جمعہ, اکتوبر 06, 2017

ہم نے تجھے جانا ھے فقط تیری عطا سے ۔


حمد باری تعالیٰ

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے ۔

سورج کے اجالوں سے ، فضاوں سے ، خلاء سے ‛
چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیاء سے ‛
جنگل کی خموشی سے ، پہاڑوں کی انا سے ‛
پُر ہَول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے ‛
بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے ‛
مٹی کے خزانوں سے ، اناجوں سے ، غذا سے ‛
برسات سے ، طوفان سے ، پانی سے ، ہوا سے ‛

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے​ ۔

گلشن کی بہاروں سے ، تو کلیوں کی حیاء سے ‛
معصوم سی روتی ہوئی شبنم کی ادا سے ‛
لہراتی ہوئی بادِ سحر ، بادِ صبا سے ‛
ہر رنگ کے ، ہر شان کے ، پھولوں کی قبا سے ‛
چڑیوں کے چہکنے سے ، تو بلبل کی نوا سے ‛
موتی کی نزاکت سے ، تو ہیرے کی جلا سے ‛
ہر شے کے جھلکتے ہوئے فن اور کلا سے ‛

​ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے​ ۔

دنیا کے حوادث سے ، وفاؤں سے ، جفا سے ‛
رنج و غم و آلام سے ، دردوں سے ، دوا سے ‛
خوشیوں سے ، تبسم سے ، مریضوں کی شفا سے ‛
بچوں کی شرارت سے ، تو ماؤں کی دعا سے ‛
نیکی سے ، عبادات سے ، لغزش سے ، خطا سے ‛
خود اپنے ہی سینے کے دھڑکنے کی صدا سے ‛
وحدت تیری ہر گام پہ دیتی ہے دلاسے ‛

​ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے​ ۔

ابلیس کے فتنوں سے ، تو آدم کی خطا سے ‛
اوصافِ براہیم سے ، یوسف کی حیا سے ‛
اور حضرتِ ایوب کی تسلیم و رضا سے ‛
عیسی کی مسیحائی سے ، موسی کی عصا سے ‛
نمرود کے ، فرعون کے انجامِ فنا سے ‛
کعبہ کے تقدس سے ، تو مرویٰ و صفا سے ‛
تورات سے ، انجیل سے ، قرآں کی صدا سے ‛
یسین سے ، طٰہٰ سے ، مزمل سے ، نبا سے ‛
ایک نور جو نکلا تھا کبھی غارِ حرا سے ‛

​ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے​ ۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں