رمضان ایک عبادت، ایک پیغام... حصہ چہارم


رمضان ایک عبادت، ایک پیغام... حصہ چہارم
مصنف: حامد کمال الدین

رسول اللہ ﷺ کی ایک مشہور حدیث(متفق علیہ عن ابی ھریرہ، اس کا ایک حصہ قد سی ہے) کا مفہوم ہے:
اللہ تعالی فرماتا ہے : ابن آدم کاہر عمل اس کے اپنے لئے ہے سوائے روزے کے۔ روزہ تو بس میرے ہی لیے ہے اور اس کااجر بھی میں ہی دونگا۔ یہ روزہ تو ڈھال ہے۔ اور جس روز تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو وہ ہائے دہائی اور شور شرابے سے پرہیز کرے۔ کوئی اس سے لڑائی دنگا کرنے پہ آئے بھی تو وہ اسے کہہ دے بھائی میں روزے سے ہوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺکی جان ہے روزے دار کے منہ سے آنے والی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوشبو سے بھی مہک میں اچھی جانی جاتی ہے۔ روزے دار کے نصیب میں دو خوشیاں ہیں ایک خوشی جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور ایک اسکی وہ خوشی جب وہ روزے لےکر اپنے رب کے پاس پہنچے گا اور اس سے ملاقات کرے گا۔۔۔ 
الصوم لی و انا اجزی بہ ”روزہ تو بس میرے لئے ہے اور اسکا اجر بھی بس میں ہی دونگا“ کس قدرپیار کے الفاظ ہیں! دنیا میں کتنے بھوکے پھرتے ہیں! کوئی کسی سے اتنی اپنائیت کب کرتا ہے! کسی سے اس طرح محبت کب جتاتا ہے پھر جہانوں کے مالک کو تو کسی کی پڑی ہی کیا ہے! مگر وہ شکور اورقدر دان ہے، شاکر اورعلیم ہے، ایک ایک پل کی خبر رکھتا ہے اور بندگی کی ایک ایک اد ا کو پذیرائی بخشتا ہے! لوگوں نے اس حدیث کے بہت سے مطلب بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو اپنی جگہ ضرور صحیح ہونگے۔ پر یہ تو ایک ادا کے پسند آجانے کا ذکر ہے۔ مسلم کی ایک حدیث کے الفاظ ہیں: یدع شھوتہ و طعامہ من اجلی ”وہ میری خاطر اپنی خواہش اور کھانے سے دست کش رہتا ہے“ من اجلی ”میری خاطر!“ اس کا سارا لطف تو بس اس لفظ میں ہے ”میری خاطر“ اورجب ایسا ہے تو بھائیو پھر یہ چند گھنٹے کا عمل واقعتاً بس اسی کی خاطر ہونا چاہیے۔ پھر اس کو نری عادت اور سالانہ معمول نہیں واقعی عبادت ہونا چاہیے۔ اس کی ساری قیمت تو ہے ہی اس میں کہ یہ اُس کی خاطر ہو یعنی عبادت ہو ورنہ سردیوں کے روزوں میں تو تکلیف ہی کیا ہے! اس کا سارا ثواب اس پر مستزاد ! یہ اجروثواب بھی ہمارے عمل کے حساب سے نہیں اس کی خوشی کے حساب سے ہوگا! اس کی خوشی کا حساب تو ہمارے کرنے کا نہیں ۔ یہ تو وہی جانے کہ وہ خوش ہو تو پھر کیا کچھ دیتا ہے! ہم تو بس یہ جانیں کہ اسکی محبت میں تھوڑی سے بھوک اور پیاس سہنے نے اتنا بڑا کام کردکھایا کہ اس نے اسے اپنی خاطر جانا۔ بندگی کا یہ معمولی سا عمل اس نے اپنی ذات کے ساتھ خاص کرلیا۔ اپنے لئے یہی اعزاز کیا کم ہے کہ وہ شان بے نیازی کا مالک ایک ناچیز مخلوق کی چند گھڑیوں کی محنت کو، اس معمولی ہدیہ عقیدت کو، اپنی خاطر کہہ کر قبول کرے اور پھر سنبھال کرپاس رکھ لے!
"روزے دار کے نصیب میں دو خوشیاں ہیں ایک اس کی وہ خوشی جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور ایک اسکی وہ خوشی جب وہ روزہ لے کر اپنے رب کے پاس پہنچے گا اور اس سے ملاقات کرے گا
 کتنا گہرا تعلق ہے اور کتنی خوبصورت مماثلت ہے ان دو خوشیوں میں! دنیا میں کسی کی چاہت اور طلب کوبھوک و پیاس سے ہی تو تشبیہ دی جاتی ہے! یہ روزہ دار اپنے مالک کےلئے اپنی خوشی سے بھوکا رہتا ہے ۔ اپنی مرضی سے پیاس سہتا ہے۔ کس نے اِسے روکا ہے کہ پانی پی کر اپنی پیاس نہ بجھائے؟ مگر اِسکی پیاس تو اصل میں پانی کی نہیں۔ اِس کو بھوک کھانے کی نہیں۔ اِس وفادار اور اعلی ظرف انسان کو بھوک تواپنے مالک کی خوشی کی ہے۔ پیاس تو اُس سے ملنے کی ہے۔ سارا دن یہ اِس پیاس کو اُس پیاس کے اظہار میں دل سے لگائے رکھتا ہے۔ اِس کو تشنگی تو خالق کو پانے کی ہے۔ اِس کوچاہت تو رزق سے بڑھ کررازق کی ہے۔ پیاسا تو یہ اُس کا ہے۔ ایسی پیاس تو بس پھر اُسی کا جام بجھا سکتا ہے!
وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا  (سورۂ دھر: 21)
”اور اس روز ان کا رب ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا“

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ  إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ  (سورہ القیامۃ: 23۔22)
”کچھ چہرے تو اس روز کیا ہی تروتازہ ہونگے یہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے“

اِس کی تو نگاہ پیاسی ہے کہ کسی دن یہ اُسے دیکھ لے! اِس کے کان پیاسے ہیں کہ اُسے سنے اور وہ اِس سے کہے: میں تم سے خوش ہوا میرا تم سے ناراض ہونے کا امکان ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم۔ اب میں تم سے بس خوش ہی رہوں گا! اِس کی روح پیاسی ہے کہ یہ اُس کی قربت میں جاکر رہے اور اُس کے پاس جاکربسے۔
سو یہ تشنگی تو اظہار ہے کسی اندرکی تشنگی کا۔یہ تشنگی معبود کی چاہت ہے! جب یہ پیاس دل کی پیاس ہے تو پھر کوئی اور اس سے واقف کیونکرہوسکتا ہے ! لوگ تو بھوک سے اترا ہوا چہرہ اور پیاس سے سوکھے ہوئے ہونٹ ہی دیکھ سکتے ہیں مگر یہ اندر کی پیاس کسے نظر آسکتی ہے! اسے تو وہی دیکھ سکتا ہے جس کےلئے یہ ہے! اسے تو وہی جانے جس کی یہ چیز ہے! اور دیکھو وہ کیا خوب پہچانتا ہے۔ الصوم لی وانا اجزی بہ۔۔۔ یہ روزہ تو بس میرے ہی لئے ہے اور اس کااجر بھی اب میں ہی دونگا!!
وَكَانَ اللّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا (النساء 147)
”اللہ بڑا قدر دان ہے ایک ایک کے حال سے واقف ہے “
یہ قدر افزائی اور ذرہ نوازی ہی تو ہے کہ اس کے منہ کی ناخوشگوار بو اُسے مشک کی مہک سے بھی اچھی لگے!
 دوستو! اس منہ سے کی جانے والی دعائیں پھر اس کوکیونکر پسند نہ ہونگی! ایسے منہ سے جب اس کا نام نکلے گا ، ایسے منہ سے جب اس کا ذکر ہوگا ، اسکی پاکیزگی کا ورد ہوگا اور اسکی عظمت کے تذکرے ہونگے تو اسے پسند کیوں نہ آئیں گے! صاحبو، بس یہی موقع ہے ۔ کون جانے پھر یہ آئے یا نہ آئے ۔ بس یہ لمحے نہ جانے پائیں!

جاری ہے ۔۔۔۔ 


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے

  1. میں روزے کے متعلق صرف اتنا جانتا ہوں کہ صرف اللہ جانتا ہے کہ کسی کا روزہ ہے اور کس کا روزہ نہیں ہے ۔ اور کس کا روزہ پورا ہے اور کس کا روزہ ادھورہ ہے

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

استقبالِ رمضان -17

ماہ رمضان نیکیوں کی بہار – مقتبس خطبہ جمعہ مسجد نبوی

خوش ترین زندگى، زندگى با قناعت است

استقبالِ رمضان-16

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل