چوں ہوا جز قفل آں


تا ہوا تازہ است ایمان تازہ نیست
چوں ہوا جز قفل آں دروازہ نیست

جب تک خواہش تازہ ہے ایمان تازہ نہیں ہے، خواہش کے علاوہ اس دروازے کا اور کوئی قفل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ جب تک انسان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہے اُس پر علوم و اسرارِ ربّانی کا دروازہ نہیں کھلتا۔۔۔ ایمان تازہ کر اے خواہش کے غلام فقط زبانی نہیں دل کے تالے توڑ۔۔۔۔

مولانا جلال الدین رومی بلخی رحمتہ اللہ علیہ

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

سورہ کہف بمعہ ترجمہ

آٹھ مصیبتیں

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل