بدھ, مارچ 22, 2017

تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔ نعمان علی خان ۔۔ حصہ-32

تدبر القرآن
سورۃ البقرہ
نعمال علی خان
حصہ 32

قرآن میں جس طرح کلام کیا گیا، جو اندازِ گفتگو اپنایا گیا، وہ اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا گیا نہ سنا گیا. اس کلامِ پاک سے تمام اہلِ عرب نابلد تھے، ناواقف تھے. ایسا انداز بیاں نہ کسی نے اپنایا اور نہ ہی اس طرز کا مجموعہ کلام کوئی اس کی نقل کے طور پر ہی تحریر کر پایا. حضور صل اللہ علیہ والہ و السلام اپنی کچھ احادیث میں اللہ کی آیات کا حوالہ دیتے تھے مگر حضور نبی اکرم صل اللہ علیہ والہ و السلام کا اپنا اندازِ گفتگو، قرآن کے اندازِ بیاں سے نہایت مختلف تھا. یہ فرق نہایت واضح تھا. اور یہ نہایت حیرت انگیز ہے. اللہ تعالٰی نے ان لوگوں کو چیلنج کیا کہ وہ اس قرآن جیسا کوئی کلام بنا کے لے آئیں، اور ان دو چیلنجز کے بارے میں جو میں بات کرنے جا رہا ہوں وہ تمام تر قرآن کے متعلق تھا 

اللہ تعالٰی نے فرمایا
*قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ*

کہہ دو تمام تر انسانوں سے اور تمام تر جنات سے بھی کہ اگر وہ تمام مل جل کر بھی، متحد ہو کر بھی یہ کام کریں کہ قرآن جیسی کوئی چیز بنا کے لے آئیں *لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ* تو وہ اس کے قریب جیسی بھی کوئی چیز نہیں بنا پائیں گے. 

لیکن یہ چیلنج تمام تر قرآن کے متعلق تھا.
 *وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيراً*
 تب بھی جب وہ ایک دوسرے کی بھرپور مدد کریں،
 یعنی اگر تمام تر ذہین انسانوں کو اکٹھا کر لیا جائے اور تمام جنات کی مدد بھی حاصل کر لی جائے جن کی پہنچ آسمان تک ہے تب بھی تم اس قرآن کے نزدیک بھی کوئی چیز نہیں بنا سکتے. 

پھر آگے اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ
*أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ*
کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ کلام رسول اللہ نے خود سے گھڑ لیا ہے تو جاؤ تم اس جیسی دس سورۃ ہی بنا کے لے آؤ.
یہی کہتے ہو نہ تم کہ اگر ہم چاہیں تو اس جیسا کلام ہم بھی بنا لائیں، تو جاؤ لے آؤ ایسا کلام اور اللہ کے سوا ہر جن و انس کو اپنی مدد کے لیے بلا لاؤ.
جانتے ہیں جب آپ کسی کھلاڑی کو ٹی وی اسکرین پر نہایت اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے دیکھیں تو آپ کو لگتا ہے کہ یہ تو بہت آسان ہے یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں بس میں کرنا نہیں چاہتا مگر درحقیقت آپ ویسا کر ہی نہیں سکتے.
تو انہوں نے بھی یہی کیا کہ قرآن سنا تو بول اٹھے، ایسا کلام اگر ہم چاہیں تو ہم بھی بنا لائیں لیکن بس ہم یہ کرنا نہیں چاہتے. اللہ تعالٰی نے کہا کہ اگر یہ اتنا ہی آسان ہے تو ایسا ہی کلام تم بھی بنا لاؤ *وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّه* اور تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ چلو اس جیسی دس سورۃ ہی بنا کے پیش کر دو اور جس مرضی کو اپنی مدد کے لیے بلا لو جہاں تک تمہاری رسائی ہے، اللہ کے سوا ہر ایک کو اپنی مدد کو لے آؤ. اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو. تو جاؤ جہاں تک تمہاری پہنچ ہے سب سے مدد مانگ لو.
آگے اللہ تعالٰی نے چیلنج کو اور مشکل بنا دیا *ام یقولون افتراہ قل فائتو بسورۃ مثلہ وادعو من استطعتم من دون اﷲ ان کنتم صٰدقین* تو سورۃ یونس میں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ تم اس جیسی ایک سورہ ہی بنا کے کیوں نہیں لے آتے، صرف ایک سورۃ اور اس وقت تک نہایت مختصر سورۃ مبارکۃ جیسے سورۃ الکوثر بھی نازل ہو چکی تھیں.
*إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَر* فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ* إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ*
بس تین جملوں پر مشتمل ایک سورۃ، اور سورۃ العصر جیسی مختصر سورۃ بھی نازل ہو چکی تھی جو قرآن کے ایک ورق کے تیسرے حصے سے بھی مختصر سورۃ تھی
*وَالْعَصْرِ * إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ * إِلَّا الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ*
تم اس جیسی سورۃ بنا سکتے ہو تو جاؤ بنا کے پیش کرو، اور *وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّه* اور ہاں جہاں تک تمہاری پہنچ ہے جا کہ لے آؤ اپنے مددگار، اللہ کے سوا جس کو مرضی بلا لو اپنی مدد کو، اگر تم سچے ہو، اگر تم یہ کر سکتے ہو تو، پھر جاؤ بنا لو ایک ہی سورۃ بنا کے دکھا دو. 

یہ چیلنج پورا نہ کر سکنے کی بہت سی وجوہات تھیں. لسانیت اور ادبی معیار تو ان میں سے فقط ایک ہی وجہ تھی لیکن قرآن جن کی تاریخ کو موضوعِ گفتگو بنائے ہوئے تھا، اہلِ عرب اس تاریخ سے واقف ہی نہ تھے. بہت سے مغربی معلمین اور تعلیمی اداروں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآن ایک انسان کا تصنیف کردہ ہے. انہوں نے کہا کہ حضور صل اللہ علیہ والہ و السلام نے بائبل کے واقعات کو قرآن میں بدل دیا. کچھ قصے انہوں نے یونان کی تاریخ سے لیے کچھ ابو سینا سے، کچھ فلاں جگہ سے اور کچھ باتیں فلاں شخص سے لے قرآن میں شامل کیں اور جس وقت وہ یہ ثابت کرنے میں تھک گئے کہ قرآن کا کلام پیش کرنے کے لیے کن کن جگہوں سے تعلیمات شامل کیں، تو سوال درپیش آیا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام نے سفر کس قدر کیا؟ تعلیم کن اداروں سے حاصل کی؟ اور پچھلی آسمانی کتابوں کا علم انہیں کہاں سے ہوا. یہ ربط، یہ انداز انہیں کیسے حاصل ہوا کہ یہ حصہ یہاں سے لیا جائے اور اس سے آگے کلام یہاں سے جوڑا جائے. قرآن کے الفاظ میں جو ربط ہے، جس طرح قرآن کی آیات ہم قافیہ و ہم ردیف ہیں، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کلام انسانی نہیں، آسمانی ہے. یہ کلام کسی ایسے انسان کہ جانب سے ہو ہی نہیں سکتا جو تمام عمر صحرا میں رہا ہو، کبھی سمندر کا سفر نہ کیا ہو اور اس کو اس وقت کے بہترین علم تک رسائی حاصل ہو جائے. 

رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام مکہ مکرمہ میں تھے جب سورۃ یوسف نازل ہوئی، یہ قرآن کی 12 ویں سورۃ مبارکہ ہے. اس وقت حضور صل اللہ علیہ والہ و السلام کا یہود سے کوئی رابطہ نہ تھا. یہود اس وقت کہاں تھے؟ مدینہ منورہ میں. اور اس وقت آنحضرت محمد صل اللہ علیہ والہ و السلام پر سورۃ یوسف نازل ہوئی اور آپ کو یوسف علیہ السلام کی تمام تر زندگی کے بارے میں معلومات دے دی گئیں جو یہود کی نظر میں بہت اہم مقام رکھتے تھے. قرآن نے آ کر ان تمام تر اختلافات اور من گھڑت قصوں کو دور کیا جو یوسف علیہ السلام کے متعلق شامل کیے جا چکے تھے. اس وقت سامعین میں یہود نہیں تھے بلکہ اہلُِ عرب اس کلام کے سامعین تھے. اور ان کے ذہنوں میں یہ سوال تھا کہ یوسف؟ کون یوسف؟ ہم نے ان کے بارے میں کبھی نہیں سنا. قرآن کا بیشتر حصہ، حضرت موسی علیہ السلام کے متعلق گفتگو کرتا ہے اور اس وقت رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام کا یہود سے سامنا ہی نہ ہوا تھا. سورۃ طه مکی سورۃ ہے، سورۃ القصص مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ وہ تمام آیات جن کا تعلق یہود سے تھا وہ تب نازل ہوتیں جب رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام مدینہ تشریف لے آئے. لیکن سبحان اللہ و تعالٰی کہ ایسا نہیں ہے. تو جب رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و السلام مدینہ تشریف لائے تو وہ مدینہ آنے سے پہلے ہی یہود کی تعلیمات کو چیلنج کر چکے تھے. 

کچھ عرصہ پہلے میں ایک یہودی عالم کے ساتھ تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ مجھے موسی علیہ السلام کے متعلق بتائیے ان کا قصہ جو بھی آپ کو پتہ ہے کیونکہ یہود کی چار یا پانچ کتب میں حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے. ان کے پاس موسی علیہ السلام سے متعلق کثیر مواد موجود ہے تو میں نے پوچھا کہ موسی علیہ السلام پر وحی کا آغاز کس طرح ہوا؟ اس نے بتایا کہ "وہ سفر کر رہے تھے اور انہوں نے ایک آگ دیکھی". میں نے پوچھا "کیا وہ تنہا تھے؟" اس نے جواب دیا کہ نہیں، ان کے ساتھ ان کی بکری تھی. میں نے کہا کہ نہیں، ان کے ساتھ ان کی بکری نہیں تھی، وہ اپنی زوجہ کے ساتھ تھے. یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ پھر مجھے احساس ہوا کہ انہوں نے بکری کا ذکر کیوں کیا. کیونکہ حضرت موسی علیہ السلام کی نصف بہتر کا تعلق مدین سے تھا.، حضرت موسی علیہ السلام کی شادی کہاں ہوئی تھی؟ مدین میں، اور مدین عرب کا حصہ ہے. اور یہودیوں میں ethnicity، آپ کے خاندان کا نام والدہ کے نام پر ہوتا ہے. تو حضرت موسی علیہ السلام کے بچوں کی والدہ ایک عرب خاتون تھیں اور اگر یہود اس بات کو مان لیں تو موسی علیہ السلام کی نسل عرب ہے. تو یہ یہود کے لیے ایک مسئلہ تھا تو انہیں یہی بہتر لگا کہ وہاں بیوی کی جگہ انہوں نے بکری کا ذکر کر دیا جائے. قرآن نے آ کر ان کی اصلیت ظاہر کی جسے انہوں نے چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی.

جاری ہے۔۔۔۔
نعمان علی خان

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں