چلو یہ سوچیں

چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے
جو اس زمیں سے کیا تھا ہم
وہ عہد کیا ہم نبھارہے ہیں

گئی رتوں کے ہر ایک پل کا
دلوں سے اپنے حساب مانگیں
دیا ہے کیا اس وطن کو ہم نے
یہ آج خود سے جواب مانگیں
وطن کی راہوں میں ہم وفا کے
گلاب کتنے کھلارہے ہیں

ہر ایک دشمن کی سازشوں سے
یہ دیس ہم کو بچانا ہوگا
محبتوں کو فروغ دے کر
شعورِ ملت جگانا ہوگا
یہ کون ہیں جو ہمیں میں رہ کر
ہمارے گھر کو جلارہے ہیں

چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے
جو اس زمیں سے کیا تھا ہم
وہ عہد کیا ہم نبھارہے ہیں​

تبصرے

حالیہ تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

کمال یہ ہے

انتخابِ کلام مسدس حالی