ہمیں کوا بن جانا چاہئیے


"ھمیں کوا بن جانا چاھیے.."
آج ظہر کی نماز سے واپسی پر سڑک پر لوگوں کا جم غفیر دیکھا تو سوچا کیوں نا جا کر دیکھا جاۓ معامله کیا ھے , پر ابو جی کی آواز کانوں میں گونجنے لگی.. "جہانگیر ! تجھے منع کیا ھے نا فالتو کے جھگڑوں یا مسئلوں میں پڑنے سے.."
میں تھوڑا جھجک گیا , پر پھر سوچا کونسا ابو جی مجھے دیکھ رھے ھیں , سو میں بھیڑ کی جانب چل پڑا.. وہاں کیا منظر دیکھتا ھوں کہ ایک شخص سڑک پر پڑا تڑپ رھا ھے اور باقی اس کے ارد گرد کھڑے چہ مگوئیاں کر رھے ھیں..
"ارے کیسا اندھا ڈرائیور تھا.."
"بیچارہ پتا نہیں کس لئے گھر سے نکلا تھا , ظالم نے گاڑی مار دی.."
"بھائی انسانیت نہیں رھی.. یار دیکھو ! بیچارہ پڑا ھوا ھے اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ اسے ہسپتال ھی لے جایا جاۓ.."
غرض ایسی ھی کچھ آوازیں تھیں..
مجھے غصّہ بھی آیا اور انسانیت کے چیمپئنز جو کھڑے ھوۓ تھے ان پر حیرت بھی ھوئی کہ اسے میں بےحسی کہوں یا کیا..؟ اپنے جیب ٹٹولے تو کوئی ٤٥ روپے تھے میرے پاس.. خیر الله کا نام لیا , اپنے ایک نالایق دوست کو آواز دی جو مجھے دیکھ کر کھسکنے کی کوشش کررھا تھا.. وہ آیا تو اس بندے کو جو درد سے کراہ رھا تھا , اٹھا کر سائیڈ پر کیا اور ایک ٹیکسی والے کو روکا اور قریبی اسپتال چلنے کا کہا.. وہ راضی ھوگیا , پر جب ھم اس شخص کو اٹھا کر لانے لگے تو وہ ٹیکسی والا بدک گیا اور کہنے لگا.. "بھائی میری کراۓ کی ٹیکسی ھے.. خون وغیرہ لگ جاۓ گا تو مالک گالیاں دے گا.."
خیر وہ ٹیکسی والا چلا گیا تو ایک پولیس والا آ گیا.. اس نے ماجرہ دیکھا تو ایک سوزوکی والے کو روک کر لے آیا اور پھر اس سوزوکی پر ھمیں بٹھایا اور اس زخمی شخص کو بھی جو شاید کمزوری کی وجہ سے یا درد کی شدّت سے بیہوش ھو چکا تھا.. خیر اسپتال پہنچے تو آگے اسپتال والے ایمرجنسی گیٹ پر موجود ھوتے ھیں , وہ فورن سٹریچر وغیرہ لیکر اے اور اسے اندر لے گۓ..
میں باھر آیا , سوزوکی والے کا شکریہ ادا کیا کہ "جناب بہت مہربانی ! آپ مشکل وقت میں کام آئے.." تو وہ اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرنے لگا اور کھڑا رھا..
اب میرے دماغ نے ٤٤٠واٹ کا جھٹکا کھایا اور میں نے اس سے پوچھ ھی لیا.. "بھائی کتنے پیسے ھوۓ..?" وہ تو جیسے یہی سننا چاھتا تھا , جھٹ سے بولا.. "بھائی ویسے تو ٢٥٠ بنتے ھیں , پر آپ مجبوری میں ھو اسلئے ٢٠٠ دے دو.."
میں نے جیب ٹٹول کر ٤٥ روپے نکالے اور پھر دوست سے کہا.. "کچھ پیسے ھیں تو دے دو , گھر جا کر واپس کر دوں گا.."
خیر وہ میرا ھی دوست تھا , کہنے لگا.. "نہیں یار ! ایک روپیہ نہیں ھے.." میں نے آگے بڑھ کر اسکے جیب میں ھاتھ ڈالا تو ٥٠٠ کے دو نوٹ نکل آے.. ایک نوٹ اسے واپس کیا اور ایک سوزوکی والے کو دیکر بقیہ پیسے اپنے جیب میں رکھ لئے..
اس شخص کے گھر فون کیا.. اسپتال سے اسکے ایکس رے کی پرچی بنوائی.. سرکاری اسپتال تھی , سو تقریباً ١٠٠ روپے میں معامله نمٹ گیا.. مریض جو قدرے بہتر دکھائی دے رھا تھا , اس سے دعائیں لیتا ھوا واپسی گھر کی جانب چل دیا اور راستے بھر یہی سوچتا رھا ھم لوگ ایسے تو نہ ھوا کرتے تھے.. یہ اتنی خود غرضی کہاں سے آگہی.. ھماری انسانیت کہاں گم ھوگئی..???? سی دوران ابو جی کا فون آنے لگا.. شاید انہیں کسی نے خبر کردی تھی.. ابو جی جلد سے جلد گھر پہنچنے کا کہ رھے تھے..
خیر پیسے تو اب میرے جیب میں تھے , سو رکشہ کیا اور سیدھا گھر آ پہنچا اور یہی سوچنے لگا کہ شاید انسانیت کے چلے جانے سے ھمارے اندر خلا پیدا ھوگیا ھے.. ھم کچھ اور ھی بن گئے ھیں تو ھمیں اب کیا بننا چاھیے جب تک ھماری انسانیت لوٹ نہیں آتی..؟
اسی دوران گھر آگیا.. ابو جی پریشان کھڑے ھوۓ تھے , پوچھنے لگے.. جب ماجرہ سنایا تو غصّہ بھی ھونے لگے.. "کیا ضرورت تھی تجھے.. ھر ایک کا دکھ لگا رھتا ھے باقی مر گۓ تھے کیا..؟"
"نہیں ابّو جی ! مرے تو نہیں تھے کیوں کہ سانس لیتے ھوۓ محسوس ھورھے تھے اور باتیں بھی کر رھے تھے.. خیر آپ کیوں پریشان ھو , خیر تو ھے نا..؟"
ابّو جی کہنے لگے.. "ھاں یار ! کسی کوے کا بچہ صحن میں گر گیا ھے.. اب کووں نے عذاب بنایا ھے.. نہ اسکے پاس جانے دیتے ھیں نہ ھی خود بھاگتے ھیں.."
میں گھر داخل ھوا تو کووں نے وہ ٹھونگیں ماری کہ خدا کی پناہ.. خیر کھانا بنانے کا پتیلا سر پر رکھ کر بچے کے پاس گیا , اسے اٹھایا اور چھت پر رکھ آیا جہاں انکا گھونسلا بنا ھوا ھے.. تھوڑی ھی در میں سب کوے خاموش ھوگئے اور اس گھونسلے پر کووں کا رش لگ گیا جس میں اسکے ماں باپ تو ایک ھی تھے , پر ھر کوا شاید اسکی خیریت معلوم کر رھا تھا.. میرے چہرے پر مسکراھٹ آگئی..
ابّو جی جو شاید مجھے ھی دیکھ رھے تھے , کہنے لگے.. "اب رکھ دیا ھے تو واپس بھی آ جاؤ.. کیا مسکراۓ جا رھے ھو.. وہ بھی کووں کو دیکھ کر.."
"ارے ابّو جی جواب مل گیا ھے مجھے.."
"کونسا جواب..؟"
"ابّو جی ! میں سوچ رھا تھا جب تک انسانیت نہیں آجاتی کیوں نہ کوا ھی بن لیا جاۓ.. کم سے کم اپنی نسل کا دکھ اور درد تو بانٹیں گے.."
ابّو جی نے ایسے دیکھا جیسے انہیں میری دماغی حالت میں شک ھو رھا ھو.. کہنے لگے.. "جا میرا بیٹا ! جا کر نہا لے.. بہت گرمی ھے اور پھر سوجانا.. آرام کر میرے شیر.."
ابو کی پریشانی پر مجھے اور ھنسی آنے لگی.. یا شاید مجھے جواب ملنے کی خوشی تھی کہ جب تک انسانیت اپنا خلا بھرنے لوٹ نہیں آتی , ھمیں کوا بن جانا چاھیے !!
منقول۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں