بدھ, مئی 31, 2017

تدبر القرآن سورۃ البقرہ نعمان علی خان حصہ-44


تدبر القرآن
 سورۃ البقرہ
 نعمان علی خان 
 حصہ-44

فإذا قرأۃ القرآن فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم 


إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ (26) 
اس آیت کے درمیانی حصہ پہ غور کریں . وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُون
"اور رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں".
 میری ذاتی رائے ہے کہ یہاں کفر سے "کفرانِ نعمت" مراد ہے، یعنی وہ لوگ جو ناشکرے تھے، وہ لوگ جو حقائق کو دیکھ کر بھی شکر گزار نہیں ہوتے کہ کس طرح اللہ تعالٰی نے اپنی روٹین سے ہٹ کر مثال دی ہے.
قرآن پاک کی بہترین مثال سورۃ النور میں ہے:
﴿ اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴾
اس ساری آیت کے آخر میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں :
وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ
"اللہ تعالٰی لوگوں کے فائدے کے لیے مثالیں دیتے ہیں".
 اور پھر اللہ تعالٰی مزید گہری، پرسوچ مثالوں کا اضافہ کرتے ہیں. 
وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
اللہ تعالٰی پہلے ہی ہر چیز کے بارے میں جانتے ہیں. 
اللہ تعالٰی کو تو کسی مثال کی ضرورت نہیں، ضرورت تو ہمیں ہے. اللہ تعالٰی کو عام انسانوں کی سطح پر آ کر مثال دینی پڑ رہی ہے. تا کہ لوگ بہ آسانی بات سمجھ سکیں. اسی وجہ سے اللہ تعالٰی فرماتے ہیں : 
اِنَّا جَعَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ
اللہ تعالٰی نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کو سمجھ سکیں.
 اللہ نے اس کتاب کو ہم سب کے لیے قابل فہم بنایا ہے. زیرِ مطالعہ آیت میں بھی اللہ تعالٰی نے بات سمجھانے کے لیے وہ طریقہ اختیار کیا ہے جو ہمارے لئے مفید ترین ہے. اب کچھ لوگ ہیں کہ پھر بھی شکر گزار نہیں ہوتے اور اللہ تعالٰی کو شکایتی نظروں سے دیکھ رہے ہیں. اس سبق کو پڑھتے ہوئے شکایتی انداز اپنا رہے ہیں. 
ایسی صورت حال میں پھر ان سے بڑھ کر ناشکرا کون ہے؟ 
مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا
اللہ تعالٰی کا اس کو بطور مثال بیان کرنے سے کیا مقصود ہے؟ 
عربی کے طلباء غور کریں کہ اس ترجمے میں عموماً ایک غلطی کی جاتی ہے. "ھذا مثلاً " کا ترجمہ "ھذا المثل" کی طرح کر دیا جاتا ہے. دونوں میں بہت فرق ہے. اگر خیال نہ رکھا جائے تو ترجمہ بدل جاتا ہے. 
طلبہ اپنے استاد کے پاس آکر سوال کر سکتے ہیں،"سر! یہاں اس مثال سے کیا مراد ہے؟". یہ ایک جائز سوال ہے. مؤمن ایسے سوال پوچھ سکتے ہیں. ماذا اراد اللہ بھذا المثل؟؟ سوال کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ تب ہے جب آپ کا سوالیہ انداز تضحیک آمیز ہو. آپ اپنے استاد سے غلط انداز میں بات کریں. جب آپ کا مقصد تنقید برائے تنقید ہو. مثلاً 
اس طرح کے نکتہ کو بطور مثال کیوں بیان کیا گیا ہے؟ 
اس مثال کی یہاں کیا ضرورت تھی؟
اس کا یہاں کیا مقصد ہے؟ یہاں مسئلہ "رویے" کا ہے. ہمارے مذہب میں سوال کرنا منع نہیں ہے. اپنے انداز کو بہتر رکھتے ہوئے آپ کچھ بھی پوچھ سکتے ہیں. قرآن پاک بہت خاص ہے نہ صرف کلام میں بلکہ طرزِ کلام میں بھی. آپ محض سلام نہیں کہہ سکتے، ساتھ میں مسکرانا بھی ہے، اگر آپ غصیلی آواز میں سخت انداز سے "السلام علیکم" کہہ رہے ہیں، تو یہ کہیں سے بھی سلامتی کا پیغام نہ ہوا. اسی طرح اگر کسی نے حال پوچھا ہے تو جواباً بُرا سا منہ بنا کر "الحمدللہ" کہنا، کہیں سے بھی شکر گزاری نہیں کہلاتا. بھئ آپ نے اللہ کا شکر ادا کرنا ہے ذرا خوشی سے کیجئے. سلام کرتے ہوئے آپ دوسرے کو باور کرواتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ "حالتِ امن" میں ہوں. آپ کے ساتھ میرے سب معاملات درست ہیں. سلامتی ہو آپ پر. یہ ہے السلام علیکم کی اصل روح. لیکن اگر آپ کرخت لہجے میں سلام کہہ کر دروازہ پار کر گئے ہیں، تو یہ کہیں سے بھی سلامتی کا پیغام نہیں. گفتگو اور اندازِگفتگو دونوں لازم و ملزوم ہیں. جب ان اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کوئی شخص آپ کے پاس آتا ہے، کہ میں اس مثال کو سمجھ نہیں پا رہا،براہِ مہربانی مجھے ذرا اس کا مطلب سمجھا دیجیے. تو یہ ایک اچھا مثبت انداز ہے. 
تو منفی انداز کون سا ہے؟ جب سوال کرنے والا آکر کہے کہ اس مثال سے اللہ کا مقصد کیا ہے؟ اللہ نے یہ نکتہ کیوں اٹھایا ہے؟ 
يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا
"اس سے وہ بہت سوں کو بھٹکاتا ہے اور اسی سے وہ بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے".
ایک رائے یہ ہے کہ اللہ تعالٰی اس طرح کے "طرزِکلام" سے بہت سوں کو بھٹکاتا ہے. 
ایک اور نکتہءنظر یہ ہے کہ "اس مثال" یا "اس کتاب" یعنی قرآن پاک سے اللہ تعالٰی بہت سوں کو بھٹکاتا ہے. جتنا وہ لوگ جتنا قرآن پڑھتے جاتے ہیں اُتنا ہی اُن کی نفرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے. اس کی کیا وجہ ہے؟ اسکی وجہ ان لوگوں کا غلط طرزِعمل ہے.
اور بہت سے لوگوں کو وہ اس سے ہدایت دیتا ہے. یعنی اسی قرآن کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کو ہدایت مل رہی ہے،اور بہت سے لوگ گمراہ ہو رہے ہیں. یہ سب کس پر منحصر ہے؟ فرق کس چیز کا ہے؟ سارا فرق آپکی نظر کا ہے، اس عدسے کا ہے، جس سے آپ قرآن کو دیکھتے ہیں. سبحان اللہ.

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

سوموار, مئی 29, 2017

تدبر القرآن۔۔۔۔ سورۃ البقرہ۔۔۔۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔۔۔۔ حصہ-43

تدبر القرآن
 سورۃ البقرہ
 نعمان علی خان 
 حصہ-43

فإذا قرأۃ القرآن فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم 

کوئی بھی فلسفے کی کتاب اٹھا کے دیکھ لیں، فلسفہ کے کسی طالب علم سے پوچھیں کہ فلسفہ کا مضمون پڑھنا کیسا لگتا ہے؟ آپ اپنا سر میز پر دے مارتے ہیں کہ یہ آخر کہنا کیا چاہ رہا ہے؟ جانتے ہیں پی ایچ ڈی اسکالرز، تعلیمی ناظم، اپنی کتابوں کو جان بوجھ کر مشکل تر بناتے ہیں کیونکہ یہ ان کے دوسروں کو بتانے کا طریقہ ہے کہ وہ کس قدر علم والے ہیں، ان کی گفتگو کس قدر اعلی ہے. وہ بلا ضرورت مشکل الفاظ استعمال کرتے ہیں تب بھی جب انہیں اس کی ضرورت نہیں لیکن قرآن نے اس طریقے کو بالکل رد کر دیا. کہ اللہ نہیں شرماتا کسی چیز کی مثال دینے میں. جب آپ پڑھا رہے ہوں تو سوچیں کہ یہاں کس چیز کی مثال دی جائے کہ دوسرے آسانی سے سمجھ لیں. میرے پسندیدہ ترین اساتذہ میں ایک غیر مسلم خاتون ہیں جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا. میں نے اپنی پسند سے پری اسکول ماسٹرز کی جماعت میں اختیاری داخلہ لیا. وہ خاتون پی ایچ ڈی کر چکی تھیں، چھوٹے بچوں کو پڑھانے پہ، پہلے دن جب وہ کلاس میں آئیں تو ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کہانی تھی، شیر اور چوہے کے متعلق، ماسٹرز کلاس کے جوانوں کے لیے چھوٹے بچوں کی کہانی اٹھا کے لائیں تھی وہ، انہوں نے کتاب کھولی اور شیرنی کی طرح گرج کر پڑھا، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شیر تھا......... اور ہم سارے ڈر گئے کہ شیر آ گیا. وہ ہمیں بتا رہی تھیں کہ جب آپ سکھا رہے ہوں تو شرمانا نہیں چاہیے، سکھانے کے لیے آپ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں. اپنے طلباء کو کسی نئی دنیا کے سفر پر لے جائیں، یہ اللہ کی سنت ہے، *لَا يَسْتَحْىٖٓ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً* کوئی سی بھی مثال ہو چاہے وہ حقیر ہو، اللہ نہیں جھجکتا ایسی مثال دینے سے. *بَعُوْضَةً*، عموماً اس لفظ کا ترجمہ مچھر کے معنوں میں کیا جاتا ہے جو کہ غلط العام ہے، بَعَض مچھر کو کہتے ہیں، بَعُوْضَةً کا لفظ عربی کے لفظ بَعَض سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں مچھر کا چھوٹا سا ایک حصہ، یا مچھر کا بچہ، نہایت چھوٹا، حقیر، یہ وہ سب سے چھوٹا جاندار تھا جسے عرب اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے، تو اگر اللہ چاہے تو وہ بَعُوْضَةً کی بھی مثال دے سکتے ہیں. اگر اس مثال سے مفہوم واضح ہوتا ہے تو اللہ ضرور ایسی مثال دیں گے. 
*فَمَا فَوْقَهَا*
اور جو بھی اس کے اوپر ہو، 
ایک چھوٹا سا مچھر یا مچھر کا حصہ اور جو بھی اس سے اوپر ہو، اس بات کے دو مفہوم ہیں، ایک تو یہ کہ جو بھی *بَعُوْضَةً* سے ہجم میں بڑا ہو. اور قرآن میں آگے لفظ *زباب* کا استعمال ہے، یعنی مکھی، مکھی *بَعُوْضَةً* سے بڑی ہوتی ہے. قرآن آگے مکڑی کا ذکر کرتا ہے، اور اس سے آگے طیور، پرندوں کا، لیکن فوقھا کا استعمال یہ مثال واضح کرنے کے لیے ہے کہ اللہ، حقیر چیزوں کی مثال دینے میں نہیں شرماتا، اس سے بھی بڑی چیزیں ہیں جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ان کی مثال دی جا سکتی ہے اور بعوضة جو ایک حقیر چیز ہے جسے عرب اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں، تو یہاں اللہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ اگر مثال دو تو کسی ایسی چیز کی جسے لوگ دیکھ سکیں. اور جب اللہ کوئی مثال دیتے ہیں تو نہایت خوبصورت منظر کشی کرتے ہیں، جتنی اچھی آپ منظر نگاری کریں گے، اسی قدر اپنے ناظرین کو متوجہ رکھ پائیں گے. آپ استاد کے رتبہ پر ہوں تو اللہ کے نہایت قریب ہوتے ہیں.
 *فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ*
 تو جب ان سے پوچھا جائے جو ایمان لائے اور جو ایمان لانا چاہتے ہیں، فعل کا استعمال طلبِ فعل کے معنوں میں بھی ہے، یعنی وہ جو ایمان لائے اور وہ جو ایمان لانا چاہتے ہیں،ان سے پوچھا جائے تو ان کا جواب کیا ہو گا؟ 
*فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ
تو وہ جان لیتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے،
 حق، سچ کا دوسرا نام ہے، اولً، حق کو ہی سچ کہا جاتا ہے، دوم، حق کسی مقصد کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے.
  خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ
اللہ نے زمین و آسمان کو کسی مقصد کے تحت تخلیق کیا، زمین و آسمان کی تخلیق کی کوئی وجہ تھی، سوم، حق، صداقت کو بھی کہتے ہیں، اپنے حق کے لیے ڈٹ جانا،
 *اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ*
 کہ اللہ کا حق ہے کہ وہ یہ مثال دے،
 اور یہ مثال اسی لائق ہے کہ دی جائے، یہ مثال اسی موقع کے لیے ہے، ایمان والے جانتے ہیں کہ یہ کتاب حق ہے، قرآن کے الفاظ وہ چاہے سمجھ پائیں یا نہ سمجھ سکیں، مگر ان کا رویہ قرآن کے ساتھ ایک جیسا ہو گا، میں حروف مقطعات کے معنی نہیں جانتا، مگر یہ جانتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کوئی بھی بات بلا مقصد نہیں کہتے، یہ ہے ہمارا رویہ قرآن پڑھتے ہوئے، آپ کوئی بھی کتاب پڑھتے ہیں تو دو تین سطریں، پیراگراف چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ سمجھ نہیں آ رہی چھوڑو آگے چلو، کوئی لمبی ای میل یا پوسٹ ہو تو آپ شروع اور آخر کی ہی چند سطریں پڑھتے ہیں کہ مفہوم واضح ہو جائے لیکن قرآن، اسے آپ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ہیں، کچھ سمجھ نہیں بھی آتا تو آپ دعا کرتے ہیں کہ یا رب، میرا سینا کھول دے، کہ میں اسے سمجھ سکوں جو آپ نے کہا، یہ ہے ہمارا رویہ قرآن کے ساتھ، *مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ* ان کے رب کی طرف سے، اور قرآن پڑھتے ہوئے عاجزی اختیار کرتے ہیں، کہا جا سکتا تھا من معلھم، لیکن قرآن ہم ایک طالبِ علم کی طرح نہیں بلکہ ایک غلام کی طرح پڑھتے ہیں. ایک غلام کس طرح احکامات پر عمل پیرا ہوتا ہے، اور ایک طالب علم کیسے پڑھتا ہے؟ غلام اس لیے پڑھتا ہے کہ اسے اپنے مالک کو خوش کرنا ہوتا ہے، جبکہ طالب علم محض پاس ہونے کے لیے یا کامیابی کے لیے، غلام عاجزی سے پڑھتا ہے اپنے رب کے احکامات، جبکہ طالب علم میں انا ہوتی ہے، کیا ہے، نہیں پڑھنا، یہ کلاس میں بنک مار لیتا ہوں، ویسے بھی تھوڑا سا بھی پڑھ لوں تو پاس تو ہو ہی جاؤں گا، تو ایک غلام اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرتا ہے.

جاری ہے ----


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اتوار, مئی 28, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 28 مئی 2017


~!~ آج کی بات ~!~

جو آدمی صالح نیت کے ساتهہ عمل کرے اسی کا عمل اللہ تعالی کے یہاں مقبول هوتا ہے-
اور جس آدمی کی نیت صالح نہ هو اس کا بظاہر نیک عمل بهی خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرے گا-

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

جنت کے لوگوں کی خصوصیات-1


جنت کے لوگوں کی خصوصیات


سورت آل عمران 133_136
وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ
اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آ جاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو او ر وہ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے
أُولَـٰئِكَ جَزَاؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ
ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں (نیک لوگوں) کا اچھا نیگ (انعام، حصہ) ہے

کچھ خصوصیات جنتی لوگوں کی جو ﷲ پاک نے بیان کی ہیں درج ذیل ہیں :
۱۔ وہ لوگ جو اچھے برے حالات میں ﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں :
اچھے حالات میں خرچ کرنا شکرگزاری کو ظاہر کرتا ہے۔ لوگ تب تک تو شکرگزار رہتے ہیں جب تک انکے مالی حالات اچھے ہوں۔ مگر جب انکے حالات اچھے نہ ہوں وہ ڈرتے ہیں کہ اگر ابھی ﷲ کی راہ میں دے دیا تو ہمارا گزارا کیسے ہو گا ؟ جب حالات اچھے ہو جائیں گے تب ﷲ کی راہ میں خرچ کر دینگے۔ 
لیکن وہ لوگ جو سچ میں ﷲ سے ڈرتےہیں اُنکو معلوم ہے کہ ﷲ نے فرمایا ہے :
جو بھی ﷲ کا تقویٰ رکھے گا ﷲ اسکو وہاں سے عطا کریگا جہاں سے سوچا بھی نہ ہو گا۔ 
ﷲ پاک فرماتے ہیں جو بھی تم میرے لیے خرچ کرو گے وہ لازمی تمہیں واپس ملے گا۔ بلکہ دوگنا واپس ملے گا۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا۔
اس وعدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے جو بھی ﷲ کی راہ میں خرچ کرے گا اسکو ضرور دوگنا ملے گا اور وہ اپنی زندگی میں اسکا اثر دیکھے گا۔ 
اس لیے ہمیں ﷲ پر بھروسہ کرنا ہو گا۔ اور ﷲ کی راہ میں دینے سے ہمیں تقویٰ حاصل کرنے کے مزید مواقع ملیں گے۔
۲۔ وہ لوگ جو غصہ پی جاتے ہیں :
غصہ پی جانے سے کیا مراد ہے ؟ جب ہم کوئی چیز چبا رہے ہوتے ہیں تو سامنے والا ہمارا منہ ہلتا ہوا دیکھ سکتا ہے۔ مگر جب ہم کوئی چیز نگل جاتے ہیں۔ یا پی جاتے ہیں کسی کو ہمارا منہ ہلتا نظر نہیں آتا۔ 
ایسے ہی آپ غصے میں ہوں مگر آپ اپنے چہرے پر ظاہر ہی نہ ہونے دیں ۔ لوگوں کو محسوس ہی نہ ہو کہ آپ غصے میں ہیں۔ اور یہ آپکو فوراً اور مسلسل کرتے رہنا ہے ۔
۳۔ وہ لوگ جو خوشی سے دوسروں کو معاف کر دیتے ہیں :
معافی دو طرح کی ہوسکتی ہے 
آپ کسی کی بے عزتی کر کے بولیں کہ فلاں دن تم نے مجھے ایسے ایسے کہا تھا۔ مگر میں پھر بھی تمہیں معاف کر رہی ہوں ۔
یہ آپکا غرور ظاہر کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے ایسے کہنے سے آپکی لڑائی ہو جائے۔ سچی معافی وہ ہو گی جب آپ اکیلے میں اپنے لیے اور اس بندے کے لیے دعا کریں۔ 
یہ اللہ کی رحمت تھی کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے صحابہ کے ساتھ نرم دل تھے بےشک صحابہ کرام کبھی کچھ غلطی کر دیتے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  انہیں فوراً معاف کر دیتے تھے ۔
ﷲ پاک فرماتے ہیں :
انہیں معاف کر دو اور اپنے رب سے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو۔

جاری ہے ۔۔۔۔ 


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

ہفتہ, مئی 27, 2017

تدبر القرآن۔۔۔۔ سورۃ البقرہ۔۔۔۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔۔۔۔ حصہ-42


تدبر القرآن
 سورۃ البقرہ
 نعمان علی خان
 حصہ 42
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

جوں جوں وقت گزرتا گیا تو کسی دانشمند نے کہا کہ یہ کسی سورۃ جیسی کوئی اور سورۃ لے آنے کا چیلنج صرف اس وقت کے عرب اسکالرز کو دیا گیا تھا، وہ یہ چیلنج پورا نہ کر سکے تو بات ختم. کچھ علماء کے خیال میں ایسا ہرگز نہیں، قرآن کا یہ چیلنج آج کے دور کے لیے بھی ہے. میرا بھی یہی جواب ہے کہ کیونکہ قرآن ایک ہمیشہ زندہ رہنے والی کتاب ہے تو اس میں موجود چیلنج بھی ہمیشہ کے لیے ہے. کچھ عرصہ پہلے اسی چیلنج کے متعلق گفتگو ہو رہی تھی تو میں نے کہا کہ فرض کریں کہ ایک شہر میں بلکہ ایک شہر کے بھی چھوٹے سے جنوبی حصے میں بجلی چلی جائے،انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہ ہو، موبائل، سیٹلائٹ ہر طرح کا مواصلاتی رابطہ ممکن ہی نہ ہو. تمام طباعت شدہ کتب وہاں سے غائب ہو چکی ہوں، کوئی بائبل، کوئی آئینی کتاب کچھ بھی نہ ہو،تو وہ کون سا صحیفہ ہو گا جو ایک رات میں بنایا جا سکے گا؟...... قرآن...... کوئی مسئلہ ہی نہیں ہو گا. اور بائبل کی دوبارہ اشاعت میں کتنا وقت لگے گا؟ سوچیے، ایک شہر کا قانون لکھنے میں بھی بہت وقت لگ جائے گا. سبحان اللہ، آپ یہ تجربہ کہیں بھی کر کے دیکھ لیں. قرآن لوگوں کے دلوں میں موجود ہے.
 *بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ*
 ہے کوئی ایسی کتاب جو لوگوں کے دلوں میں اس طرح سے رقم ہو؟ کہ ایک رات میں اس کی اشاعت ممکن ہو سکے.؟ مجھے ایک ایسی کتاب دکھا دیں.
 *فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ
اس کے قریب قریب کوئی سورۃ بنا کے دکھا دو. حتی کہ لغوی، تاریخی، لسانوی معنوں میں، حفظ کے معنوں میں، ہے کوئی ایسی کتاب جس نے لوگوں کے دین و دل پر اس قدر گہرا اثر چھوڑا ؟ قرآن کو دوسری تمام کتب سے ممتاز کرنے کے لیے بہت سی کتابیں ہیں. ڈاکٹر فاضل صالح الحسان نے نہایت خوبصورتی سے اپنی کتاب التبعیر القرآن میں لکھا ہے. وہ فرماتے ہیں کہ ایک ماہر تیراک سمندر میں جاتا ہے اور سمندر کی تہہ میں جا کر اسے جو موتی ملتا ہے اور وہ کہتا ہے واہ، واؤؤؤؤ کیا خوبصورت موتی ہے، یہی وہ چیز ہے جو سمندر کو خوبصورت بناتی ہے. ایک دوسرا تیراک سمندر میں ڈبکی لگاتا ہے اور تین اور موتی نکال کر لے آتا ہے جو پہلے سے کئی زیادہ بڑے، اور خوبصورت ہیں، اور وہ پہلے تیراک سے کہتا ہے کہ نہیں، تم غلط تھے، یہ خوبصورت موتی جو میرے پاس ہیں، یہ بناتے ہیں سمندر کو خوبصورت، درحقیقت دونوں ہی غلط ہیں، بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو سمندر کو ممتاز کرتی ہیں، بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو اب تک دریافت بھی نہیں ہوئیں. سمندر کی تہہ میں لامحدود خزانے ہیں اور ایسی چیزیں جو شاید اب تک دریافت نہیں کی جا سکیں. تمام تر انسانوں کے بس کی بات نہیں کہ ان تمام رازوں کو جو سمندر کی تہہ میں پوشیدہ ہیں انہیں دریافت کر سکیں. سمندر اس قدر گہرا اور وسیع ہے کہ اس کے تمام راز جاننا قریباً ناممکن ہے. تو اللہ کی وحی کا موازنہ انہوں نے سمندر سے کیا ہے
 *قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَداً
اگر دنیا کے سارے سمندر روشنائی بن جائیں کہ اللہ کی باتیں بیان کر سکیں تو سمندر ختم ہو جائیں گے مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی.
 ہمارا ایمان ہے کہ یہ ہے قرآن کا چیلنج جو کوئی پورا نہ کر سکا اور نہ ہی کبھی کوئی پورا کر سکے گا.
دوسری طرف قرآن پہ تنقید ہمیشہ ہوتی رہے گی. چیلنج پورا کرنا تو ناممکن ہے تو تنقید نگار اس میں ناکام ہو کر پریشان ہوتے ہیں اور غصے میں قرآن میں کوئی ایسی چیز تلاش کرتے ہیں جس پر وہ اعتراض کر سکیں. کہ جی قرآن میں تو بہت اختلافات ہیں، قرآن میں تو کچھ ایسے لفظ ہیں جن کا مطلب ہی کوئی نہیں. تو اللہ اس سورۃ میں انہیں یہ جواب دیتے ہیں کہ 
*اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْىٖٓ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ *
*اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْىٖٓ* بےشک اللہ کوئی عار محسوس نہیں کرتا، *اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا* کہ وہ مثال دے، اب عربی کے طلباء جانتے ہیں کہ لفظ " مَثَلً" اسم نکرہ ہے، اور اگر آپ اس لفظ سے پہلے "مَا" لگاتے ہیں تو اسے مزید عام بنا دیتے ہیں، کوئی بھی مثال، چاہے وہ جیسی بھی ہو، آج کے دور میں بھی کوئی کہے کے بھائی میں بھوکا ہوں، کچھ کھانے کو دے دو، شیءالماء کچھ بھی دے دو مجھے تو بس بھوک مٹانی ہے، سو کھانے کے لائق اگر کچھ بھی ہو تو دے دو. دوسرے لفظوں میں اللہ نہیں شرماتا اور کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا کسی مثال دینے میں، یہ اللہ کی کتاب میں ایک تعلیمی اصول ہے. اور اسی سے ہم فلسفہ سیکھتے ہیں کہ اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے آپ کو اپنے comfort zone سے باہر آنا پڑتا ہے.اور تھوڑا فارمل ہونا پڑتا ہے. اگر آپ اپنے طلباء کی بہتری چاہتے ہیں تو آپ کو ان کے لیول پر آ کر بات کرنی پڑتی ہے. آپ کو مشکل الفاظ اور پیچیدہ جملوں کا استعمال نہیں کرنا ہوتا، کسی کو متاثر کرنے یا کسی پر اپنی تعلیمی قابلیت کا رعب جھاڑنے کے لیے کہ آپ کے پاس مشکل الفاظ کا کس قدر ذخیرہ ہے. اور کتنی قسم کی کتابوں سے آپ اقتسابات بتا سکتے ہیں یہ سکھانے کا صحیح طریقہ نہیں. استاد کا کام ہے کہ وہ اس طرح پڑھائے کہ طلباء سمجھ سکیں. اللہ عزوجل کے پاس ہم سے کہیں زیادہ علم ہے، اور مشکل الفاظ کا ذخیرہ بھی، اللہ کے پاس کسی بھی سائنسدان سے زیادہ علم ہے، وہ بہتر جاننے والا ہے، غیب سے واقف ہے، لیکن اللہ تعالٰی قرآن کے لیے کس طرز کا انتخاب کرتے ہیں؟
  ولقد یسرنا القرآن، اس نے قرآن کو آسان بنا دیا، بعض اوقات آپ عقیدہ پر کوئی کتاب پڑھتے ہیں، اس میں ماتدری، امام رازی، رحل امانی، الوسی، اور جانے کیا کیا پڑھتے ہیں اور یہ اس قدر مشکل لگتا ہے کہ آپ اپنے سر کے بال نوچنے لگتے ہیں. اور اللہ تعالٰی جب کلام کرتے ہیں تو یہ کلام اس قدر واضح، سادہ اور آسان ہے، 

جاری ہے.

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

استقبالِ رمضان-22


استقبالِ رمضان-22

بسم اللہ
اللَّهُمَّ بَلِّغْنا رَمَضَانَ وَأَعِنَّا عَلَى صِيَامِهِ وَقِيَامِهِ عَلَى الوَجْهِ الّذِي يُرْضِيكَ عَنَّا   
 رَبِّ یَسِّرْ وَلآ تُعَسِّر وَ تَمِّمْ بِا الْخَیَّر   

 السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

1- آج کی مسنون دعا:
دعائے نور

نبي رحمت حضرت محمد صلى اللہ عليہ وسلم سے اس پيارى دعا كا پڑھنا ان مواقع پر ثابت ہے :
1. رات كو نيند سے جاگنے پر، 
2. وتر كے سجدوں ميں،
3.قيام الليل (تہجد) ميں،  

اللهُمَّ اجْعَلْ فِى قَلْبِى نُورًا وَفِى سَمْعِى نُورًا وَفِى بَصَرِى نُورًا وَعَنْ يَمِينِى نُورًا وَعَنْ شِمَالِى نُورًا وَأَمَامِى نُورًا وَخَلْفِى نُورًا وَفَوْقِى نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَاجْعَلْ لِى نُورًا وَعظِّمْ لِى نُورًا

ترجمہ: اے اللہ پیدا كر دے ميرے دل ميں نور، اور ميرے كان ميں نور اور ميرى آنکھ ميں نور اور ميرے داہنے نور، اور ميرے بائيں نور، اور ميرے آگے نور اور ميرے پیچھے نور، اور ميرے اوپر نور اور ميرے نيچے نور، اور ميرے واسطے پیدا كردے نور اور بڑا كر دے ميرے واسطے نور ۔
(متفق علیہ)

2- آج کا مسنون عمل:
بیت الخلاء جاتے وقت سر ڈھک کر جائیں۔

3- جب کسی سے ملاقات کریں تو اس سے دعا کے لیے کہیں:
حضرت عمر ابن الخطاب سے فرماتے ہیں:" میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے عمرہ کے لیے جانے کی اجازت مانگی  تو مجھے اجازت دی اور فرمایا اے میرے بھائی  ہمیں بھی اپنی دعا میں یاد رکھنا ہمیں بھول نہ جانا  حضور نے یہ ایسی بات فرمائی کہ مجھے اس کے عوض ساری دنیا مل جانا پسند نہیں۔ (ترمذی)

''حضرت ابوالدرداء ؓ سے روایت ہے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرے، تو فرشتہ کہتا ہے'' یہ دعا تیرے حق میں بھی قبول ہو۔''

4- محاسبہ:
کیا ہم بہت زیادہ بحث کرتے ہیں؟
سیدنا اَبو اُمامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اقدس صلی اللی علیہ وسلم  نے اِرشاد فرمایا:
’’میں اس شخص کے لئے جنت کی ایک طرف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جو حقدار ہو نے کے باوجود لڑائی جھگڑا چھوڑ دیتا ہے، اور اس شخص کے لئے جنت کے درمیان میں ایک گھر کا ضامن ہوں جو مزاح کے طور پر بھی جھوٹ بو لنا چھو ڑ دیتا ہے، اور جنت کے اعلیٰ دَرجہ میں اُس شخص کیلئے ایک گھر کا ضامن ہوں جو اپنے اخلاق کو اَچھا کر لیتا ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد)

5- بونس:
قرآن کا کویہ حصہ یاد (حفظ) کرنے کی کوشش کریں، چاہے وہ ایک آیت ہو:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
" قیامت کے دن صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا کہ تم پڑھتے جاؤ اور ترقی کی منازل طے کرتے جاؤ اسی طرح ترتیل سے پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں پڑھتے تھے۔ تمہاری منزل وہ ہو گی جہاں تم آخری آیت تلاوت کرو گے"۔ (احمد، ابن ماجہ)

رمضان کا ہدف: کوئی سورت حفظ کرنے کے لیے ایک ٹارگٹ بنائیں۔

اچھی بات آگے پہنچانا بھی صدقہ جاریہ ہے
دعاؤں میں یاد رکھیں
جزاک اللہ



تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

جمعہ, مئی 26, 2017

شکر ہے تیرا خدایا



شکر ہے تیرا خدایا، میں تو اس قابل نہ تھا
تُو نے اپنے گھر بلایا، میں تو اس قابل نہ تھا

اپنا دیوانہ بنایا ،میں تو اس قابل نہ تھا
گِرد کے کعبے کے پھرایا، میں تو اس قابل نہ تھا 

خاص اپنے در کا رکھا تُو نے اے مولا مجھے
 یوں نہیں در در پھرایا، میں تو اس قابل نہ تھا

مدتوں کی پیاس کو سیراب تو نے کر دیا 
جام زم زم کا پلایا، میں تواس قابل نہ تھا

میری کوتاہی کہ تیری یاد سے غافل رہا
پر نہیں تُو نے بھلایا، میں تو اس قابل نہ تھا

بھا گیا میری زباں کو ذکر"الا اللہ" کا
یہ سبق کس نے پڑھایا، میں تو اس قابل نہ تھا

مجھ کو بھٹکانے لگے تھے راستے کے پیچ و خم 
قافلے سے لا ملایا میں، تو اس قابل نہ تھا

شکر رب کا جس نے مجھ کو بے حسی کے باوجود
خوابِ غفلت سے جگایا، میں تو اس قابل نہ تھا

میں کہ تھا بے راہ تو نے دستگیری آپ کی
تو ہی مجھ کو در پہ لایا ،میں تو اس قابل نہ تھا

تیری رحمت، تیری شفقت سے ہوا مجھ کو نصیب
گنبدِ خضرا کا سایہ، میں تو اس قابل نہ تھا

بارگاہِ سیدِ کونین ﷺ میں آکر نفیسّ
سوچتا ہوں کیسے آیا، میں تو اس قابل نہ تھا

میں نے جو دیکھا سو دیکھا بارگاہ اقدس میں
اور جو پایا سو پایا ،میں تو اس قابل نہ تھا

نعمتیں دی ہیں مری اوقات سے بڑھ کر مجھے
شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

رمضان ایک عبادت، ایک پیغام ... حصہ ہفتم


رمضان ایک عبادت، ایک پیغام ... حصہ ہفتم
مصنف: حامد کمال الدین

قارئین !
روزہ رکھ کر بھوکے اور نادار مسلمانوں کااحساس ہوجانا بھی روزے کاایک مقصد ہے ۔صدقہ دراصل اسی احساس کانتیجہ ہوتا ہے۔ مسکینوں کو کھلانا اس مہینے کاایک بہترین عمل ہے۔ مساکین میں رشتہ داروں ، پڑوسیوں اور محلہ داروں کا سب سے بڑھ کرحق ہے۔ پھر ان میں سے جو زیادہ نیک اور اللہ سے زیادہ ڈرنے والے ہوں انکااور بھی بڑا حق ہے۔ اگر کوئی نیکی میں کم ہے تب بھی آپ کے صدقہ و انفاق کے پیچھے اسے مسجد میں لے آنے کا مقصد ، کوشش اور دعا ہونی چاہیے۔ کچھ بھی پکائیں اس کاکچھ حصہ غریب پڑوسی یا پڑوسن کونکال کربھیج دیا کریں۔ کسی کو کچھ دیں تو عزت اور احترام سب سے پہلے دیں۔ جو غریب کو کچھ بھی نہ دے سکتا ہو وہ محبت اور پیارتو دے سکتا ہے۔ یہ نیکی بھی چھوٹی تو نہیں! مسلمان کا مسلمان کومسکرا کر ملنا بھی اللہ کے رسول نے کہا ہے کہ صدقہ ہے۔
بڑی بڑ ی افطاریاں عموما پیسے کی نمائش ہوتی ہیں۔یک مالدار روزہ کھلوانے کی نیکی کرنے پر آئے تو بھی مالداروں کونہیں بھولتا، یاد توبس غریب نہیں رہتے۔
رمضان بھی اگر امیر اور غریب مسلمانوں میں قربت اور اپنائیت پیدا نہ کرسکا تو پھر اس کاکب موقعہ ہے؟ ہمارا مطلب یہ نہیں کہ کھاتے پیتے عزیزوں اور دوستوں کوروزہ افطار کروانے میں کوئی حرج ہے۔ مگرہماری بات کایہ مقصد ضرور ہے کہ اصل نیکی تو بس غریب کاپیٹ بھرنا ہے۔اگر آپ یہ اصل کام کررہے ہوں توپھر کسی کو بھی کھلانے میں کوئی حرج نہیں۔
دوستو! انسان کی موج پسند طبیعت عبادت کو عادت اور رسم بنا لینے پر تیار رہتی ہے۔ نیکی کو دیکھتے ہی دیکھتے مشغلے میں تبدیل کرلیتی ہے۔  سنجیدگی میں شغل اور دل لگی کاپہلو جلد ہی نکال لیتی ہے۔ خواہ وہ افطار کا معاملہ ہو یا آخری راتیں جاگنے کا۔  بھائیو اور بہنو! عادت اور عبادت میں شعورواحساس کا ایک  لطیف فرق ہی تو ہوتا ہے۔ بس اس فر ق کو پورا مہینہ یاد رکھیئے گا۔ عبادت کے مہینے میں بس عبادت ہی ہونی چاہیے۔عبادت نام ہے ایک بڑی ہستی کی محبت اور اس سے خوف رکھنے کا،نہ اس محبت کی کوئی حد ہے اورنہ اس خوف کی۔ بھائیو رمضان بھر بلکہ زندگی بھر ہرعمل کے پیچھے اس جذبے اور اس کیفیت کو ٹٹولتے رہیے گا!

الھم انک عفو تحب العفو فاعف عنا

اﷲ اَکبراﷲ اَکبر، لاالہ الا اﷲ، واللہ اَکبر اﷲ اکبر، وللہ الحمد

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تدبرِ القرآن۔۔۔ سورہ الکھف ۔۔۔۔۔ استاد نعمان علی خان۔۔۔۔۔ حصہ-3

تدبرِ القرآن
سورہ الکھف
استاد نعمان علی خان
حصہ-3

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا - 18:10

"جب پناہ لی چند نوجوانوں نے غار میں تو کہنے لگے ہمارے رب عطا فرما ہمیں اپنی جانب سے رحمت۔ اور مہیا کر ہمیں ہمارے معاملات میں درستی"

وہ نوجوان غار میں کس مقصد سے گئے تھے؟
اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے۔
"اور وہ کہنے لگے "ہمارے رب عطا فرما ہمیں اپنی جانب سے رحمت۔ اور مہیا کر ہمیں ہمارے معاملات میں درستی"
یعنی، ہمارے معاملات درست فرمادے، اور ہماری رہنمائی فرما اس تک جو بہترین ہے۔
یہ نوجوان تھے، جوان لڑکے، ایک گروہ تھا لڑکوں کا جنہوں نے اپنا گھر چھوڑدیا تھا، اپنا شہر چھوڑدیا تھا، کیوں؟ صرف اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے۔ کیونکہ اس وقت کے بادشاہ نے اعلان کردیا تھا کہ جو کوئی ایمان لائے گا، بت پرستی سے دستبردار ہوگا اس کا قتل کردیا جائے گا۔ لوگوں کو مارا جارہا تھا۔ سو ایک طرف وہ مرنا نہیں چاہتے تھے اور دوسری طرف وہ اپنے ایمان پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ تو پھر انہوں نے کیا کیا تھا؟
انہوں نے اس جگہ کو چھوڑدیا تھا اور ایک غار میں چھپ گئے تھے۔
اپنا موازنہ ان نوجوانوں سے کرتے ہیں،
اگر اللہ نے انہیں ہدایت دی تھی، کیا وہ ہمیں ہدایت دے سکتا ہے؟ ہاں!
ہمارے حالات ان کی طرح بدترین نہیں ہیں۔
ان کی زندگی میں کیا ہورہا تھا؟
ان کی ترجیح کیا تھی؟
ان کا شوق کیا تھا؟
ان کا مقصد کیا تھا؟
اور میرا مقصد کیا ہے؟
میں کونسی چیز کی حفاظت کرنے کے لیے بھاگ رہا ہوں؟ کیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں؟
جب انسان بلوغت کو پہنچ جاتا ہے، تو اس کے اعمال لکھنا شروع کردیے جاتے ہیں، اور اس کو جزا یا سزا ان ہی اعمال کے مطابق ملے گی۔
تو اگر ہم جوان ہیں (ٹین ایج میں ہیں یا اس سے کچھ زیادہ) اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے پاس گناہ کرنے کا لائسنس ہے۔
ہم اب بڑے ہوچکے ہیں، ہمارے اعمال اب لکھے جارہے ہیں۔
اُن نوجوانوں کی طرف دیکھیں، وہ کیا کر رہے تھے؟ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے دوڑ رہے تھے۔
اور آج کل کیا ہوتا ہے؟
دوسرے لوگ ہمارے ایمان کی حفاظت کے لیے دوڑ رہے ہوتے ہیں، وہ ہماری منتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم اپنے ایمان کو بچالیں۔
جوانی ہماری زندگی کا بہت اہم حصہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس میں ہمیں سب سے زیادہ محنت کرنی چاہیے۔ ہم اسی وقت میں سیکھتے ہیں، کیونکہ جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی جاتی ہے اس کا دماغ کمزور ہوجا چلا جاتا ہے، جسم کمزور ہونے لگ جاتا ہے، بہت سی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، آپ کوئی کام اپنی پسند سے، آرام سے نہیں کرسکتے۔
اس وقت، آپ کے پاس آزادی ہے، آپ جو چاہے کرسکتے ہیں۔ اسلیے ہر دن ہر رات کی قدر کریں۔ اس انتظار میں مت بیٹھیں کہ میں بیس سال کا ہوجاؤں یا تیس سال کا ہوجاؤں تو کروں گا۔ ابھی شروعات کریں۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا:
"اللہ تعالی اُس دن سات لوگوں کو سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کسی کا سایہ نہ ہوگا۔۔اور ان میں سے ایک وہ ہے جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری۔"
ایک اور حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ
"بےشک تمہارا رب خوش ہے اس نوجوان سے جس میں صبوہ نہیں"
صبوہ کیا ہے؟ یہ مَیْل اِلَی اللَھْو ہے۔ جھکاو، کسی شے کا لگاو، اس کی طرف جھکنا۔
جیسے، موج مستی کرنا، نفس کی خواہشات کو پورا کرنا، جوانی کا جوش اور جذبہ۔ یہ صبوہ ہے۔
سو وہ شخص جس کا خود پہ قابو ہے۔ جو پارٹی کرسکتا تھا، دوستوں ساتھ گھوم پھر سکتا تھا، مگر اس نے وہ وقت قرآن پڑھنے میں لگایا۔ اللہ ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں، کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے آس پاس کتنی ایسی چیزیں ہیں جو ہمیں گمراہ کرسکتی ہیں۔
سو اگر کوئی ان چیزوں کے مقابلے میں اللہ کی مانتا ہے، یہ اللہ کو خوش کرتا ہے۔
اگر آپ حجاب کرتی ہیں، فجر کے لیے اُٹھتے ہیں، اللہ سب جانتا ہے، اور وہ خوش ہے۔ ایسا کبھی مت سوچیں کہ وہ بےخبر ہے ہمارے ان اعمال سے۔
اگر ہمارے اردگرد موجود لوگ ہماری محنت کو نہیں دیکھتے تو کیا ہوا۔ اللہ دیکھ رہا ہے نا۔ ہم ویسے بھی یہ سب اُسی کے لیے کر رہے ہیں۔
سو اللہ نے ان کی دعا سن لی اور انہیں بچا لیا۔
وہ کیسے؟

اللہ تعالی نے ان کی دعا سن لی۔۔اور ایک معجزے کے ذریعے انہیں اس مشکل سے بچا لیا۔۔
اللہ رب العزت نے انہیں اپنی طاقت کے ذریعے ایسی نیند سُلا دیا جس سے وہ تب تک نہ جاگے جب تک اللہ نے نہ چاہا۔۔ کوئی انہیں تلاش نہ کر سکا۔۔ ان کی جان اور ان کا ایمان دونوں محفوظ رہے۔۔
یہ سب کیوں ہوا؟؟ اللہ تعالی نے ان کی ایسی مدد کیوں کی؟؟
کیونکہ انہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے قربانی دی تھی۔
اور جو لوگ اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہیں، جو لوگ قربانیاں دیتے ہیں، اللہ انہی کے لیے معجزے کرتا ہے۔
استاد نعمان علی خان نے اس قصے کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نوجوان جو اللہ کی راہ میں قربانیاں دیتے ہیں، وہ جو اپنے دین کی حفاظت کرتے ہیں، خود کو شر سے بچاتے ہیں، ان نوجوانوں کے لیے معجزے ایسے ہوتے ہیں جیسے اگر میں اپنا موبائل گرادوں اور وہ زمین پہ جا گِرے اور دیکھنے والے شاک نہ ہوں کیونکہ ظاہر ہے اگر میں گراوں گا تو نیچے ہی گرے گا۔۔ عام سی بات ہے ایسا ہی ہوتا ہے۔۔
تو اُن نوجوانوں کے لیے بھی معجزے ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کوئی عام سی بات ہو۔۔
اگر ہم قدم اُٹھائیں گے، کوشش کریں گے، اللہ سے مدد طلب کریں گے تو اللہ تعالی ہمارے لیے آسانی پیدا کردیں گے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

استقبالِ رمضان-21

استقبالِ رمضان-21 
بسم اللہ 
اللَّهُمَّ بَلِّغْنا رَمَضَانَ وَأَعِنَّا عَلَى صِيَامِهِ وَقِيَامِهِ عَلَى الوَجْهِ الّذِي يُرْضِيكَ عَنَّا 
  رَبِّ یَسِّرْ وَلآ تُعَسِّر وَ تَمِّمْ بِا الْخَیَّر  

 السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  

1- آج کی مسنون دعا:
'' اللَّهُمَّ ! قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ (أَوْ تَجْمَعُ) عِبَادَكَ ''
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بستر پر تشریف لے جا تے تو اپنا دا یا ں ہا تھ اپنے رخسا ر مبارک کے نیچے رکھتے، پھر ( یہ دعا ) پڑھتے :
 '' اللَّهُمَّ ! قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ (أَوْ تَجْمَعُ) عِبَادَكَ '' 
اے اللہ ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھا ئے گا یا جمع کرے گا۔ (سنن ابن ماجہ)

2- آج کا مسنون عمل:
سورہ الکھف کی تلاوت کریں:
جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھنے کی فضیلت میں نبیﷺ سے صحیح احادیث وارد ہیں جن میں سےکچھ کا ذکرذیل میں کیا جاتا ہے۔

’’فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے: "جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اسے کے لیے دوجمعوں کے درمیان نورروشن ہوجاتا ہے"۔ (بقیھی)
’’ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : "جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے قدموں کے نیچے سے لیکر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور اس دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کردیۓ جاتے ہیں ۔"(الترغیب والترھیب)

3- اپنے چھوٹے بہن بھائیوں/رشتہ دار/دوست سے محبت کا اظہار کریں:
اقرع بن حابس نے دیکھا کہ آپ عليه السلام حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چوم رہے ہیں، یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ حضور عليه السلام میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو نہیں چوما، آپ عليه السلام نے فرمایا: جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ (بخاری)

4- محاسبہ:کیا ہمیں ہقین ہے کہ اللہ ہماری دعائیں قبول کرے گا؟ یا کیا ہم نیم دلی سے دعا کرتے ہیں، اس شبہ کے ساتھ کہ شاید ہماری دعا قبول نہ ہو؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اور اگر (اے محمد) میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو یقیناً میں(اُن کے ) قریب ہوں ،جب (کوئی)مجھے پکارتا ہے (دُعا کرتا ہے ، سوال کرتا ہے) تو میں دُعا کرنے والے کی دُعا قُبُول کرتا ہوں ، لہذا (سب ہی) لوگ میری بات قُبُول کریں اور مجھ پر اِیمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پا جائیں۔ (سورہ البقرہ-186)
رسول اللہ ﷺ اپنے رب کا فرمان ذکرکرتے ہیں کہ رب تعالیٰ نے فرمایا:
’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے۔‘‘ [بخاری: مسلم: ]

دعا کے معنی پکارنے اور بلانے کے ہیں . مطلب یہ ہے کہ اپنی حاجت کے لیے الله تعالیٰ کو پکارا جائے تا کہ وہ اس ضرورت کو پوری کرے۔

حدیث میں آتا ہے جو شخص الله سے سوال کرتا ہے تو اسکو اللہ تعالیٰ تین چیزوں میں سے ایک ضرور دیتا ہے
(١)یا تو اسکی مراد پوری کر دیتا ہے.
(٢) یا اس سے بہتر چیز دیتا ہے (دنیا و آخرت میں )
(٣) یا اس کے زریعے سے آنے والی کوئی بری مصیبت دور کر دیتا ہے

دعا کی قبولیت کے لیے یہ شرط بھی ہے کہ بندہ جلدی نہ کرے رسول الله نے فرمایا بندے کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک بندہ جلدی نہ کرے اور اسکا جلدی کرنا یہ ہےکہ بندہ کہے میں دعا کرتا ہوں اور دعا قبول نہیں ہوتی (مسلم)

اس رمضان کودعا کا مہینہ بنائیں۔

5- بونس:
آج اپنے لیے ہدف مقرر کریں،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کا: پر عزم رہیں

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘ [ مسلم ]
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کردیتا ہے۔‘‘ (صحیح الجامع)

روزِ قیامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب وہی ہو گا جو سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجتا تھا ۔(ترمذی)
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی بعض خصوصیات ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا :
’’ لہذا تم اس دن مجھ پر زیادہ درود بھیجا کرو ، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ ( قبر میںآپ کا جسدِ اطہر ) تو بوسیدہ ہو جائے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر یہ بات حرام کردی ہے کہ وہ انبیا کے جسموں کو کھائے۔‘‘ [ ابو داؤد :۱۰۴۷ ۔ وصححہ الالبانی ]

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ .إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ. إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔۔۔۔

اچھی بات آگے پھیلانا بھی صدقہ جاریہ ہے
دعاؤں میں یاد رکھیں
جزاک اللہ

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

جمعرات, مئی 25, 2017

استقبالِ رمضان-20


استقبالِ رمضان-20

بسم اللہ

اللَّهُمَّ بَلِّغْنا رَمَضَانَ وَأَعِنَّا عَلَى صِيَامِهِ وَقِيَامِهِ عَلَى الوَجْهِ الّذِي يُرْضِيكَ عَنَّا 
 رَبِّ یَسِّرْ وَلآ تُعَسِّر وَ تَمِّمْ بِا الْخَیَّر 

 السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

1- آج کی مسنون دعا:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي ‏

اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتاہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے، اور اپنی شرمگاہ کے شرسے۔ (ترمذی)

2- آج کا مسنون عمل:
زیتون کا تیل استعمال کریں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے: 
"زیتون کے تیل کو کھاؤ اور اس سے جسم کی مالش کرو، کہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔ (شمائل ترمذی)

3- کسی کی مشکل میں اس کی مدد کریں:
حضرت سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی ہلاکت میں ڈالتا ہے جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے تو اللہ اس کی ضرورت پوری فرمائے گا اور جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی سے کوئی مصیبت دور کرے گا تو قیامت کے دن اللہ عزوجل اس کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے گا اور جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔" (صحیح مسلم)

4- محاسبہ:
ہم اللہ سے کتنی بار توبہ کرتے ہیں؟
اللہ کا کوئی ایسا بندہ نہیں جس کے دل و دماغ دنیا کی ہمہ ہمی، چمک دمک اور رنگ رلیوں سے متاثر نہ ہوتے ہوں، نفسانی خواہشات، دنیا کی مختلف لذتیں اور پھر شیطانوں کے مختلف جہتوں سے تسلسل کے ساتھ حملے ہیں جن کے سبب ولی صفت انسان بھی غفلت کا شکار ہوکر گناہ اور قصور کربیٹھتا ہے، لیکن جب وہ ندامت، شرمندگی اور اللہ کے نزدیک جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے اور اپنے کو مجرم اور خطاوار سمجھ کر معافی اور بخشش مانگتا اور آئندہ کے لیے توبہ کرتا ہے تواس کے سارے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اور وہ اللہ کی نظر میں اتنا محبوب اور پیارا انسان ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو، قرآن مجید میں توبہ و استغفار کرنے والے بندوں کے لیے صرف معافی اور بخشش ہی کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت و محبت اور اس کے پیار کی بشارت سنائی گئی ہے،
 ارشاد باری ہے
 ”انَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ ویُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ“ (بقرہ، آیت ۲۲۲)
 ”بے شک اللہ محبت رکھتا ہے توبہ کرنے والوں سے اور محبت رکھتا ہے پاک صاف رہنے والوں سے۔
ایک موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے موٴمن بندہ کی توبہ سے اتنا خوش ہوتا ہے جیسا کہ وہ سوار جس کی سواری کھانے، پانی کے ساتھ کسی چٹیل میدان میں کھوجائے اور وہ مایوس ہوکر ایک درخت کے نیچے سوجائے، جب آنکھ کھلے تو دیکھے کہ وہ سواری کھڑی ہے ۔ (صحیح مسلم)

5- بونس:
 "لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللہ" کثرت سے پڑھیں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'لا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ' جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

اچھی بات پھیلانا بھی صدقہ جاریہ ہے
دعاؤں میں یاد رکھیں
جزاک اللہ



تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تدبر القرآن۔۔۔۔ سورۃ البقرہ۔۔۔۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔۔۔۔ حصہ- 41

تدبر القرآن
 سورۃ البقرہ
نعمان علی خان 
 حصہ- 41

فإذا قرأۃ القرآن فاستعذ باللہ من اشیطان الرجیم 

*إِنَّ اللَّـهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِهَـٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ ﴿٢٦﴾ الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّـهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّـهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ﴿٢٧﴾ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿٢٨﴾*

الله تعالی پچھلی آیات میں جنت کے بیان کے بعد ان آیات میں قرآن کی حقیقت کی طرف واپس آتے ہیں. جیسے کہ پچھلی آیات میں الله تعالی نے فرمایا تھا 

*وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِه وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٣﴾*
ہم نے جو اپنے بندے پر نازل کیا اگر اپ اس بارے میں کسی بھی قسم کے شبہ میں ہیں تو اس سے ملتی جلتی ہی کوئی چیز لے آئیں.

ایک طرف تو الله سبحان و تعالی یہ چیلنج دیتے ہیں کہ اول تو آپ لوگ قرآن جیسا کچھ لا نہیں سکتے کیونکہ یہ تو جانی مانی بات ہے کہ وہ ایسا اگرچہ کچھ پیدا نہیں کر سکتے مگر پھر بھی وہ قرآن پر حملہ کرنے سے تو باز نہیں آئیں گے. اور لوگوں کی یہ بھی ایک پالیسی ہے کہ اگر وہ کسی بات کا جواب نہیں دے سکتے تو الٹا اسی پر حملہ کر دیتے ہیں، اسی پر تنقید شروع کر دیتے ہیں. اور یہ دوسرا طریقہ آج بھی رائج ہے جو جانتے ہیں کہ وہ قرآن جیسا تو کچھ لا نہیں سکتے مگر ہاں جو قرآن میں موجود ہے اس پر تنقید ضرور کر سکتے ہیں، اس کا مذاق ضرور اڑا سکتے ہیں اور وہ یہ سب آج بھی کر رہے ہیں. 

میں آپ سے اپنا ایک تجربہ شئیر کرنا چاہوں گا یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں نے عربی زبان سیکھنا ابھی شروع ہی کی تھی تب انٹرنیٹ کا استعمال عام نہیں ہوا تھا. 
جارج ٹاؤن یونیورسٹی، جہاں عربی زبان میں بیچلرز اور ماسٹر کروائے جاتے تھے، کے ایک طالبعلم نے انٹرنیٹ پر ایک اشتہار دیا کہ "ہم نے اپنے کلاس پراجیکٹ میں ایک قرآن جیسے سورہ لکھ ڈالی ہے." دیکھنے میں یہ آسمانی الفاظ ہی لگتے تھے اور پڑھنے میں بھی ایسے لگتا تھا جیسے قرآن کا کوئی حصہ ہو. ایسا پہلے بھی بہت بار ہو چکا ہے کہ لوگ قرآن کے چیلنج میں کچھ لکھ لاتے ہیں اور کہتے ہیں وہ کامیاب ہو گئے. ایسے لوگوں کے پاس گواہ بھی ہوتے ہیں جیسے ان یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھی طلباء و اساتذہ وغیرہ. تو بنیادی طور پر ایسے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن کے چیلنج کے جواب میں سورہ لکھ ڈالی اور ہمارے پاس گواہ بھی ہیں. یہ تو کوئی مشکل کام نہ تھا.

بنیادی مسئلہ تو یہ ہے کہ قرآن پاک نے صرف یہ ایک چیلنج تونہیں دیا کہ عربی میں کچھ لکھ لاؤ یا قرآن کے طریقے پر کچھ لکھ لاؤ. اصل میں تو قرآن ایک ساتھ اتنے پہلوؤں کو لے کر چلتا ہے کہ ایسا کرنا کسی انسان کے بس کی بات ہی نہیں. میں آپ کو اس کی کچھ مثالیں دیتا ہوں تاکہ آپ کو سمجھنے میں آسانی ہو کہ لوگ تنقید پر کیوں اتر آتے ہیں. آپ کو کسی بھی چیز پر تنقید کے لیے پہلے اس چیز کا اچھے سے مطالعہ کرنا پڑتا ہے اپنی توانائی خرچ کرنی پڑتی ہے۔ پرانے کام ہر وقت لگانے سے کچھ نیا ایجاد کرنا کہیں زیادہ آسان کام ہے. اور لوگ تنقید پر جاتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ اس جیسا کچھ لا تو سکتے نہیں. 

میں آپ کو کچھ ایسی باتیں بتاتا ہوں جن پر پہلے زیادہ بات نہیں کی گئی. رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر 40 سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی اور قرآن کے مکمل نزول کا وقت تئیس سال کا ہے جو ایک ایسے انجان جزیرہ پر نازل ہوا جہاں کسی تہذیب کا کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں تھا نہ ہی کوئی ریاست تھی. خیموں میں، کچے گھروں میں رہنے والے دیہاتی لوگ بستے تھے جن کی زندگیوں میں کوئی خاص ہلچل بھی نہیں تھی. اب اصولاً ایسی جگہ پر قرآن کا ایک عام انسان کے ذریعے نزول کے باعث اس میں وہ عالمگیریت کا عنصر نہیں ہونا چاہیے تھا جو کہ ہے اور نہ ہی ایسا اثر ہونا چاہیے تھا کہ پورا براعظم ہل جائے جو کہ ہوا.

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم مکہ میں صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھ کر انہیں الله تعالی کے وعدوں کے بارے میں بتاتے تھے جیسے کہ رومیوں اور فارسیوں کی حکومتوں کا گرنا اور مسلمانوں کا فاتح ہونا اور اسلام کا ہر جگہ پھیلنا واقع ہو گا تو وہ کیا منظر ہو گا. ان اٹھارہ، انیس سالہ نوجوانوں کی کیا سوچ ہو گی جو کعبہ میں نماز پڑھنے پر مار بھی کھا لیتے ہیں پر کبھی اف نہیں کرتے. جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم سخت دھوپ میں بیٹھے ان صحابہ کرام کو فرماتے ہیں کہ خواہ آپ لوگوں کے گھر بار نہیں رہے اور آپ لوگوں کو اسلام کی خاطر جسمانی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں مگر آپ گھبرائیں نہیں کیونکہ ایک دن ہم رومیوں کو، فارسیوں کو شکست دیں گے. اور جواب میں سب اس بات پر یقین کرتے ہیں. کمال لوگ تھے نا وہ.

میں چاہتا ہوں کہ آپ تاریخی اعتبار سے نزولِ قرآن کے تئیس سالوں کا جائزہ لیں. کئی روایات ہزاروں سالوں سے آج تک جاری ہیں جیسے کہ ہماری مذہبی رسومات، اخلاقی روایات، ثقافتی رسومات وغیرہ جو راتوں رات تبدیل نہیں ہوتے. اگر کوئی معاشرہ سالہاسال سے عورت کے ساتھ کسی مخصوص برتاؤ کا عادی ہے تو اس عادت کی تبدیلی کے لیے بھی ایک لمبا عرصہ درکار ہوگا. اکثر ایسی تبدیلیاں غیر ملکی اثر و رسوخ سے ہی وقوع پذیر ہوتی ہیں. جیسے کہ آجکل دنیا بہت تبدیل.ہو رہی ہے، جدید ہو رہی ہے. ہمارے دادا پردادا کے جو رکھ رکھاؤ تھے وہ ہم میں نہیں پائے جاتے. آج کل پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سوڈان، جورڈن اور مصر وغیرہ میں مرد و عورت کے آپس میں معاملات کے جو طریقے آجکل رائج ہیں یہ آج سے اسی سال پہلے تک نہیں تھے. ایسا بدلاؤ اسی صورت آتا ہے جب مختلف عوامل میں باہری دنیا کا بہت زیادہ اثر و رسوخ شامل ہوتا ہے. 

رسول الله صلی الله علیہ وسلم اس زمانے میں اہم تبدیلی لانے والے تھے. کیا اس تبدیلی میں کوئی باہری دنیا کا اثر شامل تھا؟ نہیں. بلکہ وہ تو صرف قرآن کے ذریعے ہی یہ کام کرنے والے تھے. اب دیکھیں کہ ان تئیس سالوں میں کیا تبدیلیاں آئیں. لوگوں کے نہ صرف کھانے پینے کے انداز و اطوار تبدیل ہوتے ہیں بلکہ ان کے سونے، جاگنے، طہارت، شادی کی رسومات، طلاق کے طریقے، ان کی محبت، نفرت، دیکھنے، بولنے تک کے انداز، دوست، دشمن تک بھی بدل جاتے ہیں. یعنی تئیس سالوں میں ہر چیز تبدیل ہو کر رہ گئی. جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ایمان لائے ان کی زندگی کا کوئی بھی ایسا پہلو خواہ ثقافتی ہو یا سماجی، مذہبی ہو یا مالی یا سیاسی جو پورے کا پورا تبدیل نہ ہو گیا ہو. ان تئیس سالوں میں معاشرہ میں ہر ممکن تبدیلی وقوع پذیر ہوئی جس نے سب کچھ بدل دیا سوائے ان کی زبان کے.

صدیوں سے عربوں کو اپنی زبان میں کی جانے والی شاعری پر فخر تھا پر اس تبدیلی کے بعد تقریبا ایک صدی تک کسی کو شاعری لکھنے کا خیال بھی نہ آیا. بس جو نسلوں تک منتقل ہوتا گیا وہ قرآن اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سنت تھی. ایک زمانے میں آ کر عربوں کو خیال آیا کہ اگر عربی شاعری نہ کی گئی تو ان کی زبان اپنا درجہ نہ کھو بیٹھے. کسی بھی زبان میں شاعری کا ایک تاریخی مقام ہوتا ہے جو اس زبان کی ترقی و ترویج جاننے میں مدد کرتا ہے. اسلام کی اشاعت زور وشور سے جاری تھی مختلف دنیا سے لوگ اسلام میں داخل ہوتے جا رہے تھے اور عرب میں خوب آنا جانا لگا ہوا تھا اور ایسی صورت حال میں مختلف زبانوں کے آ جانے سے علاقائی زبان دبنے لگتی ہے. عربی زبان نتیجے میں ویسی خالص نہ رہی تھی جیسی تھی. تو اس زبان کی بقاء کے لیے الگ سے کوششیں کی گئیں. علماء، تابع تابعین کو عرب کی ایسی جگہوں پر جانا پڑا جہاں ابھی تک باہری دنیا کا کوئی رسوخ نہ تھا تاکہ قدیم عربی زبان کی شاعری کو سیکھ سکیں اور اسے لکھ سکیں. یہ سب اس لیے کرنا پڑا کیونکہ عربی زبان ہی تو عربوں کی پہچان تھی. 

اب اس انقلاب کا دنیا میں آنے والے کسی بھی انقلاب سے تقابلی جائزہ لیں اگرچہ قرآن کی لائی تبدیلی کو انقلاب کہنا مناسب نہیں لگتا. دنیا میں کئی انقلاب آئے جیسے ٹیکنالوجی کا انقلاب، عورتوں کے حقوق کا انقلاب، سیاسی انقلابات، روس میں پچھلی صدی میں انقلاب آیا، کچھ صدیوں پہلے فرانس، امریکہ میں انقلاب آئے غرض کہ دنیا میں کئی طرح کے انقلابات وقوع پذیر ہوئے. کچھ باتیں نوٹ کریں. اکثر جب انقلاب رونما ہو جاتا ہے تو دیکھیں کہ کتنا خون بہا؟ اس کے بعد بھی کیا لوگ اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں پرانی عادتوں سے ہی لگاؤ رکھتے ہیں؟ اب یا تو ماحولی تبدیلی نظر آتی ہے یا پھر سیاسی. اکثر مذہبی، سماجی اخلاقیات وہیں کی وہیں ہوتی ہیں. مگر جب اسلام آتا ہے تو آپ یہ نہیں دیکھتے کہ کیا تبدیلی آئی بلکہ آپ دیکھتے ہیں کہ کہاں تبدیلی رہ گئی ہے. 

آپ کوئی ایک عدد ایسا مسودہ دکھا دیں جو معاشرے میں اس قدر تبدیلی لایا ہو جو قرآن مجید تئیس سال کے مختصر عرصے میں لایا ہے. جدید مغربی معاشرے میں جو سب سے بڑی انقلابی تبدیلی دیکھی گئی وہ تھی فرانسیسی انقلاب جس نے مذہبی رسومات پر کاربند معاشرے کو ایک لادین معاشرے میں بدل کر رکھ دیا. شاید ہم آج بھی اسی دور میں جی رہے ہیں، لادینیت کو سراہا جاتا ہے. اب وہ انقلابی تبدیلی بھی کچھ فلاسفی لکھاریوں کی تحاریر سے وجود میں آئی. وہ لکھاری جو کھلے عام اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر سکتے تھے اس لیے کتابوں، کہانیوں،فلسفے کی آڑ لیتے تھے. یہ لوگ فقط فلاسفرز تھے کسی مقصد کے داعی نہیں. انہیں کسی مقصد کے لیے جان دینے کا شوق نہ تھا ان کا دائرہ وسعت بس لکھنے لکھانے تک ہی تھا. ان کا المیہ تو یہ بھی تھا کہ ان کے خیالات کو اکثر کے مرنے کے بعد جامع عمل میں لایا گیا. جیسے مارکس کے پیروکاروں نے مارکس کو دیکھا بھی نہ تھا بس اس کی کتابوں سے واقف تھے.

جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی، انہوں نے معاشرے میں تبدیلی کا مطالبہ کیا اور انہوں نے اپنی یہ جنگ خود لڑی. اس سے پہلے آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ ایک نظریے کو عملی جامہ پہنانے تک ایک ہی دانشور کی مکمل جدوجہد ہو. اگر آپ رسول اللە صلی الله علیہ وسلم کو فلاسفر کہنا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ تبدیلی حالات کا نظریہ ان کا اپنا ذاتی نہیں تھا بلکہ انہیں یہ مقصد دیا گیا تھا. عمومی طور پر یہی ہوا ہے کہ نظریہ کی بنیاد رکھنے والے لوگ کہیں پیچھے ہی رہ جاتے ہیں اور آگے بڑھ کر اسے عمل میں لانے والے جوان اور ہی ہوتے ہیں. عرب میں تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نہ صرف خود ہی اس نظریے کو سب کے سامنے پیش کرنے والے تھے بلکہ اس تحریک کے سیاسی، سماجی، ثقافتی، روحانی ہر صلاحیت میں خود ہی لیڈر تھے. ایسا تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا.

میں نے اپنے تاریخ کے اطالوی پروفیسر سے مطالبہ کیا تھا کہ مجھے ایسی کوئی مثال تاریخ میں سے بتا دیں. میں ان کی کلاس میں جاتا ہی اس لیے تھا کہ مجھے ان کی حرکتیں بے وقوفانہ لگتی تھیں جن کا مزہ آتا تھا. ان کا پہناوا، ان کا چلنا اور ان کی باتیں بہت عجیب ہوتی تھیں. میں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا آپ تین دیہائیوں یا اس سے مختصر وقت میں رونما ہونے والا کوئی تاریخی واقعہ بتا سکتے ہیں جس نے لوگوں کی ذاتیات سے لے کر معاشرے کے ہر معاملہ کو بدل ڈالا ہو؟ تبدیلی کبھی سماجی لیول پر آتی ہی کبھی ذاتی. جیسے کہ موبائل آلات نے انسانی کے اندر ذاتی حد تک بہت تبدیلی لائی ہے یہ ذاتی لیول تک کا انقلاب ہے. مگر کسی اقتصادی پالیسی کے تحت آنے والی تبدیلی سماجی حد تک بھی ہو سکتی ہے. 

قرآن اور اسلام نے انسانیت کو ڈرامائی حد تک تبدیل کر کے رکھ دیا. ذاتی طور پر بھی اور سماجی طور پر بھی. ذاتیات پر آئیں تو اس قدر چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی فوکس کرنے کو کہا گیا کہ جب انسان بیت الخلا میں داخل ہو تو پہلا قدم کونسا رکھے، کھانا کھاتا ہوئے آپ کو کس ہاتھ کو استعمال کرنا چاہیے، نکاح میں داخل ہوتے وقت آپ کو کیا کہنا چاہیے، کسی سواری پر سوار ہوتے ہوئے آپ کو کیا کرنا چاہیے. مختصراً انسانی زندگی کا کوئی ایسا چھوٹے سے چھوٹا پہلو بھی نہیں بچا تھا جسے اسلام نے تبدیل نہ کیا ہو. 

