جمعہ, مارچ 31, 2017

رنگِ دنیا

مجھ کو رنگوں کی طرح لگتی ہے دنیا ساری..
رنگ,رنگوں میں ملیں رنگ بدل جاتے ہیں.. 



 



جمعرات, مارچ 30, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 30 مارچ 2017

~!~ آج کی بات ~!~

دنیا (لوگوں) سے پہلے ہم دنیا بنانے والے کے آگے جوابدہ ہیں،
یہ سوچ ہی بہت سے راستے سیدھے کردیتی ہے۔

سیما آفتاب

تدبر القرآن --- سورۃ البقرہ ۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ-34

تدبر القرآن
سورۃ البقرہ
نعمان علی خان
حصہ- 34

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

*"وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ"*

" اِن کُنتُم ریب"، یا "و اَنتُم فِی رَیب" نہیں کہا گیا بلکہ قرآن میں اس جملے کا آغاز ہی ایسے ہوا کہ اگر ایسا ہے کہ تمہیں شک ہے اور جملے کے آخر میں کہا گیا "ان کنتم صادقین " کہ تم سچ بول رہے ہو. یعنی اگر تمہیں اپنی سچائی پہ شک ہے، دوسرے لفظوں میں اللہ تعالٰی انہیں کہتے ہیں کہ میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم سچ بول نہیں رہے. تم جانتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام ہے، تم صرف باتیں بنا رہے ہو کہ جو پچھلی آسمانی کتب میں تم نے تبدیلیاں کی ہیں انہیں چھپا سکو، اپنا فخر قائم رکھ سکو. یہی وجہ ہے کہ تم اس پہ تنقید کر رہے ہو.
آخری بات جو میں بتانا چاہوں گا وہ یہ کہ اس آیت کی نہایت غلط تشریح کی جاتی ہے . جب میں کالج میں تھا تو ہر ماہ ایک اسلامک ہفتہ منایا جاتا تھا جس میں ہر کوئی اپنا اسٹال سجاتا تھا اور ایک میز پر دعوۃ کے لیے پمفلٹ رکھے جاتے تھے، جو بھی لوگ ہمارے اسٹال پر آتے تھے انہیں کھانے کو مفت پزا دیا جاتا تھا اور ساتھ میں دعوۃِ اسلام کے لیے پمفلٹ بھی، اگر کوئی اسلام سے متعلق سوال کرتا تھا کہ اسلام آخر کیا ہے؟ تو آپ جواب دیتے تھے کہ اسلام ایک اللہ پر ایمان رکھنے کا نام ہے اور ہم آخری نبی صل اللہ علیہ والہ و السلام پر اور قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اور سوال کرنے والا کہتا تھا کہ............ ہمم... میں کچھ قائل نہیں ہوا تو آپ آگے سے تنفر سے کہتے تھے" اوہ.. اچھا کافر! پھر جاؤ، جا کہ اس جیسی کوئی سورۃ بنا کے لے آؤ. تم بنا کے لا سکتے ہو اس جیسی سورۃ." اور وہ کہتا تھا کہ یہ سورۃ کیا ہے؟ کیا یہ پزا کی کوئی نئی قسم ہے ؟ "
یہ دعوتِ دین کا طریقہ ہے ہی نہیں. یہ پہلا قدم نہیں ہے اسلام کی دعوت دینے کے لیے کہ آپ کسی کو کہیں کہ وہ اس جیسی سورۃ بنا کے لے آئے. درحقیقت یہ دعوۃ نہیں ہے یہ آخری سِل ہے جس کے آگے جہنم کے دروازے ہیں. میں چاہتا ہوں کہ آپ اسے سمجھیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام نے تمام انسانوں کو دعوت دی، انہیں نصیحت کر کے، انہیں سمجھا کر، ان کے اندر اچھائی کو پسند کرنے والی فطرت پہ، انہیں انصاف کے قاعدے سمجھا کے، ان کے اندر شکرگزاری کا احساس جگا کے، جو اولین دعوتِ دین، تمام تر انسانیت کو دی گئی اس کا آغاز ہوا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۩ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۩ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ۩ یہ ہے پہلی دعوت، دینِ اسلام کی طرف. قرآن کا بیشتر حصہ آپ کو اس ہستی کا شکر ادا کرنے کو کہتا ہے کہ جس نے آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا تمام تر انسانوں کے لیے.، ہم جو کھاتے ہیں، جو مشروب پیتے ہیں، ہمارے ہمسفر جن سے ہم لطف اٹھاتے ہیں ان سب کا شکر ادا کرنے پر. أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ وَإِلَى السَّمَاء كَيْفَ رُفِعَتْ
 
اس طرح اللہ تعالٰی انسانوں کو دین کی طرف دعوت دیتے ہیں. کیونکہ دین انسانی فطرت پہ ہے، 
*فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا*  
"اللہ کی فطرت وہی کہ پیدا کیا انسانوں کو جس پہ "

اب قرآن کو ایک طرف رکھ کے پچھلی قوموں کے حالات پہ نظر ڈالیں کہ پچھلی قوموں میں جب انبیاء مبعوث کیے گئے اور لوگوں نے انہیں جھٹلایا تو اللہ تعالٰی نے لوگوں کو ایمان کی نعمت سے سرفراز کرنے کے لیے اور انبیائے کرام کی مدد کے لیے انہیں معجزات عطا فرمائے، اب معجزات کے ظہور پذیر ہونے کے بعد ان لوگوں کے پاس اپنے کفر پہ قائم رہنے کی کوئی گنجائش باقی ہی نہ تھی کہ اگر تم لوگ یقین نہیں کرتے کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے ہے تو پھر بتاؤ کہ یہ معجزہ کیوں کر پیش آیا. پھر بتاؤ کہ حضرت صالح کی اونٹنی کیوں کر وجود میں آئی، وضاحت دو کہ کیسے ایک مٹی کے بنا پرندہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے زندہ کر دیا یا عصا اژدھے میں کیسے تبدیل ہو گیا. اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ یہ معجزات اللہ کے سوا کس کی طرف سے ہیں؟ جب لوگوں نے انبیاء کو ماننے سے انکار کر دیا ان کی تکذیب کی تو عذاب نازل نہیں ہوا، اللہ کا عذاب تب نازل ہوا جب لوگوں نے معجزات کو جھٹلایا.، تب ان کے لیے عذابِ الہی کے علاوہ کچھ بچا ہی نہ تھا. کیونکہ وہ ثابت کر چکے تھے کہ جو بہتر سے بہترین چیز انہیں ایمان لانے پر راغب کر سکتی تھی وہ ان کے لیے کافی نہ تھی. فرعون کی مثال لیجیے، اس نے موسی علیہ السلام کی اطاعت کب کی؟ تب جب وہ سمندر میں ڈوب کر مرنے والا تھا. جب اس نے سمندر کے پانی کو دو حصوں میں تقسیم ہو کر بنی اسرائیل کو راستہ دیتے دیکھا تو کیا یہ اس کے لیے کافی نہیں ہونا چاہیے تھا کہ ٹھرو، شاید موسی علیہ السلام جو کہہ رہے ہیں وہی حق ہے؟ اگر یہ کھلے معجزات کسی کے لیے کافی نہیں ہیں تو وہ اسی قابل ہے کہ اسے تباہ و برباد کر دیا جائے . اسی لیے جب اللہ عزوجل نے فرمایا کہ جاؤ اگر تم حق پہ ہو تو اس جیسی سورۃ بنا کے پیش کرو تو دوسرے لفظوں میں کہا گیا کہ اگر تم اسے نہیں مانتے تو ثابت کرو کہ یہ معجزہ نہیں ہے. اور اگر تم یہ ثابت نہ کر سکنے کے باوجود سرکشی میں آگے ہی بڑھنا چاہتے ہو تو فاتقو النار، ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں. دوسرے لفظوں میں یہ دعوۃ نہیں ہے یہ سرکشی کی حد ہے ان لوگوں کے لیے جو کہتے ہیں کہ انہیں قرآن کی کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے. یہ ہمارا تبلیغِ دین کا پہلا اسلوب نہیں ہے کہ ہم ثابت کریں کہ قرآن ایک معجزہ ہے. نہ ہی ہمارے انبیاء نے اس طرح تبلیغ کی. یہ آخری کوشش ہے کہ قرآن تمام تر انسانوں کو ان کی نیک فطرت پہ راغب کرے.
 فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ 

جاری ہے ----

اتوار, مارچ 26, 2017

پرخلوص قائد

حیات و مرگ کے پُر پیچ راہگزاروں میں
کوئی ہوا، کوئی آندھی تجھے کُچل نہ سکی
کسی طرح نہ خریدا گیا خلوص تیرا
چٹان جھوم کے ٹوٹی، مگر پگھل نہ سکی

بشکریہ: عمر الیاس 

 

امانت و دیانت


ہم نے بچپن میں بہت سے کہانیاں پڑھی ہیں جس میں "دیانت داری" کی اہمیت اور اس کا اچھا "نتیجہ" بتا کر بچوں کے دل میں اس احساس کو پختہ کرنا ہوتا تھا کہ وہ ہمیشہ ہر کام "دیانت داری" سے کریں۔ 

آج کل ہر ایک کی زبان پر یہ بات ہوتی ہے کہ آج کے زمانے میں ہر جگہ دھوکہ ہے، جھوٹ ہے، بے ایمانی ہے اور یہ غلط بھی نہیں ہے، مگر سو فیصد درست بھی نہیں ہے۔

آج بھی ایسے لوگ دنیا میں موجود ہیں جو امانت و دیانت کو اپنائے ہوئے ہیں، اور موقع ہوتے ہوئے بھی اس سے چُوکتے نہیں۔ زیر نظر ویڈیو میں کچھ ایسے ہی لوگ نظر آتے ہیں۔

ملاحظہ فرمائیں


ہفتہ, مارچ 25, 2017

کُرؔہ ارض اور انسان


مکتب کی دیوار پہ چسپاں کرہ ٔ ارض کا اک نقشہ تھا
اس نقشے پر بنے ہوئے تھے کتنے ہزاروں شہر اور قصبے
نہریں ، جھیلیں، دریا ، جنگل
گہرے اور منہ زور سمندر، ساحل ،کوہستان
برفوں کی بے پایاں وسعت، جلتے ریگستان
اک دن اک بچے نے یونہی
کھیل کھیل میں نقشے والا کاغذ یک دم پھاڑ دیا
اور
اک اک کر کے اس کے اتنے ڈھیروں ٹکڑے کر ڈالے
جن کو اب ترتیب سے واپس جوڑ کے رکھنا ناممکن تھا
ٹیچر نے بچے کو ڈانٹا
” جب تک سارے ٹکڑے جوڑ کے نقشے کی ترتیب کے مطابق نہیں کرو گے
تُم کو چھٹی نہیں ملے گی
جاؤاُس کونے میں بیٹھو
اور یہ سارے پُرزے جوڑو
سارا نقشہ پھر سے اس کی اصلی شکل میں واپس لاؤ”

ٹیچر دل میں سوچ رہا تھا
کام بہت مشکل ہے لیکن بچے کی اصلاح کی خاطراتنی سختی لازم ہے
لیکن اس کی حیرت کی تو حد نہ رہی جب اُس نے دیکھا
بچہ پانچ منٹ میں سارا نقشہ جوڑ کے لے آیا تھا
ہر شے اپنی اصل جگہ پر ٹھیک طرح سے رکھی تھی
اُس نے پوچھا
“تُم نے اتنے ڈھیروں ٹکڑے اتنے تھوڑے وقت میں آخر
کیسے جوڑ لیے؟ ”
بچہ بولا:
“اس نقشے کے پیچھے ایک انسان کا چہرا بنا ہوا تھا
میں نے جب وہ چہرہ جوڑا
دُنیا کے نقشے کے ٹکڑے ، خود ہی جُڑ کر
اپنی جگہ پر آ بیٹھے ہیں”

امجد اسلام امجد

تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔۔ حصہ 33

تدبر القرآن
سورۃ البقرہ
نعمان علی خان
حصہ- 33

کچھ عرصہ پہلے میں ایک یہودی عالم کے ساتھ تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ مجھے موسی علیہ السلام کے متعلق بتائیے ان کا قصہ جو بھی آپ کو پتہ ہے کیونکہ یہود کی 4 یا پانچ کتب میں حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے. ان کے پاس موسی علیہ السلام سے متعلق کثیر مواد موجود ہے تو میں نے پوچھا کہ موسی علیہ السلام پر وحی کا آغاز کس طرح ہوا؟ اس نے بتایا کہ "وہ سفر کر رہے تھے اور انہوں نے ایک آگ دیکھی". میں نے پوچھا "کیا وہ تنہا تھے؟" اس نے جواب دیا کہ نہیں، ان کے ساتھ ان کی بکری تھی. میں نے کہا کہ نہیں، ان کے ساتھ ان کی بکری نہیں تھی، وہ اپنی زوجہ کے ساتھ تھے. یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ پھر مجھے احساس ہوا کہ انہوں نے بکری کا ذکر کیوں کیا. کیونکہ حضرت موسی علیہ السلام کی نصف بہتر کا تعلق مدین سے تھا.، حضرت موسی علیہ السلام کی شادی کہاں ہوئی تھی؟ مدین میں، اور مدین عرب کا حصہ ہے. اور یہودیوں میں ethnicity، آپ کے خاندان کا نام والدہ کے نام پر ہوتا ہے. تو حضرت موسی علیہ السلام کے بچوں کی والدہ ایک عرب خاتون تھیں اور اگر یہود اس بات کو مان لیں تو موسی علیہ السلام کی نسل عرب ہے. تو یہ یہود کے لیے ایک مسئلہ تھا تو انہیں یہی بہتر لگا کہ وہاں بیوی کی جگہ بکری کا ذکر کر دیا جائے. قرآن نے آ کر ان کی اصلیت ظاہر کی جسے انہوں نے چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی.

کیونکہ وہ یہود سے کوئی تعلق، کوئی نسبت ہی نہیں رکھنا چاہتے تھے. حتی کہ جب موسی علیہ السلام سے ان کے سسر نے یہ کہا کہ آپ کو آٹھ سال میرے ہاں خدمت کرنا ہو گی اور اگر آپ کو مناسب لگا تو دس سال تک میرے پاس ہی ٹھہرے رہیے، اب قرآن میں ان دس سالوں کے لیے کیا الفاظ استعمال ہوئے؟ ثمانیة حجاج، حجاج کا لفظ کہاں سے نکلا ہے؟ حج سے اور حج کہاں کیا جاتا ہے. تو حضرت موسی علیہ السلام کے جو سسر تھے انہوں نے کہا کہ آٹھ حج کے سال گزر جائیں تب آپ کو جانے کی اجازت ہے یعنی انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام سے خانہ کعبہ کا ذکر کیا. موسی علیہ السلام واقف تھے خانہ کعبہ سے، سبحان اللہ، حج، یروشلم یا بیعت المقدس میں کبھی ادا نہیں کیا گیا، حج کا رکن صرف اور صرف خانہ کعبہ کے لیے ہی مخصوص ہے. تو اس طرح قرآن نے یہ تاریخ بیان کی اور اہلِ عرب حیران تھے کہ یہ کیسا کلام ہے، جو باتیں اس کلام میں ہیں وہ ہماری سوچ سے بالاتر ہیں اور یہ اندازِ بیاں ہمارے گمان سے کہیں بڑھ کر ہے. تو اس کلامِ پاک کا تو کوئی جواب ہی نہیں. 

پھر رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام نے مدینہ ہجرت فرمائی. یہاں ان کا واسطہ ایسے لوگوں سے نہ تھا جو لکھنے پڑھنے سے ناواقف ہوں، ہاں یہاں بھی مشرکین اور بدو تھے لیکن یہاں یہود و نصارٰی بھی کثیر تعداد میں آباد تھے اور وہ تہذیب و تعلیم میں اہلِ مکہ سے کہیں آگے تھے. وہ اہلِ علم میں سے تھے. تو جب اللہ تعالٰی نے فرمایا اور چیلنج دیا کہ تم اس جیسی سورۃ اگر بنا کے لا سکتے ہو تو لے آؤ تو یہ مکی چیلنج جیسی صورتحال نہ تھی. مکہ مکرمہ میں شاعر لوگ آباد تھے ان کا خیال تھا کہ ہم شاعری و سخن وری کے بادشاہ ہیں تو ہمارے لیے ایسا کلام بنانا مشکل نہ ہو گا. 

لیکن مدینہ میں یہود کے نصارٰی نے کہا کہ ہم ان کو تورات و انجیل دکھاتے ہیں، وہ آسمانی کلام جو پہلے سے ہمارے پاس موجود ہے. لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ تورات سے جو بھی کلام لا کے پیش کرنا چاہتے وہ قرآن کو برحق ثابت کرتا تھا. تو وہ یہ نہیں کر سکتے تھے، انہیں یہ چھپانا پڑا. اور پھر اللہ تعالٰی نے ان سے کہا کہ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ کہ تم اس جیسی نہ سہی اس کے قریب ترین ہی کوئی سورۃ بنا کے دکھا دو. دوسرے لفظوں میں رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام نے یہود کو چیلنج کیا کہ تم اہلِ علم میں سے ہو، اور تم خود کو اس چیلنج کے لیے نہایت قابل سمجھتے ہو تو تم اتنا سا ہی کر دو کہ اس کے قریب ترین کوئی چیز بنا کے دکھا دو اور آگے کہا کہ اللہ کے سوا اپنے تمام مددگار( شہداء ) بھی بلا لاؤ. شہداء دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو شہادت دیں کہ ہاں یہ اس سے ملتا جلتا ہی کلام ہے. تو اللہ کے سوا اپنے تمام مددگار بلا لاؤ، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو. اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم سچ کہہ رہے ہو." ان کنتم صادقین " کے دو معنی ہیں کہ اصل میں تو تم خود شک میں مبتلا ہو، اور تم یہ بتانا ہی نہیں چاہتے کہ تمہیں خود بھی اپنے سچا ہونے پہ شک ہے.

جاری ہے۔۔۔۔ 

جمعہ, مارچ 24, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 24 مارچ 2017

~!~ آج کی بات ~!~

اگر 'جھوٹ' کی اینٹ دیوارِاعتماد میں لگ جائے
 تو دیوار باقی رہتی ہے
 'اعتماد' نہیں-

وطن کی مٹی


ارض پاک پاکستان کی مٹّی کی وہ خاصیّت جو مجھ سمیت ھم سب سے پوشیدہ تھی
امریکہ میں کلے ہانڈی ریسٹورنٹ کھولنے کا اشارہ مجھے ایک رات بحالت خواب ملا تھا کہ میرے ریسٹورینٹ میں مٹی کی ہانڈیوں میں کھانا پک بھی رہا ہے اور لوگ مٹّی کے برتنوں میں کھانا کھا بھی رہے ہیں
اورپھر اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیۓ مسلسل ایک سال کی پلاننگ ، کنسلٹنٹس کے ساتھ اس کے بزنس پلانز، ریسٹورنٹ کی اس کے نام کی مطابقت کے ساتھ تزئین، اور پاکستان بنفس نفیس جا کر وہاں 20 دن مسلسل سفر، چھوٹے چھوٹے قصبوں میں دستکاروں کے گھروں میں جا کر ان سے برتنوں اور لکڑی کی مصنوعات کی ڈیزائننگ جیسے مراحل سے گزرنے کے بعد پاکستان بھر سےساری مصنوعات کی ایک وئیر ہاؤس میں ان کو یکجا کرنا ، ان کی نازکی کے لحاظ سے مخصوص پیکنگ ، پاکستان کسٹم کلیئرنس اور کنٹینر کی روانگی ، نیو یارک امریکن کسٹم سے کنٹینرکی کلیرنس کا مرحلہ ، پھر کسٹم ایجنٹ کی کال آئی کہ مٹی کے برتنوں اور پاکستانن سے امپورٹ کے سبب امریکن ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ USDA سے انسپکشن کروانی ضروری ہے نہیں تو کنٹینر ریلیز نہیں ہو سکتا - پھر کنٹینر نیویارک ان کے وئیرہاؤس گیا ، انہوں نے اپنی فیس لے کرکنٹینر کلیئر توکر دیا لیکن ساتھ ہی FDA ( Department of Food and Drug Administration)
کو بھی اطلاع کر دی کہ پاکستان سے مٹّی کے برتنوں سے بھرا ہوا کنٹینر امریکہ میں امپورٹ ہوا ہے اور امپورٹڈ مٹی میں شامل سیسے کی زیادتی اور مضر صحت اجزاء کی افراط کے سبب امپورٹڈ مٹی کے برتنوں کی کمرشل استعمال پر مکمل پابندی ہے
اور اسی اثناء میں جب کنٹینر بفیلو میں میرے ویئر ہاؤس اتارا جا چکا تھا مجھے FDA والوں سے باقاعدہ نوٹس موصول ہو گیا کہ آپ کنٹینر نیویارک لے کر آئیں اور سارے سامان کو FDA کی انسپکشن کرائیں۔ میں نے انہیں فون کیا کہ کنٹینر تو ان لوڈ ہو چکا ہے اور سارا سامان وئیرہاؤس میں پڑا ہے تو وہ اور زیادہ مشکوک ہو گۓ ۔ خیر معاملہ یہاں طے ہوا کہ ان کی انسپکشن ٹیم ویئرہاؤس آ کر مٹّی کے برتنوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کرے گی اور ریجکشن کی صورت میں تمام سامان واپس چکوال .............. جب میں نے FDA کی ویب سائٹ چیک کی تو مٹی کے برتنوں کے مینو فیکچر کرنے والے ممالک جن میں میکسیکو ، ترکی ، انڈیا ، چائینہ ، مراکش اور دیگر یورپیئن ممالک شامل ہیں ، ان ممالک کی مٹّی میں انتہائ مضر صحت دھاتیں شامل ہیں اور امریکہ میں ان کی درآمد اور استعمال ممنوع ہے ۔

یہ پڑھنے کی دیر تھی کہ قاضی صاحب کے تمام خواب یکدم چکنا چور۔ ۔ ۔ ۔

اب مجھے اپنے آپ پہ افسوس ہو رہا تھا ایک خواب دیکھ کر اتنا بڑا قدم اٹھانے کی کیا ضرورت تھی ؟ اپنی فقیری اورقلندری بھی مشکوک نظر آنے لگی ، پیسوں ، وقت اور محنت کے ضیاع سے زیادہ دکھ اس بات پہ ہو رہا تھا کہ اللہ پاک نے پاکستان کی تشہیر اور اس کا نام روشن کرنے کا مجھے موقع عطا نہیں فرمایا.
خیر قصّہ مختصر آج FDA کی انسپکشن ٹیم بمعہ اپنے ٹیسٹنگ آلات میرے ویئر ہاؤس میں آۓ ، ایک ایک برتن کو کھرچ کے اس مٹی کو اپنی موبائیل لیب میں چیک کیا ، میرے اوسان تب بحال ہوۓ جب انسپکشن ٹیم کی سربراہ مجھے کہنے لگی کہ پاکستان میں واقعی بہت جد ید لیبارٹریز اور مٹّی کےبرتنوں کے ماڈرن مینوفیکچرنگ پلانٹس ھیں جنہوں نے ان برتنوں کی مٹّی کو تمام آلائشوں اور مضر صحت دھاتوں سے پاک کیا ہے ؟
ابھی اس کی ای میل آئی ہے کہ مجھے ان مینوفیکچرنگ کمپنیز کی لسٹ فراہم کرو کہ جنہوں نے یہ برتن بناۓ ہیں تاکہ میں انہیں اپنے سسٹم ڈال دوں اور انہیں FDA کا کلیئرنس سرٹیفیکیٹ ایشو کر دوں کہ ان کمپنیوں کے تیار کردہ برتن FDA سے انسپیکشن سے مبرّاء ھیں اور آزادانہ طور پر ان کی امریکہ امپورٹ کی اجازت ہے
اب میں اسے کیسے جواب دوں کہ میرے سارے وطن کی مٹّی اور اس مٹّی سے جنم لینے والے لوگ ہر قسم کی کثافت سے پاک ہیں ؟ یہ مٹّی بھی اور لوگ بھی اصلی ہیں یا پھر پاکستان کے ان چھوٹے چھوٹے گاؤں میں " دنیا کے جدید ترین پلانٹس " پہ ان برتنوں کی تخلیق کرنے والے ان دستکاروں کے نام ؟ کیسے جواب دوں ؟
تحریر. .مسعود قاضی صاحب

جمعرات, مارچ 23, 2017

چلو یہ سوچیں

چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے
جو اس زمیں سے کیا تھا ہم
وہ عہد کیا ہم نبھارہے ہیں

گئی رتوں کے ہر ایک پل کا
دلوں سے اپنے حساب مانگیں
دیا ہے کیا اس وطن کو ہم نے
یہ آج خود سے جواب مانگیں
وطن کی راہوں میں ہم وفا کے
گلاب کتنے کھلارہے ہیں

ہر ایک دشمن کی سازشوں سے
یہ دیس ہم کو بچانا ہوگا
محبتوں کو فروغ دے کر
شعورِ ملت جگانا ہوگا
یہ کون ہیں جو ہمیں میں رہ کر
ہمارے گھر کو جلارہے ہیں

چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے
جو اس زمیں سے کیا تھا ہم
وہ عہد کیا ہم نبھارہے ہیں​

جوڑے

جوڑے
مقتبس از "مجیب الحق حقی"

ہر وہ چیز جو موجود ہے، اپنا ایک جواز رکھتی ہے، اور اگر ہم اس جواز کو نہ ڈھونڈ پائیں تو یہ ہماری کم علمیت ہے۔ یعنی کسی بھی موجود کے جواز پر سوال کا جواب اگر مجھے نہیں معلوم تو مجھے اپنی کم علمیت کا اعتراف کرنا ہوگا، اور اس سے منسلک دیگر عوامل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے اس وقت تک گریز کرنا پڑے گا جب تک کہ حقیقی صورتحال واضح نہ ہوجائے۔
اس دور کی بدقسمتی یہ ہے کہ عوام کی اکثریت کم علم ہے اور جو اصحاب تھوڑا بہت انسان اور فطرت کو جان پائے ہیں، وہ علمی برتری کے احساس کی وجہ سے ایسے تکبّر میں مبتلا ہیں کہ کسی لا ینحل سوال پر زچ ہو کر بجائے اس کے کہ کوئی معقول عقلی استدلال ڈھونڈیں، وہ اس صورتحال کو من و عن بادل نخواستہ قبول کرنے کے ساتھ ساتھ آگے کے مرحلے اپنے وجدان کے مطابق خود متعیّن کر لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دھند کی وجہ سے راستہ نظر نہیں آرہا ہے تو آپ یہ کیسے فرض کرسکتے ہیں کہ آگے سیدھا راستہ ہی ہے کوئی موڑ نہیں؟ ایسا کرنا کتنا منطقی ہے، خود ہی فیصلہ کیجیے۔ تخلیق ِکائنات اور حیات کی ابتدا کے اہم ترین بنیادی سوالات کے حوالے سے اس دور کے منکرین خدا مفکّرین کا یہی طرز عمل ہے جو ظاہر ہے کہ غیر حقیقی ہے۔ انسان اور کائنات کے وجود اور اس میں موجود اسرار کے حوالے سے بےشمار سوالات آج بھی موجود ہیں، جن کا کوئی مستند سائنسی یا علمی جواب نہیں۔ ان مفکّرین اور سائنسدانوں کا استدلال تو یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ خدا ہے یا نہیں، یا یہ کہ یہ ہماری ڈومین یا دائرہ کار میں نہیں کہ خدا کے بارے میں کوئی رائے دیں۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں بلکہ اصرار یہی ہے کہ کائنات اور زندگی کی تشریح خدا کے بغیر ہوسکتی ہے۔

یہ تمہید کائنات کے موجود نظم (system) میں ایک حیران کن وقوعے  ”جوڑوں“( pairs) کی موجودگی کے ضمن میں ہے جس کا سائنس اور فلسفی اپنے ٹھوس طبعی نظریات کے حوالے سے کوئی معقول عقلی جواز نہیں دے پائے۔ یہ سوال آج بھی تشنہ طلب ہے کہ کائنات کی ابتدا کی سائنسی تشریح یعنی کائنات کی اچانک حادثاتی تخلیق (spontaneous-creation) میں جوڑے کیوں ہیں؟ اگر یہ کائنات اور اس میں زندگی خود ہی وجود میں آئے تو پھر ایک غیر مربوط حادثے میں نظم اور ربط کیسے اور کیوں آیا۔ جدید سائنسدانوں کی علمیت کا اعتراف کرتے ہوئے یہ سوال ضرور ہے کہ جوڑوں کی موجودگی کے حوالے سے اگر واقعی کوئی ٹھوس علمی اور عقلی جواز کسی نے پیش کیا ہے تو کوئی دوست پیش کردے۔ انسان کی کم علمی کو نظرانداز کرتے ہوئے آئیں. دیکھیں کہ اس ضمن میں کائنات کے باہر سے آنے والا ایک ٹھوس پیغام کیا کہتا ہے۔

جوڑے: Pairs
قرآن: (سورۃ 51، آیت49)
”اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے کہ شاید تم اس سے کچھ سبق سیکھو۔“

قرآن: (سورۃ 36، آیت36)
”پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے، خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہو یا خود اِن کی اپنی جنس میں سے، یا اُن اشیاء میں جن کو یہ جانتے تک نہیں۔“

یہ آیات اپنے مطالب کے حوالے سے انتہائی عظیم الشّان ہیں۔ ان کی گہرائی کا اندازہ ڈیڑھ ہزار سال قبل کا انسان لگا ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ اس وقت دنیا کے طبعی علوم بہت ہی محدود تھے۔ آخری مندرجہ آیت میں انسان کے محدود علم کی طرف اشارہ ہے کہ بہت سی اشیاء کاانسان کو علم نہیں! 

آئیے ذرا دیکھیں کہ منکرین کے قبول کردہ نام نہاد خود کار نظام کائنات میں جو جو حیرتناکیاں اور پیچیدگی ہے، کیا واقعی عقلی اور منطقی طور پر وہ خود بخود ممکن ہیں۔

کوئی بھی حادثاتی تخلیق کسی ضابطے کی پابند تو ہو نہیں سکتی کیونکہ ضابطے کا تعلق انتظام سے ہے اور انتظام بغیر منتظم کے غیر منطقی اور غیر عقلی ہے۔ اگر ہم فرض کرتے ہیں کہ یہ نظامِ زندگی اور کائنات خود تخلیقی ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ اس میں بےشمار چیزوں کا جوڑا ہو، یا بےشمار چیزوں کا آپس میں مثبت، منفی یا مقابلی تعلّق ہو۔ انسان اور جاندار سے قطع نظر ایٹم سے لے کر فوٹون اور پارٹیکلز سے لے کر گیلکسی تک ہر جگہ یہ نظام حرکت میں نظر آتا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ سائنسدان یہ خیال بھی رکھتے ہیں کہ ہماری کائنات بھی ایک جوڑا رکھتی ہے جو کہ منفی قوانین کے ساتھ موجود ہو سکتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک لامحدود کائناتی نظام جس کو خود سائنس اربوں سال کا قرار دیتی ہو، اس میں ایسا نظم کیسے چل رہا ہے کہ ہر منفی کے ساتھ مثبت، ہر نر male کے ساتھ مادہ female، مقناطیس میں مخالف پول، بجلی میں مثبت اور منفی کرنٹ کے علاوہ ہر طرح کی زندگی کی افزائش بھی جوڑوں کی وجہ ہی سے ہے۔ جدید ترین نظریات یعنی اسپیس ٹائم فیبرک میں بھی اسپیس اور ٹائم ایک جوڑے کی طرح ہیں۔ یہاں تک کہ اخلاقیات میں ہر اچھے عمل کے ساتھ مقابل منفی عمل منسلک ہے۔ لیکن ایک بات غور طلب ہے کہ بہت سی جگہ اس نظام سے استثنی بھی نظر آتا ہے یعنی زندگی بغیر نر اور مادہ کے بھی ہے، جیسے امیبا amoeba! جس میں حیاتیاتی سیل خود ہی دو حصّوں میں تقسیم ہو کر اپنی نسل بڑھاتا ہے۔ یہ استثنی اس بات کے ثبوت ہیں کہ یہاں کسی ایک ڈگر پر چلنے والا کوئی خود کار نظام نہیں ہے ورنہ استثنائی صورتحال بھی نہ ہوتی بلکہ استثنی تو اس بات کی قوی دلیل ہے کہ کسی خالق کا کنڑول لا محدود ہے کہ وہ ہر طرح کی تخلیق پر قادر ہے۔ کیا عقل اس عظیم الشّان نظام کو محض اتفاقی نظام تسلیم کر سکتی ہے۔

ہم ہر چیز کو ایک نام دیتے ہیں، اس طرح وجود کے حوالے سے بھی ہر چیز کا جوڑا ہو تا ہے، ایک طبعی اور دوسرا غیر مرئی یعنی نام۔ اس طرح یہ دلیل پارٹیکلز سے لے کر کائنات ہر چیز پر لاگو ہو تی ہے کیونکہ نام بھی وجود ہی کا حصہ ہے اور بغیر نام کے کوئی چیز موجود ہی نہیں ہو سکتی۔ آپ کسی مشین کو کھولتے چلے جائیں یا کسی بھی چیز کو توڑے چلے جائیں، ہر صورت میں اس کا ہر حصہ ایک نام کے ساتھ ہی موجوہوگا، خواہ آپ اسے کوڑا ہی کیوں نہ کہیں۔

منکرین اور متذبذب اصحاب کے لیے توجّہ طلب یہ نکتہ ہے کہ یا تو کائنات خدا نے بنائی یا پھر نہیں بنائی!
اگر نہیں بنائی تو کائنات اور ہمارے اندر پھیلے ہر علم کا جواز کیا ہے یا اس کا منبع کیا ہے!
انسان ”خود بخود“ بن جانے یا پیدا ہوجانے والے علوم کی چھان بین کرتے کرتے تھکا جارہا ہے لیکن یہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے!

آخر کیوں؟

کہیں جدید انسان کا مقابلہ کسی ایسی ہستی سے تو نہیں ہو رہا جو علوم ہی کی تخلیق پر قادر ہو جبکہ انسان علم کے سمندر میں غوطے کھاتا محض ایک جاندار !

دوستو! کشادہ دل ہوکر ذرا غور کرو۔

بدھ, مارچ 22, 2017

تم یہ کرسکتے ہو!!!

"تم یہ کرسکتے ہو"
ماخوز از

گر ہو پیش نظر ایک کوہ گراں
جس پہ چڑھنا لگے تم کو دشوار سا
فاصلہ ہو وہ خوف و خطر سے بھرا
پر مجھے ہے یقیں اس کو پاٹوگے تم
گر ہو کوشش بہم۔ گر ہو کامل یقیں

مجھ کو دکھتی ہے پوشیدہ طاقت وہ جو
تم نے اندر ہی اپنے چھپا جو رکھی
دیکھی آمادگی اور ولولہ آنکھ میں
عزم و ہمت گواہی ہے مقصود کی
پھر سے اک بار تم کرسکو گے یہ سب
بس تم ہمت کرو

کچھ بھی کرسکتے ہو
کچھ بھی بن سکتے ہو
خوش بھی رہ سکتے ہو
سب سے پہلے ہو قوت پہ اپنی یقیں

رکھو پورا یقیں اپنی ہستی پہ تم
تم میں قوت ہے، جرات ہے، کردار ہے
تم یہ کرسکتے ہو

مجھ کو معلوم ہے جانتے تم بھی ہو
آج ممکن نہیں، کل کو ممکن ہے یہ
بس تم آگے بڑھو اور رکھو قدم
ہر قدم پہ تمہارے میں ہوں ساتھ میں

سیما آفتاب

تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔ نعمان علی خان ۔۔ حصہ-32

تدبر القرآن
سورۃ البقرہ
نعمال علی خان
حصہ 32

قرآن میں جس طرح کلام کیا گیا، جو اندازِ گفتگو اپنایا گیا، وہ اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا گیا نہ سنا گیا. اس کلامِ پاک سے تمام اہلِ عرب نابلد تھے، ناواقف تھے. ایسا انداز بیاں نہ کسی نے اپنایا اور نہ ہی اس طرز کا مجموعہ کلام کوئی اس کی نقل کے طور پر ہی تحریر کر پایا. حضور صل اللہ علیہ والہ و السلام اپنی کچھ احادیث میں اللہ کی آیات کا حوالہ دیتے تھے مگر حضور نبی اکرم صل اللہ علیہ والہ و السلام کا اپنا اندازِ گفتگو، قرآن کے اندازِ بیاں سے نہایت مختلف تھا. یہ فرق نہایت واضح تھا. اور یہ نہایت حیرت انگیز ہے. اللہ تعالٰی نے ان لوگوں کو چیلنج کیا کہ وہ اس قرآن جیسا کوئی کلام بنا کے لے آئیں، اور ان دو چیلنجز کے بارے میں جو میں بات کرنے جا رہا ہوں وہ تمام تر قرآن کے متعلق تھا 

اللہ تعالٰی نے فرمایا
*قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ*

کہہ دو تمام تر انسانوں سے اور تمام تر جنات سے بھی کہ اگر وہ تمام مل جل کر بھی، متحد ہو کر بھی یہ کام کریں کہ قرآن جیسی کوئی چیز بنا کے لے آئیں *لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ* تو وہ اس کے قریب جیسی بھی کوئی چیز نہیں بنا پائیں گے. 

لیکن یہ چیلنج تمام تر قرآن کے متعلق تھا.
 *وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيراً*
 تب بھی جب وہ ایک دوسرے کی بھرپور مدد کریں،
 یعنی اگر تمام تر ذہین انسانوں کو اکٹھا کر لیا جائے اور تمام جنات کی مدد بھی حاصل کر لی جائے جن کی پہنچ آسمان تک ہے تب بھی تم اس قرآن کے نزدیک بھی کوئی چیز نہیں بنا سکتے. 

پھر آگے اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ
*أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ*
کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ کلام رسول اللہ نے خود سے گھڑ لیا ہے تو جاؤ تم اس جیسی دس سورۃ ہی بنا کے لے آؤ.
یہی کہتے ہو نہ تم کہ اگر ہم چاہیں تو اس جیسا کلام ہم بھی بنا لائیں، تو جاؤ لے آؤ ایسا کلام اور اللہ کے سوا ہر جن و انس کو اپنی مدد کے لیے بلا لاؤ.
جانتے ہیں جب آپ کسی کھلاڑی کو ٹی وی اسکرین پر نہایت اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے دیکھیں تو آپ کو لگتا ہے کہ یہ تو بہت آسان ہے یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں بس میں کرنا نہیں چاہتا مگر درحقیقت آپ ویسا کر ہی نہیں سکتے.
تو انہوں نے بھی یہی کیا کہ قرآن سنا تو بول اٹھے، ایسا کلام اگر ہم چاہیں تو ہم بھی بنا لائیں لیکن بس ہم یہ کرنا نہیں چاہتے. اللہ تعالٰی نے کہا کہ اگر یہ اتنا ہی آسان ہے تو ایسا ہی کلام تم بھی بنا لاؤ *وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّه* اور تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ چلو اس جیسی دس سورۃ ہی بنا کے پیش کر دو اور جس مرضی کو اپنی مدد کے لیے بلا لو جہاں تک تمہاری رسائی ہے، اللہ کے سوا ہر ایک کو اپنی مدد کو لے آؤ. اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو. تو جاؤ جہاں تک تمہاری پہنچ ہے سب سے مدد مانگ لو.
آگے اللہ تعالٰی نے چیلنج کو اور مشکل بنا دیا *ام یقولون افتراہ قل فائتو بسورۃ مثلہ وادعو من استطعتم من دون اﷲ ان کنتم صٰدقین* تو سورۃ یونس میں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ تم اس جیسی ایک سورہ ہی بنا کے کیوں نہیں لے آتے، صرف ایک سورۃ اور اس وقت تک نہایت مختصر سورۃ مبارکۃ جیسے سورۃ الکوثر بھی نازل ہو چکی تھیں.
*إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَر* فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ* إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ*
بس تین جملوں پر مشتمل ایک سورۃ، اور سورۃ العصر جیسی مختصر سورۃ بھی نازل ہو چکی تھی جو قرآن کے ایک ورق کے تیسرے حصے سے بھی مختصر سورۃ تھی
*وَالْعَصْرِ * إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ * إِلَّا الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ*
تم اس جیسی سورۃ بنا سکتے ہو تو جاؤ بنا کے پیش کرو، اور *وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّه* اور ہاں جہاں تک تمہاری پہنچ ہے جا کہ لے آؤ اپنے مددگار، اللہ کے سوا جس کو مرضی بلا لو اپنی مدد کو، اگر تم سچے ہو، اگر تم یہ کر سکتے ہو تو، پھر جاؤ بنا لو ایک ہی سورۃ بنا کے دکھا دو. 

یہ چیلنج پورا نہ کر سکنے کی بہت سی وجوہات تھیں. لسانیت اور ادبی معیار تو ان میں سے فقط ایک ہی وجہ تھی لیکن قرآن جن کی تاریخ کو موضوعِ گفتگو بنائے ہوئے تھا، اہلِ عرب اس تاریخ سے واقف ہی نہ تھے. بہت سے مغربی معلمین اور تعلیمی اداروں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآن ایک انسان کا تصنیف کردہ ہے. انہوں نے کہا کہ حضور صل اللہ علیہ والہ و السلام نے بائبل کے واقعات کو قرآن میں بدل دیا. کچھ قصے انہوں نے یونان کی تاریخ سے لیے کچھ ابو سینا سے، کچھ فلاں جگہ سے اور کچھ باتیں فلاں شخص سے لے قرآن میں شامل کیں اور جس وقت وہ یہ ثابت کرنے میں تھک گئے کہ قرآن کا کلام پیش کرنے کے لیے کن کن جگہوں سے تعلیمات شامل کیں، تو سوال درپیش آیا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام نے سفر کس قدر کیا؟ تعلیم کن اداروں سے حاصل کی؟ اور پچھلی آسمانی کتابوں کا علم انہیں کہاں سے ہوا. یہ ربط، یہ انداز انہیں کیسے حاصل ہوا کہ یہ حصہ یہاں سے لیا جائے اور اس سے آگے کلام یہاں سے جوڑا جائے. قرآن کے الفاظ میں جو ربط ہے، جس طرح قرآن کی آیات ہم قافیہ و ہم ردیف ہیں، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کلام انسانی نہیں، آسمانی ہے. یہ کلام کسی ایسے انسان کہ جانب سے ہو ہی نہیں سکتا جو تمام عمر صحرا میں رہا ہو، کبھی سمندر کا سفر نہ کیا ہو اور اس کو اس وقت کے بہترین علم تک رسائی حاصل ہو جائے. 

رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام مکہ مکرمہ میں تھے جب سورۃ یوسف نازل ہوئی، یہ قرآن کی 12 ویں سورۃ مبارکہ ہے. اس وقت حضور صل اللہ علیہ والہ و السلام کا یہود سے کوئی رابطہ نہ تھا. یہود اس وقت کہاں تھے؟ مدینہ منورہ میں. اور اس وقت آنحضرت محمد صل اللہ علیہ والہ و السلام پر سورۃ یوسف نازل ہوئی اور آپ کو یوسف علیہ السلام کی تمام تر زندگی کے بارے میں معلومات دے دی گئیں جو یہود کی نظر میں بہت اہم مقام رکھتے تھے. قرآن نے آ کر ان تمام تر اختلافات اور من گھڑت قصوں کو دور کیا جو یوسف علیہ السلام کے متعلق شامل کیے جا چکے تھے. اس وقت سامعین میں یہود نہیں تھے بلکہ اہلُِ عرب اس کلام کے سامعین تھے. اور ان کے ذہنوں میں یہ سوال تھا کہ یوسف؟ کون یوسف؟ ہم نے ان کے بارے میں کبھی نہیں سنا. قرآن کا بیشتر حصہ، حضرت موسی علیہ السلام کے متعلق گفتگو کرتا ہے اور اس وقت رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام کا یہود سے سامنا ہی نہ ہوا تھا. سورۃ طه مکی سورۃ ہے، سورۃ القصص مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ وہ تمام آیات جن کا تعلق یہود سے تھا وہ تب نازل ہوتیں جب رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام مدینہ تشریف لے آئے. لیکن سبحان اللہ و تعالٰی کہ ایسا نہیں ہے. تو جب رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام مدینہ تشریف لائے تو وہ مدینہ آنے سے پہلے ہی یہود کی تعلیمات کو چیلنج کر چکے تھے. 

کچھ عرصہ پہلے میں ایک یہودی عالم کے ساتھ تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ مجھے موسی علیہ السلام کے متعلق بتائیے ان کا قصہ جو بھی آپ کو پتہ ہے کیونکہ یہود کی چار یا پانچ کتب میں حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے. ان کے پاس موسی علیہ السلام سے متعلق کثیر مواد موجود ہے تو میں نے پوچھا کہ موسی علیہ السلام پر وحی کا آغاز کس طرح ہوا؟ اس نے بتایا کہ "وہ سفر کر رہے تھے اور انہوں نے ایک آگ دیکھی". میں نے پوچھا "کیا وہ تنہا تھے؟" اس نے جواب دیا کہ نہیں، ان کے ساتھ ان کی بکری تھی. میں نے کہا کہ نہیں، ان کے ساتھ ان کی بکری نہیں تھی، وہ اپنی زوجہ کے ساتھ تھے. یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ پھر مجھے احساس ہوا کہ انہوں نے بکری کا ذکر کیوں کیا. کیونکہ حضرت موسی علیہ السلام کی نصف بہتر کا تعلق مدین سے تھا.، حضرت موسی علیہ السلام کی شادی کہاں ہوئی تھی؟ مدین میں، اور مدین عرب کا حصہ ہے. اور یہودیوں میں ethnicity، آپ کے خاندان کا نام والدہ کے نام پر ہوتا ہے. تو حضرت موسی علیہ السلام کے بچوں کی والدہ ایک عرب خاتون تھیں اور اگر یہود اس بات کو مان لیں تو موسی علیہ السلام کی نسل عرب ہے. تو یہ یہود کے لیے ایک مسئلہ تھا تو انہیں یہی بہتر لگا کہ وہاں بیوی کی جگہ انہوں نے بکری کا ذکر کر دیا جائے. قرآن نے آ کر ان کی اصلیت ظاہر کی جسے انہوں نے چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی.

جاری ہے۔۔۔۔
نعمان علی خان

منگل, مارچ 21, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 21 مارچ 2017

~!~ آج کی بات ~!~

انسان کتنا ہی اپنے علم پر مغرور ہو جائے
 آخرکار "خالقِ علم" کے سامنے ڈھیر ہو جاتا ہے۔

اسباقِ زندگی


کلاس روم طلبہ اور طالبات سے بھرا ہوا تھا۔ ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا ، ، کان پڑی آوازسُنائی نہ دیتی تھی، اتنے میں پرنسپل کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم میں سناٹا چھاگیا ۔

پرنسپل صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ہمارے کالج کے وزیٹنگ پروفیسر، پروفیسر انصاری ہیں، آپ مفکر دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ یہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنے کے کچھ گر بتائیں گے۔ ان کے کئی لیکچر ہوں گے۔ جو اسٹوڈنٹس انٹرسٹڈ ہوں وہ ان کے لیکچر میں باقاعدگی سے شریک ہوں۔

*لیکچر-1*

کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی پروفیسر کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ پروفیسر کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔

وزیٹنگ پروفیسر انصاری نے ہال میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا….

‘‘تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟’’….

‘‘یہ ناممکن ہے۔’’، کلاس کے ایک ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ ‘‘لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کررہے ہیں۔’’ باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کردی۔

پروفیسر نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر مسکراتے ہوئے بلیک بورڈ پر اس لکیر کے نیچے ہی اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ اب اوپر والی لکیر کے سامنے یہ لکیر چھوٹی نظر آرہی تھی۔

پروفیسر نے چاک ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا:

‘‘آپ نے آج اپنی زندگی کا ایک بڑا سبق سیکھا ہے، وہ یہ ہے دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے کس طرح نکلا جاسکتا ہے….’’

آگے بڑھنےکی خواہش ہر انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔ مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑا نہیں ہوتا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہردوسروں سے الجھے بغیر خود کو طاقتور اور بڑا بنانے پر توجہ دی جائے۔ دوسروں سے الجھے بغیر آگے بڑھنا، ترقی کا صحیح طریقہ ہے۔ یہ طریقہ فرد کے لیے بھی بہتر ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ اس طریقے پر اجتماعی طور پر ہمارے پڑوسی ملک چین نے سب سے زیادہ عمل کیا ہے اور بہترین نتائج حاصل کیے ہیں۔

*لیکچر-2*


دوسرے دن کلاس میں داخل ہوتے ہی پروفیسر انصاری نے بلیک بورٖڈ پر ایک بڑا سا سفید کاغذ چسپاں کردیا، اس کے بعد انہوں نے اس سفید کاغذ کے درمیان میں مارکر سے ایک سیاہ نقطہ ڈالا، پھر اپنا رخ کلاس کی طرف کرتے ہوئے پوچھا:

‘‘آپ کو کیا نظر آ رہا ہے….؟ ’’

سب نے ہی یک زبان ہو کر کہا‘‘ایک سیاہ نقطہ’’۔

طالب علم تعجب کا اظہار کررہے تھے سر بھی کمال کرتے ہیں ، کل لکیر کھینچی تھی آج نقطہ بنادیا ہے ….

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا ‘‘ حیرت ہے ! اتنا بڑا سفید کاغذ اپنی چمک اور پوری آب و تاب کے ساتھ تو تمہاری نظروں سے اوجھل ہے، مگر ایک چھوٹا سا سیاہ نقطہ تمہیں صاف دکھائی دے رہا ہے؟’’

زندگی میں کیے گئے لاتعداد اچھے کام سفید کاغذ کی طرح ہوتے ہیں جبکہ کوئی غلطی یا خرابی محض ایک چھوٹے سے نقطے کی مانند ہوتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت دوسروں کی غلطیوں پر توجہ زیادہ دیتی ہے لیکن اچھائیوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔

آپ کی ساری زندگی کی اچھائیوں پر آپ کی کوئی ایک کوتاہی یا کسی غلطی کا ایک سیاہ نقطہ ان کو زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔

آپ آدھا گلاس پانی کا بھر کر اگر 100 لوگوں سے پوچھیں گے ، تو کم از کم 80 فیصد کہیں گے آدھا گلاس خالی ہے اور 20 فیصد کہیں گے کہ آدھا گلاس پانی ہے …. دونوں صورتوں میں بظاہر فرق کچھ نہیں پڑتا لیکن درحقیقت یہ دو قسم کے انداز فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت۔ جن لوگوں کا انداز فکر منفی ہوتا ہے وہ صرف منفی رخ سے چیزوں کو دیکھتے جبکہ مثبت ذہن کے لوگ ہر چیز میں خیر تلاش کرلیتے ہیں۔

ہماری زندگی کے معاملات میں لوگوں کا ردعمل گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ‘‘لوگ کیا کہیں گے’’ جیسے روائتی جملے ہمیں ہمیشہ دو راہوں پر گامزن کردیتے ہیں۔ یہ دوراہی فیصلہ لینے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔اس صورتحال میں صرف نفسیاتی الجھن کا شکار ہوکررہ جاتے ہیں۔

اس لیے آپ مستقل میں کوئی بھی کام کریں، کوئی بھی راہ چنیں ، تو یہ یاد رکھیں کہ آپ ہر شخص کو مطمئن نہیں کرسکتے ۔

*لیکچر-3*

تیسرے دن پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا، جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا۔انہوں نے وہ گلاس بلند کردیا، تاکہ تمام طلبا اسےدیکھ لیں۔

‘‘سر کیا آپ وہی فلسفیانہ سوال تونہیں پوچھنا چاہ رہے کہ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ہے’’ ایک طالب علم نے جملہ کستے ہوئے کہا۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھا اور کہا ‘‘نہیں! آج میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا….؟’’

‘‘پچاس گرام’’، ‘‘سو گرام’’، ‘‘ایک سو پچیس گرام’’۔سب اپنے اپنے انداز سے جواب دینے لگے۔

‘‘میں خود صحیح وزن بتا نہیں سکتا، جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کرلوں!….’’ پروفیسر نے کہا۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ‘‘ کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لیے اسی طرح اٹھائے رہوں….؟’’

‘‘کچھ نہیں ہوگا!’’ طالب علموں نے جواب دیا۔

‘‘ٹھیک ہے، اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یوں ہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’ پروفیسر نے پوچھا۔

‘‘آپ کے بازو میں درد شروع ہوجائے گا۔’’ طلباء میں سے ایک نے جواب دیا۔

‘‘تم نے بالکل ٹھیک کہا۔’’ پروفیسر نے تائیدی لہجے میں کہا۔‘‘اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’

‘‘آپ کا باوزو شل ہوسکتا ہے۔’’ ایک طالب علم نے کہا۔‘‘آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے’’ ایک اور طالب علم بولا، ‘‘آپ پر فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔ آپ کو اسپتال لازمی جانا پڑے گا!’’ ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری گلاس قہقہے لگانے لگی۔

‘‘بہت اچھا!’’ پروفیسر نے بھی ہنستے ہوئے کہا پھر پوچھا ‘‘لیکن اس دوران کیا گلاس کا وزن تبدیل ہوا….؟’’

‘‘نہیں۔’’ طالب علموں نے جواب دیا۔

‘‘تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا….؟’’پروفیسر نے پوچھا۔طالب علم چکرائے گئے۔

‘‘ گلاس کا بہت دیر تک اُٹھائے رکھنا ، بہتر ہوگا کہ اب گلاس نیچے رکھ دیں!’’ ایک طالب علم نے کہا۔

‘‘بالکل صحیح!….’’ استاد نے کہا۔

‘‘ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک لگتے ہیں۔انہیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ آپ کے لیے سر کا درد بن جائیں گے۔ انہیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کردیں گے۔ آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

دیکھیے….!اپنی زندگی کے چیلنجز (مسائل) کے بارے میں سوچنا یقیناً اہمیت رکھتا ہے۔لیکن…. اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہر دن کے اختتام پر سونے سے پہلے ان مسائل کو ذہن سے اُتاردیا جائے۔ اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے۔ اگلی صبح آپ تروتازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہوں گے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو، کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کرسکیں گے۔ لہٰذا گلاس کو یعنی مسائل پر غیر ضروری سوچ بچار کو نیچے رکھنا یاد رکھیں۔’


*لیکچر-4*

پروفیسر نے کہا کہ کل ہر ایک طالب علم پلاسٹک کا ایک شفاف تھیلا اور ٹماٹرساتھ لائے۔

جب طلباء تھیلا اور ٹماٹر لے آئے تو پروفیسر نے کہا کہ :

‘‘آپ میں سے ہر طالب علم اس فرد کے نام پر جسے آپ نے اپنی زندگی میں معاف نہیں کیا، ایک ایک ٹماٹر چن لیں اور اس پر اس فرد کا نام اور تاریخ لکھ کر اسے اپنے پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالتے جائیں۔’’

سب نے ایک ایک کرکے یہی عمل کیا، پروفیسر نے کلاس پر نظر ڈالی تو دیکھابعض طالب علموں کے تھیلے خاصے بھاری ہوگئے۔

پھر پروفیسر نے سب طالب علموں سے کہا کہ:

‘‘ یہ آپ کا ہوم ورک ہے، آپ سب ان تھیلوں کو اپنے ساتھ رکھیں، اسے ہر جگہ اپنے ساتھ لیے پھریں۔ رات کو سوتے وقت اسے اپنے بیڈ کے سرہانے رکھیں، جب کام کر رہے ہوں تو اسے اپنی میز کے برابر میں رکھیں۔ کل ہفتہ ، پرسوں اتوار ہے آپ کی چھٹی ہے، پیر کے روز آپ ان تھیلوں کو لے کر آئیں اور بتائیں آپ نے کیا سیکھا۔ ’’

پیر کے دن سب طالب علم آئے تو چہرے پر پریشانی کے آثار تھے، سب نے بتایا کہ اس تھیلے کو ساتھ ساتھ گھسیٹے پھرنا ایک آزار ہوگیا۔ قدرتی طور پر ٹماٹروں کی حالت خراب ہونے لگی۔ وہ پلپلے اور بدبودار ہوگئے تھے۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا ‘‘ اس ایکسرسائز سے کیا سبق سیکھا….؟’’

سب طلبہ و طالبات خاموش رہے۔

‘اس ایکسر سائز سے یہ واضح ہوا کہ روحانی طور پر ہم اپنے آپ پر کتنا غیر ضروری وزن لادے پھر رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم اپنی تکلیف اور اپنی منفی سوچ کی کیا قیمت چکا رہے ہیں۔

ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کسی کو معاف کردینا ، کسی پر احسان کرنااس شخص کے لیے اچھا ہے لیکن دوسرے کو معاف کرکے ہم خود اپنے لیے لاتعداد فوائد حاصل کرتے ہیں ۔ جب تک ہم کسی سے ناراض رہتے ہیں ، اس کے خلاف بدلہ لینے کے لیے سوچتے ہیں اس وقت تک ہم کسی اور کا نہیں بلکہ خود اپنا خون جلاتے ہیں۔ اپنے آپ کو اذیت اور مشقت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ بدلے اور انتقام کی سوچ، گلے سڑے ٹماٹروں کی طرح ہمارے باطن میں بدبو پھیلانے لگتی ہے۔ معاف نہ کرنا ایک بوجھ بن کر ہمارے اعصاب کو تھکا دیتا ہے۔


*لیکچر-5*

‘‘آج ہم نہیں پڑھیں گے….’’

پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ سارے طالب علم حیران و پریشان ایک دوسرے کامنہ تکنے لگے۔

‘‘آپ دو دن ٹماٹروں کا تھیلا اٹھائے تھک گئے ہوں گے۔ اس لیے آج آپ کے لیے چائے کافی میری طرف سے….’’

اسی دوران لیکچر ہال میں کالج کا پیُون داخل ہوا اس کے ہاتھ میں کافی کے دو بڑے سے جگ تھے ۔ ساتھ ہی بہت سے کپ تھے، پورسلین کے کپ، پلاسٹک کے کپ، شیشے کے کپ، ان میں سے بعض سادہ سے کپ تھے اور بعض نہایت قیمتی، خوبصورت اور نفیس….

پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ ‘‘سب اپنی مدد آپ کے تحت وہ گرما گرم چائے کافی آپ خود لے لیں۔’’

جب تمام طالب علموں نے اپنے چائے اور کافی کے کپ ہاتھوں میں لے لیے تو پروفیسر صاحب گویا ہوئے ۔

‘‘ آپ لوگ غور کریں …. تمام نفیس، قیمتی اور دیکھنے میں حسین کافی کپ اٹھا لیے گئے ہیں، جبکہ سادہ اور سستے کپوں کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا، وہ یوں ہی رکھے ہوئے ہیں۔’’

‘‘اس کا کیا مطلب سر’’۔ ایک طالب علم نے پوچھا

‘‘گو یہ عام سی بات ہے کہ آپ اپنے لیے سب سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں لیکن یہی سوچ آپ کے کئی مسائل اور ذہنی دباؤ کی جڑ بھی ہے۔’’

سارے طالب علم چونک اٹھے، ‘‘ یہ کیا کہہ رہے ہیں سر اچھی چیز کا انتخاب تو اعلیٰ ذوق کی علامت ہے۔ یہ مسائل کی جڑ کیسے ….؟’’

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:‘‘آپ سب کو حقیقت میں جس چیز کی طلب تھی، وہ چائے یا کافی تھی…. نہ کہ کپ…. لیکن آپ سب نے دانستہ طور پر بہتر کپوں کے لیے ہاتھ بڑھایا اور سب ایک دوسرے کے کپوں کو چور نگاہوں سے دیکھتے رہے۔’’

میرے بچو …. نوجوانو… یاد رکھو…. زندگی کا اصل حسن باطن سے پھوٹنے والی خوشیوں کی وجہ سے ہے۔ عالی شان بنگلہ، قیمتی گاڑی، دائیں بائیں ملازمین، دولت کی چمک دمک کی وجہ سے بننے والے دوست یہ سب قیمتی کپ کی طرح ہیں۔ اگر اس قیمتی کپ میں کافی یا چائے بدمزہ ہو تو کیا آپ اسے پئیں گے؟۔

اصل اہمیت زندگی ، صحت اور آپ کے اعلیٰ کردار کی ہے۔ باقی سب کانچ کے بنے ہوئے نازک برتن ہیں، ذرا سی ٹھیس لگنے سے یہ برتن ٹوٹ جائیں گے یا ان میں کریک آجائے گا۔

یاد رکھیے! دنیا کی ظاہری چمک دمک کی خاطر اپنے آپ کو مت گرائیے۔ بلکہ زندگی کے اصلی جوہر کو اُبھاریے۔

تمام تر توجہ صرف کپ پر مرکوز کرنے سے ہم اس میں موجود کافی یعنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں۔لہٰذا کپوں کو اپنے ذہن کا بوجھ نہ بنائیں…. اس کی بجائے کافی سے لطف اندوز ہوں۔’’


*لیکچر-6*

پروفیسر صاحب نے کلاس کا آغاز کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک پینسل نکالی اور تمام طلبا کو دکھاتےہوئے کہا :

‘‘ آج کا سبق آپ اس پینسل سے سیکھیں گے…. پینسل میں پانچ باتیں ایسی ہیں جو ہم سب کے لیے جاننی ضروری ہیں!….

‘‘وہ کیا سر….’’ سب نے تجسس سے پوچھا

‘‘پہلی بات :یہ پینسل عمدہ اور عظیم کام کرنے کے قابل اس صورت میں ہوسکتی ہے ، جب وہ خود کو کسی کے ہاتھ میں تھامے رکھنے کی اجازت دے۔

دوسری بات :ایک بہترین پینسل بننے کے لیے وہ بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرتی ہے۔

تیسری بات: وہ ان غلطیوں کو درست کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ، جو اس سے سرزد ہوسکتی ہیں۔

چوتھی بات :یہ پینسل کا سب سے اہم حصہ ہمیشہ وہ ہوگا جو اس کے اندر یعنی اس کے باطن میں ہوتا ہے اور پانچویں بات : پینسل کو جس سطح پر بھی استعمال کیا جائے، وہ لازمی اس پر اپنا نشان چھوڑ جاتی ۔ چاہے حالات کیسے ہی ہوں۔’’

‘‘اب اس پینسل کی جگہ آپ اپنے کو لے لیں۔

آپ بھی عمدہ اور عظیم کام کرنے کے لیے قابل اسی صورت میں ہوسکتے ہیں، جب آپ خود کو اپنے استاد یا راہنما کے ہاتھوں میں تھامے رکھنے کی اجازت دیں۔

دوسری بات : آپ کو بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑے گا ۔ یہ مراحل دنیا میں زندگی کے مختلف مسائل کی صورت میں آپ کے سامنے آئیں گے، ایک مضبوط فرد بننے کے لیے آپ کو ان مسائل کا اچھے طریقے سے سامنا کرنا ہوگا۔

تیسری بات :یہ کہ اپنے آپ کو ان غلطیوں کو درست کرنے کے قابل بنائیں جو آپ سے سرزد ہوسکتی ہیں۔

چوتھی بات: ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہمارے اندر ہے، ہمارا باطن ہے ، ہمیں اسے کثافتوں اور آلائشوں سے بچانا ہے۔

پانچویں بات: آپ جس سطح پر سے بھی گزر کر جائیں، آپ اپنے نشان ضرور چھوڑ جائیں۔ چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔

اس یقین کے ساتھ زندگی بسر کریں کہ اس دنیا کو آپ کی ضرورت ہے، کیونکہ کوئی شے بھی فضول اور بے مقصد نہیں ہوتی۔


*لیکچر-7*

پروفیسر صاحب نے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے اپنے طالب علموں پر نظر ڈالی اور کہا

“آج میں تمہیں زندگی کا نہایت اہم سبق سکھانے جارہا ہوں….’’

وہ اپنے ہمراہ کانچ کی ایک بڑی برنی یعنی جارJAR لائے تھے، انہوں نے اس جار کوٹیبل پر رکھا اور اپنے بیگ سے ٹیبل ٹینس کی گیندیں نکال کر اس برنی میں ڈالنے لگے….اور تب تک ڈالتے رہے جب تک اس برنی میں ایک بھی گیند کی جگہ باقی نہ رہی….

پروفیسر صاحب نے طالب علموں سے پوچھا“کیا برنی پوری بھر گئی ہے….؟” “جی ہاں….”طالب علموں نے ایک ساتھ جواب دیا…..

پھر پروفیسر صاحب نے بیگ سے چھوٹے چھوٹے کنکر نکال کر اس برنی میں بھرنے شروع کردیے، وہ دھیرے دھیرے برنی کو ہلاتے بھی جارہے تھے۔ کافی سارے کنکر برنی میں جہاں جگہ خالی تھی سماگئے….

پروفیسر صاحب نے پھر سوال کیا:“کیا اب برنی بھرگئی ہے….؟”

طالب علموں نے ایک بار پھر “ہاں”کہا….

اب پروفیسر صاحب نے بیگ سے ایک تھیلی نکالی اور اس میں سے ریت نکال کر دھیرے دھیرے اس برنی میں ڈالنی شروع کردی، وہ ریت بھی اس برنی میں جہاں تک ممکن تھا بیٹھ گئی….

یہ دیکھ کر طلباء اپنی نادانی پر ہنسنے لگے….

پروفیسر صاحب نے ایک بار پھر سوال کیا

“کیا اب یہ برنی پوری بھرگئی ہے ناں….؟”

“جی!…. اب تو پوری بھر گئی ہے سر….”سب ہی نے ایک آواز میں کہا….

پروفیسر نے بیگ کے اندر سے جوس کے دو ڈبّے نکال کر جوس اس برنی میں ڈالا، جوس بھی ریت کے بیچ تھوڑی سی جگہ میں جذب ہوگیا ….اب پروفیسر صاحب نے نہایت ہی گھبمیر آواز میں سمجھانا شروع کیا….

‘‘اس کانچ کی برنی کو تم لوگ اپنی زندگی سمجھو، ٹیبل ٹینس کی گیندیں تمہاری زندگی کے سب سے اہم کام ہیں….. مثلاً طرزِ معاشرت، حصولِ معاش، تعلیم وتربیت، خاندان ،بیوی بچے، نوکری ، صحت وتحفظ وغیرہ…. چھوٹے کنکر تمہاری عام ضروریات اور خواہشات ہیں۔ گاڑی، بنگلہ، نوکرچاکر، موبائل، کمپیوٹر اور دیگراصرافِ زندگی وغیرہ….اور ریت کا مطلب ہے چھوٹی چھوٹی بےکار اور فضول باتیں،جھگڑے، آوارہ گردی، ہوائی قلعہ بنانا، ٹائم پاس کرنا، وقت کاضیاع وغیرہ ….

اگر تم نے کانچ کی برنی میں سب سے پہلے ریت بھری ہوتی تو ٹیبل ٹینس کی گیند اور کنکرکے لیے جگہ ہی نہیں بچتی یا صرف کنکر بھردیے ہوتے تو گیند نہیں بھرپاتے ، ریت ضرور آسکتی تھی….

ٹھیک یہی طریقہ کار زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر تم فضول اور لایعنی چیزوں کے پیچھے پڑے رہو گے اور اپنی زندگی اسی کے چکرمیں ختم کردو گے تو تمہارے پاس اہم باتوں کے لیے وقت نہیں رہے گا….

ایک کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے یہ اہم سبق ہے ۔ اب یہ تم خود طے کرلو کہ تمہیں اپنی کانچ کی برنی کس طرح بھرنی ہے
’’….

طالب علم بڑے غور سے پروفیسر صاحب کی باتیں سن رہے تھے، اچانک ایک طالبعلم نے پوچھا “سر! لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جوس کے دو ڈبّےکیا ہیں؟”….

پروفیسر مسکرائے اور بولے “میں سوچ ہی رہا تھا کہ ابھی تک کسی نے یہ سوال کیوں نہیں کیا…. اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں ہم کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں اور کس قدر ہی کامیابیاں کیوں نہ سمیٹ رہے ہوں لیکن اپنے گھر والوں، دوستوں کےساتھ تعلق کی مٹھاس کی گنجائش ہمیشہ رکھنی چاہیے”….

*لیکچر-8*

آج لیکچر کا آخری دن تھا ، کلاس روم کے طلبہ میں چہ مگوئیاں جاری تھیں، اتنے میں پروفیسر صاحب کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم کی بھنبھناہٹ آہستہ آہستہ گہری خاموشی میں بدلنے لگی۔ دیکھا کہ پروفیسر کے پیچھے ایک غبارے والا ڈھیر سارے سرخ رنگ کے غبارے لیے کلاس روم میں داخل ہورہا ہے ….

پروفیسر کے اشارے پر غبارے والے نے ایک ایک کرکے سارے غبارے طلباء میں تقسیم کردئیے….

‘‘سر آج ویلنٹائن ڈے نہیں ہے….’’ ایک طالب علم نے جملہ کسا۔ ‘‘ سر!کیا آپ کی سالگرہ ہے؟’’ ایک اور طالب علم بولا۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:

‘‘آپ میں سے ہر ایک کومارکر کا استعمال کرتے ہوئے ا ن غباروں پر اپنا نام لکھنا ہے ’’۔ سب نے پرفیسر کی کہنے پر نام لکھ دئے ۔ اس کے بعد تمام غبارےجمع کرکے دوسرے کمرے میں ڈال دیے گئے۔ پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ ‘‘اب سب غباروں والے کمرے میں جائیں اور اپنے اپنے نام والا غبارہ تلاش کریں ، دھیان رہے کہ کوئی غبارہ نہ بھٹے اور آپ سب کے پاس پانچ منٹ ہیں۔’’

ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہوئے،دوسروں کو دھکیلتے ہوئے اپنے نام کا غبارہ تلاش کرنے لگا۔ ایک افراتفری کا سماں تھا۔ سارے غبارے ایک ہی رنگ کے تھے، پانچ منٹ تک کوئی بھی اپنے نام والا غبارہ تلاش نہ کرسکا…. یہ دیکھ کر پروفیسر انصاری نے کہا کہ

اب آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں کوئی بھی غبارہ پکڑ لیں اور اس کے نام والے شخص کودے دیں، دو تین منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ تمام افراد کے پاس اپنے اپنے نام والے غبارے تھے۔

پروفیسر انصاری کلاس سے مخاطب ہوتے ہوئےبولے:

‘‘بالکل اسی طرح ہماری زندگی ہے، ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں اپنے ارد گرد خوشیاں تلاش کر رہا ہے یہ نہ جانتے ہوئے کہ وہ کہاں ہیں۔

نوجوانو…. یاد رکھو…ہماری خوشی دوسروں کی خوشی میں پنہاں ہے، ان کو ان کی خوشی دے دیں تو آپ کو آپ کی خوشی مل جائے گی ۔’


منقول

سوموار, مارچ 20, 2017

سب کہہ دو؟؟


ہر بات کہہ دینے کی نہیں ہوتی
کچھ باتیں سننے کی بھی ہوتی ہیں
کچھ سمجھنے کی۔۔۔
کچھ جذب کرنے کی۔۔۔
اور کچھ برداشت کرنے کی بھی ہوتی ہیں۔

آج کی بات ۔۔۔ 20 مارچ 2017

~!~ آج کی بات ~!~

اللہ کے فیصلوں میں تقسیم بھی ہے، ضرب بھی ہے، نفی بھی ہے اور جمع بھی ہے،
جو اللہ سے راضی ہے وہ اللہ کے فیصلوں سے راضی ہے
 جو اللہ کے فیصلوں میں اللہ کو دیکھتا ہے
وہ ضرب، نفی، جمع، تقسیم میں نہیں الجھتا
 وہ اللہ کے فیصلے کو اللہ کی رضا، اللہ کی ادا سمجھتا ہے۔

ہفتہ, مارچ 18, 2017

سنیں اور سمجھیں


ہم سنتے ہیں جواب کے لیے
تحریر: نیر تاباں
===============
نو عمری میں کہیں کوئی آرٹیکل پڑھا تھا کہ جب بھی آپ سے کوئی اپنی بات کہے، یا کوئی مسئلہ بیان کرے، یا آپ کسی کا موڈ خراب دیکھیں تو ‘آئی انڈرسٹینڈ/میں سمجھ رہا ہوں’ کہہ دیں اور اس کی بات کو واقعی سمجھنے کی کوشش کریں۔ میں نے اس وقت سے اس چھوٹے سے جملے کا استعمال شروع کیا، اور بارہا کیا، ہر عمر اور ہر مزاج کے لوگوں کے ساتھ کیا اور ہمیشہ ہی کارآمد پایا۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ جب آپ ‘آئی انڈرسٹینڈ’ یا ‘میں آپ کی تکلیف محسوس کر سکتی ہوں’ یا ‘آپ کی بات میں سمجھ رہی ہوں’ جیسے جملے کہتے ہیں تو بات کہنے والے کے لیول پر آنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ آپ واقعی اس کے موڈ کی وجہ سمجھنے لگتے ہیں۔ آپ ججمنٹل نہیں ہوتے اس لئے بتانے والے کو بھی دفاعی انداز نہیں اپنانا پڑتا۔ لوگوں کو یہ احساس ملے کہ کوئی ان کی بات ٹھیک سے سن اور سمجھ رہا ہے تو ان کے لئے بات کہنا آسان ہو جاتا ہے اور آپ اللہ کی توفیق سے کوئی اچھا مشورہ دینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

 ایک ڈھائی سال کا بچہ پارک سے واپس آنے پر رو رہا ہے، گھر نہیں جانا چاہتا۔ گھٹنوں کے بل ہو کر اس کے لیول پر آئیں، پیار سے کہیں کہ مجھے پتہ ہے ابھی آپ کا اور کھیلنے کا دل ہے، لیکن اب شام ہونے والی ہے اس لیے گھر جانا ہے، ہم دوبارہ آئیں گے۔ اب دس منٹ اور ہیں، پھر ہم چلیں گے۔
 وہ ٹی وی بند نہیں کرنا چاہتا، چیخنے چلانے کی بجائے اس سے کہیں مجھے احساس ہے کہ آپ اور ٹی وی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن آج کا سکرین ٹائم اوور ہو گیا، کل شام کو دیکھ لیجیے گا، آئیں ابھی بک پڑھ لیتے ہیں۔ اور ہوم ورک بھی تو ضروری ہے ناں؟ اس سے بچے کو لگے گا کہ چاہے اس کی بات ماننا آپ کے لئے ممکن نہیں لیکن بہرحال آپ اس کی بات سمجھ رہی ہیں۔
 ساس جب بہو کی گھر گھرہستی سے مطمئن نہ ہو اور آپ سے شکایت کرے تو کہہ دیجیے کہ آنٹی، میں سمجھ سکتی ہوں آپ نے پوری عمر گھر کو کس طرح چلایا ہے، یہ بات آپ کو تکلیف دیتی ہے لیکن اس کو تو ابھی چند ماہ یا چند سال ہوئے ناں؟ ان شاء اللہ جلد سیکھ جائیں گی۔
 بہو یہی شکایت کرے تو بھی اس کی بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ مجھے احساس ہے کہ آپ اپنے طریقے سے کام کرنا چاہتی ہیں، یہ کوئی بےجا خواہش نہیں لیکن ابھی کچھ عرصہ اس گھر کا طور طریقہ سیکھیں۔ ایک دفعہ جگہ بن جائے تو آہستہ آہستہ اپنے طریقے پر بھی کام کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہو گی۔
کوئی ٹین ایجر اپنی تازہ ترین محبت کا قصہ سنائے، کوئی بیوی اپنے شوہر کی کسی بات سے دلبرداشتہ ہو، کوئی نند اپنی بھابھی سے الجھ بیٹھی ہو، کوئی آٹھویں کا بچہ اپنی پڑھائی سے تنگ ہو، کوئی تین سالہ بچہ پانی سے کھیلنا چاہتا ہو، کوئی جواں سال لڑکی فیشن کی زیادہ دلدادہ ہو، کوئی اپنے گھر والوں سے چھپ کر کسی لڑکے سے تعلق میں ہو۔۔۔
کہیں بھی، کسی کے ساتھ، کوئی بھی بات ہو، اس کو غور سے سنیں، اس کے لیول پر آئیں، جج کرنے کی بجائے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کریں، پھر اس سے کہیں “میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں / آئی انڈرسٹینڈ” ۔ بعض اوقات لوگوں کو ہم سے کوئی مشورہ بھی نہیں چاہیے ہوتا، بس وہ ہم سے تھوڑا سا احساس، تھوڑی سی توجہ، تھوڑا سا وقت چاہتے ہیں۔ اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ ہم سمجھنے کی بجائے جواب دینے کی نیت سے بات سنتے ہیں، اگلے کی بات بار بار بیچ میں کاٹتے ہیں، فوراً جج کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ اس کی بات ہم نہیں سمجھ پاتے، ہماری بات اس کے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔ ایک اچھا سامع یا listener بننے کے لئے کچھ رہنما اصول ہیں، آپ کے ساتھ شیئر کروں گی۔ فی الحال “مجھے احساس ہے، میں سمجھ رہی ہوں، آئی انڈرسٹینڈ” کو اپنی گفتگو میں شامل کیجیے۔

آج کی بات ۔۔۔18 مارچ 2017

~!~ آج کی بات~!~

غصے کے وقت تھوڑا رک جائیں
 اور غلطی کے وقت تھوڑا جھک جائیں
 یقین مانیں زندگی آسان ہو جائے گی۔۔

تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔ حصہ-31

تدبر القرآن
سورۃ البقرہ
نعمان علی خان
حصہ-31

یہاں میں آپ کا دھیان لسانیات کے ماہر ایک عالم 'باسم صالح' کی طرف دلانا چاہتا ہوں جن کا کام انتہائی قابل ذکر ہے. انہوں نے قرآن کے معجزات پر عربی اور انگلش دونوں میں کتابیں لکھیں ہیں. یہاں ان کے ذکر کرنے کا مقصد ان کا وہ کام ہے جہاں انہوں نے رسول صلی الله علیہ وسلم کی حدیث کے موضوع پر مکمل مواد جمع کیا جن میں صحیح، ضعیف، حسن ہر سند کی حدیث شامل ہے. پھر اس مجموعہ کا انہوں نے لسانی تجزیہ کیا یہ جاننے کے لیے کہ کسی بھی مخصوص انسان کی گفتگو کے انداز میں کون سے اتار چڑھاﺅ ہوتے ہیں. جیسے کہ میں الفاظ so cool کا بہت استعمال کرتا ہوں. رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا بھی بات چیت کا اپنا ذاتی طریقہ تھا جو ہزاروں، لاکھوں احادیث کی مطالعہ سے واضح ہو جاتا ہے. تو ان عالم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بات چیت کے انداز کا موازنہ قرآن پاک کے اندازِ کلام سے کیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ قرآن پاک اسم، فعل، حروف جار، بیان محاورہ کو ایسے استعمال کرتا ہے جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کبھی نہیں کیا. حتی کی عربوں کی تاریخ میں بھی کہیں ایسا اندازِ کلام نہیں پایا گیا.
اگر صرف سورہ فاتحہ کو ہی دیکھیں تو الفاظ کے اٹھاون ایسے مجموعے درج ہیں جو عربوں نے کبھی بھی استعمال نہیں کیے. جیسے کہ

*غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ*

اس مجموعےجو دو الفاظ استعمال کیے گئے *غیر* اور *ولا*. عربی زبان کی کتنی ہی پرانی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں یا آپ صلی الله علیہ وسلم کی تمام کی تمام احادیث کو دیکھ لیں، آپ کو ہمیشہ *لا ، ولا* ، *لیس، ولا*، *ما، ولا*، *غیر،و غیر*، *غیرہ، او* کے الفاظ ہے ایک ساتھ نظر آئیں گے. آپ کو الفاظ *غیر اور لا* کبھی ایک ساتھ کہیں نہیں ملیں گے. ایسا مجموعہ الفاظ بس قرآن میں سورہ فاتحہ میں ہی موجود ہے. عربوں کو اس انداز زبان کی سمجھ بھی آتی ہے اور وہ حیران بھی ہوتے ہیں کہ ایسے تو کوئی کلام نہیں کرتا. 

ایک اور ایسی مثال آپ کو پیش کرتا ہوں جس پر غور کریں تو دماغ جھنجھنا جاتا ہے. یہ لفط *کان* کا قرآن میں استعمال ہے. عربی زبان میں ہمیشہ سے *کان* کا مطلب *تھا* رہا ہے. مگر قرآن میں لفظ *کان* کا مطلب *ہے* بھی استعمال کیا گیا ہے. اور کمال یہی ہے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا.

*وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا*
الله پاک ہمیشہ سے انتہائی معاف کرنے والا، رحم کرنے والا رہا ہے اور رہے گا. 

*کَانَ* جس کا ہمیشہ سے مطلب ماضی میں لیا جاتا تھا قرآن پاک نے ایک سو نوے سے زائد بار اسے حال کے لیے استعمال کیا ہے. یہ عربوں کی لیے بالکل ہی نئی بات تھی. 

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی احادیث میں بھی لفظ *کَانَ* کا استعمال ہزاروں بار کیا گیا مگر ایک بار بھی اس سے مراد حال کا معنی نہیں. آپ صلی الله علیہ وسلم نے کبھی قرآن کا کوئی کلمہ اپنی بات چیت میں استعمال نہیں کیا حتی کہ لفظ *کَانَ* کا بھی وہی استعمال کیا جو عام عرب کرتے تھے. دوسرے الفاظ میں یہ مصنفی اعزاز کا معاملہ ہے جو دونوں صورتوں میں بالکل الگ ہے. سبحان الله 

اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ حدیث سے مراد یہاں یہی تھا "بالکل نیا"۔ جو قرآن کا طرز تخاطب ہے اور جس کی مثال پہلے کہیں نہیں ملتی. 

استاد نعمان علی خان.
جاری ہے....

جمعہ, مارچ 17, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 17 مارچ 2017


~!~ آج کی بات ~!~

معمولی باتوں پر کُڑھتے رہنے کی عادت جہاں آپ کی خوشیوں کی دشمن ہے،
وہیں یہ آپ ک بے مقصد مصروف رکھتی ہے۔


جمعرات, مارچ 16, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 16 مارچ 2017

~!~ آج کی بات ~!~

جو اپنے نہ جاننے کو جان جائے وہ طالب علم بن جاتا ہے 
اور بالآخر جان جاتا ہے جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا۔

بدھ, مارچ 15, 2017

تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ- 30

تدبر القرآن 
 سورۃ البقرہ 
نعمان علی خان 
حصہ-30 

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 
*وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٣﴾ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ﴿٢٤﴾ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوا هَـٰذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا ۖ وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٥﴾*


آیت تئیس سے پہلے کچھ اہم باتیں جو رہ گئی تھیں ان شاء الله آج ہم اس آیت کی تفسیر کے ساتھ مکمل کر لیں گے. ان اہم نکات میں سے ایک یہ ہے کہ آیت میں

*يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿٢١﴾*
الله پاک انسانیت سے فرما رہے ہیں کہ اے لوگوں اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا تاکہ تم خود کو بچا سکو.

ترتیبی لحاظ سے اس آیت کی طرح قرآن میں اور بھی کئی مقامات پر الله پاک نے پہلے اپنا تعلق انسانیت سے ان کے رب کے طور پر واضح کیا ہے اور پھر خالق ہونے کی بات کی ہے. 

*سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى. الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى*
ان آیات میں بھی پہلے الله پاک کے رب ہونے اس کے بعد خالق ہونے کا ذکر ہے. سورہ بقرہ کی آیت نمبر اکیس میں بھی پہلے رب پھر خالق کی صفت بیان کی گئی ہے. اب یہ اس لیے ایک دلچشپ نقطہ نظر ہے کیونکہ ایک عام انسان کی سوچ سے تو وہ پہلے الله کو خالق مانے گا بعد میں اپنے شعور سے الله پاک کو اپنا رب تسلیم کرے گا. مگر قرآن پاک میں پہلے رب پھر خالق کی بات کی گئی کیونکہ قرآن پاک کے کلام کا اپنی ہی طرز کا ہے. انسان چیزوں کو منطقی نقطہ نظر سے ہی دیکھتا اور سمجھتا ہے. جبکہ تخلیقی اعتبار سے لسانیات کا اپنا الگ طریقہ ہے.الله پاک ہماری منطقی سوچ کو رد کرتے ہوئے پہلے اپنی ربوبیت کا پھر خالق ہونے کا ذکر فرماتے ہیں. 

یہ اصل میں انسانی فطرت کے ساتھ مطابقت کا ایک فن ہے. اب آپ سوچیں گے وہ کیسے؟ ایک بچے کو کسی سے سروکار نہیں ہوتا بس یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بھوک میں انہیں کھانا ان کی ماں نے مہیا کرنا ہے یا بیماری میں، سردی میں یا خوف کی حالت میں انہوں نے ایک ایسے انسان کے پاس ہی جانا ہوتا ہے جس کا انہیں پتا ہے کہ یہی ہماری ضروریات پوری کرے گا. ہمارے بچپن کا زیادہ تر حصہ دوسروں پر انحصار کرتے ہی گزرتا ہے. سب سے زیادہ محتاجی تو رب اور عبد کے رشتے میں ہی ہوتی ہے. انسانی فطرت میں رشتوں کی محتاجی لازمی ہے. جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں اگرچہ ان میں سے کچھ ہی ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ ان کا مقصد حیات کیا ہے؟ ان کا خالق کون ہے اور کس لیے ان کی تخلیق کی گئی. یقین کریں ایسے واقعی ہی بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو ایسا سوچیں. زیادہ تر لوگوں کی سوچ دنیادی ضروریات تک ہی محدود ہوتی ہے جیسے کھانا پینا، پیسے کمانا، نیا گھر، نئی گاڑی، شادی، بچوں کے نام رکھنا وغیرہ اور بس یہ سوچ کہ اپنی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں. 

صفت رب کے اصل معنوں میں وہ تمام اشیاء آ جاتی ہیں جو انسانی ہر ضرورت کو پورا کرنے والی ہوتی ہیں. رب کے معنی میں مالک، مربی، منعم، قیم ایسے کئی مطلب شامل ہیں. اب الله پاک اپنی اس صفت کے علاوہ اپنے خالق ہونے کی صفت بھی جتاتے ہیں. ایک عام انسان کو اپنے خالق کو پہچاننے کے لیے اپنی سوچ سے ہٹ کر دیکھنا پڑتا ہے. جیسے کہ الله پاک فرماتے ہیں

*مَّا أَشْهَدتُّهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَا خَلْقَ أَنفُسِهِم....* سورہ الکہف ۵۱
میں نے انہیں زمین و آسمان کی تخلیق کی گواہی کے لیے نہیں بلایا تھا نہ خود ان کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا....

ہمیں نہیں معلوم ہم کب تخلیق میں آئے تھے یا جب ہم پیدا ہوئے تو کیسے تھے. کوئی بھی اپنی تخلیق کی کڑی کو زیادہ سے زیادہ اپنی والدہ تک ہی لے جا سکتا ہے. اس لیے ہی انسانی فطرت میں والدین کے لیے وفاداری ہوتی ہے اور یہی وفاداری اگر بڑھے تو معاشرے تک جاتی ہے کیونکہ والدین کے رشتے دار معاشرے کا ہی حصہ ہوتے ہیں. اس لیے لوگوں کو اپنی زبان، ثقافت، اقدار پھر قبائل، قومیت سے وابستگی ہوتی ہے. یہ وابستگی اسی بات کا اظہار ہے کہ آپ دنیاوی اعتبار سے اپنی والدہ سے وجود میں آئے ہیں اور یہ سب ماحول آپ کی والدہ کا ہی مہیا کردہ ہے خواہ یہ وابستگی آپ کی زبان سے ہو یا قبیلہ سے یا نسل سے. 

الله پاک ہمیں ہماری سوچ کے دائرے سے باہر نکالتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمارا خالق وہ ہے. دوسرے لفظوں میں الله پاک ہماری دنیاوی رشتوں پر بنیاد وفاداری کو چیلنج کرتے ہیں. کیونکہ ایک مالک اور غلام کے درمیان رشتہ تب تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک اس میں وفاداری نہ ہو اور اگر ایسا نہ ہو تو غلام کی وفاداری بس مالک کی موجودگی تک ہی رہے گی اور جب مالک موجود نہ ہو گا غلام اپنی مرضی چلائے گا. 

الله پاک نے اس سورہ کے آغاز میں ہی فرمایا تھا کہ وہ جو بنا دیکھے ایمان لاتے ہیں اور الله پاک تو ہماری نظروں سے اوجھل ہے. اگر انسان ایسا نہ سوچے کہ الله پاک اسے دیکھ رہا ہے تو وہ اپنی من مانی کرنا شروع کر دیتا ہے. تنہائی میں ہی انسان کی اصل وفاداری نظر آتی ہے. اس کی سب سے اچھی مثال ان بچوں کی ہے جنہیں زبردستی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا کر دیا جاتا ہے جب تک ماں باپ ہوتے ہیں انہیں ڈر ہوتا ہے کہ نماز پڑھنی ہے جیسے ہی ماں باپ کہیں گئے ساتھ ہی انہیں چھٹی مل جاتی ہے پڑھیں یا نہ پڑھیں کوئی دیکھنے والا نہیں. اکثر بچے وضو نہ کر کے بھی جھوٹ کہتے ہیں کہ وضو کر آئے ہیں.
جیسے جیسے انسان کی عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے اس کی وفاداری صرف اس کے والدین تک نہیں رہتی بلکہ دادا، نانا، خاندان، اباؤ اجداد اور ان کی اقدار تک پھیل جاتی ہے. اجداد کی اندھی تقلید میں ہی بہت سے لوگوں نےالله کی نافرمانی کی، انبیاء کو رد کیا . بہت سے لوگ اسلام اس لیے نہیں قبول کرتے کہ ان کے گھر والے،ان کا معاشرہ کیا سوچیں گے کہ اتنے سینکڑوں سالوں سے جس مذہب، رسومات کے ہم پیروکار رہے ان سے کیسے کوئی دور جا سکتا ہے. دوسرے لفظوں میں آپ نہ صرف اپنے بارے میں بلکہ خود سے پہلے کے لوگوں کی طرف وفاداری کا بھی سوچ رہے ہوتے ہیں. 

الله پاک اس آیت میں فرماتے ہیں اگر آپ کو میرا بندہ بننا ہے تو اپنی ان تمام نام نہاد وفاداریوں کے بارے میں سوچنا پڑنا ہے کہ کس کی طرف ہیں.

*الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ*
وہ جس نے تمہیں اور تم سے قبل کے لوگوں کو پیدا کیا.

اب خالق کی خلقت کا یہ سلسلہ نسلوں پر محیط ہے. تو اگر کوئی سوچے کہ اس کا اسلام لانا اس کے اباؤاجداد کے ساتھ دھوکا ہوگا تو وہ تو اصل میں اسلام کا انکار اس کے آباؤ اجداد کی نافرمانی تھی جس پر نسل در نسل لوگ چلتے ہی آئے. ایک گہرا سلسلہ ہے جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے.
ایک اور اہم نقطہ جو میں آپ سے آج شئیر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے کلمہ *سُورَہ* کا معنی.
*فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِه*
سورۃ کے بہت سے معنی میں پہلے آپ کو بتا چکا ہوں. يہاں سب سے زیادہ موزوں مطلب "کسی شہر کی بیرونی دیوار" کا ہے. ایسی دیواریں تب ہی بنائی جاتی ہیں جب اپ خاص اداروں کی اعلی اقدار کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں جیسے قوم کا خزانہ، قلعہ کی حفاظت وغیرہ. 

ہر سورہ دراصل ایک لامتانہی رہنمائی، نصیحت، عقائد، تعلیمات کی محافظ ہوتی ہے جیسے الله کی وحدانیت، رسول پاک صلی الله علیہ وسلم کی رسالت، احکامات, جن کاموں سے منع کیا گیا ہے جن کا حکم دیا گیا ہے یہ سب انتہائی قیمتی تعلیمات ہیں. الله پاک نے پچھلی نازل کردہ کتابوں میں بھی بنو اسرائیل کو حرام و حلال کا فرق واضح کر کے بتا دیا تھا. الله پاک نے صالح علیہ السلام کی قوم کو بھی صحیح غلط کا فرق بتا دیا تھا. یہی تعلیمات الله پاک نے ابراہیم علیہ السلام کو بھی دی تھیں جو انہوں نے اپنی قوم کو بیان کیں. مگر گزرتے وقت کے ساتھ ان تعلیمات کو بچانے کے لیے بظاہر کوئی دیوار نہیں بنائی گئی تھی. اس لیے ہی ان تعلیمات میں ردوبدل ہوتا گیا اور انسانیت بھٹکتی گئی. 

اس بار آیات کے بیان یا وحی کے نزول سے بڑھ کر الله پاک نے سورہ نازل فرمائی جس کی تا قیامت حفاظت ممکن تھی. قرآن کی معجزانہ کاملیت کا مقصد ہی یہی تھا کہ نسل در نسل تعلیمات اسی خالص شکل میں رائج رہیں جس طرح وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں تھیں. اور اس میں تبدیلی انسانی تاریخ میں آج تک نہ ہو سکی نہ ہو پائے گی. اس کی مخالفت میں بنی اسرائیل کی آنے والی نسلوں نے اپنی خالص تعلیمات کو ایسا پراگندہ کر دیا تھا کہ آنے والی نسلوں کے لیے بھٹکنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا. بنی اسرائیل کی مثال جہاں سمجھنے کے لیے سب سے اچھی ہے عملی اعتبار سے اتنی ہی بری بھی ہے. ان کی ہر نسل میں انبیاء کا نزول ہوا اور پھر بھی وہ اپنی کتاب کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتے تھے. عیسی علیہ السلام کے نزول تک یہی ہوتا رہا کہ ایک نبی کی تعلیمات کو درست کرنے کے لیے دوسرا نبی بھیجا جاتا اور یہ لوگ پھر اسے تبدیل کر دیتے.
عیسی علیہ السلام کی جو بھی تعلیمات باقی بچیں ان میں آپ کو کثرت سے یہودیوں کے ربانیوں پر ان کے بار بار تعلیمات میں دروبدل کرنے پر سخت تنبیہ نظر آئے گی. ایسا لگتا ہے کہ عیسی علیہ السلام مفتیوں کے لیے بہت سخت تھے. وہ ان کے لیے سب سے برا خطرہ بن گئے تھی. اتنی مذمت انہوں نے رومیوں کی نہیں کہ تھی جتنی اسرائيلی امہ کی اندر پھیلے انتشار پر کی تھی.
اب آیت تئیس میں عام عوام کو یہ چیلنج دیا جا رہا ہے کہ لاسکتے ہو تو اس سے ملتی جلتی ہی کوئی سورہ لے آؤ *مِّن مِّثْلِهِ*. قرآن پاک میں کلی طور پر چھ بار یہی چیلنج دیا گیا ہے. اس آیت سے پہلے پانچ بار تب چیلنج دیا گیا جب آپ صلی الله علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے. مدینہ منورہ کے انتہائی ابتدائی دور میں جنگ بدر کے وقوع سے بھی قبل پہلی اور آخری بار یہ چیلنج دیا گیا تھا. یاد رہے کہ مسلمانوں کو جنگ کے لیے تیار کرنے والی سورہ بقرہ کی آیات بھی مکہ مکرمہ میں ہی نازل ہوئی تھیں. 

مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی ان آیات میں سے کچھ آیات ملاحظہ ہوں جہاں یہ چیلنج دیا گیا.

*أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ بَل لّا يُؤْمِنُونَ. فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ* سورہ الطور
وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پاس سے یہ باتیں گھڑی ہیں؟ نہیں. بلکہ سچ یہ ہے کہ وہ ایمان ہی نہیں لانا چاہتے. اگر ایسا ہے تو انہیں یہ چیلنج ہے کہ ایسی کوئی بات ہی لے آئیں جو الله کی بات سے ملتی جلتی ہو.

پوری سورہ کی بات نہیں کی گئی فقط ایک حدیث، ایک جملے جیسی بات لانے کا ہی چیلنج دیا گیا. کلمہ *حَدِیث* لفظ *حدث* سے نکلا ہے جس کا معنی ہے "کچھ نیا". تو انہیں کہا جا رہا ہے کی اگر آپ لوگ سچے ہیں تو اس جیسی کوئی ایک نئی بات ہی لے آئیں. 

جاری ہے........