اشاعتیں

2017 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کبھی ایسا ہو!!!!

تصویر
میں نے یہ نظم ایک جگہ پڑھی بہت خوبی سے سوچ پہ دستک دی گئی ہے ترجمہ کرنے کا سوچا مگر کچھ چیزیں اصل ہی بھلی لگتی ہیں تو جوں کی توں پیش خدمت ہے


I WONDER ...

If the Prophet Muhammadﷺ visited you،
just for a day or two,
If he came unexpectedly
I wonder what you would do.


Oh, I know you'd give your nicest room
To such an honored guest,
And all the food you'd serve him
would be the very best,


And you would keep assuring him,
You're glad to have him there,
That serving him in your home,
Is joy beyond compare.


But... when you saw him coming,
Would you meet him at the door,
With arms outstretched in welcome
To your honored visitor?


Or... would you have to change your clothes
before you let him in?
Or hide some magazines and put
the Qu'ran where they had been?


Would you still watch the same movies
On your T.V. set?
Or would you switch it off
Before he got upset?


Would you turn off the radio
And hope he hadn't heard?
Or wish you hadn't uttered
that last nasty word?


Would you hide…

اپنائیت کبھی نہ چھوڑو دوبارہ پوچھو

تصویر
~!~ اپنائیت کبھی نہ چھوڑو دوبارہ پوچھو ~!~
ڈپریشن
دبے پاؤں آ کر بیٹھ جاتا ہے
ہمارے اندر
چپ چاپ

اندھیرے کسی کونے میں
چلو اسے جانیں
پہچانیں

ہلکی سی بھی کوئی نظر چھپائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو دیکھیں دوبارہ

تھوڑا سا بھی کوئی ڈگمگائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو تھامیں دوبارہ

ذرا سا بھی کچھ صحیح نہ لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پوچھیں دوبارہ

پروا ہے 
تو دوبارہ پوچھو
بشکریہ ندا ابرار عمر الیاس 

تدبر القرآن۔۔۔۔ سورۃ البقرہ۔۔۔۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔۔۔۔ حصہ- 39

تصویر
تدبر القرآن سورۃ البقرہ نعمان علی خان حصہ- 39 فإذا قرأۃ القرآن فاستعذ بالله من الشيطان الرجيم 
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم وَبَشِّرِ الَّذِين آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُواْ مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقاً قَالُواْ هَـذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأُتُواْ بِهِ مُتَشَابِهاً وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔ 25
خوش خبری دیجیے لوگوں کو.
 یہ پیغمبر اسلام کی سنت ہے. اللہ کی طرف سے مصحف میں وہ پہلا حکم جو براہ راست پیغمبر اسلام کو دیا گیا ہے. کیا ہے بھلا ؟ *بَشِّر* مبارکباد دیں. خوشخبری دیں. یہاں اللہ تعالٰی ایمان والوں کو انداز سکھا رہے ہیں کہ دعوت کا کام کیسے کرنا ہے؟ 
*وَبَشِّرِ الَّذِين آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ* 
اس آیت میں لفظ *عملو* کا استعمال کیا گیا . اعمال الصالحات یعنی نیک اعمال. صالحات= جمع مؤنث سالم ہے. جمع کی چھوٹی مقدار. خوشخبری دیں ان کو جو ایمان لائے اور چند (گنے چنے) نیک اعمال سر انجام دیئے. اللہ تعالٰی …

خطاب بہ جوانان اسلام ... از علامہ اقبال

تصویر
خطاب بہ جوانان اسلام
علامہ محمد اقبال

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا

تمدن آفریں خلاق آئین جہاں داری
وہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارا

سماں ‘الفقر فخری’ کا رہا شان امارت میں
”بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روے زیبا را”

گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا

غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے
جہاں گیر و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا

اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارا

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سیارا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارا

مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

”غنی! روز سیاہ پیر کنعاں را تماشا کن
کہ نور…

تدبر القرآن ۔۔۔ سورہ العلق ۔۔۔ پروفیسر محمد عقیل

تصویر
سورہ العلق کی تشریح پروفیسر محمد عقیل پس منظر سورہ العلق کی ابتدائی پانچ آیات وہ پہلی وحی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں۔ ان پانچ آیات کے بعد دیگر آیات کچھ عرصے بعد نازل ہوئیں۔
۱۔ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِىْ خَلَقَ (1) اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے سب کو پیدا کیا۔
تشریح: عام طور پر اس آیت کے پہلے لفظ پر بہت زیادہ فوکس کیا جاتا ہے جس کی بنا پر اس آیت کا پورا مفہو م ہی بدل جاتا ہے۔ یہاں اقرا کا لفظ ایک حکم اور ہدایت ہے۔ جیسے قرآن میں کئی مقامات پر نبی کریم کو کہا گیا کہ ” قل” یعنی کہہ دو۔ تو اسی طرح یہاں اللہ تعالی فرشتے کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے رہے ہیں کہ ” پڑھو” یعنی جو کچھ وحی تمہیں دی جارہی ہے اسے پڑھو۔ اسی لیے جب جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غار حرا میں ملے اور وحی کا یہ ابتدائی حکم دیا کہ ” پڑھو” تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ” ماانا بقاری ” یعنی میں تو پڑھا ہوا نہیں تو کیسے پڑھوں یا کیا پڑھوں۔ تو اگر ہم اقرا کے لفظ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جانے والی ایک کمانڈ یا ہدایت مان …

آج کی بات ۔۔۔ 20 اپریل 2017

تصویر
~!~ آج کی بات ~!~
اپنی ذات کی "کرپشن" ڈھونڈ کر اسے "ضمیر" کی عدالت میں پیش کردیں، ضمیر وہ جج ہے جو کبھی غلط فیصلہ نہیں دیتا۔
از: سید اسرار احمد
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا علامہ محمد اقبال

ویک اپ کال!!

تصویر
اکثر قدرت ہمیں "ویک اپ کال" دیتی ہے، اپنی راہ درست کرنے کے لیے، اپنی غلطی سدھارنے کے لیے، اپنا محاسبہ کرنے کے لیے، کبھی بیماری کی صورت، کبھی پریشانی کی صورت، کبھی محرومی کی صورت، کبھی نعمت کی صورت،  کبھی خوشحالی کی صورت اور کبھی خوشی کی صورت بھی ۔۔۔ عقل مند وہ ہے جو وقت پہ اس کو پہچان لے اور لوٹ آئے اپنے رب کی طرف۔ ورنہ صرف 'کاش' رہ جاتا ہے زندگی میں۔۔۔۔  ~ سیما آفتاب ~
" وہ دس دن" از جاوید چوہدری وہ ایک تبدیل شدہ انسان تھا، میں اس سے پندرہ سال قبل ملا تو وہ ایک شیخی خور انسان تھا، وہ لمبی لمبی ڈینگیں مار رہا تھا ،،میں نے لانگ آئی لینڈ میں پانچ ملین ڈالر کا فلیٹ خرید لیا، میں نے نئی فراری بُک کروا دی، میں چھٹیوں میں بچوں کو ہونو لولو لے گیا، میں نے پچھلے سال ایدھی فاؤنڈیشن کو پانچ کروڑ روپے کا چیک بھجوا دیا اور آئی ہیٹ دس کنٹری،، وغیرہ وغیرہ، اس کی باتوں میں شیخی، ڈینگ، بناوٹ اور نفرت سارے عناصر موجود تھے۔
میں آدھ گھنٹے میں اکتا گیا، مجھے اس کی رولیکس واچ، گلے میں دس تولے کی زنجیر، بلیک اطالوی سوٹ، ہوانا کا سیگار اور گوچی کے جوتے بھی تنگ کر رہے تھے، …

مقصدِ زندگی

تصویر
~!~ مقصدِ زندگی ~!~  بشکریہ: افتخار اجمل بھوپال
کوشاں سبھی ہیں رات دن اک پل نہیں قرار ۔ ۔ ۔ ۔ پھرتے ہیں جیسے ہو گرسنہ گُرگِ خونخوار
اور نام کو نہیں انہیں انسانیت سے پیار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ بات کیا جو اپنے لئے جاں پہ کھیل جانا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سیرت نہ ہو تو صورتِ سُرخ و سفید کیا ہے ۔ ۔ دل میں خلوص نہ ہو تو بندگی ریا ہے
جس سے مٹے نہ تیرگی وہ بھی کوئی ضیاء ہے ۔ ِضد قول و فعل میں ہو تو چاہيئے مٹانا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بھڑ کی طرح جِئے تو جینا تيرا حرام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جینا ہے یہ کہ ہو تيرا ہر دل میں احترام
مرنے کے بعد بھی تيرا رہ جائے نیک نام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تجھ کو یاد رکھے صدیوں تلک زمانہ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وعدہ ترا کسی سے ہر حال میں وفا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا نہ ہو کہ تجھ سے انساں کوئی خفا ہو
سب ہمنوا ہوں تیرے تُو سب کا ہمنوا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ جان لے ہے بیشک گناہ “دل ستانا”

تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ-38

تصویر
تدبر القرآن سورۃ البقرہ نعمان علی خان حصہ-38
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کچھ ایسے لوگ ہیں (انا للہ و انا الیہ راجعون) جو کبھی نماز جمعہ کے لئے بھی نہیں آتے. آپ ان لوگوں کو صرف عیدین پر ہی دیکھتے ہیں. اب اگر امام صاحب بھی ان سے غصہ کا اظہار کریں کہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ نماز عید تو فرض بھی نہیں ہے. اتنے عرصے بعد آئے ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے. وغیرہ وغیرہ. اوہ بھائی! اس وقت اگر آپ کسی کے ساتھ یہ سلوک کریں گے تو ردعمل کے طور پر وہ اگلی دفعہ عید کے لئے بھی نہیں آئے گا. براہ مہربانی رک جائیں . یہ ایسا وقت ہے کہ آپ اسے امید دلائیں کہ وہ دوبارہ آنے کی ہمت کر پائے. ایسے لوگوں کو اپنی گفتگو سے نرمی کا احساس دلائیں. بصورت دیگر وہ احساس جرم کا شکار ہو جائے گا. اور دوبارہ کبھی مسجد نہ آنے کا، نماز نہ پڑھنے کا عزم کر لے گا. آپ اس کو کہہ سکتے ہیں کہ بے شک کافی عرصہ سے آپ نے اللہ کو چھوڑا ہوا تھا، لیکن اللہ نے تو آپ کو کبھی بھی نہیں چھوڑا. آپ جب چاہیں اللہ کی طرف واپس آسکتے ہیں. اس کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے. جنت ہر اس شخص کے لیے ہے جو یقین رکھتا ہے ایمان رکھتا ہے. 

آج کی بات ۔۔۔ 18 اپریل 2017

تصویر
~!~ آج کی بات ~!~
ہر دن کا بہترین سبق وہ ہے جو انسان اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے اپنی شخصیت کے اندر ایک مثبت تبدیلی پیدا کرنے کے لیے حاصل کر لیتا ہے۔

عبرت اور غور و فکر

تصویر
عبرت اور غور و فکر مقتبس از خطبہ جمعہ مسجد النبوی
عبرت حاصل کرنا اور سبق آموزی روشن ذہنوں کا خاصہ ہے، عبرت حاصل کرنا؛ تجربہ کاری اور بصیرت کی علامت ہوتی ہے، دوسروں سے سبق حاصل کرنے کا عمل انسان کو کامیابیوں سے ہمکنار کرتا ہے اور تباہی سے نجات دلاتا ہے، اس کی وجہ سے عبرت پکڑنے والا شخص مثبت اقدامات کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ نیز اس سے انسان کو نیک اور باصلاحیت لوگوں کے راستے پر چلنے کی رہنمائی ملتی ہے، اور اس کے لیے نتائج مثبت برآمد ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی شخص کو سبق حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا تو اس کو سمجھانا بھی سود مند ثابت نہیں ہوتا، آخر کار وہ تباہی سے دوچار ہو جاتا ہے اور ہوس پرست بن جاتا ہے، ایسا شخص منفی سوچ کے حاملین کے پیچھے چلتا ہے اور اپنے آپ کو پشیمان ہونے والوں میں شامل کر لیتا ہے۔ عبرت حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ:
٭ حالیہ یا ماضی کی اندوہناک صورتحال کو دیکھ کر، اِن کے اسباب سے بچتے ہوئے بہتری کی جانب بڑھنا، یا پھر:
٭ صالحین کی سیرت اور اللہ تعالی کی طرف سے انہیں ملنے والے انعامات دیکھ کر ان کے طور طریقے کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دینے کا نام عبرت حاصل ک…