لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ۔۔۔۔ دعا بنامِ فلسطین





"لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری"
دعا بنامِ ارضِ فلسطین
شاعر: عمران پرتاپ گڑھی (ہندوستان)

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
سن لے توُ آج یہ فریاد خدایا میری

تیرے محبوب نے جس سمت کیے تھے سجدے 
حکم سے تیرے وہ اصحاب نبی کے سجدے 
سینکڑوں غم لیے سینے میں ہے غمگین کھڑا 
اب فقط تیرے سہارے ہے فلسطین کھڑا 
کاش دنیا یہ سمجھ پاتی یہ جھگڑا کیا ہے 
آپ کے گھر پہ کسی غیر کا قبضہ کیا ہے
تو جو چاہے تو ہر اک بات کو بہتر کردے 
اک نظر ڈال کے حالات کو بہتر کردے 

لب پے آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

اب کہیں بھی نہیں سنوائی ہے میرے مولا
ساری دنیا ہی تماشائی ہے میرے مولا
جو تیرے نام پے لڑتے ہیں اگر ہارے تو 
اس میں تیری بھی تو رسوائی ہے میرے مولا
ان کی اجڑی ہوئی بستی کی صدائیں سن لے
اے خدا قبلہ اوّل کی دعائیں سن لے 
تو جو چاہے بُرا وقت بھی ٹل جائے گا 
رات کی کوکھ سے سورج بھی نکل آئے گا

لب پے آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

دُودھ مونہے بچوں کے بھی کچھ خواب ہوا کرتے ہیں
جنگ کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
ہم نہیں کہتے ہمیں کوئی پیمبر دے دے 
تیرے ہی آگے جھکے ہم کو وہی سر دے دے 
لشکرِ فیل جہالت پہ اتر آیا ہے
اے خدا پھر سے ابابیلوں کو کنکر دے دے
کون کہتا ہے کہ نفرت سے چلے گی دنیا
تو دکھا دے کہ محبت سے چلے گی دنیا

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
سن لے توُ آج یہ فریاد خدایا میری
لب پے آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

"لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" دعا بنامِ ارضِ فلسطین شاعر: عمران پرتاپ گڑھی (ہندوستان) ویڈیو لنک :  https://youtu.be/wahCrMUsT...

الرحمٰن ۔۔۔ اسماء الحسنیٰ کورس از نمرہ احمد



اسماء الحسنیٰ کورس از نمرہ احمد

 سبق نمبر : 1

"الرحمن"


اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی دھتکارے ہوئے شیطان سے۔

 شروع اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔


"الرحمن"


الرحمن کا لفظ فعلان کے وزن پہ ہے۔ سادہ الفاظ میں اس بات کا مطلب یہ ہے کہ عربی میں الفاظ کے وزن ہوتے ہیں۔ جسے انگریزی میں ہم اگر کسی ورب کے آخر میں ”ای ڈی" لگا دیں تو اس میں ماضی میں کر چکنے کا معنی شامل ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی عربی میں ہم الفاظ کا وزن دیکھتے ہیں۔ یہ وزن ماضی کا ہے، حال کا ہے، فائل کا ہے یا مفعول کا۔


ایسے ہی ہر لفظ اپنے وزن کے مطابق مطلب دیتا ہے۔ جیسے ایک لفظ ہے قتل۔ اگر اس کو فاعل کے وزن پر لائیں تو بنے گا قاتل۔ اگر مفعول کے وزن پر لائیں تو بنے گا مقتول۔ دونوں صورتوں میں معنی بدل گیا۔ اب آپ نے جب بھی وزن کے بارے میں پڑھنا ہے تو یاد رکھنا ہے کہ وزن جاننا ضروری ہے لفظ کو سمجھنے کے لیے۔ یہ واحد تکنیکی بات تھی جو ہم اس کورس میں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سب کچھ آسان اور سادہ زبان میں ہو گا ان شاء اللہ۔


رحمن کا لفظ فعلان کے وزن پہ ہے۔ یہ مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی بہت بہت زیادہ ہونے کا صیغہ۔ اس پہ اترنے والے الفاظ میں بہت زیادہ ہونے کا معنی پایا جاتا ہے۔


رحمن نکلا ہے رحم سے۔ رحم کیا ہوتا ہے؟ اگر آپ کو اللہ تعالی کے نام رحمن کا مطلب جاننا ہے تو آپ کو الفاظ کا تعاقب کرنا ہو گا۔ کہ رحم کے لفظ کا اصل مطلب ہے کیا۔ ہم رحم کا لفظ روز مرہ گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم رحم کے اصل معنی سے واقف ہیں؟


کیا ہم جانتے ہیں کہ رحمن ہوتا کون ہے؟ شاید نہیں۔ کیونکہ ہمارے پاس اللہ کو جاننے کا وقت ہی کون ہے؟ شاید نمی نہیں ہے۔


اس کورس میں ہم گناہ ثواب کی باتیں نہیں پڑھنے جار ہے۔ کیا حرام ہے کیا حلال۔ کچھ بھی نہیں۔ نہ جنت نہ جہنم۔ اس کورس میں ہم صرف اللہ تعالی کے بارے میں جانیں گے۔ ہمیں اللہ تعالی کی ذات کو جاننا ہے تو اس کے ناموں کے معنی جانتے ہوں گے تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ وہ ہے کون۔ وہ جس کے آگے ہم پانچ دفعہ جھکتے ہیں ایک دن میں اور وہ جس کو ہم اپنا مالک مانتے ہیں وہ اصل میں ہے کون؟ وہ جس سے ہم دعا مانگتے ہیں اور دعا قبول نہ ہونے پہ اس سے ناراض ہو جاتے ہیں، وہ رب ہے کون؟


رحمان کا لفظ نکلا ہے رحم سے۔ رحم کہتے ہیں ماں کی کوکھ کو۔ وہاں جہاں ایک بچہ جنم لیتا ہے۔ بہن بھائیوں کو رحم کے رشتے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ان کا آپس کا تعلق ماں کے رحم کے ایک ہونے سے بنا ہوتا ہے۔ اسی طرح رحم کہتے ہیں خونی رشتوں کو۔


یہ معافی دینے اور ہمدردی دکھانے کو بھی کہتے ہیں۔ کسی کو چھوڑ دینا۔ سخت غصہ ہونے کے باوجود اس کو جانے دینا۔ معاف کر دینا۔ رحم اچھی قسمت اور نعمتوں کو بھی کہتے ہیں۔ کسی پہ رحم کرنا یعنی اس کو بہت اچھی ہمتیں عطا کرنا۔


رحمان مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی وہ ذات جس میں بہت بہت رحم پایا جائے۔ بہت معافی اور بہت عمتیں عطا کرنے کی خوبی پائی جائے۔


رحمن وہ نام ہے جو ہمیشہ اللہ تعالی کے لیے ہی آتا ہے۔ الرحمن۔ وہ جو بہت بہت مہربان بہت بہت رحم کرنے والا ہے۔


اور ہم کیا سمجھتے ہیں اللہ تعالی کون ہے؟ آپ جو اس وقت یہ سبق پڑھ رہے ہیں، آپ کے نزدیک اللہ تعالی کون ہے؟


ہم نے اللہ کو ایک ایسا استاد سمجھ لیا ہے نعوذ باللہ جو ہر منٹ ہمارے نمبر کاٹنے کے لیے تیار ہے۔ بس اسے حرام حلال کی پرواہ ہے۔ وہ بس یہی دیکھتا ہے کہ ہم نے گناہ کیا اور وہ ہماری ساری نیکیوں پر کانٹا پھیر دیتا ہے۔ ہم نے اللہ تعالی کو اپنے جیسا سمجھا ہوا ہے۔ ذرا سی بات پہ سب کچھ ملیا میٹ کر دینے والا۔ ہم کتنے آرام سے کہہ دیتے ہیں کہ اللہ ہم سے ناراض ہے کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ ایک غصہ کرنے والا، ہر وقت ہمارے گناہوں پہ نظر رکھنے والا حج ہے۔ ہم اللہ میں خود کو دیکھتے ہیں۔ ایسے انسان ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی ایسا نہیں ہوتا۔


اللہ تعالی کون ہے؟


اللہ تعالی میرا اور آپ کا رب ہے۔ وہ جس کے اندر بہت بہت رحم ہے۔ اس رحم اور محبت کی وجہ سے اس نے آپ کو جب دنیا میں بھیجا تو اس نے آپ کو دو انسانوں کے حوالے کر کے ان کا نام ماں باپ رکھا۔ جس اللہ سے آپ اب واقف ہوئے ہیں وہ آپ کے ساتھ آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے ہے۔ وہ ازل سے آپ کے ساتھ ہے۔ آپ تب سے اس کی نگاہ میں ہیں۔ وہ آپ کی ساری کہانی کا گواہ ہے۔


آپ کیسے بڑے ہوگئے؟ کیونکہ وہ اللہ ساتھ تھا۔ اس نے ایک پلان کے تحت آپ کو ماں باپ کے حوالے کیا اور پھر ان کے دل میں آپ کے لیے محبت ڈالی۔ نہ ڈالی ہوتی تو کون رکھتا ہے کسی کا خیال؟ اور یہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ بڑے ہو گئے ہیں۔ اس نے آپ کو جیسا بنایا تھا، آپ ویسے ہی ہیں۔ ایک کمزور وجود جس کو اپنا اچھا برا نہیں معلوم۔


آپ کو کیا لگتا ہے؟ آپ کو کیا لگتا ہے آپ ایک گناہ کر کے آئیں گے اور اللہ تعالی آپ سے نفرت کرے گا؟ بس اب آپ دھتکارے ہوئے ہو گئے؟ نہیں۔ آپ کا رب آپ سے نفرت نہیں کرتا نہ اس نے آپ کو چھوڑ رکھا ہے۔ اس کے نزدیک آپ ایک کمزور انسان ہیں۔ وہ آپ کے گناہ دیکھ رہا ہے لیکن وہ آپ کی کوشش بھی دیکھتا ہے۔ آپ اس سے بار بار وعدہ کرتے ہیں، ایک بری عادت چھوڑنے کا، ایک غلط انسان کو زندگی سے نکالنے کا، ایک نیک عادت ڈالنے کا، ایک بت توڑنے کا، آپ اس سے بار بار وعدے کر کے پھر ڈھے جاتے ہیں۔ اگر وہ صرف حج ہوتا تو آپ کا رزلٹ دیکھتا۔ اینڈ رزلٹ۔ لیکن وہ رحمان ہے۔


اس میں اتنا رحم بھرا ہے کہ وہ آپ کی نیت اور کوشش دونوں دیکھتا ہے۔ پھر کیا ہو گیا جو آپ بار بار بار جاتے ہیں؟ اس کا نام ہی رحمان ہے۔ وہ جو سب کچھ دیکھنے کے باوجود نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ جو ہر چیز معاف کر دیتا ہے۔ سب کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔


اللہ رحمان ہے۔ بہت مہربان۔ اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ وہی ہے جو ہر گناہ کے باجود معافی دیتا ہے۔ وہی ہے جو ہر نافرمانی کے باوجود نعمت دیتا ہے۔ یہ شیطان ہے جو ہمیں ایک گناہ کے بعد کہتا ہے کہ چلو بھئی تم اللہ کے بندوں کی لسٹ سے آؤٹ ہو گئے ہو اب کیا کرو گے روزے رکھ کے؟ نماز پڑھ کے ؟ سب کچھ چھوڑ دو۔ اور آپ چھوڑ دیتے ہیں؟ کیوں؟ اللہ نے تو نہیں کہا آپ اب اس کے بندے نہیں رہے۔ اس نے تو نہیں دھتکارا آپ کو ۔ کیا بجلی گری آپ پہ ؟ کیا زمین پھٹ گئی؟ کیا اس کا عذاب آگیا؟ نہیں۔ آپ نے ایک گناہ کیا۔ جو کہ نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن ہو گیا۔ اب کیا اس کا گلٹ لے کر بیٹھے رہیں گے؟ نماز روزہ صدقہ سب چھوڑ دیں گے کہ بھئی ہم منافق ہوں گے اگر اب بھی نماز پڑھی۔ یہ شیطان کا بہرکا وہ ہے۔ ہوشیار ہو جائیں۔


گناہ ہوا تو معافی مانگیں اور کوئی نیکی کریں۔ یہ اللہ کے بندوں کا وطیرہ ہے۔ گناہ سب سے ہوتے ہیں۔ نکل آئیں اس مینٹیسی سے کہ نیک مسلمان پرفیکٹ مسلمان کو کہتے ہیں۔ نہیں۔ کوئی اسکالر ہو یا مولوی، سب گناہ کرتے ہیں۔ مومن وہ ہے جس کو اپنے گناہ کا گلٹ ہو، وہ تو بہ کرے اور کوئی نیکی کرڈالے۔ نیکیاں گناہوں کو مٹاتی ہیں۔


اپنے رب کی طرف واپس آجائیں۔ نیکی کریں اور اس سے معافی مانگ لیں کیونکہ وہ رحمان ہے۔ اس کی رحمت اور معافی آپ کے لیے ہی ہے۔ ان شاء اللہ۔


اسماء الحسنیٰ کورس از نمرہ احمد  سبق نمبر : 1 " الرحمن " اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔  بسم اللہ الرحمن الرحیم ہم پناہ مانگتے ہیں ا...

‏اب مزید وقت نہیں



‏اب مزید وقت نہیں
منقول تحریر

سر ظفراقبال فرماتے ہیں 

شہری علاقوں میں ہر وقت رواں رہنے  والی ٹونٹیاں ہماری زندگی میں ہی صرف ایک خواب بننے والی ہیں۔ ان کا ذکر  کہانیوں میں ملے گا۔

بلوچستان کے ایک تھکا دینے والے فیلڈ وزٹ کے دوران ویرانے میں موجود ایک کلی (چند گھروں والی آبادی) میں ایک مہربان نے چائے کے لئے روک لیا۔ ہم سرد موسم میں اس کی جھونپڑی میں لگی فرشی نشتوں پر کچھ دیر سکون لینے کے لئے دراز ہوگئے جب کہ وہ مہربان ہمارے لئے چائے کا انتظام کرنے لگ گیا۔کچھ دیر بعد چائے اور ساتھ دیگر لوازمات آنے پر ہمارے ایک ساتھی نے ہاتھ دھونے کی خواہش ظاہر کی تو میزبان پہلے کچھ سوچ میں پڑا پھر ہمارے ساتھی سے کہا کہ آپ بیٹھو میں پانی لاتا ہوں۔ 

چند منٹ کے بعد ہمارا میزبان ایک چھوٹے سے برتن میں پانی لے کر دوبارہ اندر آیا۔ اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا جس نے ایک چھوٹا پرات نما برتن پکڑا ہوا تھا۔ انہوں نے ادھر نشست پر بیٹھے بیٹھے ہی ہمارے ساتھی کے ہاتھ اس طرح دھلوائے کہ سارا استعمال شدہ پانی نیچے پرات میں اکٹھا کر لیا اور اس کا ایک قطرہ بھی نیچے نہ گرنے دیا۔ میں یہ ساراعمل انتہائی غور سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے میزبان سے پوچھا کہ وہ اس پرات والے گندے پانی کا کیا کرے گا۔ اس نے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ گندا تھوڑی ہے، یہ تو اللہ کی رحمت ہے اسے جانوروں کو پلائیں گے۔یہ بات سن کر مجھے پنجاب کے ہوٹلوں کے واش بیسنوں اور پبلک باتھ روموں پر ہر وقت لیک کرتی یا کھلی ہوئی ٹوٹیاں بہت یاد آئیں۔ 

اسی طرح جب مغربی دارفور کے فیلڈ وزٹ میں ریاستی  دارلحکومت الجنینہ کے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے تو وہاں ہر بندے کے لئے پانی کی راشننگ تھی ۔ پانی ایک ڈرم میں اسٹور ہوتا جس سے ہر ایک کو روزانہ ایک بالٹی پانی ملتا جس سے آپ نے پورا دن گزارنا ہوتا۔ وہاں ہم آدھا بالٹی پانی سے نہاتے تھے اور باقی آدھی بالٹی وضو اور دن کے دیگر لوازمات کے لئے استعمال کرتے۔ وہاں یہ پتہ چلا کہ آدھی بالٹی سے بھی غسل ممکن ہے اور شاور کھول کر غسل کرنا کتنی بڑی عیاشی ہے۔

کوئٹہ شہر میں چند سال پہلے اپنی ٹیم کے لئے ہاسٹل بنایا تو چند دن بعد ہی مالک مکان نے عمارت خالی کرنے کی دھمکی اس بات پر لگائی کہ آپ کے لوگ پانی بہت ضائع کرتے ہیں۔ اس نے آکر باقاعدہ ہمارے آفس مینیجر کے ساتھ لڑائی کی کہ آپ کے لڑکے روز ایک ٹینکر پانی گٹر میں بہا دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ ٹینکر ہم خود خرید رہے تھے لیکن وہ رحمانی بندہ پانی کے ضائع ہونے کو برداشت نہیں کرپایا تھا کیونکہ وہ پانی کی کمی کے اثرات کو بھگت رہا تھا۔

ہمارے لڑکے نئے تھے اور لاہور سے گئے ہوئے تھے لہذا یہاں والی پانی کے استعمال کی عیاشیاں وہاں بھی جاری تھیں۔ اگرچہ ہم خود پانی کی بچت کے لئے کام کر رہے تھے لیکن اس مالک مکان نے ہماری توجہ مائیکرو مینیجمنٹ کی طرف کروائی جس کے بعد لڑکوں کا پانی کو دیکھنے کا زاویہ ہی بدل گیا۔ مالک مکان کی طرف سے ہمارے لڑکوں پر لگائی گئی فرد جرم ملاحظہ فرمائیں۔

ا1- یہ لوگ چھوٹی بالٹی میں پانی بھر کر مگ سے نہانے کی بجائے لمبے شاور لیتے ہیں

2- دن میں ایک سے زیادہ دفعہ نہاتے ہیں۔

3۔ باتھ روموں کے کا فلش ٹینک بار بار استعمال کرتے ہیں ۔ حتی کہ چھوٹی کاروائی کے بعد بھی۔

4۔ واش بیسن پر وضو کرنے کی بجائے ٹونٹی سے وضو کیوں نہیں کرتے  تاکہ نیچے بالٹی رکھ لیں اور یہ استعمال شدہ پانی فلش کرنے کے لئے استعمال کریں۔

5۔ ایک وضو سے دو یا اس سے زیادہ نماز یوں پڑھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔

6۔ کچن میں سبزی اور چاول دھونے والا پانی بھی بچا کر فلش یا فرش دھونے میں استعمال کیوں نہیں کرتے۔

پنجاب اور سندھ کے  شہری علاقوں میں عام سے عام جگہ پریا ہوٹل میں چلے جایئں۔ گلاس صاف بھی ہوگا تو کہیں گے کہ یار اسے پانی مار کر لاؤ۔اور آدھا گلاس پانی اسی میں ضائع ہوجائے گا۔ 

لان میں بچے پانی کے پائپ سے کھیلتے کھیلتے ٹینکی گٹر میں بہا دیں گے۔ ہاوسنگ سوسائیٹیوں میں صبح سویرے ڈرائیور حضرات موٹر چلا کر پائپ سے گاڑیاں دھونے میں مشغول ہوں گے اور اندر صاحب شاور کھول بالٹیوں کے حساب سے پانی ضائع کر رہے ہوں گے۔ 

کام والی ماسیاں موٹر چلا کر پائپ سے فرش دھو رہی ہوں گی جس سے گھر کے باہر ساری سڑک  پر پانی کھڑا ہوگا۔ سردیوں میں ہم ٹونٹی کھول کر گیزر کے گرم پانی کے انتظار میں کئی لٹر صاف پانی واش بیسن کے ذریعے گٹر میں منتقل کر رہے ہوں۔ 

ان باتوں پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اب مزید وقت نہیں ۔ شہری علاقوں میں بہنے والی ٹونٹیاں ہماری زندگی میں ہی ایک خواب بننے والی ہیں۔



‏اب مزید وقت نہیں منقول تحریر سر ظفراقبال فرماتے ہیں  شہری علاقوں میں ہر وقت رواں رہنے  والی ٹونٹیاں ہماری زندگی میں ہی صرف ایک خواب بننے وا...