اشاعتیں

2017 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

یہی ایک موقع ہے!!

تصویر
صاحبو! یہی ایک موقع ہے! از: حامد کمال الدین
ایک دانا نے کسی بھلےمانس کو غفلت اور زیاں میں دھنسا ہوا پایا... تو اس سے کہا: برخوردار! کیا تم اپنی اِس حالت کو موت کےلیے درست پاتے ہو؟

اس نے جواب دیا:

نہیں، اِس حالت میں تو میں یہ جہان نہیں چھوڑوں گا۔

فرمایا: یعنی اِس جہان سے توبہ تائب ہو کر ہی جانا چاہتے ہو؟

کہا: جی ہاں، اس کے بغیر تو معاملہ خراب ہے۔

پوچھا: تو کیا اپنے نفس کو ابھی اِسی لمحے توبہ کےلیے آمادہ پاتے ہو؟

وہ شخص بولا: ابھی تو نہیں، البتہ کسی نہ کسی وقت توبہ کا ارادہ ہے!

بزرگ نے پوچھا: تو کیا تمہارے علم میں کوئی اور جہان بھی ہے جہاں تم خدا کو خوش کرجاؤ؛ اور اس کے بعد اُس کے ابدی جہان میں جا پہنچو؟

وہ شخص بولا: نہیں ،جہان تو یہی ایک ہے۔

بزرگ نے پوچھا: تو کیا تمہارے دو نفس ہیں؛ کہ ایک نفس اگر مر کر یہاں سے چلا بھی گیا تو دوسرا نفس نیک عمل کرتا رہے گا؟

وہ شخص بولا: نہیں، نفس تو یہی ایک ہے۔

بزرگ نے پوچھا: تو کیا موت سے کوئی یقین دہانی حاصل کر رکھی ہے کہ وہ اچانک تمہارے ہاں پھیرا نہیں لگا لے گی؛ اور وہ ’’ابدی جہان‘‘ جس سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں، تمہارے سامنے یکلخت آکھڑا نہیں ہوگا؟

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-7

تصویر
تدبرِ القرآن  سورہ الکھف  استاد نعمان علی خان حصہ-7 اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ ۚ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۖ وَإِن تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ فَلَن يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا - 18:57 اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے؟ جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے وه پھر منھ موڑے رہے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھا ہے اسے بھول جائے، بےشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے (نہ) سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے، گو تو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا رہے، لیکن یہ کبھی بھی ہدایت نہیں پانے کے
اور کون بڑا ظالم ہے اس شخص سے جسے یاد دلائی جائیں نشانیاں اس کے رب کی اور وہ منہ پھیر لے اُن سے۔۔اور بھول جاتا ہے اس کو جس کا اہتمام اس نے اپنے ہاتھوں کیا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے جب میری نشانیوں کی، میری آیات کی یاد دلائی جاتی ہے تو وہ منہ پھیر لیتا ہے۔  کیسے منہ پھیر لیتا ہے؟  وہ کہتا ہے "مجھے اس…

آج کی بات ۔۔۔۔ 17 جون 2017

تصویر
~!~ آج کی بات ~!~
کوئی مُشکل زندگی کا اصل مسئلہ نہیں ہوتی، اصل مسئلہ مُشکل پر اختیار کیا گیا ردِ عمل ہوتا ہے۔
تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

اعمال کا دارومدار ۔۔۔ اقتباس خطبہ جمعہ مسجد نبوی

تصویر
ہم پر اللہ تعالی کی رحمتیں اور نعمتیں تسلسل کے ساتھ سایہ فگن ہیں وہ دن رات ہمیں نوازتا ہے پھر بھی اس کے خزانوں میں ذرہ کمی نہیں آتی، لہذا صرف اسی کی بندگی اور حمد و ذکر اللہ تعالی کا ہم پر حق ہے۔ نیز گناہوں سے معافی بھی اللہ کی بیش قیمت عنایت ہے، بلکہ تھوڑے عمل پر زیادہ اجر اس سے بھی بڑی نعمت ہے، مثلاً: رمضان میں قیام اللیل، صدقہ خیرات اور عمرے کا ثواب بہت زیادہ ہے، اس ماہ میں دعا، قرآن کریم کی تلاوت، فہمِ قرآن کی کوشش اور صلہ رحمی سمیت دیگر تمام نیکیوں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔   یہ مہینہ ختم ہونے جا رہا ہے اور آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے نبی ﷺ آخری عشرے میں لیلۃ القدر کی جستجو میں دیگر ایام سے بڑھ کر محنت فرماتے اور اس کے لیے اعتکاف بیٹھتے۔ اعتکاف کرنے والوں کو مخلوق سے کٹ کا خالق سے رابطہ استوار اور مضبوط کرنے کیلیے پوری کوشش کرنی چاہیے حقیقت میں یہی اعتکاف کی روح ہے،  لیلۃ القدر کی برکت کی وجہ سے اس رات میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور اس رات میں آئندہ پورے سال کے فیصلے کئے جاتے ہیں، 
دنیا لمحوں اور دنوں کا نام ہے، یہی لمحے اور دن کتاب زندگی کے صفحات ہیں، اور انسانی کارکردگی ہی اصل…

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-6

تصویر
تدبرِ القرآن سورہ الکھف استاد نعمان علی خان  حصہ-6 اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا - 18:49
اور نامہٴ اعمال سامنے رکھ دیے جائیں گے۔ پس تو دیکھے گا کہ گنہگار اس کی تحریر سے خوفزده ہو رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے ہائے ہماری خرابی یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا بغیر گھیرے کے باقی ہی نہیں چھوڑا، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ﻇلم وستم نہ کرے گا۔
آیت نمبر 49 میں آتا ہے کہ جب اعمال نامہ لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا تو مجرم اُس سے ڈریں گے جو اس (کتاب) میں موجود ہوگا۔۔ اور وہ کہیں گے کہ "یہ کیسی کتاب ہے اس نے کچھ بھی نہیں چھوڑا، ہر چھوٹی اور بڑی بات محفوظ کرلی ہے"
یعنی، ہمارے اعمال، ہمارے لفظ چاہے وہ جتنے بھی چھوٹے کیوں نہ ہوں، اس کتاب میں سب کچھ محفوظ کرلیا جاتا ہے۔ اور مجرم اس روز یہی کہہ رہے ہون…

یہ ہے اسلام

تصویر
مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا ،" آج کچھ ہونے والا ھے " (وہ بڑبڑایا) اسکی نظر آسمان کی طرف باربار اٹھ رہی تھی ۔اسکی بیوی " ہندہ " جس نے حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا اسکی پریشانی دیکھ کر اسکے پاس آگئی تھی" کیا بات ہے؟ کیوں پریشان ہو؟ " "ہُوں؟" ابوُ سُفیان چونکا ۔ کُچھ نہیں ۔۔ " طبیعت گھبرا رہی ہے میں ذرا گھوُم کر آتا ہوں" وہ یہ کہہ کر گھر کے بیرونی دروازے سے باہر نکل گیا.  مکہّ کی گلیوں میں سے گھومتے گھومتے وہ اسکی حد تک پہنچ گیا تھااچانک اسکی نظر شہر سے باہر ایک وسیع میدان پر پڑی ،ھزاروں مشعلیں روشن تھیں ، لوگوں کی چہل پہل انکی روشنی میں نظر آرہی تھی اور بھنبھناھٹ کی آواز تھی جیسے سینکڑوں لوگ دھیمی آواز میں کچھ پڑھ رہے ھوں اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قریب جاکر دیکھے گا کہ یہ کون لوگ ھیں اتنا تو وہ سمجھ ہی چکا تھا کہ مکہّ کے لوگ تو غافلوں کی نیند سو رہے ھیں اور یہ لشکر یقیناً مکہّ پر چڑھائی کےلیے ہی آیا ہے وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ کون ہیں ؟وہ آہستہ آہستہ اوٹ لیتا اس لشکر کے کافی قریب پہنچ چکا تھا کچھ لوگوں…

صدائے الہی “یَا عِبَادِیْ” کے راز – مقتبس خطبہ جمعہ مسجد نبوی

تصویر
صدائے الہی “یَا عِبَادِیْ” کے راز –    مقتبس خطبہ جمعہ مسجد نبوی
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 14-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ ” صدائے الہی “یَا عِبَادِیْ” کے راز” کے موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ بندگی سے خالی نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ اللہ کی عبادت زمان و مکان کی قیود سے بالا تر ہے۔ چنانچہ جو شخص آخری سانس تک بھی اللہ کی بندگی کے ذریعے اس کے بندوں میں شامل ہو گیا تو وہی کامیاب ہے، اور ماہ رمضان میں تو عبادات کے حسین مناظر مزید دیکھنے کو ملتے ہیں۔ خطبے سے منتخب اقتباس درج ذیل ہے: 
مسلمان کبھی بھی اللہ کی بندگی کا دامن چھوڑنے کیلیے تیار نہیں ہوتا کیونکہ بندگی زمان و مکان کی قید سے بالا تر ہے ، لہذا مسلمان زندگی کے ہر گوشے میں آخری سانس تک اللہ کی بندگی کرتا ہے ، پھر اسے موت بھی بہترین حالت میں آتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:  {وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ}  اور اپنے پروردگار کی عبادت کر یہاں تک کہ تجھے موت آ جائے۔[الحجر: 99]
جس وقت اللہ تعالی اپنے بندوں کو “یَا عِبَادِیْ” [میرے بندو!]کہتا ہے تو اس…

جب میرا رب مجھ سے پوچھے گا

تصویر
جب میرا رب مجھ سے پوچھے گا بشکریہ: رضوان اسد خان
کہتے ہیں کہ یہ نظم سن کر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس قدر روئے کہ انکے شاگرد کو خدشہ لاحق ہو گیا کہ کہیں جان ہی نہ دے دیں۔۔۔!!! اور واقعی پڑھنے والے نے جس دردناک انداز میں پڑھی ہے، کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ خاموشی اور تنہائی میں سنیں اور دعاؤں میں یاد رکھیں۔
إذا ما قال لي ربي .. أما استحييت تعصيني وتخفي الذنب عن خلقي .. وبالعصيان تأتيني
جب میرا رب مجھ سے پوچھے گا: "کیا میری نافرمانی کرتے ہوئے تمہیں حیا نہ آئی؟" کیا تم میری مخلوق سے اپنے گناہ چھپاتے اور اب نافرمانی کر کے مہرے پاس آتے ہو؟
فكيف أجيب يا ويحي .. ومن ذا سوف يحميني أسلي النفس بالآمال .. من حين إلى حين
پھر کیسے جواب دوں گا؟ ہائے افسوس مجھ پر!!! اور کون مجھے بچائے گا؟ میں وقتاً فوقتاً اپنے دل کو آرزوؤں کے ساتھ تسلی دیتا ہوں
وأنسى ما وراء الموت .. ماذا بعد تكفيني كاني قد ضمنت العيش .. ليس الموت يأتيني
اور میں بھول جاتا ہوں کہ موت کے بعد کیا پیش آنے والا ہے؟۔۔۔ میرے دفنانے کے بعد کیا ہونے والا ہے؟ گویا کہ مجھے زندگی کی ضمانت دی گئی ہے اور موت مجھے آنی ہی نہیں
وجاءت سكرة الموت الشديدة…

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-5

تصویر
تدبرِ القرآن سورہ الکھف استاد نعمان علی خان حصہ-5
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا - 18:45
ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال (بھی) بیان کرو جیسے پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اس سے زمین کا سبزه ملا جلا (نکلا) ہے، پھر آخر کار وه چورا چورا ہوجاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے


آیت نمبر 45 میں اللہ تعالی نے اس دنیا کی زندگی کی حقیقت بیان کی ہے۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ دنیا کی زندگی کی مثال ایک باغ کی طرح ہیں۔
جب اللہ بارش برساتا ہے تو وہ باغ کِھل اُٹھتا ہے، ہریالی ہر سو چھا جاتی ہے، ہر طرف سبزہ ہوتا ہے، رنگ برنگے پھول اُگتے ہیں۔
پھر جب کچھ عرصہ بارش نہیں ہوتی تو وہی باغ گرمی کی شدت کے باعث مرجھا جاتا ہے۔ وہاں موجود گھاس، درخت، پتے مرجھانے لگتے ہیں۔ آخرکار ایسا ہوتا ہے کہ اُس باغ کی گھاس بالکل سوکھ جاتی ہے اور صرف اس کے ذرات باقی رہ جاتے ہیں۔ اور اُن ذرات…

دنیا کا سب سے مشکل کام

تصویر
دنیا کا سب سے مشکل کام پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
بسم  اللہ الرحمٰن الرحیم
دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟
" تم لوگوں کو پتا ہے دنیا کا سب مشکل کام کیا ہے؟" ابلیس نے سوال کیا 
" ابلیس اعظم ہی بہتر جانتے ہیں ۔" چوبدار کی آواز سناٹے میں گونجی۔
" غور سے سنو، کیا ایک ما ں کو اس کے  بچے  سے  دور کرنا، اسے ناراض کرنا  اور بچے پر غضب ڈھانے پر مجبور  کرنا کوئی آسان کام ہے؟   بچے کی برسوں  کی بدبختی  اور نافرمانی بھی ماں ماں کو بچے سے دور نہیں کرپاتی اور ماں اس کی کوتاہوں سے درگذر کرتی رہتی ہے اور اپنی شفقت و محبت نچھاور کرتی رہتی ہے۔ "
مجلس شوری میں سناٹا تھا  اور ابلیس بے تابی سے ادھر ادھر ٹہل کر اپنا مضطرب بیان دے رہا تھا۔ 
" تو بتاؤ ، اگر ایک معمولی سی  ماں کو اپنے بچے سے جدا کرنا اتنا مشکل کام ہے تو خدا ئے رب ذوالجلال کی شفقت کو بندوں سے دور کرنا کتنا مشکل کام ہے۔میری لاکھوں سال کی محنت، ریاضت اور کوششوں کے باوجود آج بھی خدا کی عنایتیں اپنے بندوں پر ہیں، وہ آج بھی ان کو پکار کر اپنی جانب بلارہا ہے، وہ آج بھی انہیں  نت نئے رزق سے نواز رہا ہے، وہ آج بھی ان کی ض…

آج کی بات ۔۔۔۔ 07 جون 2017

تصویر
~!~ آج کی بات ~!~
اس سے بڑھ کر دکھ کی کیا بات ہوگی کہ کوئی قوم زوال کا شکار ہو  اور اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ زوال پذیر ہے۔
 محمد جمیل اختر

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

زندگی کی کہانی

تصویر
"زندگی کی کہانی" تحریر: صمد نواز
زندگی نہ تو "ہم ٹی وی" کا ڈرامہ ہے کہ آخری قسط میں سب کچھ ایک دم سے ٹھیک ہو جائے، نہ ہی "اسٹار پلس" کا ڈیلی سوپ جس میں مردہ کردار زندہ ہو ہو کر لوٹ آتے ہوں۔نہ تو زندگی ناول ہے کہ جس کی اختتامی لائن " پھر وہ ہنسی خوشی اکٹھے رہنے لگے " ہو، نہ ہی بالی ووڈ کی فیچر فلم ہے کہ دی اینڈ سے پہلے تمام مشکلیں آسان ہو جائیں اور تمام بچھڑے ہوئے مل جائیں۔
زندگی تو زندگی ہے چندا، جس کی کہانی کسی انسان نے نہیں لکھی، مالک یوم الدین نے لکھی ہے۔ کہانی کا تانا بانا ایسا ہے کہ ایک راستہ کامیابی کا ہے اور دوسرا ناکامی کا۔ اچھی بات یہ ہے کہ دونوں راستوں کا پڑاؤ ایک ہی ہے، بھلے منزلیں جُدا ہیں۔ اس پڑاؤ پر وہ مالک یوم الدین اپنے بندوں کا منتظر ہے۔ جیسے دوڑ کے مقابلے میں اختتامی  لکیرپر ججز موجود ہوتے ہیں۔ اس اختتامی لکیرپر ہر کھلاڑی کے کوچ، ٹیم آفیشلز اور ساتھی کھلاڑی بھی موجود ہوتے ہیں جو جیتنے والے کا پُرجوش استقبال کرتے ہیں، کندھوں پر اٹھاتے ہیں، انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔ تو ہم سب اختتامی لکیر کی جانب بھاگے چلے جا رہے ہیں، جانے انجا…

سات روحانی عادات

تصویر
~!~ سات روحانی عادات اپنائیں ~!~ 
ہمیں سیرت کی مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ رمضان کی آمد سے چھ ماہ پہلے اس کی تیاری شروع کردیا کرتے تھے، اور رمضان کی آمد پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اگلے رمضان کو پانے کی دعا کیا کرتے تھے اور رمضان کے اختتام ہونے پر گڑگڑا کر اپنی عبادات کی قبولیت کی دعا کیا کرتے تھے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خوش قسمت تھے کہ ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب تھی، جو کہ ایک مثالی شخصیت اور سیکھنے اور پیروی کرنے کے لیے بہترین انسان تھے۔ جبکہ ہم اس سے محروم ہیں مگر ہمارے پاس سیکھنے اور عمل کرنے کے لیے ان کی سنت موجود ہے۔
رمضان بہترین موقع ہے اپنی کوتاہیوں پر معافی مانگنے کا اوربہترین عادات اپنا کر ایک نئی شروعات کرنے کا۔ ان شاء اللہ
1- نماز کی پابندی: سیرت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نماز کے گرد گھومتی تھی، چاہے وہ گھر پہ ہوں، سفر میں ہوں یا پھر جنگ کے میدان میں: وہ کبھی اپنی نماز نہیں چھوڑتے تھے۔ نماز کو اپنے مقررہ وقت پر ادا کرنا اللہ کے نزدیک نہایت محبوب عمل ہے۔
صاحبِ علم حضرات تجویز کرتے ہیں کہ نماز کو مقرر…

آج کی بات ۔۔۔ 06 جون 2017

تصویر
~!~ آج کی بات ~!~
" لیڈروالا کردار ہو  تو زمانہ پیچھے ہوتا ہے اگر لیڈر والا کردار نہ ہوتو پھر  بندہ   پیچھے  چلنے والا  بن جاتا ہے۔"

محمد علی جناح
تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

آج کی بات ۔۔۔ 05 جون 2017

تصویر
~!~ آج کی بات ~!~
جو جانے والے سے عبرت حاصل نہیں کرتا، وہ آنے والوں کے لیے عبرت بن جاتا ہے۔
تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

الفاظ کی دنیا

تصویر
~!~ الفاظ کی دنیا ~!~ منقول الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے  کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں  کچھ غلامی  کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں  اور کچھ وار  ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے ۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا تو سمجھا لفظ صرف معنی نہیں رکھتے یہ تو دانت رکھتے ہیں جو کاٹ لیتے ہیں۔ یہ ہاتھ رکھتے ہیں جو گریبان کو پھاڑ دیتے ہیں۔ یہ پاؤں رکھتے ہیں جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں۔ اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجہ کا اسلحہ تھما دیا جائے تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ محتاط ہو جاؤ انہیں ادا کرنے سے پہلے کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے ۔کیوں کے یہ تمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ ۔ اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی۔

تدبر القرآن .... سورۃ البقرہ ..... نعمان علی خان .... حصہ- 45

تصویر
تدبر القرآن  سورۃ البقرہ  نعمان علی خان   حصہ-45
فإذا قرأۃ القرآن فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم 
اگر آپ درست اور مثبت رویہ اپنائیں گے تو قرآن آپ کو ہدایت دے گا، دوسری صورت میں جب آپ اسے سرسری سا پڑھتے ہیں تو یہ کبھی بھی آپکی رہنمائی نہیں کرے گا. اب لوگوں کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ جب ہمارا بھٹکنا اور ہدایت یافتہ ہونا پہلے سے طے شدہ ہے تو پھر ہماری کیا حیثیت ہے؟ ہمارا تو کوئی قصور نہیں. اللہ رب العزت خود اس بات کی وضاحت فرماتے ہیں کہ کون کون سے لوگ قرآن کی رہنمائی کے مستحق نہیں. اللہ نے خود ان لوگوں کو چھانٹ کر الگ کر دیا ہے. حالانکہ یہ کتاب تو "کتاب ہدایت" ہے، تو پھر کون سے بد قسمت لوگ ہیں جو اس سے بھٹکتے ہیں؟  وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ  اللہ تعالٰی نے "وما یضل بہ احدا" نہیں کہا.(اور وہ نہیں بھٹکاتا کسی ایک کو) آیت نمبر 26 میں کسی مستثنٰی کا ذکر نہیں ہے. یہ اوپن اینڈڈ ہے. اللہ نے کسی خاص انسان یا مخلوق کا نام نہیں لیا. اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ یہ کسی کو بھی نہیں بھٹکاتا سوائے فاسقوں کے. سوائے ان لوگوں کے جن کی کرپشن واضح ہو چکی ہے.  فسق عربی زبان میں اس…

نیکیوں کا تحفظ .... خطبہ جمعہ مسجد نبوی

تصویر
نیکیوں کا تحفظ .... خطبہ جمعہ مسجد نبوی بشکریہ: اردو مجلس فورم
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے۔ 
خطبے سے منتخب اقتباس درج ذیل ہے:
مسلمانو! تم تنہا ہو یا بزم میں تقوی اختیار کرو گے تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے۔
بہترین مقصد اور اعلی ترین ہدف یہ ہے کہ انسان نیکیوں کیلیے جد و جہد میں تاخیر مت کرے، نیکیوں کی بہاروں میں ڈھیروں نیکیاں کمائے:  {وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ}  سبقت لے جانے والے ہی آگے بڑھنے والے ہیں [10] یہی لوگ مقرب بھی ہیں۔[الواقعہ: 10، 11]
ماہِ رمضان میں نیکیاں سمیٹنے اور ہمہ قسم کی عبادت کے ذریعے قربِ الہی کی جستجو کا موقع ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں ہے کہ: (جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے روزہ رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں)…

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل