اتوار, اپریل 02, 2017

تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ البقرہ ۔۔۔ نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ- 35


تدبر القرآن
سورۃ البقرہ
نعمان علی خان
حصہ -35
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ (24)
یہ آیت میری پسندیدہ ہے، 

*فان لم تفعلو* پھر اگر نہ تم کرسکو؟
*ولن تفعلو * اور تم یہ کام کبھی نہیں کر سکتے. 

قرآن پاک کئی سال سے نازل ہو رہا تھا. اس آیت میں درحقیقت اللہ تعالٰی یہود کمیونٹی سے مخاطب ہیں. خصوصاً ان کے ربیوں( مذہبی پیشواؤں ) سے . کیونکہ وہ جان گئے تھے کہ اب کچھ مہینوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مدینہ پہنچنے والے ہیں. اس لئے بظاہر یہود قرآن مجید کو جاننے کے لیے کوشاں تھے. جب کہ در پردہ وہ قریش کے شریک کار تھے. ان کے ساتھ مل کر وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف سازشیں کر رہے تھے. یہود، قریش سے مل کر حضور علیہ السلام سے پوچھنے کے لئے مشکل سوالات تیار کر رہے تھے. کیونکہ مکہ مکرمہ میں تو قرآن کئی سال سے نازل ہو رہا تھا. اہل مکہ اس کو کافی عرصہ سے سن رہے تھے. قرآن ان لوگوں کے سامنے تھا. بہت واضح تھا مگر وہ اب تک اس کے انکاری تھے. اب قرآن ان منکرین کا پردہ فاش کر رہا تھا. اللہ تعالٰی محض ریکارڈ درست رکھنے کے لیے کہہ رہے ہیں. اگر تم یہ کرنے کے قابل ہو تو مقابلے میں کوئی چیز لے آؤ. بالکل ویسے ہی جیسے آپ سے کہا جائے، "کیا آپ اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟" اور آپ جواباً کہیں، "نہیں ہم مقابلہ کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں" . 

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ (24)
ترجمہ :لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے

اللہ رب العزت نے اس آیت میں *لاتفعلو* کی بجائے *لم تفعلو * استعمال کیا ہے. یہ بیان شرطیہ ہے. اس میں ماضی اور حال دونوں کے صیغے ہیں. یہ بات تکنیکی اعتبار سے مشکل ہے لیکن ان شاءاللہ میں اس کو آسان طریقے سے سمجھانے کی کوشش کروں گا . ان دو جملوں پر غور کریں *اگر وہ آتا*، * اگر وہ آتا ہے*
ان میں *اگر وہ آتا* زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے.
*اگر وہ آتا ہے* کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تک وہ آیا نہیں ہے. لیکن جب میں کہوں کہ *اگر وہ آتا* تو اس کا مطلب ہے کہ میں ماضی کا ذکر کر رہا ہوں. خواہ تین گھنٹے پہلے کی بات ہی ہو. اگر *ابھی* لگا کہ بات کی جائے تو بھی ٹھیک ہے. بالفاظ دیگر یہاں ماضی اور حال دونوں شامل ہیں اور جب جملے کے شروع میں *اگر* لگا ہو تو یہ ماضی سے حال تک کا ربط ظاہر کرتا ہے.
*فان لم تفعلو* کی بجائے اگر *و لا تفعلو* کہا جاتا تو اس کا مطلب زمانہ حال سے ہوتا. جبکہ *فان لم تفعلو* ماضی اور حال دونوں کو ایک ہی جملے میں اکٹھا کر دیتا ہے. اس کا مطلب ہے کہ تم پہلے بھی یہ کرنے کے قابل نہ تھے اور تم اب بھی ایسا نہیں کر سکتے. یہ ساری بات صرف اس ایک ترکیب میں سمو دی گئی ہے. اگلی اہم بات جو غور طلب ہے وہ یہ کہ اللہ تعالٰی نے *تعملو* کی بجائے، *تفعلو* کہا ہے.
عربی میں *فعل* بھی کام کرنے کو کہتے ہیں اور *عمل* بھی کام کرنا ہے. فرق صرف یہ ہے کہ عمل شعوری کوشش اور مکمل ارادے کے ساتھ ہے. جیسے*عملو الصٰلحات* انھوں نے نیک عمل کیے اپنی شعوری ارادی کوشش کرتے ہوئے.
*فعلو الصٰلحات* کا مطلب ہوتا کہ غیر ارادی طور پر، اتفاقی طور پر نیک اعمال سرزد ہو گیے ہیں. *فعل* کو آپ سانس لینے کے عمل سے بھی سمجھ سکتے ہیں. یہ ایک خود کار عمل ہے. اس کام کو آپ شعوری طور پر نہیں کرتے، بس یہ خود ہی چلتا رہتا ہے.
جب آپ کاغذ پر کچھ لکھتے ہیں تو یہ *عمل* ہے.
جبکہ ایک چھوٹا بچہ ڈرائنگ بورڈ پر بغیر سوچے سمجھے آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہا ہے تو اسے *فعل* سمجھ لیجیے. کیونکہ وہ اس کام میں اپنا ذہن و دماغ استعمال نہیں کر رہا. آپ ان دونوں کاموں کے درمیان فرق کو سمجھیں
اللہ عزوجل کہہ رہے ہیں کہ چلو تم یہ کام حادثاتی طور پر، غیر ارادی طور پر، خود کار طریقے سے ہی کر لو.
*فعل* بہت سی خوبیوں والا لفظ ہے. پچھلی آیت کے ساتھ *فان لم تاتو بہ* *ولم تاتو بہ* کا تسلسل بنتا تھا. لیکن اللہ تعالٰی نے اس آیت میں اسے *تفعلو* سے بدل دیا ہے.
تم اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر سکتے. یہاں تک کہ تم اس کی طرف پہلا قدم بھی نہیں بڑھا سکتے.
رائٹرز بلاگ جانتے ہیں کس چیز کو کہتے ہیں؟ کچھ لکھنے کیلئے. اب اس پر کیا لکھا جاتا ہے. ذہنی سکون کے لیے ویڈیو گیم. تھوڑی سی نیند. اب ہوم ورک. واک. پلے سٹیشن. کھانا. تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک فقرہ. یعنی بار بار رائٹرز بلاگ.
جبکہ اللہ عزوجل ان لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ تمہارے لیے یہ کرنا تو ایک طرف، تم اس معاملے میں کوئی ایک قدم تک نہیں اٹھا سکتے.
اس بیان کی دوسری خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں مفعول کا ذکر نہیں ہے. یعنی *تفعلوہ* نہیں ہے.(یعنی تم*یہ*کرلو نہیں ہے). عربی میں*یہ* *it* نہیں ہے.
ڈاکٹر سمورائی نے بہت عمدگی سے اس کا تذکرہ کیا ہے. وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ کسی مفعول کا ذکر کرتے تو یوں کہتے، "تم اس کام کو کرنے کے قابل نہیں ہو، یا اس بات کو، اس تقریر کو، اس طرزِ عمل کو"
قرآن کی بہت سی جہات (Dimensions) ہیں. کوئی شخص اس کی ایک جہت کا نام لے کر تو کہہ سکتا ہے کہ میں نے اس کے طرز عمل کو جان لیا ہے. یا میں نے اس کے نفس مضمون کو سمجھ لیا ہے. لیکن ساتھ ہی وہ یہ اعتراف بھی کرلے گا کہ میں ابھی تک اس کے ماضی کے قصوں کی صحت/درستی تک نہیں پہنچ پایا. یعنی یہ شخص قرآن کے لا محدود پہلوؤں میں سے کسی ایک تک ہی پہنچ پایا ہے. قرآن کی جہات بے مثال ہیں. جو ایک لفظ میں بیان نہیں ہو سکتیں.

جاری ہے۔۔۔۔
نعمان علی خان

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں