Jannat Ke Pattey



" آپ جنّت کے پتے کسے کہتے ہیں ؟ "
" آپ جانتی ہیں ' جب آدم علیہ سلام اور حوا جنّت میں رہا کرتے تھے؛ اس جنّت میں جہاں نہ بھوک تھی نہ پیاس' نہ دھوپ اور نہ ہی برہنگی.. تب الله نے انھے ایک ترغیب دلاتے درخت کے قریب جانے سے روکا تھا' تا کے وہ دون
وں مصیبت میں نہ پڑ جایں." وہ سانس لینے کو رکا ..." اس وقت شیطان نے ان دونوں کو ترغیب دلائی کے اگر وہ اس ہمیشگی کے درخت کو چھولیں تو فرشتے بن جاینگے یا پھر ہمیشہ رہینگے..انھے کبھی نہ پرانی ہونے والی بادشاہت ملیگی .. سو انہوں نے درخت چکھ لیا....حد پار کرلی ... تو انکو فورن بے لباس کردیا گیا.. اس پہلی رسوائی میں جو سب سے پہلی شے جس سے انسان نے خود کو ڈھکا تھا' وہ جنّت کے پتے تھے' ورق الجنّتہ "

( نمرہ احمد کے ناول " جنّت کے پتے" سے)

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

کہانی ہم سب کی

طاغوت کا انکار

آئینہ سوچ گر دکھانے لگے

آج کی بات ۔۔۔۔ 16 اکتوبر 2017

دور جدید کی بد تہذیبی: پگڑی اچھالنا - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

زمرہ جات

سوئے حرم رمضان غزلیں امید سورہ البقرہ دعا سفرِ حج ایمان، استقبال رمضان، خطبہ مسجد نبوی میرے الفاظ پاکستان شاعری میری شاعری محبت یاد حرم صراط مستقیم لبیک اللھم لبیک خلاصہ قرآن سفرنامہ شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی کچھ دل سے #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل دوستی سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، حکمت کی باتیں سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر آزادی باغبانی سورہ المؤمنون عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی ماں معلومات نمرہ احمد یوم دفاع آبِ حیات جنت جنت کے پتے خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 والد پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، سوشل میڈیا سوشل میڈیا، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا مسدس حالی مصحف موسیقی یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل