استقبال رمضان-10


استقبالِ رمضان- 10

بسم اللہ
اللهم بلغنا رمضان 
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

1- آج کی مسنون دعا:
بازار میں داخل ہوں تو یہ دعا پڑھیں۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ. وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوْتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلیٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٍ
نہيں كوئى معبود مگر اللہ، وہ اكيلا ہے، نہيں كوئى شريك اس كا ، اسى كى بادشاہت اور اسى كى ہی سب تعريف ہے، وہی زندگی ديتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ زندہ ہے، نہيں وہ مرتا ، اسى كے ہاتھ  ميں ہے سب كى بھلائى اور وہ ہر چيز پر كامل قدرت ركھتا ہے۔​(حصن حصین)

2- آج کا مسنون عمل:
جب نیند سے بیدار ہوں تونیند کے آثار ختم کرنے کے لیے اپنی ہتھیلیوں سے اپنی آنکھوں اور چہرے کو ملیں۔
حدیث پاک میں ہے کہ: ’’رسول اللہ ﷺ نیند سے بیدار ہو کر اٹھے اور نیند کے آثار کو ختم کرنے کے لیے چہرہ پر ہاتھ پھیرنے لگے۔‘‘(مسلم )

3-  اللہ تعالٰی کی رضامندی کی طلب میں اپنے گھر والوں پر خرچ کریں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جب مسلمان اپنے اہل پر کوئی خرچہ کرتا ہے اور نیت ثواب کی ہوتی ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ '' (بخاری)
نیز فرمایا:
'' انسان کا خرچ کیا ہوا بہترین اور افضل دینار وہ ہے جسے اپنے عیال پر خرچ کرتا ہے۔ ''(مسلم)

4- محاسبہ:
کیا ہم کوئی بھی بات بغیر تصدیق (کہ صحیح ہے یا غلط) کے آگے بڑھاتے ہیں؟
کیا ہم اسے گناہ سمجھتے ہیں؟
اللہ کا فرمان ہے:  ﴿ يأيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبإ فتبينوا أن تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين ﴾ ... سورة الحجرات 
اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ کرو کہ تم کسی تم جہالت میں کسی قوم پر حملہ کر بیٹھو پھر تم بعد میں اپنے کیے پر نادم ہو جاؤ۔‘‘
فرمان نبوی (صحیح مسلم) کے مطابق: 
' کسی انسان کے جھوٹا اور ایک روایت کے مطابق گناہگار ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کر دے۔‘

5- بونس:
رات کو سونے سے پہلے سورہ ملک کی تلاوت کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تک سورہ ملک نہ پڑھ لیتے سوتے نہیں تھے۔
"ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے کہ  نبیﷺ نے فرمایا : بے شک  قرآن  کی ایک سورت  تیس (30) آیتوں  والی  نے اپنے  پڑھنے والے کی سفارش  کی کہ حتی  کہ اسے بخش  دیا گیا ، یہ سورٰۃ ملک  ہے ۔ (سنن الترمذی)
نبیﷺ نے فرمایا : " یہ روکنے  والی ہے، یہ نجات  دینے والی  ہے۔ یہ اسے قبر کے عذاب  ے ۔ نجات  دینے والی ہے"(سنن الترمذی)



تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

آٹھ مصیبتیں

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-10

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل