تقدیر۔۔۔ فیصلے۔۔۔ زندگی

تقدیر۔۔۔ فیصلے۔۔۔ زندگی

عموماً جب بچے پانچ سے دس سال کے ہوتے ہیں تو سائیکل چلانا سیکھ جاتے ہیں پر مجھے سائیکل سیکھنے میں بہت وقت لگا ، سائیکل بڑے بھائی کی تھی لہٰذا میرے استاد بھی وہی ٹہرے ، جب ایک ماہ لگاتار محنت کے بعد بھی وہ مجھے سائیکل چلانا نہیں سکھا پائے تو ایک دن بٹھا کر پوچھنے لگے کہ آخر میرے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟
مسئلہ تو خیر مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا لہٰذا  بھائی کی طرف دیکھ کر کاندھے اچکا دیئے . پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد بھائی نے پوچھا
" اک بات بتاؤ جہانگیر، تم سائیکل چلاتے ہوئے ٹائر کو دیکھتے ہو یا سامنے روڈ پر ؟ "

بھائی میں تو ٹائر کو دیکھتا ہوں اور ہینڈل خود ہی ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور پھر میں گر جاتا ہوں ، میں نے معصومیت سے جواب دیا

بس یہی تو سارا مسئلہ ہے ، بھائی کو جیسے حل مل گیا تھا
اب سے تم ٹائر کی جانب نہیں دیکھو گے اپنی نظر سامنے روڈ پر رکھنا بس .
بھائی کی یہ بات پلے سے باندھ لی اور پھر ایک دو روز کی مزید محنت بعد میں اپنی توجہ سامنے روڈ پر مرکوز رکھنے میں کامیاب ہوگیا اور یوں ایک سے دو ماہ کے درمیان بالاخر میں نے سائیکل چلانا سیکھ ہی لی .

اب آتے ہیں اس وجہ کی جانب کہ آخر یہ قصہ آپ کو کیوں سنایا .

جناب بات کچھ ایسی ہے کہ ہماری زندگی بھی سائیکل کی سواری سیکھنے جیسا ہی عمل ہے ، جس میں ٹائر بطور تقدیر ذمہ داری نبھا رہے ہیں ، ہینڈل بطور ہمارے فیصلے اور روڈ بطور زندگی .
اب اگر ہم ٹائر (تقدیر) کو ہی دیکھتے رہیں گے تو ہمارے ہاتھ میں موجود ہینڈل ( ہمارے فیصلے ) ڈگمگاتے رہیں گے اور بطور نتیجہ ہماری سائیکل روڈ  (زندگی) پر بار بار گرے گی اور کبھی بھی ہم سنبھل نہیں پائیں گے .

یہ یاد رہے کہ الله پاک نے محض موت و زندگی کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے باقی ہماری تقدیر ہمارے فیصلوں سے نتھی کر رکھی ہے . جیسے ہمارے فیصلے ہوں گے ویسے ہی ہماری تقدیر بنے گی اور ہماری زندگی راہ پکڑے گی . لہٰذا بجائے اسکے کہ ہر وقت تقدیر کو ہی دیکھتے و کوستے رہیں ہم اپنے فیصلوں کو درست رکھتے ہوئے توجہ اپنی زندگی پر مرکوز رکھیں کہ ہماری تقدیر ہمارے فیصلوں سے بنتی ہے اور جتنے فیصلے مضبوط ہوں گے اتنی ہی ہماری زندگی پرسکون ہوگی .  

ملک جہانگیر اقبال

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے

  1. لو جی. اب سمجھ آئی کہ میرے ساتھ کیا مسئلہ رہا کیونکہ میں نے بائیسائیکل سیکھے بغیر چلانا شروع کر دیا تھا جب میری عمر اتنی تھی کہ والد صاحب کے بائیسائیکل کی گدی پر بیٹھوں تو میرے دونوں پاؤں کی انگلیاں اس وقت پیڈلوں کو چھوتی تھیں جب دونوں پیڈل زمین کے متوازی ہوتے تھے.
    ہوا یوں کہ میں گھر کے نزدیک سڑک پر کسی کام سے گیا تو دیکھا ہماری گلی کا لڑکا ایک لڑکوں والا بائیسائیکل چلا رہا. وہ بولا "دیکھ میں سائیکل چلا رہا ہوں. ایک ہفتے میں سیکھ لیا ہے". بندہ کہاں ہار ماننے والا ہے. جواب دیا "یہ کونسا مشکل کام ہے". وہ بائیسائیکل سے اتر پڑا اور بولا "یہ لے چلا کے دکھا. تیرے گھٹنے نہ ٹوٹے تو میرا نام...." میں بائیسائیکل پر بیٹھا اور چلانا شروع کر دیا. وہ میرے ساتھ بھاگتا رہا. پھر بولا "ذرا موڑ کے دکھا. تو ضرور گرے گا". میں نے پھر اللہ کو یاد کیا اور آہستہ آہستہ بائیسائیکل موڑ لیا. پھر اس سے کہا " بڑا چیمپین بنا پھرتا ہے". اور اپنے کام کیلئے روانہ ہو گیا. اس کے والد صاحب کا بائیسائیکل چھٹی والے دن چلانا شروع کیا.
    پس معلوم ہوا کہ زندگی بہت آسان ہے. لیکن بات ہے سوچ کی

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. اپنی زندگی کا ایک دلچسپ تجربہ شئیر کرنے کا شکریہ :)
      جی ساری بات سوچ کی ہے درست کہا ۔
      جزاک اللہ

      حذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

ماہ رمضان نیکیوں کی بہار – مقتبس خطبہ جمعہ مسجد نبوی

خوش ترین زندگى، زندگى با قناعت است

استقبالِ رمضان-22

شکر ہے تیرا خدایا

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل