جمعرات, اگست 24, 2017

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر ۔۔۔ حصہ-9

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر
حج کی داستان حج کی اصل روح کے تعارف کے ساتھ

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
حصہ-9

عزیزیہ میں شفٹنگ
زیارت کے بعد یکم ذی الحج کو ہم حرم کے قریب واقع ہوٹل سے عزیزیہ کے مقام پر شفٹ ہوگئے۔ عزیزیہ کعبے سے پانچ کلومیٹر دور ہے اور اس کے قریب منیٰ اور جمرات واقع ہیں۔ یہ ہوٹل السرایا ایمان کی طرح شاندار تو نہ تھا البتہ صاف ستھرا تھا۔ اسی بلڈنگ میں الخیر گروپ کے لوگ بھی ٹہرے ہوئےتھے۔ اس بلڈنگ میں تبلیغی جماعت کے لوگ آکر بیان دیتے تھے اور ایک مرتبہ سعید انور صاحب نے بھی بیان کیا۔ اس ہوٹل سے کچھ ہی دور مولانا طارق جمیل ، جنید جمشید اور دیگر اہم شخصیات قیام پذیر تھیں۔

اس سے پہلے جس ہوٹل میں قیام تھا وہاں ایک کمرے میں تین افراد ہی مقیم تھے جس کی بنا پر لوگوں سے ملاقات کا کم وقت ملتا تھا۔ لیکن یہاں ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں کوئی آٹھ افراد قیام پذیر تھے اور لوگوں سے رابطہ بڑھ گیا۔ یہاں پر شارق، ریحان عابد اور دیگر لوگوں سے بھی دوستی ہوگئی۔ جبکہ میرا دوست آصف بھی برابر والے کمرہ میں مولانا اسلم شیخوپوری کے ہمراہ موجود تھا۔یہاں لدھیانوی ٹریولرز نے تین وقت کا کھانا بھی دینا شروع کردیا حالانکہ یہ پیکیج کا حصہ نہ تھا۔یہاں معمول یہ تھا کہ مولانا اسلم شیخوپوری فجر کے بعد اپنا بیان دیتے جس میں حج کے بارے میں ہدایات دی جاتی تھیں۔ اس بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر ایک حصہ مسجد کے لئے مختص کردیا گیا تھا جہاں ہر نماز کے بعد تبلیغی جماعت والوں کا بیان ہوتا تھا جس میں حج کے فضائل بیان کئے جاتے تھے۔

عزیزیہ کا علاقہ سیاہ پہاڑوں کی آماجگاہ تھا۔ ارد گرد بے شمار حاجی رکے ہوئے تھے۔ بلڈنگ سے ایک گلی چھوڑ کر ایک چھوٹی سی مسجد تھی جہاں کے امام عرب تھے اور انکی قرات بہت خوبصورت تھی۔ قریب آدھے میل دور ایک بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹور بن داؤد بھی تھا جہاں اکثر چیزیں خریدنے کے لئے جانا ہوا۔ عزیزیہ چونکہ مسجد الحرام سے دور تھا اس لئے اکثر نمازیں یہیں ادا کرنی پڑتیں۔

چپلیں
یہاں سے ایک شٹل سروس بھی چلتی تھی جو لوگوں کو حرم لے کر جاتی اور آتی تھی۔ عزیزیہ منتقل ہونے کے دوسرے دن میں آصف اور ان کے دو دوستوں کے ہمراہ شٹل میں بیٹھ کر حرم کی جانب روانہ ہوا۔ راستے میں بس خراب ہوگئی چنانچہ راستہ پیدل طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ عصر کی نماز قریب تھی چنانچہ تیز تیز قدموں سے مسجد پہنچے جہاں چھت پر جگہ ملی۔میرے پاس چپل رکھنے کے لئے کوئی تھیلی نہ تھی البتہ راستے سے ایک تھیلی اٹھائی اور اس میں اپنی اور آصف کی چپلیں رکھ لیں۔ عصر کی نماز کے قریب آدھے گھنٹے بعد تک وہیں بیٹھے رہے پھر طواف کرنے کے لئے نیچے اترے۔ مجھے علم نہیں تھا کہ واپسی کا راستہ کس طرح طے کرنا ہے اس لئے میں نے دانش کو بتادیا تھا کہ میں اس کے ساتھ جاؤں گا۔ عصر کے بعد ایک طواف کیا۔مغرب اور عشاء پڑھی اور پھر ایک اور طواف کیا۔

آصف مجھ سے جدا ہوچکا تھا لیکن اس کی چپلیں میرے پاس تھیں۔ ہم نے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ جدائی کی صورت میں باب عزیز کے پاس جو گھنٹہ گھر ہے وہاں ملاقات کرنی ہے۔ چنانچہ میں وہاں پہنچ گیا لیکن وہاں بے پناہ رش تھا۔ میں نے آصف کو کال کی لیکن کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ میں نے کالز کا سلسلہ جاری رکھا لیکن کوئی رابطہ نہ ہوپایا۔ اسی اثنا میں دانش کو فون کیا تو پتا چلا کہ وہ نکل چکا ہے اور بس کے اسٹاپ پر موجود ہے۔ میں گھبراگیا ۔ ایک جانب آصف سے رابطہ نہیں ہورہا تھا اور وہ ننگے پاؤں تھا تو دوسری جانب بس نکل رہی تھی جو غالبا آخری بس تھی۔اب میرے پاس دو راستے تھے۔ یا تو میں وہیں کھڑا رہ کر آصف کا انتظار کروں جس کے آنے کا کوئی علم نہ تھا۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ دانش کے پاس چلا جاؤں اور آصف کو راستہ بھی گائیڈ کروں کیونکہ امکان تھا کہ وہ چپلیں قریب بازار سے لے لےگا۔ چنانچہ میں نے دانش کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔
جب میں بس میں بیٹھ کر روانہ ہوا تو آصف کا فون آگیا لیکن میں نکل چکا تھا۔ آصف بے چارہ ننگے پاؤ ں ہی راستہ طے کرکے عزیزیہ پہنچا۔ آصف کے ساتھیوں نے مجھ سے شکایت کی لیکن آصف نے میرا فیور لیا۔ بعد میں میں نے آصف سے اپنے غلط اجتہاد کی معافی مانگ لی۔

مولانا اسلم شیخوپوری سے نشست
میرے کمرے سے متصل کمرے میں مولانا اسلم شیخوپوری مقیم تھے ۔ ایک دن جب وہ اکیلے بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے ملاقات کی غرض سے ان کے پاس گیا۔ میں نےان سے دریافت کیا کہ اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے کیا اقدام کرنے چاہئیں۔ انہوں نے ایک آہ بھری اور کہا کہ میاں یہ تو ساری زندگی کا سودا ہے، یہ اپنی زندگی کا ہر پہلو رب کے نام کرنے کا مشن ہے۔ کئی لوگ اس میدان میں آئے اور ناکام ہوگئے۔ بس اس کا حل یہی ہے کہ اپنی رضا خدا کی رضا کے تابع کردی جائے۔ میں نے ان سے کچھ تفاسیر کے بارے میں دریافت کیاتو انہوں نے اس کےبارے میں بتایا لیکن اختلاف رائے کے باوجود کسی کی برائی نہیں کی۔ آخر میں ان کو میں نے اپنے خود احتسابی سوالنامے کا تعارف کرایا۔ وہ اس کے بارے میں سن کر بڑے خوش ہوئے اور خاصی حوصلہ افزائی کی اور پاکستان پہنچنے پر اسے دیکھنے کی خواہش بھی کی۔اس پوری گفتگو میں میں نے انہیں ایک عجزو انکساری کا پیکر پایا۔

مسجد عقبہ 
عزیزیہ میں فراغت کا کافی وقت ہوتا تھا اس لئے نماز وغیرہ سے فارغ ہوکر ہم مٹرگشت کے لیے نکل جاتے تھے۔ وہاں سے جمرات یعنی کنکریاں مارنے کی جگہ صرف دس منٹ کی واک پر تھی۔ جمرات کے قریب ایک قدیم تاریخی مسجد دیکھی۔ اس پر پیلے رنگ کا روغن تھا اور وہ کچے گارے کی بنی ہوئی تھی۔ اس کے دروازے پر تالا تھا اور چند صفیں باہر سے منتشر حالت میں دکھائی دے رہی تھیں۔ ایک تختی پر عربی رسم الخط میں کچھ لکھا ہوا تھا جو پرانا ہونے کے سبب ناقابل مطالعہ تھا۔ البتہ تختی پر خلیفہ مستنصر باللہ کا نام کندہ تھا اس سے پتا چلتا تھا کہ یہ عباسی دور کی مسجد ہے۔ جب تحقیق کی تو علم ہوا کہ اس کا نام مسجد عقبہ ہے۔ یہاں پر یثرب سے آنے والوں نےبیعت کی تھی۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ حج عرب میں ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے جاری ہے۔ چنانچہ یہ حج اس وقت بھی جاری تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت نہیں ملی تھی۔ نبوت کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کی ابتدا کی تو حج کے موقع کا بھی بھرپور استعما ل کیا کیونکہ سارے عرب کے قبائل یہاں حج کے لیے حاضر ہوتے تھے۔کئی سالوں تک آپ حج میں تبلیغ کرتے رہے۔ ابتدا میں تو کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی لیکن بعد میں مدینے سے آنے والے وفد نے نبوت کے گیارہویں سال اس دعوت پر غور کیا اور گیارہ آدمیوں نے اسلام قبول کرلیا اور یہ وعدہ کیا کہ وہ مدینے جاکر اسلام کی تبلیغ کریں گے۔

اگلے سال حج میں دوبارہ مدینے سے وفد آیا اور اس نے پہلی بیعت کی ۔ یہ بیعت ایک گھاٹی پر خفیہ طریقے سے ہوئی تاکہ قریش کو کانوں کان خبرنہ ہو۔ گھاٹی کو عربی میں عقبہ کہتے ہیں اسی لئے اس بیعت کوبیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ کے لئے حضرت معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو بھی ساتھ بھیج دیا۔نبوت کے کے تیرہویں سال ایک مرتبہ پھر حج کے دنوں میں مدینے کا وفد آیا اور ایک اور بیعت ہوئی جسے بیعت عقبہ ثانی کہتے ہیں ۔ یہ بیعت بھی اسی مقام پر رات کی تاریکی میں ہوئی۔ چونکہ یہ گھاٹی منیٰ کے آخری کونے پر بڑے جمرے کے سامنے واقع تھی اس لئے اس کا انتخاب کیا گیا۔اس میں نبی کریم کی ہجرت کے منصوبے کو فائنل کیا گیا۔ اسی مقام پر یہ مسجد بعد میں تعمیر کی گئی جسے مسجد عقبہ کہتے ہیں۔

جاری ہے ۔۔۔ 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں