اتوار, دسمبر 29, 2013

بدھ, دسمبر 25, 2013

قائد سا رہبر--- ذاتی کاوش


ہمیں اب پھر ضرورت ہے
کسی قائد سے رہبر کی
جو اس ٹوٹی بکھرتی قوم کو پھر ایک جاں کردے
کہ اس کی رہبری میں پھر چلے یہ کارواں اپنا
اور اپنے دیس کو اک بار پھر سے ہم کریں تعمیر
بھلا کے دل سے ہر نفرت
نہ قوموں میں بٹیں ہم یوں
بس اک قوم بن کر پھر سے اس دنیا پہ چھا جائیں
ہمیں اب پھر ضرورت ہے
کسی قائد سے رہبر کی
ہماری ڈوبتی کشتی کو لہروں سے نکالے جو
ہمیں یکجا کرے اور کشتی کو سنبھالے جو

سیما آفتاب

اتوار, دسمبر 22, 2013

سمت کی اہمیت



ایک گاڑی خراب ہو گئی۔۔۔ ڈرائیور نے سوار لوگوں سے کہا کہ دھکا لگاؤ ۔۔۔ سوار اترے اور گاڑی کو اپنی اپنی سوچ کے مطابق دھکا لگانے لگے۔۔۔کچھ نے سائیڈ پر دھکا لگانا شروع کر دیا ۔۔۔ پھر ہوا یوں کہ گاڑی الٹ گئی ۔۔۔

ایک اور گاڑی خراب ہوئی ۔۔ ڈرائیور نے سواریوں کو دھکا لگانے کا کہا ۔۔۔ اس بار ڈرائیور نے انہیں کہا کہ دھکا اگلی سمت میں لگانا ہے تاکہ گاڑی سائیڈ پر لگا کر انجن چیک کر سکوں۔۔ اس بار بھی دھکا لگا یا گیا لیکن گاڑی الٹی نہیں بلکہ آگے بڑھی ۔۔۔

جب تک دھکا لگانے والوں کو سمت کا بتایا نہیں گیا تھا ، ان کی محنت نتیجہ تو لائی لیکن انتہائی تکلیف دہ ۔۔۔ لیکن جب وہی محنت درست سمت میں ، ایک ساتھ ہوئی تو نتیجہ بھی آیا ۔۔۔ گاڑی بھی چلی اور سڑک کی سائیڈ پر گاڑی لاتے ہوئے ، خطرات سے محفوظ کرتے ہوئے۔۔ ڈرائیور کو موقع ملا کہ گاڑی کو درپیش مسئلہ سلجھا سکے۔۔۔

کہتے ہیں سو میل بھی جانا ہو ۔۔۔یا دس قدم چلنے ہوں ، پہلا قدم ہی کامیابی کی ضمانت بنتا ہے بشرطیہ کہ ٹھیک سمت میں اٹھا یا جائے۔۔۔ اب اگر اس مثال سے، ڈائیرکشن کا پہلو نکال دیں تو دس قدم بھی بے معنی اور تکلیف دہ اور سو میل بھی بےمعنی اور تکلیف دہ بن جاتے ہیں۔۔۔

پس ثابت ہوا کہ سمت سب سے اہم جز ہے ۔۔۔ چاہے کوئی بھی عمل کی ہو ۔۔۔ سمت مقصد کا راستہ بناتی اور بتلاتی ہے۔۔ جو افراد کے لئے مقصد کی طرف چلنے کو سہل اور تمام دشواریوں کے با وجود ، پر لطف بنا ڈالتی ہے ۔۔۔ لیکن وہ مقصد جس کے حصول کے لئے متضاد سمتیں ہوں ۔۔۔ تکلیف دہ ،مشکل اور افراد کو بے حس کر دیتا ہے۔۔۔

پھر ماہ دسمبر آیا ہے-

پھر ماہ دسمبر آیا ہے
سنگ اپنے بہت کچھ لایا ہے
کچھ اوڑھ کے رنگ اداسی کے
کچھ درد بھرے پچھتاوے ہیں
کچھ ٹوٹے بکھرے وعدے ہیں
کچھ دل میں خوشی کی پیاس لیے
کچھ امیدیں، کچھ آس لیے
اس ماہ دسمبر میں یارو
چلو آو سبھی پیمان کریں
کہ دل سے بھلا کر ہر رنجش
آپس میں دل ہم جوڑیں گے
ناکامی سے منہ موڑ کے ہم
پھر ہمت اپنی جوڑیں گے
دامن کو چھڑا کر ہر غم سے
خوشیوں سے رشتہ جوڑیں گے
سب بھول کے اپنے سود و زیاں
نئے سال کا کھاتہ کھولیں گے

سیما آفتاب
27-12-2011
پھر ماہ دسمبر آیا ہے
سنگ اپنے بہت کچھ لایا ہے
کچھ اوڑھ کے رنگ اداسی کے
کچھ درد بھرے پچھتاوے ہیں
کچھ ٹوٹے بکھرے وعدے ہیں
کچھ دل میں خوشی کی پیاس لیے
کچھ امیدیں، کچھ آس لیے
اس ماہ دسمبر میں یارو
چلو آو سبھی پیمان کریں
کہ دل سے بھلا کر ہر رنجش
آپس میں دل ہم جوڑیں گے
ناکامی سے منہ موڑ کے ہم
پھر ہمت اپنی جوڑیں گے
دامن کو چھڑا کر ہر غم سے
خوشیوں سے رشتہ جوڑیں گے
سب بھول کے اپنے سود و زیاں
نئے سال کا کھاتہ کھولیں گے

سیما آفتاب
27-12-2011

پیر, دسمبر 16, 2013

بنجارہ نامہ


بنجارہ نامہ - نظیر اکبر آبادی

ٹک حرص و ہوس کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا
قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارہ
کیا بدھیا، بھینسا بیل شتر، کیا گونیں پلّا، سر بھارا
کیا گیہوں چاول موٹھ مٹر، کیا آگ دھواں اور انگارہ
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

گر تو ہے لکھی بنجارہ اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے
اے غافل تجھ سے بھی چڑھتا اک اور بڑا بیوپاری ہے
کیا شکر مصری قند گری، کیا سانبھر میٹھا کھاری ہے
کیا ڈھاک منقہ سونٹھ مرچ، کیا کیسر لونگ سپاری ہے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

یہ بدھیا لادے بیل بھرے جب پورب پچھم جاوے گا
یہ سود بڑھا کے لاوے گا یا ٹوٹا گھاٹا پاوے گا
قزاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گا
دھن دولت ناتی پوتا کیا کچھ کنبہ کام نہ آوے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

ہر منزل میں اب ساتھ ترے، یہ جانا ڈیرہ، ڈانڈا ہے
زر، دام، درم کا بھانڈا ہے، بندوق، سپر اور کھانڈا ہے
جب نائیک تن کا نکل گیا، جو ملکوں ملکوں بانڈا ہے
پھر ہانڈا ہے نا بھانڈا ہے، نہ حلوا ہے نہ مانڈا ہے
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

جب چلتے چلتے رستےمیں یہ جون تیری ڈھل جاوے گی
اک بدھیا تیری مٹی پر پھر گھاس نہ چرنے آوے گی
یہ کھیپ جو تو نے لادی ہے، سب حصوں میں بٹ جاوے گی
دھن پوت، جمائی بیٹا کیا، بنجارن پاس نہ آوے گی
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

یہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے، یہ کھیپ میاں مت گن اپنی
اب کوئی گھڑی، پل ساعت میں، یہ کھیپ بدن کی کھپنی ہے
کیا تھال کٹورے چاندی کے، کیا پیتل کی ڈبیا دھپنی
کیا برتن سونے روپے کے، کیا مٹی کی ہنڈیا دھپنی
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

کچھ کام نہ آوے گا تیرے، یہ لال زمرّد سیم و زر
جب پونجی باٹ میں بکھرے گی، پھر آن بنے گی جان اوپر
نقارے نوبت، بان، نشان، دولت حشمت فوجیں لشکر
کیا مسند تکیہ مِلک مکان، کیا چوکی کرسی تخت چکر
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

کیوں جی پر بوجھ اٹھاتا ہے، ان گونوں بھاری بھاری کے
جب موت کا ڈیرہ آن پڑا پھر دونے ہیں بیوپاری کے
کیا ساز جڑاؤ زر زیور، کیا گوٹے تھان کناری کے
کیا گھوڑے زین سنہری کے کیا ہاتھی لال عماری کے
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

مغرور نہ ہو تلواروں پر، مت پھول بھروسے ڈھالوں کے
سب پٹّا توڑ کے بھاگیں گے، منہ دیکھ اجل کے بھالوں کے
کیا ڈِبّی موتی ہیروں کی، کیا ڈھیر خزانے مالوں کے
کیابکچے تاش مُشجّر کے، کیا تخت شال دو شالوں کے
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

کیا سخت مکان بنواتا ہے، خم تیرے بدن کا ہے پولا
تو اونچے کوت اٹھاتا ہے، واں دیکھ گور گڑھے نے منہ کھولا
کیا ریتی، خندق، رن بھرے، کیا برج، کنگورہ انمولا
گڑھ، کوٹ، رہاکا توپ قلعہ، کیا شیشہ دارو اور گولا
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

ہر آن نفع اور ٹوٹے مین کیوں مرتا پھرتا ہے بن بن
ٹُک غافل دل میں سوچ زرا ہے ساتھ لگا تیرے دشمن
کیا لونڈی باندی، دائی دوا، کیا بندہ چیلا نیک چلن
کیا مندر مسجد ٹال کنواں، کیا گھاٹ سرا کیا باغ چمن
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

جب مرگ پھرا کر چاہک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گا
کوئی ناز سمیٹے گا تیرے کوئی گون سیئے اور ٹانکے گا
ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں، تو خاک لحد کی پھانکے گا
اس جنگل میں پھر آہ نظیر اک بھنگا آن نہ جھانکے گا
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

تفہیم القرآن



"قرآن کے متعلق یہ بات بھی ایک عام ناظر کے کان میں پڑی ہوئی ہوتی ہے کہ یہ ایک مفصل ہدایت نامہ اور ایک کتاب آئین ہے۔ مگر جب وہ اسے پڑھتا ہے تو اس میں معاشرت اور تمدن اور سیاست اور معیشت وغیرہ کے تفصیلی احکام و ضوابط اس کو نہیں ملتے۔ بلکہ وہ دیکھتا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ جیسے فرائض کے متعلق بھی، جن پر قرآن بار بار اس قدر زور دیتا ہے، اس نے کوئی ایسا ضابطہ تجویز نہیں کیا ہے جس میں تمام ضروری احکام کی تفصیل درج ہو۔ یہ چیز بھی آدمی کے ذہن میں خلجان پیدا کرتی ہے کہ آخر یہ کس معنی میں ہدایت نامہ ہے۔
اس معاملے میں ساری اُلجھن صرف اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ آدمی کی نگاہ سے حقیقت کا ایک پہلو بالکل اوجھل رہ جاتا ہے، یعنی یہ کہ خدا نے صرف کتا ب ہی نازل نہیں کی تھی بلکہ ایک پیغمبر بھی مبعوث فرمایا تھا۔ اگر اصل ا سکیم یہ ہو کہ بس ایک نقشہ تعمیر لوگوں کو دے دیا جائے اور لوگ اس کے مطابق خود عمارت بنا لیں، تو اس صورت میں بلا شبہ تعمیر کے ایک ایک جز کی تفصیل ہم کو ملنی چاہیے۔ لیکن جب تعمیری ہدایت کے ساتھ ایک انجینیر بھی سرکاری طور پر مقرر کر دیا جائے اور وہ ان ہدایت کے مطابق ایک عمارت بنا کر کھڑی کر دے، تو پھر انجینیر اور اس کی بنائی ہوئی عمارت کو نظر انداز کر کے صرف نقشے ہی میں تمام جزئیات کی تفصیل تلاش کرنا، اور پھر اسے نہ پا کر نقشے کی نا تمامی کا شکوہ کرنا غلط ہے۔ قرآن جزئیات کی کتاب نہیں ہے بلکہ اصول اور کلیات کی کتاب ہے۔"

اقتباس از- مقدمہ تفہیم القرآن : http://www.tafheemulquran.net/1_Tafheem/Suraes/Muqadma.html

ہفتہ, دسمبر 14, 2013

پنسل اور ہم


پنسل اور ہم :
 لكهارى نامعلوم

ایک ماہر پنسل ساز نے ایک بہت خوبصورت پنسل بنائی،
پنسل کو پیک کرنے سے پہلے اس نے اپنی خوبصورت تخلیق کو ستائش بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا!!!

میں نے اپنے کمالِ فن کی انتہا کرتے ہوئے تجھے ایک بے مثال شکل و صورت دی ہے لیکن تم اس سے بھی خوبصورت بن سکتی ہو اگر تم میری پانچ باتیں غور سے سُن لو۔
ان باتوں پر عمل کرکے تم دنیا کی بہترین پنسل بن سکتی ہو۔

پہلی بات!

تم بہت عمدہ اور عظیم کارنامے سر انجام دے سکتی ہو، بشرطیکہ تم خود کو کسی ماہر اور کامل ہاتھ کے حوالے کر دو۔

دوسری بات!

تمہیں بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گذرنا پڑے گا۔
لیکن ایک بہترین اور کارآمد پنسل بننے کے لئے اس اذیت کو حوصلے سے برداشت کرنا تمہارے لئے ضروری ہو گا۔


تیسری بات!

تم اُن غلطیوں کو درست کرنے کی اہل ہو جو تم سے سرزد ہو سکتی ہیں۔
درستی کرنے سے کبھی بھی ہچکچانا مت۔

چوتھی بات!

تمہارا سب سے اہم حصہ میں نے تمہارے اندر رکھا ہے۔ 
اس کی نگہداشت کرنا۔
پانچویں بات!

تمہاری لکھنے کی صلاحیت تمہارے آخری سرے تک ہے۔
حالات خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہوں، تمہیں آخر دم تک لکھنا جاری رکھنا ہے، اور جس سطح پر بھی تمہیں استعمال کیا جائے تم نے اپنا نشان وہاں چھوڑنا ہے۔

پنسل نے ان تمام باتوں کو دھیان سے سنا۔ انہیں گرہ سے باندھ کر رکھنے کا عزم کیا۔ اور انجانی منزلوں کی جانب عازمِ سفر ہوئی۔

اب اگر ہم خود کو اس پنسل کی جگہ رکھ لیں اور ان ہی پانچ باتوں کو ہمیشہ یاد رکھیں تو ہم بلاشبہ اشرف المخلوقات، مسجودِ ملائک یعنی بہترین انسان بن سکتے ہیں کیونکہ ہمارے خالق نے بڑے فخر سے ہمیں اپنی بہتریں تخلیق قرار دیا ہے۔

پہلی بات!


ہم فوز و فلاح کی رفعتوں کو چُھو سکتے ہیں بشرطیکہ ہم اپنی ذات کو کُلی طور پر خالق و مالکِ کائنات اور اُس کے مبعوث کردہ ہادیءِ برحق کے ہاتھ میں دے دیں۔

دوسری بات!

ہمیں بار بار تراشے جانے کے اذیت ناک مراحل سے گذرنا ہو گا، جو مختلف آزمائشوں اور مسائل کی صورت میں ہمارے سامنے آئیں گے۔
ہمیں ان سب کو ہمت، حوصلے اور صبر کے ساتھ برداشت کرنا ہو گا۔

تیسری بات!

ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اور اس میں کسی قسم کی جھجھک یا ہچکچاہٹ نہیں ہونا چاہئے۔

چوتھی بات!

ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہمارے اندر ہے، ہمارا قلب ِ سلیم۔
ہمیں اسے تمام کثافتوں اور آلائشوں سے بچانا ہے۔

پانچویں بات!

ہم زندگی کی جس بھی سٹیج پر ہوں، ہمیں اپنے نقوشِ پا چھوڑنا ہیں، حالات خواہ کچھ بھی ہوں ہمیں آخر دم تک سر گرمِ عمل رہنا ہے۔

یاد رکھئے کہ ہم میں سے ہر فرد ایک خصوصی اور منفرد شخصیت کا حامل ہے۔

آپ کو جس خصوصی مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے وہ صرف اور صرف آپ ہی پورا کر سکتے ہیں۔

اس یقین کے ساتھ زندگی بسر کریں کہ اس وسیع کائنات کو آپ کی ضرورت ہے، اسی لئے خالقِ کائنات نے آپ کو تخلیق فرمایا ہے۔

کیونکہ وہ تو کوئی شے بھی فضول اور بے مقصد تخلیق نہیں فرماتا۔



 

ایسے ہی ہوتے ہیں


جب عورت اپنے مرد کی کوئى خراب عادت یا کوئى اخلاقی رخنہ دور کرنے میں ناکام رهتی هے تو کہتی هے
"مرد ایسے هی هوتے هیں"-
ماں کا جب بچے کی شرارت یا بدتمیزی پہ بس نہیں چلتا تو ماں کہتی هے
"بچے اسی طرح کرتے هیں"-
مرد جب عورت کی بدزبانی ،بداخلاقی یا بری عادات کے آگے هار جاتا هے تو کہتا هے
"عورتیں ایسی هی هوتی هیں"-

يہ اعلان کر کے پتا نہیں وه خود کو بری الذمہ باور کروا رهے هوتے هیں یا اپنی شرمندگی اور ناکامی چھپا رهے هوتے هیں یا پھر اپنے بجائے معاشرے کو اس بگاڑ کا ذمہ دار ثابت کرنے کی کوشش کر رهے هوتے هیں-
کچھ بھی هو، یہ بات تو طے هے کہ اس بودے بہانے سے آپ کو اپنے اندر کا اطمینان حاصل نہیں هو سکتا-
کیونکہ اگر مان بھی لیا جائے کہ يہ سب ایسے هی هوتے هیں، تو اگلا سوال یہ اٹھتا هے کہ
کیا ایسے هی هونے چاهئیں؟
کیا ایسے هونا ٹھیک هے؟
اگر نہیں، تو پھر ایسے کیوں هیں؟
یہ سارے سوال همیں دھکیل کر پھر واپس پہلے سرے پر لا کھڑا کرتے هیں-

چنانچہ اطمینان غلطی مان لینے میں اور اس کو سدھارنے کی هر ممکن کوشش کرتے رهنے میں هى هے-

اور جب آپ نے غلطی تسلیم کرلی اور اس كو درست کرنے کا بیڑه اٹھا لیا تو پھر سب سے پہلے آپ خود اپنے آپ کو درست کریں گے-
جب آپ نے خود کو درست کر لیا تو سمجھیں سب کچھ اپنے آپ درست هوتا چلا جائے گا-

تحریر: نیلم ملک

جمعہ, دسمبر 13, 2013

ہمیں وہ آزماتا ہے


ہمیں وہ آزماتا ہے
تو اُس کے آزمانے کے
عجب اوزان ہیں، جن کو
نہ ہم سمجھے
نہ تم سمجھے
نہ کوئی اور سمجھا ہے
زمین و آسماں میں کس قدر مخلوق ہے اُس کی
کسی کو بھی نہیں، وہ صرف ہم کو آزماتا ہے
ہماری زندگی کے ارتقاء کے بِیج بننے سے ہمارے پیڑ بننے تک
ہمیں وہ آزماتا ہے
کسی کو سات دیتا ہے
کسی کو سات سے زیادہ
کسی کو ایک دیتا ہے
کسی کو ایک سے بھی کم
وہ بس یہ دیکھتا ہے کہ
کوئی جب ٹُوٹتا ہے تو
وہ اپنے ظرف کی کِن وسعتوں پہ جا کے کتنا صبر کرتا ہے
ہمیں وہ آزماتا ہے
ہمیں وہ آزماتا ہے

شاعر: نامعلوم

جمعرات, دسمبر 12, 2013

لالچ کا نشہ



ایک بادشاہ نے کسی بات پر خوش ہو کر اس آدمی کو یہ اختیار دیا کہ وہ سورج غروب ھونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لے گا، وہ زمین اس کو الاٹ کر دی جائے گی۔ اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کر سکا اور سورج غروب ھو گیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔

یہ سن کر وہ شخص چل پڑا ۔ چلتے چلتے ظہر ھو گئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کر دینا چاھئے ،مگر پھر لالچ نے غلبہ پا لیا اور سوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں،، پھر واپسی کا خیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نے سوچا اس کو بھی اپنی جاگیر میں شامل کر لینا چاھئے۔

الغرض واپسی کا سفر کافی دیر سے شروع کیا ۔ اب واپسی میں یوں لگتا تھا جیسے سورج نے اس کے ساتھ مسابقت شروع کر دی ھے۔ وہ جتنا تیز چلتا پتہ چلتا سورج بھی اُتنا جلدی ڈھل رھا ھے۔ عصر کے بعد تو سورج ڈھلنے کی بجائے لگتا تھا پِگلنا شروع ھو گیا ھے۔

وہ شخص دوڑنا شروع ھو گیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا نطر آ رھا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کو کوس رہا تھا، مگر بہت دیر ھو چکی تھی۔ دوڑتے دوڑتے اس کا سینہ درد سے پھٹا جا رھا تھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رھا تھا -

آخر سورج غروب ہوا تو وہ شخص اس طرح گرا کہ اس کا سر اس کے اسٹارٹنگ پوائنٹ کو چھو رہا تھا اور پاؤں واپسی کے دائرے کو مکمل کر رھے تھے، یوں اس کی لاش نے دائرہ مکمل کر دیا-
جس جگہ وہ گرا تھا اسی جگہ اس کی قبر بنائی گئی اور # قبرپر کتبہ لگایا گیا، جس پر لکھا تھا:

"اس شخص کی ضرورت بس اتنی جگہ کی تھی جتنی جگہ اس کی قبر ھے"

بدھ, دسمبر 11, 2013

آج کی تاریخ (11-12-13 )






اس صدی کی آخری تاریخ جس میں 3 مسلسل عدد ہیں     
آخری تاریخ جو اگلے نوۤے برس تک نہیں آئے گی جس میں 3 مسلسل عدد ہوں
قیمتی تاریغ جو آپکی ذنگی میں کبھی دوبارہ نہیں آئے گی   

11-12-13 مبارک ہو   

کھلونے



بچہ اپنے کھیل میں جیسی سنجیدگی اور ہمہ تن محویت اور خود فراموشی دکھاتا ہے، بڑوں کے کسی مشن اور مہم میں اس کا عشر عشیر بھی نظر نہیں آتا۔ اس میں شک نہیں کہ دنیا کا بڑے سے بڑا فلسفی بھی کسی کھیل میں منہمک بچے سے زیادہ سنجیدہ نہیں ہوسکتا۔
کھلونا ٹوٹنے پر بچے نے روتے روتے اچانک روشنی کی طرف دیکھا تھا تو آنسو میں دھنک جھلمل جھلمل کرنے لگی تھی۔ پھر وہ سسکیاں لیتے لیتے سو گیا تھا۔ وہی کھلونا بڑھاپے میں کسی جادو کے زور سے اس کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے تو وہ بھونچکا رہ جاۓ گا کہ اس کے ٹوٹنے پر بھی بھلا کوئی اس طرح جی جان سے روتا ہے۔ یہی حال ان کھلونوں کا ہوتا ہے، جن سے آدمی زندگی بھر کھیلتا رہتا ہے۔ ہاں، عمر کے ساتھ ساتھ یہ بھی بدلتے اور بڑے ہوتے رہتے ہیں.....

~ مشتاق احمد یوسفی ~

منگل, دسمبر 10, 2013

درسِ فنا


بجھتا ہوا دیا یہ سزا دے گیا مجھے
میں شعلہ جنون تھا ، ہوا دے گیا مجھے

میں لہلہاتی شاخ کو سمجھا تھا زندگی
پَتّا گرا تو درس فنا دے گیا مجھے


سورج کی چند جاگتی کرنوں کا قافلہ
خوابیدہ منزلوں کا پتہ دے گیا مجھے

خوشبو کا ایک نرم سا جھونکا بہار میں
گزرے ہوئے دنوں کی صدا دے گیا مجھے

میرے لیے تو سانس بھی لینا محال ہے
یہ کون زندگی کی دعا دے گیا مجھے

میں خاموشی کا پیکر بے رنگ تھا " سحر "
اک شخص بولنے کی ادا دے گیا مجھے

اللہ کے دوست







جب عشق حقیقی کا ادراک ھو جاتا یے توخود بخود سب کچھ بدل جاتا ہے ۔ روز و شب کے معمولات پر واضح فرق نظر آتا ہے بلکہ سب سے خوبصورت تبدیلی انسان کے اندر آتی ہے۔ اور چونکہ اندر کی تبدیلی ہی باہر کی تبدیلی پر حاوی ہو جاتی ہے اسی لئے قلب و نظر ، ذہن و عقل ، روح کی طلب یکسر بدل جاتی ہے۔ من بے پرواہ ہوجاتا ہے بالکل اسی آیت کی طرح ، جس کا ترجمہ ہے۔۔

" نہیں کوئی خوف و پرواہ اﷲکے دوستوں کو"

جمعہ, دسمبر 06, 2013

مالے افریقہ کی ۸ سو سالہ قدیم مٹی کی مسجد


بسم اللہ الرحمن الرحیم
افریقی ملک مالے کا قدیم قصبہ ڈجنی یہ منفرد اعزاز رکھتا ہے کہ یہاں دنیا کی سب سے بڑی مٹی کی عمارت موجود ہے جو ایک ۸ سو سالہ قدیم مسجد ہے۔ یہ قصبہ دریائے نیجر کے ڈیلٹا میں واقع ہے ۔




اس قدیم مسجد کو برسات کی وجہ سے ہر سال مٹی کے تازہ لیپ کی ضرورت ہوتی ہے ، اور اس نیک کام میں ڈجنی کے تمام افراد رضاکارانہ حصہ لیتے ہیں ۔ ایک مقامی رہنما کے مطابق یہاں کے باشندے اسلام سے بہت محبت رکھتے ہیں ۔ جونہی اعلان ہوتا ہے کہ قریبی دریا میں موجود چکنی مٹی اب اس قابل ہے کہ اس سے مسجد کی لیپائی کی جا سکے ، بڑوں سے لے کر بچوں تک علاقے کے تمام لوگ مل کر رضاکارانہ طور پر مختلف ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں اور مسجد کی خدمت کا یہ موقع کسی عوامی میلے کا منظر بن جاتا ہے۔



اس قدیم مسجد اور اس کی خدمت کی منفرد روایت نے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ سمیت ماہرین تعمیر اور تہذیب و ثقافت کی توجہ حاصل کی ہے ۔ اس قدیم مسجد کی اہمیت کے پیش نظر اس کا ریپلکا فرانس میں مصری مسجد کے طور پر اور کوریا میں واقع افریقی آرٹ میوزیم میں بھی بنایا گیا ہے ۔

 (فرانس میں مصری مسجد جو مالی کی مسجد کا ریپلکا ہے ۔ )
https://www.facebook.com/photo.php?v=638124619572723&set=vb.508235532525166&type=2&theater 
برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی اس مسجد اور اس کی سالانہ خدمت کے موقع کی مختصر ڈاکیومنٹری بھی بنا چکا ہے جسے اس ربط پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس تاریخی مسجد اور لوگوں کی اس سے محبت کا احوال پڑھ کر جہاں بے حد خوشی ہوئی وہاں یہ تمنا بھی جاگی کہ کاش اذان کی ہر پکار پر مسلمان یونہی اپنے گھروں سے نکلیں اور اطاعت الہی کا یہ جذبہ دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کا تعارف بن جائے ۔ آمین۔


تحریر و ترجمہ: ام نورالعین

تصاویر بشکریہ : بی بی سی ارتھ، ٹموتھی ایلن
مزید حوالہ جات:
http://timothyallen.blogs.bbcearth.com/2009/06/17/extreme-makeover-mosque-edition/
http://www.geoworldonline.com/great-mosque-in-djenne-the-largest-mud-brick-building-in-the-world/
http://armchairtravelogue.blogspot.com/2009/01/worlds-largest-mud-brick-building.html
http://edwardgrocott.blogspot.com/2012/04/when-communities-care.html

جمعرات, دسمبر 05, 2013

فہم القرآن



قرآن کا فہم ــــ آسان یا مشکل


اللہ تعالیٰ نے سورہ قمر کی آیت ٣٢ میں قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ 'وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ' (ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیاہے اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا)۔ جب یہ قرآن آسان ہے تو پھر وہ کیا مشکلات ہیں جن کو حل کرتے ہوئے مفسرین اور قرآن کے ماہرین نے ایک ایک سورہ پر ہزاروں صفحات لکھ دیے ہیں؟

قرآن مجید کے فہم کے دو پہلو ہیں۔

ایک پہلو نصیحت کا ہے۔ اس اعتبار سے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ دنیا کی آسان ترین کتاب ہے۔ اس کا اگر اچھا ترجمہ ہی پڑھا جائے تو جس بنیادی چیز کی یہ یاددہانی کرانا چاہتی ہے، اسے یہ ہر پہلو سے واضح کر دیتی ہے۔ وہ بنیادی چیز یہ ہے کہ خدا ایک ہے، وہی عبادت کے لائق ہے اور انسانوں کو ایک دن اس کے حضور میں پیش ہونا ہے۔ آپ قرآن کو جہاں سے کھولیے، وہ یہ بات بیان کر رہا ہے۔

چنانچہ یہ بالکل بجا ہے کہ نصیحت اور یاددہانی حاصل کرنے کے لیے قرآن دنیا کی آسان ترین کتاب ہے۔ تاہم، اس ضمن میں واضح رہنا چاہیے کہ 'يسرنا' کا صحیح مفہوم ''آسان بنا دینا '' نہیں، بلکہ ''موزوں بنا دینا''ہے۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے نہایت موزوں بنا دیا ہے اور ظاہر ہے کہ موزونیت اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ اسے سمجھنے میں آدمی کو کوئی دشواری پیش نہ آئے، بلکہ وہ آسانی کے ساتھ اس کے مدعا تک پہنچ جائے۔

قرآن مجید کے فہم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ علماے اولین اور متاخرین کے لیے علمی اعتبار سے ہمیشہ محل تدبر رہا ہے۔ یہ ام القریٰ کی عربی معلی میں نازل ہوا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو زبان وادب اور فصاحت وبلاغت کا معجزہ قرار دیا اور قریش کو یہ چیلنج کیا کہ وہ اس کے مانند کوئی ایک سورہ ہی پیش کردیں۔

یہ ایک منفرد اسلوب کا حامل ہے جسے نہ نثر کہا جاسکتا ہے اور نہ نظم۔ اس کا ایک پس منظر اور ایک پیش منظر ہے۔ اس میں خطاب لحظہ بہ لحظہ بدلتا رہتا ہے۔ چنانچہ علما کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ کسی مقام پر مخاطب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، عام انسان ہیں، قریش مکہ ہیں یا یہودو نصاریٰ ہیں۔

چنانچہ اگر اس نوعیت کا فہم پیش نظر ہو تو یہ دنیا کی مشکل ترین کتاب ہے۔ مجھے خود زندگی میں بارہا اس کا تجربہ ہوا ہے کہ قرآن مجید کے ایک حصے کی برسوں تلاوت کی ہے، اس کو بار بار پڑھا ہے، وہ یاد بھی ہے، لیکن جب کوئی خاص مسئلہ پیش آیا اور اس پر غور کرنا شروع کیا تو اس کے ایسے پہلو نمایاں ہونے شروع ہو گئے جن کی طرف پہلے کبھی توجہ نہیں تھی۔ یہ قرآن مجید کا خاص کمال ہے۔
اس لحاظ سے اہل علم کبھی اس سے سیر نہیں ہوتے۔

چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام آدمی اسے نصیحت اور یاددہانی کے لیے سمجھنا چاہے تو کوئی مشکل نہیں ہے اور اگر امت کی اعلیٰ ذہانتیں اس کو اپنا موضوع بنائیں اور اس میں ہزاروں لاکھوں لوگ بھی کھپ جائیں تو کبھی و ہ اس کو یہ خیال کر کے ایک طرف نہیں رکھ سکتےکہ اب اسے ہر لحاظ سے سمجھ لیا گیا ہے