منگل, ستمبر 12, 2017

زباں خموش تھی دل محو التجاؤں میں تھا



خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاؤں میں تھا 
زباں خموش تھی دل محو التجاؤں میں تھا 

غلافِ خانہ کعبہ تھا میرے ہاتھوں میں
 خدا سےعرض و گزارش کی انتہاؤں میں تھا 

 در کرم پہ صدا دے رہا تھا اشکوں سے
 جو ملتزم پہ کھڑے تھے، میں ان گداؤں میں تھا

 حطیم میں مرے سجدوں کی کیفیت تھی عجب
 جبیں زمین پہ تھی ذہن کہکشاؤں میں تھا

 طواف کرتا تھا پروانہ وار کعبے کا
 جہانِ ارض و سماء جیسے میرے پاؤں میں تھا 

 دھڑک رہا ہے مرے سازِ روح پر اب بھی 
 وہ ایک نغمہ جو ”لبیک“ کی صداؤں میں تھا

فضائے معرفت آثار میں تھا دل سرشار
مرا وجود خدا کے کرم کی چھاؤں میں تھا

 مجھے یقین ہے میں پھر بلایا جاؤں گا 
 کہ یہ سوال بھی شامل میری دعاؤں میں ہے

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں