تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ- 30

تدبر القرآن 
 سورۃ البقرہ 
نعمان علی خان 
حصہ-30 

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 
*وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٣﴾ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ﴿٢٤﴾ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوا هَـٰذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا ۖ وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٥﴾*


آیت تئیس سے پہلے کچھ اہم باتیں جو رہ گئی تھیں ان شاء الله آج ہم اس آیت کی تفسیر کے ساتھ مکمل کر لیں گے. ان اہم نکات میں سے ایک یہ ہے کہ آیت میں

*يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿٢١﴾*
الله پاک انسانیت سے فرما رہے ہیں کہ اے لوگوں اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا تاکہ تم خود کو بچا سکو.

ترتیبی لحاظ سے اس آیت کی طرح قرآن میں اور بھی کئی مقامات پر الله پاک نے پہلے اپنا تعلق انسانیت سے ان کے رب کے طور پر واضح کیا ہے اور پھر خالق ہونے کی بات کی ہے. 

*سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى. الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى*
ان آیات میں بھی پہلے الله پاک کے رب ہونے اس کے بعد خالق ہونے کا ذکر ہے. سورہ بقرہ کی آیت نمبر اکیس میں بھی پہلے رب پھر خالق کی صفت بیان کی گئی ہے. اب یہ اس لیے ایک دلچشپ نقطہ نظر ہے کیونکہ ایک عام انسان کی سوچ سے تو وہ پہلے الله کو خالق مانے گا بعد میں اپنے شعور سے الله پاک کو اپنا رب تسلیم کرے گا. مگر قرآن پاک میں پہلے رب پھر خالق کی بات کی گئی کیونکہ قرآن پاک کے کلام کا اپنی ہی طرز کا ہے. انسان چیزوں کو منطقی نقطہ نظر سے ہی دیکھتا اور سمجھتا ہے. جبکہ تخلیقی اعتبار سے لسانیات کا اپنا الگ طریقہ ہے.الله پاک ہماری منطقی سوچ کو رد کرتے ہوئے پہلے اپنی ربوبیت کا پھر خالق ہونے کا ذکر فرماتے ہیں. 

یہ اصل میں انسانی فطرت کے ساتھ مطابقت کا ایک فن ہے. اب آپ سوچیں گے وہ کیسے؟ ایک بچے کو کسی سے سروکار نہیں ہوتا بس یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بھوک میں انہیں کھانا ان کی ماں نے مہیا کرنا ہے یا بیماری میں، سردی میں یا خوف کی حالت میں انہوں نے ایک ایسے انسان کے پاس ہی جانا ہوتا ہے جس کا انہیں پتا ہے کہ یہی ہماری ضروریات پوری کرے گا. ہمارے بچپن کا زیادہ تر حصہ دوسروں پر انحصار کرتے ہی گزرتا ہے. سب سے زیادہ محتاجی تو رب اور عبد کے رشتے میں ہی ہوتی ہے. انسانی فطرت میں رشتوں کی محتاجی لازمی ہے. جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں اگرچہ ان میں سے کچھ ہی ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ ان کا مقصد حیات کیا ہے؟ ان کا خالق کون ہے اور کس لیے ان کی تخلیق کی گئی. یقین کریں ایسے واقعی ہی بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو ایسا سوچیں. زیادہ تر لوگوں کی سوچ دنیادی ضروریات تک ہی محدود ہوتی ہے جیسے کھانا پینا، پیسے کمانا، نیا گھر، نئی گاڑی، شادی، بچوں کے نام رکھنا وغیرہ اور بس یہ سوچ کہ اپنی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں. 

صفت رب کے اصل معنوں میں وہ تمام اشیاء آ جاتی ہیں جو انسانی ہر ضرورت کو پورا کرنے والی ہوتی ہیں. رب کے معنی میں مالک، مربی، منعم، قیم ایسے کئی مطلب شامل ہیں. اب الله پاک اپنی اس صفت کے علاوہ اپنے خالق ہونے کی صفت بھی جتاتے ہیں. ایک عام انسان کو اپنے خالق کو پہچاننے کے لیے اپنی سوچ سے ہٹ کر دیکھنا پڑتا ہے. جیسے کہ الله پاک فرماتے ہیں

*مَّا أَشْهَدتُّهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَا خَلْقَ أَنفُسِهِم....* سورہ الکہف ۵۱
میں نے انہیں زمین و آسمان کی تخلیق کی گواہی کے لیے نہیں بلایا تھا نہ خود ان کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا....

ہمیں نہیں معلوم ہم کب تخلیق میں آئے تھے یا جب ہم پیدا ہوئے تو کیسے تھے. کوئی بھی اپنی تخلیق کی کڑی کو زیادہ سے زیادہ اپنی والدہ تک ہی لے جا سکتا ہے. اس لیے ہی انسانی فطرت میں والدین کے لیے وفاداری ہوتی ہے اور یہی وفاداری اگر بڑھے تو معاشرے تک جاتی ہے کیونکہ والدین کے رشتے دار معاشرے کا ہی حصہ ہوتے ہیں. اس لیے لوگوں کو اپنی زبان، ثقافت، اقدار پھر قبائل، قومیت سے وابستگی ہوتی ہے. یہ وابستگی اسی بات کا اظہار ہے کہ آپ دنیاوی اعتبار سے اپنی والدہ سے وجود میں آئے ہیں اور یہ سب ماحول آپ کی والدہ کا ہی مہیا کردہ ہے خواہ یہ وابستگی آپ کی زبان سے ہو یا قبیلہ سے یا نسل سے. 

الله پاک ہمیں ہماری سوچ کے دائرے سے باہر نکالتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمارا خالق وہ ہے. دوسرے لفظوں میں الله پاک ہماری دنیاوی رشتوں پر بنیاد وفاداری کو چیلنج کرتے ہیں. کیونکہ ایک مالک اور غلام کے درمیان رشتہ تب تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک اس میں وفاداری نہ ہو اور اگر ایسا نہ ہو تو غلام کی وفاداری بس مالک کی موجودگی تک ہی رہے گی اور جب مالک موجود نہ ہو گا غلام اپنی مرضی چلائے گا. 

الله پاک نے اس سورہ کے آغاز میں ہی فرمایا تھا کہ وہ جو بنا دیکھے ایمان لاتے ہیں اور الله پاک تو ہماری نظروں سے اوجھل ہے. اگر انسان ایسا نہ سوچے کہ الله پاک اسے دیکھ رہا ہے تو وہ اپنی من مانی کرنا شروع کر دیتا ہے. تنہائی میں ہی انسان کی اصل وفاداری نظر آتی ہے. اس کی سب سے اچھی مثال ان بچوں کی ہے جنہیں زبردستی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا کر دیا جاتا ہے جب تک ماں باپ ہوتے ہیں انہیں ڈر ہوتا ہے کہ نماز پڑھنی ہے جیسے ہی ماں باپ کہیں گئے ساتھ ہی انہیں چھٹی مل جاتی ہے پڑھیں یا نہ پڑھیں کوئی دیکھنے والا نہیں. اکثر بچے وضو نہ کر کے بھی جھوٹ کہتے ہیں کہ وضو کر آئے ہیں.
جیسے جیسے انسان کی عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے اس کی وفاداری صرف اس کے والدین تک نہیں رہتی بلکہ دادا، نانا، خاندان، اباؤ اجداد اور ان کی اقدار تک پھیل جاتی ہے. اجداد کی اندھی تقلید میں ہی بہت سے لوگوں نےالله کی نافرمانی کی، انبیاء کو رد کیا . بہت سے لوگ اسلام اس لیے نہیں قبول کرتے کہ ان کے گھر والے،ان کا معاشرہ کیا سوچیں گے کہ اتنے سینکڑوں سالوں سے جس مذہب، رسومات کے ہم پیروکار رہے ان سے کیسے کوئی دور جا سکتا ہے. دوسرے لفظوں میں آپ نہ صرف اپنے بارے میں بلکہ خود سے پہلے کے لوگوں کی طرف وفاداری کا بھی سوچ رہے ہوتے ہیں. 

الله پاک اس آیت میں فرماتے ہیں اگر آپ کو میرا بندہ بننا ہے تو اپنی ان تمام نام نہاد وفاداریوں کے بارے میں سوچنا پڑنا ہے کہ کس کی طرف ہیں.

*الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ*
وہ جس نے تمہیں اور تم سے قبل کے لوگوں کو پیدا کیا.

اب خالق کی خلقت کا یہ سلسلہ نسلوں پر محیط ہے. تو اگر کوئی سوچے کہ اس کا اسلام لانا اس کے اباؤاجداد کے ساتھ دھوکا ہوگا تو وہ تو اصل میں اسلام کا انکار اس کے آباؤ اجداد کی نافرمانی تھی جس پر نسل در نسل لوگ چلتے ہی آئے. ایک گہرا سلسلہ ہے جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے.
ایک اور اہم نقطہ جو میں آپ سے آج شئیر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے کلمہ *سُورَہ* کا معنی.
*فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِه*
سورۃ کے بہت سے معنی میں پہلے آپ کو بتا چکا ہوں. يہاں سب سے زیادہ موزوں مطلب "کسی شہر کی بیرونی دیوار" کا ہے. ایسی دیواریں تب ہی بنائی جاتی ہیں جب اپ خاص اداروں کی اعلی اقدار کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں جیسے قوم کا خزانہ، قلعہ کی حفاظت وغیرہ. 

ہر سورہ دراصل ایک لامتانہی رہنمائی، نصیحت، عقائد، تعلیمات کی محافظ ہوتی ہے جیسے الله کی وحدانیت، رسول پاک صلی الله علیہ وسلم کی رسالت، احکامات, جن کاموں سے منع کیا گیا ہے جن کا حکم دیا گیا ہے یہ سب انتہائی قیمتی تعلیمات ہیں. الله پاک نے پچھلی نازل کردہ کتابوں میں بھی بنو اسرائیل کو حرام و حلال کا فرق واضح کر کے بتا دیا تھا. الله پاک نے صالح علیہ السلام کی قوم کو بھی صحیح غلط کا فرق بتا دیا تھا. یہی تعلیمات الله پاک نے ابراہیم علیہ السلام کو بھی دی تھیں جو انہوں نے اپنی قوم کو بیان کیں. مگر گزرتے وقت کے ساتھ ان تعلیمات کو بچانے کے لیے بظاہر کوئی دیوار نہیں بنائی گئی تھی. اس لیے ہی ان تعلیمات میں ردوبدل ہوتا گیا اور انسانیت بھٹکتی گئی. 

اس بار آیات کے بیان یا وحی کے نزول سے بڑھ کر الله پاک نے سورہ نازل فرمائی جس کی تا قیامت حفاظت ممکن تھی. قرآن کی معجزانہ کاملیت کا مقصد ہی یہی تھا کہ نسل در نسل تعلیمات اسی خالص شکل میں رائج رہیں جس طرح وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں تھیں. اور اس میں تبدیلی انسانی تاریخ میں آج تک نہ ہو سکی نہ ہو پائے گی. اس کی مخالفت میں بنی اسرائیل کی آنے والی نسلوں نے اپنی خالص تعلیمات کو ایسا پراگندہ کر دیا تھا کہ آنے والی نسلوں کے لیے بھٹکنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا. بنی اسرائیل کی مثال جہاں سمجھنے کے لیے سب سے اچھی ہے عملی اعتبار سے اتنی ہی بری بھی ہے. ان کی ہر نسل میں انبیاء کا نزول ہوا اور پھر بھی وہ اپنی کتاب کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتے تھے. عیسی علیہ السلام کے نزول تک یہی ہوتا رہا کہ ایک نبی کی تعلیمات کو درست کرنے کے لیے دوسرا نبی بھیجا جاتا اور یہ لوگ پھر اسے تبدیل کر دیتے.
عیسی علیہ السلام کی جو بھی تعلیمات باقی بچیں ان میں آپ کو کثرت سے یہودیوں کے ربانیوں پر ان کے بار بار تعلیمات میں دروبدل کرنے پر سخت تنبیہ نظر آئے گی. ایسا لگتا ہے کہ عیسی علیہ السلام مفتیوں کے لیے بہت سخت تھے. وہ ان کے لیے سب سے برا خطرہ بن گئے تھی. اتنی مذمت انہوں نے رومیوں کی نہیں کہ تھی جتنی اسرائيلی امہ کی اندر پھیلے انتشار پر کی تھی.
اب آیت تئیس میں عام عوام کو یہ چیلنج دیا جا رہا ہے کہ لاسکتے ہو تو اس سے ملتی جلتی ہی کوئی سورہ لے آؤ *مِّن مِّثْلِهِ*. قرآن پاک میں کلی طور پر چھ بار یہی چیلنج دیا گیا ہے. اس آیت سے پہلے پانچ بار تب چیلنج دیا گیا جب آپ صلی الله علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے. مدینہ منورہ کے انتہائی ابتدائی دور میں جنگ بدر کے وقوع سے بھی قبل پہلی اور آخری بار یہ چیلنج دیا گیا تھا. یاد رہے کہ مسلمانوں کو جنگ کے لیے تیار کرنے والی سورہ بقرہ کی آیات بھی مکہ مکرمہ میں ہی نازل ہوئی تھیں. 

مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی ان آیات میں سے کچھ آیات ملاحظہ ہوں جہاں یہ چیلنج دیا گیا.

*أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ بَل لّا يُؤْمِنُونَ. فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ* سورہ الطور
وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پاس سے یہ باتیں گھڑی ہیں؟ نہیں. بلکہ سچ یہ ہے کہ وہ ایمان ہی نہیں لانا چاہتے. اگر ایسا ہے تو انہیں یہ چیلنج ہے کہ ایسی کوئی بات ہی لے آئیں جو الله کی بات سے ملتی جلتی ہو.

پوری سورہ کی بات نہیں کی گئی فقط ایک حدیث، ایک جملے جیسی بات لانے کا ہی چیلنج دیا گیا. کلمہ *حَدِیث* لفظ *حدث* سے نکلا ہے جس کا معنی ہے "کچھ نیا". تو انہیں کہا جا رہا ہے کی اگر آپ لوگ سچے ہیں تو اس جیسی کوئی ایک نئی بات ہی لے آئیں. 

جاری ہے........

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں