ہفتہ, مئی 27, 2017

تدبر القرآن۔۔۔۔ سورۃ البقرہ۔۔۔۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔۔۔۔ حصہ-42


تدبر القرآن
 سورۃ البقرہ
 نعمان علی خان
 حصہ 42
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

جوں جوں وقت گزرتا گیا تو کسی دانشمند نے کہا کہ یہ کسی سورۃ جیسی کوئی اور سورۃ لے آنے کا چیلنج صرف اس وقت کے عرب اسکالرز کو دیا گیا تھا، وہ یہ چیلنج پورا نہ کر سکے تو بات ختم. کچھ علماء کے خیال میں ایسا ہرگز نہیں، قرآن کا یہ چیلنج آج کے دور کے لیے بھی ہے. میرا بھی یہی جواب ہے کہ کیونکہ قرآن ایک ہمیشہ زندہ رہنے والی کتاب ہے تو اس میں موجود چیلنج بھی ہمیشہ کے لیے ہے. کچھ عرصہ پہلے اسی چیلنج کے متعلق گفتگو ہو رہی تھی تو میں نے کہا کہ فرض کریں کہ ایک شہر میں بلکہ ایک شہر کے بھی چھوٹے سے جنوبی حصے میں بجلی چلی جائے،انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہ ہو، موبائل، سیٹلائٹ ہر طرح کا مواصلاتی رابطہ ممکن ہی نہ ہو. تمام طباعت شدہ کتب وہاں سے غائب ہو چکی ہوں، کوئی بائبل، کوئی آئینی کتاب کچھ بھی نہ ہو،تو وہ کون سا صحیفہ ہو گا جو ایک رات میں بنایا جا سکے گا؟...... قرآن...... کوئی مسئلہ ہی نہیں ہو گا. اور بائبل کی دوبارہ اشاعت میں کتنا وقت لگے گا؟ سوچیے، ایک شہر کا قانون لکھنے میں بھی بہت وقت لگ جائے گا. سبحان اللہ، آپ یہ تجربہ کہیں بھی کر کے دیکھ لیں. قرآن لوگوں کے دلوں میں موجود ہے.
 *بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ*
 ہے کوئی ایسی کتاب جو لوگوں کے دلوں میں اس طرح سے رقم ہو؟ کہ ایک رات میں اس کی اشاعت ممکن ہو سکے.؟ مجھے ایک ایسی کتاب دکھا دیں.
 *فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ
اس کے قریب قریب کوئی سورۃ بنا کے دکھا دو. حتی کہ لغوی، تاریخی، لسانوی معنوں میں، حفظ کے معنوں میں، ہے کوئی ایسی کتاب جس نے لوگوں کے دین و دل پر اس قدر گہرا اثر چھوڑا ؟ قرآن کو دوسری تمام کتب سے ممتاز کرنے کے لیے بہت سی کتابیں ہیں. ڈاکٹر فاضل صالح الحسان نے نہایت خوبصورتی سے اپنی کتاب التبعیر القرآن میں لکھا ہے. وہ فرماتے ہیں کہ ایک ماہر تیراک سمندر میں جاتا ہے اور سمندر کی تہہ میں جا کر اسے جو موتی ملتا ہے اور وہ کہتا ہے واہ، واؤؤؤؤ کیا خوبصورت موتی ہے، یہی وہ چیز ہے جو سمندر کو خوبصورت بناتی ہے. ایک دوسرا تیراک سمندر میں ڈبکی لگاتا ہے اور تین اور موتی نکال کر لے آتا ہے جو پہلے سے کئی زیادہ بڑے، اور خوبصورت ہیں، اور وہ پہلے تیراک سے کہتا ہے کہ نہیں، تم غلط تھے، یہ خوبصورت موتی جو میرے پاس ہیں، یہ بناتے ہیں سمندر کو خوبصورت، درحقیقت دونوں ہی غلط ہیں، بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو سمندر کو ممتاز کرتی ہیں، بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو اب تک دریافت بھی نہیں ہوئیں. سمندر کی تہہ میں لامحدود خزانے ہیں اور ایسی چیزیں جو شاید اب تک دریافت نہیں کی جا سکیں. تمام تر انسانوں کے بس کی بات نہیں کہ ان تمام رازوں کو جو سمندر کی تہہ میں پوشیدہ ہیں انہیں دریافت کر سکیں. سمندر اس قدر گہرا اور وسیع ہے کہ اس کے تمام راز جاننا قریباً ناممکن ہے. تو اللہ کی وحی کا موازنہ انہوں نے سمندر سے کیا ہے
 *قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَداً
اگر دنیا کے سارے سمندر روشنائی بن جائیں کہ اللہ کی باتیں بیان کر سکیں تو سمندر ختم ہو جائیں گے مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی.
 ہمارا ایمان ہے کہ یہ ہے قرآن کا چیلنج جو کوئی پورا نہ کر سکا اور نہ ہی کبھی کوئی پورا کر سکے گا.
دوسری طرف قرآن پہ تنقید ہمیشہ ہوتی رہے گی. چیلنج پورا کرنا تو ناممکن ہے تو تنقید نگار اس میں ناکام ہو کر پریشان ہوتے ہیں اور غصے میں قرآن میں کوئی ایسی چیز تلاش کرتے ہیں جس پر وہ اعتراض کر سکیں. کہ جی قرآن میں تو بہت اختلافات ہیں، قرآن میں تو کچھ ایسے لفظ ہیں جن کا مطلب ہی کوئی نہیں. تو اللہ اس سورۃ میں انہیں یہ جواب دیتے ہیں کہ 
*اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْىٖٓ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ *
*اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْىٖٓ* بےشک اللہ کوئی عار محسوس نہیں کرتا، *اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا* کہ وہ مثال دے، اب عربی کے طلباء جانتے ہیں کہ لفظ " مَثَلً" اسم نکرہ ہے، اور اگر آپ اس لفظ سے پہلے "مَا" لگاتے ہیں تو اسے مزید عام بنا دیتے ہیں، کوئی بھی مثال، چاہے وہ جیسی بھی ہو، آج کے دور میں بھی کوئی کہے کے بھائی میں بھوکا ہوں، کچھ کھانے کو دے دو، شیءالماء کچھ بھی دے دو مجھے تو بس بھوک مٹانی ہے، سو کھانے کے لائق اگر کچھ بھی ہو تو دے دو. دوسرے لفظوں میں اللہ نہیں شرماتا اور کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا کسی مثال دینے میں، یہ اللہ کی کتاب میں ایک تعلیمی اصول ہے. اور اسی سے ہم فلسفہ سیکھتے ہیں کہ اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے آپ کو اپنے comfort zone سے باہر آنا پڑتا ہے.اور تھوڑا فارمل ہونا پڑتا ہے. اگر آپ اپنے طلباء کی بہتری چاہتے ہیں تو آپ کو ان کے لیول پر آ کر بات کرنی پڑتی ہے. آپ کو مشکل الفاظ اور پیچیدہ جملوں کا استعمال نہیں کرنا ہوتا، کسی کو متاثر کرنے یا کسی پر اپنی تعلیمی قابلیت کا رعب جھاڑنے کے لیے کہ آپ کے پاس مشکل الفاظ کا کس قدر ذخیرہ ہے. اور کتنی قسم کی کتابوں سے آپ اقتسابات بتا سکتے ہیں یہ سکھانے کا صحیح طریقہ نہیں. استاد کا کام ہے کہ وہ اس طرح پڑھائے کہ طلباء سمجھ سکیں. اللہ عزوجل کے پاس ہم سے کہیں زیادہ علم ہے، اور مشکل الفاظ کا ذخیرہ بھی، اللہ کے پاس کسی بھی سائنسدان سے زیادہ علم ہے، وہ بہتر جاننے والا ہے، غیب سے واقف ہے، لیکن اللہ تعالٰی قرآن کے لیے کس طرز کا انتخاب کرتے ہیں؟
  ولقد یسرنا القرآن، اس نے قرآن کو آسان بنا دیا، بعض اوقات آپ عقیدہ پر کوئی کتاب پڑھتے ہیں، اس میں ماتدری، امام رازی، رحل امانی، الوسی، اور جانے کیا کیا پڑھتے ہیں اور یہ اس قدر مشکل لگتا ہے کہ آپ اپنے سر کے بال نوچنے لگتے ہیں. اور اللہ تعالٰی جب کلام کرتے ہیں تو یہ کلام اس قدر واضح، سادہ اور آسان ہے، 

جاری ہے.

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں