اتوار, مارچ 31, 2013

Koi shaam Aisi Bhi Shaam Ho



کوئی شام ایسی بھی شام ہو، کہ ہو صرف میرے ہی نام سے
میرے سامعیں ہوں شگفتہ دل میرے دل گداز کلام سے

میری گفتگو کے گلاب سے ہو دلوں میں ایسی شگفتگی
کوئی ایسی نکہتِ خاص ہو، کہ مہک اُٹھیں در و بام سے

کوئی رنگ ان میں میں کیا بھروں، انہیں یاد رکھ کہ بھی کیا کروں
یہ جو بھیڑ بھاڑ میں شہر کی، مجھے لوگ ملتے ہیں عام سے

میری رات میری حبیب ہے، یہ بڑی عجیب و غریب ہے
میرے ساتھ چھوڑ دیا کرو، میرے فَن سے میرے کلام سے
 
میری آرزو ہے کہ موم ہوں کبھی اُن کے دِل بھی میرے لیۓ
جنہیں بیر ہے میری ذات سے، جو ہیں بَد گماں میرے نام سے

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Koi sham aisi bhi sham ho, k ho sirf meray hi naam se. .
Meray sama’een hon shugufta dil, meray dil-gudaaz kalaam se. .


Meri guftugu k gulaab se ho dilo’n mein aisi shuguftagi. .
Koi aisi nik’hat-e-khaas ho k mehek uthey dar-o-baam se. .


Koi rung in mein kia bharu’n? Inhein yaad rakh k bhi kia karun?
Ye jo bheerh bhaarh mein sheher ki, Mujhy log miltay hain aam se. .


Meri raat meri habeeb hai, ye barri ajeeb-o-ghareeb hai. .
Mery sath chorr diya karo, mery fann se meray kalaam se. .


Meri aarzu hai k moum hon kabhi un k dil bhi mery liye. .
Jinhain bair hai meri zaat se, Jo hain bad-gumaa’n mery naam se. !

جمعرات, مارچ 28, 2013

Sada Ki Be Yaqeeni



ﮨﺠﻮﻡِ ﻏﻢ ﺳﮯ ﺟﺲ ﺩﻡ ﺁﺩﻣﯽ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﺳﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ
ﺍُﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ
ﻭﮦ ﺍِﺗﻨﮯ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﺎ ، ﭼﯿﺨﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﺒﻼﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺧُﺪﺍ ﮨﻮ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﺭُﮐﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ
ﺧُﺪﺍ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺳﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍِﺱ ﻗﺪﺭ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﮭﺮﯼ ﻣُﺴﮑﺎﻥ ﺳﮯ
ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺗﮭﭙﮑﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳُﻨﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﯿﺦ ﮐﯽ ﺷِﺪّﺕ
ﺻﺪﺍ ﮐﯽ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﭘﺮ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ.......!

منگل, مارچ 26, 2013

Zaroorat aur Tamanna



ضرورت اور تمنا میں بہت سے فرق ہوتے ہیں
ضرورت کی یہی تفہیم کافی ہے
کہ یہ ایسی طلب ہے جو نہ پوری ہو
تو کوئی جی نہیں سکتا
تمنا اس کو کہتے ہیں کہ مٹ جایے
تو جینا چاہنا ممکن نہیں رہتا
ضرورت قادر مطلق نے اپنے دست قدرت سے
ہمیں مجبور رکھنے کو ہماری ذات میں رکھی
تمنا اختیار آدمی کہیے
جسے انسان کی اپنی رضا ایجاد کرتی ہے
ضرورت خواہ کسی ہو
مگر اس کے لئے" تعیّن " شرط لازم ہے
تمنا کی وضاحت ہو نہیں سکتی
حدیث آرزو کی ساری تفسیریں ادھوری ہیں
ضرورت شکل رکھتی ہے
تمنا کی بھلا کب کوئی صورت ہے
تو اے جان تمنا ، اب کہاں تیری ضرورت ہے

Roshni Ke Waastey



روشنی کے واسطے ,  پندار کا سودا نہ کر
سامنے سورج بھی ہے تو اس کو ٹھوکر مار دے

عباس تابش
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Roshni Ke Waastey Pindaar Ka Sauda Na Kar
Saamney Suraj Bhi Hai To Us Ko Thokar Maar De

Abbas Tabish

Din Raat



چہرے سجے سجے ہیں تو دل ہیں بُجھے بُجھے
ہر شخص میں تضاد ہے دن رات کی طرح
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Chehrey Sajey Sajey Hain To Dil Hain Bujhey Bujhey
Har Shakhas Main Tazaad Hai Din Raat Ki Tarha ..!

Aik Khoobsurat Haqeeqat



ایک خوبصورت حقیقت

جب انسان کسی سے ڈرتا ہے تو اس سے دور بھاگتا ہے

لیکن

جب وہ اپنے رب سے ڈرتا ہے تو اس کے اور قریب ہو جاتا ہے

Umeed Ke Jugnoo


امید کے جگنو

کبھی کبھی ہوتا ہے نا کہ ہم خوش اور مگن ہوتے ہوئے بھی مطمئن نہیں ہوپاتے۔ زندگی ایک دائرے میں گھومتی محسوس ہوتی ہے اور تب ایک انجانی سی تھکن وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ ہر سفر بے سمت، ہر کام بے معنی سا لگنے لگتا ہے۔ انہی سوچوں میں گھرا دیکھ کر مایوسی اپنے پر پھیلاتی ہے اور ناامیدی ہمارے دل و دماغ پر اپنے پنجے گاڑھ لیتی ہے۔ ناامیدی ہم سے وہ معمولی خوشیاں بھی چھین لیتی ہے جو ہر ابھرتے سورج کے ساتھ ہمیں چلتے رہنے کی ہمت دیا کرتی ہیں۔ بے انتہا شور میں گھرے ہوئے بھی ہمیں اپنے اندر صرف ایک مہیب سناٹا سنائی دیتا ہے۔ ۔ ۔ روشنیوں کی چکاچوند میں بھی ہر طرف اندھیرا چھاتا محسوس ہوتا ہے مگر اس اندھیرے میں بھی امید کے جگنو راستہ دکھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بالکل اس کہانی کی طرح جس میں اندھیری رات میں بھٹکتے بلبل کو جگنو نے راستہ دکھایا تھا۔ امید کے جگنو زندگی کے بے مقصد دائروں میں بھٹکتے تھکن زدہ انسان کے ہاتھ تھامتے ہیں اور ناامیدی سے امید تک کا سفر طے کرواجاتے ہیں۔ سوچیں تو حیران رہ جائیں کہ ان معمولی، چھوٹی سی جانوں میں اتنی طاقت کہاں سے آجاتی ہے کہ یہ میلوں پھیلے سناٹے کو اپنی ذرّوں جیسی روشنی سے چیرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ طاقت انہیں امید دیتی ہے۔ امید انہیں یقین بخشتی ہے کہ اجالا کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اندھیرے پر حاوی ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جیسے کالی رات میں سورج کی پہلی ننھی سی کرن کچھ سہمی ہوئی سی آگے بڑھنے سے گھبراتی ہے تو امید کے جگنو اس کے ہاتھ تھام کر اسے بھی اس خوف سے نکال لاتے ہیں۔ پھر اسے دیکھتے دیکھتے سورج کی بہت سی کرنیں اندھیرے کو اجالے میں بدلنے میں اس کے ساتھ آکھڑی ہوتی ہیں۔ اصل ہمت پہلی کرن کو کرنی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ دقت کا سامنا اس پہلی کرن کو کرنا پڑتا ہے، مگر پھر امید کے جگنوؤں کے سہارے یہ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس اندھیرے سے اجالے کے سفر میں بہت سی کرنیں اس کی ہم سفر ہوجاتی ہیں۔ اندھیرا جتنا بھی گہرا ہو، امید کے جگنو اس اندھیرے کو اجالے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف ان پر اعتماد کرنے کی ہے۔ ہاتھ بڑھائیے اور امید کے جگنوؤں کے بڑھے ہاتھ تھام کر ان کے ساتھ اجالے کے سفر میں شامل ہوجائیں۔ ۔ ۔ زندگی بہت با مقصد لگنے لگے گی۔

˙·٠•●♥ Everything Close To My Heart ♥●•٠·˙

Pichle Mausam Ki Yaad



پُرانی کِتاب میں رَکھی تَصویر سے باتیں
آج بَرسوں کے بعد دیکھا ہے
اَب بھی آنکھوں کا رَنگ گہرا ہے
اور مَاتھے کی سَانولی سی لکیر
دِل میں کتنے دیے جَلاتی ہے
تیری قامت کے سَائے کی خُوشبو
گُفتگو میں بَہار کا مُوسم
بے سَبب اعتبار کا مُوسم
کیوں مجھے سارے ڈھنگ یَاد رہے
کِتنی حیران ہو گئی خُود پر
میں تُجھے آج تک نہیں بُھولی
پچھلے مُوسم کی یاد باقی ہے !!
 
نوشی گیلانی
 
˙·٠•●♥ Everything Close To My Heart ♥●•٠·˙

Adakaari Nahi Karta



Moaziz ban ke mehfil main Adakaari nahi karta
Main chehrey pe kabhi jhooti ana taari nahi karta

Mera dushman mere dastoor se waaqif nahi shayad
Jisy main dost keh dalon to ghaddaari nahi karta

Yahan behtar hai apni zaat ka humdard ho jana
Zamana gham to deta hai, gham'khuaari nahi karta

Mujhe mauqa shanaasi ka hunar ayaa nahi ab tak
Jahan matlab nikalta ho Samajhdaari nahi karta.!
 
˙·٠•●♥ Everything Close To My Heart ♥●•٠·˙

Mohabbat Naam Hai Mera



محبت نام ہے میرا
مجھے دل میں بسا لو تم
تمہیں خوشیوں سے بھر دوں گی
جہاں کے راز دوں گی میں
کبھی رستہ جو بھٹکو گے
تمہیں آواز دوں گی میں
محبت نام ہے میرا
کبھی میں دکھ نہیں دیتی
اگر سچا ہو جذبہ اور
مری سچائی پالو تم
تو سکھ میں تول دیتی ہوں
جو جیون بھی نہ مل پائے
تمہیں وہ مول دیتی ہوں
محبت نام ہے میرا
مجھے جسموں میں مت کھوجو
ہوس کے نام پر مجھ کو
کوئی بازار مت سمجھو
جہاں قرباں خودی کردی
وہیں میں صرف ملتی ہوں
 
˙·٠•●♥ Everything Close To My Heart ♥●•٠·˙

Ghaao Gintey Na Kabhi


گھاوۤ گنتے نہ کبھی، زخم شماری کرتے
عشق میں ہم بھی اگر وقت گزاری کرتے
 
تجھ میں تو خیر محبت کے کئی پہلو تھے
دشمنِ جاں بھی اگر ہوتا تو یاری کرتے
 
ہو گئے دھول تیری راہ میں بیٹھے بیٹھے
بن گئے عکس تیری آئینہ داری کرتے
 
وقت آیا ہے جدائی کا تو اب سوچتے ہیں
تجھ کو اعصاب پہ اتنا بھی نہ طاری کرتے
 
آخری داوۤ لگانا نہیں آیا ہم کو
ذندگی بیت گئی خود کو جواری کرتے
 
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~   

Ghaao Gintey Na Kabhii Zakhm Shumaari Kartey
Ishq Main
Hum Bhii Agar Waqt Guzaari Kartey

Tujh Main To Khair Muhabbat Ke They Pehlu Bhi Buhat
Dushman-e-Jaan Bhi Agar Hota To Yaari Kartey

Ho Gaye Dhool Teri Raah Main Bethey Bethey
Ban Gaye Aks Teri Aaina Daari Kartey

Waqt Aaya Hai Judai Ka To Ab Sochty Hain
Tujhko A'asab Pe Itna Bhi Na Taari Kartey

Aakhri Daa'o Lagana Nahi Aaya Hum Ko
Zindagi Beet Gai Khud Ko Juwaari Karty…

Zindagi Khaak Na thi






زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری
تجھ سے کیا کہتے، تیرے پاس جو آتے گزری

دن جو گزرا تو کسی یاد کی رَو میں گزرا
شام آئی، تو کوئی خواب دکھا تے گزری

اچھے وقتوں کی تمنا میں رہی عمرِ رواں
وقت ایساتھا کہ بس ناز اُٹھاتے گزری

زندگی جس کے مقدر میں ہو خوشیاں تیری
اُس کو آتا ہے نبھانا، سو نبھاتے گزری

زندگی نام اُدھر ہے، کسی سرشاری کا
اور اِدھر دُور سے اک آس لگاتے گزری

رات کیا آئی کہ تنہائی کی سرگوشی میں
ہُو کا عالم تھا، مگر سُنتے سناتے گزری

بار ہا چونک سی جاتی ہے مسافت دل کی
کس کی آواز تھی، یہ کس کو بلاتے گزری

زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری
تجھ سے کیا کہتے، تیرے پاس جو آتے گزری

شاعر : نصیر ترابی
 
˙·٠•●♥ Everything Close To My Heart ♥●•٠·˙



سوموار, مارچ 25, 2013

Khushi Mehsoos Hoti Hai



خوشی محسوس ہوتی ہے، غمی محسوس ہوتی ہے
تو پھر کیوں برف سی دل پر جمی محسوس ہوتی ہے

کسی کے قرب نے دل کو عجب سرشاریاں بخشیں
کہیں جاؤں اسی کی ہمدمی محسوس ہوتی ہے

جن آنکھوں میں محبت کی کمی محسوس ہوتی تھی
ان آنکھوں میں دمِ رخصت نمی محسوس ہوتی ہے

یہ محویت کا عالم بھی عجب عالم ہے، مت پوچھو
تسلسل سے لگی بارش تھمی محسوس ہوتی ہے

کسی کی یاد میں آنکھیں سحر دم بھیگ جاتی ہیں
گلستاں کی ہوا بھی شبنمی محسوس ہوتی ہے

یہ کانٹوں پر چلاتی ہو، یہ کتنا ہی جلاتی ہو
مگر پھر بھی محبت ریشمی محسوس ہوتی ہے

فصیحؔ اس شخص کے ہمراہ تو صدیاں گزاری ہیں
عجب کیا ہے اگر اس کی کمی محسوس ہوتی ہے

ہفتہ, مارچ 23, 2013

Ta'aluq



دیرینہ تعلق کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی خراشوں کی شکایت کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ تعلق دو لوگوں کے درمیان کچھ کہے ان کہے لفظوں اور جذبوں سے بُنا نازک دھاگہ ہوتا ہے جہاں آپ نے اس تعلق کا در کسی تیسرے پر کھولا وہیں اعتبار اور بھروسہ دم توڑ دیتے ہیں پھر چاہے ساری عمر یہ ان کہے جذبے بین کرتے رہیں اس کم ظرفی پر اعتبار کی پھوار نہیں برستی ۔

جمعرات, مارچ 21, 2013

Tarjeeh



"ہم خدا سےتب رجوع کرتے ہیں جب دنیا ہمیں رد کر چکی ہوتی ہے ..تمام دروازوں سے دھتکارے جانے کے بعد ہم خدا کے در پر دستک دیتے ہیں..ہماری اولین ترجیح ہمیشہ دنیا ہوتی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کے ہم ذرا بھی شرمندہ نہیں ہوتے
.."
(بُشرٰی سعید کے ناول "سفال گر" سے اقتباس ۔۔)

Khamoshi



کبھی کبھی ہمارے ارد گرد خاموشی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ پھر وہ ہم سے باتیں کرنے لگتی ہے۔۔ عجیب بات ہے نا، خاموشی اور بات چیت تو دو بر خلاف پہلوں ہیں، پھر یہ ایک کیسے ہو جاتی ہیں؟ خاموشی محوِ گفتگو کیسے ہو جاتی ہے۔۔

خاموشی میں انسان کا باطن اُس کے روبرو آ بیٹھتا ہے۔ پھر وہ ہمیں ہمارا اصل دکھاتا ہے، ہم کیا ہیں وہ بتاتا ہے، ہم اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتے ہیں، اس کی امید جگاتا ہے۔۔ لیکن کبھی کبھی وہ آئینہ کی طرح ہمیں ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں کی کریہہ صورت دکھا کر ڈراتا بھی ہے۔۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جب بہت سے لوگ اپنی حقیقت کا سامنا کرنے کی بجائے اس سے خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلتے ہیں۔۔ پھر انہیں فرار کی تلاش ہوتی ہے جو انہیں خود سے بیگانہ کر دے۔ اس کے لیے وہ شور شرابے والی جگہوں کا رُخ کرتے ہوئے ایک ایسے ماحول کا حصہ بننا پسند کرتے ہیں جہاں کوئی خاموشی اُن کا اُن کے باطن سے دوبارہ کبھی متعارف نہ کروائے۔۔

خاموش لوگ خاموش پانیوں کی طرح گہرے ہوتے ہیں، جس میں اُترنا اور انہیں دریافت کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ وہ آسانی سے دوسروں پر آشکار نہیں ہوتے بلکہ اپنی ذات کو کسی راز کی طرح سنبھالے رکھتے ہیں۔۔ ایسے لوگوں کو دریافت کرنا گوہرِ نایاب ڈھونڈ لانے کے مترادف ہوتا ہے لیکن اس مہم میں نہ جانے کتنے لوگ اپنی جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھتے ہیں۔۔۔

شور دریا سے یہ کہہ رہا ہے سمندر کا سکوت
جس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

لیکن کہتے ہیں نا کہ جب کوئی چیز حد سے بڑھ جائے تو وہ نقصان ہی دیتی ہے۔۔ خاموشی کے جہاں اتنے فوائد اور اہمیت ہے وہیں اگر یہ حد سے بڑھنے لگ جائے تو اس سے لگنے والی کاٹ بڑی گہری ہوتی ہے۔۔۔

خاموشی اگر رشتوں میں در آئے تو سرد مہری بن جاتی ہے۔
لوگوں میں حائل ہو جائے تو غلط فہمیاں پیدا کر دیتی ہے۔
ضرورت کے وقت بھی ترک نہ کی جائے تو کمزوری اور کم علمی بن جاتی ہے۔
حق بات کہنے کے لیے بھی نہ ٹُوٹے تو ایمان کے سب سے نچلے درجے پر گِرا دیتی ہے۔

خاموشی اس وسیع و عریض کائنات کا ایک خوبصورت گوہر ہے۔۔ایک ایسا گوہر جس کو اگر نگل لیا جائے تو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں لیکن اگر درست استعمال کیا جائے تو آپ کا ظاہر اور باطن دونوں اس کے حُسن سے آراستہ ہو جاتے ہیں۔۔

Be-Tarteeb Yaraney




ملاقاتیں مسلسل ہوں تو دلچسپی نہیں رہتی
یہ بے ترتیب یارانے بڑے دلچسپ ہوتے ہیں

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Mulaqaten musalsal hon to dil chaspi nahi rehti
Ye be tarteeb yaraney barey dil chasp hotey hain

بدھ, مارچ 20, 2013

Mere Hamsafar, Mere hamnasheen




میرے ہمسفر میرےہمنشیں
میں نے رب سے مانگا تو کچھ نہیں
میں نے جب بھی مانگی کوئی دعا
نہیں مانگا کچھ بھی تیرےسوا
یہ طلب کیا کے میرے خدا
سبھی راحتیں
سبھی چاہتیں
وہ عطا کرے تجھے منزلیں
یہ طلب کیا کے میرے خدا
تجھے بخت دے
تجھے تاج دے
تجھے تخت دے
میرے ہمسفر
میرے چارہ گر
یہ ہے دوستی کا کٹھن سفر
میرے ساتھ چلنا ذرا سوچ کر
ذرا دیکھ تو میرا حوصلہ
میرے پاس جو بھی وہ ہے تیرا
نہیں اور کچھ بھی تیرے سوا
میری دوستی
میری زندگی
میری خامو شی
میرے بے بسی
میرا علم بھی
میرا نام بھی
کہ میری صبح بھی
کہ میری شام بھی
کہ جو مل سکیں میرے دام بھی
وہ سبھی کچھ تجھے عطا کرے
میرے چارہ گر تو یقیں تو کر
مجھے مانگنا تو نہ آسکا
میں نے پھر بھی مانگی یہی دعا
کہ گواہی دے گا میرا خدا
میں نے جب بھی اس سے طلب کیا
نہیں مانگا کچھ بھی تیرے سوا

Wafa Ke Silsilon Ki




بتاؤ کون تھا ، کیسا تھا جس سے سلسلہ ٹھہرا.....؟؟
کہا . . . کر کے وفا کا خون آخر بے وفا ٹھہرا...

بھلا پھولوں سے بھنورے کس زباں میں بات کرتے ہیں...؟؟
کہا . . . خوشبو سے خوشبو کا انوکھا رابطہ ٹھہرا...

ذرا بتلاؤ اِک انجان پر اتنی عنایت کیوں.....؟؟
کہا . . . دل کے صحیفے میں یہی تو معجزہ ٹھہرا...

سنو کیسا لگا اس شخص سے ملنا ، بچھڑ جانا.....؟؟
ملا تو اجنبی تھا وہ ، بچھڑ کر آشنا ٹھہرا...

بھلا محبوب سو پردوں میں بھی کیونکر نمایاں ہے.....؟؟
ازل سے تا ابد دل کے ، وہ کعبے کا خدا ٹھہرا...

پلٹ کر ہر طرف سے کیوں نظر اس شخص پر ٹھہری.....؟؟
وفا کے سلسلوں کی وہ ، مسلسل انتہا ٹھہرا
...

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Bataou kon tha. kaisa tha jis se silsila thehra?
Kaha, karkey wafa ka khoon aakhir be wafa thehra

Bhala phoolon se bhanwre kis zaban main baat karte hain?
Kaha, khushboo se khoshboo sa anikha raabta thehra

Zara batlaou ik anjan per itni inayat kyun?
Kaha, dil ke saheefe main yehi to mou'jza thehra

Suno kaisa laga us shakhs se milna, bichar jana?
Mila to ajnabi tha woh. bichar kar aashna thehra

Bhala mehboob sou pardon main bhi kyunkar numayaan hai?
Azal se ta abad dil ke, woh ka'abey ka khuda thehra

Palat kar har taraf se kyun nazar us shakhs per thehri?
Wafa ke silsilon ki woh, musalsal inteha thehra
 

منگل, مارچ 19, 2013

Lamhaat



انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آہی جایا کرتے ہیں۔ جو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ ان کو بسر کرنے کے لئے سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ ان کو گزر جانے دیا جائے۔

اقتباس: سعادت حسن منٹو کی کتاب "یزید" کے افسانے "ممی" سے

جمعہ, مارچ 15, 2013

Data Recovery



نجانے کیسے ہارڈ ڈسک خود بخود فارمیٹ ہوگئی۔ ایسی فارمیٹ ہوئی کہ ، جتنا بھی اہم ڈیٹا تھا، سب گیا۔اسی مواد میں ایک “ڈیٹا ریکوری” سافٹ وئیر تھا وہ بھی گیا۔فکر یہ ہونے لگی کہ اب اس کو دوبارہ کیسے حاصل کیا جائے۔ سو اس جستویں میں لگ گیا اور ایک سافٹ وئیر تلاش کیا جو بہت آسانی سے ڈیٹا ریکوری کر سکتا ہے۔ ہارڈ ڈسک تین سو جی بی کی تھی اس لیے کافی وقت لگا۔ لیکن میرے پاس کوئی خالی ہارڈ ڈسک نہیں تھی جس میں میں ریکوری شدہ ڈیٹا ڈالتا۔ سو میں نے سوچا جو زیادہ ضروری اور زیادہ اہم ڈیٹا ہے اس کو نکال لیتا ہوں اور باقی کو رہنے دیتا ہوں۔ پھر ایسا ہی کیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ماضی کا بے شمار ڈیٹا اس میں موجود ہے۔ 20 جی بی سے بھی زیادہ تو صرف تصویرں موجود تھیں۔ میں تصویریں دیکھنا شروع ہو گیا۔کیا خوب ماضی تھا۔ جتنی بھی تصویریں مجھے اچھی لگی میں نے سب نکال لیں، جتنا ڈیٹا اہم تھا وہ سب نکال لیا اور باقی کا جانے دیا۔ میں ان تصویروں کو دیکھنے لگا۔ دیکھتے دیکھتے یہ بات ذہن میں آئی کہ کاش کوئی ایسا سافٹ وئیر ہو جو حقیقت میں ہمارے ماضی کو ریکور کرے۔ ہمارے ماضی کو ہمارے سامنے لا کر رکھ دے اور ہم نے جہاں جہاں غلطی کی ہے اور جس غلطی کی سزا پا رہے ہیں اس کو وہی سے درست کر دیا جائے۔ جو غیر اہم چیزں ماضی میں شامل ہو کر زندگی کا حصہ بن گئی تھیں۔ ان کو وہی سے ڈلیٹ کر کے موجودہ زندگی کو خوبصوت بنا لیں۔ اپنے جسم کی ہارڈ ڈسک میں سے تمام فصول ڈیٹا ڈلیٹ کر کے ، اچھا ڈیٹا ڈالنے کی جگہ فری کر لیں۔ کیا ایسا ممکن ہے، کیا ایسا ہو سکتا ہے، اگر ایسا ہو جائے تو کیا ہم درست ہو سکتے ہیں، کیا اس طرح ہم خود کو تبدیل کرسکتے ہیں، کیا اس طرح تبدیلی آ سکتی ہے۔ “نہیں” میرا خیال ہے ایسا کچھ بھی ممکن نہیں۔ کوئی بھی شاٹ راستہ ایسا نہیں ہے جو ہمارے سب مسائل کا حل ہو، جھاگ جتنی جلدی بنتی ہے اتنی جلدی بیٹھ جاتی ہے، رنگ کو جتنا ہم پکائے گے اتنا ہی پکا ہوگا۔ ہاں اگر ہم نے اپنی ریکوری کرنی ہے، ہم نے اپنے آپ کو درست کرناہے، ہم نے اپنے ملک کو درست کرنا ہے، اپنے معاشرے کو درست کرنا ہے، اپنی آنے والی نسلوں کو سیدھے راستے پر لگانا ہے۔ تو کسی بھی سافٹ وئیر کی مدد کے بغیر ۔ ہمیں خود ہی اپنے ماضی کو ڈلیٹ کرنا ہے اور نیا ڈیٹا خودبنا ہے، تبدیلی اپنے اندر سے شروع کرنی ہے، دوسرے کو تبدیل کرنے کے لیے اسے تبدیل ہونے کی تلقین نہیں کرنی۔ بلکہ خود تبدیل ہو کر اس کے سامنے ایک نمونہ بنا ہے۔ ہم خود جب تبدیل ہونگے تو کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جب ہم اپنے گھر کے ساتھ ساتھ اپنی گلی بھی صاف کریں گے تو ایک دن ایسا آئے گا کہ گھر، گلی ، محلہ ،شہر اور پھر پورا ملک صاف ہو جائے گا۔، جب ہم اپنے کپڑوں پر لگی غلاظت کے ساتھ ساتھ اپنی دل میں جمی ہوئی میل کو بھی صاف کریں گے، جب اپنے دل کا آئینہ صاف کریں گے، جب اپنی آنکھوں پر لگی ہوئی نفرت کی عینک کو صاف کریں گے، جب ہم اپنے آپ سے مخلص ہو جائے گے۔ تو خود بخود ہم درست ہو جائے گے۔ جب ہم درست ہو جائے گے تو ہمارا گھر درست ہو جائے گا، ہمارا گھر درست ہو گا، تو علاقہ بھی درست ہو جائے گا اسی طرح شہر اور ملک بھی درست ہو جائے گا۔ لیکن یہ تب ہو گا جب ہم اپنی ذات پر چڑھے ہوئے جھوٹ اور نفرت کو خول کو ، سچ اور محبت کے خول سے تبدیل کریں گے۔ جب ہم خود تبدیل ہونگے-

خرم ابن شبیر

Aiteqaad






آسمان تلے جتنے جاندار سانس لیتے ہیں ان میں سب سے زیادہ غمگین انسان ہے جو طرح طرح سے اپنے آپ کو ایضا پہنچاتا ہے- کاینات میں صرف انسان ہی ہے جو خود کشی پر آمادہ ہو جاتا ہے، ورنہ یہ چہچہاتے ہوے پرندے، کلیلیں کرتے ہوے چرند، لہلہاتے ہوے پھول، اپنی مختصر سی زندگی میں اتنے نا خوش نہیں- انسان کو اعتقاد کی ضرورت ہے- یہ اعتقاد خواہ مذہب سے ملے، انسانیت سے یا رفاقت سے، لیکن محکم ہو- ایسا جیسا مریض کو طبیب پر... ہوتا ہے -افیم کی عادی مریضوں کو جب طبیب سادے پانی کا ٹیکا لگاتا ہے تو وہ بچوں کی طرح سو جاتے ہیں - غم کی شددت اعتقاد کی دشمن ہے -وہ خود ترسی کی عادت ڈال دیتی ہے- اپنے آپ کو مظلوم سمجھنا، اپنے آپ پر ترس کھاتے رہنا، نہایت مہلک ہے- اس سے ساری صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں-

شفیق الرحمٰن

جمعرات, مارچ 14, 2013

Umeed Ka chiragh



جس طرح موسم بدلنے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اسی طرح وقت بدلنے کا بھی ایک موسم ہوتا ہے۔ حالات بدلتے ہی رہتے ہیں، حالات کے ساتھ حالت بھی بدل جاتی ہے۔رات آجائے تو نیند بھی کہیں سے آہی جاتی ہے۔ وہ انسان کامیاب ہوتا ہے۔ جس نے ابتلا کی تاریکیوں میں امید کا چراغ روشن رکھا۔ امید اس خوشی کا نام ہے جس کے انتظار میں غم کے ایام کٹ جاتے ہیں۔ امید کسی واقعہ کا نام نہیں۔ یہ مزاج کی اک حالت ہے۔ فطرت کے مہربان ہونے پر یقین کا نام
امید ہے۔

واصف علی واصف

Zeest Ki Kitab



زیست کی اس کتاب میں جاناں
ذکر ہر باب میں تمہارا ہے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~


Zeest ki iss kitaab mai janaa
Zikr har baab mai tumhara hai...

بدھ, مارچ 13, 2013

Jannat Ke Pattey



" آپ جنّت کے پتے کسے کہتے ہیں ؟ "
" آپ جانتی ہیں ' جب آدم علیہ سلام اور حوا جنّت میں رہا کرتے تھے؛ اس جنّت میں جہاں نہ بھوک تھی نہ پیاس' نہ دھوپ اور نہ ہی برہنگی.. تب الله نے انھے ایک ترغیب دلاتے درخت کے قریب جانے سے روکا تھا' تا کے وہ دون
وں مصیبت میں نہ پڑ جایں." وہ سانس لینے کو رکا ..." اس وقت شیطان نے ان دونوں کو ترغیب دلائی کے اگر وہ اس ہمیشگی کے درخت کو چھولیں تو فرشتے بن جاینگے یا پھر ہمیشہ رہینگے..انھے کبھی نہ پرانی ہونے والی بادشاہت ملیگی .. سو انہوں نے درخت چکھ لیا....حد پار کرلی ... تو انکو فورن بے لباس کردیا گیا.. اس پہلی رسوائی میں جو سب سے پہلی شے جس سے انسان نے خود کو ڈھکا تھا' وہ جنّت کے پتے تھے' ورق الجنّتہ "

( نمرہ احمد کے ناول " جنّت کے پتے" سے)

بدھ, مارچ 06, 2013

Kab tak aakhir!!

سورہ رحمان سے متا ثر ہو کر لکھی گئ نظم


اے فنا انجام انسان کب تجھے ہوش آئے گا
تیر گی میں ٹھوکریں آخر کہاں تک کھائے گا
اس تمرد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا
کیا کرے گا سامنے سے جب حجاب اٹھ جائے گا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

یہ سحر کا حسن ، یہ سیارگاں اور یہ فضا
یہ معطر باغ ، یہ سبزہ ، یہ کلیاں دل ربا
یہ بیاباں ، یہ کھلے میدان یہ ٹھنڈی ہوا
سوچ تو کیا کیا ، کیا ہے تجھ کو قدرت نے عطا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

خلد میں حوریں تری مشتاق ہیں آنکھیں اٹھا
نیچی نظریں جن کا زیور ، جن کی آرائش حیا
جِن و انساں میں کسی نے بھی نہیں جن کو چھوا
جن کی باتیں عطر میں ڈوبتی ہوئی جیسے صبا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

اپنے مرکز سے نہ چل منہ پھیر کر بہر ِ خدا
بھولتا ہے کوئی اپنی انتہا اور ابتدا
یاد ہے وہ دور بھی تجھ کو کہ جب تو خاک تھا
کس نے اپنی سانس سے تجھ کو منور کر دیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

سبز گہرے رنگ کی بیلیں چڑھی ہیں جا بجا
نرم شاخیں جھومتی ہیں ، رقص کرتی ہے صبا
پھل وہ شاخوں میں لگے ہیں دل فریب و خوشنما
جن کا ہر ریشہ ہے قندو شہد میں ڈوبا ہوا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

پھول میں خوشبو بھری ، جنگل کی بوٹی میں دوا
بحر سے موتی نکالے صاف روشن ، خوش نما
آگ سے شعلہ نکالا، ابر سے آبِ صفا
ک سے ہو سکتا ہے اس کی بخششوں کا حق ادا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

ہر نفس طوفان ہے ، ہر سانس ہے اک زلزلہ
موت کی جانب رواں ہے زندگی کا قافلہ
مضطرب ہر چیز ہے جنبش میں ہے ارض وسما
ان میں قائم ہے تو تیرے رب کے چہرے کی ضیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

صبح کے شفاف تاروں سے برستی ہے ضیا
شام کو رنگ شفق کرتا ہے اک محشر بپا
چودھویں کے چاند سے بہتا ہے دریا نور کا
جھوم کر برسات میں اٹھتی ہے متوالی گھٹا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

جوش ملیح آبادی

جمعہ, مارچ 01, 2013

Dil se dua



دل سے دعا کیسے مانگتے ہیں؟ میں سوچ میں پڑ جاتی- مجھے امی کی بات عجیب لگتی تھی----دل سے دعا----میں اتنی کم عمرتھی کہ دل اور زبان کے فرق کو نہیں سمجھتی تھی اور مجھے یہ تشویش بھی ہوتی تھی کہ میں واقعی صرف زبان سے بول بول کر دعا مانگا کرتی ت
ھی----تو پھر کیا دعا مانگنے کا طریقہ کوئی اور تھا؟---- کوئی ایسا طریقہ جس سے دعائیں واقعی ہی قبول ہو جاتی تھیں-"

مجھے تجسّس ہوتا اور میں اپنی سیکنڈ پوزیشن کو...
بھول جاتی-

"دل سے دعا اس طرح مانگتے ہیں کہ انسان ہر وقت صرف وہی ایک چیز مانگے جو اسے چاہیے ہو-" امی مجھے بڑی سنجیدگی سے بتانا شروع کرتیں-

"اور اگر ایک سے زیادہ چیزیں چاہیے ہوں؟" مجھے یک دم الجھن ہوتی-

"مگر ایک وقت میں تو کوئی ایک ہی چیزبہت زیادہ چاہیے ہوتی ہے----دوسری کسی بھی چیز سے زیادہ"- امی کہتیں-
"کوئی ایسی چیز یا دعا جس کے آگے باقی تمام چیزیں اور دعائیں غیر ضروری لگیں-" امی کہ رہی تھیں-

"پھر" میں جلدی سے پوچھتی "اور دعا کرتے ہوۓ ذھن میں کوئی دوسری چیز نہیں آنی چاہیے----کوئی بھی دوسری چیز-" امی مجھے سمجھاتی اور میں سمجھ جاتی-

اگلے کئی گھنٹے میں امی کی باتوں کے بارے میں سوچتی رہتی- "واقعی میری دعا کیسے قبول ہو سکتی تھی----میں تو دعا مانگتے ہوۓ ساتھ اور بہت سی چیزوں کے بارے میں سوچتی رہتی تھی----دوستوں کے بارے میں----امی اور بابا کے بارے میں----اپنیا کھلونوں کے بارے میں----سکول کے بارے میں---- اپنی کتابوں کے بارے میں----اپنے گھر کے بارے میں----سوچنے کے لئے چیزوں کا ایک انبار----ایک جم غفیر ہوتا تھا اس وقت میرے پاس-

"ٹھیک ہے اگلی ٹرم میں ،میں دل سے دعا مانگوں گی صرف زبان سے نہیں-" میں امی کی وضاحت سے مطمئن ہوتے ہوۓ طے کرتی-

اگلی ٹرم میں سری دعاؤں کے باوجود سیکنڈ بھی نہیں آئی----میری تھرڈ پوزیشن تھی اور میں بے حد خفا-

"مگر اس بار تو میں نے دل سے دعا مانگی تھی-" میں ایک بار پھر امی سے شکایت کرتی- "ہو سکتا ہے اس بار کسی اور نے تم سے زیادہ دل سے الله سے دعا مانگی ہو-" امی کہتیں- میں ناراض ہوتی- "یہ کیا بات ہوئی؟" مجھے امی کی بات کی سمجھ نہیں آئی- "کیا اب الله بھی دعاؤں کا
competition
کروایا کریں گے؟" میں پوچھتی- "آپ تو کہتی ہیں کہ وہ ہر ایک کی دعا قبول کرتے ہیں؟" میری ناراضگی میں اور اضافہ ہوتا-

"لیکن اگرچیز ایک ہی وقت میں دو لوگ مانگ رہے ہوں تو پھر یہ تو طے کرنا پڑے گا کہ کس کی دعا قبول کرنی چاہیے اور کس کی نہیں-" امی مجھے سمجھاتی- مجھے اس بار امی کی فلاسفى سمجھ میں نہیں آئی- میرے نزدیک ایک چیز دو لوگوں کے مانگنے کا مطلب تھا کے الله مجھے اور دوسری لڑکی دونوں کو فرسٹ پوزیشن دلوا دیتے اور بس----بات ختم----مگر اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کے زندگی میں ہر چیز دو لوگوں میں برابر بانٹی جا سکتی ہے نہ ہر جگہ دو لوگوں کی جگہ ہوتی ہے-

عميرہ احمد کے ناول "دربار دل" سے اقتباس