استقبالِ رمضان- 18


استقبالِ رمضان- 18

بسم اللہ
  رَبِّ یَسِّرْ وَلآ تُعَسِّر وَ تَمِّمْ بِا الْخَیَّر 
 اے میرے رب آسانی فرما اور مشکل نہ فرما اور بھلائی کے ساتھ مکمل فرما۔ آمین!
   
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  

1- آج کی مسنون دعا:
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' داود علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی : 
'' اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَائِ الْبَارِدِ''
 اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور میں اس شخص کی بھی تجھ سے محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ایسا عمل چاہتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچادے، اے اللہ ! تو اپنی محبت کو مجھے میری جان اورمیرے گھروالوں سے زیادہ محبوب بنادے، اے اللہ ! اپنی محبت کو ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی زیادہ کردے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب داود علیہ السلام کا ذکرکرتے تو ان کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے : وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ (سنن الترمذی)

2- آج کا مسنون عمل:
قہقہہ لگانے کے بجائے کھل کے مسکرائیں:
آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی اصحاب کا بیان ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے اطہر پر ہمیشہ مسکراہٹ اٹکھیلیاں کرتی رہتی تھی۔ حضرت عبداللہ بن حارثؓ فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی شخص کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا‘‘ (شمائل ترمذی)
 ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ’’میں نے کبھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھٹھا مارکر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپؐ صرف تبسم فرماتے تھے‘‘(صحیح بخاری)

3- کسی کو دیکھ کر یا ملتے وقت سلام کرنے میں پہل کریں:
رسول اکرم صلی علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
"تم اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہو گے جب تک ایمان نہ لاؤ گے اور اس وقت تک مومن نہ ہو گے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو گے کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤ ں کہ جس ہر عمل کرنے سے تم باہم محبت کرنے لگو :یہ کے سلام کو خوب پھیلاؤ" (مسلم شریف)

دوسری جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
"سب سے افضل ترین عمل کھانا کھلانا اور تو ہر ا س آدمی (مسلمان ) کو سلام کہے جسے تو جانتا ہے اور جسے تو نہیں جانتا"

قرآن مجید میں اس بات کا تذکرہ کثرت سے موجود ہے کہ جنت کی بولی سلام ،سلام ہو گی اور جنت کے داروغے اہل ایمان کو خوشخبریا ں سنائیں گے۔ معلوم ہوا کہ جنت ہر طرف سلامتی ہی سلامتی کی صدائیں ہوں گی تو پھر کیوں نہ ہم دنیا میں بھی انہی کی صداؤں کو عام کریں ۔

4- محاسبہ:
ہم کس سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ : ’’اے اللہ کے پیغمبر ! آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، جب تک میں تجھے تمہاری ذات سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں، تم کامل مرتبہ ایمان تک نہیں پہنچ سکتے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ : ابھی تو اللہ کی قسم ! آپ مجھے اپنی ذات سے بھی زیادہ محبوب ہو چکے تو آنحضرت نے فرمایا ابھی کامل مرتبہ ایمان تک تم پہنچ چکے ہو اے عمر ‘‘(بخاری)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کے بیٹے، اور دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (بخاری و مسلم)

محبت بھی محض رسمی اور ظاہری قسم کی مطلوب نہیں ہے بلکہ ایسی محبت مطلوب ہے جو تمام محبتوں پر غالب آ جائے، جس کے مقابل میں عزیز سے عزیز رشتے اور محبوب سے محبوب تعلقات کی بھی کوئی قدر و قیمت باقی نہ رہ جائے، جس کے لئے دنیا کی ہر چیز کو چھوڑا جا سکے لیکن خود اس کو کسی قیمت پر باقی نہ چھوڑا جا سکے۔

    اس محبت کا اصولی اور عقلی ہونا خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں واضح فرما دیا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے:
جس نے میری سنت سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی، وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (ترمذی)

صحابہ رضی اللہ عنہم کی محبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محض عقلی و اصولی ہی نہیں تھی بلکہ جذباتی بھی تھی لیکن یہ جذبات کبھی حدود کتاب و سنت سے متجاوز نہیں ہوتے تھے۔ ایک طرف یہ حال تھا کہ صحابہ اپنے اوپر بڑی سے بڑی تکلیف اٹھا لیتے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تلووں میں ایک کانٹے کا چبھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں ان کے اپنے جسم تیروں سے چھلنی ہو جاتے تھے لیکن وہ یہ نہیں برداشت کر سکتے تھے کہ ان کے جیتے جی آپ کا بال بھی بیکا ہو۔ مرد تو مرد، عورتوں تک کے جذبات کا یہ حال تھا کہ وہ اپنے بیٹے اور شوہر اور باپ اور بھائی سب کو قربان کر کے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سلامتی کی آرزوئیں رکھتی تھیں۔

    دوسری طرف اتباع سنت کا یہ اہتمام تھا کہ اس محبت سے مغلوب ہو کر بھی کبھی کوئی ایسی بات ان سے صادر نہیں ہوتی تھی جو آپ کی صریح ہدایات تو درکنار، آپ کی پسند ہی کے خلاف ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ملاحظہ ہو۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی شخص بھی محبوب نہ تھا لیکن جب وہ آپ کو دیکھتے تو آپ کی تعظیم کے لئے کھڑے نہ ہوتے کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ آپ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں۔ (مشکوۃ بحوالہ ترمذی)

5- بونس:
اپنی دعاؤں میں "يا ذَالجَلالِ وَ اْلاِكْرام" کو شامل کریں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نے تلقین کی ہے کہ کثرت سے "يا ذَالجَلالِ وَ اْلاِكْرام " پڑھا کرو۔ (ترمذی)

اچھی بات پھیلانا بھی صدقہ جاریہ ہے
دعاؤں میں یاد رکھیں
جزاک اللہ

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

آٹھ مصیبتیں

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

سورہ کہف بمعہ ترجمہ

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل