جمعہ, مارچ 10, 2017

سمندر رازداں میرا اگر ہوتا


سمندر رازداں میرا اگر ہوتا
تو سب تنہائیاں اپنی اسے میں سونپ دیتا
اور چلتا تھام کر انگلی ہوا کی
دور جاتے راستوں پر
جن سے کوئی لوٹ کر آتا نہیں
سمندر رازداں میرا اگر ہوتا
تو سن گہرائیاں اپنی اسے میں سونپ دیتا
اور اترتا
پانیوں کی نیلگوں وسعت کے سینے میں
زمیں کشتی بنا کر
آسماں کو بادباں کرتا
سفر کا دکھ بھرا لمحہ
تمہارے اور اپنے درمیں کرتا
سمندر رازداں میرا اگر ہوتا

نصیر احمد ناصر

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں