیب:  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی ترجمہ: شفق...

مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا

صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ (القرآن)

❃ مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا 
کلام: مظفر وارثی


میں تیرا فقیر مَلنگ خدا
مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا

تُو دن میں ہے تُو رات میں ہے
ہر پھول میں ہے، ہر پات میں ہے
میری سوچ، میرے نغمات میں ہے
میری روح میں ہے، میری ذات میں ہے

تیرا نور، تیرا آہنگ خدا
مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا

میرا ظاہر اندر جیسا ہو
منظر پس منظر جیسا ہو
میرا عشق سمندر جیسا ہو
اور تیرے پیمبر (صلی اللہ علیہ وسلم)  جیسا ہو

میرا جینے کا ہر ڈھنگ خدا
مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا

تیری رحمت یوں اپنائے مجھے
آنکھوں پر وقت بٹھائے مجھے
تجھ بن اک سانس نہ آئے مجھے
شیطان اگر بہکائے مجھے

کروں اپنے آپ سے جنگ خدا
مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا

سینہ ہو میرا شیشے کی طرح
اور بینائی جھرنے کی طرح
آواز بھی ہو شعلے کی طرح
چمکوں میں سدا ہیرے کی طرح

مجھے لگنے نہ پائے زنگ خدا
مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا

میں تیرا فقیر مَلنگ خدا
مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا







صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ (القرآن) ❃  مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا  ❃ کلام: مظفر وارثی میں تیرا فقیر مَلنگ خدا ...

حوض کوثر کی صفات اور خواص ۔۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔۔ 21 ستمبر 2018

حوض کوثر کی صفات اور خواص
خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)
21 ستمبر 2018 
امام و خطیب: ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی
بشکریہ: دلیل ویب


فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے11 محرم الحرام 1440 کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "حوض کوثر کی صفات اور خواص" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ آخرت سنوارنے کے لیے نیکیاں کریں اور انہیں ضائع ہونے سے بچائیں جبکہ دنیا سنوارنے کے لیے حلال کمائیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کریں؛ لہذا دین و دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چلیں، دنیا مومن کے لیے نیکیوں کی بدولت بہتر اور کافر کے لیے گناہوں کی وجہ سے بد تر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہاں سے یقینی طور پر جانا ہے تو اس کے لیے تیاری میں ہرگز سستی نہیں کرنی چاہیے، اس لیے ہر مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ حوض کوثر سے پانی پیے، حوض کوثر پر ایمان آخرت پر ایمان کا حصہ ہے، یہ اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اعزاز کے لیے عطا فرمایا ہے، روز قیامت ہر نبی کو مخصوص حوض دیا جائے گا تاہم دیگر انبیا کے مقابلے میں سب سے زیادہ لوگ آپ کے حوض سے سیراب ہوں گے اور پھر کبھی پیاس محسوس نہیں کریں گے، حوض کوثر کا رقبہ ایلہ تا عدن سے بھی زیادہ ہے، اس کا پانی دودھ سے سفید، مہک کستوری سے اچھی، شہد سے میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا، اور آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، حوض کوثر کے پرنالے سونے اور چاندی کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ: سنت پر عمل اور کثرت سے درود پڑھنا ، جبکہ بدعت، ریاکاری، شہرت پسندی سے احتراز حوض کوثر سے اپنی پینے کا سبب بنیں گے، دوسری جانب سیاہ کاروں، مشرکوں، بدعتیوں اور خود ساختہ شریعت بنانے والوں کو حوض کوثر سے دھتکار دیا جائے گا ، آخر میں انہوں نے سب کے لیے جامع دعا کروائی۔

❞ منتخب اقتباس ❝

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، وہی غالب اور عطا کرنے والا ہے، گناہ معاف اور توبہ قبول کرنے والا ہے، وہ سخت عذاب اور شدید پکڑ والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں، اسی کی طرف توبہ کرتے ہوئے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ بہت بڑا اور بلند ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، آپ جنت کی خوشخبری دینے والے اور عذاب الہی سے ڈرانے والے ہیں، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد پر ، ان کی آل اور نیکیوں کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تمام صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلام نازل فرما۔
 اللہ کے بندو!

اپنی آخرت سنوارنے کے لیے نیک کام کرو، اور اپنی نیکیوں کو ضائع مت کرو ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} 
ان سے کہہ دیں کہ : عمل کرتے جاؤ! اللہ، اس کا رسول اور سب مومن تمہارے طرز عمل کو دیکھ لیں گے اور عنقریب تم کھلی اور چھپی چیزوں کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو [التوبۃ : 105]

اپنی دنیا سنوارنے کے لیے حلال کمائیں اور اسے فرض، مستحب اور مباح امور میں خرچ کریں، اس دنیا کو سفرِ جنت کے لیے کام میں لائیں، دیکھنا تمہیں دنیاوی رونقیں دھوکے میں نہ ڈال دیں، اور تم آخرت سے غافل ہو جاؤ، اس لیے مسلمانو! اپنی دنیا بنانے اور آخرت پانے کے لیے نیکیاں کرو۔

مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دنیا اور آخرت کا تذکرہ کر رہے تھے اس دوران کچھ لوگوں نے کہا: دنیا [افضل ہے اس لیے کہ یہ]آخرت کی دہلیز ہے، اس میں نیکیاں، نمازیں اور زکاۃ ادا کی ادائیگی ہوتی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے کہا: آخرت میں جنت ہے[اس لیے آخرت دنیا سے افضل ہے]، انہوں نے کچھ اور باتیں بھی کیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دنیا آخرت کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر میں اپنی انگلی ڈالے تو جو کچھ اس کی انگلی کے ساتھ لگے تو وہ دنیا ہے) "حاکم نے اسے مستدرک میں روایت کیا ہے۔

ہر کسی کو یقین ہے کہ اس نے یہاں سے جانا ہے، اور اللہ کی طرف سے نوازا ہوا سب کچھ یہیں چھوڑ جانا ہے، اُس کے ساتھ صرف عمل ہی جائے گا، یہ عمل اچھا ہوا تو اچھا بدلہ ملے گا اور اگر برا ہوا تو بدلہ بھی برا ملے گا، جب ہر ایک کی یہی صورت حال ہوگی ، اور اس مرحلے سے لازمی گزرنا ہے تو سب کے لیے حسب استطاعت اچھے سے اچھا عمل لے کر جانا ضروری ہے، کیونکہ خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی وسیلہ عمل کے بغیر کار گر نہیں  ہو گا؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَى إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ}
 تمہارے اموال اور اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جن سے تم ہمارے ہاں مقرب بن سکو ، ہاں جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے اعمال کا دگنا صلہ ملے گا اور وہ بالا خانوں میں امن و چین سے رہیں گے [سبأ : 37]

اے مسلم! تمہارا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ سید ولد آدم نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کوثر سے پانی پینے میں کامیاب ہو جاؤ، یہ ہدف کیسے پا سکتے ہو ؟ اہل جنت اولین کش اسی حوض سے لگائیں گے۔

حوض کوثر پر ایمان رکھنا یوم آخرت پر ایمان کا حصہ ہے، اور جو شخص حوض کوثر پر ایمان نہیں رکھتا اس کا کوئی ایمان نہیں ہے، کیونکہ اجزائے ایمان میں تفریق ممکن نہیں ہے، لہذا جو شخص ایمان کے ایک رکن کا انکار کر دے تو وہ سب ارکان سے کفر کرتا ہے۔

حوض کوثر اللہ تعالی کی طرف سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اعزاز و تکریم ہے، اس حوض سے آپ کی امت ارض محشر میں پانی پیے گی، وہ دن کفار پر پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، لیکن اللہ تعالی مؤمنوں کے لیے اس دن کو مختصر فرما دے گا۔

اس دن لوگوں کے سر چکرا رہے ہوں گے، حساب کے دوران ان پر تکلیف کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہوں گے، اگر اللہ تعالی انہیں برداشت کرنے کی قوت و صلاحیت نہ دے تو سب کے سب مر جائیں ۔

دوران حساب لوگوں کو اتنی سخت پیاس لگے گی جس سے کلیجا پھٹنے کو ہوگا، پیٹ پیاس کی وجہ سے آگ بن چکا ہوگا، انہیں اس سے پہلے اتنی سخت پیاس نے کبھی نہیں ستایا ہوگا۔

پھر اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اعزاز بخشتے ہوئے امت محمدیہ کے لیے حوض کوثر عطا فرمائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حوض کے کنارے کھڑے اپنی امت کو دیکھ کر بہت ہی خوش ہوں گے، اور سب کو پانی پینے کی دعوت دیں گے۔

حوض کوثر کے رقبے اور پانی کی شفافیت متعلق متواتر احادیث ہیں بلکہ حوض کوثر کے تذکرے کے لیے قرآن مجید میں ایک سورت "الکوثر" کے نام سے موجود ہے۔

ہر نبی کو الگ سے ایک حوض دیا جائے گا، چنانچہ سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انبیاء اپنے پیروکاروں کی زیادہ تعداد پر ایک دوسرے سے فخر کرینگے ، اور مجھے امید ہے کہ اس دن سب سے زیادہ میرے پاس لوگ پانی پینے آئیں گے، اور ہر نبی اپنے بھرے ہوئے حوض پر کھڑے ہو کر ہاتھ میں عصا لیے اپنی امت کے لوگوں کو پہچان کر بلائے گا، ہر امت کے لیے خاص نشانی ہوگی جس سے ہر نبی اپنی امت کو پہچان لے گا) ترمذی، طبرانی

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض آپ کی شریعت کی طرح سب سے بڑا اور سب سے میٹھا ہے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میرے حوض کا رقبہ ایلہ سے عدن کے فاصلے سے بھی زیادہ ہے، وہ دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا ، برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے، اور اس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوں گے)مسلم۔ جبکہ دیگر احادیث میں یہ بھی ہے کہ: (اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ اچھی ہوگی)

اسی طرح زید بن خالد رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: (کیا تم جانتے ہو "کوثر" کیا ہے؟ یہ ایک جنت کی نہر ہے جو مجھے میرے رب نے عطا کی ہے، اس میں بہت ہی خیر ہے، میری امت اس سے پانی پیے گی، اس کے آبخورے تاروں کے برابر ہیں، میری امت کے ایک شخص کو وہاں سے دور ہٹا دیا جائے گا! میں کہوں گا: یا الہی! یہ میرا امتی ہے، تو کہا جائے گا: "آپکو نہیں معلوم اس نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کیں" ) احمد، مسلم، ابو داود

حوض کوثر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاتھوں سے پانی پینے والے خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت پر عمل پیرا اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
{إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا}
 اگر تم منع کردہ کبیرہ گناہوں سے بچو تو ہم تمہارے گناہ مٹا کر عزت کی جگہ میں داخل کر دینگے۔[النساء : 31]

وہ لوگ سنت نبوی پر کار بند ہوتے ہوئے علی وجہ البصیرت اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ}
 آپ کہہ دیں: یہ میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار اللہ کی طرف بصیرت کے ساتھ دعوت دیتے ہیں، اور اللہ تعالی ہر عیب سے پاک ہے، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔[يوسف : 108]

وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی شریعت کی طرف لوگوں کو زبانی  اور عملی نمونہ بن کر بلاتے ہیں، دین میں بدعات اور خود ساختہ امور سے بچتے ہیں اور شریعت سے متصادم کوئی کام نہیں کرتے، نیز ریا کاری اور شہرت پسندی سے بالکل پاک اخلاص کے پیکر ہوتے ہیں، ہر قسم کے شرک سے اجتناب کرتے ہیں۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر کثرت سے درود و سلام پڑھنا حوض کوثر سے پانی پینے کے لیے بہترین نسخہ ہے۔

فرمانِ باری تعالی ہے:
  بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ: {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (2) إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ (3)}
 یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے [1] چنانچہ آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں [2] بیشک آپ کا دشمن ہی لا وارث ہے۔[الكوثر : 1 - 3]

اللہ کے بندو!

اس شخص کی کامیابی کے کیا کہنے جسے اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے حوض سے پانی پینے کی سعادت نصیب کر دے، وہاں سے پانی پینے کے بعد وہ کبھی بھی پیاسا نہیں رہے گا۔

اس کے برعکس وہ کتنا بد نصیب شخص ہے جسے اس سعادت سے محروم رکھا جائے گا ، بلکہ دھتکار دیا جائے گا، اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

مسلمانو!

حوض کوثر سے آب نوشی میں رکاوٹ بننے والے اعمال میں یہ بھی شامل ہیں کہ بدعات اور خود ساختہ امور دین میں داخل کیے جائیں یا پھر زبانی کلامی یا عملی طور پر اسلام سے روکا جائے، یہ باتیں حوض کوثر سے دھتکارے جانے سے متعلق احادیث میں موجود ہیں مثلاً: (آپکو نہیں معلوم آپ کے بعد انہوں نے کیا بدعات ایجاد کیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  فرمائیں گے: (میرے بعد دین تبدیل کرنے والوں کے لیے تباہی ہے)

اسی طرح حوض کوثر سے پانی پینے کے لیے رکاوٹوں میں کبیرہ گناہ بھی شامل ہیں ؛ کیونکہ یہ دلوں کو خبیث بنا دیتے ہیں، اسی طرح ریا کاری، شہرت پسندی  اور لوگوں پر ظلم کرنا بہت بڑی رکاوٹ  ہیں۔

ان اعمال کے رکاوٹ بننے کی وجوہات اہل خرد کے لیے بالکل واضح ہیں کہ جس نے دنیا میں نبوی شریعت کی اطاعت کی اور مرتے دم تک آپ کی عملی سیرت پر کار بند رہا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے حوض سے پانی پیے گا، جبکہ دین میں تبدیل کرنے والے اور بدعتی کو روک دیا جائے گا، کیونکہ اس نے حق بات سے اپنے آپ کو روکے رکھا۔

اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو تیری اطاعت پر ثابت قدم بنا دے، یار ب! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ مت کرنا، اور ہمیں اپنی طرف سے خصوصی رحمت سے نواز، بیشک توں بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔

یا اللہ! ہم تیرے فضل ، کرم، سخاوت اور تیرے اسما و صفات کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے ان پسندیدہ لوگوں میں شامل فرما جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاتھوں جام کوثر نوش کریں گے،  یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں اپنے فضل سے محروم مت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہمیں اپنے در اور فضل سے مت دھتکار، یا اکرم الاکرمین!

آمین یا رب العالمین

حوض کوثر کی صفات اور خواص خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) 21 ستمبر 2018  امام و خطیب:  ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی ترجمہ: شفقت ...

برانڈز کی دوڑ

Image result for brands

برانڈز کی دوڑ
تحریر: ابو یحییٰ

موجودہ دورکنزیومرازم کا دور ہے۔ اس دور میں لوگوں میں اشیاء کے بے دریغ استعمال کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اس رجحان میں ایک نیا اضافہ مہنگی برانڈڈ اشیاء کی خریداری کا ہے۔ پہلے پہل تو لوگ قیمتی اشیائے تعیشات ہی کسی خاص برانڈ کی لیا کرتے تھے، مگر اب عام استعمال کی چیزوں جیسے لباس ، جوتوں وغیرہ میں بھی لوگ برانڈڈ چیزیں خریدتے ہیں۔

تجارتی کمپنیوں کے پیش نظربرانڈ کا اصل مقصد تو اپنی ایک الگ شناخت قائم کرنا ہوتا ہے۔ تاہم رفتہ رفتہ برانڈ ایک معیار کی علامت قرار پا چکی ہے۔ اور اب دنیا بھرمیں یہ اسٹیٹس سمبل بن گئی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ برانڈڈ پروڈکٹ عام اشیائے صَرف کے مقابلے میں کافی مہنگی ہوتی ہیں اور اعلیٰ معیار کے ساتھ اونچی شان کا بیان بھی بن جاتی ہیں۔

برانڈز کا یہ تصوراپنے اندر ایک ممکنہ اخلاقی خرابی رکھتا ہے جس کی نشان دہی ضروری ہے۔ یہ اخلاقی خرابی اسراف، نمودونمائش اور تکبر کی ہے۔ یہ وہ اخلاقی خرابیاں ہیں جو دنیا میں خرابی کے ساتھ آخرت میں جواب دہی اور خدا کے حضور گرفت کا سبب بھی بن جائیں گی۔

برانڈڈ چیزیں معیار کے ساتھ اپنے اندر مہنگی قیمت اور اظہارشان کا پہلو لیے ہوئے ہوتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک شخص کسی برانڈ کو اس کے معیار یا اپنے اعلیٰ ذوق کی بنا پر استعمال کرتا ہو۔ ایسی صورت میں اس کے استعمال کرنے میں کوئی خرابی نہیں۔ لیکن اگر کسی شخص کے پیش نظر اصل مقصد اظہار شان ہے تو وہ تکبر کا مرتکب ہوگا۔ اور اگر وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر مہنگی برانڈ خریدتا رہتا ہے تو اسراف کا مرتکب ہوگا۔ یہ دونوں بڑے اخلاقی گناہ ہیں۔ چنانچہ ہر شخص کو مہنگی برانڈڈ اشیاء خریدنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے پیش نظر اظہار شان یا دوسروں سے مقابلے کی کوشش میں اپنی گنجائش سے مہنگی چیز لینا تو نہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ ایک گناہ بن جائے گا۔


برانڈز کی دوڑ تحریر: ابو یحییٰ موجودہ دورکنزیومرازم کا دور ہے۔ اس دور میں لوگوں میں اشیاء کے بے دریغ استعمال کی ایک دوڑ لگی ہوئی...

ہے زندگی کا مقصد


ہے زندگی کا مقصد
شاعر: نامعلوم


کوشاں سبھی ہیں رات دن اک پل نہیں قرار 
پھرتے ہیں جیسے ہو گرسنہ گُرگِ خونخوار
اور نام کو نہیں انہیں انسانیت سے پیار 
کچھ بات کیا جو اپنے لئے جاں پہ کھیل جانا

ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 

سیرت نہ ہو تو صورتِ سُرخ و سفید کیا ہے 
 دل میں خلوص نہ ہو تو بندگی ریا ہے
جس سے مٹے نہ تیرگی وہ بھی کوئی ضیاء ہے 
ضد قول و فعل میں ہو تو چاہيئے مٹانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

بھڑ کی طرح جِئے تو جینا تيرا حرام
 جینا ہے یہ کہ ہو تيرا ہر دل میں احترام
مرنے کے بعد بھی تيرا رہ جائے نیک نام
 اور تجھ کو یاد رکھے صدیوں تلک زمانہ
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 

وعدہ ترا کسی سے ہر حال میں وفا ہو 
 ایسا نہ ہو کہ تجھ سے انساں کوئی خفا ہو
سب ہمنوا ہوں تیرے تُو سب کا ہمنوا ہو 
 یہ جان لے ہے بیشک گناہ “دل ستانا”
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

تو زبردست ہے تو قہرِ خدا سے ڈرنا 
اور زیردست پر کبھی ظلم و ستم نہ کرنا
ایسا نہ ہو کہ اک دن گر جائے تو بھی ورنہ 
 پھر تجھ کو روند ڈالے پائوں تلے زمانہ

ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 

مل جائے کوئی بھوکا کھانا اسے کھلانا 
مل جائے کوئی پیاسا پانی اسے پلانا
آفت زدہ ملے ۔ نہ آنکھیں کبھی چرانا 
مضروبِ غم ہو کوئی مرہم اسے لگانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 

دل میں ہے جو غرور و تکبر نکال دے 
اور نیک کام کرنے میں اپنی مثال دے
جو آج کا ہو کام وہ کل پر نہ ڈال دے 
 دنیا نہیں کسی کو دیتی سدا ٹھکانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

ایمان و دِین یہی ہے اور بندگی یہی ہے 
 یہ قول ہے بڑوں کا ہر شُبہ سے تہی ہے
اسلاف کی یہی روشِ اولیں رہی ہے 
تجھ سے بھی ہو جہاں تک اپنے عمل میں لانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 

نفرت رہے نہ باقی ،نہ ظلم و ستم کہیں ہو 
اقدام ہر بشر کا اُمید آفریں ہو
کہتے ہیں جس کو جنت کیوں نہ یہی زمیں ہو 
 اقرار سب کریں کہ تہہِ دل سے ہم نے مانا
 ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

ہے زندگی کا مقصد شاعر: نامعلوم بشکریہ: افتخار اجمل بھوپال کوشاں سبھی ہیں رات دن اک پل نہیں قرار  پھرتے ہیں جیسے ہو گرسنہ ...

آج کی بات ۔۔۔۔۔ 20 ستمبر2018

【〝آج کی بات〞】

جلوت 
انسان کا وہ پہلو ہے جودوسروں کے ساتھ  روابط، تعلقات، رشتے، خواہش، جذبات، دوستی اور محبت  سے اسے مطمئن اورآسودہ خاطر رکھتا ہے یا بےچین اور پرملال۔ 

خلوت 
انسان کے اندر کی وہ دنیا ہے جہاں وہ بالکل تنہا ہوتا ہے اور اس کی روح  کا وہ سفر جو اسے درِ کائنات تک رسائی  پانے کے لئے صبر، شکر، بندگی کی پر کشش قوت کا حامل بناتا ہے۔


【〝آج کی بات〞】 جلوت   انسان کا وہ پہلو ہے جودوسروں کے ساتھ  روابط، تعلقات، رشتے، خواہش، جذبات، دوستی اور محبت  سے اسے مطمئن اورآسود...

آج کی بات ۔۔۔۔ 19 ستمبر 2018

~!~ آج کی بات ~!~

یہ عارضی زندگی در حقیقت آپ کے اخلاق کا امتحان ہے،
اور اس امتحان کا سب سے بڑا میدان آپ کا اپنا گهر ہے.


~!~ آج کی بات ~!~ یہ عارضی زندگی در حقیقت آپ کے اخلاق کا امتحان ہے، اور اس امتحان کا سب سے بڑا میدان آپ کا اپنا گهر ہے.

محرم اور آپ


محرم اور آپ

دس باتیں جو آپ کواس مبارک ماہ سے فائدہ اٹھانے کے لیے جاننا ضروری ہیں


1- اس بات کا احساس پیدا کریں کہ آپ کوایک حرمت والا مہینہ نصیب ہوا ہے اور اس پر عمل کریں:

احادیث مبارکہ کے مطابق حرمت والے مہینے ذوالقعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب ہیں  (البخاری) ۔۔۔ "مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں باره کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے اس میں سے چار حرمت وادب کے ہیں۔ یہی درست دین ہے" ۔۔۔ (سورۃ التوبۃ - 36)
اسے اس کی حرمت کے باعث 'محرم' کہا جاتا ہے جو کہ اس کی حرمت اور تقدس کی تصدیق بھی ہے۔
"تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ﻇلم نہ کرو" (سورۃ التوبہ-36)
 یعنی ان حرمت والے مہینوں میں اپنے ساتھ غلط نہ کرو کیونکہ ان مہینوں میں گناہ کرنا باقی مہینوں سے زیادہ درجہ برا ہے۔

عمل کی بات:
اپنی بری عادتوں پر ایک گہری نظر ڈالیں اور ان کو اچھی عادات سے بدل ڈالیں۔

2- روزہ رکھیں:

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"رمضان المبارک کے بعد اللہ کے مہینے محرم کے روزے سب روزوں سے افضل ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات (یعنی تہجد) کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے۔" (مسلم: کتاب الصيام: باب فضل صوم المحرم؛۱۱۶۳)

3- 'عاشورہ' کا روزہ کیوں رکھیں:

عاشورہ کی تاریخ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
"جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا (افضل) دن ہے اور یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات بخشی (اور فرعون کو اس کے لشکر سمیت بحیرہ قلزم میں غرقاب کیا) تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (بطورِ شکرانہ) اس دن روزہ رکھا (اور ہم بھی روزہ رکھتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے (شریک ِمسرت ہونے میں) تم سے زیادہ مستحق ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔" (بخاری: ایضاً ؛ ۲۰۰۴/مسلم؛۱۱۳۰)

مسند احمد کی ایک روایت میں اس بات کا اضافہ ہے کہ "اس دن حضرت نوح کی کشتی جودی کی پہاڑی پر رکی تھی سو اس دن نوح علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر روزہ رکھا تھا

اسلام میں روزوں کی فرضیت سے پہلے عاشورہ کا روزہ ایک تدریجی اقدام تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ
"قریش کے لوگ دورِ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب آپ مدینہ تشریف لے آئے تو تب بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے اور صحابہ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا آپ نے حکم دے رکھا تھا۔ البتہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کی فرضیت ختم ہوگئی۔ لہٰذا اب جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔" (بخاری: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشورا ؛۲۰۰۳/ مسلم: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء ؛۱۱۲۵)

4- عاشورہ کے روزے کا ثواب:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
"میں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دنوں میں سے دسویں محرم (یوم عاشوراء) کے اور مہینوں میں سے ماہِ رمضان کے روزوں کے سوا کسی اور روزے کو افضل سمجھ کر اس کا اہتمام کرتے ہوں۔" (بخاری، ایضاً؛۲۰۰۶/ مسلم ایضاً؛۱۱۳۲)

اس دن اہتمام  سے روزہ رکھنے کا مقصد اللہ سے ثواب کی امید رکھنا ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
" مجھے اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ یوم عاشورا کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔" (مسلم : کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة ایام؛ ۱۱۶۲) 

عمل کی بات: 
اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس دن روزہ رکھنے کی توفیق دے تاکہ آپ اس اجر کو حاصل کرنے کے امیدوار بن سکیں، اپنے گزرے ہوئے سال کے گناہوں کو یاد کریں اور اللہ سے اس کی معافی طلب کرتے ہوئے دعا کریں کہ سو آپ کو اس اجر حاصل کرنے والوں میں شامل فرمائے۔

یاد رکھیں روزہ صرف معدے کا نہیں ہوتا، بلکہ زبان اور دوسرے اعضاء کا بھی ہوتا ہے۔ سو غصہ، لڑائی، بحث، غیبت، جھوٹ وغیرہ سے دور رہیں۔

5- کون سا دن 'عاشورہ' ہےََ؟

امام نووی (رح) فرماتے ہیں: 'عاشورہ' اور 'تسوعہ' دو قریبی نام ہیں جو عربی زبان کی کتب میں درج ہیں، ہمارے ساتھی کہتے ہیں کہ عاشورہ محرم کا دسواں دن ہے اور تسوعہ نواں دن ہے۔

6- کیا 'تسوعہ' (9 محرم) کا روزہ 'عاشورہ' (10 محرم) کے روزے کے ساتھ ملانا مستحب ہے؟

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دسویں محرم کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا کہ
"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس دن کو یہود و نصاریٰ بڑی تعظیم و اہمیت دیتے ہیں۔ (یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ آپ تو ہمیں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیتے ہیں اور یوم عاشوراء کے معاملہ میں تو ان کی موافقت ہورہی ہے۔) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "فاذا کان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع" آئندہ سال اگر اللہ نے چاہا تو ہم نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگلا سال آنے سے پہلے اللہ کے رسول انتقال فرما گئے۔" (مسلم؛۱۱۳۴)

7- 'تسوعہ' (9 محرم) کا روزہ کیوں مستحب ہے؟

اس کا بنیادی مقصد یہودیوں کی مخالفت ہے کیونکہ وہ صرف عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ جو کہ اوپر حدیث میں بیان ہوا ہے۔
احتیاط کے طور پر اور دس تاریخ کے روزے کو ممکن بنانے کے لیے (اگر چاند دیکھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہو)

شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

یوم عاشوراء کا روزہ ایک برس کے گناہوں کا کفارہ ہے ، اکیلا دس محرم کا روزہ رکھنا مکروہ نہيں ۔ دیکھیں الفتاوی الکبری جلد نمبر ( 5 ) ۔

ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

صرف اکیلا عاشوراء کا روزہ رکھنے میں کوئي حرج نہيں ۔ دیکھیں کتاب : تحفۃ المحتاج باب صوم التطوع جلدنمبر ( 3 ) ۔

8- گناہوں سے کفارہ:

امام النووی فرماتے ہیں: "عرفہ کے دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، جبکہ عاشوراء کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، اسی طرح جس  شخص کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے تو اسکے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔۔۔ مذکورہ تمام اعمال گناہوں کو مٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور چنانچہ اگر کوئی  صغیرہ گناہ موجود ہوا تو وہ مٹ جائے گا، اور اگر صغیرہ  یا کبیرہ کوئی بھی گناہ نہ ہوا تو اس کے بدلے میں نیکیاں لکھ دی جائیں گی، اور درجات بلند کر دئیے جائیں گے، ۔۔۔ اور اگر کوئی ایک یا متعدد کبیرہ گناہ  ہوئے، لیکن کوئی صغیرہ گناہ نہ پایا گیا ، تو ہمیں امید ہے کہ ان کبیرہ گناہوں میں کچھ تخفیف ہو جائے گی"۔ (المَجمُوع شرح المُهَذَّب-6 صوم یوم عرفہ)

9- روزے کے اجر پر بہت زیادہ تکیہ نہ کریں:

بعض لوگ ہوم عاشورہ اور یوف عرفہ کے روزے پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں کہ "عاشورہ' کا روزہ پورے سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور یوم عرفہ کا روزہ اضافی اجر رکھتا ہے"۔
امام ابن القیم (رح) فرماتے ہیں: وہ گمراہ انسان یہ نہیں جانتا کہ رمضان کے روزے، دن کی پانچ نمازیں یوم عرفہ اور یوم عاشورہ سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ اور وہ گناہوں کو مٹاتی ہیں ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک، اور ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک بشرطیکہ کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ لیکن یہ صغیرہ گناہوں کا کفارہ اس وقت تک نہیں جب تک کبیرہ گناہوں سے بچا نہ جائے یعنی یہ دونوں باتیں (روزہ/نماز اور بڑے گناہوں سے اجتناب) ساتھ ہوں تو چھوٹے گناہوں سے مغفرت کی قوت ہوتی ہے۔ جو لوگ اس دھوکے میں ہیں ان میں سے کوئی سوچتا ہو کہ اس کے نیک کام اس کے گناہوں سے زیادہ ہیں کیونکہ وہ اپنے برے اعمال پر توجہ نہیں دیتا اور اپنے گناہوں کو نہیں جانچتا، لیکن اگر وہ کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اس کو یاد رکھتا ہے اور اس پر انحصار کرتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ جو اپنی زبان سے اللہ سے مغفرت طلب کرے (یعنی صرف الفاظ کے ذریعے) اور اللہ کی تسبیح بیان کرے دن میں 100 مرتبہ 'سبحان اللہ' کہہ کر، اور پھر وہ مسلمانوں کی غیبت کرے ، ان کی عزت کو پامال کرے اور دن بھر ایسی باتیں کرے جو کہ اللہ کو ناپسند ہیں۔ وہ شخص ہمیشہ تسبیحات (سبحان اللہ) اور تہلیلات (لا الہ الا للہ) کے فضائل کا سوچتا ہے مگر اس پر توجہ نہین کرتا کہ غیبت کرنے والے، جھوٹ بولنے والے۔ بدمعاشی کرنے والے اور زبان کے دیگر گناہ کرنے والے کے بارے میں کیا احکام ہیں۔ وہ مکمل گمراہ ہیں۔" (الموسوعة الفقهية جلد 31 ، غرور)

10- ان اختراعات سے بچیں جو عاشورہ پرعام ہیں:

شیخ الاسلام ابن التیمییہ (رح) سے ان چیزوں کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگ عاشورہ کے دن کیا کرتے تھے، جیسے " سرمہ لگانا، غسل کرنا، مہندی لگانا، ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرنہ، معمول سے ہٹ پکوان پکانا، خوشی کا اظہار کرنا وغیرہ"۔ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں یا نہیں؟ اگر صحیح احادیث میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا تویہ سب کرنا بدعت ہے یا نہیں؟ کیا اس بات کی کوئی بنیاد ہے جو ایک گروہ کرتا ہے جیسے غم اور ماتم، بغیر کچھ  پیے نکلنا، چیخنا اور چلانا، اپنے کپڑے پھاڑنا وغیرہ "
انہوں نے جواب دیا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس بارے ميں كوئى صحيح حديث وارد نہيں،اور نہ ہى ان كے صحابہ كرام سے ثابت ہے، اور نہ ہى مسلمان آئمہ كرام ميں سے كسى ايك نے اسے مستحب قرار ديا ہے، نہ تو آئمہ اربعہ نے اور نہ ہى كسى دوسرے نے، اور اسى طرح بااعتماد اور معتبر كتابوں كے مؤلفين نے بھى اس بارہ ميں كچھ روايت نہيں كيا، نہ تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اور نہ ہى صحابہ كرام اور تابعين عظام سے، اس بارہ ميں نہ تو صحيح روايت ہے اور نہ ہى ضعيف، اور نہ تو كتب صحيح ميں اور نہ ہى كتب سنن ميں اور نہ ہى مسانيد ميں. 

 اس كے علاوہ دوسرے امور، يہ سب كچھ بدعات اور منكرات ميں شامل ہوتے ہيں، جن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثبوت نہيں ملتا اور نہ ہى ان كے خلفائے الراشدين سے مسنون ہے۔

ابن التیمییہ کی کتاب فتاویٰ الکبریٰ میں مذکور ہے کہ 'عاشورہ کی بدعات میں لازمی طور پر زکوۃ ادا کرنا، قربانی کرنا اور خواتین کا مہندی لگانا بھی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے علم حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے اور ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، ہمارے روزوں کو قول فرمائے اور ہمیں جنت کے اعلیٰ درجات میں بغیر حساب داخل فرمائے آمین یا رب العالمین۔




محرم اور آپ بشکریہ: Understand Al-Quran Academy دس باتیں جو آپ کواس مبارک ماہ سے فائدہ اٹھانے کے لیے جاننا ضروری ہیں 1- اس ...

قرآن کہانی ۔۔۔۔ دو باغ دو کہانیاں (حصہ دوم)


~!~ قرآن کہانی ~!~
دو باغ دو کہانیاں (حصہ دوم)
تحریر: علی منیر فاروقی
بشکریہ: الف کتاب ویب

اور جو دوسری بات اس واقعے میں پنہاں ہے اسے صحیح طرح سمجھنے کے لیے ہمیں دوسرا قصہ بھی پڑھنا پڑے گا کہ جو سورۃ الکہف میں درج ہے۔

یہ واقعہ بھی قرآن میں بغیر کسی تمہید و تعریف کے درج ہے مگر مختلف فقہا و مفسرین کی آراء سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس واقعے کے کردار بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک بادشاہ کے دو بیٹے تھے، ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا اور دوسرے شخص نے کفر اختیار کیا اور وہ دنیا کی زینت میں مشغول ہوکرمال بڑھانے میں لگ گیا۔ عطا خراسانی کے بیان کے مطابق ان کا قصہ اس طرح تھا کہ والد کے ترکہ سے آٹھ ہزار دینار ان کے حصہ میں آئے تھے، چار چار ہزار دونوں نے تقسیم کر لئے۔ ان میں سے کافر بھائی نے ایک ہزار دینار کی زمین خریدی، جب مومن بھائی کو اس کا علم ہوا تو اس نے کہا یا اللہ میرے بھائی نے ہزار دینار کی زمین خریدی ہے اور میں تجھ سے ہزار دینار کے بدلے جنت میں زمین خریدتا ہوں اور یہ کہہ کر ایک ہزار دینار راہِ خدا میں صرف کر دئیے، پھر کافر بھائی نے شادی کی اور اس پر اس نے ہزار دینار خرچ کئے، جب اس مومن بھائی کو معلوم ہوا تو اس نے کہا یا اللہ میرے بھائی نے ہزار دینار صرف کر کے ایک عورت سے شادی کی ہے میں ایک ہزار دینار کے عوض جنت کی حور سے شادی کرتا ہوں اور یہ کہہ کر اس نے ہزار دینار راہِ خدا میں خرچ کر دئیے۔ پھر اس کے کافر بھائی نے ایک ہزار دینار کے عوض کچھ غلام اور گھریلو سامان خریدا جب اس مومن بھائی کو معلوم ہوا تو اس نے کہا یا اللہ میں بھی ایک ہزار دینار کے عوض تجھ سے جنت میں خدام اور سامانِ راحت خریدتا ہوں یہ کہہ کر اس نے مزید ایک ہزار دینار راہ خدا میں صدقہ کر دئیے اب اس کے پاس کچھ باقی نہ رہا اور شدید حاجت مند ہوگیا۔ 

اس نے سوچا اگر میں اپنے بھائی کے پاس جاؤں اور اس سے اپنی حاجت کا سوال کروں تو وہ ضرور میری مدد کرے گا، چناں چہ وہ ایک روز اس راستہ پر جا کر بیٹھ گیا جہاں سے اس کے بھائی کی آمدورفت تھی۔ جب اس کا بھائی بڑی شان وشوکت کے ساتھ وہاں سے گذرا تو اپنے اس غریب مومن بھائی کو دیکھ کر پہچان لیا اور کہا فلاں؟ اس نے کہا ہاں، اس نے حالت دیکھ کر کہا تیرا یہ کیا حال ہے ؟ تو مومن بھائی نے جواب دیا مجھے حاجت شدیدہ پیش آگئی ہے مدد کے لئے تیرے پاس آیا ہوں۔ کافر بھائی نے پوچھا وہ مال کیا ہوا، جو تیرے حصہ میں آیا تھا؟ تو اس مومن بھائی نے پوری صورت حال بیان کی۔ تفصیل سن کرکافر بھائی نے کہا میں کچھ نہ دوں گا تو تو بڑا سخی ہے۔ پھر کافر بھائی نے مومن بھائی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے باغوں میں گھمایا ۔

اس باغ کی پہلی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں انگوروں کی سرسبز شاخیں نگاہوں کو تراوٹ بخشتی تھیں۔ انگور کی بیل کا گھنا سایہ تو ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے پتوں کی گہری ہریالی بجائے خود اپنے اندر غیرمعمولی حسن رکھتی ہے۔ باغ میں داخل ہونے والا اس کے اس حسن سے بیگانہ نہیں رہ سکتا تھا۔ اس باغ کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ اس کے اردگرد کھجور کے درختوں کی باڑ لگائی گئی تھی۔ اس کے دو فائدے تھے۔ ایک تو یہ کہ باغ باہر ہی سے انتہائی خوش نما معلوم ہوتا تھا کیوں کہ قطاروں میں لگے ہوئے کھجور کے درخت خوب صورتی میں اپنی مثال آپ تھے۔ جن لوگوں نے کھجور کے باغات دیکھے ہیں وہ اس بات کی شہادت دیں گے کہ کوئی درخت بھی اپنے قد و قامت، اپنے پتوں کے رنگ اور فضا میں لہراتی شاخوں اور پھلوں کی خوش رنگی میں کھجور کے درخت کی ہمسری نہیں کرسکتا اور دوسرا فائدہ اس کا یہ ہے کہ عرب کے موسمِ گرما میں چلنے والی بادِ صر صر نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ حیوانوں اور درختوں کے لیے بھی انتہائی مہلک اور اذیت ناک شے ہے۔ انسان تو لپٹ سمٹ کر کسی اوٹ کے پیچھے بیٹھ کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یہ زہریلی ہوا نتھنوں کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر انہیں اندرونی طور پر زخمی نہ کردے، لیکن درختوں، پودوں اور بیلوں کو بچانے کے لیے وہ یہ انتظام کرتے تھے کہ ان کے گرد کھجوروں کے درختوں کی باڑ لگا دیتے تھے۔ یہ درخت بے حد مضبوط قوت مدافعت کا مالک ہوتا ہے کہ نہ صرف خود باد صر صر کا مقابلہ کرتا ہے بلکہ باغ کے اندرونی حصوں کو حتی الامکان محفوظ بھی رکھتا ہے۔ تیسری خصوصیت اس باغ کی یہ تھی کہ اس میں صرف انگوروں کی بیلیں ہی رونق افروز نہ تھیں بلکہ کچھ قطعات خالی بھی چھوڑے گئے تھے تاکہ حسب ضرورت اس میں دوسری اجناس کاشت کی جاسکیں۔

اب جس شخص کے باغ تھے اس نے بڑے غرور سے اپنے اس کم حیثیت ساتھی سے کہا کہ میں مال کے اعتبار سے تجھ سے زیادہ ہوں اور افراد کے اعتبار سے تجھ سے بڑھ کر ہوں کیوں کہ میری جماعت زبردست ہے یعنی میری آل اولاد بھی زیادہ ہے ، اول اس کا غرور اوپر سے طرہ یہ کہ وہ باغ میں اپنے نفس پر ظلم کرنے کی حالت میں یعنی کفر پر قائم ہوتے ہوئے داخل ہوا وہاں بھی اس نے وہی کفر کیا اور کفرانِ نعمت کی باتیں کیں۔ کہنے لگا کہ میں تو یہ نہیں سمجھتا کہ میرا یہ باغ کبھی بھی برباد ہوگا اور یہ جو قیامت قائم ہونے والی باتیں کرتے ہو یہ یوں ہی کہنے کی باتیں ہیں میرے خیال میں تو قیامت قائم ہونے والی نہیں۔ فرض کرو کہ اگر قیامت آہی گئی اور میں اپنے رب کی طرف لوٹا دیا گیا تو اس دنیا میں، جو میرا باغ ہے مجھے وہاں اس سے بڑھ کر اچھی جگہ ملے گی۔

یہ شیطان کی چالوں میں سے ایک چال ہے کہ وہ انسان کو حد درجہ دھوکے کا شکار کر دیتا ہے اور وہ انسان کافر اور نا شکرا ہوتے ہوئے بھی یوں سمجھتا ہے کہ میں اللہ کا مقبول بندہ ہوں۔ جب اس نے ہمیں یہاں دولت دی ہے تو وہاں بھی ہمیں خوب نعمت و دولت ملے گی، یہ لوگ قیامت کو مانتے تو ہیں نہیں لیکن اہل ایمان سے قیامت کی باتیں سن کر یوں کہہ دیتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت آ ہی گئی تو وہاں بھی ہماری نوازشات میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ چوں کہ ایسے لوگ انبیا کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم اور تبلیغ کی طرف دھیان نہیں دیتے۔اس لئے یہ نہیں جانتے کہ وہاں جو کچھ ملے گا ایمان اور اعمال صالح کی وجہ سے ملے گا۔ اس لیے روزِ جزا میں جو نعمتیں ملیں گی، ان نعمتوں کے ملنے کے قانون سے واقف نہیں ہوتے اور حقیقت جانتے ہوئے بھی اکثر اہلِ ایمان کے سامنے منہ زوری کرکے اپنے آپ کو دونوں جہانوں میں برتر اور بہتر بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود ہی سوچلیتے ہیں کہ ہم یہاں بھی بہتر ہیں وہاں بھی بہتر ہوں گے۔

اب جو اس کا بھائی تھا جس سے اس نے فخر اور تمکنت کی باتیں کی تھیں اور اسے اپنے سے گھٹیا بتایا تھا، اس نے اول تو اسے عار دلائی اور ایک اچھے انداز میں اس کی نادانی اور بے وقوفی پر متنبہ کیا اور کہا کہ جس ذات پاک نے تجھے مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا فرمایا، پھر تجھے صحیح سالم آدمی بنا دیا۔ کیا تو نے اس ہی کے ساتھ کفر کیا ؟ نہایت حکیمانہ انداز میں اسے یہ بھی بتا دیا کہ دیکھو رحم مادر میں نطفہ پہنچتا اور پھر بچہ بن کر باہر آتا ہے ضروری نہیں ہے کہ وہ ٹھیک ہو اور اس کے اعضا صحیح سالم ہوں تمہیں اللہ تعالی نے پیدا فرمایا اور مزید کرم یہ فرمایا کہ تیرے اعضا کو صحیح سالم بنایا۔ تم نے بہ جائے مومن بندہ بننے کے کفر کا ارتکاب کیا۔ تف ہے تمہاری ایسی سمجھ پر۔ پھر اس کے بعد اس مومن بندہ نے اپنا عقیدہ بتایا اور یوں کہا ترجمہ: 
’’کہ اللہ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ ‘‘
اس کے بعد اس موحد نے اپنے بھائی سے کہا کہ اللہ تعالی نے جو تجھے باغ کی نعمت دی ہے تجھے اس نعمت پر شکر گزار ہونا چاہیے۔تجھے یوں کہنا چاہیے تھا کہ ماشا اللہ لا قوۃ الا باللہ (یعنی اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور اللہ کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں) یہ باغ صرف اللہ تعالی کی مشیت سے وجود میں آیا ہے اسی نے تجھے اس پر قبضہ دیا ہے جب وہ چاہے گا اسے برباد کردے گا اور تو دیکھتا رہ جائے گا۔ رہی یہ بات کہ میں تجھ سے مال اور اولاد میں کم ہوں تو یہ بات میرے لیے کوئی غمگین اور متفکر ہونے کی نہیں، مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ عنقریب تیرے باغ سے بہتر باغ عطا فرما دے گا دنیا میں ہو، آخرت میں ہو یا دونوں میں، اور وہ وقت بھی دور نہیں معلوم ہوتا کہ جب اللہ تعالی تیرے باغ پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے اور تیرا باغ ایک صاف میدان ہو کر رہ جائے۔ یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے پھر تو اس پانی کو حاصل کرنے کی کوشش بھی نہ کرسکے، مطلب یہ ہے کہ تو جو یہ کہتا ہے کہ میرا باغ ہمیشہ رہے گا یہ اس لیے کہتا ہے کہ اسبابِ ظاہرہ موجود ہیں۔ سیراب کرنے کے لیے پانی ہے باغ کی سینچائی کے لیے آدمی موجود ہیں۔ یہ تیری بھول ہے جس ذات پاک نے تجھے یہ باغ دیا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ آسمان سے اس پر کوئی آفت بھیج دے۔ پھر نہ کوئی درخت رہے گا نہ ٹہنی۔ نہ برگ رہے گا نہ بار، اسے اس بات پر بھی قدرت ہے کہ جس پانی پر تجھے گھمنڈ ہے وہ اس پانی کو اندر، زمین سے دور پہنچا دے اور یہ پانی اتنی دور چلا جائے کہ تو اسے محنت اور کوشش کرکے دوبارہ اپنی کھیتی کی سطح تک لانے کی ہمت نہ کرسکے۔ مومن و موحد بندے نے اُس کافر و مشرک ناشکرے کو شرک چھوڑنے اور توحید اختیار کرنے اور اللہ تعالی کی قدرت ماننے اور اس کی گرفت سے بچنے کی تلقین کی تھی، اس پر اُس نے دھیان نہ دیا۔ عذاب آ ہی گیا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں دنیا میں کوئی پاس رکھنا پسند نہیں کرتا مگر اللہ کے پاس ان کا رتبہ یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ بھولے سے بھی کوئی قسم کھا بیٹھیں تو اللہ اس قسم کو اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے ۔
 اور کچھ یوں ہی ہوا، اس مال دارکے جو اسباب تھے ان سب کو ایک آفت نے گھیر لیا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ ایک آگ تھی جس نے اس کی مالیت کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ اب تو یہ شخص حیران کھڑا رہ گیا اور اپنے باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا اس پر اپنے ہاتھ کو الٹتا پلٹتا رہ گیا۔ وہ شخص افسوس کر رہا تھااور کہتا جا رہا تھا کہ ہائے افسوس میں اس باغ پر مال خرچ نہ کرتا جیسا تھا ویسے ہی بڑھتا رہتا۔ اگر اس پر مال نہ خرچ کرتا تو باغ جل جاتا مگر مال تو رہ جاتا، باغ بھی خاک ہوا اور جو کچھ اس پر لگایا تھا وہ بھی گیا۔ اب اسے اپنے مومن ساتھی کی نصیحت یاد آئی اور کہنے لگا اے کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا۔ 
دیکھا جائے تو اس سارے واقعے میں کسی ظاہری شرک کا ارتکاب نظر نہیں آتا۔ کسی لات منات، عزی یا کسی اور دیوی دیوتا کی پوجا پاٹ کا بھی کوئی حوالہ یہاں نہیں آیا۔ اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کا بھی ذکر نہیں ہوا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا اقدام تھا جس پر وہ شخص پچھتایا کہ کاش میں نے اپنے رب سے شرک نہ کیا ہوتا ! اس پہلو سے اگر اس سارے واقعے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ نکتہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہاں جس شرک کا ذکر ہوا ہے وہ مادہ پرستی کا شرک ہے۔
اس شخص نے اپنے مادی اسباب و وسائل کو ہی سب کچھ سمجھ لیا تھا۔ جو بھروسا اور توکل اسے حقیقی مسبب الاسباب پر کرنا چاہیے تھا، وہ بھروسا اور توکل اس نے اپنے مادی وسائل پر کرلیا تھا اور اس طرح ان مادی وسائل کو معبود کا درجہ دے دیا تھا۔ یہی رویہ اور سوچ مادہ پرستی ہے اور یہی موجودہ دور کا سب سے بڑا شرک ہے۔ 
بقول اقبال :
؂ اس دور میں مہ اور ہے جام اور جم اور
ساقی نے بنا لی روش لطف ستم اور
تہذیب کے آذر نے ترشوائے صنم اور
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ موجودہ دوراگنی پوجا، ستارہ پرستی اور بت پرستی کا دور نہیں۔ آج کا انسان ستاروں کی اصل حقیقت جان لینے اور چاند پر قدم رکھ لینے کے بعد ان کی پوجا کیوں کر کرے گا ؟ چنانچہ آج کے دور میں اللہ کو چھوڑ کر انسان نے جو معبود بنائے ہیں ان میں مادہ پرستی سب سے اہم ہے۔ آج دولت کو معبود کا درجہ دے دیا گیا ہے اور مادی وسائل اور ذرائع کو مسبب الاسباب سمجھ لیا گیا ہے۔ شرک صرف دولت کی دیوی کے آگے سر ٹیکنا یا کسی پتھر کو ہی پوجنا نہیں ہے، بلکہ کسی بھی چیز کی اہمیت کو بڑھا کر خدا کے مقام پر لے جانے کا نام ہے۔کچھ لوگ وطن کو خدا بنا لیتے ہیں، کچھ نظریات کو اور کچھ دولت کو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ہلاک ہو جائے درہم و دینار کا بندہ۔‘‘ یہ مادہ پرستی اور دولت کی ہوس موجودہ دور کا بہت خطرناک شرک ہے اور اللہ اس کے شر سے ہمیں محفوظ رکھے۔ 

یہی کمزوری ہمیں پہلے قصے میں بھی نظر آئی تھی۔ وہاں بھی انسان نے مادے پر توکل کیا، اور سوچا کہ فصل لدی پڑی ہے ہم جلدی اٹھ بھی گئے ہیں تو کون ہمیں ہماری فصل توڑنے سے روکے گا۔ انہوں اپنے آپ کو قادر سمجھا۔ اور یہاں بھی ہمیں عذاب کا یہی سبب نظر آتا ہے اس شخص نے بھی اپنے باغ پر نظر طائرانہ ڈال کر یہ گمان کر لیا کہ یہ باغ از خود ہمیشہ قائم رہ سکتا ہے ۔ اپنے حساب کتاب میں اس نے سب شامل کر لیا، نہیں کیا تو مسبب الاسباب اللہ عزوجل کی ذات کو۔ 
اس بات کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ انسان اسباب نہ کرے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں ترجمہ:
’’ اور زاد راہ لے لیا کرو اور بہترین زاد راہ تقویٰ ہے اور اللہ سے ڈرو اے عقل والو۔‘‘ 
تقوی کی بہترین تشریح ہمیں ایک روایت سے ملتی ہے جہاں حضرت عمرؓ نے اپنے ایک ساتھی سے تقوی کے معنی پوچھے تو انہوں نے کہا: ’’ پر خار رستے پر اپنا دامن بچا بچا کر نکل جانا تقویٰ ہے۔‘‘ دنیا کو چھوڑ کر جنگل و بیابان میں نکل جانا تقویٰ نہیں۔ رہنا تو ہم نے اسی مادہ پرست دنیا میں ہے مگر اس دنیا کے فریبوں سے ہوشیار رہنا ہے۔ اپنا پیٹ ضرور پالنا ہے ، اپنی اولاد کے لیے مشقت بھی کرنی ہے مگر ہمارا اصل ہدف آخرت ہونا چاہیے ۔اسی طرح اس دنیا میں رہنے کے لیے محنت ضرور کرنی ہے اسباب پورے کرنے ہیں مگر بھروسہ صرف اللہ کی ذات پر کرنا ہے۔ اس کے اوپر کامل توکل ہو گا تو اِن شااللہ یہ دنیا بھی آسان ہو گی اور آخرت بھی فرحاں ۔ اللہ ہم سب کو ایمان اور توکل کی دولت سے مالامال کرے۔
آمین۔

~!~ قرآن کہانی ~!~ دو باغ دو کہانیاں (حصہ دوم) تحریر: علی منیر فاروقی بشکریہ:  الف کتاب ویب اور جو دوسری بات اس واقعے میں پنہ...

قرآن کہانی ۔۔۔۔ دو باغ دو کہانیاں (حصہ اول)


~!~ قرآن کہانی ~!~
دو باغ دو کہانیاں (حصہ اول)
تحریر: علی منیر فاروقی
بشکریہ: الف کتاب ویب

الحمدللہ رب العالمین و نحمدہ ونصلی علی روسولہ الکریم صلی اللہ علیہ وسلم والتابعین ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین
 قصص القرآن کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ عز وجل ہمیں قرآن کی سچی محبت اور اس کی فکر سے سچا عشق عطا فرمائے۔ یہ بات ہم بخوبی جانتے ہیں کہ قرآن میں موجود قصے اپنے اندر علم و حکمت کے موتی سموئے ہوتے ہیں اور ان کو بیان کرنے کا مقصد بھی محض قصہ گوئی نہیں بلکہ راہ ہدایت دکھلانا ہے ۔ چوں کہ یہ کوئی کہانی کی کتاب نہیں شاید اسی لیے ہمیں قرآن کے قصص میں کہانی کے اعتبار سے کچھ کمی نظر آتی ہے، سوائے حضرت یوسفؑ اور کسی حد تک حضرت سلمانؑ کے قصے کے ہمیں کوئی قصہ مع پورے سیاق و سباق ایک ساتھ نہیں ملتا ۔
اور آج ہم ایسے ہی دو بظاہرمختلف قصے سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ جن کا نہ تو محل وقوع واضح ہے اور نہ ہی ہمیں اہل علم سے ان کے کرداروں کے نام پر کوئی حتمی رائے ملتی ہے، اپنی آسانی کے لیے ہم انہیں باغ والے کہہ سکتے ہیں۔ یہ قصے قرآن میں سورۃ الکہف اور سورۃ القلم میں موجود ہیں اور واقعات و موضوع کے اعتبار سے یہ بھلے مختلف ہوں مگر یہ ایک نہایت سنگین حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ جس کا سمجھنا آج کل کے پر فتن اور پر آشوب دور میں بے حد ضروری ہے۔

آئیے پہلے قصے کی جانب جو سورۃ القلم میں درج ہے، اس سورۃ میں اللہ عز وجل اس قصے کو بہ طور اہلِ مکہ کی آزمائش کے پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم نے سردارانِ مکہ کو آزمایا جیسے ان باغ والوں کو آزمایا تھا جو یہ قسم کھا بیٹھے تھے کہ ہم بالضرور صبح سارے پھل توڑ لیں گے۔ یہ باغ کچھ مفسرین کی رائے کے مطابق طائف میں تھا اور کچھ اسے بنی اسرائیل کے دور کا بتاتے ہیں مگر اہلِ علم کی اکثریت اس بات پر اجماع ہے کہ یہ باغ یمن میں موجود وادئ صنعا میں تھا اور اس واقعہ کا زمانہ حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع آسمانی کے کچھ عرصہ بعد کا ہے۔

اس قصے کی تمہید میں اہل علم یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درویش صفت شخص تھا، جسے اللہ نے ایک پھل دار باغ سے نواز رکھا تھا ۔ یہ نیک آدمی اپنے مال میں مسکینوں کا حصہ رکھتا تھا اور اس کا حصہ کرنے کا انداز بھی نرالا تھا۔ جب اس کی فصل پک کر تیار ہو جاتی تو یہ درخت کے نیچے چادر بچھا دیتا تھا اور درانتی لے کر ایک خاص انداز سے کاٹنا شروع ہو جاتا تھا۔ کٹائی کے دوران جو پھل درانتی کی زد سے بچ جاتے یا جو چادر کے باہر گرتے وہ چھوڑ دیتا تھا۔ کٹائی والے دن غریبوں اور مسکینوں کو کھلی اجازت تھی کہ جو پھل بچ جائیں، وُہ انہیں کھا لیں۔ الغرض معاملہ یوں ہی چلتا رہا حتی کہ وہ درویش اپنے رب کے بلاوے پر لبیک کہہ کر اس دنیا سے کوچ کر گیا اور اس کا باغ ترکہ میں اس کے تین بیٹوں کے ہاتھ آیا۔

یہ تین بیٹے شاید اپنے آپ کو اس زمانے کا جدید کاروباری سمجھتے تھے اور ابا کی کاروباری حکمت عملی ان کی نظر میں دقیانوسی اور نفع کے اعتبار سے کمزور تھی۔ اس لیے والد کے انتقال کے بعد سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور اپنے آپ کو یقین دہانی کرانے لگ گئے کہ وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے، تب فصل زیادہ تھی اور گھر کے افراد کم اور اب گھرانہ بڑھ گیا ہے اس لیے کاروبار کے منافع کو بڑھانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان مسکینوں اور غریبوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے، جو مفت میں ہماری فصل کا ایک حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں۔ مگر علاقے میں والد ماجد کی دریا دلی اور سخاوت کا تذکرہ عام تھا۔ اب اگر یہ تینوں اپنے ابا کی عادت کے برخلاف غریبوں کو دھتکار دیں تو لوگ کیا کہیں گے ؟ اس کا ایک ہی حل تھا، اپنے ہی باغ میں اندھیرے میں جا کر کام کیا کریں، نہ لوگ دیکھیں گے اور نہ ہی مانگیں گے۔

یہاں سے قرآن اس واقعے کو بیان کرتا ہے کہ انہوں نے قسمیں کھا لیں کہ کل ہر حال میں اپنی فصل اتار لیں گے مگر ان شاء اللہ نہیں کہا ۔ رات میں اللہ نے ان کے باغ پر اپنا عذاب بھیج کر اسے تباہ کردیا اور وہ لہلہاتی فصلیں جن کے پھل اپنے جوبن پر تھے یک لخت خس و خاک ہو گئیں ۔ ادھر یہ اصحاب ایک دوسرے کو اُٹھانے لگے کہ اٹھو چلو اپنی فصل سمیٹو اور ہاں یاد رہے کہ آج کے دن کوئی غریب و مسکین ہمارے باغ میں داخل نہ ہونے پائے اس کے اوپر ستم یہ کہ وغدوا علی قاد قدِرِین اور وہ چل دیے اپنے باغ کی جانب اس حالت میں جیسے وہی قادر ہیں۔ یعنی اپنی تمام تر کاروباری حکمت عملی میں سے نہ صرف غریبوں کا حصہ کاٹ دیا بلکہ اللہ تعالی کے بجائے اپنے آپ کو قادر سمجھ بیٹھے کہ فصل تیار ہے، اوزار ہمارے پاس ہیں، غریبوں کا پتا ہم کاٹ چکے ہیں، اب ہمیں بھلا کون روک سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب انہیں اپنے باغ میں پہنچ کر ملتا ہے، جب انہیں اپنے دل کش باغ کی جگہ تباہ شدہ ٹوٹے درخت نظر آتے ہیں۔ پہلے پہل تو بے یقینی کی سی کیفیت ہوتی ہے،ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا؟ ہم یقیناًرات کی تاریکی میں بھٹک گئے اور کہیں اور نکل آئے ہیں، ایک دوسرے کو گہنے لگے کہ جا ذرا دیکھ کر آ، کیا ہم صحیح راستے پر آئے ہیں؟ مگر 
کھنڈر بتا رہے ہیں عمارت حسین تھی 
کے مصداق ان میں سے ایک کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ انہیں کا باغ تھا۔ وہ ایک آہ بھر کر دوسروں سے کہتا ہے بل نحن محرومون کہ نہیں بلکہ ہماری قسمت ہی پھوٹ گئی ہے، ان میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم لوگ رب کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔ 

یہ بات واضح رہے کہ برے سے برے معاشرے میں بھی کوئی نہ کوئی ہوش مند ضرور ہوتا ہے سو ان میں بھی ایک تھا جو انہیں خدا خوفی کی تلقین کیا کرتا تھا مگر نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ۔ خدا کا عذاب اُترتا دیکھ کر ان پر برس پڑا کہ میں ہمیشہ تمھاری غفلت اور غلط روی پر ٹوکتا رہتا تھا اور ہمیشہ تمہیں توجہ دلاتا تھا کہ تم اللہ تعالی کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔ تسبیح ایک جامع کلمہ ہے جو اللہ تعالی کی یاد اور اس کی بندگی کے پورے مفہوم پر حاوی ہے۔ اس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میں تمہیں اللہ تعالی ہی کو یاد کرنے، اس کا شکر بجالانے اور اس کی فرماں برداری کی تلقین کیا کرتا تھا لیکن تم نے میری ایک نہ سنی، آج اس کا انجام دیکھ لیجئے۔ اب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اپنی گمراہی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا رب یقیناً ہر طرح کے ظلم سے پاک ہے، اس نے ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔ اپنی خوشحالی کے نشے میں اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا بھول گئے اور عام طور پر مصیبت کے وقت ایسا ہوتا ہے کہ اپنی غلطیوں کے احساس اور اعتراف کے باوجود لوگ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے لگتے ہیں، یہ بھی ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ لیکن جلد ہی ہوش میں آئے اور کہنے لگے کہ ہم سب ہی سرکشی کے راستے پر جا پڑے تھے اور ہم نے کسی ناصح کی بات پر کان نہیں دھرا۔ اب کسی کو مطعون کرنے کی بہ جائے اپنی سرکشی کا انجام دیکھتے ہوئے توبہ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالی ہم پر نظرِ کرم فرمائے اور جس نعمت سے اللہ تعالی نے ہمیں محروم کیا ہے ہمیں اس سے بہتر عطا فرمائے۔

اب ہم اگر اس واقعہ پر غور کریں تو یہ حقیقت ہمارے اوپر عیاں ہو گی کہ یہاں دو نفسانی خواہشات اور عادات کی سختی سے نفی کی جا رہی ہے۔ اول ، مال کی حد سے زیادہ محبت کہ جو انسان کو بخل کے دروازے پر لے جاتی ہے اور انسان اپنی پوری زندگی مال کے پیچھے بھاگتا رہے یہاں تک کہ سورۂ تکاثر کی وعید اس کے اوپر صادق آجائے
  اَلْہٰکُمُ التَّکَاثُرْO حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَO
کہ تمہیں مال کی محبت نے دھوکے میں ڈالے رکھا یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں ۔ 

اوپر جا کر انسان کو معلوم ہوگا کہ جو کچھ کہ دیکھا خواب تھا اور جو کچھ سُنا وہ فسانہ تھا اور یہ انسان جو یہاں ایک ایک پیسے کے لیے جھگڑتا ہے ،چند سکوں کی خاطر اپنوں سے بے گانہ ہو جاتا ہے اُوپر جا کر صدا لگائے گا ۔
ترجمہ
’’ اے کاش کہ موت میرا کام تمام کر چکی ہوتی آج میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا‘‘ 

اور جو دوسری بات اس واقعے میں پنہاں ہے اسے صحیح طرح سمجھنے کے لیے ہمیں دوسرا قصہ بھی پڑھنا پڑے گا کہ جو سورۃ الکہف میں درج ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔ 

~!~ قرآن کہانی ~!~ دو باغ دو کہانیاں (حصہ اول) تحریر: علی منیر فاروقی بشکریہ: الف کتاب ویب الحمدللہ رب العالمین و نحمدہ ونصل...

رونقِ ویرانہ


‏آبادیوں میں ٹھیک سے جمتی نہیں ہے بزم،
رونق کے واسطے کوئی ویرانہ شرط ہے-

‏آبادیوں میں ٹھیک سے جمتی نہیں ہے بزم، رونق کے واسطے کوئی ویرانہ شرط ہے- ‎

قرآن کہانی ۔۔۔ اصحاب کہف


~!~قرآن کہانی~!~
اصحابِ کہف

تحریر: علی منیر فاروقی
بشکریہ: الف کتاب ویب

الحمدللہ رب العالمین و نصلی علی رسولہ الکریم ۔۔
 قرآن کریم میں جہاں ایک طرف مختلف انبیائے کرام کے قصص بہ طور دلیل درج ہیں وہیں چند ایسے گمنام کرداروں کے ایمان افروز واقعات کا ذکر بھی موجود ہے۔ جونہ صرف ہمیں فتنوں کے دور میں اپنا ایمان محفوظ رکھنے کا درس دیتے ہیں بلکہ اس کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔ یہ قصہ اُن چند سربہ کف نوجوانوں کا ہے، جن کے نام ، علاقہ، محلِ وقوع اور تعداد بھی تاریخ کی کتابوں میں حتمی طور پر درج نہیں ، مگر ان کی عظمت و ہمت اور ان کے ساتھ پیش آنے والے ماورا الطبعیاتی واقعے کی گواہی تا ابد محفوظ رہے گی ۔

یہ قصہ قرآن کریم میں سورئہ کہف میں درج ہے اور حجم میں اتنا طویل نہیں مگر اپنے اندر حکمت و نصیحت کا ایک سمندر پنہاں رکھتا ہے تو آئیے پہلے اس قصے کا ایک رواں مطالعہ کر لیں پھر اس پر تدبر کی ایک چھوٹی سی کوشش کرتے ہیں۔

مستند روایات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قصہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کے بعد کا ہے۔ ابھی عیسائیت شرک کی ملاوٹ سے پاک تھی اور توحید کی دولت سے مالامال دین حنیف پر مبنی تھی۔ ایسے میں چند نوجوانوں نے مشرکانہ ظلمات کے پردوں کو چاک کرتے ہوئے حق کی آواز پر لبیک کہا اور دینِ حق کو قبول کرلیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس دینِ حق کا پرچار شروع کیا۔ دنیا کا اصول ہے کہ جب بھی حق کی آواز بلند ہوتی ہے اسے دبانے کے لئے باطل کی قوتیں اپنا پورا زور لگاتی ہیں، چناںچہ ان نوجوانوں کو بھی انہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بات ہوتے ہوتے حاکمِ وقت کے کانوں تک پہنچی۔ (جو چند روایات کے مطابق رومی قیصر ڈیشیس تھا اور باقی روایات کے مطابق ابراہیمی دین کی بگڑی ہوئی شکل کا پیروکار تھا) چناںچہ حاکمِ وقت نے ان لڑکوں کو حکم دیا کہ واپس لوٹ آؤ اور اپنے اس نئے دین کی ترویج فوری بند کرو ورنہ تمہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

نورِ حق کے ان پروانوں نے اپنا دین چھوڑنے کے بہ جائے یہ فیصلہ کیا کہ آبادی سے دور کسی جگہ جا کر پناہ لی جائے، چنانچہ یہ نوجوان اور ان کا کتا ایک غار میں جا کر چھپ گئے تاکہ اپنا اگلا لائحۂ عمل تیار کریں ، ایسے میں اللہ نے ان تمام پر ایک نیند طاری کر دی اور نیند بھی گھنٹوں کی نہیں بلکہ صدیوں کی! اس دوران اللہ انہیں کروٹ دلاتا رہا (تاکہ خون گردش کرتا رہے اور زخم نہ بن جائیں)اور ان کو دھوپ سے بچاتا رہا ، تین صدیوں کے بعد یہ اصحاب اپنی نیند سے بے دار ہوئے اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم کتنی دیر سوئے ہیں ایک بولا شاید پورا دن سو لیے دوسرے نے کہا کہ نہیں اس کا بھی کچھ حصہ سوئے ہیں، اب مشورہ ہوا کہ طعام کا بندوبست کیا جائے چناںچہ ان میں سے ایک چند چاندی کے سکّے لے کر بازار جانے لگا ، جاتے وقت اس کے ساتھیوں نے اسے تلقین کی کہ پاک طعام لے کر آنا اور ہاں دیکھنا کوئی تمہیں پکڑ نہ لے ورنہ ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔

یہ نوجوان جب بستی پہنچا تو دیکھا کہ دنیا ہی بدلی ہوئی ہے بستی و بازار در و دیوار سب الگ روپ لیے ہوئے ہیں حتیٰ کہ رہن سہن بھی بدل چکا ہے اس نئے اجنبی منظر کے خوف کو دباتے ہوئے اس نوجوان نے ڈرتے ڈرتے کھانے کا سامان لیا تو لوگ صدیوں پرانے سکّے دیکھ کر بھونچکا رہ گئے ، انہوں نے ان نوجوانوں کا قصّہ سنا ہوا تھا کہ جو اپنا ایمان بچانے کے لئے شہر چھوڑ گئے تھے ۔ اس نوجوان کو بتایا گیا کہ شرک کے بادل چھٹ چکے ہیں اور اب یہاں حق کا بول بالا ہے ۔
اتفاق سے ان دنوں اس بستی میں ایک علمی بحث چھڑی ہوئی تھی کہ مرنے کے بعد کیا ہم دوبارہ جی اُٹھیں گے؟ اور آیا خدا ہمیں قیامت کے دن اسی بدن کے ساتھ زندہ کرے گا یا ہمارا کوئی اور روپ ہوگا یوں اللہ نے اس نوجوان کے صورت میں ان کے تمام سوالوں کا جواب دے دیا ۔ اب یہ تمام لوگ اس نوجوان کے ساتھ اس غار میں پہنچے جہاں اس کے باقی ساتھی موجود تھے اور وہاں ان سب کو دیکھ کر ان کا ایمان تازہ ہو گیا ۔ یہ تھے اصحابِ کہف اب اس کے بعد کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ کتنا عرصہ زندہ رہے (گمان یہ ہے کہ فوری وفات پا گئے تھے
ان کی وفات کے بعد کچھ لوگ اس حق میں تھے کہ ایک دیوار کھڑی کر دی جائے اور ان کا معاملہ رب کے سپرد کیا جائے جب کہ اہلِ ثروت کی رائے کے مطابق اس جگہ پر ایک مسجد (عبادت گاہ)قائم کر دی گئی۔

یہ تھا وہ قصہ اب آئیے پہلے ان اشکالات کو رفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو عموماً اس قصے کے ضمن میں اٹھائے جاتے ہیں۔ نمبر ایک ان اصحاب کی تعداد کتنی تھی؟ یہ تو یقینی بات ہے کہ ان کے ساتھ ان کا کتا موجود تھا مگر ان کی اپنی تعداد کتنی تھی ؟پانچ ،چھ یا سات ؟ اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ ان کی تعداد سات تھی کیوںکہ قرآنی آیت میں پانچ اور چھے کے بعد کہا گیا ہے کہ یہ لوگ غیب پر تکے لگا رہے ہیں مگر سات کی تعداد کے ذکر کے بعد ایسی بات نہیں کی گئی اور پھر عیسائی تعلیمات میں ان کو سیون سلیپرز کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یعنی سات سونے والے۔ مگر یہاں قرآن کی رائے نہ دیکھنا اس موضوع کے ساتھ ظلم ہو گا۔ اللہ عزوجل نے اس آیت کا اسلوب اس قدر خوب صورت رکھا ہے کہ بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔
 ترجمہ :

(بعض لوگ)کہیں گے کہ وہ تین تھے اور(چوتھا) ان کا کتا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا ، یہ اپنی اپنی سوچ کی باتیں ہیں ۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملے) میں گفت گو نہ کرنا مگر سرسری سی گفت گو اور نہ ان کے بارے میں ان میں کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا(سورۃ کہف آیت 22)


یعنی یہ بات بالکل غیر اہم ہے کہ ان اصحاب کی تعداد کتنی تھی ، ہمیں ایک نہایت حسین پیرائے میں ٹوکا جا رہا ہے کہ بہ جائے بال کی کھال نکالنے کے اصل نصیحت پر غور و خوض کرو ۔
اب آگے بڑھتے ہیں دیگر اشکال کی جانب وہ یہ کہ وہ کتنا عرصہ اس غار میں رہے؟ چوںکہ یہ سوال مشرکینِ مکہ کی جانب سے بہ طور دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا گیا تھا تو اس کا جواب اتنا یقینی دیا گیا کہ اس کی کوئی نذیر نہیں ملتی۔ کہا گیا کہ وہ اس غار میں تین سو سال رہے اور نو سال اور ۔ سننے میں نہایت عجیب معلوم ہوتا ہے کہ تین سو اور نو کا کیا مطلب ہوا؟ آیا وہ تین سو سال رہے یا تین سو نو؟ اب یہاں قرآن کی من جانب اللہ ہونے کی دلیل قائم ہوتی ہے۔ عیسائیت میں دنوں کا حساب شمسی ہوتا ہے اور اسلام میں قمری ہم یہ بات جانتے ہیں کہ قمری مہینے کے دن شمسی سے کچھ کم ہوتے ہیں۔ اب اگر دنوں کا میزان تین سو شمسی سالوں میں معلوم کریں تو وہ ٹھیک نو سال بنتا ہے یعنی وہ اصحابِ شمسی حساب سے تین سو سال سوئے اور قمری حساب سے تین سو نو سال۔ یوں اس سوال کے جواب میں کٹ حجتی کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

ان دو علمی نکتوں کے بعد اب آئیے اس دقیق سوال کی جانب بڑھتے ہیں جو آج کل کے پُر فتنہ دور میں بہت سوں کو گمراہی کے دہانے کی جانب لے جا رہا ہے، وہ یہ کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسانی جسم اتنا عرصہ بغیر خوراک کے جی سکے ؟ یہ سوال نیا نہیں ، ایسے سوالات قرآن کے نزول سے پہلے بھی انسانیت کو گمراہ کرتے رہے ہیں مگر اب فرق صرف اتنا ہے کہ اس طوفان کا شکارنہ صرف غیر مسلم ہیں بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے مسلمان گھرانوں میں آنکھ کھولی اور کان میں پہلی آواز اشہد ان لا الہ الااللہ کی سنی۔ یہ چوںکہ سائنس کا دور ہے اس لیے افسوس کے ساتھ آج کل ہمارا ایمان بھی سائنس سے مشروط ہوتا جا رہا ہے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ اب ہم دین و ایمان کو بھی سائنس کی کسوٹی پر تولتے ہیں، اب میری اس بات پر ممکن ہے دقیانوسیت کی پھبتی کسی جائے یا پھر ملا اور لاؤڈ سپیکر والی مثال دی جائے مگر حق تو یہ ہے کہ اگر ہمارا ایمان اللہ کی کتاب سے زیادہ اس کی سائنسی توجیح پر ہے تو وہ ایمان باللہ نہیں ایمان بالسائنس ہوا۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ قوانین قدرت اور سائنسی حقائق بھی اللہ کے بنائے ہوئے ہیں اور اللہ ہمیں جگہ جگہ ان پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اس لیے ان کا انکار ایک انداز سے خود اللہ کا انکار ہے، مگر یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ سائنسی تھیوری ابدی نہیں ہونی چاہیے، معاملہ چاہے زمین کے سپاٹ ہونے کا ہو یا مادے کے لاینفک ہونے کا۔ ہمارے عمرانی اور علمی ارتقا کے ساتھ بہت سی ایسی تھیوریز جو کبھی ابدی حقائق سمجھی جاتی تھیں آج کی سائنس انہیں طفلانہ توجیحات گردانتی ہے۔

اب اگر قرآن کی سائنسی تشریح کر دی جائے اور بعد میں وہ تھیوری غلط ثابت ہو تو کیا معاذاللہ قرآن غلط ہو گیا؟ چناںچہ ہمارا نظریہ بہ جائے قرآن کی سائنسی توجیح کے سائنسی تھیوری کی قرآنی توجیح کا ہونا چاہیے ۔ ہمارا ایمان یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی سائنسی تھیوری حق ہے تو وہ کبھی قرآن سے متصادم نہیں ہو گی اور اگر کوئی تھیوری بہ ظاہر قرآنی حقائق سے ٹکرا رہی ہے تو یا تو وہ قرآنی مقامِ متشابہات میں سے ہے جسے محکمات سمجھا جا رہا تھا یا پھر وہ تھیوری غلط ہے اس کے علاوہ کوئی تیسری راہ نہیں بچتی۔ اب ایسے میں اہلِ علم کا کام ہے کہ وہ یہ جانچیں کہ کیا قرآن کی صحیح تفسیر میں اس تھیوری کی کوئی گنجائش ہے؟ کیا یہاں کسی متشابہ آیت کی حقیقت سے پردہ تو نہیں اُٹھ رہا ؟ اور اگر ایسا نہیں تو ذہین اہلِ علم و دانش مسلمانوں کے اوپر قرآن کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اس تھیوری کا سائنس ہی کے علوم میں رد کرنے کی کوشش کریں۔ تمہید کچھ لمبی ہو گئی مگر معاملہ نہایت نازک ہے،اس بات کو دل و دماغ میں بٹھا لینا ضروری ہے کہ قرآن سائنسی حقائق سے متصادم ہو ہی نہیں سکتا، فرق صرف توجیح کا ہو سکتا ہے۔

اب آئیے اس بات کی کچھ سائنسی توجیح سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمارے وہ بہن بھائی جو اس طوفان میں اپنے آپ کو بے سہارا محسوس کرتے ہیں اور سائنس کی توجیحات کے بغیر ان کو اپنا ایمان خطرے میں نظر آتا ہے انہیں کچھ سہارا ملے۔ یہ اشکال کفر و الحاد کے حامی تین مواقع پر اٹھاتے ہیں ایک اصحابِ کہف کے واقعے پر دوسرا حضرت عزیر علیہ السلام کے واقعے پر اور تیسرا معراج کے واقعے پر۔ بات کچھ یوں ہے کہ انگریزوں کے دور میں جب ذہنوں پر سائنس کا غلبہ قائم ہوا تو وہ نیوٹونین دور تھا ، نیوٹن کی مادے کے بارے میں تھیوری حق سمجھی جاتی تھیں اور مادہ لاینفک سمجھا جاتا تھا یعنی نہ ہی اسے تخلیق کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی تباہ۔ سب کچھ فزکس ہی فزکس تھی، میٹافزکس(مابعدالطبیعات)سے کوئی واقف نہ تھا ایسے میں ما ورا الطبیعات قرآنی حقائق کی تشریح کیسے کی جائے؟ یہ طوفان ہندوستان کے مسلمانوں کو بہا لے جا رہا تھا، ایسے میں اہلِ ایمان دو علمی گروہوں میں بٹ گئے ایک وہ کہ جنہوں نے سنت اصحاب کہف پر عمل کرنے میں عافیت جانی اور ان سائنسی علوم سے بالکل ہی کٹ گئے (ان ہی بے چاروں پر بعد میں لاوڈ سپیکر والی پھبتی کسی گئی )اور دوسرے وہ جنہوں نے اپنے ایمان کے دفاع کی کوشش کی مگر طریقۂ کار میں چوٹ کھا گئے ۔ انہوں نے قرآن کی تفسیر کو کھینچ تان کر اس وقت کے سائنسی حقائق کے سانچے میں بٹھانے کی اپنی سی کوشش کی مگر اس سعی کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ فرشتوں ،جنات اوربہشت و دوزخ کے منکر ہو بیٹھے۔ کسی نے انہیں قدرت کے قوانین کہا تو کوئی جنوں کو انسان کی غصیلی قسم مانتا تھا کبھی معراج کو مشتبہ بتایا کہ یہ عالم خواب میں پیش آیا تھا تو کبھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بحر چاک کرنے کے معجزے کی تشریح سمندری مدو جزر سے کی۔
ایسے میں جیمزچاڈوک نے آکر اپنی تھیوری سے علم کی ایک اور دنیا سے انسانیت کو روشناس کرایا، اس نے ثابت کیا کہ مادہ لاینفک نہیں ہے ، یہ اپنے اندر اور بھی جزو رکھتا ہے ، بہ قول اقبال :
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّے کا دل چیریں

اور پھر آئن سٹائن نے آکر اپنی تھیوری سے دنیا میں بھونچال برپا کر دیا ، اس دور کی سائنس کو جڑ سے ہلا دینے والی اس کی تھیوریز نے دو چیزیں ثابت کیں نمبر ایک زمان و مکان الگ نہیں بلکہ ایک ہی جہت ہیں ہم تین جہتوں کا ادراک رکھتے ہیں(لمبائی ، چوڑائی اور گہرائی)۔ اس نے بتایا ایک جہت اور بھی ہے وہ ہے زمان و مکان کی جہت اور دوسرا یہ کہ وقت یکساں نہیں رہتا بلکہ یہ رفتار پرمنحصر ہے، اگر روشنی کی رفتار سے سفر کیا جائے تو مسافر کے لیے وقت کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ وقت کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ سیل رواں نہیں ہے بلکہ لمحوں کی ایک لا متناہی سیریز ہے ،یعنی وقت کی مثال بچے کی اس کاپی کی سی ہے جس میں وہ مختلف صفحوں پر ایک کارٹون بنا کر جب تیزی سے صفحات پلٹتا ہے تو وہ کارٹون اسے چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ تھیوری زیرِ بحث واقعات کا تسلی بخش سائنسی ثبوت پیش کرتی ہے۔

یہ بات ہم نے سمجھ لی کہ ایک چوتھی جہت بھی ہے (اور کسے معلوم اور بھی جہتیں ہوں، جدید سائنس تو دس جہتوں کو مانتی ہے جن میں چھے سے ہم ابھی واقف نہیں) اب اگر کوئی مخلوق اس چوتھی جہت کی ہو گی تو اس کا شعور اور احساس ہمارے فہم سے کہیں بالا تر ہے ، اس کی مثال یوں لیجیے کہ انسانی کان ایک خاص فریکوئنسی میں سُن سکتے ہیں اور کتوں کے کان اس سے کہیں زیادہ تیز ہوتے ہیں چناںچہ کتوں کی سیٹی انسانوں کو سُنائی نہیں دیتی مگر کتے اس سیٹی پر فورا ًحرکت میں آتے ہیں ، اب ایسے میں تو کوئی اَڑیل ہی یہ بات کہے گا کہ سیٹی ویٹی کچھ نہیں یہ دقیانوسی بات ہے۔ ایک اور مثال پیش کرتا ہوں تصور کیجیے ایک مخلوق صرف دو جہتوں کا ادراک رکھتی ہے یعنی لمبائی اور چوڑائی کا۔ اس کے سامنے ایک دروازہ ہے اسے وہ دروازہ ایک دیوار کی مانند لگے گا۔ اب اگر وہ دروازہ کھول دیا جائے تو اسے ایسا لگے گا کہ دیوار(دروازہ)کا ایک بہت بڑا حصہ غائب ہو گیا اور ایک نئی دنیا غیب سے حاضر ہو گئی۔ چوںکہ وہ گہرائی کا ادراک نہیں رکھتی اس لیے دروازے کی موٹائی ہی اسے اب چوڑائی کے طور پر دِکھے گی اور چوڑائی چوںکہ نوے کے زاویے میں ہے اس لیے اس کی نظروں سے اوجھل ہو گی۔ ہم اگر یہ بات سمجھ لیں تو بہت ساری مشکلات کی قلعی کھلتی چلی جائے گی، چاہے وہ اس بات کا یقین ہو کہ ہمارے ساتھ کراماً کاتبین موجود ہوتے ہیں یا چاہے وہ جنات یا شیاطین کا معاملہ ہو۔ اگر کوئی مخلوق ہماری جہت کی ہے ہی نہیں تو اس کے افعال ہمارے لیے غیر مرئی اور ڈراؤنے تو ہو سکتے ہیں مگر اس کے لیے اتنے ہی آسان ہیں جتنا ہمارے لیے جادوئی طور پر کسی دو جہتی مخلوق کے سامنے دیوار (دروازہ)کو غائب کرنا ہے۔

اگر یہ مثالیں اور سائنسی تھیوریز ہمارے لیے قابلِ قبول ہیں تو ان واقعات پر انگلی اٹھانا چہ معنی دارد؟ اگر چوتھی جہت وقت کی قید سے آزاد ہے تو واقعہ معراج کی حقانیت میں شک کہاں رہ جاتا ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی پر معذرت خواہانہ توجیحات کیوں؟ حضرت عزیر علیہ السلام کے واقعے میں ان کی سو سالہ نیند کے دوران گدھا ہڈیوں کا پنجر بن گیا مگر ان کا کھانا تازہ رہا ، اور اسی طرح اصحاب کہف تین سو شمسی سال سوتے رہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ اللہ نے جو ان تمام جہتوں سے ورا ثم الورا ہے ان لوگوں کو کسی اور جہت میں ڈال دیا ہو ان کا وقت ہمارے وقت سے الگ کٹا ہو؟ ادھر دن کا کچھ حصہ گزرا ہو اور یہاں صدیاں بیت گئیں ۔ کبھی آپ نے سو کر اٹھنے کے بعد گھڑی دیکھے بغیر یہ حتمی یقین کیا کہ کتنا عرصہ سوئے؟کیا آپ پانچ منٹ کی نیند کے چکر میں کبھی دوگھنٹہ لیٹ نہیں اُٹھے؟ یہ بات ابھی آئی تھی کہ وقت بہتا نہیں تو ذرا تصور کیجیے ایک کمرے میں پانچ ٹی وی ہیں ، ہر ٹی وی پر ایک ہی فلم چل رہی ہے ایسے میں آپ اپنے دو عدد ٹی وی کو pause (ساکت)کردیں اور باقیوں کو چلنے دیں کچھ عرصے بعد ان دو کو دوبارہ play کریں تو اب کیا تمام ٹی وی پر ایک ہی منظر چل رہا ہو گا؟ نہیں نا؟ تو پھر مسئلہ کیسا؟ یہ معاملہ اللہ کے لیے اس سے کہیں زیادہ آسان ہے جتنا آپ کے لیے ریموٹ سے pause کا بٹن دبانا۔
یہ بات دوبارہ کہتا چلوں کہ یہ بات ہمارے ایمان و عقائد کا حصہ نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی ہمارا ایمان سائنسی تھیوریز کی چار دیواری میں مقید ہونا چاہیے۔ واللہ اعلم ہو سکتا ہے یہ تمام تھیوریز اور توجیحات غلط ہوں اور بات کچھ اور ہی ہو، جس کا ہمیں ابھی علم نہیں ۔ان باتوں کو یہاں درج کرنے کا مقصد صرف ان خیالات کا رد کرنا ہے جو دورِ حاضر میں مسلمانوں کو سائنس کے نام پر الحاد کے دہانے پر لا کر کھڑاکررہے ہیں۔

اب آخر میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس واقعے میں کیا سبق پوشیدہ ہے، ویسے تو یہ پوری سورہ ہی نہایت اہمیت کی حامل ہے اور ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں اس کی تلاوت کو اپنے معمولات کا حصہ بنانے کی تلقین بھی کی ہے اس سورہ میں چار واقعات درج ہیں کہ جو آپس میں نہایت مربوط ہیں ۔ اہل علم کی رائے میں یہ آخر الزمان میں پیش آنے والے دجالی فتنوں کی طرف نشان دہی کرتے ہیں، جس میں سے ایک فتنہ ایمان کا امتحان ہو گا، جیسے اصحابِ کہف نے اپنے ایمان کا امتحان سہا، ویسے ہی ہمیں بھی قدم قدم پر ایمان بچانا پڑتا ہے اور پڑے گا۔

ایسے میں ایمان بچانے کا طریقۂ کار کیا ہوگا؟ یہ بھی ہمیں اسی سورہ سے معلوم ہوتا ہے۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ان اصحاب کی سنت پر عمل کیا جائے ، جب فتنوں کا طوفان حد سے بڑھ جائے تو اپنے بچاؤ کے لیے پہلے اپنے آپ کو ان فتنوں سے الگ کیا جائے مگر ڈر کر نہیں بلکہ اس عزم و ارادے کے ساتھ کہ یہ میں راہ فرار نہیں ڈھونڈ رہا مگر اپنے آپ کو الگ کر کے ان فتنوں کا رد کرنے کی اور لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کی کوشش کروں گا، اس واقعے میں کہیں یہ نہیں درج کہ وہ لوگ ہمیشہ کے لیے الگ ہو گئے تھے بلکہ اشارہ تو یہ ملتا ہے کہ ان کا مقصد نئی حکمت عملی کی تلاش تھا جبھی اپنے ساتھی کو بازار بھیجتے وقت انہوں نے تلقین کی تھی کہ ایسا نہ ہو کہ تم پکڑے جاؤ اور ہم ناکام ہو جائیں ۔ صحیح احادیث میں بھی یہ بات صراحتاً درج ہے کہ ہمارے نبی ۖنے ہمیں حکم دیا تھا کہ جب دجال کا خروج ہو تو تم لوگ پہاڑوں میں چھپ جانا۔ اپنے آپ کو فتنوں سے الگ کرنے میں بہت مصلحتیں ہیں۔ انسان کے اندر اللہ نے ماحول سے اثر لینے کی صلاحیت رکھی ہے۔ اپنی بقا کی خاطر اور حیوانی جبلت کے تحت انسان جس موسم اور ماحول میں ہو، خود کو اس کے مطابق ڈھال لیتا ہے اس لیے اگر اپنے ایمان کے بارے میں خوف ہو تو عافیت اسی میں ہے کی بہ جائے فتنوں کے درمیان رہ کر ایمان کھونے کا رسک لیا جائے، اپنے آپ کو فتنے میں مبتلا کرنے والے لوگوں اور چیزوں سے حتی الامکان دور کیا جائے ۔

دوسرا طریقہ اس فتنے سے بچنے کا سورۃ کہف میں اس واقعے کے فوری بعد درج ہے ، اللہ نے آیت 28 میں فرمایا 

''اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا''  

یعنی صالحین کی صحبت اختیار کی جائے ، اللہ کی زمین وسیع ہے اور یہاں ہر وقت صالح لوگ موجود ہوتے ہیں ان کی صحبت اختیار کی جائے تاکہ فتنوں کے دور میں کوئی سہارا دینے والا ملے، اور پھر چوںکہ ماحول میں ڈھلنا انسان کی سرشت میں شامل ہے تو کیوں نہ اچھے سانچے میں ڈھلا جائے ؟ اور پھر نہ صرف یہ کہ اچھے لوگو کی صحبت اختیار کی جائے بلکہ بُروں سے بچا بھی جائے، ان سے دوری بھی اختیار کی جائے کہ کہیں یہ نہ ہو کہ خوش رہے رحمن بھی راضی رہے شیطان بھی کی بچگانہ کوشش میں انسان کہیں کا نہ رہے۔

اس فتنے سے بچنے کا تیسرا اور آخری طریقہ یہ ہے کہ قرآن سے جُڑا جائے اورآخرت کو یاد رکھا جائے جیسا آیت نمبر اُنتیس میں کہا گیا:

''اور کہہ دو کہ (لوگو)یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی ۔''

اپنی آخری منزل یاد رہے گی تو دنیا کی بے ثباتی ہمیشہ ذہن میں رہے گی اور اعمال میں خود بہ خود بہتری آتی چلی جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہمیں اپنے پلے سے باندھ لینی چاہیے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا کہ انسان کے دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے جیسے لوہے کو زنگ لگتا ہے تو صحابہ نے پوچھا: اس کا علاج کیا ہے یا رسول اللہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کثرت سے موت کو یاد کرنا اور قرآن پڑھنا ۔اللہ ہم سب کو دورِ حاضر اور مستقبل کے تمام فتنوں سے محفوظ رکھے آمین ۔

اس تحریر میں اگر کوئی علمی اور شرعی کمی کوتاہی ہے تو اللہ مجھے معاف فرمائے اور آپ کے ذہن سے اسے حذف فرمائے۔ (آمین)

واللہ اعلم بالثواب

~!~قرآن کہانی~!~ اصحابِ کہف تحریر: علی منیر فاروقی بشکریہ: الف کتاب ویب الحمدللہ رب العالمین و نصلی علی رسولہ الکریم ۔...