ان سب باتوں کے بادجود جب قرآن کہتا ہے کہ آپ اس جیسے ایک سورہ ہی بنا لاؤ اور آپ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپ کو بہت مبارک ہو پھر. مگر ایک بات بتائیں کہ اس کا انسانیت پر کیا اثر و رسوخ ہو گا؟ قرآن صرف ایک مسودہ ہے جو کہ بائبل کے جتنا موٹا بھی نہیں مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لائبریریوں کا حال دیکھیں. قانون، ادب، فلاسفی، تاریخ وغیرہ پر ڈھیروں ڈھیر مواد، ادب جو بھی موجود ہے وہ سب دراصل قرآن کی ہی ضمنی پیداوار ہیں. سبحان الله۔

جاری ہے ۔۔۔۔ 


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

بدھ, مئی 24, 2017

خوش ترین زندگى، زندگى با قناعت است

خوش ترین زندگى، زندگى با قناعت است
تحریر: احسن بیان

آج کسی وجہ سے باہر کھانا کھانے کا اتفاق ہوا، ایک درمیانے درجے کے ہوٹل میں کھانے کا آرڈر دیا۔ کھانے کے دوران ایک مزدور بھی سامنے میز پر آن وارد ہوا اور ایک خالی پلیٹ اور ایک روتی منگوائی، کھانے کے دوران میری توجہ اس کی طرف ہی رہی کہ وہ کیا کھائے گا؟
مزدور باریش اور سادہ سا انسان تھا، اس نے اپنے پاس سے دہی نکال کر پلیٹ میں ڈالا اور آرام سے کھانے لگا۔

بظاہر یہ عام سی بات تھی مگر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ بھی تو انسان ہے، اسے بھی پپر تکلف اور مرغن کھانے کی طلب ہوتی ہوگی، تو کیا وجہ ہے کہ یہ کوشش کرکے (زیادہ کما کر) اچھا کھانا نہیں کھاتا؟ وہ بھی اللہ ہی کا بندہ ہے اور میں بھی، جو اللہ اسے کھلا رہا ہے وہی میرا بھی رازق ہے تو یہ فرق کیوں ؟
 پھر دل میں خیال ایا کہ "قناعت"، "توکل"، "تقویٰ"، "سادگی" اور اس دنیا سے ضرورت بھر نعمت پر اکتفا کرنا ہی تو اصل میں کامیاب زندگی ہے۔
تھوڑے پہ اکتفا کرکے رب کی بڑائی بیان کرنا اور راضی رہنا۔ ایک بڑی فضیلت ہے جو ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی۔
اور اللہ کے ہاں ایسے ہی سادہ، نیک اور قناعت پسند بندے بہت جلد جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ کیونکہ انہوں نے دنیا میں آسائشوں اور نعمتوں میں سے بہت کم حصہ لے کر بھی اللہ کا شکر کیا، حرام سے بچ کر ایمان کی حفاظت کی، حرص اور طمع نہ کرکے اس دنیا میں معاشی تنگی تو برداشت کی، لیکن کسی کا حق نہیں مارا، کوئی کرپشن نہیں کی۔ سب سے بڑھ کر ان کے بیوی بچوں نے کبھی بھوک اور کبھی پیاس برداشت کی لیکن اسے کبھی چوری یا حرام کمانے پر نہیں اُکسایا۔

ایسے ہی لوگوں سے دنیا میں توازن قائم ہے، ورنہ لُوٹ مار کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔

اللہ ہم سب کو حلال کمانے اور قناعت پسندی کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین!!


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

رمضان ایک عبادت، ایک پیغام... حصہ ششم

رمضان ایک عبادت، ایک پیغام ... حصہ ششم
مصنف: حامد کمال الدین

بندگی اس تقویٰ کا سبب تب بنتی ہے جب وہ ہدایت کا نتیجہ ہو ۔ دین داری کا آغاز اعمال پر محنت سے نہیں ایمان اور توحید کی حقیقت سمجھنے سے کیجیے! کائنات کے بڑے اور اہم حقائق کو قرآن کی نظر سے دیکھنا سیکھیے ۔ دنیا میں انبیاء کی بعثت کا مقصد سمجھیے۔ ہدایت اور ضلالت کی جنگ کی حقیقت جانئے اور قوموں کی تاریخ اور واقعے سے واقفیت حاصل کیجیے۔ انسان کی اپنی حقیقت اور اسکے عمل کے حدود سے آگہی حاصل کیجیے۔ زمین میں انسان کا کار منصبی جانیے۔ مگر اتنی بڑی بڑی باتیں بھلا آپ کیسے معلوم کریں گے؟ پھر کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ علم اور دانائی کے ان سبھی سوتوں کا اصل منبع اور سرچشمہ تلاش کرلیا جائے؟ قرآن پڑھیے اس میں ہماری ضرورت کی ہر چیز جلی حروف میں اور بڑی آسان کرکے لکھ دی گئی ہے!
قرآن کی سمجھ پانے کے لیے اللہ کے رسولﷺ کی سنت اور سیرت سے رجوع کریں۔ ان دونوں کو سمجھنے کےلئے ائمہ تفسیر اور اساتذہ سے استفادہ کیجئے۔ ایسے لٹریچر سے مدد لیجیے جو قرآن کا پیغام سمجھانے کےلیے لکھا گیا ہے۔ مدد جس سے بھی لیجیے کسی طرح کوشش کیجیے گا آپ ایمان کو خود قرآن ہی سے برآمد کرسکیں ورنہ بندگی نہ لطف پورا دے گی اور نہ ثمر۔
عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ پہلے ہم اللہ کے رسول سے ایمان سیکھتے۔ پھر قرآن سیکھتے۔ تب ہمارا ایمان اور بھی بڑھ جاتا۔ یعنی ایمان اور بندگی کاایسا شعور ملتا کہ اس کا کوئی حد وحساب ہی نہ رہتا۔ بھائیو ایمان کے د و ہی اصل استاد ہیں پہلے رسول اللہ ﷺ پھر قرآن۔ رمضان کے دوران اس مدرسہ میں ضرور پڑھیے گا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر رمضان جبرائیل کے ساتھ قرآن کو تازہ کرتے، اپنی عمر کے آخری سال میں آپ نے یہ عمل دوبار فرمایا۔ راتوں کے لمبے قیام میں بھی ظاہر ہے آپ قرآن ہی پڑھتے ۔ دن کا پڑھنا اس کے علاوہ تھا۔ گویاآپ بس قرآن ہی پڑھتے!
سورۂ محمد میں نفاق اور دل کی بیماریوں کے رہ جانے کہ وجہ قرآن پرتدبر نہ کرنا بتائی گئی ہے۔
أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ ۔ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (محمد24۔23)
یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اوران کواندھا اور بہرا بنا دیا ۔کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟
ویسے تو رمضان میں قرآن ہر وقت اور زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔ مگر قرآن کو عقیدت کے ساتھ سمجھ اور ترتیل سے پڑھنے کی بہترین حالت نماز ہے۔
آپ کے پاس قرآن پڑھنے کےلئے جتنا وقت ہے اسی میں کچھ وقت نوافل میں کھڑے ہوکر پڑھ لیجئے! اگر قرآن کا یہ حصہ جوآپ نماز میں پڑھنے جارہے ہیں آپ نے پہلے سمجھ بھی لیا ہے پھر تو کیا ہی بات ہے! کیسٹ وغیرہ کے ذریعے قرآن سنتے رہنا بھی آپ کے روزے کااجر اور وزن بڑھا سکتاہے!
قرآن پڑھنے سے کچھ وقت بچے تو سنت اور سیرت کا مطالعہ کیجئے،یہ ایک طرح سے نبی کی صحبت میں بیٹھنا ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔ 

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

استقبالِ رمضان -19


استقبالِ رمضان- 19 
بسم اللہ 
اللَّهُمَّ بَلِّغْنا رَمَضَانَ وَأَعِنَّا عَلَى صِيَامِهِ وَقِيَامِهِ عَلَى الوَجْهِ الّذِي يُرْضِيكَ عَنَّا
  رَبِّ یَسِّرْ وَلآ تُعَسِّر وَ تَمِّمْ بِا الْخَیَّر

 السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

1- آج کی مسنون دعا:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الأَخْلاَقِ وَالأَعْمَالِ وَالأَهْوَاءِ ‏
اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں برے اخلاق، برے اعمال اور بری خواہشات سے۔ (ترمذی)

2- آج کا مسنون عمل:
پانی تین گھونٹ میں پئیں:
سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کے پینے کے دوران تین مرتبہ سانس لیتے اور فرماتے تھے کہ اس میں آدمی زیادہ سیراب ہوتا ہے، تکلیف نہیں ہوتی اور یہ زیادہ خوشگوار بھی ہے"۔ (شمائل ترمذی)

3- کسی دوست یا خاندان کے فرد کو کسی نیک عمل کی طرف رہنمائی کریں:
رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔ "نیکی سکھانے والے کےلئے ہر شے بخشش مانگتی ہے یہاں تک کے دریا میں مچھلیاں بھی "۔۔۔ (الجامع :137/2) 

حُسنِ نیت سے اور حُصول ثواب کے لیے کیے جانے والا ہر عمل جس میں ہمدردی شامل ہو، نیکی کے زمرے میں آتا ہے. نیکی ایک ایسا عمل ہے جو اپنے اندر خیر اور فلاح سمیٹے ہوئے ہے، نیکی ہمدردی بھی ہے نیکی مسیحائی بھی ہے، نیکی تن بدن کو مہکا دینے والے احساس کا نام ہے نیکی آخرت کی کامیابی کی خواہش کا نام ہے.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس کسی نے ہدایت کی طرف لوگوں کو بلایا تو اس بلانے والے کو ویسا ہی اجر ملے گا جیساکہ اس کی پیروی کرنے والے کو ملے گا اور ان پیروی کرنے والوں کے اجر میں کسی طرح کی کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔" (مسلم)

“اللہ کی قسم ! اگر تمھارے ذریعے اللہ کسی ایک شخص کو بھی راہ دکھادے تو یہ تمھارے حق میں سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔” (بخاری)

4- محاسبہ:
کیا ہماری نیت درست ہے؟ یا ہم کوئی اچھا کام صرف خود نمائی کے لیے کرتے ہیں؟
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ ما نوی''تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا ملے گی۔(صحیح البخاری)
یعنی عمل خواہ کتنا ہی اچھا او ر افضل ہو لیکن اگر نیت خالص نہیں تو وہ عمل ضائع ہو جائے گا۔کیونکہ اللہ تعالی کو اپنے بندوں سے تمام اعمال میں اخلاص مطلوب ہے۔

جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جو ریاکاری کرے گا ، اللہ تعالی اس کی ریا کا ری لوگوں کے سامنے نمایاں اور ظاہر کرے گا، اور جو شہرت کے لئے کوئی عمل کرے گا اللہ تعالی اس کو رسوا اور ذلیل کرے گا'' (سنن ابن ماجہ)

پس جو اعمال خلوص اور صدق دل سے کئے جائیں ان کی تاثیر آدمی پر پڑتی ہے ، اور لوگ خود ایسے شخص کو اچھا سمجھتے ہیں، لیکن جو اعمال ریا یا شہرت کی نیت سے کئے جائیں اس کے کرنے والے پر نور نہیں ہوتا ،اور تامل سے اس کا  باطن عاقل آدمی کو ظاہر ہوتا ہے۔

5- بونس:
سورۃ الزلزال کی تلاوت کریں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو سورۃ الزلزال کی تلاوت کرے وہ اس کے لیے نصف قرآن کے برابر ہے۔" (ترمذی)

اچھی بات آگے پہنچانا بھی صدقہ جاریہ ہے
دعاؤں میں یاد رکھیں
جزاک اللہ


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

منگل, مئی 23, 2017