ہفتہ, ستمبر 30, 2017

21 گرام

21 گرام
منقول

 لاس اینجل کے ڈاکٹر ابراہام انسانی روح کا وزن معلوم کرنے کے لئیے نزع کے شکار لوگوں پر پانج سال میں بارہ سؤ تجربے کیئے۔اس سلسلے میں اس نے شیشے کے باکس کا ایک انتھائی حساس ترازو بنایا،وہ مریض کو اس ترازو پر لٹاتا،مریض کی پھیپھڑوں کی آکسیجن کا وزن کرتا، مریض کا کے جسم کا وزن کرتا ہے اور اس کے مرنے کا انتظار کرتا ہے مرنے کے فورا" بعد اس کا وزن نوٹ کرتا ہے۔ڈاکٹر ابراہام نے سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیا کہ انسانی روح کا وزن 21 گرام ہے ابراہام کا کھنا تھا کہ انسانی روح اس 21 گرام آکسیجن کا نام ہے جو پھیپھڑوں کے کونوں،کھدروں،درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے،موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پر وار کرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس 21 گرام آکسیجن کو باہر دھکیل دیتی ہے اس کے بعد انسانی جسم کے سارے سیل مر جاتے ہیں اور انسان فوت ہوجاتا ہے ۔۔۔
ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ 21 گرام کتنے ہوتے ہیں ۔۔؟؟
21 گرام لوہے کے 14چھوٹے سے دانے ہوتے ہیں ،ایک ٹماٹر ،پیاز کی ایک پرت،ریت کی چھہ چٹکیاں اور پانج ٹشو پیپر ہوتے ہیں ۔۔ یہ آپ اور ہماری اوقات ہے لیکن ہم بھی کیا لوگ ہیں ہم 21 گرام کے انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کا خدا سمجھتے ہیں .
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روح کا وزن 21 گرام ہے تو ان 21 گراموں میں ہماری خواھشوں کا وزن کتنا ہے؟؟؟
اس میں ہماری نفرتیں،لالچ،ہیراپھیری،چالاکی،سازشیں،ہماری گردن کی اکڑ ،ہمارے لھجے کے غرور کا وزن کتنا ہے ؟؟؟؟؟۔۔۔
میں نے کسی جگہ پڑھا تھا کہ تبت کے لوگ 21 گرامون کی اس زندگی کو موم سمجھتے ہیں،یہ لوگ صبح کے وقت موم کے دس بیس مجسمے بناتے ہیں ان میں ہر مجسمہ ان کی کسی نا کسی خواھش کی نمائندگی کرتا ہے،دن کو سورج کی تپش میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ مجسمے پگھلتے ہیں شام تک ان کی دھلیز پر موم کے چند آنسؤں کی سوا کچھ نہیں بچتا یہ لوگ ان آنسؤں کو دیکھتے ہیں اور اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ تھی میری ساری خواھشیں اور اس کے بعد ان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔۔
ہم 21 گرام کے انسان جوخود کو 21 گرام کے کروڑوں انسانوں کا حکمران سمجھتے ہیں ہم وقت کو اپنا غلام اور زمانے کو اپنا ملازم سمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں بس ذرا سی تپش ،بس ذرا سی ایک ہچکی ہمارے اختیار ہمارے اقتدار ہماری اکڑ،غرور اور چلاکی کی موم کو پگھلا دے گی ،اور جب یہ 21 گرام ھوا ہمارے جسم سے باہر نکل جائی گی تو ہم تاریخ کی سلوں تلےدفن ہوجائیں گے اور 21 گرام کا کوئی دوسرا انسان ہماری جگہ لے لے گا ۔

بدھ, ستمبر 27, 2017

سوشل میڈیا پر تلخیاں، ایک آسان حل


سوشل میڈیا پر تلخیاں، ایک آسان حل 
 تحریر - کفیل اسلم

یہ میرا گیارہواں کمنٹ تھا۔ ہر بار میری یہ کوشش کہ نرم لہجہ رکھتے ہوئے لایعنی بحث پر 'فلُ سٹاپ' لگاؤں مگر جناب تھے کہ ہر بار ضد کی نئی پرت اتار کر پرانا سوال داغ دیتے۔ جھنجھلاہٹ میں بالآخر میری انگلیوں سے بھی شعیب اختر کی کسی تیز رفتار گیند کی طرح الفاظ نکلنے لگے۔ میں جو پچھلے کئی کمنٹس تحمل سے پڑھ اور لکھ رہا تھا، اب ضبط جواب دے گیا تھا۔ لمبا چوڑا کمنٹ لکھا جس میں بلا کی حرارت تھی۔ سوچ رہا تھا یہ پڑھتے ہی اگلے کے طوطے اڑ جائیں گے۔ کمنٹ پر حتمی نظر ڈالی تو وہ آٹھ دس سطور پر مشتمل ایک پیراگراف کا رُوپ دھار چکا تھا، جس میں کہیں طنز کا تڑکا تو کہیں دھونس نما محاورے۔ بس پوسٹ کرنے کو ہی تھا یہ لائٹ چلی گئی اور جذبات پر اوس پڑ گئی۔ خیر، منہ بُرا سا بنا کر کرسی سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

آپ کے ساتھ بھی سوشل میڈیا پر اکثر ایسے معاملات پیش آتے ہوں گے، جہاں آپ کی کسی عام سی پوسٹ پر کچھ احباب دندناتے ہوئے آجاتے ہوں گے اور پھر وہی ہوتا ہوگا جو ابھی میرے ساتھ ہوا۔

صورتحال کا جائزہ لیں تو معاملہ اتنا گھمبیر بھی نہیں، مگر جذبات کی رو میں بہہ کر اکثر ایسا ہونے لگتا ہے۔ کچھ تجاویز ہیں، سوشل میڈیا کی دنیا میں ان کی یاددہانی سے معاملات ٹھیک رہ سکتے ہیں:

ہر فرد کو رائے کا حق دیجیے:
یہ بات طے کرلیجیے کہ دنیا میں ہر فرد آپ کا ہم خیال نہیں۔ کہیں دوسرا آپ سے اتفاق کرے گا تو کہیں اختلاف۔ ہر ایک کو اس کی رائے کا اظہار کا پورا پورا حق ہے جیسا کہ آپ کو حاصل ہے لہٰذا آسان حل یہ ہے کہ جب بھی کسی دوست کی وال یا ٹائم لائن پر کوئی اختلافی چیز دیکھیں اُسے دیکھیں، پڑھیں اور سمجھیں۔ پسند آئے تو ٹھیک ورنہ آگے نکل جائیں۔ بحث سے گریز کریں۔ آپ نے دو چار کمنٹ میں اُسے قائل نہیں کرلینا۔

گالم گلوچ سے گُریز کیجیے:
پہلے تو بحث سے گریز ہی کیجیے مگر دوسرے سےاگر دوستی ہے اور رفاقت ایسی ہے کہ بحث و تکرار چل سکتی ہے تو ٹھیک ہے مگر قُربت کا مطلب ہرگز ہرگز یہ نہیں کہ آپ گالم گلوچ پر اُتر آئیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ پرانی رفاقتیں اس بات پر ٹوٹ جاتی ہیں کہ فلاں موقع پر اُس نے مجھے گالی دی اور بات بڑھ گئی۔ آسان حل یہ ہے کہ جہاں معاملات میں حِدّت بڑھ جائے، وہیں بات کو روک دیں چاہے اگلا کتنا ہی آپ کو بحث جاری رکھنے پر اُکساتا رہے۔

فرقہ واریت سے مکمل پرہیز کیجیے:
جتنے فرقے ہمارے معاشرے میں موجود ہیں میرا نہیں خیال کہ دوبارہ مستقبل قریب میں یہ سب ایک ہوجائیں گے اور اختلاف ختم ہوجائیں گے۔ یہ اختلاف رہے گا اور ماضی میں بھی رہا ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ ایسے اختلاف جن پر لڑے بغیر بھی ہم اچھے مسلمان رہ سکتے ہیں ان کو ڈسکس کر کے اچھے تعلقات کو بگاڑ لیں؟ جو آپ کو حق لگتا ہے آپ اُس پر عمل کیجیے اور اُسے شئیر کیجیے مگر جو آپ کی فقہ کے خلاف ہے آپ کا کیا خیال ہے فیس بک، ٹویٹر پر کمنٹ باکس میں تُند و تُرش جملوں سے خود کو حق پر ثابت کرلیں گے؟ آسان حل یہ ہے کہ آپ اپنی بات دلیل سے رکھیے۔ ماننے والا ماننے ورنہ آپ کا فرض ادا ہوا اب آپ اپنا راستہ لیجیے۔ اللہ اب آپ سے نہیں پوچھے گا کہ پیغام کیوں نا دیا؟

رہنما کا احترام کریں:
جب بھی دو افراد کے درمیان بحث ہو معاملہ سنگین تب ہوتے ہے جب دومیں سے کوئی ایک دوسرے کے مذہبی یا سیاسی رہنما کے لیے ایسے جملے استعمال کرجائے جو وہ اپنے رہنما کے لیے سننا کسی صورت بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ جواباً یہ معاملہ دونوں طرف آگ لگادیتا ہے اور پھر یہ تکرار تعلق ختم ہونے پر منتج ہوتے ہیں۔ آسان حل یہ ہے کہ جس سے بھی اختلاف ہو کوشش کیجیے کہ اختلاف ایسے لفظوں میں کیجیے کہ آپ کا مدّعا بھی پہنچ جائے اور سامنے والا زچ بھی نا ہو اور ایسا کرنا ممکن بھی ہے۔

سوچ سمجھ کر کمنٹ کیجیے:
دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی بار کسی سٹیٹس پر پڑھنے والے قربت کے جذبات کے باعث کچھ بھی لکھ دیتے ہیں جو صاحبِ سٹیٹس کے لیے یا اُس لسٹ میں موجود اس کے رشتہ دار احباب کے لیے خاصی کوفت کا باعث بنتا ہے۔ اور یہ لڑائی کمنٹ باکس سے ان-باکس میں منتقل ہوجاتی ہے۔ اس مسئلہ کا آسان حل یہ ہے کہ اپنے کمنٹس کا استعمال سوچ سمجھ کر کیجیے۔

سوشل میڈیا بہت مفید چیز ہے۔ اس سے اپنی صلاحیتوں کا بڑھانے کا ذریعہ بنائیے نا کہ کوفت کا۔ خوش رہیے، سوشل میڈیا استعمال کرتے رہیے۔

منگل, ستمبر 26, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 26 ستمبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

"ضروری نہیں انسان جیسا دکھتا ہو, اندر سے بھی ویسا ہی ہو.
 پہلے باطن بدلتا ہے, پھر ظاہر بدلتا ہے.
 جو الٹا چلتے ہیں وه ان رستوں پہ ثابت قدم نہیں ره پاتے.
 اور ثابت قدمی ہی سارا کھیل ہوتی ہے۔"


متبادل کے راز


ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﮐﺜﺮ ﭨﻮﭨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮﯼ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮧ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﺭﺵ ﺑﺮﺳﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺯﻣﯿﻦ ﺟﺐ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﺫﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻏﻠﮧ ﺍﮔﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﻮﺩﻭﮞ ﯾﺎ ﻓﺼﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻗﻠﻤﻮﮞ ﯾﺎ ﺷﺎﺧﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﯿﺎ ﭘﻮﺩﺍ ﯾﺎ ﻧﺌﯽ ﻓﺼﻞ ﺍﮔﺘﯽ ﮨﮯ۔

دھوکہ کھانے والا، اعتبار کے ٹوٹنے کی چوٹ کھانے والا وقتی طور پر ٹوٹ ضرور جاتا ہے مگر ساتھ ہی وہ انسانوں کے اصلی روپ سے بھی آشنا ہوجاتا ہے ۔ کھرے کھوٹے کی پہچان اس کے شعور کو مزید تابناکی بخشتی ہے۔ انسان دھوکہ کھانے کی وقتی اذیت کا شکار ہوتا ہے مگر وقت کا مرہم اسے اور با صلاحیت اور با شعور بنا دیتا ہےﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﭨﻮﭦ کر ﭨﮑﮍﮮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺏ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮍﺍ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﮟ گا اورہماری زندگی میں سب کچھ کسی وجہ سے ہوتا ہے غلط ہوتا ہے تاکہ ہم صحیح کی قیمت جان سکیں، اور لوگ بدلتے ہیں تاکہ ان کا اصلی چہرہ جان سکے اور جب آپ اپنی کار دس پندرہ میل پہاڑ کے اوپر لے جا سکتے ہیں لیکن آپ کو یقین ہوتا ہے کہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد پھر اترائی ہی اترائی ہے۔

 یہ یقین اس لیے ہوتا ہے کہ آپ قدرت کے رازوں سے واقف ہیں اور پہاڑ کے خراج کو سمجھتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کار مسلسل اوپر ہی اوپر نہیں جا سکتی، نہ ہی نیچے ہی نیچے جا سکتی ہے۔ یہ صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔

آپ کی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ چینی فلسفے والے اس کو ین اور یانگ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہم لوگوں سے زندگی میں یہی غلطی ہوتی ہے کہ ہم لوگ متبادل کے راز کو پکڑتے نہیں ہیں، جو شخص آگے پیچھے جاتی لہر پر سوار نہیں ہوتا وہ ایک ہی مقام پر رک کر رہ جاتا ہے۔

اقتباس از تحریر : محمد عتیق اسلم 

سال رفتہ اور 9، 10 محرم کا روزہ - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

سال رفتہ اور 9، 10 محرم کا روزہ - خطبہ جمعہ مسجد نبوی


فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے پہلی بار  02-محرم الحرام- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "سال رفتہ اور 9، 10 محرم کا روزہ" ارشاد فرمایا انہوں نے کہا کہ دنیا جائے امتحان  اور فانی ہے اور آخرت نتائج   کی جگہ اور دائمی ہے اس لیے اپنی آخرت سنوارنے کیلیے بھر پور کوشش کریں، دنیاوی رعنائیوں میں دل مت لگائیں؛ کیونکہ ہر گزرتا لمحہ آپ کو قبر اور حساب کے قریب دھکیل رہا ہے،  زندگی جس قدر بھی لمبی ہو جائے آخرت کے مقابلے میں انتہائی مختصر ہے.

خطبے کا منتخب اقتباس پیش ہے:

سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، مضبوط ترین ذریعہ نجات تقوی ہے، بہترین ملت؛ ملتِ ابراہیم ہے اور بہترین واقعات قرآن مجید میں ہیں، سب سے افضل ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور  بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} 
 اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں ہی آئے۔[آل عمران : 102]

اللہ کے بندو!

دنیا  امتحان اور فنا کی جگہ ہے، جبکہ آخرت نتائج اور بقا کی جگہ ہے۔ دنیا دھوکے کا سامان ہے۔ دنیا لمحوں، دنوں اور مہینوں کا نام ہے، اس میں سال اور صدیاں آتی ہیں، کئی سال آ کر چلے گئے ، کچھ اور بھی آ کر چلے جائیں گے، دن اور مہینے گزرتے جا رہے ہیں  ، اللہ تعالی دن اور رات کو آگے پیچھے بھیج رہا ہے ، ان میں اہل بصیرت کے لیے عبرت ہے۔

اس دنیا میں نسلیں فنا ہو جائیں گی اور تمنائیں ختم ہو جائیں گی، ز ندگیاں بھسم ہو جائیں گی،
 {كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (26) وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ}
 اس پر موجود ہر چیز نے فنا ہونا ہے[26]صرف تیرے رب کی ذو الجلال والاکرام ذات کیلیے دائمی بقا ہے۔ [الرحمن: 26، 27]

تالله ما الدنيا بدار بقاء 
كلا وإن شيد الأنام قصورها

اللہ کی قسم! دنیا کبھی بھی بقا کی جگہ نہیں ہے، چاہے لوگوں نے یہاں محل بنا لیے ہیں!!

تتفاوت الأعمار لكن يستوي
عند الممات طويلها وقصيرها

عمریں سب کی الگ الگ ہوتی ہیں لیکن موت کے وقت بڑی اور چھوٹی عمر والے سب برابر ہو جاتے ہیں

هيهات ما الدنيا بدار يرتجى
فيها البقاء ولا يتم سرورها

دنیا کوئی ایسا ٹھکانا نہیں ہے کہ یہاں بقا کی امید رکھیں اور اس کی رعنائیاں کبھی بھی پوری نہیں ہوں گی

والموت غاية كل نفس فاستوت
عند اللبيب قصورها وقبورها

ہر نفس کی انتہا موت ہے، اس لیے عقل مند کے ہاں دنیا کے محلات یا قبریں  یکساں مقام رکھتی ہیں۔

ایک اور سال گزر کر دنیا کی عمر میں کمی اور موت کو قریب  کر گیا ہے، اس سال  میں کی گئی کارکردگی  انتہا کو پہنچ گئی ہے اور اس  کے دفاتر لپیٹ دئیے گئے ہیں، چنانچہ جس نے سال کے لمحات کو غنیمت سمجھا، وقت سے فائدہ اٹھایا اور بہتر کارکردگی دکھائی تو وہ مبارکباد کا مستحق ہے۔

ہم ایک نئے سال میں داخل ہو چکے ہیں جو ہمیں قبر کی جانب دھکیل رہا ہے اور ہمیں روزِ قیامت اور دوبارہ جی اٹھنے کے دن کی طرف ہانک رہا ہے۔ اس لیے صاحب دل اور کان دھرنے والے کے لیے  ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی سے فائدہ اٹھا لے  تا کہ بعد میں ندامت نہ اٹھانی پڑے۔

اللہ کے بندو!

وقت گزرتا جا رہا ہے، زندگی تھوڑی سی ہے، اسی تھوڑی سی مدت میں زندگی کے لمحات  محصور ہیں، جبکہ ذمہ داریوں  کا ڈھیر لگا ہوا ہے، حقوق کی تعداد بہت زیادہ ہے، پھر انسان سے یہ بھی پوچھا جانے والا ہے کہ زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں صرف کی؟ انسان سے ضائع کردہ زندگی کے بارے میں حساب لیا جائے گا، رائیگاں کیے ہوئے وقت کا حساب کیا جائے گا۔ زندگی کتنی ہی لمبی ہو جائے ہے پھر بھی مختصر:
 {قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ (112) قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ (113) قَالَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (114) أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ}
 اللہ فرمائے گا: تم زمین میں کتنے سال رہے؟ [112] وہ کہیں گے: ہم ایک یا ایک دن کا کچھ حصہ رہے ہیں؛ شمار کرنے والوں سے پوچھ لو [113] اللہ فرمائے گا: تم تھوڑی دیر ہی ٹھہرے ہو اگر تم جانتے ہو [114] کیا تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف نہیں لوٹایا جائے گا؟[المؤمنون: 112 - 115]

زندگی کی سانسیں  -اللہ کے بندو!- کچھ کر گزرنے کا بہترین موقع ہیں، یہ تو موجب شکر نعمت ہے۔
 تم میں سے بہتر وہ ہے جس کی زندگی لمبی ہو اور عمل بھی اچھے ہوں، جبکہ تم میں سے برا وہ ہے جس کی عمر لمبی ہو اور اس کے اعمال بھی برے ہوں۔

توجہ فرمائیں! یہ بھی نعمتوں کے شکر میں شامل ہے کہ اپنی زندگی اللہ تعالی کی اطاعت  میں سنت نبوی کے مطابق گزاریں۔

جبکہ دوسری جانب نعمتوں کی ناشکری ، سخت آزمائش ، عذاب، حسرت اور ندامت کے اسباب میں یہ شامل ہے کہ  اپنی زندگی اللہ تعالی کی نافرمانی میں صرف کریں، یا غیر شرعی امور میں کھپا دیں۔

ہجری سال کی ابتدا ماہ محرم سے ہوتی ہے اور یہ حرمت والا مہینہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
{إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ} 
جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس دن سے اللہ کے ہاں نوشتہ میں مہینوں کی تعداد بارہ ہی ہے، جن میں چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہی محکم دین ہے۔ لہذا ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو ۔[التوبۃ: 36]

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (زمانہ اپنی اسی اصلی حالت میں واپس آ گیا ہے جیسے اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کے تخلیق کے دن  انہیں بنایا تھا، سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں، ان میں سے چار حرمت والے ہیں، تین ایک ساتھ ہیں : ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم، اور چوتھا مضر قبیلے کا رجب  جو کہ جمادی اور شعبان کے درمیان ہے) متفق علیہ

ایک عمل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ  اور گناہوں کے مٹانے والے اعمال میں شامل  ہے، نیز اس عمل سے اللہ کا شکر ادا ہوتا ہے اور عاشورہ کا روزہ رکھ کر عظمت الہی کا اقرار بھی ہوتا ہے ، وہ یہ ہے کہ دس محرم کا روزہ رکھیں۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : "نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں  کو عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا، جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: "اس دن میں اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام  اور بنی اسرائیل کو فرعون کے خلاف کامیابی عطا فرمائی تھی، چنانچہ ہم اس دن کی تعظیم کرتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں" اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (موسی علیہ السلام سے ہمارا تعلق تم سے زیادہ ہے، پھر آپ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا)" متفق علیہ

اور صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: "یومِ عرفہ کے روزے سے متعلق مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ سابقہ اور لاحقہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، اور عاشورا کے روزے سے متعلق مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ   سابقہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے"

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری عمر میں علم ہوا کہ یہودیوں نے عاشورا کو اپنا مذہبی تہوار بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرما لیا کہ ہم آئندہ سال نو اور دس محرم کا روزہ رکھیں گے لیکن اس سے پہلے آپ کی وفات ہو گئی۔

اس لیے افضل یہی ہے کہ: یہودیوں کی مخالفت کرتے ہوئے عاشورا سے ایک دن پہلے کا روزہ رکھیں اور اگر کوئی 9 کا روزہ نہ رکھ سکے تو پھر 10 محرم یعنی عاشورا کا لازمی رکھے۔

مسلم اقوام!

بدعات فتنہ ہوتی ہیں، اور فتنوں میں آزمائشیں آتی ہیں، بدترین شے  بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے  اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے، اس لیے مضبوط کڑے کو تھام لو اور صراط مستقیم پر گامزن رہو، دیگر راستوں کے پیچھے مت لگو وگرنہ تمہیں جادۂ حق سے دور کر دیں گے۔ اس لیے ایسے تمام اعمال سے دور رہیں، اپنے پروردگار کی کتاب  کو تھام لیں، اپنے نبی کی سیرت کو اپنا لیں تو یہ  تمہارے لیے کافی ہے۔
 {فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ إِنَّكَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (43) وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ}
 پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوطی سے تھامے رہیں  بیشک آپ راہ راست پر ہیں۔[43] اور یقیناً یہ آپ کے لئے اور آپ کی  قوم کے لئے نصیحت ہے اور عنقریب تم سے باز پرس ہو گی۔ [الزخرف: 43، 44]

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (90) وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} 
اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو  [91] اور اگر تم نے اللہ سے کوئی عہد کیا ہو تو اسے پورا کرو۔ اور اپنی قسموں کو پکا کرنے کے بعد مت توڑو۔ جبکہ تم اپنے (قول و قرار) پر اللہ کو ضامن بنا چکے ہو  جو تم کرتے ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے [النحل: 90، 91]

سوموار, ستمبر 25, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 25 ستمبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

جب آپ کسی ایسی شخصیت کے بارے میں کچھ منفی سنیں جس سے کسی  غلطی کی آپ کو توقع تک نہ ہو تو اس لمحے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ بے عیب تو "صرف" اللہ کی ذات ہے۔ اور ممکن ہے اندھی عقیدت سے خبردار کرنے کے لیے اللہ نے اس پر یہ آزمائش ڈالی ہو تاکہ ہم اسے "انسان" سمجھیں اور بھول چوک کی توقع رکھیں۔

کچھ دل سے ۔۔۔ سیما آفتاب

تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ المؤمنون ۔۔۔ از نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ -2

تدبر القرآن
سورۃ المؤمنون
حصہ -2
وَالَّـذِيْنَ هُـمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ 
اور جو لغو باتوں سے منہ پھیرنے والے ہیں

یعنی وہ ہر طرح کی بےمعنی، فضول، بےبنیاد، غیر ضروری باتوں اور کاموں سے خود کو دور رکھتے ہیں۔ ان کاموں کے بجائے وہ خود کو ایسے کاموں میں مصروف رکھتے ہیں جن سے انہیں فائدہ پہنچتا ہے۔

دیکھیں، یہ زندگی ایک امتحان ہے اور جب آپ امتحان دے رہے ہوتے ہیں، تو کیا ہوتا ہے؟ آپ خود پہ پابندیاں لگاتے ہیں۔ آپ وقت ضائع نہیں کرتے کیونکہ آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے پاس وقت بہت کم ہے۔ اس لیے آپ کسی امتحانی ہال میں بیٹھ کر خیالی پلاؤ نہیں پکاتے، یا سوتے نہیں وہاں پر، بار بار واش روم تک جانے سے پرہیز کرتے ہیں، آپ ہر طرح وقت کی پابندی کرتے ہیں اور اس وقت کا بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ آپ جانتے ہوتے ہیں کہ آپ امتحان دے رہے ہیں اور آپ کے پاس وقت کم ہے۔

اور ایک مومن یہ بات ہمیشہ یاد رکھتا ہے کہ یہ زندگی بھی ایک امتحان ہے۔ سو جو چیزیں یا کام ایکسٹرا ہیں وہ ان سے دور رہتا ہے تاکہ اس کا سارا دھیان کرنے والے کام کی طرف رہے۔

وَالَّـذِيْنَ هُـمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُوْنَ 
اور جو زکوٰۃ دینے والے ہیں۔

یعنی، وہ ان کاموں میں حصہ لیتے ہیں جن سے ان کی روح پاک ہوتی ہے، ان کے قول و فعل پاک ہوتے ہیں۔

وَالَّـذِيْنَ هُـمْ لِفُرُوْجِهِـمْ حَافِظُوْنَ 
اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اور وہ حرام سے دور رہتے ہیں۔ وہ اپنی نفس کی پیروی کر کے حرام کے کاموں طرف نہیں جھکتے بلکہ وہ ذریعہ اپناتے ہیں جو ان کے رب نے حلال کی ہے۔ اور وہ کیا ہے؟

اِلَّا عَلٰٓى اَزْوَاجِهِـمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُـهُـمْ فَاِنَّـهُـمْ غَيْـرُ مَلُوْمِيْنَ 
مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں پر اس لیے کہ ان میں کوئی الزام نہیں۔

یعنی شادی۔ 
یہاں پر ایک اور بات کا ذکر ہے مگر فی الحال اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْعَادُوْنَ 
پس جو شخص اس کے علاوہ طلب گار ہو تو وہی حد سے نکلنے والے ہیں۔

مطلب، جو کوئی اللہ کے اس اصول کی خلاف ورزی کرے گا وہ ظالم لوگ ہیں، وہ حد سے نکلنے والے ہیں

جاری ہے۔۔۔

جمعرات, ستمبر 21, 2017

الفاظ کی نئی دنیا (صراحہ)

دوستو! ان خوبصورت الفاظ کا شکریہ

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کو تعریف پسند نہ ہو، ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے، اس کی خوبیوں کو سراہا جائے، اس کے بارے میں اچھے کلمات کہے جائیں۔۔۔ جس سے ایک جانب اس کا اعتماد بڑھتا ہے تو دوسری جانب یہ بات اس کے لیے اندرونی خوشی کا باعث بھی بنتی ہے۔

صراحہ نے اس خواہش کو ایک منفرد انداز سے حقیقت کا روپ دیا ہے  کہ آپ کو سراہنے والے کی شناخت ظاہر کیے بغیر اس کا پیغام آپ تک پہنچ جاتا ہے ۔۔۔ تو پھر استعمال کرنے والوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ اس کو مثبت انداز میں استعمال کریں ۔۔ تعریف کے ساتھ ساتھ اگر اس سے اصلاح و نصیحت کا کام بھی لیا جائے تو اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔ یاد رکھیے الفاظ کا انسان کی شخصیت پر بہت " گہرا اثر" ہوتا ہے۔ مثبت الفاظ آپ کی شخصیت کی تعمیر و ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جبکہ منفی الفاظ آپ کی شخصیت کا توازن بگاڑ دیتے ہیں۔ لفظ "صراحہ" کے معنی بھی "پر خلوص اظہار" کے ہیں۔ چاہے وہ تعریف ہو یا نصیحت ۔۔

ایک مشہور قول ہے جس کو حضرت علی رضی اللی عنہ سے منسوب کیا جاتا ہے کہ: "جس نے کسی کو اکیلے میں نصیحت کی اس نے اسے سنوار دیا، اور جس نے کسی کو سب کے سامنے نصیحت کی، اس نے اسے مزید بگاڑ دیا

تو پھر سراہیں ضرور مگر اعتدال کے ساتھ اور نصیحت بھی کریں مگر پیار کے ساتھ :) 

سیما آفتاب (http://seems7t7.sarahah.com)

بدھ, ستمبر 20, 2017

منگل, ستمبر 19, 2017

ہجرتِ مصطفی کا منظوم واقعہ



مجھے اک درد والی داستاں سب کو سنانی ہے​
نبی کی جانبِ طیبہ یہ ہجرت کی کہانی ہے​
نبی کے سب صحابہ ہی نبی پر جاں چھڑکتے تھے​
مخالف ان کی الفت دیکھ کر بے حد بھڑکتے تھے​
وہ خانہ کعبہ پیارا جس کو بیت اللہ کہتے تھے​
وہ مکہ جس میں احمد{ﷺ} اقربا کے ساتھ رہتے تھے​
وہ پیارا بندہ اللہ کا محمد{ﷺ} نام تھا اُن کا​
سخاوت عام تھی اُن کی ، محبت کام تھا اُن کا​
نہ تھا اُن کا کوئی ہمسر ذہانت میں ، شجاعت میں​
نہ تھا اُن کا کوئی ثانی صداقت میں ، امانت میں​
شرافت میں ، ولایت میں ، عبادت میں ، ریاضت میں​
نظر آتے تھے سب سے آگے میدانِ سعادت میں​
وہ ایسے عمدہ خصلت تھے کہ کل مکے میں عزت تھی​
تصور میں نہ تھا ، اُن کے مقدر میں بھی ہجرت تھی​
صحابہ سب کے سب سرکارِ عالی کے جیالے تھے​
محمد{ﷺ} پر وہ اپنی جان بھی دے دینے والے تھے​
صحابہ کافروں کے ظلم و اِیذا سہتے جاتے تھے​
انھیں یوں دیکھ کر آقا کے آنسو بہتے جاتے تھے​
نبی سہ جاتے اپنی ذات پر جو صدمہ آتا تھا​
مگر دردِ رفیقاں آپ سے دیکھا نہ جاتا تھا​
غموں کے دیس کی تکلیف سے پردیس ہے اچھا​
روانہ کردیا کچھ ساتھیوں کو جانبِ حبشہ​
ہوئے ایسے وہ سب کفارِ مکہ دل کے نابینا​
صحابہ کا انھی کے گھر میں مشکل کردیا جینا​
پریشانی بہت ہی بڑھ گئی حضرت کے سینے میں​
روانہ کردیا اپنے صحابہؓ کو مدینے میں​
پھر اک دن بیٹھے کرنے مشورہ کافر کئی سارے​
جو محسن تھا اسی سے تنگ تھے وہ عقْل کے مارے​
ابوسفیان ، عتبہ ، شیبہ ، بوجہل و امیہ تھے​
جبیر و حارث و بوالبختری ، نضر و طعیمہ تھے​
نمودار اس جگہ شیطاں تھا اک بوڑھے کی صورت میں​
ہدایت تھی مگر ان میں سے کچھ لوگوں کی قسمت میں​
شروع ان کا ہوا پھر مشورہ ، دینے لگے آرا​
ہلاکت اس کی تھی مقصود جو اللہ کا تھا پیارا​
کہا اک نے کہ کردو کوٹھری میں قید اسے بس تم​
سمجھتا تھا کہ ہوجائے گا حق یوں پھر ہمیشہ گم​
کوئی کہنے لگا مکہ سے کردو دربدر اس کو​
جلاوطنی میں ہی حل اس کا آتا تھا نظر اس کو​
مگر اس بوڑھے شیطاں نے کیا رد دونوں باتوں کو​
کہا یوں روک نا پاؤ گے اہلِ حق کے ہاتھوں کو​
کہ بھڑکائے گی ہر دل کو محمد{ﷺ} کی نظربندی​
ہدایت عام کردے گی محمد{ﷺ} کی جلاوطنی​
کہا بوجہل نے شیطانیت والے قرینے سے​
کہ اک اک منتخب ہو نوجواں ہر اک قبیلے سے​
یہ سارے دفعۃً حملہ کریں مل کر محمد{ﷺ} پر​
قبیلے سب ہی شامل ہوں گے پھر یوں قتلِ احمد{ﷺ} پر​
قبائل سے نہ بدلہ لے سکیں گے ، عافیت ہوگی​
نہ ہوں گی مشکلیں ، ہوگی اگر کچھ تو دیت ہوگی​
ہوا شیطان راضی ، حاضریں بھی خوش ہوئے سارے​
عمل کرنے چلے اس پر بِچارے عقْل کے مارے​
اِدھر مجلس ہوئی برخاست ، اُدھر وحیِ مبین اتری​
نبی پر آیتِ ’’وَاﷲُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْن ‘‘ اتری​
خدا کا حکم آیا آپ کو ہجرت ہے اب کرنی​
دعا تلقین پھر کردی گئی ’’قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ‘‘​
نبی نے آبدیدہ پوچھا ”ساتھی کون ہے میرا؟​
خدا کی اس مقدس رہ میں راہی کون ہے میرا؟“​
وہ خوش قسمت ہے اللہ کی طرف سے ہو جسے توفیق​
کہا جبریل نے ساتھی بنیں گے آپ کے صدیق​
(صدیق سے مراد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ)​
ہوا معلوم جب صدیق کو وہ روگئے یک دم​
سعادت اس قدر پائی کہ وہ خوش ہوگئے یک دم​
یقیں اس پر جنابِ عائشہ کو آج آتا ہے​
کبھی فرطِ خوشی سے بھی تو رونا آہی جاتا ہے​
سدا تیار رکھتے تھے ہر اک شے ہر گھڑی اپنی​
مہیا کردی فوراً آپ(ابوبکر) نے تب اونٹنی اپنی​
روایت واقدی کی ہے کہ اس کا نام قصواء تھا​
”محمد“ راوی کہتے ہیں کہ اس کا نام جدعاء تھا​
خدا سے عشق جو کرتے ہیں ہوتا ہے خیال ان کا​
کہ اپنے رب کے رستے میں فدا ہو جان و مال ان کا​
خدا کی راہ میں سب کچھ فدا کرتے تھے وہ پیہم​
دیے بوبکر کو لیکن نبی نے آٹھ سو درہم​
سدا بوبکر نے اسلام پر سیکھا تھا بس کھپنا​
اشارہ تھا کہ راہِ حق میں جان اپنی ہو مال اپنا​
نبی نے ورنہ تھا بوبکر کے بارے میں فرمایا​
کہ ان کے مال نے سب سے زیادہ نفْع پہنچایا​
شبِ تاریک کے پردے فضا میں ہر طرف چھائے​
نبی کا قصہ کرنے ختم کفارِ قریش آئے​
محمد{ﷺ} جوں ہی سوئیں گے کریں گے ایک دم حملہ​
سہولت ہی سے پھر تیار منصوبہ کریں اگلا​
علی سے آپ{ﷺ} نے فرمایا تم یاں آج سوجانا​
امانت کی یہ چیزیں ہیں انھیں لوگوں کو لوٹانا​
میں چلتا ہوں ، میرے بستر پہ اب تم شب بسر کرنا​
ضرر کوئی نہیں پہنچے گا ، تم ہرگز نہیں ڈرنا​
اٹھائی خاک مٹھی میں ، پڑھیں آیاتِ ’’اَغْشَیْنَا‘‘​
خدا کے حکم سے ان کے سروں پر خاک کو پھینکا​
جو ہوجائے خدا کا ہر جگہ ہوتا ہے وہ غالب​
خدا نے کافروں کی آنکھ سے ان کو کیا غائب​
ہدایت کے چمن کے پھول کھلتے گئے ، نکھرتے گئے​
کوئی نہ دیکھ پایا اور وہ دونوں گزرتے گئے​
اگرچہ سب نبی کی جان کے دشمن ہی رہتے تھے​
کسی کے گھر میں گھس جانے کو پر معیوب کہتے تھے​
چناں چہ صبح تک کفار نے گھیرے رکھا وہ گھر​
نظر آئے علی پھر ان کو پیغمبر کے بستر پر​
ہوا اس دم فضا میں خندہ زن مجمع صداقت کا​
ان اندھوں کو جب اندازہ ہوا اپنی حماقت کا​
حرم میں لے گئے حضرت علی کو ، خوب دھمکایا​
یہاں سے پھر ہر اک بوبکر کے گھر میں چلا آیا​
مشقت سب سے بڑھ کر ہے وطن کو چھوڑنے والی​
رسول اللہ نے مکہ کی جانب اک نظر ڈالی​
محمد{ﷺ} کی زباں سے اس گھڑی جاری ہوئے کلمے​
ہیں جن کے سامنے پھیکے چمن کے سب کے سب نغمے​
زمیں تُو سب سے بہتر ، رب کو تُو محبوب ہے بے حد​
ہے عمدہ شہر تو سب سے ، مجھے مرغوب ہے بے حد​
نکالا گر نہ جاتا تجھ سے ہرگز نا نکلتا میں“​
فضیلت خوب یوں اب ہوگئی معلوم مکہ میں​
نہیں تھا کوئی معمولی محمد مصطفی{ﷺ} کا گھر​
نہیں تھا چھوڑنے جیسا یقینًا وہ خدا کا گھر​
جہاں چالیس برسوں تک کسی کا وقت ہو گزرا​
جہاں ہو خانداں رہتا کسی انسان کا پورا​
وطن کو چھوڑ کر اپنے خدا کی راہ میں بڑھنا​
بہت مشکل ہے اپنے گھر سے بے گھر ہوکے چل پڑنا​
زمین و آسماں نے اس گھڑی دیکھا عجب منظر​
محمد{ﷺ} چھپ رہے تھے آہ غارِ ثور کے اندر​
نبی کے واسطے صدیق گویا بن کے پرچھائیں​
کبھی آگے ، کبھی پیچھے ، کبھی دائیں ، کبھی بائیں​
نظر فرماؤ اے عشاق! اے مجنوں! یہاں آؤ​
محبت ایسی دیکھی ہے کبھی تم نے تو بتلاؤ​
پھر اتنے میں وہ غارِ ثور کے نزدیک آپہنچے​
نبی{ﷺ} سے پہلے ہی صدیق فوراً اس میں جا پہنچے​
گئے اندر ، صفائی کی ، نبی{ﷺ} کو پاس بلوایا​
اسی کو میرے رب نے ’’اِذْ ہما فِی الْغَارِ‘‘ فرمایا​
عمر کے سامنے جب غار کا یہ تذکرہ ہوتا​
تو یہ سن کر عمر فاروق کا یوں تبصرہ ہوتا​
وہ اک صدیق کی شب کی غار کے اندر جو رہ کر تھی​
عمر کی عمر بھر کی کُل عبادت سے وہ بہتر تھی​
خدا کے حکم سے مکڑی نے جالا تن دیا فوراً​
نظر جالے پہ ڈالی اور آگے بڑھ گئے دشمن​
نبی{ﷺ} نے غمزدہ بوبکر کو دیکھا تو فرمایا​
جسے سن کر دلِ صدیق نے بے حد سکوں پایا​
نہ کر یوں غم کہ ہم دونوں کا تو اللہ وارث ہے​
اگرچہ ہم اکیلے ہیں ، مگر اللہ ثالث ہے​
ہمارے ساتھ اللہ ہے ، نہ غم کر اے میرے ساتھی!​
پھر اتریں آیتیں ’’ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اﷲَ معنا‘‘ کی​
کیا اعلان پھر کفار نے جو ان کو لائے گا​
تو وہ اس کام پر انعام میں سو اونٹ پائے گا​
رہے دونوں یہ چھپ کر تین دن تک غار کے اندر​
جب آئی چوتھی شب یہ چل پڑے پھر اپنی منزل پر​
مدینہ بن گیا پھر مصطفی کے نور کا مسکن​
ہدایت کا وہ پھیلا نور ، روشن ہوگیا گلشن​
یہاں سے پھر ہدایت کو خدا نے عام فرمایا​
محمد{ﷺ} نے یہاں کام اپنا سرانجام فرمایا​
سلام ان پر جنھوں نے چھوڑا گھر ، مکہ سے ہجرت کی​
سلام ان پر جنھوں نے ان کی جان و دل سے نصرت کی​
نبی کا قصہ پڑھ کر دل میں اک وجدان ہے طاری​
تمنا ہے کہ روزِ حشر ہو اعلانِ رب جاری​
محمد{ﷺ}اور ان کے سب صحابہ آئیں جنت میں​
محبت کرنے والے ساتھ ان کے جائیں جنت میں​
ہمارے واسطے قربانی دینا ان کا شیوہ ہے​
اسامہؔ بھی انھی کی الفتوں کا نام لیوا ہے​

سوموار, ستمبر 18, 2017

حجاج کرام کے لیے الوداعی نصیحتیں - خطبہ جمعہ مسجد نبوی


فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 24-ذوالحجہ-  1438کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "حجاج کرام کیلیے الوداعی نصیحتیں" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ عبادت گزاری بہت ہی اعلی مقام ہے اور اسی مقام کے حصول میں حجاج کرام نے اللہ تعالی کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے حج ادا کیا ، اللہ تعالی کی جانب سے اس کرم نوازی اور عنایت پر سب حجاج کو اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے، نیز اللہ تعالی سے پر امید رہیں کہ اللہ تعالی ان کا حج قبول فرما کر  انہیں گناہوں سے پاک صاف فرما دے گا، انہوں نے کہا کہ یہ بہت ہی اچھا ہو گا کہ جس طرح اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے حجاج بڑی محنت اور مشقت کے بعد حج کیلیے یہاں پہنچے ہیں اسی طرح حجاج اپنی بقیہ زندگی بھی اللہ کے احکامات کی تعمیل میں گزاریں گے، اور حج سے سیکھے ہوئے سبق کو اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنائیں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ حج کے بعد زندگی میں مثبت تبدیلی حج کی قبولیت اور حج کے مبرور ہونے کی علامت ہے،

خطبے سے منتخب اقتباس پیش خدمت ہے:

مسلمانو!

عبدیت اور بندگی  انتہائی اعلی اور ارفع ترین مقام ہے؛ چنانچہ چند دن پہلے حجاج کرام نے ایک عظیم ترین عبادت سر انجام دی، جو کہ قربِ الہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ حجاج کرام کو ان کا حج مبارک ہو اور عبادت گزاروں کو ان کی جدو جہد اور عبادت مبارک ہو۔

حجاجِ بیت اللہ !  اللہ تعالی نے آپ کو حج کی توفیق دی اگر اس پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کی کرم  نوازی پر حمد بیان کریں تو  اللہ کی نعمتیں تمہیں مزید ملیں گی، خیر و برکت حاصل کرو گے، اس کی نوازشیں پاؤ گے؛ 
{وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ}
 اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ صرف اللہ کی طرف سے ہے۔[النحل: 53]

بیت العتیق کا حج کرنے والو! تم بہت دور دراز کا سفر کر کے آئے ہو، تم نے بڑے فاصلوں سے تلبیہ کہنا شروع کیا تھا، اب تمہارا حج مکمل ہو چکا ہے، وقوف عرفہ کے بعد حج کے موقع پر بڑھے ہوئے بال اور ناخن وغیرہ تم نے کاٹ لیے ہیں، پھر اس کے بعد دیگر شعائر حج بھی مکمل کر لیے ہیں، آپ اس وقت اپنے علاقوں میں جانے کے لیے تیاری کر رہے ہو، اس لیے پھر سے گناہوں میں ملوث مت ہو جانا، گناہوں کا لبادہ دوبارہ مت اوڑھنا، غیر اخلاقی امور سے آلودہ مت ہو جانا۔  نیکیوں کی عمارت کھڑی کرنے کے بعد اسے منہدم مت کر دینا، اپنی نیکیوں کی جمع پونجی تباہ مت کرنا اور اپنے اندر جو مثبت تبدیلیاں تم نے پیدا کر لی ہیں انہیں ختم مت کر دینا۔

حج مبرور کی علامات ہوتی ہیں، حج قبول ہو جائے تو اس کے اثرات واضح ہو تے ہیں؛ چنانچہ حسن بصری رحمہ اللہ سے  پوچھا گیا:" کون سا حج مبرور ہوتا ہے؟"  تو انہوں نے کہا: " حج مبرور وہ ہے جس کے بعد آپ دنیا سے بے رغبت ہو جائیں، اپنی آخرت کی فکر کریں، حج تمہیں کسی بھی مہلک عمل سے باز رکھے، قدم ڈگمگانے والی کسی بھی جگہ پر تمہاری حفاظت کرے، اور حج کی وجہ سے تم مزید نیکیاں کرنے لگو اور اچھے کام سر انجام دو"

مسلمانو!

کتنی ہی اچھی بات ہے کہ حجاج کرام حج مکمل کرنے کے بعد اپنے اپنے علاقے  اور ملک میں  اعلی اخلاقیات لے کر جائیں، متوازن سوچ کے ساتھ واپس ہوں، اپنا اسلامی وقار محفوظ بنانے  کی معرفت رکھتے ہوں، عزت آبرو کو تحفظ دینے والے ہوں، بہترین اخلاقیات  اور خوبیوں کے مالک ہوں۔

انتہائی عمدہ ہوگا کہ حجاج اپنے ساتھ بیٹھنے والوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے ہوں، اپنے بچوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے ہوں، ان کا دل پاک صاف ہو۔ حق بات، عدل اور انصاف پر گامزن رہنے والے ہوں، اپنے ضمیر کو ظاہر سے بھی زیادہ بہتر بنا لیں، رنگ روپ سے زیادہ اپنے دل کو خوبصورت بنا لیں۔

یقینی بات ہے کہ جو شخص بھی حج کرنے کے بعد مذکورہ صفات کے ساتھ واپس ہو تو اس نے حقیقی معنوں میں حج سے سیکھا ہے، اسے حج کے رموز و اسرار کا فائدہ ہوا ہے۔

حجاج کرام کے تلبیہ کہنے سے لیکر حج مکمل کرنے تک سارے کے سارے اعمال  حاجی کو اللہ تعالی کا تعارف کرواتے ہیں، اور اللہ تعالی کے حقوق کی یاد دہانی بھی کرواتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔

تو جس شخص نے اللہ تعالی کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے حج  کا تلبیہ پڑھا وہ حج کرنے کے بعد کتاب و سنت اور شریعت کی مخالفت پر کیسے لبیک کہہ سکتا ہے!؟ اس لیے جس شخص نے حج کے لیے اللہ تعالی کی صدا پر لبیک کہا تو وہ ہر جگہ اور ہر وقت میں اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل کے لیے لبیک کہہ دے، چاہے وہ کہیں بھی  ہو ۔

اللہ کے بندے! لہو و لعب میں مشغول ہو کر  خیر و بھلائی اور رحمت بھرے لمحات ضائع کرنے والے!

 کیا تمہیں حجاج، معتمرین اور عبادت گزاروں کے قافلے نظر نہیں آئے؟!

کیا تم نے  کپڑے اتار کر احرام باندھنے والے نہیں دیکھے؟!

کیا تم نے گڑگڑانے والوں کے اٹھے ہوئے ہاتھ نہیں دیکھے؟!

کیا تمہیں تائب ہونے والوں کے آنسو نظر نہیں آئے؟!

کیا تمہیں تلبیہ، تکبیریں اور لا الہ الا اللہ کا ورد کرنے والوں کی صدائیں سنائی نہیں دیں؟!

تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اس دنیا کے مطلق طور پر افضل ترین ایام  [ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن]گزر گئے اور تم اپنی موج مستی میں جکڑے ہوئے رہ گئے!؟

صبح  و شام گناہوں میں لت پت رہنے والے!

توبہ کو آج یا کل  تک مؤخر کرنے والے!

ہوس پرستی کی وجہ سے سنگ دل ہو جانے والے!

جہالت کی وجہ سے پتھر ہو جانے والے!

شہوت پرستی میں جکڑے جانے والے!

قبر کی اس رات کو یاد کر جب وہاں تم تنہا رات گزارو گے!

توبہ میں تاخیر مت کرو؛ کیونکہ ابھی مہلت باقی ہے۔

اس سے پہلے تدارک کا موقع ہاتھ سے نکل جائے کمی کوتاہی جو رہ گئی ہے اسے پورا کر دو ۔

گناہوں ، خطاؤوں سے باز آ جاؤ؛ کیونکہ (اللہ تعالی دن کے وقت ہاتھ پھیلاتا ہے تا کہ رات کے اندھیرے میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے اور رات کے وقت اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تا کہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے۔ یہ معاملہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا، گناہ سے توبہ کر لینے والا ایسا ہے کہ گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں!)

یا اللہ! حجاج، زائرین اور معتمرین کی حفاظت فرما، یا اللہ! حجاج، زائرین اور معتمرین کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کی عبادات قبول فرما، اور انہیں ہمہ قسم کی کوتاہیوں سے پاک فرما، یا اللہ! ان کی عبادات قبول فرما، اور انہیں ہمہ قسم کی کوتاہیوں سے پاک فرما، یا اللہ! ان کے درجات بلند و بالا فرما، یا اللہ! ان کی تمام تر تمنائیں اعلی ترین انداز میں پوری فرما، یا اللہ! انہیں انتہا درجے کی خیر و بھلائی عطا فرما، یا اللہ! انہیں بلند درجات عطا فرما، یا اللہ! ان کے حج کو مبرور بنا دے، ان کی جد و جہد کی قدر فرما، اور ان کے گناہوں کو معاف فرما۔

یا اللہ! انہیں ان کے علاقوں ، گھروں اور اہل خانہ تک خیریت اور سلامتی کے ساتھ پہنچا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو  قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو شرف قبولیت سے نواز، یا کریم! یا قریب! یا مجیب! یا رحیم!

جمعہ, ستمبر 15, 2017

میرا قبلہ

~!~ میرا  قبلہ ~!~

میری زندگی
اور اس سے وابستہ ہر شے

میری ممتا اور رفاقت
میری محبت اور نفرت
میری پسند اور ناپسند

میری سوچیں
باتیں
میرے شغل اور صلاحیتیں
خوشی اور دکھ کے لمحات میں
اور ان کے درمیاں گزرے اوقات میں

کیا ہر گھڑی خالص رب ہی کے لیے ہے؟
کیا یہ سب کچھ اس قابل بھی ہے؟

کہیں کوئی عبادت دکھاوا تو نہیں؟
کہیں ان مراسم میں 'ریا' تو نہیں؟

زندگی کا ہر ایثار
ہر قربانی
میری تمام تر جانفشانی

کیا سب کا رخ رب کی طرف بھی ہے؟
کیا میرا قبلہ درست بھی ہے؟

ابراہیمؑ کی سنت کو ادا کرتے وقت
ابراہیمؑ کی زندگی پیش نظر بھی ہے؟


تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ المؤمنون ۔۔۔ از نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ -1

تدبر القرآن
سورۃ المؤمنون
حصہ -1

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے واضح طور پر ہمیں وہ سب راستے وہ سب اصول بتا دیے ہیں جس کی پیروی کر کے ہم کامیابی تک پہنچ سکتے ہیں۔ اور وہ کامیابی کیا ہے؟ 
"ہمیشہ قائم رہنے والا گھر، جہاں پر رحمتیں، راحتیں، خوشیاں کبھی ختم نہ ہونگی۔ ♥️

ہر شخص کامیابی کے پیچھے دوڑ رہا ہے، وہ کچھ بھی حاصل کرلے تو کچھ عرصے بعد اس سے بہتر کی چاہ میں دوڑنے لگ جاتا ہے اور جو اس کے پاس موجود ہوتا ہے وہ اس سے بیزار ہوجاتا ہے۔ پھر وہ خواہش کرتا ہے کہ اس کو اس شے سے بھے بہتر ملے۔ جیسے اگر آپ کسی کمپنی میں اچھی ملازمت کر رہے ہیں تو آپ ہمیشہ اسی پوسٹ پہ نہیں رہنا چاہیں گے بلکہ خواہش کریں گے کہ آپ کی ترقی ہوجائے۔ ہے نا؟ 

یہ چیز اس دنیا میں موجود ہے، بہتر کی چاہت۔ یہ اسی دنیا کی لالچ ہے کہ انسان ایک مقام پر پہنچ کر اس سے آگے کا سوچنے لگ جاتا ہے۔ اسی لیے ہوتا یہ ہے کہ ہم انسان مسلسل کامیابی کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں، حتیٰ کے موت ہم سے جا ملتی ہے اور تب بھی ہماری خواہشات پوری نہیں ہوئی ہوتیں۔

لیکن وہ شخص جو جنت پہنچ جائے اس نے سچ میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ جب وہ جنت میں داخل ہوگا تو وہ اس سے آگے کی چاہت نہیں کرے گا۔ کیونکہ جنت کامیابی کی سب سے بڑی، آخری حد ہے۔ ایک انسان کے لیے اس سے آگے کچھ بھی نہیں ہے۔ اور یہ مقام کن کے لیے ہے؟ 

"مومنون کے لیے"

اللہ نے فرمایا:

 قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُونَ 
"بےشک فلاح پاگئے ایمان والے"

یعنی، یہ ہیں وہ لوگ جو جنت تک پہنچ جائیں گے۔ یہ ہیں وہ لوگ جو وہاں پہنچ کر اور کسی شے کی چاہت نہیں کریں گے۔ کیونکہ جنت خواہشات کا گھر ہے۔ لیکن وہاں پہنچنے کے لیے ہم سب کو محنت کرنا ہوگی۔ 
اور وہ محنت کے کام کیا ہیں؟

پہلا کام: انسان کے اندر ایمان ہونا لازمی ہے

دوسرا کام:
اَلَّذِینَ ھُمْ فِی صَلَاتِھِمْ خَاشِعُونَ 🍂
وہ جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں

جن کی نماز میں خشوع ہوتا ہے؛ یعنی وہ صرف فرض ادا نہیں کرتے بلکہ وہ بہترین طریقے سے پڑھتے ہیں، عاجزی کے ساتھ، اللہ کے آگے جھُک کر، اس سے ڈرتے ہوئے۔ وہ اپنے رب سے ہمکلام ہورہے ہوتے ہیں۔ ان کی نماز بےمعنی نہیں ہوتی۔

ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا: 
اللہ تعالی نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر کوئی ان کے لیے صحیح سے وضو کرتا ہے، انہیں مقررہ وقت پر بہترین طریقے سے اللہ کے آگے جھک کر ادا کرتا ہے، تو اللہ گارنٹی دیتا ہے کہ وہ اسے معاف کردے گا"

کس کی معافی کی گارنٹی دی جارہی ہے؟ وہ شخص جو پانچ نمازیں صحیح طریقے سے ادا کرتا ہے۔ اور اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو اس کے لیے کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ اگر اللہ چاہے تو اسے معاف کردے اور اللہ چاہے تو نہ کرے۔

سو، اَلَّذِینَ ھُمْ فِی صَلَاتِھِمْ خَاشِعُونَ
نماز میں خشوع کا ہونا جنت تک پہنچا دیتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ نماز کامیابی کا راستہ ہے۔ اسلیے نہ صرف نمازی بننے کی کوشش کریں بلکہ کوشش کریں کہ آپ کی نماز بہترین ہو تاکہ آپ جنت میں جگہ حاصل کرسکیں۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو پہلی چیز میری امت سے چھین لی جائے گی وہ خشوع ہے، ایک وقت آئے گا جب آپ کو ایک شخص میں بھی خشوع نہیں ملے گا۔
یعنی خشوع اتنا کم ہوجائے گا لوگوں میں کہ وہ نماز تو ادا کر رہے ہونگے مگر ان میں عاجزی نہیں ہوگی، ان کا دل اور دماغ ساتھ نہیں ہوگا، ان کا دھیان نماز میں بالکل بھی نہیں ہوگا۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں۔ 

اللہ ہمیں ایسے لوگوں میں سے کبھی نہ بنائے۔ آمین

جاری ہے۔۔

جمعرات, ستمبر 14, 2017

کل کا انتظار نہ کیجیے

کل کا انتظار نہ کیجیے

جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو میرے کچھ دوست دوسرے شہروں سے آئے ہوئے تھے۔ ان میں ایک کا تعلق گائوں سے تھا۔ اسے  یہ خوف بہت زیاد ہ رہتا تھا کہ اگر میں ہوسٹل سے نکل کر شہر میں جائوں گا تو گم ہو جائوں گا، کہیں کوئی مجھے اغوا نہ کرلے۔ وہ اکثر مجھے کہا کرتا کہ میں لاہور میں نیا ہوں، آپ مجھے لاہور کی سیر کرا دیں۔ میں اس کے ساتھ وعدہ کرتا کہ ایک دن میں تمہیں ضرور لاہور دکھائوں گا۔ لیکن وہ وعدہ وعدہ ہی رہتا۔

ایک دفعہ ہم سب دوستوں نے اس کے ساتھ پکا وعدہ کر لیا کہ جب چھٹیاں ختم ہوں گی تو ہم لاہور شہر دیکھنے چلیں گے۔ چھٹیاں ہوئیں، ختم ہوگئیں، کالج کی کلا سیں شروع ہو گئیں، لیکن وہ کلاس سے غیر حاضر تھا۔ ہم بڑے حیران ہوئے کہ وہ کہاں چلا گیا۔ اسی کالج میں اسی کے گائوں کا ایک سینئرکلاس فیلو تھا۔ ہم تمام دوست مل کر اس کے پاس گئے اوراسے کہا کہ ہمارا دوست کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا کہ چھٹی کے تیسرے دن اس کا انتقال ہوگیا۔ ہم سب بہت حیران ہوئے اور پوچھا، وہ کیسے۔ اس نے کہا کہ چھٹی کے تیسرے دن وہ سٹرک کراس کر رہا تھا کہ ایک بس سے اس کی ٹکر ہوئی اور وہ فوت ہوگیا۔ یہ سن کر ہم سب سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ہمیں اس کی موت کا بہت دکھ ہوا، مگر ہمیں اس سے بھی زیادہ دکھ اس بات کا ہوا کہ ہم اس کی خواہش پوری نہ کرسکے۔ ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اس طرح کے واقعات زندگی میں ایک دفعہ نہیں ہو تے، کئی دفعہ ہو تے ہیں۔ 

ایسے طلبہ کثیر تعداد میں ہیں جو کہتے ہیں کہ جب اگلی کلاس میں جائیں گے تو پھر محنت کریں گے۔ لیکن جب وہ اگلی کلاس میں جاتے ہیں تو پھر یہی کہتے ہیں کہ اگلی کلاس میں جاکر پھر محنت کریں گے۔
 اسی طرح، بڑی عمر کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم جلد نماز پڑھنا شروع کریں گے، لیکن اْن کی نمازیں شروع نہیں ہوتیں۔
 بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نیک ہوجائیں گے، لیکن وقت گزرتا رہتا ہے اور وہ نیکیاں نہیں کماپاتے۔ 
ہم زندگی میں بے شمار مرتبہ پلان کرتے ہیں کہ ہم یہ کریں گے، ہم وہ کریں گے، لیکن نہیں کرتے۔ جب وقت گزرتا ہے تو پھر پچھتاوا بن جاتا ہے۔

ہم جب کبھی کوئی تقریر یا لیکچر سنتے ہیں تو اس وقت ہماری موٹیویشن کا گراف بہت اونچا ہوجاتا ہے، لیکن جیسے ہی اگلا دن آتا ہے، وہی روٹین شروع ہوجاتی ہے۔ یادرہے کہ موٹیویشن کا مطلب ہوتاہے کہ انتظار نہیں کرنا، ابھی فیصلہ کرنا اور شروع کر دینا ہے۔ اکثر لوگ اپنے والدین کا ادب نہیں کرتے۔ جب وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو پھر وہ برسی مناتے ہیں، قبر پر پھول چڑھا تے ہیں، ان کے لیے قرآن خوانی کراتے ہیں، لیکن یہ سب کچھ کرنے سے والدین واپس نہیں آسکتے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اْن کے لیے ثواب کی محفلیں ہونی چاہئیں، مگر اْن کے ہوتے ہوئے ان کی بات نہیں مانی، ان کا کہنا نہیں مانا، ان کو راضی نہیں کیا، انھیں خوش نہیں کیا، ان کے دل کو ٹھنڈک نہیں پہنچائی تو پھر اْن کے جانے کے بعد ان چیزوں کی اتنی اہمیت نہیں رہتی۔ دنیا میں تو آپ اْن کا دل دکھاچکے۔

جب دل میں یہ بات آئے کہ میں تھوڑی دیر تک کام کروں گا تو فوری طور پر اپنے  سینے پر ہاتھ ر کھیں اور اپنے آپ سے کہیے ابھی شروع کرنا ہے۔ حضرت شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں، ’’جو کہتا ہے کہ میں کل سے شروع کروں گا، اس کا کل کبھی نہیں آتا۔‘‘ کیونکہ جنھیں کرنا ہوتا ہے، وہ کل کا انتظار نہیں کرتے۔ اپنے ہر دن کو نئی زندگی سمجھئے، کیونکہ جو بھی دن شروع ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے نعمت ہوتا ہے۔ اس دن کی ہر شے ہمارے نام ہوتی ہے۔

دس کام
دس کام سوچ لیجیے جیسے پڑ ھنا، اچھا انسان بننا، والدین کا احترام کرنا، نماز پڑھنا، کسی کے کام آنا، اخلاق بہتر بنانا، مسکرانا، سلام کرنا، کسی کا دل نہ دکھانا اور اپنی زندگی کو نئی زندگی بنانا وغیر ہ وغیرہ۔ ان کاموں کے بارے میں فوری فیصلہ کیجیے اور شروع کر دیجیے۔ کسی کام کی شروعات میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ کام کو شروع تو ایک فرد کرتا ہے، لیکن اس کے دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی یہ کام شروع کردیتے ہیں۔ نصیحت کرنے سے تبدیلی نہیں آتی، عمل کرنے سے تبدیلی آتی ہے۔ آپ اگر محنتی ہیں تو کچھ عرصہ بعد آپ مثال بن جائیں گے۔

  بعض اوقات فیصلہ چھوٹا لگتا ہے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ وہ فیصلہ چھوٹا نہیں تھا بلکہ بہت بڑا فیصلہ تھا۔ دنیا میں جتنے بھی رفاہی کام ہیں، وہ چھوٹے سے عمل سے شروع ہو ئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بہت بڑے بن گئے۔ جیسے عبدالستار ایدھی جنھوں نے اپنے کام کا آغاز ایک ریڑھی سے کیا، آج گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ان کا نام شامل ہوگیا۔

کوئی بھی کام شروع کریں تو پہلے دو نفل ضرور پڑ ھیں اور اللہ تعالیٰ سے اس کام کی کامیابی کی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگیں کہ اے اللہ مجھے استقامت دے اور میری ہمت بڑی کر دے، کیونکہ ہمت بڑھنے سے مسئلے چھوٹے ہوجاتے ہیں۔ جب دل میں اپنے آپ کو بدلنے کا سوال اٹھے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے۔ اپنی موجودہ زندگی کے احساسِ زیاں کا پیدا ہونا بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کویہ احساس دے دیتا ہے، وہ فوری طور پر اپنے آپ پر غور کرتے ہیں اور پھر عمل کا فیصلہ کرتے ہیں اور کام شروع کردیتے ہیں۔

بدھ, ستمبر 13, 2017

قسمت--- حکمت


"کیا ہوا؟"

"اپنی قسمت کو رو رہا ہوں۔۔"

"قسمت کو رویا نہیں کرتے ڈئیر۔۔۔ قسمت کو جیتے ہیں، خوشی کے ساتھ۔۔۔ قسمت وہ راستہ ہے جو رب نے ہمارے لیے منتخب کیا۔۔ تمام زاویوں، پہلو، عناصراور اچھائی/برائی کو مد نظر رکھ کے۔"

"تو پھر آپ بتا دیں کہ کس چیز کو روتے ہیں؟"

"غلطیوں کو۔۔۔ نیتوں کو۔۔ اعمال کو۔"

"ہمم۔۔ اور ان spilt milks پہ رونے کا فائدہ؟"

"کیونکہ یہی وہ زاویے، پہلو، عناصر اور اچھا/برا ہیں۔ جو ہماری قسمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔"

"ہمم۔۔۔"

"اور سب سے اہم بات۔۔"

"وہ کیا؟"

" انہیں صرف روتے نہیں۔۔۔ درست بھی کرتے ہیں۔۔"

"پھر وہ جو کہتے ہیں کہ قسمت اللہ نے لکھ دی، ضرور کوئی حکمت ہوگی، وغیرہ وغیرہ؟؟"

" حکمت وہ زاویہ، پہلواور عنصر ہے جو اللہ کا دائرہ کار ہے۔"

"پر وہ ہم عامیوں کی سمجھ سے باہر کیوں ہے؟"

" بیٹا :) ۔۔۔ اگر وہ ہم عامیوں کی سمجھ میں آنے والی چیز ہوتی، تو حکمت کیوں کہلاتی؟ "


منگل, ستمبر 12, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 12 ستمبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

جب تک آپ کسی کو معاف نہیں کرتے
تب تک آپ نفرت، بدلے اور غصے کا بوجھ اُٹھا کر پھرتے رہتے ہیں۔۔

دوسروں کو معاف آپ اُن کے لیے نہیں، اپنا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

جبر و قدر، تقدیر اور لوحِ محفوظ کے سائنسی رخ



کیا انسان اپنے فیصلوں اور عمل میں مکمّل آزاد ہے؟
کیا انسان کے اعمال پہلے سے متعیّن ہیں؟
کیا ہر انسان کے سارے اعمال لوح ِ محفوظ میں پہلے سے لکھے ہوئے ہیں؟
یہ سوال اکثر سوچنے والوں کو بے چین کرتا ہے کہ تقدیر کیا ہے؟ کیونکہ اگر تقدیر تحریر شدہ ہے اور ہر عمل لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہے تو انسان تو مجبور ِمحض ہوا کہ وہی کرے گا، پھر جزا اور سزا تو بےمعنی ہوئے! سائنس تقدیر کو نہیں مانتی جبکہ یہ عقیدہ مذہب کا ایک اہم جز ہے۔ آئیں اس پر جدید علمی پیش رفت کی روشنی میں غور کرتے ہیں کہ تقدیر کے حوالے سے حقیقت کیا ہوسکتی ہے اور جزا اور سزا کا اسکوپ یعنی دائرۂ کار کیا ہے؟

حقیقت آشنائی کی اساس اگر صرف حواس اور اس کے تجربات ہیں تو جدید سائنس سے زیادہ حقیقت پسند کوئی نہیں لیکن اگر حقیقت آشنائی کی بنیاد عقل ہے تو جدید سائنس ادھوری سچّائی ہے۔ کائنات کی سچّائیاں جاننے کے لیے انسان کو اپنے حواس سے ایک درجہ اوپر ہو کر حقائق کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ کسی بھی مظہر کا ٹھوس عقلی جواز ہی اس کی سچّائی کی دلیل ہوتا ہے۔ تقدیر کا تعلّق مستقبل سے ہے یعنی تقدیر وہی جان سکے گا اور لکھ سکے گا جس میں مستقبل میں دیکھنے کی قوّت ہو۔

آزاد ارادہ یا مرضی: Free-Will
جزا اور سزا کی بنیاد عمل پر ہے مگر عمل سے پہلے ارادہ ہوتا ہے، یہ بنیادی عنصر ہے جس پر عمل کی بنیاد پڑتی ہے۔ ہمیں جاننا ہے کہ شعور ,(consciousness) ارادہ (intent)، اور خواہش (desire) کیا ہیں؟ خواہش خیالات  سے ابھرتی ہے یا خیال خواہش سے پیدا ہوتا ہے؟ یہاں مذہب ان تمام کا منبع روح کو بتاتا ہے جبکہ سائنس اس کی نفی کرتی ہے۔ لیکن اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سائنس شعور، ارادہ، خواہش، کو تو جھٹلا نہیں سکتی کہ سائنسدان خود اس کا تجربہ کر تا ہے، اس لیے ان سب کو مائنڈ (mind) کا نام دیا گیا۔ مگر مائنڈ کہاں ہوتا ہے، اس کا بھی سائنس کو نہیں پتہ!

جدید سائنسی اور تحقیقی نظریۂ یہ ہے کہ انسانی خیالات بھی طبعی قوانین کا نتیجہ ہیں، گویا ہم جو کچھ سوچتے ہیں یا جو خیال آتا ہے وہ طبعی یا کیمیائی قوانین کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی کیمیائی عمل خیالات کو جنم دیتے ہیں جو عمل پر منتج ہوتا ہے۔ اب اگر ہمارے خیالات اور اعمال ان معیّن قوانین کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں تو پھر سائنسی سوال یہ ہے کہ ہم اپنے عمل میں کتنا آزاد ہیں؟ اس موضوع پر موجودہ دور کے تسلیم شدہ عظیم سائنسدان اسٹیون ہاکنگ، (ان کے اقوال کا خاص طور پر اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کہ یہ ایک مستند ملحد ہیں) اپنی حالیہ کتاب دی گرینڈ ڈیزائن میں لکھتے ہیں کہ:

"یہ تصّور بہت دشوار ہے کہ ہماری مرضی کس طرح آزادنہ طور پر کام کرسکتی ہے جبکہ ہمارے رویّے طبعی قانون سے ہی متعین ہیں۔ گویا بظاہر ہم سب حیاتی روبوٹ سے زیادہ کچھ نہیں، اور آزاد مرضی محض ایک دھوکہ ہے۔"

اسی سائنسداں کی انسانی رویّے کی پیشگوئی سے متعلّق ایک اور تشریح کا مطالعہ کریں جو بذاتِ خود ایک عظیم تر اور ہمارے شعور کی پہنچ سے ماورا سپر سائنس کا بالواسطہ اعتراف ہے۔

" یہ نتیجہ اخذ کرنے کے باوجود کہ انسانی رویّے فطری قوانین کے طابع ہوتے ہیں، یہ بات بھی معقول لگتی ہے کہ اس کو سمجھنے کا عمل اتنا پیچیدہ اور اتنی زیادہ جہتوں پر مشتمل ہوگا کہ کوئی بھی پیشگوئی تقریباً ناممکن ہوگی، اس کے لیے انسانی جسم میں موجود ہزار کھرب کھرب خلیات thousand-trillion-trillion-molecules میں ہر ایک کی ابتدائی کیفیت کی معلومات درکار ہوں گی، پھر اتنی بڑی تعداد کی مساوات equations کو حل کرنے کے لیے چند ارب سال درکار ہوں گے!"

ہمارے موضوع کے حوالے سے جناب اسٹیون ہاکنگ کا یہ اعتراف بہت اہم ہے کہ سائنس اگلے لمحے کی پیشگوئی سے بھی قاصر ہے، لہٰذا اگر کچھ احباب سائنس پر ہی بھروسہ کرتے ہیں اور اسی کو اپنا رہبر تسلیم کرتے ہیں تو یہ جان لیں کہ اگلے لمحے یا آئندہ کی پیش گوئی سائنس کے نزدیک ایک ناممکن کام ہے۔ اب دوسری طرف آسمانی کتاب، خالق کائنات کے پیغمبران اور ولی اللہ کی پیشگوئیوں پر غور کریں۔ یہ تو سامنے کی حقیقت ہے جو کتابوں اور اب انٹرنیٹ پر بکھری ہوئی ہیں، جس میں مستقبل قریب کے بلکہ ہزار سال آگے کے واقعات کے اشارے دیے گئے جو درست ثابت ہوتے چلے آ رہے ہیں، کہ جس کی گواہی تاریخ کے صفحات بھی دے رہے ہیں۔ اُس علم کی قوّت اور وسعت کا ادراک انسان تو نہیں کر سکتا، جس نے ڈیڑھ ہزار سال آگے کی پیشگوئی کردی۔ وہ علم کیا ہوگا؟ اس علم کی قوّت کیا ہوگی؟ کیا سائنس اس علم کے پیرایوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جبر و قدر اور تقدیر کا سائنس سے کوئی تعلّق نہیں کیونکہ یہ سائنس کی فیلڈ نہیں ہے، لیکن مذہب اس بارے میں دعویٰ کرتا ہے کہ نہ صرف انسان کی تقدیر بلکہ کائنات کے رموز بھی تحریر شدہ ہیں۔گویا تقدیر تو ہمارا آئندہ کل ہے، ایک انجانا مستقبل۔ لیکن ہمارا دین اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ یہ انجانا صرف انسان کے لیے ہے، انسان کے خالق کے لیے نہیں۔ بس یہیں پر آ کر کچھ احباب کنفیوز ہوجاتے ہیں اور اپنے آپ کو بےبس سمجھتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں، وہ ایک جبر ہے کیونکہ ہم پہلے سے متعیّن کیے اور لکھے ہوئے پر عمل کرنے پر مجبور ہیں۔ کیا یہ گمان صحیح ہے؟

اس سلسلے میں ایک واقعہ کا تذکرہ اہم ہے جس کے مطابق کچھ ایسا ہوا کہ ایک یہودی ایک کٹورے میں پانی لیکر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح پوچھتا ہے کہ اے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم بتائیے کہ میری تقدیر میں کیا ہے؟ میں یہ پانی پیوں گا یا پھینک دوں گا؟ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ تو پانی پیے گا تو وہ پھینک دیتا یا اس کے معکوس، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تو کرے، وہ تیری تقدیر! بس یہی نکتہ سمجھنے کا ہے۔

...................................................................................................

یہ جملہ ہم اکثر سنتے ہیں کہ جو قسمت میں لکھا ہے وہ تو ہونا ہے۔ قسمت کے متعلّق دھندلے عقائد کی وجہ سے اکثر لوگ کوشش نہیں کرتے بلکہ سب قسمت پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جو لکھا ہے وہ ہوجائے گا۔ اس سوچ نے نقصان پہنچا کر اکثر مسلمانوں کو بےعمل بنایا۔ ہمارا مشیّت یعنی اللہ کی مرضی کا تصور ابہام لیے ہوئے ہے۔ اللہ ہر وقت ہمارے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا بلکہ اپنی مشیّت کو ایک مربوط پروگرام کی شکل دیکر لوح میں محفوظ فرما دیا۔ اب سب کچھ انھی قوانین کے تحت ہی ہونا ہے بلکہ ہوتا ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے، بےشک اللہ کی مشیّت ہے لیکن اس مشیّت کا حصول ہمارے ارادے اور عمل سے منسلک ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے والوں کے لیے اس دنیا میں کچھ نہیں، خواہ وہ کتنا اچھا مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اس دنیا کی تخلیق اور انسان کی نیابت کا منطقی مطلب حصول ِعلم اور عمل ہے۔

کسی فرد کے ساتھ ہونے والے غم و اندوہ اور ناگہانی حالات پر یہ کہا جانا کہ یہ قسمت میں لکھا تھا، یا یہی مشیّت الٰہی تھی، یا اس میں کوئی بہتری ہوگی، effective-theory کے بموجب ہی درست ہے کیونکہ ہمارا علم ان واقعات کی اصل وجہ جاننے سے قاصر ہوتا ہے۔ ہاں، مگر یہ ایک مؤثر نفسیاتی سیفٹی والو ضرور بنتا ہے، جو ایک انسان کے اندر کے جذباتی تلاطم، مایوسی اور بے چینی کے غبار کو خارج کر دیتا ہے۔ لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ہم اللہ سے نیک گمان ہو جاتے ہیں اور اللہ اپنے فرمان کے بموجب حالات کو بدلنے کی طرف توجہ کرتا ہے۔ اس کا یہ فرمان یاد کریں جو کچھ ایسا ہے کہ: میرا سلوک بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق ہوتا ہے۔