~!~ آج کی بات ~!~

نئے مقام کو حاصل کرنے کے لیے، سابقہ مقام کو چھوڑنا لازم ہے۔

قاسم علی شاہ



خطبہ جمعہ مسجد الحرام
ترجمہ: عاطف الیاس

فضیلۃ الشیخ صالح بن محمد آل طالب  نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس کا عنوان تھا: ’’سورہ مؤمنون کی چند آیات‘‘، جس میں آپ نے کامیابی کے ان راستوں کا ذکر کیا جو سورہ مؤمنون میں آئے ہیں۔ اس عظیم سورت کی بعض آیات پر بات کی جن پر تدبر کرنے کی ضرورت ہے۔ کامیابی کے طریقوں پر زور دیا۔ چند عبرتناک آیات کا ذکر کیا اور چند نصیحت پر مشتمل آیات اور پھر چند واقعات پر مشتمل آیات پر بات کی۔

خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:

اللہ تعالیٰ نے اگلوں اور پچھلوں کو پرہیز گاری ہی کی نصیحت فرمائی ہے۔ ’’پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو‘‘ [النساء: 131]۔

بے وقوف وہ ہے کہ جو خواہشات نفس کی پیروی بھی کرتا رہے اور اللہ سے امیدیں بھی لگائے رکھے، جبکہ سمجھدار وہ ہے جو نفس كو قابو کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کی تیاری کرے۔
جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا ہے اور آخرت ہمیشہ رہنی کی جگہ ہے۔ ’’جو برائی کرے گا اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس نے برائی کی ہو گی اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں اُن کو بے حساب رزق دیا جائے گا‘‘ [غافر: 40]۔

اے مسلمانوں:
اعمال اور اعمال کے نتائج میں بڑا گھرا ربط ہے۔ بھلائی کا انجام بڑا ہی اچھا ہوتا ہے چاہے اس کا حاضر کتنا ہی سنگین ہو اور برائی کا انجام بڑا ہی برا ہوتا ہے چاہے اس کا حاضر کتنا ہی پر فریب ہو۔ لیکن لوگ عام طور پر اپنے حاضر ہی میں مصروف رہتے ہیں اور تمام تر توانائیاں اسی میں صرف دیتے ہیں۔ یوں وہ حق کو نہیں پہچان پاتے۔ غافل ہی اس برائی کے آسان شکار ثابت ہوتے ہیں۔
کتاب اللہ میں ایک سورت ہے جس کا نام ’’کامیابی کی سورت‘‘ ہے۔ مصحف میں اس کا نام سورہ المؤمنون لکھا ہوا ہے۔ یہ سورت دلوں کو آخرت سے جوڑتی ہے اور اہل ایمان کو بہترین انجام کی خوش خبری دیتی ہے۔ کافروں کے لیے تو بڑی تباہی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا کامیابی سے کی ہے اور کامیابی پر اسے ختم بھی فرمایا ہے۔ شروع پر اہل ایمان کی کامیابی کا ذکر کیا، فرمایا: ’’یقیناً فلاح پائی ہے ایمان والوں نے‘‘ [المؤمنون:1]، اور آخر میں یہ بتایا کہ کافر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ فرمایا: ’’کافر کبھی فلاح نہیں پا سکتے‘‘ [المؤمنون:117]، پہلی اور آخری آیت کے درمیان آنے والی آیات میں کامیاب لوگوں کی صفات کا، چند انبیا اور ان کی قوموں کا ذکر کیا اور بتایا کہ کامیاب وہی ہوا جس نے ایمان قبول کیا۔

اسی طرح اس سورت کی آیات میں کامیابی حاصل کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں اور اس کے آخر میں کامیاب ہونے والوں اور جھٹلانے والوں، دونوں کا انجام بتایا گیا ہے۔

اے مسلمانوں:
’’یقیناً فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو: اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ لغویات سے دور رہتے ہیں۔ زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں کہ ان پر (محفوظ نہ رکھنے میں) وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔ البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔ اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔ اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ وہ وارث ہیں۔ جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ [المؤمنون: -1 11]۔

اللہ تعالیٰ نے کامیاب لوگوں کی صفات بیان فرمائیں، جن میں سب سے پہلے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا ذکر کیا۔ یہ ایسی جوڑی ہے کہ جو کبھی نہیں کھل سکتی۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کامیاب لوگوں کی صفات میں یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ اپنی زبانوں اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک جوڑی ہے۔
امام بخاری سیدنا سہل بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو مجھے اس چیز کی ضمانت دے دے جو اس کے منہ میں ہے اور اس چیز کی کہ جو اس کی ٹانگوں میں ہے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں‘‘

آیات میں فضول باتوں سے گریز کرنے کا ذکر آیا ہے جس سے مراد ہر بے فائدہ کلام ہے کہ جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ ذرا غور کیجیے کہ لوگوں کی باتوں میں فضول باتوں کی مقدار کتنی زیادہ ہوتی ہے۔ خاص طور پر آج کے دور میں کہ جب جدید سوشل میڈیا میں بغیر کسی قاعدے یا ضابطے کے، جو جی میں آئے وہ بیان کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ اس سے فضول باتیں عام ہو گئیں، انہیں پھیلانا اور انہیں عام کرنا آسان ہو گیا۔ اس طرح وہ گناہ کہ جو ایک دائرے کے اندر اندر رہتے تھے، اب سب لوگوں کےسامنے آ گئے ہیں اور بہت پھیل گئے ہیں۔ غلطیاں چار دیواری کے اندر ہی رہ جاتی تھیں لیکن غلطیاں اس جگہ ہوتی ہیں کہ جہاں کی چھت اتنی بلند ہے جتنا آسمان! اور اس سے گناہ کرنے والوں کا گناہ بڑھ گیا ہے اور سزائیں سنگین ہو جاتی ہے۔

کامیاب لوگوں کی جو صفات اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں ان میں عقیدہ، اخلاق، عبادات اور معاملات، سب چیزیں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان صفات کے حامل لوگوں ہی سے کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے: ’’یہی لوگ وہ وارث ہیں۔ جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ [المؤمنون: 10 ، 11]۔
ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو، یہ جنت کی بلند ترین اور درمیانی جگہ ہے۔ اسی سے جنت کی نہریں بہتی ہیں اور اسی پر رحمٰن کا عرش ہے۔‘‘ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

اس سورت کے بیچ میں اللہ تعالیٰ ان ہی صفات کا دوبارہ تذکرہ کیا ہے، اور ان کی ایک اور جزا بتائی ہے۔ فرمایا: ’’جو اپنے رب کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں۔ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ بھلائیوں کی طرف دَوڑنے والے اور سبقت کر کے انہیں پا لینے والے تو درحقیقت یہ لوگ ہیں‘‘ [المؤمنون: -57 61]۔

امام ترمذی  نے سیدہ عائشہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں‘‘ [المؤمنون:60] کہ اے اللہ کے رسول! یہ اس آیت میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو شراب نوشی اور چوری کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں! اے بنت صدیق! یہاں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو نمازی، روزہ دار اور صدقے دینے والے ہیں، لیکن وہ ڈرتے کہ ان کی یہ عبادتیں قبول نہ ہوں‘‘ ’’بھلائیوں کی طرف دَوڑنے والے اور سبقت کر کے انہیں پا لینے والے تو درحقیقت یہ لوگ ہیں‘‘ [المؤمنون:61]‘‘.

اے مسلمانوں:
اللہ تعالیٰ کامیابی کی سورت، سورۃ المؤمنون میں سب سے پہلے نوح کا واقعہ بیان فرماتے ہیں۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے صرف لوگوں کی پیدائش اور تخلیق کا ذکر فرمایا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نوح سے پہلے لوگ توحید ہی پر قائم تھے اور سب سے پہلا شرک نوح کی قوم میں شروع ہوا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کے واقعے سے آغاز اس لیے کیا کیونکہ اس میں ان تمام تمام لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو ان کے بعد آئے تھے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اِس قصے میں بڑی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کر کے ہی رہتے ہیں‘‘ [المؤمنون:30]۔

امام ابن مالک  بیان کرتے ہیں: ’’سنت رسول، نوح کی کشتی کی طرح ہے۔ جو اس میں سوار ہو جاتا ہے، وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو اس میں نہیں بیٹھتا، وہ غرق ہو جاتا ہے۔‘‘

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نوح کے واقعے کے بعد ایک اور قوم کا ذکر فرماتا ہے، جن کا نام نہیں لیا جاتا۔ اس کی تشریح میں مفسرین مختلف خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ کیا وہ ہود کی قوم عاد تھے، یا صالح کی قوم ثمود تھے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ان کے بعد ہم نے ایک دوسرے دَور کی قوم اٹھائی۔ پھر اُن میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا (جس نے انہیں دعوت دی) کہ اللہ کی بندگی کرو، تمہارے لیے اُس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟‘‘ [المؤمنون: 31 ، 32]۔
یوں لگتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اس لیے نہیں لیا کہ نام کے بغیر ہی عبرت تو حاصل کی جا سکتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ انبیاء کی پیروی کرنے والے کامیاب لوگوں کا اور انبیاء کو جھٹلانے والوں کا انجام بتایا جائے۔

اے مسلمانوں:
سورہ مؤمنون کی آیات میں فلاح کا راستہ دکھایا گیا ہے اور اس میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازیاں نظر آتی ہیں۔
اس سورت میں ذکر ہونے والے اسباب فلاح میں سے ایک حلال کمائی بھی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:’’اے پیغمبرو، کھاؤ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خوب جانتا ہوں‘‘ [المؤمنون:51]۔

کامیابی کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرآن کریم کی آیات پر غور وفکر کیا جائے اور اس پر ایمان لایا جائے۔ اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔’’تو کیا اِن لوگوں نے کبھی اِس کلام پر غور نہیں کیا؟ یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی؟‘‘ [المؤمنون:68]۔

تو اللہ کی کتاب ہی نور، ہدایت اور رحمت ہے۔’’اے نبیؐ، کہو کہ: یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں‘‘ [يونس: 58]۔

’’حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے جو لو گ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے‘‘ [الاسراء:9]۔

کامیابی کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا جائے، ان پر ایمان لایا جائے، ان کی سنت پر قائم رہا جائے اور سیرت کے واقعات سے سبق حاصل کیا جائے۔ 

’’یا یہ اپنے رسول سے کبھی کے واقف نہ تھے کہ (اَن جانا آدمی ہونے کے باعث) اُس سے بدکتے ہیں؟ یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنون ہے؟ نہیں، بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے‘‘ [المؤمنون: 69 ، 70]۔

یہی دو چیزیں وہ اساس ہیں کہ جن سے پھرنا درست نہیں ہے۔ جن کے بغیر کوئی ہدایت یا فلاح یا کامیابی نہیں۔ کامیابی اور نجات انہیں کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں ان دنوں چیزوں کا ذکر فرماتے ہیں: فرمایا: ’’میں تمہارے درمیان وہ دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جن کے ساتھ تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ اللہ کی کتاب اور میری سنت۔‘‘

اس سورت میں ذکر ہونے والے کامیابی کے اسباب میں ایک دعا بھی ہے۔’’تم وہی لوگ تو ہو کہ میرے کچھ بندے جب کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار، ہم ایمان لائے، ہمیں معاف کر دے، ہم پر رحم کر، تُو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے‘‘ [المؤمنون:109]۔

میں خشوع والے دل سے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرنے والی زبان سے اور آنسو بھری آنکھوں سے، آپ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کو کامیابی کے راستے پر چلائے اور قیامت تک دین اسلام پر ثابت قدمی نصیب فرمائے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں ایک یہ بھی ہے کہ ’’اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے۔‘‘
دل کی استقامت کی ضرورت فتنوں کے اوقات میں اور حالات کی تبدیلی کے وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

اس سورت میں ذکر ہونے والے کامیابی کے اسباب میں ایک صبر بھی ہے۔’’آج اُن کے اُس صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں‘‘ [المؤمنون:111]۔

کسی شخص کو توفیق الٰہی اور صبر کے بغیر دنیا وآخرت میں کامیابی نہیں مل سکتی۔ صبر اور پختہ ایمان ہی سے دین میں بلند مقام بھی حاصل ہو سکتا ہے۔
اسی لیے عرب کی کہاوتوں میں یہ کہاوت بھی پائی جاتی ہیں کہ: ’’جو صبر کرتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے‘‘

صبر پر مدد کرنے والی چیزوں ایک چیز یہ بھی ہے کہ عاقبت کو مد نظر رکھا جائے اور یہ یقین کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکنے میں صبر کرنا اللہ تعالیٰ کے عذاب پر صبر کرنے سے آسان ہے۔ ’’اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا‘‘ [هود: 115]۔

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلہ میں پا مردی دکھاؤ، حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے‘‘ [آل عمران: 200]۔

اے اللہ! ہمیں اپنی کتاب پر غور وفکر کرنے کی توفیق عطا فرما! اپنے کلام کو سمجھنے، اپنے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو راضی ہوتا ہے۔

~!~ آج کی بات ~!~

نفس "اپنی" طرف توجہ چاہتا ہے جبکہ عقل "حقیقت" کی طرف
نفس کو "شہرت" سے غرض اور عقل کو "درستی" سے
جبکہ "انسان" اِن دونوں کے مابین اکھاڑا!

شیخ حامد کمال الدین

~!~ آج کی بات ~!~

کوئی بھی گناہ کرتے وقت اتنا ضرور سوچا کرو کہ اگر اسی حالت میں موت آ گئی تو انجام کیا ھو گا.؟
کیونکہ موت کا تو کوئی وقت مقرر نہیں.

خطبہ جمعہ مسجد نبوی
ترجمہ: شفقت الرحمان مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 07-صفر- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "سیدنا بلال رضی اللہ عنہ  اور ہمارے حالات" ارشاد فرمایا انہوں نے کہا کہ امت کو در پیش مسائل در حقیقت امتحان اور کامیابی کا زینہ ہیں ایسے سخت حالات میں قیادت تیار ہوتی ہے، اور یہ قانون الہی ہے کہ اللہ تعالی سنگین بحرانوں میں اچھے برے کا امتیاز سب کے سامنے رکھ دیتا ہے، ماضی بعید میں دین کی وجہ سے لوگوں کو آرے سے چیر دیا جاتا تھا لیکن پھر بھی اس کے دین میں ذرہ برابر کمی نہ آتی تھی۔ اسی کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی مشکلات جھیلیں اور پھر مکہ میں جس جگہ پر انہیں تپتی دھوپ میں سزائیں دی جاتی تھیں اور جس کلمے کی بنا پر دی جاتیں تھیں وہی کلمہ انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر بہ بانگ دہل کعبہ کی چھت پر چڑھ کر کہے اور ان کے یہ کلمات مشرکوں کا سینہ چیر گئے، پھر جو شخص سیدنا بلال کو طرح طرح کی سزائیں دیتا تھا اسی کو جنگِ بدر میں اپنے ہاتھوں سے داستانِ ماضی بھی بنایا، انہوں نے کہا کہ: بلال رضی اللہ عنہ کی آواز میں اذان سننے کے لیے مسلمان بے تاب رہتے تھے، کیونکہ آپ کی آواز صحابہ کرام کو عہد نبوی میں لے جاتی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس یعنی قبلہ اول کی فتح کے موقع پہ بلال رضی اللہ عنہ سے ہی اذان دلوائی، اس طرح بلال دونوں قبلوں کے مؤذن بن گئے، بلکہ اس سے بڑھ کر بلال رضی اللہ عنہ کے قدموں کی آہٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں سنی اور انہیں دنیا میں ہی جنت کی خوش خبری سنائی، یہ سب کچھ بلال کو بہت بڑی بڑی قربانیوں کے بعد ہی ملا، چنانچہ اگر ہم بھی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی طرح دین اسلام اور نبی رحمت سے سچی محبت کریں تو کامیابی ہمارے قدم چوم سکتی ہے، پھر آخر میں انہوں نے جامع دعا فرمائی۔

خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:

سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، سب سے افضل ترین طرزِ زندگی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، بد ترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے،
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}
 اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں ہی آئے۔[آل عمران : 102]

اللہ کے بندو!

امت اسلامیہ آج جن فتنوں ، آزمائشوں، مصیبتوں اور مسائل سے گزر رہی ہے، دشمن مسلمانوں پر مسلط ہیں؛ یہ در حقیقت واضح فتح اور کامیابی کےلیے امتحان اور چھان پرکھ کا پیش خیمہ ہے، یہ اللہ کے حکم سے غلبے اور فتح کا پہلا زینہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ}
 جس حال میں تم ہو اسی پر اللہ ایمان والوں کو نہ چھوڑے گا جب تک کہ پاک اور ناپاک الگ الگ نہ کر دے۔ [آل عمران: 179]

اسی طرح فرمایا: 
{أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ} 
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ یوں ہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے! حالانکہ تمہیں ابھی وہ مصائب پیش ہی نہیں آئے جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں کو پیش آئے تھے۔ ان پر اس قدر سختیاں اور مصیبتیں آئیں جنہوں نے ان کو ہلا کے رکھ دیا۔ حتی کہ خود رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے سب پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ سن لو ! اللہ کی مدد قریب ہے۔ [البقرة: 214]

مسلم اقوام!

زمانہ قدیم میں ایک شخص کو پکڑ کر لایا جاتا اور اسے زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا، پھر آرا لا کر اس کے سر پہ رکھ کے اسے دو حصوں میں چیر دیا جاتا تھا؛ لیکن اس کے باوجود بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتا، لوہے کی کنگھیوں سے اس کا گوشت ہڈیوں سے جدا کر دیا جاتا تھا، لیکن اس طرح وحشیانہ اور اذیت ناک سزائیں بھی اسے اس کے دین سے موڑنے میں کامیاب نہ ہوتیں۔

اللہ کے بندو!

ابتدا میں جن لوگوں نے اعلانیہ اسلام قبول کیا تھا ان کی تعداد صرف سات تھی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر ، عمار، عمار کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد رضی اللہ عنہم جمیعاً ۔ ان میں سے اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے چچا ابو طالب کی پشت پناہی عطا فرمائی، جبکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ان کے قبیلے نے دفاع کیا، لیکن بقیہ لوگوں کو مشرکوں نے پکڑ کر سخت اور شدید ترین عذاب سے دو چار رکھا، ان میں سے بلال رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہر ایک کی زبان سے ایسے کلمات جاری ہوئے جو مشرکین چاہتے تھے ، لیکن بلال رضی اللہ عنہ نے غیر مناسب کلمات نہ کہنے کی وجہ سے راہِ الہی میں بڑی تکلیفیں اٹھائیں، بلال رضی اللہ عنہ پر مشرکوں نے ظلم کی کوئی کسر نہ چھوڑی، مشرکین نے انہیں خوب سزائیں اور تکلیفیں دیں کہ شاید بلال اپنے دین کو چھوڑ دے، لیکن بلال رضی اللہ عنہ نے ان کی سزاؤں سے بھی بڑھ کر پامردی اور چٹان جیسی ثابت قدمی کا ثبوت دیا، اس پر کافروں نے آپ کو مزید سزاؤں سے دو چار کیا، بلال رضی اللہ عنہ کا آقا امیہ بن خلف آپ کو مکے کی دوپہر کے وقت جھلساتی دھوپ میں گھر سے نکالتا اور مکہ کے سنگ ریزوں پر کمر کے بل لٹا کر بلال رضی اللہ عنہ کے سینے پر بھاری پتھر رکھنے کا حکم دے دیتا اور کہتا: "توں موت تک اسی طرح سزا جھیلتا رہے گا، یا توں محمد پہ ایمان سے انکار کر دے" امیہ یہ بھی کہتا تھا کہ: "او ذلیل غلام! تیری وجہ سے ہم پر کیا نحوست آن پڑی ہے! اگر توں نے ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں تذکرہ نہ کیا تو میں تمہیں دیگر غلاموں کیلیے نشان عبرت بنا دوں گا" امیہ کی ان دھمکیوں پہ بلال رضی اللہ عنہ بڑی جرأت اور پامردی سے کہتے ہیں: "میر ا رب اللہ ہے، وہ ایک ہے، وہ ایک ہے۔ اگر میرے علم میں تمہارے لیے اس سے بھی ناگوار کوئی جملہ ہوتا تو میں وہ بھی کہہ دیتا"

جب جان سوزی اور اذیت ناکی اپنی انتہا کو پہنچی تو آسانی بھی آ گئی، چنانچہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں خرید کر رضائے الہی کےلیے آزاد کر دیا، آپ کے اسی عمل کے متعلق اللہ تعالی کا یہ فرمان نازل ہوا:
 {وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى (17) الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى (18) وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى (19) إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى (20) وَلَسَوْفَ يَرْضَى}
 اور جو بڑا پرہیز گار ہوگا اسے جہنم سے دور رکھا جائے گا [17]جس نے پاک ہونے کےلیے اپنا مال دیا [18] اس پر کسی کا کوئی احسان نہ تھا جس کا وہ بدلہ چکاتا [19]وہ صرف اپنے بلند و بالا پروردگار کی رضا کےلیے دیتا ہے[20] اور یقیناً عنقریب وہ اس سے راضی ہو جائے گا۔[الليل: 17 - 21]

اس کے بعد دن گزرتے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں سمیت مدینہ ہجرت کر جاتے ہیں اور بلال رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کر کے مدینہ پہنچ جاتے ہیں تو سیدنا بلال اسلام کے مؤذن قرار پائے۔

پھر جب مکہ فتح ہو گیا اور بلال رضی اللہ عنہ کعبہ کی چھت پہ چڑھ کر کلمہ توحید کی صدا بلند کرتے ہیں تو قریب ہی وہ جگہ بھی تھی جہاں بلال کو انہی کلمات کی وجہ سے جھلساتی دھوپ میں سزائیں دی جاتی تھیں ، پھر سب کے سامنے بہ بانگ دہل بلال یہ صدا لگاتے ہیں: "الله أكبر الله أكبر. أشهد أن لا إله إلا الله. أشهد أن محمدا رسول الله." بلال کے یہ بول سن کر بلال کے دشمنوں کا غصہ جوبن پہ آ جاتا ہے اور کچھ تو یہ کہنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں: "اللہ نے میرے باپ پہ کرم فرمایا کہ بلال کے منہ سے یہ الفاظ سننے سے پہلے ہی وہ مر گیا "

بلال رضی اللہ عنہ کو اتنا بلند مقام و مرتبہ اسلام میں بہت سی تکلیفوں ،آزمائشوں ، صبر اور جد و جہد کے بعد ہی کہیں جا کر ملا، 
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}
 اے ایمان والو! صبر کرو، ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو اور مورچوں میں ڈٹے رہو، اور اللہ سے ڈرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ [آل عمران: 200]

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی مہلت تو دیتا ہے لیکن غفلت نہیں برتتا، اللہ تعالی ظالم کو مہلت دئیے جاتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو اسے خلاصی کا موقع نہیں دیتا
 {وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ} 
کافر لوگ ہرگز یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ہم جو انہیں ڈھیل دے رہے ہیں، یہ ان کے حق میں بہتر ہے، ہم تو صرف اس لیے ڈھیل دیتے ہیں کہ جتنے زیادہ سے زیادہ گناہ کر سکتے ہیں کر لیں اور ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہوگا [آل عمران: 178]

چنانچہ مکہ میں مسلمانوں کو ابتدائے اسلام میں جو بھی تکالیف اور آزمائشیں آئیں یہ سب ایک نئی نسل تیار کرنے کےلیے تھیں؛ تا کہ اللہ تعالی بعد میں انہی کو زمام کار تھمائے اور انہیں فاتح بنائے، نیز اچھے اور برے لوگوں میں فرق کر دیا جائے۔

اور یہ مختصر سا دورانیہ تھا کہ جس کے بعد اللہ تعالی نے مظلوم و مقہور لوگوں پر احسان فرمایا جنہیں زمین پر کمزور سمجھ لیا گیا تھا للہ تعالی نے انہیں حکمران بنا دیا اور انہیں زمین کا وارث بنا کر زمین کا کنٹرول انہی کو دے دیا۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی کے ہاں فضیلت اور مقام کا معیار عمل ہے، نسب یا عہدہ، یا مال و جاہ معیار نہیں ہے، لوگ بالکل اسی طرح برابر ہیں جیسے کنگھی کے دندانے برابر ہوتے ہیں، تم سب کے سب آدم سے پیدا ہوئے ہو اور آدم مٹی سے پیدا ہوا ہے، کسی بھی عربی کو عجمی پہ تقوی کے بنا کوئی فضیلت نہیں، 
{يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} 
لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے ہی پیدا کیا ہے، اور ہم نے تمہیں اقوام اور قبائل میں تعارف کیلیے بنایا، بیشک اللہ کے ہاں تم میں سے معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔[الحجرات: 13]

لَعَمْرُكَ مَا الْإِنْسَانُ إِلَّا بِدِيْنِهِ

فَلَا تَتْرُكِ التَّقْوَى اِتَّكَالًا عَلَى النَّسَبِ

تجھے عمر دینے والے کی قسم! انسان دین کے بنا کچھ نہیں، اس لیے نسب پر تکیہ کر کے تقوی کا دامن مت چھوڑو

فَقَدْ رَفَعَ الْإِسْلَامُ سَلْمَانَ فَارِسٍ

وَقَدْ وَقَعَ الشِّرْكُ النَّسِيْبُ أَبَا لَهَبٍ

کیونکہ اسلام نے سلمان فارسی کو [تقوی کی بنا پر ہی] بلند فرمایا، اور شرک نے بلند نسب والے ابو لہب کو گرا دیا

کتنے ہی ایسے غیر معروف متقی لوگ ہیں جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا انہیں دروازوں سے دھتکار دیا جاتا ہے، حالانکہ اللہ تعالی اور اس کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا، اگر وہ اللہ تعالی پر قسم ڈال دے تو اللہ تعالی اس کی قسم پوری فرما دے۔

مشرکین کو اس وقت بہت تکلیف ہوئی جب انہوں نے کعبہ کی چھت سے بلال رضی اللہ عنہ کی آواز میں اذان سنی، ایک طرف بلال کی آواز مشرکوں کو ناگوار گزرتی تھی تو دوسری جانب مسلمانوں کے دلوں کو بھی موہ لیتی تھی، مسلمان بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سننے کے مشتاق رہتے تھے، چنانچہ جب بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت ہو جانے کے بعد اذان دیتے تو اپنے جذبات بے قابو کر بیٹھتے ، اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیتے، آپ پر غشی طاری ہو جاتی اور لوگوں کو بھی جذباتی کر دیتے تھے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں پورا مدینہ ہی گونج اٹھتا تھا۔

اسی طرح جب عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے اور بیت المقدس فتح ہو گیا، تو آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا، اس پر بلال کہنے لگے: "امیر المؤمنین! میں نے ارادہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کےلیے اذان نہیں دوں گا، لیکن چونکہ آپ نے مجھے حکم دیا ہے تو صرف اس ایک نماز کے لیے اذان دوں گا، پھر جب بلال نے اذان دی اور صحابہ کرام نے بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سنی تو پھوٹ پھوٹ کر رو دئیے"

کیونکہ بلال نے انہیں ان کے حبیب اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یاد دلوا دی تھی، اسی یاد نے ان کے ایمان میں ہیجان پیدا کر دیا تھا ۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ان صحابہ کرام کی نجات کا باعث بنے تھے اس لیے آپ سے محبت بھی دلی تھی، ان کا قلبی لگاؤ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا، ان کے جذبات آپ کے تذکرے کے اسیر تھے، آپ کی محبت سودائے قلب میں شامل ہو کر دلوں پر براجمان تھی۔

مسلم اقوام!

صبر آسودگی کی کنجی ہے، جنت کو ناگوار چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے، جبکہ جہنم کو شہوتوں سے گھیر دیا گیا ہے۔

اللہ تعالی اپنے دین کی ضرورت مدد فرمائے گا جیسے اللہ تعالی نے مکہ میں کمزور لوگوں کی مدد فرمائی تھی، جس طرح اللہ تعالی نے فتح مکہ سے پہلے اور بعد میں اپنے اولیا کی مدد فرمائی، اور پھر
{وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (4) بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ [5] وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ}
 اس دن مومن خوش ہو جائیں گے [4] اللہ کی مدد سے، اللہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے[5] یہ اللہ کا وعدہ ہے ، اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتا، لیکن بہت سے لوگ جانتے ہی نہیں ہیں۔ [الروم: 4-6]



****سورہ کہف کا خلاصہ****
‎****شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی ****

حضرت شیخ ذوالفقار نقشبندی فرماتے ہیں کہ میں  نے دو سال لگائے سورہ کہف کو سمجھنے میں اور ۱۲۰ تفاسیر کا مطالعہ کیا جن میں اردو اور عربی کی تفاسیر کا مطالعہ کیا اس کے علاوہ ایک فارسی تفسیر بھی تھی۔
ہم اس سورت کو صرف غار والوں کا واقعہ سمجھتے ہیں مگر اصل مدعا جو ہے اس کی طرف کسی کی نظر ہی نہیں گئی۔
تو اس سورت کامقصود/ لب لباب یا سینٹرل آئیڈیا کہہ لیں یہ ہے کہ اللہ اس دنیا میں لوگوں کو آٹھ طرح کے حالات سے آزماتے ہیں، عزت، ذلت، صحت، بیماری، نفع، نقصان، خوشی ، غمی۔
ہر بندہ ہر وقت ان میں سے کسی ایک حال میں ہوتا ہے۔ ان آٹھ کو اگر تقسیم کریں تو دو دو حالات میں تقسیم ہو ں گے۔ تو یا تو اچھے حالات ہوں گے یا برے۔ یعنی یا تو بندہ عزت میں ہوگا یا ذلت میں۔ یا صحت ہو گی یا بیماری۔ تو اللہ دو حالات میں آزماتے ہیں یا تو اچھے یا برے۔ کہ یہ بندہ اچھے حالات میں شکر کرتا ہے یا نہیں اور برے حالات میں صبر کرتا ہے یا نہیں۔
تو دو پیپر بنے ایک شکر کا پیپر اور دوسرا صبرکا پیپر۔ اب اگر بندے نے اچھے حالات میں شکر کیا تو اس نے پیپر کو پاس کیا اور اگر ناشکری کی تو اس پیپر کو فیل کیا ۔ اور اگر صبر کے پیپر میں صبر کیا تو پاس ہوا اور بے صبری کی تو فیل ہوگیا۔
یہ زندگی دار الامتحان ہے جہاں ہم نے دو پیپر دینے ہیں ایک صبر کا دوسراشکر کا۔
اللہ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کو بھی ان دو پیپرز میں آزمایا۔ پہلا شکر کا تھا جو کہ جنت کی نعمتیں تھیں، دوسرا درخت کا پھل تھا جو کھانے سے منع کیا گیا تھا تو یہ صبر کا پیپر تھا جس میں شیطان نے ان کو کامیاب نہ ہونے دیا۔
سورہ کہف میں پانچ واقعات ہیں۔
*حضرت آدم علیہ اسلام کا۔
یہ قلب ہے اس سورت کا۔ آیتیں تھوڑی ہیں اس لیئے پڑھنے والوں کی توجہ ہی نہیں جاتی۔
آدم علیہ السلام کے واقعہ سے پہلے دو واقعات عام الناس کے ہیں جن میں سے ایک اصحاب کہف تھے یہ عام نوجوان تھے اور انہوں نے صبر کا امتحان دیا اور اس پیپر میں پاس ہو کر مقبول بندوں میں شامل ہو گئے، دوسرا واقعہ دو باغوں والے شخص کا تھا یہ بھی عام شخص تھا جس کو مال و دولت دی گئی تھی اس کا پیپر شکر کا تھا کہ تم نے نعمتوں پر شکر کرنا ہے تو یہ فیل ہو گیا۔ اس کے بعد آدم علیہ السلام کا واقعہ اور پھر دو واقعات ہیں خواص کے۔ ایک موسٰی علیہ السلام کا کہ ان سے بھی صبر کا پیپر لیا گیا اور سکندر ذوالقرنین کا شکر کا پیپر تھا اور انہوں نے غرور و تکبر نہیں کیا اور شکر کا پیپر پاس کیا۔ 
اسی طرح اللہ اولاد آدم سے بھی صبر اور شکر کےپیپر لیتے ہیں۔
~!~ آج کی بات ~!~

جن لوگوں کے دلوں میں محبت کی کونپلیں بغیر صلے یا تمنا کے پھوٹیں وہ بے حس نہیں بے غرض ہوتے ہیں۔ 

مستنصر حسین تارڑ

الله کا چکر

آج سے کچھ سال قبل نا امیدی کی انتہا پر کھڑا تھا ، کوئی پریشانی کی وجہ پوچھے بھی تو کہ دیتا تھا یار بس الله نے عجیب چکروں میں پھنسا رکھا ہے ، ایک چکر سے نکلتا ہوں تو دوسرا چکر منہ کھولے سامنے کھڑا ہوتا ہے . اپنی ہر وہ مصیبت جو خالص میرے ہی اعمال کا نتیجہ تھی اسے الله کے چکروں کے اوپر ڈال دیتا .

پھر ایک دن کچھ یوں ہوا کہ صبح آٹھ بجے دوست کے ساتھ کسی کام سے نکلا ، حالانکہ آٹھ بجے مجھے اپنی منزل مقصود پر پہنچنا تھا لہٰذا دوست سے موٹر سائیکل کی رفتار بڑھانے کا کہا اور یوں ہم سڑک پر لگ بھگ اڑتے ہوئے جارہے تھے کہ ایک جگہ ٹرک کو اوور ٹیک کرتے ہوئے سامنے موجود کار کے سائیڈ گلاس سے موٹر سائیکل کا ہینڈل ٹکرا گیا ، موٹر سائیکل کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ اب اسے سنبھالنا ممکن نہ تھا اور ہم ہلکا سا لڑکھڑانے کے بعد روڈ پر باقاعدہ گھسٹے ہوئے جارہے تھے ، دوست تو موٹر سائیکل کے ساتھ ہی فٹ پاتھ پر جا لگا پر میں بیچ روڈ پر لیٹا ہوا تھا  اور اس سے پہلے کے اٹھ کر کھڑا ہوتا اپنے سامنے آتا تیز رفتار ٹرک دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں کہ اب آخری وقت آگیا ہے پر اسی اثناء کسی دوسری گاڑی  یا کوئی غیر مرئی شے  کاندھے سے اس طرح ٹکرائی کے میں بیٹھے بیٹھے ہی اپنی جگہ سے گھوم کر کچھ انچ دور جا بیٹھا ، یہ سب لمحے کے آخری حصے میں اتنی برق رفتاری کے ساتھ ہوا کہ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آئی لیکن اپنے بلکل قریب سے گذرتے ہوئے تیز رفتار ٹرک کی ہوا ضرور محسوس کی .

جب ہسپتال سے ہوکر گھر آیا تو جسم پر ٹانگ کے علاوہ کاندھے پر تھوڑی سی  سوجن موجود تھی جو اس ایک" ایکسٹرا چکر "  کی وجہ سے در آئی تھی ، پر وہ  ایک چکر مجھے موت کے دہانے سے نکال کر باہر لے آیا ، پر اس دن کے بعد میں نے اللہ کے چکروں کی حکمت جان لی کہ میری زندگی میں آنے والے اب تک کے تمام "چکروں" نے نجانے مجھے کتنی بڑی مصیبتوں سے بچایا ہوگا جو اس وقت تو مجھے سمجھ نہیں آئیں اور میں "ہلکی خراشوں " کو دیکھ کر ہی الله سے گلہ کرنے لگ جاتا  پر آج جب سوچتا ہوں تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں کہ میں ہلکی سوجن اور خراشوں کو لیکر الله سے گلے شکوہ کرتا رہا اور وہ پاک ذات مجھے میرے اعمال کے خوفناک ٹرکوں جیسی مصیبتوں سے پھر بھی نکالتا رہا .

یہاں مجھے میرے استاد جی کی بات یاد آتی ہے جب وہ میرے اس طرح کے شکووں کے جواب میں کہتے تھے کہ " دیکھ جہانگیر ، الله کی ذات اور حکمت  لا محدود ہے اور تیری اور ہماری عقل محدود ، جب بھی تو الله کی لامحدود حکمتوں کو اپنی محدود عقل سے ناپنے کی کوشش کرے گا تو خود بھی خدا سے دور ہوگا اور خدا کو بھی خود سے دور کردے گا ، بھلا ایک لیٹر کی گنجائش رکھنے والے برتن میں کبھی ایک ہزار لیٹر مواد سما سکتا ہے ؟ لہٰذا بہتر ہے کہ وقت کو حکمت کا فیصلہ کرنے دے اور تو دیکھے گا کہ حکمت تیرے ہر فیصلے سے برتر ہوگی اور تیری ہی فلاح میں ہوگی "

آج ایک ایسے ہی "چکر" نے ائیرپورٹ سے گھر واپس آتے ہوئے میری جان بچائی تو سوچا آپ دوستوں کے ساتھ اپنا یہ واقعہ بھی تازہ کرلوں کہ اگر کبھی الله کے " چکر " میں آجاؤ تو گلہ شکوہ نا کریں بلکہ صبر کریں اور انتظار کریں اس وقت کا جب وہی چکر جو آپکو مصیبت لگتا تھا جب اپنی حکمت کا پردہ اٹھائے گا تو آپکو اپنے بہترین دوست لگے گا !!




حبیبِ رب العلی محمد ﷺ
شفیعِ روزِ جزا محمد ﷺ
نگاہ کا مدعا محمد ﷺ
خیال کا آسرا محمد ﷺ

یہی ہے زخمِ جگر کا مرہم
انہی کا ہے اسم اسمِ اعظم
قرار بے تابیوں کو آیا
زُباں سے جب کہہ دیا محمد ﷺ

دُرود بھیجا ہے خُود خُدا نے
رَموز کو اُن کے کون جانے
کہیں وہ محمودِ کبریا تھے
کہیں لقب اُن کا تھا محمد ﷺ

اسی تمنا میں جی رہا ہوں
کہ جا کے روضہ کی جالیوں پر
سناؤں حالِ دل میں ان کو
سنیں میرا ماجرا محمد ﷺ

ہے بارِ عصیاں صبا کے سر پر
نہ کوئی ساتھی نہ کوئی یاور
قدم لرزتے ہیں روزِ محشر
سنبھالیے آکے یا مُحَمَّد ﷺ

صبا اکبر آبادی

پناہ
(منقول)


ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﯽ ﻣﺤﺒّﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺗﻮجہ ﮐﺎ ﺭﺥ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ
ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ , ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﺲ ﺳﮯ ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’
ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ , ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﺒّﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﮐﭽﮫ ﺿﺮﻭﺭﺗﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺸﺘﺮﮎ ﮨﯿﮟ , ﺟﯿﺴﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﯿﮟ . ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮨﮯ . ﺑﻠﮑﮧ ﯾﻮﮞ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮯ , ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ , ﺍﺯﻝ ﺳﮯ ﺍﺑﺪ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺟﻨﮓ ﭼﮭﮍﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﮭﺎﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ
ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺴﯽ ’ ? ﻣﯿﮟ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﺍﻟﺠﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ ’
ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﭘﺴﻠﯽ ﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ , ﻣﺮﺩ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺳﻤﺠﮫ ﺑﯿﭩﮭﺘﺎ ﮨﮯ . ﻣﺬﮨﺐ ﺳﮯ ﮈﺭ ﮐﺮ ﻭﮦ , ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻼﺗﺎ , ﻣﮕﺮ ﻣﺠﺎﺯﯼ ﺧﺪﺍ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﮩﻼﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻧﮯ ﮈﯾﺮﮮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﮐﭽﮫ ﭨﮭﯿﮏ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ . ﻇﺎﮨﺮﺍً ﺗﻮ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ , ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ . ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ , ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻧﺎ ﺟﻨﮓ ﭘﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﮨﮯ ’ ? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺮ ﮐﮭﺠﺎﺗﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ , ﺗﻮ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ . ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺳﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ
ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑﯿﭩﮯ , ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ . ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺣﺼّﮧ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ . ﺭﺍﺯﻕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ , ﻣﺘﮑﺒّﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ , ﻗﺎﺑﺾ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ , ﻋﺎﺩﻝ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺻﻔﺖ ﺩﯼ ﮨﮯ , ﺟﻮ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ
ﻭﮦ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﺻﻔﺖ ﮨﮯ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﺧﺎﻟﻖ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ  ﺑﯿﭩﮯ .
ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺩﯼ ﮨﮯ .
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻃﺎﻗﺖ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﻮ ﺩﻭﺍﻡ ﺑﺨﺸﺘﯽ ﮨﮯ . ﻗﻮﺕ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ .
ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﭘﺮ ﻻ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﮐﻮ ﺩﺑﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ
ﮨﺎﮞ ﯾﮧ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ , ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻮﺍﻝ ﺗﻮ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﺎ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ ﻧﺎ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﺊ ؟  ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮯﺻﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍۓ , ‘ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﯿﭩﮯ , ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ . ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺳﻮﺍﻝ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺼﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯﻧﺎﻡ ﮐﯽ , ﭘﻨﺎﮦ ﮔﺎﮦ ﮐﯽ , ﭨﮭﮑﺎﻧﮯ ﮐﯽ , ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﭗ ﺳﮑﮯ . ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒّﺖ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭ ﮨﻮﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺭﮐﮯ , ‘ ﺍﺏ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺅ کہ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒّﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﭘﻨﺎﮦ ﺗﮭﯽ؟
ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ ..؟
~!~ آج کی بات ~!~

اپنی خوشیوں اور خواہشوں کو اپنے اندر رکھیں۔
ورنہ لوگ خوشیوں کو نظر اور خواہشوں کو
آگ لگانا خوب جانتے ہیں۔۔۔۔!!!!



ایک عورت کہتی ہے . “زن مرید ہے“ دوسری عورت بولتی ہے “ماں کا مرید ہے“.ایک عورت دوسری عورت کو اس کا پیر و مرشد بنا دیتی ہے.عورت کی فطرت بھی عجیب ہے. بیٹا کنوارہ ہوتا ہے تو دن رات اس کے سر پہ سہرا سجانے کے خواب دیکھتی ہے بہو لانے کے سپنوں میں کھوئی رہتی ہے خیالوں ہی خیالوں میں پوتے پوتیوں سے کھیلتی ہے .

مرنے سے پہلے اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹے کا گھر بسائے . بیٹا شادی پر راضی نہ ہو تو ضد سے کھانا پینا چھوڑ دیتی ہے . بالآخر سہرا سجا دیا جاتا ہے ارمان پورے ہو جاتے ھیں۔ بہو آجاتی ہے تب اس کے اندر ایک نئی عورت جنم لیتی ہے . بیٹے کے ساتھ بہو کو بیٹھے دیکھتی ہے تو تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، طعنے کوسنے اور زہریلے جملے تخلیق کرنے لگتی ہے پہل اکثراس کی طرف سے ہوتی ہے جو بہو کے ارمان میں پاگل ہوئی جا رہی تھی۔ وہ نئی آنے والی کچھ دن تو اپنا قصور تلاش کرنے میں لگی رہتی ہے تب اسے اپنے جرم کا پتہ چلتا ہے، اسے معلوم ہوتا کہ ایک عورت ہونا ہی دوسری عورت کی نظر میں اس کا اصل جرم ہے تب وہ اپنے اس جرم پر ڈٹ جاتی ہے قانونی طور پر کیونکہ مرد اس کی ملکیت ہوچکا ہوتا ہے۔

تو وہ اپنی اس ملکیت کو اپنی ذات کی حد تک محدود کرنے کی فکر میں لگ جاتی ہے، جس نے پیدا کیا ہوتا ہے اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو صرف دو کلموں کے عوض دوسری کو سونپ دے۔ تب۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ بغیر اس بات کو سوچے کہ ملکیت کی اس جنگ میں وہ کس کرب سے گزر رہا ہے جو دونوں کے بغیر نہیں رہ سکتا ، مکرو فریب کا ایسا سٹارپلس گھر میں آن ائیر ہونے لگتا ھے جس کی ہر قسط اسے ذہنی مریض بنا کر رکھ دیتی ہے۔ ایک جملہ اس کے کانوں میں تواتر کے ساتھ انڈیلا جاتا ہے کہ "انصاف کرو"۔ سو موٹو ایکشن لینے کا مطالبہ بہن بھائیوں اور سسرالیوں کی جانب سے کیا جانے لگتا ہے۔

ماں کی شان” سنانے والے اسے قدموں میں جنت تلاش کرنے پر لگانے کی سرتوڑ کوششیں کرنے لگتے ہیں اور بیوی کے حقوق کے “علمبردار” اس کے لیے انصاف نہ کرنے کی صورت میں آخرت کے عذابوں سے ڈرانے لگتے ہیں۔ پھر ایک دن۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ انصاف کے مطالبوں سے تنگ آکر یا تو جنت پانے کے چکر میں ایک کے ہاتھ میں طلاق تھما دیتا ہے ، یا بیوی کے حقوق کے تحفظ میں ماں کی گستاخی پر اتر آتا ہے اور اگر ان دونوں کے ساتھ “انصاف” نہ کر سکے تو گلے میں رسی ڈال کر “منصف” کا ہی انصاف کر دینے پر مجبور ہو جاتا ہے

ان تینوں انتہائی اقدام کے بعد ایک عورت کی طرف سے بغیر ضمیر کی خلش سے کہہ دیا جاتا ہے” میں نے تو ایسا کرنے کا نہیں کہا تھا، میں نے تو صرف اتنا ہی کہا تھا کہ انصاف کرو

۔نوٹ : یہ تحریر ہر گھر اور ہر فرد پر لاگو نہیں ہوتی معاشرہ اچھے اور برے لوگوں سے بھرا ہوتا ہے ۔ جہاں برے ہوتے ہیں وہ اچھے بھی ہوتے ہیں بس اپنا اپنا ضمیر زندہ ہونا چاہئیے۔


علم کوشیطان کا ہتھیاربنانے سے بچیں
اسرا میگ:اگست 2017 

" حضرت! میں بہت زیادہ علم حاصل کرنا چاہتا ہوں، بہت زیادہ" میں نے کہا۔
"تو حاصل کرلو، کس نے روکا ہے؟" حضرت نے جواب دیا
"جناب مسئلہ یہ ہے کہ علم بعض اوقات تکبر پیدا کرتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہیں وہی سب کچھ نہ ہو جو شیطان کے ساتھ ہوا کہ وہ اپنے علم کے زعم میں خدا کے سامنے کھڑا ہوگیا؟"
" دو ہدایات پر عمل کرو،پہلی یہ کہ جو کچھ علم حاصل کرو، اس کی تمام اچھائیوں کو من جانب اللہ سمجھو۔ ہر اچھی کوٹ، آرٹیکل یا کتاب لکھو تو اس کے اچھے پہلووں کو من جانب اللہ سمجھو۔اس کا سارا کریڈٹ خدا کے اکاؤنٹ میں ڈال دو۔ اس سے ملنے والی تعریفوں پر یوں سمجھو کہ لوگ تمہاری نہیں بلکہ اس خدا کی توفیق کی تعریف کررہے ہیں جو اس نے تمہیں عطا کی ۔"
" بہت عمدہ بات کہی آپ نے حضرت!، دوسری ہدایت کیا ہے؟"
" دوسری ہدایت یہ کہ جب کسی کو علم سکھاؤ تو استاد نہیں طالب علم بن کر سکھاؤ۔ اس کو سمجھانے کی بجائے اس سے طالب علم بن کر سوال کرو۔ اس کے سوالوں کے جواب ایک طالب علم کی حیثیت سے دو۔ اپنی کم علمی اور غلطیوں کا کھل کر اعتراف کرو۔ اس طرح تم خود کو عالم نہیں طالب علم سمجھو گے اور تکبر پیدا نہیں ہوگا۔
" بہت شکریہ حضرت! آپ نے بہت اچھے طریقے سے بات کو سمجھایا۔"
"یاد رکھو ! علم وہ ہتھیار ہے جس کا غلط استعمال خود کو ہی ہلاک کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ شیطان سب سے آسانی سے عالموں ہی کو پھانستا ہے۔ پہلے اسے یہ یقین دلاتا ہے تم تو عالم ہو، تمہیں سب پتا ہے۔ جب سب پتا ہے تو یہ کل کے بچے تمہارے سامنے کیا بیچتے ہیں؟ اس کے بعد لوگوں کو حقیر دکھاتا ہے ۔، لوگوں کے لائکس اور واہ واہ کو استعمال کرکے انسان میں تکبر ، غرور اور انا کو مضبوط کرتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ انسان خود کو عقل کل سمجھنے لگ جاتا ہے۔ پھر اپنی اور دنیا والوں کی نظر میں عالم اور متقی نظر آتا ہے، لیکن خدا کی کتاب میں اسے "ابوجہل" لکھ دیا جاتااور فرشتوں کی محفل میں اسے شیطان کا ساتھی گردانا جاتا ہے اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔"
~!~ آج کی بات ~!~

اللہ کو تم سے کوئی چیز چھین لینا مقصود نہیں ہے، 
وہ صرف تمہیں کھو دینے کے خوف سے اور پا لینے کے لالچ سے آزاد کرکے ایک مضبوط انسان بنانا چاہتا ہے۔

حالم از نمرہ احمد


درخت لگانے کا بہترین موقع
تحریر: ابو یحییٰ

ایک چینی کہاوت اس طرح سے ہے کہ درخت لگانے کا بہترین موقع بیس سال قبل تھا، دوسرا بہترین موقع آج ہے۔ درحقیقت یہ ایک انتہائی حکیمانہ قول ہے۔ اس میں زندگی کی دو عظیم ترین حقیقتوں پر متنبہ کیا گیا ہے جن کے بارے میں بہت کم لوگ حساس ہوتے ہیں۔

پہلی حقیقت کا تعلق تعمیری کام سے ہے۔ اس کہاوت میں درخت لگانے کا عمل دراصل تعمیری کام کا استعارہ ہے۔درخت لگانے سے مراد کوئی بھی تعمیر ی عمل ہے۔ ایک درخت اپنے آغاز پر ایک چھوٹا سا پودا ہوتا ہے۔ اس وقت اس پودے کو ہر طر ح کی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔نگہداشت کے اس طویل عرصے میں نہ پھل ملتا ہے نہ سایہ ، نہ لکڑی ملتی ہے نہ پھول۔ لیکن جب نگہداشت کا یہ وقت گزرجاتا ہے اور آخر کار پودا درخت بن جاتا ہے تو پھر وہ ہر طرح کی پیداوار دینے لگتا ہے۔اسی طرح کا معاملہ ہر تعمیری کام کا ہے۔شروع میں یہ تعمیری کام یک طرفہ طور پر محنت، مشقت، صبر اورنگہداشت چاہتا ہے۔ اس دوران میں مطلوبہ نتائج کم ہی سامنے آتے ہیں۔ لیکن جب یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے تو پھر ہر طرح کے مثبت نتائج سامنے آنے لگتے ہیں۔

بچوں کی پرورش سے لے کر گھر بنانے تک اس تعمیری عمل کی مثالیں روز مرہ زندگی میں ہر جگہ بکھری ہوئی ہیں۔ مگر ہم لوگ فرد اور قوم کی مجموعی تعمیر و ترقی کے معاملے میں اس معاملے کو اکثر بالکل نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ایک دم نیک بن جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس اچانک بہت سارے پیسے آجائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم ایک ہی جست میں اس دنیا کی غالب قوم بن جائے۔ ہماری خوش گمانیوں کی یہی وہ مثالیں ہیں جن کی نفی یہ کہاوت کرتی ہے۔

یہ کہاوت بتاتی ہے کہ اگر ہمیں اپنی اور اپنے بچے کی کردار سازی کرنی ہے تو اس کے لیے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کرنا ہوگی۔ اگر ہمیں اپنے معاشی معاملات کو بہتر کرنا ہے تو اس کے لیے کوشش، جدوجہد، منصوبہ مندی اور مواقع کے انتظار کے صبر آزما مراحل سے گزرنا ہوگا۔ ہم اگر اپنی قوم کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں کسی عظیم لیڈر کا انتظار بند کرنا ہوگا جو اچانک آسمان سے اترے یا زمین سے کہیں نمودار ہوکر ایک دم سے چیزیں ٹھیک کردے۔ اس کے لیے ہمیں برسہا برس کی تعلیم و تربیت کے ذریعے سے مجموعی قومی مزاج کو درست کرنا ہوگا۔
دنیا پر حکومت کرنے والا مغرب اس مقام پر صدیوں میں پہنچا ہے۔ مغرب کے ورثے کو اپنا کر چینی اقوام کو بھی اس مقام پر پہنچنے میں کم از کم ایک نسل یا بیس برس کا انتظار کرنا پڑا ہے۔ دو چار سال میں قوموں کی زندگی میں کچھ نہیں ہوتا۔یہ وہ بات ہے جو ہماری قوم کو سمجھنا چاہیے۔

دوسری بات اس کہاوت میں یہ کہی گئی ہے کہ اگر بیس برس پہلے آپ نے اپنی انفرادی و اجتماعی تعمیر کاآغاز نہیں کیا تو مایوس نہ ہوں۔ بلکہ جان لیں کہ آج بھی اس کام کا بہترین موقع موجودہے۔ آپ آج سے کوشش شروع کردیں۔ اگلے بیس سال بعد آپ مطلوبہ نتائج پالیں گے۔ لیکن اس کے برعکس رویہ اختیار کیا گیا تو پھرمایوسی اور بے عملی کے بیس برس بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہوں گے جہاں آج کھڑے ہوئے ہیں۔


~!~ آج کی بات ~!~

منزلوں کا پا لینا کتنی بڑی قیامت ہے، سب کچھ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔
خود منزل بھی۔۔۔

مجھے ایسا لگتا ہے جیسے طلب سےعظیم تر کوئی منزل نہیں۔
طلب اور جدوجہد، شاید یہ بشریت کا تقاضا ہو 

اقتباس: ممتاز مفتی کی کتاب "لبیک" سے

خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے23-محرم الحرام-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں"اللہ کا صفاتی نام السلام اور اس کے تقاضے" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ السلام اللہ تعالی کا نام ہے اور اس میں اللہ تعالی کی ہمہ قسم کے نقائص ، شرکاء، ہمسر سے سلامتی کا معنی ہے، اللہ تعالی سے سلامتی مانگنا اسم مبارک کا تقاضا ہے، اللہ تعالی نے انبیائے کرام سمیت اپنے بندوں پر سلامتی نال فرمائی اور ہم سب نماز میں سب کیلیے سلامتی طلب بھی کرتے ہیں، اسی نام کی نسبت سے ہم ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔

خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:

مسلمانو!

اللہ تعالی کے نام بہترین ہیں اور اسی کی صفات اعلی ترین ہیں، کائنات اور شرعی احکام میں موجود نشانیاں اسی بات کی گواہ ہیں، اللہ تعالی کے تمام اسما و صفات مخلوق سے بندگی اور عبادت کا تقاضا بھی بالکل اسی طرح کرتے ہیں جیسے اللہ تعالی کے خالق ہونے اور پیدا کرنے کے متقاضی ہیں، نیز ہر نام اور صفت کی مخصوص بندگی بھی ہے جس پر ایمان رکھنا اور جاننا لازمی جزو ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} 
اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں، اللہ کو ان کے ذریعے پکارو اور ان لوگوں کو مسترد کر دو جو اللہ کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں، انہیں ان کے عملوں کا عنقریب بدلا دیا جائے گا۔[الأعراف: 180]

اللہ تعالی کے انہی ناموں میں "اَلسَّلَامُ" بھی شامل ہے، یہ ایک ایسا نام ہے جس میں تمام صفات بھی سمو جاتی ہیں، یہ نام اللہ تعالی کے تقدس اور پاکیزگی پر دلالت کرتا ہے، یہ اللہ تعالی کی بے عیبی ظاہر کرتا ہے، نیز ہر ایسی بات سے اللہ تعالی کی بلندی عیاں کرتا ہے جو اللہ تعالی کے جلال، کمال اور عظمت کے منافی ہے۔

"اَلسَّلَامُ" یہ بھی بتلاتا ہے کہ اللہ تعالی ہمہ قسم کی معذوری سے سلامت ہے، کسی بھی کمی سے منزّہ ہے، لہذا وہ ہر عیب اور نقص سے سلامت ہے؛ کیونکہ اس کی ذات، اس کے نام ، اس کی صفات اور افعال سب کچھ کمال درجے کے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ}
 وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہی بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے سلامت، امن دینے والا، نگہبان، غالب، زور آور، بڑائی والا ہے، اور اللہ ان چیزوں سے پاک ہے جنہیں وہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ [الحشر: 23]

لہذا ذات باری تعالی بیوی اور بچوں سے سلامت ہے، وہ کسی بھی قسم کے مماثل، ہم سر، ہم نام اور ہم پلہ سے سلامت ہے، وہ ہمہ قسم کے شریک اور ساتھی سے سلامت ہے، اللہ سبحانہ و تعالی کی زندگی موت، اونگھ اور نیند سے سلامت ہے، وہ اپنی مخلوقات کو قائم دائم رکھنے والا ہے، وہ تھکاوٹ، ناچاری اور اکتاہٹ سے بھی سلامت ہے، اس کا علم بھی جہالت اور بھول چوک سے سلامت ہے، اس کا کلام بھی مبنی بر عدل اور سچ ہے، اس کا کلام جھوٹ اور ظلم سے سلامت ہے، اس کی تمام تر صفات کسی بھی ایسی چیز سے سلامت ہیں جو کمال کے منافی ہو، یا صفات میں نقص کا شائبہ پیدا کریں۔

تو جس طرح ذات باری تعالی اور اس کے اسما و صفات سلامت اور سلامتی والے ہیں تو ہمہ قسم کی امن و سلامتی بھی اسی کی جانب سے ہوتی ہے، اسی سے سلامتی مانگی جاتی ہے، اگر کوئی شخص کسی اور سے سلامتی کا طلب گار ہو تو خالی ہاتھ لوٹے گا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نام مبارک کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے تھے جیسے کہ آپ ﷺ فرض نماز سے سلام پھیرتے تو فرماتے: 
(اَللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
[یا اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی آتی ہے، اے ذو الجلال والاکرام ! تو ہی بابرکت ذات ہے]) مسلم

پھر چونکہ اللہ تعالی خود سلامتی والا ہے اور اسی کی جانب سے سلامتی ملتی ہے تو یہ کہنا جائز نہیں کہ: "اللہ تعالی پر سلامتی ہو"؛ اس لیے کہ: (اللہ تعالی بذات خود سلامتی والا ہے) بخاری

اللہ تعالی نے اپنے انبیائے کرام اور رسولوں کو سلام بھیجا؛ کیونکہ رسولوں کی دعوت ہر قسم کے عیب اور نقص سے سلامت تھی، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ (180) وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ}
ان کی باتوں سے تیرا رب العزت پروردگار پاک ہے [180] اور سلام ہو رسولوں پر [الصافات: 180، 181]

اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کیلیے بھی سلامتی لکھ دی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى} آپ کہہ دیں: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اور اللہ کے چنیدہ لوگوں پر سلامتی ہو۔ [النمل: 59]

اللہ تعالی نے تمام مومنوں کو ہمارے نبی ﷺ پر سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا:
 {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} 
اے ایمان والو تم اس [نبی ] پر درود و سلام پڑھو۔[الأحزاب: 56]

ہر نمازی بھی اپنے تشہد میں نبی ﷺ سمیت تمام نیک لوگوں پر سلام بھیجتے ہوئے کہتا ہے: 
(اَلسَّلَامَ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ
[اللہ تعالی کی سلامتی ، رحمت اور برکتیں ہوں آپ پر اے نبی، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر])

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلیے دین بھی وہی مقرر فرمایا ہے جس میں ہدایت اور سلامتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ}
 بیشک اللہ تعالی کے ہاں دین؛ اسلام ہے[آل عمران: 19]

اسی دین کی اتباع میں دنیا و آخرت کی سلامتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى} 
اور متبعین ہدایت پر سلامتی ہو ۔[طہ: 47] پھر ا س دین کے پیروکاروں کا آخری ٹھکانہ بھی سلامتی والا گھر ہے یعنی جنت ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ}
 اور اللہ تعالی سلامتی والے گھر کی جانب دعوت دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے کہ صراط مستقیم کی رہنمائی کرتا ہے۔[يونس: 25]

اسلام نے جانوروں اور چوپاؤں کے تحفظ اور سلامتی کی ضمانت بھی دی چنانچہ (ایک عورت بلی کی وجہ سے جہنم میں گئی) متفق علیہ ۔ اور دوسری طرف : (ایک زانی عورت نے کتے کو پانی پلایا تو اسے بخش دیا گیا) متفق علیہ

مسلمان کو مخلوق میں قولی اور فعلی ہر اعتبار سے سلامتی کا پیغام پھیلانے کا حکم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان سلامت رہیں) بخاری

سلام کرنا بھی اسلام کا شعار ہے، سلام کہتے ہوئے مسلمان اللہ تعالی کا نام ذکر کرتا ہے اور اللہ تعالی سے ہی سلامتی طلب کرتا ہے، ساتھ میں مخاطب کے ساتھ یہ معاہدہ بھی کرتا ہے اسے کسی قسم کی تکلیف اور اذیت نہیں پہنچائے گا۔

سلام حقیقت میں باہمی الفت اور محبت پیدا کرنے کی کنجی ہے، سلام عام ہونے پر مسلمانوں میں باہمی الفت بڑھے گی، مسلمانوں کا امتیازی شعار ظاہر ہو گا، آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد بڑھے گا ، بلکہ سلام کرنے سے ایک دوسرے کی عزت اور تعلق میں بھی مضبوطی آئے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (یہودی تم سے اتنا حسد کسی چیز پہ نہیں کرتے جتنا تم سے سلام اور آمین کہنے پر کرتے ہیں) ابن ماجہ

اسلام نے سلام میں پہل کرنے کی ترغیب بھی دی : (بیشک اللہ تعالی کے ہاں قریب ترین وہی ہے جو اسلام میں پہل کرے) ابو داود

اللہ تعالی نے سلام کا جواب انہی الفاظ میں دینے یا ان سے بھی اچھے الفاظ میں دینے کا حکم دیا اور فرمایا: 
{وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا}
جب کوئی شخص تمہیں سلام کہے تو تم اس سے بہتر اس کے سلام کا جواب دو یا کم از کم وہی کلمہ کہہ دو [النساء: 86] 
ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: " اچھے الفاظ میں جواب دینا مستحب ہے، جبکہ انہی الفاظ میں جواب دینا فرض ہے"

سلام کرنے والے کیلیے دس تا تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، " ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا" پھر آپ نے فرمایا: (دس نیکیاں) ، " پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بھی بیٹھ گیا" اس پر آپ نے فرمایا: (بیس نیکیاں) ، " پھر تیسرا آدمی آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، تو آپ نے اس کا بھی جواب دیا اور وہ آدمی بھی بیٹھ گیا" اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تیس نیکیاں) ابو داود

سلام کرنا اور پھر سلام کا جواب دینا مسلمانوں کے باہمی حقوق میں سے ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں، انہی میں آپ نے فرمایا: جب ایک مسلمان دوسرے کو ملے تو سلام کہے) مسلم۔ جبکہ بخاری کی روایت میں ہے کہ: (سلام کا جواب بھی دے)

ایمان کی تکمیل اور حالات کی بہتری باہمی محبت سے ہو گی[اور باہمی محبت سلام سے پیدا ہوتی ہے]، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکتے جب تک ایمان نہ لے آؤ، اور ایمان اس وقت تک نہیں لا سکتے جب تک تم باہمی محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتلاؤں جب تو اسے کرنے لوگو تو آپس میں محبت بھی کرنے لگے گو؟ تم آپس میں سلام عام کرو) مسلم

اللہ تعالی کی طرف سے روزِ قیامت مومنین کا شعار بھی سلام ہی ہو گا، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ}
 جس دن وہ اللہ سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا [الأحزاب: 44]

اللہ تعالی کے اسما و صفات سے متعلق علم اعلی ترین علم ہے، اسی کی بنا پر اللہ تعالی سے محبت، اللہ تعالی کی عظمت، امید اور خشیت پیدا ہوتی ہے، جس قدر انسان کا اللہ تعالی کے بارے میں علم زیادہ ہو گا وہ اللہ تعالی کی جانب اتنا ہی متوجہ ہو گا، اللہ تعالی کے احکامات اور نواہی کی پاسداری کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ بندگی کی تمام تر صورتیں اللہ تعالی کے اسما و صفات کے تقاضے ہی ہیں۔ انتہا درجے کی سعادت مندی اور راہِ الہی میں بلند مقام پانے کا یہی ذریعہ ہے، اللہ تعالی کو اپنے اسما و صفات بہت پسند ہیں، اللہ تعالی پسند فرماتا ہے کہ اس کی مخلوق میں اسما و صفات کے اثرات رونما ہوں۔

یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: 
{إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا}
 اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