اتوار, مارچ 12, 2017

مستقبل کی منصوبہ بندی (خطبہ جمعہ مسجد نبوی)

مستقبل کی منصوبہ بندی
ترجمہ: شفقت الرحمان
10 مارچ 2017


انسانی کی زندگی گزر جانے والے ماضی، حال اور وعدہ شدہ مستقبل کے درمیان گھومتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
{وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا
اور اس نے تمہیں مختلف مراحل سے گزار کر پیدا کیا۔[نوح: 14]

اللہ تعالی نے انسان کو آنکھوں سے اوجھل ماں کے پیٹ میں پیدا کیا، پھر بچے کی شکل میں اس کی پیدائش ہوئی، اس کے بعد کڑیل جوان ہو کر بوڑھا ہو گیا، زندگی میں یہی کچھ ہوتا ہے کہ مستقبل حال بنتا جاتا ہے اور حال گزرا ہوا ماضی! انسانی عقل کو جو چیز مشغول کر کے رکھتی ہے وہ مستقبل کے بارے میں سوچ و بچار ہے۔

اور یہ بات ہر مسلمان کے عقیدے میں ہے کہ مستقبل سے متعلق ہر چیز علم غیب سے تعلق رکھتی ہے اور ان کا مکمل ادراک صرف اللہ تعالی کو ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ}
 آپ کہہ دیں: آسمان اور زمین میں جو بھی ہے اللہ کے سوا غیب کوئی نہیں جانتا۔[النمل: 65] 
چنانچہ مستقبل میں رونما ہونے والے تمام امور کا علم اللہ تعالی کے پاس ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ}
 اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ کل اس نے کیا کمانا ہے، اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین پر مرے گا، بیشک اللہ تعالی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔[لقمان: 34]

لیکن پھر بھی مستقبل کے بارے میں غور و خوض اور مستقبل کی ٹوہ میں رہنا ، اسے جاننے کی کوشش کرنا اللہ تعالی کی طرف سے لوگوں میں پیدا کردہ فطرتی چیز ہے، روح کو اسی پر پیدا کیا گیا ہے۔
بلکہ مستقبل کی جستجو عین اسلام اور انبیائے کرام کا پیغام بھی ہے؛ جیسے کہ اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام نے مستقبل سامنے رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی تو اللہ تعالی نے ملک و قوم کو کمر توڑ اقتصادی بحران سے بچا لیا۔

رسول اللہ ﷺ بھی مستقبل پر گہری نظر رکھتے تھے، اور اس کے لیے اللہ تعالی کے وعدوں پر مکمل اطمینان کرتے ہوئے فرماتے: (اللہ کی قسم! اللہ تعالی اس دین کو ضرور غالب فرمائے گا، حتی کہ مسافر صنعا سے حضر موت تک سفر کرتے ہوئے اللہ کے سوا کسی کا خوف دل میں نہیں رکھے گا، بلکہ بکریوں کو بھیڑیے سے بھی خطرہ نہیں ہوگا، لیکن تم جلد بازی سے کام لیتے ہو) بخاری

مستقبل کے لیے منصوبہ بندی زندہ دلوں کو جلا بخشتی ہے، عزائم کو پختہ بناتی ہے، مایوسی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے اور سستی کا خاتمہ کرتی ہے، بلکہ موجودہ وسائل کو بروئے کار لا کر روشن مستقبل کی تعمیر کیلیے غور و فکر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

مستقبل کی تعمیر و ترقی محض خالی اُمنگوں سے ممکن نہیں کہ جن میں عملی اقدامات اور مثبت تبدیلیاں نہ ہو
مستقبل پر گہری نظر عقل مندوں اور دانش وروں کی صفت ہے، لیکن اس بات کا خیال رہے کہ مستقبل کے بارے میں غور و فکر حد سے بڑھ کر بے چینی کا باعث نہ بنے اور زندگی کو تباہ نہ کرے، کہ اٹھتے بیٹھتے مستقبل کی ہی پریشانی لگی رہے، یا ہر وقت کسی بیماری، غربت، مصیبت، یا حالات تنگ ہونے کی فکر میں پھنسا رہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا}
 شیطان تمھیں فقر کا ڈراوا دیتا ہے اور تمھیں شرمناک چیزوں کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمھیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل کا وعدہ دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ [البقرة: 268]

کچھ لوگ مستقبل کے بارے میں جاننے کے لیے اللہ تعالی کی نافرمانیوں کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں اور کہانت، جادو اور شعبدہ بازی میں ملوث ہو جاتے ہیں، کوئی علم غیب کے متعلق اٹکل پچو لگانے والے کاہن کے پاس جا تا ہے اور وہ جناتی شیطانوں کو حاضر کرتے ہیں، شیطانوں کے بتلائے ہوئے طلسم پڑھتے ہیں، ہاتھوں اور چائے کے کپوں کی لکیروں اور برجوں کے احوال بتاتے ہیں، یہ بہت خطرناک اور بہت بڑے گناہگار لوگ ہیں، یہ جھوٹے اور دغا باز ہیں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص کسی نجومی کے پاس آئے اور اس سے کچھ پوچھے تو اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں) ایک اور حدیث میں فرمایا: (جو شخص نجومی یا کاہن کے پاس آئے اور اس کی بات کی تصدیق کرے تو اس نے محمد ﷺ پر نازل شدہ وحی سے کفر کیا)

ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات اسوۂ حسنہ ہے؛ آپ ﷺ یتیمی کی حالت سے مظلوم پناہ گزین بنے اور پھر پوری امت کے سربراہ بن گئے، آپ ﷺ نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایک ایسی امت تیار کر دی جس نے تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔

مستقبل کی تیاری زمانۂ حال پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے جو اپنے حال میں اچھے اقدامات کرے اس کا مستقبل روشن ہو جاتا ہے، اور اگر کوئی اپنے حال میں کچھ نہ کرے تو اس کا مستقبل ضائع ہو جاتا ہے، اگر کوئی شخص اپنی ذہن سازی نہ کرے، اپنے جسم و دماغ کی تعمیر نہ کرے تو اسے نتیجے میں غربت، بے روز گاری اور بیماریاں ہی ملتی ہیں، اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے بچوں کی تربیت نہ کرے تو اس کی اولاد نا فرمان اور منحرف ہو جاتی ہے۔

درست خطوط پر روشن مستقبل استوار کرنے کیلیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی زندگی کو فکری تعمیر کیلیے صرف کرے، اپنی سوچ ایسی بنائے کہ پریشانی میں بھی مایوس نہ ہو، بلکہ اپنے اندر اتنی صلاحیت پیدا کرے کہ دکھ کو سکھ میں بدل ڈالے، مایوسی کو آس میں بدلنے کا دھنی ہو، اسی طرح مسلمان اپنے اہداف حاصل کرنے کیلیے جہدِ مسلسل جاری رکھے، اللہ تعالی کے فیصلوں پر قناعت کرے، اللہ تعالی کی لکھی ہوئی تقدیر پر مکمل بھروسا رکھے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور کسی کے ہاتھ میں کھجور کا بچہ ہو اور قیامت قائم ہونے سے پہلے وہ اسے زمین میں بو سکتا ہو تو وہ اسے بو دے)

عقلمند اور دانشمند مسلمان یقینی طور پر جانتا ہے کہ جس قدر وہ اللہ تعالی کے قریب ہو گا اس کا مستقبل بھی اسی قدر روشن ہوگا، اس لیے وہ سچی توبہ کا اہتمام بھی کرتا ہے؛ کیونکہ اس سے مستقبل میں شیطان، نفسِ امارہ، خواہشات اور غفلت سے تحفظ ملتا ہے۔

اقوام اور معاشروں کا ؛مستقبل اور خوشحال کل؛ وقت حاضر کے نوجوان ہی بناتے اور ترتیب دیتے ہیں، اگر با صلاحیت نسل تیار کرنے میں امت کامیاب ہو جائے تو اس کا مستقبل روشن ہے، بلکہ شان و شوکت اس کی منتظر ہوتی ہے، زورِ بازو اس کا محافظ ہوتا ہے، اور اعلی اخلاقی اقدار اس کی حفاظت کرتی ہیں، اس لیے یہ بات ذہن نشین کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ مستقبل کی تعمیر ہر فرد، پوری قوم اور معاشرے کے کندھوں پر ہے، اور جس قدر امت اسلامی تعلیمات کے قریب ہوتی جائے گی ارتقائی اور بلندی کے مراحل عبور ہوتے جائیں گے، اور اس کے بر عکس جس قدر اسلامی تعلیمات سے دور ہو گی امت میں تنزّلی اور کمزوری بڑھتی جائے گی۔

انسان اپنے مستقبل سے اس وقت ناآشنا ہو جاتا ہے جب ظاہری زندگی سے دل لگا بیٹھے، دنیا کی چکا چوند اور آب و تاب سے دھوکا کھا جائے۔

دائمی مستقبل ہم سب کا منتظر ہے، اس میں ہمیشہ فرحت و مسرت ہو گی یا عذاب و عقاب! اور وہ ہے روزِ قیامت یومِ جزا و ثواب!

یہ دائمی مستقبل اسی وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب انسان اہل و عیال کو چھوڑ دیتا ہے اور اسے مٹی تلے دفن کر دیا جاتا ہے، پھر اسے مزید عمل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

یہ مستقبل ایسا ہے جسے ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے رکھ کر اس کے لیے تیاری کرنا لازمی امر ہے، ہمارے اس مستقبل کو تحفظ دینے کیلیے عملی اقدامات رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان میں موجود ہیں: (سات چیزیں ایسی ہیں جن کا اجر بندے کیلیے قبر میں بھی جاری رہتا ہے: کسی کو علم سکھانا، نہر کھدوانا، پانی کا کنواں تیار کروانا، کھجور کا درخت لگانا، مسجد تعمیر کروانا، یا قرآن مجید کا نسخہ ترکے میں چھوڑنا، یا نیک اولاد کا والدین کی وفات کے بعد بخشش کی دعا کرنا)

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!