بدھ, دسمبر 13, 2017

آج کی بات


~!~ آج کی بات ~!~

’اگر آپ کے جذبات آپ کے قابو میں نہیں، اگر آپ کو خود آگہی نہیں، اگر آپ پریشان کن جذبات کو منظم نہیں کرسکتے، اگر آپ کے اندر شفقت نہیں، اگر آپ کے تعلقات استوار نہیں۔۔۔ تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنے ذہین ہیں، آپ زیادہ دُور نہیں چل سکیں گے!‘


ڈائلاگ (تعارف).. از عمر الیاس

Image result for diamond people
ڈائلاگ (تعارف)

“آپ کیا کرتے ہیں؟”

“ہیرے چُنتا ہوں۔”

“کیسے چُن لیتے ہیں ہیرے؟”

“نظر آ جاتے ہیں۔ مِل جاتے ہیں، دِکھا دیے جاتے ہیں۔”

“پر پہچانتے کیسے ہیں آپ اُنھیں؟”

ہیرا پہچاننا نہیں پڑتا۔ اُسکی چمک، دمک سب بتا دیتی ہے۔ اور، محض اُسکی موجودگی ہی سب کُچھ سجا دیتی ہے۔  سب سے بڑی خصوصیت، جو اُسے ہیرا بناتی ہے، اُسکی مضبوطی ہے۔ ہر طرح کا دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت۔ ہر ہیرا منفرد ہوتا ہے۔ بہت ہی خاص۔ قیمتی۔ کم یاب۔ نایاب۔ اُسکی شفافیت……… “۔

آپ تو یوں بتا رہے ہیں، جیسے وہ کوئی انسان ہو۔ جیتا جاگتا۔ جیسے آپکا کوئی دوست ہو ” ۔”

”   بتایا تھا ناں۔ ہیرے چُنتا ہوں۔” :)

منگل, دسمبر 12, 2017

موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

Image result for holy kaaba and masjid aqsa
 خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹرعبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 20 ربیع الاول 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " موسمیاتی تبدیلیاں اور بیت المقدس" ارشاد فرمایا انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ، دن رات کا آنا جانا اور گرمی سردی یہ سب کچھ اللہ کی نشانیاں ہیں اور اللہ تعالی کے محکم نظام اور دستور کے مطابق ایک وقت تک چلتا رہے گا، اس نظام  میں صرف مشیت الہی کار گر ہے، کسی  دوسرے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ آخر میں انہوں نے بیت المقدس کے متعلق کہا کہ یہ ہر کلمہ گو مسلمان کی جگہ ہے اور مملکت سعودی عرب اپنے دو ٹوک موقف پر قائم ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، اس کے بعد انہوں نے جامع دعا کروائی۔

خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:

"یقیناً تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں جس کے حکم سے زمانہ چل رہا ہے، اسی کے حکم سے صدیاں تسلسل کے ساتھ گزرتی جا رہی ہیں، وہی رات کو دن پر اور دن کو رات پر غلاف بنا دیتا ہے، اسی نے سورج کو ضیا اور چاند کو منور بنایا، اسی نے ان کی منزلیں بنائیں تا کہ تم سالوں کا اور دیگر امور کا حساب رکھ سکو، میں اسی کی حمد بیان کرتا ہوں وہی ثنا اور تعریف کا اہل ہے، میں اس کی بے شمار اور لا تعداد نعمتوں پر شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ نے لوگوں کو رضائے الہی کی دعوت دی، اللہ تعالی نے آپ کو ہدایت اور دین اسلام دے کر بھیجا تا کہ تمام ادیان پر اسلام کو غالب کر دے، چاہے یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار گزرے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام ،آپ کی ہدایات اور سنتوں پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

اللہ کے بندو!

میں تمہیں اور اپنے آپ کو خلوت اور جلوت میں تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ تقوی ہی فانی دنیا میں باعث نجات اور سرمدی آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔

مسلم اقوام!

زمانے کے آنے جانے ، موسموں اور مہینوں کے گزرنے اور دن رات کے تسلسل میں نصیحتیں، عبرتیں، یاد دہانیاں اور نشانیاں ہیں
 {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} 
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور شب و روز کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔[آل عمران: 190]

اللہ کے بندو!

سال کے بدلتے موسم ، جھلسا دینے والی گرمی اور ہڈیو میں گھس جانے والی سردی ؛ یہ سب کچھ اللہ تعالی کی حکمت اور منصوبہ بندی کے تحت معینہ مدت تک کے لیے ہے۔

آپ سب موسم سرما میں داخل ہو چکے ہو، یہ مومنوں کی بہار ،متقی اور عبادات گزاروں کے لیے گلزار ہے، محنت کرنے والوں کے لیے میدان عمل بھی ہے، اللہ تعالی نے ان ایام کی راتوں کو قیام کرنے والوں کے لیے لمبا کر دیا ہے چنانچہ ان کی حالت یہ ہے کہ: 
{ قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ (17) وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ} 
وہ رات میں کم ہی سوتے ہیں [17] اور سحری کے وقت میں استغفار کرتے ہیں۔[الذاريات: 17، 18]

نیز ان دنوں کو اللہ تعالی نے روزہ رکھنے والوں کے لیے مختصر بنا دیا ؛ جس کی وجہ سے کامیابی کے متلاشی لوگوں کے لیے یہ کسی غنیمت سے کم نہیں، لہذا ان میں بڑھ چڑھ کر روزے رکھنے چاہییں،
{وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا}
 اور وہی ذات ہے جس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا، اس کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے یا شکر گزار بننا چاہتا ہے۔[الفرقان: 62]

اس لیے تم بھی اپنے لیے نیکیاں کرو اور اللہ سے ڈرو، تا کہ تم پر بھی رحم کیا جائے، نیز ایسے قیمتی مواقع ضائع مت کرو؛ کیونکہ تم سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

جب تمہارے حق میں ہوائیں چلیں تو انہیں غنیمت سمجھو؛ کیونکہ ہوا نے لازمی تھمنا ہے۔ان موقعوں میں عمدہ کارکردگی سے غافل مت رہنا؛ کیونکہ نہیں معلوم کہ کون سی گھڑی سراپا سکون بن جائے

اللہ کے بندو!

لوگ گرمی کی لو اور تپتی دھوپ سے بچتے ہیں تو اسی طرح سردی کی یخ بستہ ہواؤں سے بچنے کے لیے موٹے لباس اور چادریں اوڑھ لیتے ہیں، اس بدلتی صورت حال میں عقلمندوں کے لیے بہت بڑی نصیحت اور عبرت ہے؛ کیونکہ تڑاکے کی گرمی اور شدید سردی جہنم کے دو سانسوں کی وجہ سے ہوتی ہے، جیسے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب شدید گرمی ہو تو نماز کو قدرے ٹھنڈے وقت میں پڑھو؛ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لو کی وجہ سے ہے) نیز ایک اور حدیث میں ہے کہ: (جہنم نے اپنے پروردگار کو شکایت کی اور کہا: "پروردگار! میرا وجود ایک دوسرے کو کھا رہا ہے" تو اللہ تعالی نے جہنم کو دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردی میں اور دوسرا سانس گرمی میں، تو جو شدت کی گرمی یا سخت ترین سردی محسوس کرتے ہوئے اسی وجہ سے ہوتی ہے) متفق علیہ

تو اللہ کے بندو! تمہارا اس جہنم کے بارے میں کیا تصور ہے؟ یہ جہنم اللہ تعالی کی دہکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی، اس آگ سے انتہائی بڑے بڑے شعلے نکلیں گے ان کا حجم بڑے بڑے محلات جتنا ہو گا، ان کا رنگ زرد سیاہی مائل اونٹوں جیسا ہو گا، یہ آگ گوشت اور ہڈی کسی چیز کو نہیں چھوڑے گی بلکہ چمڑی کو تباہ کر کے رکھ دے گی، 

اس آگ کو ہزار سال بھڑکایا گیا کہ اس کا رنگ سرخ ہو گیا، پھر مزید ہزار سال اسے جلایا گیا تو وہ سفید ہو گئی اور اس کے بعد بھی مزید ہزار سال دہکایا گیا تو اس کا رنگ سیاہ ہو گیا، تو اب یہ آگ کالی سیاہ ہے، اس کے انگارے روشنی نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے شعلے بجھتے ہیں، اس لیے اس آگ سے بچ جاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔

مسلم اقوام!

نظام کائنات ایک محکم دستور کے مطابق چل رہا ہے، اللہ تعالی کے فیصلے اس دستور میں اٹل ہوتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی ان فیصلوں کے ذریعے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے، اور جسے چاہتا ہے نقصان پہنچا دیتا ہے، تو در حقیقت یہ ساری کائنات اللہ تعالی کی مشیت کے تابع ہیں، اس کائنات میں کسی بھی چیز کی کوئی مرضی ، یا تدبیر نہیں چلتی ، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ} 
یہی ہے تمہارا پروردگار اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور جنہیں تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ تو قطمیر کے بھی مالک نہیں ہیں۔[فاطر: 13]

چنانچہ اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کی طوفان کے ذریعے مدد فرمائی اور اسی طوفان سے ان کی قوم کو غرق کر دیا، ایمان والوں کو آپ کے ساتھ بچا لیا۔

ایسے ہی اللہ تعالی نے سمندر میں موسی علیہ السلام کو گزار کر فتح یاب فرمایا اور فرعون وہیں پر اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہو گیا۔

اسی طرح اللہ تعالی نے ہود علیہ السلام کی قوم کو تیز آندھی کے ذریعے تباہ کیا؛ یہ ایسی تباہ کن اندھیری تھی کہ جس چیز سے گزرتی تو اسے بوسیدہ بنا ڈالتی۔

ایسے ہی صالح علیہ السلام کی اللہ تعالی نے مدد فرمائی تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کی قوم کو ایک چیخ کے ذریعے تباہ کر دیا اور وہ کھڑے ہونے کی صلاحیت بھی نہ رکھ پائے نہ ہی اور کوئی ان کی مدد نہیں کر سکا۔

اس لیے اس کائنات میں رونما ہونے والی تمام تر تبدیلیاں اللہ تعالی کے ہاتھ اور اختیار میں ہیں ، نیز ان اختیارات میں اس کا کوئی شریک بھی نہیں۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ:
 {وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ}
 اور اللہ تعالی کے لیے ہی ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ تعالی کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔[النور: 42]

اللہ کے بندو!

سردی میں یخ بستہ موسم مشقت کا باعث ہے، چنانچہ اس مشقت کو شرعی احکام نے نظر انداز نہیں کیا، بلکہ سردی کے پیش نظر جرابوں پر مسح کرنے کی رخصت عطا فرمائی، بلکہ پانی سے وضو کرنے میں نقصان کا خدشہ ہو تو تیمم کی اجازت بھی دی، اسی طرح اگر قحط سالی ہو تو بارش کے نماز استسقا بتلائی اور ضرورت پڑے تو بارش تھمنے کی دعائیں بھی سکھلائیں۔

ان تمام امور سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مشقت پیدا ہو رہی ہو تو وہاں قدرے آسانی والے احکامات لاگو ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے دینی معاملات میں تشدد نہیں رکھا، تاہم یہ بھی واضح ہے کہ یہ رخصتیں عیاشی اور آوارگی کے لیے نہیں ہیں۔

اللہ تعالی نے اپنے نبی کے لیے کرۂ ارضی کا درمیانی خطہ اس لیے اختیار فرمایا کہ یہاں جنوبی قطب کی انتہا درجے کی گرمی بھی ہے اور شمالی قطب کی یخت بستہ سردی بھی، ان زمینی حقائق کا تقاضا یہ تھا کہ یہاں کے لوگ طبعی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ اپنے آپ کو ڈھال لیں، اور پھر گرم یا سرد دونوں قسم کے خطوں میں جا کر اسلام کا پیغام پہنچائیں۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو سخت گرمی اور سردی دونوں کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دلاتے تھے، بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی تربیت بھی دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تاکید فرماتے کہ جتنی محنت اتنی اجرت پاؤ گے، کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑے گا، جنت کو مشقتوں سے گھیرا گیا ہے جبکہ جہنم کو شہوتوں سے گھیرا گیا ہے، نیز ناز و نخرے کے ساتھ نعمتیں نہیں ملتیں۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے ہم پر بے شمار نعمتیں کی ہیں، ہم پر ظاہری اور باطنی نعمتوں کے دریا بہا دئیے ہیں، یہ سب اللہ تعالی کا کرم، فضل اور رحم ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے اس لیے ہمیں اپنے آپ کو آسانی ہو یا مشکل ، تنگی ہو یا فراخی، خوش حالی ہو یا بد حالی ہر حال میں صرف اسی کی اطاعت کے لیے مگن کرنا ہو گا۔

یہ بھی ہم پر لازمی ہے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کو اسی کی اطاعت میں استعمال کریں، ہم کوشش کریں کہ ان نعمتوں کو اللہ تعالی کی رضا مندی کے لیے معاون بنائیں، تا کہ یہ چیزیں ہمارے جنت میں جانے کا باعث بن جائیں۔

اللہ کے بندو!

نیکی کرنے والے کو بری موت سے بچا لیا جاتا ہے۔ آزمائشوں اور بلاؤں کو ٹالنے کا سب سے کار آمد ذریعہ اور برکت و اضافے کا سبب یہ ہے کہ غریب لوگوں کی غم خواری کریں؛ خصوصاً ایسے وقت میں جب سردی کا موسم آ چکا ہو؛ 
اس لیے اپنے ضرورت مند بھائیوں کی خبر گیری کریں، سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں اور عزیزوں کی خبر لیں، پھر اپنے پڑوسیوں کو دیکھیں، اپنے ہم وطنوں کا خیال کریں، اور پھر اس طرح جو قریب تر ہو اس کی مدد کریں۔ نیکی کے اس کام میں کسی بھی چھوٹی نیکی کو حقیر مت جانیں۔

مسلم اقوام!

اپنے ملک اور دیگر اسلامی ممالک کا دفاع یقینی طور پر اسلام ، مسلمانوں اور مسلمانوں کے مال و جان کا دفاع ہے، سب مسلمان ایک عمارت کی مانند ہیں، سب مسلمان ایک امت اور ایک جان ہیں، اگر اس جان کے کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم ہی بخار اور بے خوابی کی سی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

اس لیے مسلمانوں کے کسی بھی حصے اور ملک کے خلاف کوئی بھی جارحانہ اقدام تمام کے تمام مسلمانوں کے حقوق کی پامالی ہو گی، اور بیت المقدس نزول وحی کی جگہ ہے، یہاں انبیائے اور رسول مبعوث ہوئے، یہ مسلمانوں کا قبلہ ہے ایک مدت تک مسلمان بیت المقدس کی جانب متوجہ ہو کر نماز ادا کرتے رہے ہیں، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے اسرا ہے، یہاں آپ کا محراب ہے جہاں آپ نے انبیائے کرام کی امامت کروائی، 
{سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ}
 پاک ہے وہ جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے اردگرد ہم نے بہت برکت رکھی ہے، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ [الإسراء: 1]

ہم اللہ تعالی کے وعدوں پر مطمئن ہیں؛ اس لیے دشمن جس قدر بھی مسلط ہو جائیں، فتح ڈٹ جانے والے مؤمنوں کی ہم نوا ہو گی، اور بیت المقدس کا رب اس کی ضرور حفاظت فرمائے گا،
 {وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (105) إِنَّ فِيْ هَذَا لَبَلَاغًا لِقَوْمٍ عَابِدِيْنَ}
 ہم زبور میں پند و نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے[105] بیشک اس میں عبادات گزاروں کے لیے واضح پیغام ہے۔ [الأنبياء: 105 -106]

یا اللہ! بیت المقدس شریف کی حفاظت فرما، یا اللہ! بیت المقدس اسلام اور مسلمانوں کے حوالے فرما، یا اللہ! بیت المقدس اسلام اور مسلمانوں کے حوالے فرما، یا اللہ! بیت المقدس کو مکاروں کی مکاری اور غاصبوں کی جارحیت سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ! اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔ یا اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا۔

آمین یا رب العالمین!!


جمعہ, دسمبر 08, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 08 دسمبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

ہر عمل ایک ردّعمل رکھتا ہے، مطالعہ بھی اور صحبت ِدوست بھی۔
غلط نظریات کا مطالعہ بھٹکا سکتا ہے۔
ہر کتاب یا تحریر پڑھنے کی نہیں ہوتی نہ ہر شخص کی صحبت استفادے کی ہوتی ہے۔



معزز و مکرم

No automatic alt text available.

معزز و مکرم
از نمرہ احمد (حسنِ انجام)

"کیسے مکرم ہوتے ہیں وہ لوگ جو منہ اندھیرے فجر کی نیلی چھایا میں مسجد کے منبر پہ کھڑے ہو کر اذان بلند کرتے ہیں. دنیا ان کو ملا کہے یا مولوی ، میں ان کو مکرم اور معزز کہتی ہوں. یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے بندوں کو اپنے گھر کی طرف بلانے پر مامور کیا..."

پیر, دسمبر 04, 2017

اتوار, دسمبر 03, 2017

محمد مسکراتے تھے ( صلی اللہ علیہ وسلم)


محمد مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے
وہ اتنے خوب صورت
صاف ستھرے
نکھرے نکھرے
پیارے پیارے تھے
کہ جب بھی ، مسکراتے تھے
تو انکے موتیوں سے دانت
جھلمل جھلملاتے تھے
محمد مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے

گلی میں کھیلتے بچوں سے
خود جا کر ، ملا کرتے
وہ ان سے کھیلتے تھے
گود میں لیتے
ہنساتے تھے
وہ ان کو گدگداتے تھے
کمر پر لاد کر اپنی
سواری بھی کراتے تھے
محمد مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے

وہ کہتے تھے
کہ بچے پھول ہیں ،
جگنو ہیں ،خوشبو ہیں
انہیں نرمی ، محبت سے سکھاتے تھے،
دعا دیتے،
انھیں جو کچھ سکھاتے تھے
وہ خود کر کے ، دکھاتے تھے
محمد مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے

وہ جب باہر سے آتے
اونٹ پر ہوتے یا گھوڑے پر
تو اپنے راستے میں 
کھیلتے بچوں کے
 خود ہی پاس جاتے تھے
وہ سب کو باری باری
 اپنے گھوڑے پر بٹھاتے تھے
انہیں جھولا دلاتے تھے
محمد مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے

وہ جب بھی دیکھتے
بچوں کے
منہ اور ہاتھ میلے ہیں
تو ان کو گود میں لے کر
وہ ان کا منہ دھلاتے تھے
وہ ان کو چومتے تھے اور،
پاس اپنے بٹھاتے تھے
کوئی چیز ان کے پاس آتی
تو بچوں سے شروع کرتے
انہیں وہ سب سے پہلے دے کے
اوروں کو کھلاتے تھے
محمد مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے

محمد کی طرح میں بھی
ہمیشہ مسکراوں گا
میں جب جنت میں ان سے خود ملوں گا ،
یہ بتاؤں گا
مجھے ان سے محبت ہے
میں ان سے پیار کرتا ہوں
کہ جب میں چھوٹا بچہ تھا
تو اپنے دل میں ان کو سوچتا تھا
یاد کرتا، مسکراتا تھا
کہ تب ہر رات کو
سونے سے کچھ پہلے
مجھے ابو بتاتے تھے
محمد مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے۔
(صلی اللہ علیہ وسلّم) 

قدسیہ جبیں اُم عمار

ہفتہ, دسمبر 02, 2017

اللہ تعالی کی عظیم نعمت: پانی.. خطبہ جمعہ مسجد نبوی

Image result for water Allah blessing
خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے13-ربیع الاول-1439  کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "اللہ تعالی کی عظیم نعمت: پانی" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  میں انہوں نے  کہا کہ  اللہ تعالی ہر وقت لوگوں پر نعمتیں برساتا ہے لیکن پھر بھی اس کی نعمتوں میں کمی نہیں آتی، انہیں نعمتوں میں  پانی بھی شامل ہے جو ہماری زندگی کے ہر لمحے کے لیے از بس ضروری ہے، اللہ تعالی بارش کے ذریعے  بنجر زمین کو آباد کر دیتا ہے  یہ اللہ تعالی کے خالق اور حقیقی معبود ہونے کی دلیل ہے، بلکہ مرنے کے دوبارہ جی اٹھنے کا عملی نمونہ بھی ہے۔

خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے

مسلمانو!

اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر ظاہری اور مخفی نعمتوں کے دریا بہا دئیے ہیں، اللہ کے دونوں ہاتھ  جود و سخا کے لیے کھلے ہیں، وہ دن رات عنایت کر رہا ہے، ان عنایتوں سے اس کے خزانوں میں کمی نہیں آتی، اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو ایک ایسی نعمت بھی دی ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں، اللہ تعالی اپنی خاص حکمت کے مطابق اس نعمت کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے پیدا فرماتا ہے تا کہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں، تو فرشتوں کو حکم دیتا ہے وہ  ہوائیں کر بادلوں کو ہانکتے ہیں، پھر قطروں کی شکل میں بارش ہوتی ہے تا کہ لوگ اس نعمت سے مستفید ہوں، 
{أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ}
 کیا آپ نے دیکھا نہیں  اللہ تعالی بادلوں کو چلاتا ہے پھر انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ  بنا دیتا ہے، پھر بارش کے قطرے ان کے درمیان سے نکلنے لگتے ہیں۔[النور: 43]

اللہ تعالی نے اس نعمت کو آسمان سے نازل فرمایا تا کہ لوگ  خود اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں اور اس کی طلب دلوں میں پیدا ہو پھر بارش ہونے کے بعد اللہ کا شکر بھی کریں۔

اس نعمت کو اللہ تعالی نے اپنی ربوبیت کے دلائل میں شامل فرمایا اور کہا:
{أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ}
 کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم پانی کو بنجر زمین کی طرف ہانک لاتے ہیں جس سے ہم کھیتی پیدا کرتے ہیں تو اس سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی کھاتے ہیں۔ پھر کیا یہ غور نہیں کرتے۔ [السجدة: 27]

بارش کی صورت میں پانی کا نزول غیب میں شامل ہے، چنانچہ بارش برسنے کا حتمی علم ، مقدار اور حاصل ہونے والے فوائد اللہ تعالی ہی جانتا ہے، بلکہ بارش کا نزول مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل بھی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنَّكَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ}
 اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین سونی (بے آباد) پڑی ہوئی ہے۔ پھر ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے اور پھل پھول جاتی ہے۔ جس (اللہ) نے اس زمین کو زندہ کیا وہ یقیناً مردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے ؛ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے [فصلت: 39]

چونکہ پانی ایک عظیم نعمت ہے اس لیے بارش ہونے سے پہلے اللہ تعالی بارش کی خوش خبری دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ}
 وہی تو ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پیشتر ہواؤں کو خوش خبری کے طور پر بھیجتا ہے [الأعراف: 57]

بارش آنے پر زمین بھی لہلہا اٹھتی ہے، اور اپنی خوبصورتی سب کے لیے عیاں کر دیتی ہے،  جس کی وجہ سے آنکھیں بھی دنگ رہ جاتی ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ}
 پھر جب ہم اس پر بارش برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے ، پھلتی پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے [الحج: 5]

اللہ تعالی نے پانی کو بے رنگ پیدا کیا، اس کا کوئی ذائقہ نہیں بنایا، بارش کے پانی کی بو نہیں ہوتی۔ ایک زمین پر ایک ہی پانی برستا ہے لیکن اس سے پیدا ہونے والے باغات  میں انگور، فصلوں، کھجوروں، کئی تنوں والے یا ایک تنے والے درخت ہوتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے بڑھ کر ہوتا ہے، کچھ میٹھے تو کچھ کڑوے، کسی میں بیماری تو کوئی شفا کا باعث ہوتا ہے۔

پانی  کو ہر جگہ اور زمانے میں پانی ہی کہتے ہیں، پانی اللہ تعالی اتنی لطیف تخلیق ہے کہ انسان کے رگ  و پے میں شامل ہو جاتی ہے ، لیکن اتنی طاقتور بھی کہ وادیوں کو پاٹ دے، پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچ جائے، پانی اللہ تعالی کی بہت عظیم مخلوق ہے اگر اللہ تعالی اسے عذاب بنا کر نازل کر دے تو اسے اللہ کے سوا کوئی رفع نہیں کر سکتا ہے۔

اللہ تعالی نے پانی کو بابرکت بنایا  ہے چنانچہ معمولی  سے قطرے بھی زمین اور اہلیان زمین کی زندگی کو جلا بخشتے ہیں، اور وادیاں بہ پڑتی ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا}
 اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل فرمایا۔[ق: 9]

اسی پانی کے ذریعے اللہ تعالی تمام فصلوں کو پیدا فرماتا ہے،
 {فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ}
 پس ہم نے اس کے ذریعے تمام پھل پیدا کئے۔[الأعراف: 57]

اللہ تعالی نے وضو کے دوران پانی کو گناہ دھونے والا قرار دیا ، آپ صلی الہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب کوئی مسلمان یا مومن بندہ  وضو کرتے ہوئے اپنا چہرہ دھوئے  تو اس کے چہرے کے تمام گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں جن کی جانب اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے۔) حتی کہ حدیث کے آخر میں ہے: ( یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے) مسلم

پانی اللہ تعالی کی انتہائی تعجب خیز نشانی ہے، زیر زمین اس کے راستے اللہ تعالی ہی جانتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ}
 اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت زمین میں چلایا ۔[الزمر: 21]

پانی کی نعمت  بڑی آسانی سے مل جاتی ہے، اللہ تعالی میٹھے پانی کو چٹانوں اور مٹی کے درمیان سے  نکالتا ہے، اگر مخلوق  اللہ تعالی کی نافرمانی پر اتر آئے تو انہیں پانی سے محروم کر دیتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِمَاءٍ مَعِينٍ} 
آپ کہہ دیجیے ! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لئے نتھرا ہوا پانی لائے ؟ [الملك: 30]

تو جس طرح بارش کے چھوٹے چھوٹے قطرے لوگوں کے دلوں کو بھاتے ہیں یہ کبھی کبھار اللہ کے حکم سے عذاب بھی بن جاتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی نے  اسی پانی کے ذریعے ایسی اقوام کو بھی غرق کیا جنہوں نے اللہ سے رخ موڑا، بلکہ سابقہ امتوں میں سب سے پہلے عذاب ہی پانی کا آیا تھا، چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ (9) فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ (10) فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ (11) وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ }
 ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا  [9] تب انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد فرما [10] تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے۔  [11] اور زمین کو پھاڑ کر ہم نے کئی چشمے بہا دیئے۔ (نیچے اور اوپر کا) پانی ایک ایسے کام  کے لئے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھا۔   [القمر: 9 - 14]

اللہ تعالی نے اسی پانی کو غزوہ بدر میں مومنوں کے لیے فتح کا باعث بنایا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: 
{إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ}
 اور (وہ وقت یاد کرو) جب اللہ نے اپنی طرف سے تمہارا خوف دور کرنے کے لئے تم پر غنودگی طاری کر دی اور آسمان سے تم پر بارش برسا دی تاکہ تمہیں پاک کر دے، اور شیطان کی (ڈالی ہوئی) نجاست تم سے دور کر دے، اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور تمہارے قدم جما دے [الأنفال: 11]

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!

پانی اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے اور اللہ تعالی پر ایمان لانا اس نشانی کا تقاضا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ}
 اور ہم نے پانی سے ہر چیز زندہ بنائی۔ [الأنبياء: 30]

پانی اللہ تعالی کی طرف سے عظیم احسان ہے، جو کہ ہر وقت اور ہر جگہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے، اس لیے ہمیں اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کے خالق  کی اطاعت گزاری کرنی چاہیے، نیز اللہ تعالی کی اس عنایت پر گھمنڈ میں نہ رہیں ،  پانی کے استعمال میں اسراف سے بچیں، اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اسے استعمال میں لائیں۔



منگل, نومبر 28, 2017

آج کی بات ۔۔۔ 28 نومبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~

"خواب ہمیشہ خواب ہی رہتا ہے،
 فرق یہ ہے کہ کچے ذہنوں پر یہ لوحِ محفوظ کی صورت رقم ہو جاتا ہے اور بیدار اذہان پر زندگی کا ایک قیمتی سبق، ہمیشہ کا سرمایہ بن کر رخصت ہو جاتا ہے۔"

نورین تبسم

خود میں تبدیلی ۔۔۔ استاد نعمان علی خان ۔۔۔ساتواں حصہ

خود میں تبدیلی (Self- Transformation)
استاد نعمان علی خان
ساتواں حصہ

‎صحابہ کرام کہتے ہیں کہ جب وہ رسول الله ‎صلی الله علیہ وسلم کی صحبت میں بیٹھے تھے تب سورہ جمعہ نازل ہوئی.رسول الله صلی اللە علیہ وسلم نے اس کی تلاوت شروع کی اور جب انہوں نے یہ تلاوت کی کہ *ابھی دوسرے ان سے نہیں آ کر ملے* تو صحابہ کرام نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ دوسرے کون ہیں؟ تو رسول اللە صلی اللە علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کی طرف دیکھا.... 
‎اس سے پہلے کہ میں آپ کو بتاؤں کہ رسول اللە نے آگے کیا فرمایا میں پہلے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ سلمان فارسی کون تھے. ان کا نام سلمان فارسی تھا.وہ فارس سے تھے. ان کا تعلق آتش پرستوں کے ایک کٹر مذہبی خاندان سے تھا. انہوں نے اپنے مذہب سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دیا. انہیں ایک سچے معبود کی تلاش تھی. اپنے آبائی مذہب کو چھوڑنے کی پاداش میں انہیں قیدی بنایا گیا اور مختلف طرح کی ایذا رسائی دی گئی یہاں تک کہ وہ قید سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور ایک عیسائی راھب کی سرپرستی میں پہنچ گئے.اس راھب نے انہیں عیسائیت کی تعلیم دینی شروع کی اور آخری نبی کے ظہور کی نشانیاں بھی بتائیں کہ آخری رسول مدینہ منورہ میں تشریف لائیں گے تو حضرت سلمان فارسی نے سوچا کہ انہیں تو پھر مدینہ جانا چاہیے.
‎تو وہ آخری نبی صلی الله علیہ وسلم کی تلاش میں نکل پڑے اور رستے میں کسی گروہ کے ہاتھ لگ کر قیدی بنا لیے گئے اور ایک غلام کی حیثیت سےمدینہ لے جائے گئے. وہ وہاں رسول الله کی آمد کے انتظار میں وقت بتاتے رہے اور جب رسول الله مدینے تشریف لائے تو سلمان فارسی نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں اپنی کہانی بتائی کہ وہ رسول الله کی تلاش میں کیسے یہاں تک پہنچے. 
‎یہ ایک ایسے انسان کی آپ بیتی تھی جو ایک انتہائی دور دراز کے مختلف خطے سے تعلق رکھتا تھا جہاں اسلام کا نام و نشان تک نہ تھا نہ ہی اسلام کی کوئی خیر خبر ہی پہنچی تھی. وہ انسان اپنے دم پر، اپنی سوچ پر بھروسا کر کے حق کی تلاش میں نکلا اور آخر کار صحابہ رسول الله صلی اللە علیہ وسلم کہلایا.
‎واپس اپنی بات پر جاتے ہیں کہ صحابہ رسول ان سے سوال پوچھتے ہیں کہ وہ دوسرے کون لوگ ہیں؟ رسول الله صلی اللە علیہ وسلم حضرت سلمان فارسی کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں "اگر عقیدہ کسی دوسرے سیارہ پر ہی کیوں نہ ہوتا ان(سلمان فارسی) جیسے لوگ اس تک پہنچ جاتے."
‎ایسے بہت لوگ ہوں گے جو حق کی تلاش میں نکلیں گے خواہ اسلام سے کوسوں دور ہوں، جنہیں کلمہ طیبہ کا ذرا بھی علم نہ ہو، نہ ہی عربی زبان سے اور نہ کسی مسلمان سے کوئی واقفیت ہو، نہ انہیں قرآن نہ ہی وحی کے بارے کچھ علم ہو انہیں حق کی تلاش ہے تو وہ لوگ الله تک پہنچ کر رہیں گے. رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آیت میں ایسے لوگوں کے بارے میں ذکر ہے.
‎دوسرے الفاظ میں انقلابی تبدیلی صرف اسی نسل، قوم تک محدود نہ رہی۔ جب رسول اللە صلی اللە علیہ وسلم سلمان فارسی کی طرف اشارہ کر ہے تھے درحقیقت وہ ہم سب کی طرف اشارہ کر رہے تھے. وہ ہماری تبدیلی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے. اب یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس تبدیلی کو لانے کی کتنی کوشش کرتے ہیں۔

‎مختصراً میں آپ کو یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ خود کو تبدیل کرنے کے اس نظریے کے متعلق بس میری ہوائی باتیں سنیں بلکہ میں آپ کو بتانا چاہوں گا کہ میں نے خود بھی اسے اپنا مشن بنا لیا ہے کہ میں اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تبدیل کرنا چاہتا ہوں. 

جاری ہے۔۔۔

اتوار, نومبر 26, 2017

کیسی محبت؟؟ (اقتباس)


یہ کیسی محبت ہے کہ ہم دنیا کو دکھانے کے لیے تو جلسے اور جلوس کرتے ہیں لیکن جن سے محبت کا اس طرح سے اظہار کرتے ہیں نہ اُن کے کہے پر عمل کرتے ہیں اور نہ اُن کا طریقہ اپناتے ہیں ؟ ہم سوائے اپنے آپ کے کس کو دھوکہ دے رہے ہیں ؟ کیا یہ منافقت نہیں کہ ہم جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمارا عمل اس سے مطابقت نہیں رکھتا ؟

افتخار اجمل بھوپال

"استغفار،،، اہمیت، آداب اور مسنون الفاظ" ... خطبہ جمعہ مسجد نبوی

خطبہ جمعہ مسجد نبوی
ترجمہ: شفقت الرحمان مغل

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 06 ربیع الاول 1439 کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "استغفار،،، اہمیت، آداب اور مسنون الفاظ" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ کہا: نیکیوں کے طریقے اور انداز بہت زیادہ ہیں چنانچہ ان میں سے ایک استغفار بھی ہے جو کہ آدم، حوا، نوح، ابراہیم، موسی، داود علیہم السلام اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سمیت تمام انبیائے کرام کی عادت مبارکہ ہے، نبی ﷺ سے استغفار کیلیے متعدد الفاظ ثابت ہیں، استغفار نیک لوگوں کی امتیازی صفت ہے، بخشش اور توبہ ایسی نیکیوں میں شامل ہے جن کی قبولیت کا وعدہ اللہ تعالی نے کیا ہوا ہے۔

خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے

مسلمانو!

اللہ تعالی نے فضل و کرم اور جود و سخا کرتے ہوئے ہمارے لیے نیکی اور عبادات کے بہت سے دروازے کھول رکھے ہیں، مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمان نیکی کے کسی بھی دروازے سے داخل ہو کر اطاعت گزار بنے ؛ اس کے بدلے میں اللہ تعالی دنیا و آخرت سنوار کر درجات بلند فرما دے، چنانچہ اللہ تعالی اسے دنیا میں سکھ و سعادت والی زندگی بخشے گا، اور مرنے کے بعد دائمی نعمتیں اور رضائے الہی حاصل کرے گا، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ}
 نیکیوں کی طرف بڑھ چڑھ کر حصہ لو، تم جہاں بھی ہو گے اللہ تعالی تم سب کو اکٹھا کر لے گا، بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔ [البقرة : 148]

نیز اللہ تعالی نے تمام لوگوں کے لیے نمونہ و قدوہ بننے والے انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام کے بارے میں فرمایا:
 {إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ}
بیشک وہ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے، اور وہ ہمیں امید اور خوف کے ساتھ پکارتے اور ہم سے خوب ڈرتے تھے۔ [الأنبياء : 90]

نیکیوں میں اضافے اور گناہوں کو مٹانے کا ایک طریقہ استغفار ہے، چنانچہ بخشش کی دعا انبیاء و المرسلین علیہم الصلاۃ و السلام کی عادت مبارکہ ہے، اللہ تعالی نے بشریت کے والدین -ان دونوں پر اللہ کی طرف سے سلامتی، رحمتیں، اور برکتیں نازل ہوں-کے بارے میں فرمایا: 
{قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ}
[حوا اور آدم ] دونوں نے کہا: ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا، اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ [الأعراف : 23]

اور نو ح علیہ السلام کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایا:
 {رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ }
 میرے پروردگار! مجھے ، میرے والدین، اور میرے گھر میں داخل ہونے والے مومن مرد و خواتین تمام کو بخش دے۔[نوح : 28]

اور ابراہیم علیہ السلام کی بات حکایت کرتے ہوئے فرمایا:
{رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ}
ہمارے پروردگار! مجھے، میرے والدین، اور تمام مومنین کو حساب کے دن بخش دینا۔[ابراہیم : 41]

اور موسی علیہ السلام کا مقولہ نقل کرتے ہوئے فرمایا:
 { رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ}
 میرے پروردگار! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے، اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ [الأعراف : 151]

ایسے ہی فرمایا: 
{وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ}
 داؤد علیہ السلام سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، تو پھر اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور پوری طرح رجوع کیا ۔[ص : 24ٌ]

اور نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو حکم دیتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:
 {فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ }
یہ بات جان لیں! اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ہے، اور اپنے تسامحات سمیت سب مومن مرد و خواتین کیلیے اللہ تعالی سے بخشش مانگیں۔[محمد : 19]

اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے، حالانکہ اللہ تعالی نے آپ کی گزشتہ و پیوستہ تمام لغزشیں معاف فرما دی ہیں ، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ :"ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ایک ہی مجلس میں سو سے زیادہ مرتبہ استغفار کے یہ الفاظ شمار کر لیتے تھے: (رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ) [میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور میری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے]ابو داود، ترمذی اور اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم وفات سے پہلے اکثر اوقات یہ فرمایا کرتے تھے: (سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ) [اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں اللہ سے مغفرت کا طالب ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔]بخاری و مسلم

آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نماز کا سلام پھیرنے کے بعد تین بار کہا کرتے تھے: " أَسْتَغْفِرُ اللهَ " [میں اللہ سے مغفرت کا طالب ہوں]مسلم نے اسے ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس کے بعد نماز کے بعد والے اذکار فرماتے ۔

استغفار نیک لوگوں کی عادت ، متقی لوگوں کا عمل اور مومنوں کا اوڑھنا بچھونا ہے، اللہ تعالی نے انہی کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایا: 
{رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ} 
ہمارے پروردگار! ہمارے گناہ بخش دے، اور ہماری برائیاں مٹا دے، اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دینا۔[آل عمران : 193]

ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:" گناہوں سے استغفار کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں کو مٹانے کی درخواست اللہ تعالی سے کریں، انسان کو استغفار کی بہت زیادہ ضرورت ہے؛ کیونکہ انسان دن رات گناہوں میں ملوّث رہتا ہے، اور قرآن مجید میں توبہ و استغفار کا ذکر بار بار آیا ہے، نیز انسان کو کثرت سے استغفار کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے"۔

اسی طرح انسان اپنے سارے گناہوں کی بخشش بھی اللہ تعالی سے مانگ سکتا ہے، چاہے اسے اپنے گناہ یاد ہوں یا نہ یاد ہوں، کیونکہ انسان بہت سے گناہ کر کے بھول جاتا ہے، لیکن اللہ تعالی کو بندے کے سب گناہ یاد رہتے ہیں، اور انہی کی بنیاد پر بندے کا محاسبہ بھی ہو گا، چنانچہ ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "نبی ﷺ عام طور پر دعا مانگا کرتے تھے:
 (اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي ، وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِيْ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّيْ وَهَزْلِي، وخَطَئِيْ، وَعَمْدِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي ، اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ ، وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) 
[میرے پروردگار! میرے گناہ، اپنے بارے میں جہالت و زیادتی سمیت ان تمام گناہوں کو بھی بخش دے جنہیں تو مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، یا اللہ! میرے سنجیدہ و غیر سنجیدہ ، سمجھ و نہ سمجھ والے سب گناہ بھی بخش دے، میرے گناہوں میں یہ سب اقسام موجود ہیں، یا اللہ! میرے گزشتہ، پیوستہ، خفیہ، اعلانیہ، اور جنہیں تو مجھے سے بھی زیادہ جانتا ہے سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی آگے بڑھانے اور پیچھے کرنے والا ہے، اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔]بخاری و مسلم

اور نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (اس امت میں شرک چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ مخفی انداز میں سرایت کرے گا)، تو اس پر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے استفسار کیا: "اس سے خلاصی کا کیا ذریعہ ہے؟" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں کہا کہ تم کہو: 
(اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ شيئا وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ لَا أَعْلَمُ) 
[یا اللہ! میں جان بوجھ کر تیرے ساتھ کسی کو شریک بنانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور ان گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں جو میرے علم میں نہیں ہیں۔]ابن حبان نے اسے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جبکہ امام احمد نے ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

چنانچہ اگر کوئی شخص اللہ تعالی سے اپنے تمام گناہ جنہیں جانتا ہے یا نہیں جانتا سب کی بخشش مانگے تو اسے بہت بڑی بات کی توفیق مل گئی ہے۔

گناہوں کی بخشش کےلیے انسان کی طرف سے کی جانے والی دعا اخلاص، اصرار، گڑگڑانے، اور اللہ کے سامنے عاجزی و انکساری کے اظہار پر مشتمل ہوتی ہے، نیز اس میں گناہوں سے توبہ بھی شامل ہے، اور اللہ تعالی سے توبہ مانگنا بھی استغفار ہی کی ایک شکل ہے، چنانچہ یہ تمام امور استغفار اور توبہ کے ضمن میں آتے ہیں، لہذا مذکورہ الفاظ الگ الگ ذکر ہوں تو تمام معانی ان میں یکجا ہوتے ہیں، اور جب یہ الفاظ سب یکجا ہوں تو استغفار کا مطلب یہ ہو گا کہ: گناہوں اور ان کے اثرات کے خاتمے، ماضی میں کیے ہوئے گناہوں کے شر سے تحفظ اور گناہوں پر پردہ پوشی طلب کی جائے۔

جبکہ توبہ کے مفہوم میں: گناہ چھوڑ کر اللہ کی طرف رجوع ، گناہوں کے خطرات سے مستقبل میں تحفظ اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم شامل ہے۔

انسان کو ہر وقت استغفار کی سخت ضرورت رہتی ہے، خصوصاً دورِ حاضر میں کیونکہ اس وقت گناہوں اور فتنوں کی بھر مار ہے، نیز استغفار دنیاوی اور اخروی زندگی میں کامیابی کا ضامن بھی ہے، چنانچہ استغفار خیر و بھلائی کا دروازہ اور تکالیف و مصائب ٹالنے کا باعث ہے، پوری امت کو بحیثیت کل دائمی طور پر توبہ استغفار کرنے کی ضرورت ہے، تا کہ پوری امت پر نازل شدہ آفات اور تکالیف ٹل جائیں، نیز آنے والی مصیبتوں سے تحفظ حاصل ہو۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: (جس شخص نے استغفار کو اپنی عادت بنا لیا، تو اللہ تعالی اس کیلیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ اور تمام غموں سے کشادگی عطا فرمائے گا، نیز اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں تھا) ابو داود

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے استغفار کے بارے میں متعدد الفاظ اور اذکار ثابت ہیں، انہیں اپنانے سے بہت ہی عظیم ثواب ملے گا، ان میں سے چند یہ ہیں:

آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان ہے: (جس شخص نے کہا: "أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لاَ إلَهَ إلاَّ هُوَ، الْحَيُّ القَيُّومُ، وَأتُوبُ إلَيهِ" [میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں اس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ زندہ جاوید اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ]تو اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، چاہے وہ میدان جہاد کا بھگوڑا ہی کیوں نہ ہو) ابو داود، ترمذی نے روایت کیا ہے، اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: (جس شخص نے بستر پر لیٹتے وقت تین بار کہا: "أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لاَ إلَهَ إلاَّ هُوَ، الْحَيُّ القَيُّومُ، وَأتُوبُ إلَيهِ"[میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں اس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ زندہ جاوید اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ]اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں) ترمذی

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص رات کے وقت بیدار ہو اور پھر کہے: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "[اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ تنہا و یکتا ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اور تعریفیں اسی کیلیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، اللہ بہت بڑا ہے، نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی ہمت صرف اللہ کی طرف سے ہی ملتی ہے]پڑھ کر اس نے کہا: "یا اللہ! مجھے بخش دے" تو اس کی دعا قبول ہو گی، اور اگر نماز پڑھے تو وہ بھی قبول ہو گی) بخاری

اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ: (جو شخص جمعہ کے دن فجر سے پہلے تین بار کہے: "أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لاَ إلَهَ إلاَّ هُوَ، الْحَيُّ القَيُّومُ، وَأتُوبُ إلَيهِ" [میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ زندہ جاوید اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ] اس کے سارے گناہ بخش دیے جائیں گے چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں )

نیز شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: (سید الاستغفار یہ ہے کہ تم کہو: "اَللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ"[یعنی: یا اللہ تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا ہے، اور میں تیرا بندہ ہوں، میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں، میں اپنے کیے ہوئے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیرے حضور مجھ پر ہونے والی تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں، ایسے ہی اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، لہذا مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے] آپ نے فرمایا: جس شخص نے کامل یقین کے ساتھ دن کے وقت اسے پڑھا، اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کی وفات ہو گئی ، تو وہ اہل جنت میں سے ہو گا، اور جس شخص نے اسے رات کے وقت کامل یقین کے ساتھ اسے پڑھا اور صبح ہونے سے قبل ہی فوت ہو گیا تو وہ بھی جنت میں جائے گا) بخاری

کسی بھی عبادت کے دوران اور اس سے فراغت کے بعد بھی استغفار کرنا شرعی عمل ہے، تا کہ عبادت میں ممکنہ کمی کوتاہی پوری ہو سکے، نیز خود پسندی اور ریاکاری سے انسان دور رہے۔

اسی طرح ہر مسلمان تمام مومن و مسلم مرد و خواتین، زندہ و فوت شدہ سب کیلیے بخشش طلب کرے، کیونکہ یہ عمل نیکی، مسلمانوں سے محبت اور دلی صفائی کا باعث ہو گا، نیز اللہ کے ہاں ان کیلیے شفاعت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ}
 جو ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے بارے میں بُغض نہ رہنے دے ، اے ہمارے رب تو بڑا نرمی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے [الحشر : 10]

اللہ کے بندو!

اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرو؛ کیونکہ حدیث قدسی ہے کہ: (میرے بندو! تم شب و روز گناہ کرتے ہو، اور میں سارے گناہ معاف کرنے پر قادر ہوں، اس لئے تم مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں معاف کر دونگا) مسلم نے اسے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اس لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کرو تو تم اس کے فضل و کرم، جود و سخا، اور برکتوں کا مشاہدہ کر لو گے، تمہارے گناہ مٹا اور درجات بلند کر دیے جائیں گے۔

تقوی الہی اختیار کرنے کیلیے اس کی رضا مانگو ، اسی کی بندگی کرو اور حرام کردہ چیزوں سے بچو۔

ہمارے پروردگار نے تمہیں عملِ صالح کی صلاحیت دیتے ہوئے دنیا کو تمہارے لیے دارِ عمل اور آخرت کو دارِ جزا بنایا، تو یہاں پر با عمل، مخلص اور اچھے طریقے سے عبادت کرنے والے لوگ ہی کامیاب ہوئے، جبکہ بد اعمال اور رو گردانی کرنے والے لوگ تباہ ہو گئے۔

گویا کہ تم موت کے انتظار میں تھے اور وہ آ کر رہے گی ، لیکن تمہاری تمام تمنائیں پوری نہ ہوں گی، سو قصۂ پارینہ بن جانے والوں کی تاریخ اور واقعات میں تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہے۔

قبروں والے یہ تمنا کریں گے کہ دنیا میں لوٹ جائیں اور انہیں صرف دو رکعت ادا کر کے ڈھیروں استغفار کرنے کی مہلت دے دی جائے، لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہیں کی جائے گی، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ (99) لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ} [المؤمنون: 99، 100]
 اس لیے یہاں پر کسی بھی چھوٹی سی نیکی یا برائی کو معمولی مت سمجھیں، ایک حدیث میں ہے کہ (چھوٹے گناہوں کو معمولی مت سمجھو؛ کیونکہ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں) اور اسی طرح ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ: (کسی بھی نیکی کو حقیر مت جانو، چاہے وہ نیکی اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنے پر ہی مشتمل کیوں نہ ہو)

یا اللہ! تمام مسلمان و مومن مرد و خواتین کو بخش دے، زندہ اور فوت شدہ سب کو معاف فرما دے، یا رب العالمین!




جمعہ, نومبر 24, 2017

خود میں تبدیلی ۔۔۔ استاد نعمان علی خان ۔۔۔چھٹا حصہ

خود میں تبدیلی (Self- Transformation)
استاد نعمان علی خان
چھٹا حصہ


بادشاہ (مطلب حکمران) کی طرف آجائیے. بادشاہ اپنی طرف سے بھیجے گئے کسی نمائندہ یا سفیر کے ذریعے دوسرے لوگوں سے متعارف ہوتا ہے. جب آپ کسی نمائندہ/ سفیر کو دیکھتے ہیں تو اس سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ آپ واقعی کسی بادشاہ کی طرف سے ہیں؟ 
‎ تو یہاں اللہ تعالٰی کے نمائندے (سفیر یعنی پیغمبر) کے پاس اس کا ثبوت اللہ کی آیات ہیں. 
‎ جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اللہ کی آیات لوگوں کے سامنے تلاوت کرتے ہیں تو وہ دراصل کیا کر رہے ہوتے ہیں؟ وہ اس وقت یہی ثبوت دے رہے ہیں کہ یہ اُس عظیم بادشاہ (اللہ) کا کلام ہے. 
‎ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی کا پہلا تعارف کیا ہے؟؟ 
‎ الحمدللہ رب العالمین. الرحمن الرحیم. مالک یوم الدین
‎ سب تعریفیں اللہ( بادشاہ) رب العالمین کے لیے ہیں. وہ رحمان ہے رحیم ہے. وہ بادشاہ ہے، یوم حساب کا مالک ہے. 
‎ پس بادشاہ اپنی علامات سے پہچانا جاتا ہے. یہ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پہلا کام
‎يَتلو عَلَيهِم آياتِهِ

‎اب دوسرے نام کی طرف آجائیے. 
القدوس (خالص)
‎حضور اکرم کو تفویض کردہ دوسرا کام، جو دوسری آیت میں بیان ہوا ہے 
‎ "ویزکیہم" وہ ان کو پاک کرتا ہے خالص کرتا ہے. 
‎اللہ کا نام ہے "القدوس" اور اس سے متعلقہ حضور(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کا مشن، لوگوں کو خالص کرکے، اللہ کے قریب کرنا، اللہ سے جوڑنا. اللہ کا یہ نام، اور پیغمبر اسلام کا کام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں. 
‎ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ان چاروں ناموں کو لوگوں کے دلوں میں منتقل کر رہے ہیں. 

‎ اب تیسرے نام کی طرف آجائیے 
العزیز (مختار کل، اتھارٹی= با اختیار) 
‎ ایسی ہستی جس کی عزت کی جانی چاہیے. یہ قوانین بنانے والی با اختیار ہستی ہے. حضور اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اسی قانون بنانے والی ہستی کے بل بوتے پر لوگوں کو قانون سکھا رہے ہیں. آپ اس وقت تک کسی کی عزت نہیں کر سکتے. جب تک آپ کے دل میں اس ہستی کے لئے عزت کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا. جب تک آپ کے اندر یہ احساس پیدا نہ ہو جائے کہ ہر کام اس اتھارٹی کی طرف سے ہے. 
‎ جب تک آپ کا دل خالص نہ ہو، آپ قانون کو اپنے اوپر لاگو نہیں کر سکتے. پیغمبر لوگوں کو سکھا رہے ہیں کہ قوانین العزیز کی طرف سے ہیں. 
‎ پہلی آیت میں اللہ کا آخری نام ہے: الحکیم (حکمت و دانش کا ذریعہ) 
‎ یہ نام بھی حضور (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی ایکٹویٹی پر منطبق ہوتا ہے. اللہ تعالٰی فرماتے ہیں 
ویعلمہم الکتاب والحکمہ 
‎ اللہ جو حکیم ہیں وہ اپنی حکمت ودانش آپ کو دے رہے ہیں اور آگے آپ وہ حکمت اپنے پیرو کاروں کو سکھا رہے ہیں. سبحان اللہ 
‎ اللہ کے یہ چاروں نام حضور پاک (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کو دیئے گئے مشن پر منطبق ہوتے ہیں.
‎ یہ ہے قرآن کا ناقابل یقین سفر، جس میں سے وہ لوگ ایسے اچھے طریقے سے گزرے کہ پھر آسمانوں میں بھی ان کا نام جانا گیا. 
‎ اگر آپ بھی اپنے اندر ان ناموں کو جذب کر لیں تو آپ کی بھی آسمان و زمین کے ساتھ مطابقت پیدا ہو جائے گی. حضور پاک (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے کیا کیا؟ انہوں نے آپ کو اس نظام سے جوڑ دیا جو کہ پہلے ہی آپ کے ارد گرد موجود تھا. 
‎ مثلاً اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: 
‎ الشَّمْس وَالْقَمَر بِحُسْبَانٍ. وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ

‎ اللہ تعالٰی ہمیں کیوں بتا رہے ہیں کہ ستارے اور درخت سجدہ کر رہے ہیں؟ اللہ ہمیں کیوں بتا رہے ہیں کہ پرندے تسبیح کر رہے ہیں؟ کیوں؟ 

‎ اس میں سے کوئی چیز بھی تکمیل کا دعوٰی نہیں کرسکتی. لیکن تمام مخلوقات میں سے صرف آپ ہیں جو اس کی کاملیت کو سمجھ سکتے ہیں. آپ ہیں جو زمین و آسمان کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں. 
‎ ہم کیسے تبدیلی کے اس عمل کو سمجھ سکتے ہیں؟ شخصیت کی تبدیلی کا عمل کیسے وقوع پذیر ہو سکتا ہے؟ 
‎ حضور پاک (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے یہ عمل کیسے سر انجام دیا؟ 
‎ ہم نے ہمیشہ سے تقریروں میں یہ سن رکھا ہے کہ حضور پاک (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے ساتھی کتنے عظیم تھے. ان کی زندگیوں میں حیران کن تبدیلیاں آئی تھیں. وہ ناقابل بیان مراحل سے گزرے تھے. وہ اللہ کے سامنے حیرت انگیز طور پر فرمانبردار تھے

‎وہ اصحاب رسول تھے ان جیسا کوئی نہ تھا. مگر میں تو کبھی بھی ان جیسا نہیں ہو سکتا. میں نہیں جانتا کہ میں اپنے اندر ویسی تبدیلیاں لا سکتا ہوں یا نہیں یا کہ قرآن مجھے ان عظیم تاریخی تبدیلیوں کی اطلاع دے رہا ہے یا مجھے اپنی کایا پلٹنے کا سبق دے رہا ہے.تیسری آیت میں دیکھیں الله سبحان و تعالی کیا فرماتا ہے. 
‎*" وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيز الْحَكِيم "*
‎دوسرے کچھ اور لوگ بھی ہیں. اس سے مراد عرب کے علاوہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں اور آنے والی دوسری نسلیں بھی جو ابھی تک ان سے آن نہیں ملے اور الله سب سے زبردست حکمت والا ہے.

‎اللة تعالی خود یہاں فرما رہا ہے کہ یہ مذہبی، اخلاقی، سماجی انقلاب صرف اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم تک محدود نہیں ہے بلکہ اس انقلاب نے رہتی دنیا تک تبدیلیاں لاتے رہنا ہے کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور جو لوگ ان سے ذاتی طور پر نہ مل سکے اور نہ ان کے اصحاب سے، ان تک قرآن ضرور پہنچتا رہے گا اور وہ اسی تبدیلی سے گزریں گے جن سے وہ لوگ گزرے.
‎الله کی ایسی بات سن کر اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم بھی حیران رہ گئے کہ وہ دوسرے کون ہیں؟

جاری ہے ۔۔۔۔ 

بدھ, نومبر 22, 2017

تبلیغ (ڈائلاگ از عمر الیاس)

تبلیغ (ڈائلاگ)
بشکریہ: عمر الیاس 

کہاں گئے ہوئے تھے؟؟

تبلیغی دورے پر۔۔

کیسا رہا؟

اپنی پوری کوشش کی ۔۔ پر ایک بندہ بھی مائل نہیں ہوا۔۔ الٹا میں خود تذبذب کا شکار ہو گیا۔۔

اس کوشش کے بارے میں بتاؤ۔۔۔

خطبات دیے ۔۔۔ بیانات ۔۔۔ وعظ ۔۔۔۔  بہت سارے ۔۔ روزانہ کم از کم پانچ

اسی لیے نتیجہ نہیں نکلا تبلیغ کا

کیوں؟؟

"تبلیغ کہہ کے نہیں کی جاتی :) 
اور جو کہہ کے کی جائے وہ تقریر، خطابت، وعظ، تکرار، بحث تو ہو سکتی ہے ۔۔۔ 'تبلیغ" نہیں"۔۔ 

فتویٰ دینے اور سوال پوچھنے کے آداب۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد الحرام (اقتباس)

مسجد الحرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید

جمعۃ المبارک 28 صفر 1439ھ بمطابق 17 نومبر 2017ء

ترجمہ: محمد عاطف الیاس
 نظر ثانی:  میاں عتیق الرحمٰن

لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے، اللہ سے ڈرتے رہو اور اس علم سے بچو جس کا اثر آپ کے عمل میں نہیں، اس عبادت سے بچو جس میں اخلاص نہیں، اس مال سے بچو جس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جاتی، اس دل سے بچو جس میں محبت الٰہی اور اسے ملنے کا شوق نہیں، اور اس وقت سے بچو کہ جسے بھلائیوں اور نیک کاموں سے معمور نہیں کیا جاتا۔

یاد رکھو کہ وہ خطرناک ترین چیزیں کہ جن سے بچنا ناگزیر ہے: دل کی بربادی اور وقت کا ضیاع۔ دل کی بربادی تو دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے سے ہوتی ہے اور وقت کا ضیاع خواہشات کی پیروی اور طویل امیدوں سے ہوتا ہے۔ مکمل نیکی یہ ہے کہ راہ ہدایت پر چلا جائے اور قیامت کی تیاری کی جائے۔

اے مسلمانو!

علم، انبیا کی میراث ہے اور سوال علم کی کنجی ہے۔ شریعت اسلامیہ نے علم سیکھنے کے لیے سوال کا حکم دیا ہے اور کی ترغیب دلائی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
 ’’اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں‘‘ [يونس: 94]۔ 
اسی طرح فرمایا: 
’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے‘‘ [النحل: 43]۔

ابن شہاب کہتے ہیں کہ: ’’علم کئی خزانوں پر مشتمل ہے، ہر خزانے کی کنجی سوال ہے۔‘‘

الخلیل کہتے ہیں: ’’ہر علم پر ایک تالا لگا ہوتا ہے جس کی کنجی سوال ہے۔ جب تمہارے ہاتھ میں کنجیاں آ جائیں تو پھر تم جس تالے کو چاہو، کھول لو‘‘

سوال کرنے والے کے سوال سے اس کی عقل اور اس کا ادب جھلکتا ہے۔ عقل مند ہر چیز کو اپنی زبان پر نہیں لاتا اور جاہل یہ نہیں جان پاتا کہ کون سی چیز کہنی چاہیے اور کون سی نہیں کہنی چاہیے، یا کون سی چیز کب اور کیسے کہنی چاہیے۔

اس حوالے سے چند قاعدے جان لیجیے۔ سوال یوں کرو، گویا کہ تم جاہل ہو۔ عقلمندوں کی طرح جواب کو سمجھو۔ سوال درست ہو تو اسی میں آدھا جواب ہوتا ہے۔ جو استادوں کے سامنے ذلیل ہوتا ہے وہ استاد بن کر بڑی عزت کماتا ہے۔ علم وہی سیکھتا ہے جس کی زبان سوال کرنے والی، دل عقلمند اور بہترین ادب کا حامل ہو۔

اے مسلمان معاشرے کے لوگو!

چونکہ علم کے میدان میں سوال وجواب کی بڑی اہمیت ہے، تو اہل علم نے سوال پوچھنے اور فتویٰ دینے کے آداب پر طویل تحریریں لکھی ہیں۔

آج کے دور میں اللہ تعالیٰ نے رابطے کے وسائل بڑھا دیے ہیں اور کسی سے بات چیت کرنا انتہائی آسان ہو گیا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ان آداب کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو اہل علم نے سوال وجواب کے متعلق بیان کیے ہیں۔

اور جب ہم اخبارات، میگزینز، ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ پر مفتیوں کا حال دیکھتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ فتویٰ واقعتًا ایک اہم اور عظیم ذمہ داری ہے۔

میں اس حوالے سے چند گزاشات پیش کرتا ہوں جن میں چند آداب آ جائیں گے۔

پہلی گزارش: سوال کرنے والے اور فتویٰ پوچھنے والے کے متعلق ہے۔

علماء کرام کا کہنا ہے کہ: سوال کرنے والے اور فتویٰ پوچھنے والے کو چاہیے کہ اپنے سوال میں حقائق کو جوں کا توں، انتہائی باریک بینی کے ساتھ نقل کرے، یہاں تک کہ اسے تسلی ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے یہاں اسے اس کے سوال کی سچائی کے متعلق پوچھا گیا تو وہ سرخرو ہی ہو گا۔

ان مسائل کے متعلق پوچھنا چاہیے جو سائل کو درپیش ہیں۔ جن مسائل کا سامنا ہی نہ ہو، ان کے متعلق پوچھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ سوال کرتے وقت حقائق چھپانے، حقائق کو چلاکی سے تبدیل کرنے یا الفاظ کے ہیر پھیر سے غلط مطلب سمجھنے سے بچنا چاہیے۔

ایک ہی سوال کو لے کر مفتیوں میں گھومتے نہیں رہنا چاہیے۔ یہ دیانت داری اور خدا خوفی کے خلاف ہے۔

آسانیاں تلاش کرنے اور مفتیوں کے فتووں سے آسان ترین یا من پسند فتووں کو اپنانے سے بچنا چاہیے۔ اہل علم کہتے ہیں: ’’جو ہر عالم کی دی گئی رخصت پر عمل کرتا ہے اور ہر مفتی کی غلطی ڈھونڈتا رہتا ہے، اس میں ساری برائی جمع ہو جاتی ہے‘‘

جو اپنے لیے بھلائی چاہتا ہے، وہ علما کی باتوں کا تقابل کر کے انہیں غلط ثابت کرنے میں نہ لگے۔ کیونکہ علما تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے دور سے اپنے اجتہاد، رائے اور جوابوں میں اختلاف کرتے رہے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔ چنانچہ ہمیں خود بری الذمہ ہونے کی فکر کرنی چاہیے تاکہ ہمارا دین بھی سلامت رہے، عبادت بھی درست ہو، معاملات بھی ٹھیک ہو جائیں اور زندگی آگے بڑھ سکے۔

اے میرے بھائیو!

اگر کسی مسئلے میں دو مختلف جواب سامنے آ جائیں تو اس عالم کے جواب پر عمل کرنا چاہیے کہ جو اپنے دین، علم اور خدا خوفی کے اعتبار سے بہتر ہے۔ خواہشات کی پیروی اور رخصتوں کی تلاش سے بچنا چاہیے۔

جو عالم کے امتحان کے لیے سوال کرتا ہے، وہ محرومی، گھاٹے اور دل کی سختی لے کر لوٹتا ہے۔ سوال تو سائل کی ضرورت کے لیے ہوتا ہے اور اس کا مقصد جواب معلوم کرنا، اس سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے، نہ کہ اہل علم سے بحث کرنا اور اپنی علمیت جتانا۔

حدیث میں آتا ہے: ’’جو علماء سے بحث کرنے کے لیے، جاہلوں کے سامنے اپنی علمیت جتانے کے لیے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے اللہ اسے جہنم میں ڈال دیتا ہے۔‘‘

سوال کو ضرورت سے زیادہ طویل نہیں کرنا چاہیے۔ ضرورت کے بغیر زیادہ سوال بھی نہیں کرنے چاہیں، تاکہ مفتی کے قیمتی وقت اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھا جا سکے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں: ’’میں نے صحابہ کرام سے بھلے لوگ کبھی نہیں دیکھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی میں صرف تیرہ مسئلے ہی پوچھے اور ان سب کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ وہ صرف ضرورت کے وقت سوال کیا کرتے تھے۔‘‘

ادب کا تقاضا یہ ہے کہ سائل اپنے سوال میں یہ نہ کہے: ’’فلاں عالم نے کہا ہے‘‘ یا ’’فلاں عالم آپ کی رائے کی مخالفت کرتے ہیں‘‘ کیونکہ یہ بدتمیزی ہے اور کسی کو یہ پسند ہوتا کہ اس سے سوال کرتے وقت دوسروں کے اقوال نقل کیے جائیں۔

دانشمندوں کا کہنا ہے: ’’ہم عصر لوگوں کی باتیں کتابوں میں ہی رہنی چاہیں۔ انہیں آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔‘‘

علماء کے درمیان اختلاف کو ہوا دینے یا ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے برے جذبات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

اے مسلمان معاشرے کے لوگو!

دوسری گزارش: عورت کے حوالے سے ہے۔ 
اسے بھی حق کا سوال ہے اور اسے کن آداب کا لحاظ کرنا چاہیے؟

عورت کو بھی دینی مسائل دریافت کرنے کا حق ہے اور مسلمان عورت سوال سے بے نیاز بھی نہیں ہو سکتی۔

امام بخاری کی کتاب میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب بھی کوئی ایسا مسئلہ معلوم ہوتا جس کا جواب نہیں معلوم نہ ہوتا تو وہ اس کے متعلق پوچھتی رہتیں، یہاں تک وہ اس کا جواب معلوم کر لیتیں۔ صحابیات رسول صحابہ کرام سے سلام کرتیں، فتویٰ پوچھتیں، سوال کرتی اور مشورہ طلب کرتی تھیں۔

امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’انصار کی عورتیں بھی خوب عورتیں تھیں۔ حیا نے انہیں دین سیکھنے اور سمجھنے سے نہیں روکا‘‘

سائل کو یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ مفتی کا فتویٰ نہ کسی حرام کو حلال کرے گا اور نہ کسی حلال کو حرام کرے گا۔ اگر سائل سوال میں حیلہ کیا ہو اور سوال کے لفظوں میں ایسے تبدیلی کی ہو کہ معنیٰ اور مفہوم محتمل ہو جائے تو مفتی تو سوال کے مطابق ہی جواب دیتا ہے۔

اسی طرح اگر مفتی اس کا لحاظ کرے یا خاص تعلق کی وجہ سے درست فتویٰ نہ دے تو دونوں گناہ گار ہیں۔

اللہ مفتیوں کو صحیح فتوے  دینے کی توفیق عطا فرمائے، صحیح راستہ دکھائے۔ ہم سب نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

تیسری گزارش: مفتی کے آداب کے حوالے سے یہ ہے۔

مفتی اللہ رب العالمین کی طرف سے مہر لگانے والا ہے۔ وہ جس چیز کا فتویٰ دیتا ہے وہ اسے شریعت اسلامیہ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ یا تو کسی واضح آیت یا حدیث کی بنا پر، یا پھر اہل علم ہونے کی حیثیت سے مناسب اجتہاد کی بنا پر فتویٰ دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 
’’لوگ تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے‘‘ [النساء: 176]،
 تو گویا مفتی اللہ کی طرف سے لوگوں کو احکام بتاتا ہے اور اللہ کی طرف سے ان احکام پر مہر لگاتا ہے۔

مفتی کو فتویٰ دینے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ آرام سے اور ٹھنڈے دماغ سے سوال پر غور کرنا چاہیے اور اسے اپنے دماغ میں واضح کر کے صورت حال کا صحیح اندازہ لگانا چاہیے۔

جواب واضح ہونا چاہیے، مکمل اور شامل ہونا چاہیے۔ سائل کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیے اور سوال سمجھنے اور جواب سمجھانے میں صبر سے کام لینا چاہیے۔

اسی طرح لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیں، ان کے احوال، عادات اور صورت حال کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ ان سے سختیاں دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یاد رہے کہ آسانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فرائض چھوڑنے کی اجازت دے دی جائے یا شرعی احکام کو ختم کر دیا جائے اور لوگوں کی خواہشات کے ساتھ چلا جائے۔

اہل علم فرماتے ہیں: وقت، جگہ، عادات اور حالات کی تبدیلی سے فتویٰ بدل سکتا ہے، مگر لوگوں کی خواہشات کے ساتھ نہیں بدل سکتا، بلکہ یہ ان اصولوں پر قائم رہتا جو شریعت اسلامیہ نے وضع کیے ہیں اور جن میں ہر تبدیلی کی وجہ اور ضرورت کا مکمل طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے، اللہ سے ڈرو۔  ہر مفتی اور سائل اللہ سے ڈرے۔ شریعت کے احکام کی قدر کرو۔ یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرو، خود بریء الذمہ ہو جاؤ، آخرت میں اللہ کے سامنے پیش ہونے اور حساب کتاب دینے کے لیے تیار ہو جاؤ۔