تفسیر نہیں، تدبر!

تفسیر نہیں، تدبر!

ابن علی

ایک ہے قرآنِ مجید کی تفسیر۔ ایک ہے قرآنِ مجید پر تدبر۔ یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ’’تفسیری عمل‘‘ آپ ایک ہی بار کرتے ہیں۔ یا اپنے علم کو تازہ کرنے کےلیے کبھی کبھار اس کو دہرا لیتے ہیں۔ لیکن ’’تدبر‘‘ آپ بار بار کرتے ہیں۔ یہ عمل ہر لحظہ جاری رہتا ہے۔ زیادہ لوگ ’’تفسیر‘‘ اور ’’تدبر‘‘ کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں؛ ظاہر ہے ان حضرات کے ہاں ’’تدبر‘‘ کی نوبت کم ہی آئے گی اور یہ کچھ علمی نکات وغیرہ میں گم رہنا ہی کل کام جانیں گے۔

تفسیر اور تدبر میں کیا فرق ہے؟ قرآنی علوم کے ماہر ڈاکٹر محمد الربیعہ اس کے تحت مندرجہ ذیل نکات بیان کرتے ہیں:

1۔           تفسیر کا مطلب ہے آیت کے معنیٰ کو کھولنا۔ جبکہ تدبر کا عمل اس کے بعد شروع ہوتا ہے، یعنی آیت میں جو بات کہی گئی اس کے مقصود پر غور کرنا۔ اس میں جن اشیاء کی جانب اشارے ہوئے ہیں ان کا اندازہ کرنا۔ ان پر یقین پیدا کرنا اور ان کو دل میں اتارنا۔

2۔           تفسیر میں آپ کی غرض آیت کا معنیٰ جاننے سے ہوتی ہے۔ جبکہ تدبر کی غرض اس معنیٰ سے فائدہ لینا، اس پر ایمان کی صورت میں، عمل اور سلوک کی صورت میں۔

3۔           تدبر کا حکم سب لوگوں کو ہوا ہے۔ کہ وہ قرآن سے ہدایت اور فائدہ لیں۔ یہ وجہ ہے کہ ابتداءً  کفار کو یہ بات کہی گئی کہ آخر وہ قرآن مجید میں تدبر کیوں نہیں کرتے۔ تدبر میں لوگ درجہ بدرجہ تقسیم ہوں گے تو اس کی بنیاد یہ ہوگی کہ کسی شخص میں علم کے ساتھ ساتھ کلام سے ’’اثر لینے‘‘ کی قوت کتنی ہے اور کلام کے ساتھ اس کا تفاعل interaction  کس درجہ کا ہے۔ جبکہ تفسیر میں لوگوں کی درجہ بندی اس بنیاد پر ہوگی کہ اس کی علمی استعداد کیسی ہے۔ نیز اس کو قرآن کے معانی   جاننے کی ضرورت کس درجہ کی ہے۔ ابن عباس نے تفسیر کے چار درجے بتائے ہیں: ایک تفسیر کا وہ پہلو جس میں کسی شخص کا کوئی عذر نہیں (یعنی وہ سب کو سمجھ آتی ہے؛ ’’تدبر‘‘ کا بھی سب سے زیادہ تعلق قرآن کے اسی حصے سے ہے؛ یہی چیز نصیحت لینے سے متعلق ہے؛ اور یہ چیز کافروں سے بھی مطلوب تھی، ظاہر ہے کافروں کو ان آیات کی تفسیر موقع پر کرکے نہیں دی جاتی تھی؛ وجہ یہی کہ یہ قرآنی کلام کا وہ پہلو ہے جو ہر کسی کو سمجھ آتا ہے)۔ تفسیر کا ایک پہلو وہ جسے پانے کےلیے عربی زبان کے دقائق معلوم ہونا ضروری ہیں۔ ایک تفسیر وہ جو علماء ہی کے کرنے کی ہے (خواہ عربی آپ کو کتنی ہی آتی ہو؛ یہ چیز آپ کو مدرسۂ صحابہ سے ہی ملے گی)۔ پھر ایک تفسیر وہ جو صرف اللہ کو معلوم ہے۔

4۔           تدبر کےلیے شرط کوئی نہیں۔ ہر کسی کو یہ کرنا ہے۔ ہاں جس آیت پر تدبر کرنا ہو اس کا معنیٰ پہلے سمجھ لینا چاہئے۔ نیز قصد و ارادہ کا خالص ہونا ضروری ہے۔ تبھی فرمایا: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآَنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ’’یقیناً ہم نے قرآن کو آسان کر رکھا ہے؛ تو کیا ہے کوئی جو اس سے نصیحت لے‘‘۔ البتہ مفسر ہونے کےلیے باقاعدہ شروط ہیں، کیونکہ تفسیر خدا پر ایک بات کرنے کے مترادف ہے، لہٰذا وہ ہر کسی کے کرنے کی نہیں۔ یہ وجہ ہے کہ سلف قرآن کی تفسیر میں بات کرنے سے بہت بچتے تھے کہ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم کے ہاں کہا جاتا ہے: تدبر کے معاملہ میں آدمی کا کوئی عذر نہیں۔ ہاں تفسیر کے معاملہ میں اس کا عذر ہے۔

5۔           تدبر ایک غایت ہے۔ جبکہ تفسیر ایک ذریعہ۔ یعنی تفسیر کا مقصد ہے کہ وہ آپ کو قرآن مجید میں موجود علم اور عمل تک پہنچائے۔ جبکہ تدبر بذاتِ خود اُس ’’عمل‘‘ میں آتا ہے جو تفسیر سے مقصود ہے۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبد اللہ بن مسعود  کہتے ہیں: قرآن کو یوں مت بھگتاؤ جس طرح اشعار بھگتائے جاتے ہیں اور نہ اس کو یوں بکھیرو جیسے ردی کھجور لا دھری جاتی ہے۔ اس کے عجائب پر رک جایا کرو، اور اس کے ساتھ قلوب کو جنبش دیا کرو۔

حضرت عمر  کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے سورۃ البقرۃ پڑھنے میں بارہ سال لگائے۔ آپؓ کے فرزند عبد اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے سورۃ البقرۃ ختم کرنے میں آٹھ سال لگائے۔

حسن بصری  کا قول ہے: تم رات کو قیام کرنے والے لوگوں نے قرآن مجید کو ایک روٹین کی چیز بنا لیا ہے۔ حالانکہ تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ اسے اس طرح لیتے گویا وہ خدا کی جانب سے آیا ہوا ایک ایک خط کھولتے ہیں۔ تب اُن کی راتیں اس پر غور و فکر میں گزرتیں اور ان کے دن اس کے نفاذ میں۔

ابن قدامہ  کہتے ہیں: قرآن پڑھنے والے پر لازم ہے کہ وہ اپنے اوپر یہ احساس طاری کرے کہ قرآن کا سب خطاب اور وعید ایک اسی کےلیے ہے۔

ابن قیم  کہتے ہیں: اگر تم قرآن سے فائدہ پانے کے خواہشمند ہو تو قرآن پڑھتے یا سنتے وقت دلجمع ہو جایا کرو، ہمہ تن گوش ہو جایا کرو، اور اس کے آگے یوں حاضر باش ہو جایا کرو گویا اللہ مالک الملک خاص تم سے ہی مخاطب ہے۔

مکمل مضمون پڑھئیے: تفسیر نہیں تدبر

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

سورہ کہف بمعہ ترجمہ

آٹھ مصیبتیں

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل