رمضان ایک عبادت، ایک پیغام... حصہ اول

رمضان ایک عبادت، ایک پیغام ... حصہ اول
مصنف: حامد کمال الدین

لینے والے کو اپنی اوقات اور دینے والے کی فضیلت و برتری کا پاس رہے، اپنی کم مائیگی او ر اسکی مہربانی کا احساس رہے تو بندگی خوب نبھتی ہے۔ بندے اور مالک کا رشتہ اپنی بہترین حالت میں جڑا رہتا ہے۔ بندہ اپنے مالک سے لے کر ہی تو کھاتا ہے۔ اس لینے میں آخر عیب ہی کیا ہے، بشرطیکہ یہ احساس رہے کہ یہ رشتہ لینے اور ہاتھ پھیلانے کا رشتہ ہے۔ یہ مانگ کر لینے کا رشتہ ہے۔ لے کراقرار کرنے کا رشتہ ہے ۔ کھا کر شکر کرنے کا رشتہ ہے۔ اس رشتے کی اصل قیمت بس یہی تو ہے کہ اسے یاد رکھا جائے اور قلب وذہن سے ایک پل بھی محو نہ ہونے دیا جائے۔ کیونکہ اس کے محو ہو جانے کا مطلب پھر یہی تو ہوگا کہ یہ سب نعمتیں ، یہ صحت و شادمانی، یہ تندرستی ، یہ زندگی ، یہ جوانی ، یہ راحت اور تن آسانی، یہ بیوی بچوں کی محبت اور چاہت، یہ مسرت کے لمحات میں دوستوں کے قہقہے اور عزیزوں کی چہک ، یہ خوشیاں یہ سب نعمتیں یہاں آپ سے آپ ہیں!! یہ کسی مہربان کی دین نہیں! یہ سب کچھ روزانہ ایسے ہی یہا ں گلیوں ، بازاروں میں بے تحاشا پڑا ہوتا ہے! یہ خود بخود کہیں سے آتا ہے اور پھر کبھی کبھار خو د بخود ہی کہیں کو سدھار جاتا ہے!!
شہر کے ایک نادان بچے کی طرح جس نے کھیت اور باغات کبھی نہ دیکھے ہوں، کسانوں اور باغبانوں کا پسینہ کبھی بہتا نہ دیکھا ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ سیب ریڑھیوں کولگتے ہیں اور آم دکانوں میں اگتے ہیں۔
بندگی کا یہ رشتہ ،خدا کی ممنونیت اور احسان مندی کا یہ احساس جس لمحہ دل سے محو ہوتا ہے تو پوری زندگی ہمارے لیے ویسے ہی بے معنی اور لغو ہوکر رہ جاتی ہے۔ سب خوشیاں اور راحتیں ویسی ہی بے مقصد اور بے قیمت ہوجاتی ہیں۔ یہ خوبصورت دنیا پھر کسی کاریگر کی صناعی معلوم نہیں ہوتی، پھر سورج کے روزانہ اپنے وقت پر نکل آنے پر ہمارے لئے کوئی پیغام نہیں ہوتا۔ پھر چاند کے گھٹتے بڑھتے اجالے میں کوئی عبرت اور کوئی سبق نہیں ہوتا۔ یہاں کے خوش نما پھل، پر لطف ذائقے ، یہ سب رعنائیاں اور لطافتیں ہم کو ریڑھی کا کمال نظر آتا ہے!!
مالک کی پہچان سے محروم ہوکر آدمی واقعی اتنا نیچ ہوجاتا ہے۔ جب یہ کسی کی دین نہیں تو پھر یہ لوٹ ہے!! دوستو لوٹ مچی ہو تو پھر اتنی کسی کو فرصت کہاں کہ ریڑھی سے آگے کی سوچے! کوئی رازق کو پہچانے! خالق کا پوچھے ! مالک کا پتہ کرے! منعم کا احسان مند ہو! جس کا مال کوئی لوٹ نہیں محض اس کی دین ہے! اس کا فضل اور احسان ہے! اس کو کوئی اٹھائے تو اس سے پوچھ کر، کھائے تو اس کا نام پہلے لے کر، پھر کھالے تو دل اور زبان سے اسکی مہربانی تسلیم کرے، اس کی کاریگری کی داد دے اوراس کی عظمت کے گیت گائے! پھر اپنی ذات پر اپنا یا کسی اور کا نہیں سب سے بڑھ کراسی کاحق تسلیم کرے اور نمک حلالی کا یہ حق بھی جانے کہ مالک کے سوا دنیا میں کسی اور کی بڑائی اس سے برداشت نہ ہوگی!! اس کے جیتے جی زمین میں اب کسی اور کی خدائی اور فرمانروائی نہ چل پائے گی!اتنا سوچنے کی کسی کو یہاں فرصت کہاں!!!

جاری ہے ۔۔۔۔۔ 

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

حجاج کرام کے لیے الوداعی نصیحتیں - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

ہجرتِ مصطفی کا منظوم واقعہ

الفاظ کی نئی دنیا (صراحہ)

زمرہ جات

رمضان غزلیں امید سوئے حرم سورہ البقرہ دعا سفرِ حج استقبال رمضان، ایمان، میرے الفاظ خطبہ مسجد نبوی میری شاعری پاکستان شاعری یاد حرم لبیک اللھم لبیک محبت خلاصہ قرآن سفرنامہ صراط مستقیم شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، کچھ دل سے حکمت کی باتیں دوستی سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر آزادی باغبانی عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی معلومات یوم دفاع آبِ حیات جنت خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر جنت کے پتے حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورہ المؤمنون سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل