تدبرِ القرآن۔۔۔ سورہ الکھف ۔۔۔۔۔ استاد نعمان علی خان۔۔۔۔۔ حصہ-3

تدبرِ القرآن
سورہ الکھف
استاد نعمان علی خان
حصہ-3

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا - 18:10

"جب پناہ لی چند نوجوانوں نے غار میں تو کہنے لگے ہمارے رب عطا فرما ہمیں اپنی جانب سے رحمت۔ اور مہیا کر ہمیں ہمارے معاملات میں درستی"

وہ نوجوان غار میں کس مقصد سے گئے تھے؟
اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے۔
"اور وہ کہنے لگے "ہمارے رب عطا فرما ہمیں اپنی جانب سے رحمت۔ اور مہیا کر ہمیں ہمارے معاملات میں درستی"
یعنی، ہمارے معاملات درست فرمادے، اور ہماری رہنمائی فرما اس تک جو بہترین ہے۔
یہ نوجوان تھے، جوان لڑکے، ایک گروہ تھا لڑکوں کا جنہوں نے اپنا گھر چھوڑدیا تھا، اپنا شہر چھوڑدیا تھا، کیوں؟ صرف اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے۔ کیونکہ اس وقت کے بادشاہ نے اعلان کردیا تھا کہ جو کوئی ایمان لائے گا، بت پرستی سے دستبردار ہوگا اس کا قتل کردیا جائے گا۔ لوگوں کو مارا جارہا تھا۔ سو ایک طرف وہ مرنا نہیں چاہتے تھے اور دوسری طرف وہ اپنے ایمان پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ تو پھر انہوں نے کیا کیا تھا؟
انہوں نے اس جگہ کو چھوڑدیا تھا اور ایک غار میں چھپ گئے تھے۔
اپنا موازنہ ان نوجوانوں سے کرتے ہیں،
اگر اللہ نے انہیں ہدایت دی تھی، کیا وہ ہمیں ہدایت دے سکتا ہے؟ ہاں!
ہمارے حالات ان کی طرح بدترین نہیں ہیں۔
ان کی زندگی میں کیا ہورہا تھا؟
ان کی ترجیح کیا تھی؟
ان کا شوق کیا تھا؟
ان کا مقصد کیا تھا؟
اور میرا مقصد کیا ہے؟
میں کونسی چیز کی حفاظت کرنے کے لیے بھاگ رہا ہوں؟ کیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں؟
جب انسان بلوغت کو پہنچ جاتا ہے، تو اس کے اعمال لکھنا شروع کردیے جاتے ہیں، اور اس کو جزا یا سزا ان ہی اعمال کے مطابق ملے گی۔
تو اگر ہم جوان ہیں (ٹین ایج میں ہیں یا اس سے کچھ زیادہ) اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے پاس گناہ کرنے کا لائسنس ہے۔
ہم اب بڑے ہوچکے ہیں، ہمارے اعمال اب لکھے جارہے ہیں۔
اُن نوجوانوں کی طرف دیکھیں، وہ کیا کر رہے تھے؟ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے دوڑ رہے تھے۔
اور آج کل کیا ہوتا ہے؟
دوسرے لوگ ہمارے ایمان کی حفاظت کے لیے دوڑ رہے ہوتے ہیں، وہ ہماری منتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم اپنے ایمان کو بچالیں۔
جوانی ہماری زندگی کا بہت اہم حصہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس میں ہمیں سب سے زیادہ محنت کرنی چاہیے۔ ہم اسی وقت میں سیکھتے ہیں، کیونکہ جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی جاتی ہے اس کا دماغ کمزور ہوجا چلا جاتا ہے، جسم کمزور ہونے لگ جاتا ہے، بہت سی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، آپ کوئی کام اپنی پسند سے، آرام سے نہیں کرسکتے۔
اس وقت، آپ کے پاس آزادی ہے، آپ جو چاہے کرسکتے ہیں۔ اسلیے ہر دن ہر رات کی قدر کریں۔ اس انتظار میں مت بیٹھیں کہ میں بیس سال کا ہوجاؤں یا تیس سال کا ہوجاؤں تو کروں گا۔ ابھی شروعات کریں۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا:
"اللہ تعالی اُس دن سات لوگوں کو سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کسی کا سایہ نہ ہوگا۔۔اور ان میں سے ایک وہ ہے جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری۔"
ایک اور حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ
"بےشک تمہارا رب خوش ہے اس نوجوان سے جس میں صبوہ نہیں"
صبوہ کیا ہے؟ یہ مَیْل اِلَی اللَھْو ہے۔ جھکاو، کسی شے کا لگاو، اس کی طرف جھکنا۔
جیسے، موج مستی کرنا، نفس کی خواہشات کو پورا کرنا، جوانی کا جوش اور جذبہ۔ یہ صبوہ ہے۔
سو وہ شخص جس کا خود پہ قابو ہے۔ جو پارٹی کرسکتا تھا، دوستوں ساتھ گھوم پھر سکتا تھا، مگر اس نے وہ وقت قرآن پڑھنے میں لگایا۔ اللہ ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں، کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے آس پاس کتنی ایسی چیزیں ہیں جو ہمیں گمراہ کرسکتی ہیں۔
سو اگر کوئی ان چیزوں کے مقابلے میں اللہ کی مانتا ہے، یہ اللہ کو خوش کرتا ہے۔
اگر آپ حجاب کرتی ہیں، فجر کے لیے اُٹھتے ہیں، اللہ سب جانتا ہے، اور وہ خوش ہے۔ ایسا کبھی مت سوچیں کہ وہ بےخبر ہے ہمارے ان اعمال سے۔
اگر ہمارے اردگرد موجود لوگ ہماری محنت کو نہیں دیکھتے تو کیا ہوا۔ اللہ دیکھ رہا ہے نا۔ ہم ویسے بھی یہ سب اُسی کے لیے کر رہے ہیں۔
سو اللہ نے ان کی دعا سن لی اور انہیں بچا لیا۔
وہ کیسے؟

اللہ تعالی نے ان کی دعا سن لی۔۔اور ایک معجزے کے ذریعے انہیں اس مشکل سے بچا لیا۔۔
اللہ رب العزت نے انہیں اپنی طاقت کے ذریعے ایسی نیند سُلا دیا جس سے وہ تب تک نہ جاگے جب تک اللہ نے نہ چاہا۔۔ کوئی انہیں تلاش نہ کر سکا۔۔ ان کی جان اور ان کا ایمان دونوں محفوظ رہے۔۔
یہ سب کیوں ہوا؟؟ اللہ تعالی نے ان کی ایسی مدد کیوں کی؟؟
کیونکہ انہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے قربانی دی تھی۔
اور جو لوگ اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہیں، جو لوگ قربانیاں دیتے ہیں، اللہ انہی کے لیے معجزے کرتا ہے۔
استاد نعمان علی خان نے اس قصے کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نوجوان جو اللہ کی راہ میں قربانیاں دیتے ہیں، وہ جو اپنے دین کی حفاظت کرتے ہیں، خود کو شر سے بچاتے ہیں، ان نوجوانوں کے لیے معجزے ایسے ہوتے ہیں جیسے اگر میں اپنا موبائل گرادوں اور وہ زمین پہ جا گِرے اور دیکھنے والے شاک نہ ہوں کیونکہ ظاہر ہے اگر میں گراوں گا تو نیچے ہی گرے گا۔۔ عام سی بات ہے ایسا ہی ہوتا ہے۔۔
تو اُن نوجوانوں کے لیے بھی معجزے ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کوئی عام سی بات ہو۔۔
اگر ہم قدم اُٹھائیں گے، کوشش کریں گے، اللہ سے مدد طلب کریں گے تو اللہ تعالی ہمارے لیے آسانی پیدا کردیں گے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

آٹھ مصیبتیں

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل